Al-A'raaf 7:124

Al-A'raaf · from ayah 124

7:124

لَاُقَطِّعَنَّ اَیْدِیَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِیْنَ ۟لَاُقَطِّعَنَّ اَيۡدِيَكُمۡ وَاَرۡجُلَكُمۡ مِّنۡ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمۡ اَجۡمَعِيۡنَ

میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا

— Fateh Muhammad Jalandhari

I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides; then I will surely crucify you all."

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:124

میں تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سولی پر چڑھاؤں گا"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

میں (پہلے تو) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کٹوا دوں گا پھر تم سب کو سولی چڑھوا دوں گا

— مولانا فتح محمد جالندہری

میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا۔ پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا

— مولانا محمد جوناگڑہی

میں نے بھی پکا ارادہ کرلیا ہے کہ تمہارے ہاتھ پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالوں گا، پھر تم سب کو اکٹھے سولی پر لٹکا کر رہوں گا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

قسم ہے کہ میں تمہارے ایک طرف کہ ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹوں گا پھر تم سب کو سُو لی دوں گا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

میں یقیناً تمہارے ہاتھوں کو اور تمہارے پاؤں کو ایک دوسرے کی الٹی سمت سے کاٹ ڈالوں گا پھر ضرور بالضرور تم سب کو پھانسی دے دوں گا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یقینا میں ضرور تمہارے ہاتھ اور تمہارے پاؤں مخالف سمت سے بری طرح کاٹوں گا، پھر یقینا تم سب کو ضرور بری طرح سولی دوں گا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں بےترتیب کاٹوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(انجام اپنے کئے کا) میں یقیناً کٹوا کر رہوں گا ہاتھ پاؤں تم سب کے مخالف جانب سے، پھر سولی پر لٹکا دوں گا تم سب کو،

— مولانا اسحاق مدنی

میں تمہارے ہاتھ اور تمہارے پیر الٹی طرف سے کاٹے دالتا ہوں پھر تم سب کو سولی پر ٹانک کر رہوں گا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

میں کاٹ ڈالوں گا تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمتوں سے اور پھر میں سولی پر چڑھا دوں گا تم سب کو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پہلے میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاوں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

I shall cut off your hands and feet on the opposite sides, and then crucify you all.'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

I will cut off your hands and your legs from opposite sides. Then I will crucify you all together.

— Muhammad Taqi Usmani

I will cut off your hands and your legs from opposite sides. Then I will crucify you all together.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Surely, I will cut off your hands and your feet from opposite sides, then I will crucify you all."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Surely I shall have your hands and feet cut off upon alternate sides. Then I shall crucify you every one.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

I will surely cut off your hands and your feet on opposite sides; then I will surely crucify you all."

— Saheeh International

I will cut off your hands and feet on the alternate sides and crucify you all."

— Muhammad Sarwar

I will certainly cut off your hands and your feet on opposite sides, then will I crucify you all together.

— Muhammad Habib Shakir

Surely I will cut off your hands and feet on the opposite sides and thereafter I will crucify you all.

— Abdul Majid Daryabadi

"Be sure I will cut off your hands and your feet on apposite sides, and I will cause you all to die on the cross."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:124

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–126

فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 123–126

سورة الْاَعْرَاف 92 فرعون نے پانسہ پلٹتے دیکھ کر آخری چال یہ چلی تھی کہ اس سارے معاملہ کو موسیٰ اور جادوگروں کی سازش قرار دیدے اور پھر جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر ان سے اپنے اس الزام کا اقبال کرالے۔ لیکن یہ چال بھی الٹی پڑی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے ثابت کردیا کہ ان کا موسیٰ ؑ کی صداقت پر ایمان لانا کسی سازش کا نہیں بلکہ سچے اعتراف حق کا نتیجہ تھا۔ اب اس کے لیے کوئی چارہ کار اس کے سوا باقی نہ رہا کہ حق اور انصاف کا ڈھونگ جو وہ رچانا چاہتا تھا اسے چھوڑ کر صاف صاف ظلم و ستم شروع کردے۔ اس مقام پر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ چند لمحوں کے اندر ایمان نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ ، یعنی میں تم سب کے ہاتھ پیر مختلف جانبوں کے کاٹ کر تم سب کو سولی پر چڑھادوں گا۔ مختلف جانبوں سے کاٹنے کا مطلب یہ ہے کہ دایاں ہاتھ اور بایاں پیر جس سے دونوں جانبیں زخمی اور بدہیئت اور بیکار ہوجائیں۔ فرعون نے اس بدحالی پر قابو پانے اور اپنے درباریوں اور عوم کو قابو میں رکھنے کی کافی تدبیر کرلی تھی اور اس کی ظالمانہ سزائیں پہلے سے مشہور اور لوگوں کو لرزہ براندام کردینے کے لئے کافی تھیں۔ لیکن اسلام و ایمان ایک ایسی زبردست قوت ہے کہ جب وہ کسی دل میں گھر کرلیتی ہے تو پھر انسان ساری دنیا اور اس کے وسائل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 123–124

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ یہ بڑا ہی نازک موقع تھا۔ فرعون اور اس کے درباریوں بلکہ اس کی پوری قو کی ہوا بالکل اکھڑ چکی تھی۔ لیکن یہ فرعون بھی بڑا ہی کائیاں سیاسی تھا۔ اس نے بگڑتے ہوئے حالات سنبھالنے کے لیے فوراً یہ اشغلا چھوڑا کہ یہ ان ساحروں اور موسیٰ کی ملی بھگت ہے۔ یہ ساحر ہم کو یہاں سے بےدخل کرنے کی سازش میں موسیٰ کے ساتھ شریک ہیں۔ انہوں نے پہلے سے آپس میں یہ مشورت کر رکھی تھی کہ ہم عین موقع پر اپنی شکست مان کر اپنے ایمان کا اعلان کردیں گے جس سے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

124۔ 1 یعنی دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ پھر یہی نہیں سولی پر چڑھا کر تمہیں نشان عبرت بھی بنا دونگا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 120–126

55 یہاں قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ القی استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی گرگئے نہیں بلکہ گرادئیے گئے، ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ ان کے ضمیر نے انہیں بےساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کردیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کاروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ان میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہوگیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 124–125

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 124–125

2 ساحرین توحید اور تمنائے لقاء اللہ کی شراب سے مخمور ہوچکے تھے، جنت و دوزخ گویا آنکھوں کے سامنے تھیں۔ بھلا وہ ان دھمکیوں کی کیا پرواہ کرسکتے تھے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں جو کرنا ہو کر گزر پھر ہم کو اپنے خدا کے پاس جانا ہے تیرے سر ہو کر سہی۔ وہاں کے عذاب سے یہاں کی تکلیف آسان ہے اور اس کی رحمت و خوشنودی کے راستہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی تکالیف و مصائب کا برداشت کرلینا بھی عاشقوں کے لیے سہل ہے۔ " ہنیئًا لارباب النعیم نعیمہم۔ وللعاشق المسکین مایتجرَّع "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 123–124

آیت 123 قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج اِنَّ ہٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْْمَدِیْنَۃِ یہ تمہاری ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو تم سب نے مل کر چلی ہے شہر کے اندر اب فرعون کی جان پر بن گئی کہ لوگوں پر جادوگروں کی اس شکست کا کیا اثر پڑے گا ‘ عوام کو کیسے مطمئن کیا جاسکے گا ؟ لیکن وہ بڑا ذہین اور genius شخص تھا ‘ فوراً پینترا بدلا اور بولا مجھے سب پتا چل گیا ہے ‘ یہ موسیٰ بھی تمہارا ہی ساتھی ہے ‘ تمہارا گروگھنٹال ہے۔ یہ سب تمہاری آپس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور تم سب نے مل کر ہمارے خلاف ایک سازش کا جال بنا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 124–125

121 فرعون کی دوسری چالاکی جادوگروں پر عتاب :۔ فرعون نے اپنے بچاؤ کے لیے پہلی تدبیر تو یہ کی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو عوام میں محض ایک جادوگر کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے اور اسی لیے اس نے باہمی مشورے سے یہ شاہی دنگل رچایا تھا پھر جب اس مقابلے میں مات کھا گیا تو اپنی خفت اور ندامت کو مٹانے کے لیے دوسری تدبیر یہ اختیار کی کہ ان ایمان لانے والے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ تم پہلے ہی اس سازش میں شریک تھے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارا استاد ہے اور تم سب اس کے چیلے چانٹے ہو اور تم سب مل کر یہ چاہتے ہو کہ یہاں کے اصل باشندوں کو نکال کر اس ملک پر قبضہ کرلو اس معرکے میں جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

159 ۔ سولی کی سزا قدیم قوموں خصوصا قدیم مصریوں میں عام تھی ملاحظہ ہو انگریزی تفسیر القرآن۔ (آیت) ” من خلاف “۔ مثلا داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں یا بایاں ہاتھ اور داہنا پاؤں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 120–126

والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

لا قطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف ثم لاصلبنکم اجمعین : میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹ دوں گا پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دونگا

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 123–124

(123۔ 124) فرعون کہنے لگا میرے حکم سے پہلے تم نے ایسا کیا یہ تمہاری اور موسیٰ ؑ کی کوئی تدبیر ہے، میں تمہارا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دوں گا اور نہرکنارے تمہیں پھانسی دوں گا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 123–124

قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ۔۔ : یعنی میری اجازت سے پہلے تمہیں کوئی حق نہ تھا کہ تم موسیٰ کی برتری اور کامرانی کا اعلان کرتے۔ ہر متکبر و سرکش یہی چاہتا ہے کہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور جو کچھ وہ کہے اسے مان کر اسی کی تشہیر و اشاعت کریں، اسی طرح دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل، پھانسی، سولی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے اور اس کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اسے سزا دی جاسکے۔ چناچہ یہی کام فرعون نے کیا، جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 122–126

آیت نمبر : 122۔ 126 قولہ تعالیٰ : آیت : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم یہ فرعون کی طرف سے ان کا انکار ہے۔ آیت : ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منھا اھلھا یعنی تمہارے اور ان کے درمیان اس بارے میں اتفاق ہوچکا ہے کہ تم شہر کے والی اور حاکم بن جاؤ، یعنی تمہارے اس صحراء میں ظاہر ہونے سے پہلے یہ مصر کے شہر میں تم میں سے تھا۔ آیت : فسوف تعلمون یہ ان کے لیے دھمکی اور جھڑک ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : سب سے پہلے فرعون نے سولی دی اور ہاتھ او پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 440) (یعنی) دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ ( یا) دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں، یہ حسن مروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 113–126

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ لَاُقَطِّعَنَّ : میں لازما کاٹوں گا ] [ اَيْدِيَكُمْ : تمہارے ہاتھوں کو ] [ وَاَرْجُلَكُمْ : اور تمہارے پیروں کو ] [ مِّنْ خِلَافٍ : مخالف (طرف ) سے ] [ ثُمَّ : پھر ] [ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ : میں لازما سولی چڑھاؤں گا تم کو [ اَجْمَعِيْنَ : سب کے سب کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 121–127

قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 124–125

117: یعنی میں تمہارے ہاتھ پاؤں کٹوا کر تم کو سولی پر لٹکا دوں گا “ مِنْ خِلَافٍ ” یعنی ہر ایک کی ایک جانب کا ہاتھ اور دوسری جانب کا پاؤں۔ “ قَالُوْا الخ ” جادوگروں نے کہا اگر تو ایسا کرے گا تو یہ ہمارا عین مقصود ہے کیونکہ اس طرح ہم اپنے رب کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 120–126

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

لَاُقَطِّعَنَّ اَيْدِيَكُمْ وَاَرْجُلَكُمْ مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَاُصَلِّبَنَّكُمْ اَجْمَعِيْنَ۝ 124 قطع القَطْعُ : فصل الشیء مدرکا بالبصر کالأجسام، أو مدرکا بالبصیرة كالأشياء المعقولة، فمن ذلک قَطْعُ الأعضاء نحو قوله : لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] ، ( ق ط ع ) القطع کے معنی کسی چیز کو علیحدہ کردینے کے ہیں خواہ اس کا تعلق حاسہ بصر سے ہو جیسے اجسام اسی سے اعضاء کا قطع کرنا ۔ قرآن میں ہے : ۔ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ مِنْ خِلافٍ [ الأعراف/ 124] میں پہلے تو ) تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسرے طرف کے پاؤں کٹوا دونگا يد الْيَدُ : الجارحة،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–126

2 ؎ یعنی اسرائیل کو۔ 12 منہ ؎ یہ نام یونانی تاریخوں سے لئے گئے ہیں۔ اگر عرب اور ایران کے نزدیک ان میں تغیر ہو تو کچھ عجب نہیں۔ چناچہ مؤرخین اسلام نے موسیٰ کے عہد کے فرعون کا نام ولید بتلایا ہے۔ کسی نے ابو العباس بن ولید بن مصعب بن ریان کہا ہے۔ مسند۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 121–126

قَا لُوْآاِنَّآ اِلیٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّٓآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰ یٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآئَتْنَا ط رَبّنَآ آفِرْغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 125، 126) ” انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں “۔ جادگروں کا جواب جو ایمان کی رفعتوں کا امین ہے اے فرعون ! تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو اور سولی پر چڑھانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 123–126

فہم القرآن ربط کلام : جادو گروں کے ایمان لانے پر فرعون کا ان پر سازش کرنے کا الزام اور ان کو مار ڈالنے کی دھمکیاں۔ اس پر جادوگروں کا رد عمل اور عزم و استقلال کا مظاہرہ۔ حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں دکھائی دیتی ہے کہ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر باطل پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا۔ یہی بات قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ” کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو ہر جانب پھیلا کر رہے گا۔ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تمام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

آیت 124: لَاُ قَطِّعَنَّ اَیْدِیَکُمْ وَاَرْجُلَکُمْ مِّنْ خِلَافٍ (میں تمہارے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹ دونگا) ہر جانب سے ایک ٹکڑاثُمَّ لَاُ صَلِّبَنَّکُمْ اَجْمَعِیْنَ (پھر تم سب کو سولی پر لٹکا دونگا) یہ پہلا شخص ہے جس نے دایاں ہاتھ بایاں پائوں اور بایاں ہاتھ اور دایاں پائوں کاٹا اور سولی پر لٹکایا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

124(لاقطعن ایدیکم وارجلکم من خلاف) وہ یہ کہ ہر جانب سے ایک عضو کاٹے۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں میں تمہارے دائیں ہاتھ اور بائیں پائوں کاٹوں گا۔ (ثم لاصلینکم اجمعین) مصر کی نہر کے کنارے پر۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 123–124

153 فرعون کی سٹنٹ بازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ، حواس باختگی اور اس کی سٹنٹ بازی کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو اس پر فرعون نے سخت جھنجلاہٹ کے عالم میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑی سازش تھی جو تم لوگوں نے مل کر اس شہر میں پکائی تھی۔ تاکہ اس طرح تم لوگ نکال باہر کرو اس ملک سے اس کے اصل باشندوں کو۔ سو ابھی تم لوگوں کو معلوم ہوا چاہتا ہے انجام اپنے کیے کرائے کا۔ سو یہ ایک صریح جھوٹ تھا جو اس ملعون نے سب کے روبروبکا تھا اور ایک سیاسی سٹنٹ تھا جو اس نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے چھوڑا تھا۔ ورنہ اس کی لغویت مخفی اور محتاج بیان نہیں۔ سو اس سے ایک طرف تو اس کی بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 109–126

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 123–124

ف 5 دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے یہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل پھانسی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے او اس غرض کے لے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جر م ثاتب کئے بغیر اسے ہر قسم کی سزا دی جاسکے چناچہ یہی کام فرعون نے کیا۔ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور فی الفور عوام کے سامنے دو قسم کے الزام لگا دئیے، اول یہ کہ ان کی سازش ہے، دوم یہ کہ اس سازش کر ذریعہ مصریوں کو ملک بدر کے حکومت پر قبضہ جما نا چاہتے ہیں اس لیے اولا فسوف تعلمون کہہ کر وعید سنائی اور پھر اس وعید کی وضاحت بھی سنا دی ( کذافی الکبیر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–126

لغات القرآن آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ امنتم (تم ایمان لے آئے) ۔ اذن (اجازت دے دی) ۔ مکر تم وہ (تم نے تدبیر کی۔ سازش کی) ۔ لتخر جوا (تاکہ تم نکال لے جائو) ۔ لاقطعن (البتہ میں ضرور کاٹوں گا) ۔ اصلبن (میں ضرور پھانسی دوں گا ) ۔ ماتنقم (تو دشمنی نہیں کرتا ) ۔ افرغ (ڈال دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ ” اس واقعہ کے بعد جب کہ تمام جادو گروں نے ایک سچائی کو دیکھ کر ایمان قبول کرلیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ان اہل ایمان نے بھرے دربار میں صاف صاف کہہ دیا تو فرعون سمجھ گیا کہ اب پانسہ پلٹ چکا ہے اور تیرکمان سے نکل چکا ہے۔ اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ان جادو گروں کے بعد ساری رعایا ہی موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 111–126

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 122–124

[46] یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسرے طرف کا پاؤں، مثلاً داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کہ اس طرح سارا دھڑ بیکار ہوجاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 120–124

(ف 1) جادوگر چونکہ فن سحر سے واقف تھے ، اس لئے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزہ فرمائی دیکھی تو فرط شوق سے سجدے میں گر گئے ، ان کو معلوم ہوگیا ، یہ چابکدستی یافن فریب نہیں حقیقت اور ایک بالادست قدرت ہے ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

124 میں ضرور تم سب کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پائوں کاٹوں گا اور قطع کردوں گا پھر تم سب کو سولی پر لٹکادوں گا یعنی یہ سخت سزادوں گا تاکہ دیکھنے والوں کو عبرت حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون نے اپنے ساحروں کے ہاتھ پائوں کٹوانے اور سولی چڑھانے کا حکم سنایا : 135: فرعون نے اپنی ڈوبتی نائو کو جو سہارا دیا تھا وہ بھی اس طرح کامیاب نہ ہوا جس کامیابی کی امید پر اس نے اتنا بڑا قدم اٹھایا ۔ اس کا خیال یہ تھا کہ اس کے اس طرح پائوں دبانے سے جادوگر خوف کھا کر اپنا موقف بدل دیں گے اور جو طرح اس نے دی ہے اس کو اختیار کر کے وہ اقبال جرم کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ موسیٰ کی فتح مکمل شکست میں بدل کر رہ جائے گی۔ اس بد حالی پر قابو پانے اور اپنے درباریوں اور عوام کو قابو میں رکھنے کی کافی تدبیر فرعون نے کی اور اس کی ظالمانہ سزائیں پہلے ہی سے مشہور تھیں جو لوگوں کو لرزہ براندام کردینے کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After making all these strategic statements he threatened the sorcerers, first, with an indefinite remark saying, "Now you shall know (your end) ". Further specifying the threat, He said, لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْ‌جُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ ثُمَّ لَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ﴿124﴾ "I shall surely, cut your hands and legs from the opposite sides. Then I shall crucify you all together." By cutting from the opposite sides he meant the right hand and the left foot so that they are made completely disabled and invalid.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 123–126

92. Faced with utter failure Pharaoh finally resorted to branding the whole magic tournament as a conspiracy concocted by Moses and his accomplice sorcerers. Under threat of death and physical torture he asked the sorcerers to confess that they had acted in collusion with Moses. This last move by Pharaoh was ineffectual. For the sorcerers readily agreed to endure every torture, clearly proving thereby that their decision to accept Moses' message reflected their sincere conviction and that no conspiracy was involved. Pharaoh was hardly left with any choice. He, therefore, gave up all pretence…

Read the full tafseer →