Explained with ayahs 123–126
فرعون سیخ پا ہو گیا
جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
سورة الْاَعْرَاف 92
فرعون نے پانسہ پلٹتے دیکھ کر آخری چال یہ چلی تھی کہ اس سارے معاملہ کو موسیٰ اور جادوگروں کی سازش قرار دیدے اور پھر جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر ان سے اپنے اس الزام کا اقبال کرالے۔ لیکن یہ چال بھی الٹی پڑی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے ثابت کردیا کہ ان کا موسیٰ ؑ کی صداقت پر ایمان لانا کسی سازش کا نہیں بلکہ سچے اعتراف حق کا نتیجہ تھا۔ اب اس کے لیے کوئی چارہ کار اس کے سوا باقی نہ رہا کہ حق اور انصاف کا ڈھونگ جو وہ رچانا چاہتا تھا اسے چھوڑ کر صاف صاف ظلم و ستم شروع کردے۔
اس مقام پر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ چند لمحوں کے اندر ایمان نے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
فرعون (بڑا گھبرایا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ساری رعایا ہی مسلمان ہوجائے تو ایک مضمون گھڑ کر ساحروں سے) کہنے لگا کہ ہاں تم موسیٰ ؑ پر ایمان لائے ہو بدون اس کے کہ میں تم کو اجازت دوں بیشک (معلوم ہوتا ہے کہ) یہ (جو کچھ جنگ زرگری کے طور پر ہوا ہے) ایک کارروائی تھی جس پر تمہارا عمل درآمد ہوا ہے اس شہر میں (خفیہ سازش ہوگئی ہے کہ تم یوں کرنا ہم یوں کریں گے پھر اس طرح ہار جیت ظاہر کریں گے اور یہ کارروائی ملی بھگت اس لئے کی ہے) تاکہ تم سب (مکر) اس شہر سے وہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو (پھر بفراغ خاطر سب مل کر یہاں ریاست کرو) سو (بہتر ہے) اب تم کو حقیقت معلوم ہوئی جاتی ہے) اور وہ یہ ہے کہ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ ۚ اِنَّ هٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْهُ فِي الْمَدِيْنَةِ لِتُخْرِجُوْا مِنْهَآ اَهْلَهَا ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔
یہ بڑا ہی نازک موقع تھا۔ فرعون اور اس کے درباریوں بلکہ اس کی پوری قو کی ہوا بالکل اکھڑ چکی تھی۔ لیکن یہ فرعون بھی بڑا ہی کائیاں سیاسی تھا۔ اس نے بگڑتے ہوئے حالات سنبھالنے کے لیے فوراً یہ اشغلا چھوڑا کہ یہ ان ساحروں اور موسیٰ کی ملی بھگت ہے۔ یہ ساحر ہم کو یہاں سے بےدخل کرنے کی سازش میں موسیٰ کے ساتھ شریک ہیں۔ انہوں نے پہلے سے آپس میں یہ مشورت کر رکھی تھی کہ ہم عین موقع پر اپنی شکست مان کر اپنے ایمان کا اعلان کردیں گے جس سے…
Read the full tafseer →123۔ 1 یہ جو کچھ ہوا فرعون کے لئے بڑا حیران کن اور تعجب خیز تھا اس لئے اسے اور تو کچھ نہیں سوجھا، اس نے یہی کہہ دیا کہ تم سب آپس میں ملے ہوئے ہو اور اس کا مقصد ہمارے اقتدار کا خاتمہ ہے۔ اچھا اس کا انجام عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
55 یہاں قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ القی استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی گرگئے نہیں بلکہ گرادئیے گئے، ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ ان کے ضمیر نے انہیں بےساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کردیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کاروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ان میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہوگیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر…
Read the full tafseer →ذرا انداز ملاحظہ ہو۔ تم اس پر ایمان لائے ہو قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں۔ گویا یہ ان کا قانونی فرض تھا کہ وہ اس سے اجازت لیں کہ وہ ایمان قبول کرنا چاہتے ہیں اور اس سلسلے میں وہ خود مختار نہیں ہیں۔ یا مطلب یہ ہے کہ ان کے شعور و وجدان کو کوئی حرکت نہیں کرنا چاہئے اور وہ اپنے شعور کے معاملے میں بھی خود مختار نہیں ہیں۔ اگر ان کے قلب و نظر پر کوئی روشنی پڑتی ہے تو انہیں حجاب کرنا چاہئے اور اس معاملے میں بھی فرعون سے پوچھنا چاہئے۔ اگر ان کے دلوں میں کوئی عقیدہ یا یقین بیٹھتا ہے تو انہیں اس کی اجازت نہیں ہے کہ فرعون کے اذن کے بغیر ایسا کریں غرض ان کا فرض ہے کہ ہر قسم کی نئی روشنی سے اپنے آپ کو…
Read the full tafseer →1 یعنی یہ تم سب جادو گروں کی ملی بھگت ہے، غالباً موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہوگا۔ اس کو آگے بھیج دیا پھر سب نے اپنی مغلوبیت کا اظہار کردیا۔ تاکہ عام لوگ متاثر ہوجائیں۔ اس گہری سازش سے تمہارا مقصود یہ ہے کہ اس ملک کے اصلی باشندوں کو نکال باہر کرو اور خود مصر کی سلطنت پر قبضہ کرلو۔ یہ تقریر فرعون نے اپنی کھلی شکست پر پردہ ڈالنے اور لوگوں کو اُلُّو بنانے کی غرض سے کی تھی (فَاسْتَخَفَّ قَوْمَهٗ فَاَطَاعُوْهُ ) 43 ۔ الزخرف :53) مگر جس چیز سے فرعون اور فرعونی ڈر رہے تھے، آخر تقدیر الٰہی سے وہ ہی پیش آئی (وَنُمَكِّنَ لَهُمْ فِي الْاَرْضِ وَنُرِيَ فِرْعَوْنَ وَهَامٰنَ وَجُنُوْدَهُمَا مِنْهُمْ مَّا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
آیت 123 قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَکُمْ ج
اِنَّ ہٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْتُمُوْہُ فِی الْْمَدِیْنَۃِ یہ تمہاری ایک سوچی سمجھی سازش ہے جو تم سب نے مل کر چلی ہے شہر کے اندر
اب فرعون کی جان پر بن گئی کہ لوگوں پر جادوگروں کی اس شکست کا کیا اثر پڑے گا ‘ عوام کو کیسے مطمئن کیا جاسکے گا ؟ لیکن وہ بڑا ذہین اور genius شخص تھا ‘ فوراً پینترا بدلا اور بولا مجھے سب پتا چل گیا ہے ‘ یہ موسیٰ بھی تمہارا ہی ساتھی ہے ‘ تمہارا گروگھنٹال ہے۔ یہ سب تمہاری آپس کی ملی بھگت کا نتیجہ ہے اور تم سب نے مل کر ہمارے خلاف ایک سازش کا جال بنا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
120 جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان :۔ یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بےاختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گرگئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہوگئی…
Read the full tafseer →158 ۔ (اور موسیٰ وہارون (علیہما السلام) سے سازش کرکے اپنی حکومت قائم کرلو) قبل سے مراد ہمیشہ پیشتر ہی نہیں ہوتا۔” بغیر “۔ بھی مراد ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید کی ایک دوسری آیت میں آیا ہے۔ (آیت) ” لنفد البحر قبل ان تنفد کلمت ربی “۔ (کہف) یا اس حدیث میں وارد ہوا ہے۔ اللھم ارزقنی عینین ھطالتین تسقیان القلب بذروف الدمع من خشیتک قبل ان تکون الدموع دم والا ضر اس جمرا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی…
Read the full tafseer →قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم ان ہذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منہا اہلہا فسوس تعلمون : فرعون بولا میری اجازت کے بغیر تم موسیٰ ( علیہ السلام) پر ایمان لے آئے حقیقت میں یہ تم سب کی سازش تھی جو تم نے شہر میں اس لئے کی تھی کہ یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ۔ اب تم کو (اپنے اس جرم کی) حقیقت معلوم ہوجائے گی۔
القی السحرۃ ساجدینگرا دیئے گئے یعنی اللہ نے ان کو سجدہ میں گرا دیا۔ یہ نہیں فرمایا کہ وہ سجدہ میں گرگئے بلکہ فعل مجہول استعمال کیا تاکہ یہ معلوم ہوجائے کہ ظہور حق نے ان کو بےاختیار سجدہ میں گرا دیا اور وہ بےقابو ہوگئے۔ بعض نے یہ مطلب بیان کیا ہے کہ اللہ نے ان کے دلوں میں سجدہ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
(123۔ 124) فرعون کہنے لگا میرے حکم سے پہلے تم نے ایسا کیا یہ تمہاری اور موسیٰ ؑ کی کوئی تدبیر ہے، میں تمہارا دایاں ہاتھ اور بایاں پیر کاٹ دوں گا اور نہرکنارے تمہیں پھانسی دوں گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِهٖ۔۔ : یعنی میری اجازت سے پہلے تمہیں کوئی حق نہ تھا کہ تم موسیٰ کی برتری اور کامرانی کا اعلان کرتے۔ ہر متکبر و سرکش یہی چاہتا ہے کہ لوگ اس کی ہاں میں ہاں ملائیں اور جو کچھ وہ کہے اسے مان کر اسی کی تشہیر و اشاعت کریں، اسی طرح دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے کہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل، پھانسی، سولی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے اور اس کے لیے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جرم ثابت کیے بغیر اسے سزا دی جاسکے۔ چناچہ یہی کام فرعون نے کیا، جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–126
آیت نمبر : 122۔ 126
قولہ تعالیٰ : آیت : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم یہ فرعون کی طرف سے ان کا انکار ہے۔
آیت : ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منھا اھلھا یعنی تمہارے اور ان کے درمیان اس بارے میں اتفاق ہوچکا ہے کہ تم شہر کے والی اور حاکم بن جاؤ، یعنی تمہارے اس صحراء میں ظاہر ہونے سے پہلے یہ مصر کے شہر میں تم میں سے تھا۔
آیت : فسوف تعلمون یہ ان کے لیے دھمکی اور جھڑک ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : سب سے پہلے فرعون نے سولی دی اور ہاتھ او پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 440) (یعنی) دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ ( یا) دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں، یہ حسن مروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–126
(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔
فرعون کے جادوگروں کی تعداد
(3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔
(4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ قَالَ : کہا ] [ فِرْعَوْنُ : فرعون نے ] [ اٰمَنْتُمْ : تم لوگ ایمان لے آئے ] [ بِهٖ : اس پر ] [ قَبْلَ اَنْ : اس کے پہلے کہ ] [ اٰذَنَ : میں اجازت دیتا ] [ لَكُمْ : تم لوگوں کو ] [ اِنَّ : بیشک ] [ هٰذَا : یہ ] [ لَمَكْرٌ: یقینا ایک چال ہے ] [ مَّكَرْتُمُوْهُ : تم لوگوں نے تدبیر کی جس کی ] [ فِي الْمَدِيْنَةِ : اس شہر میں ] [ لِتُخْرِجُوْا : تاکہ تم لوگ نکالو ] [ مِنْهَآ : اس (شہر ) سے ] [ اَهْلَهَا : اس کے لوگوں کو ] [ فَسَوْفَ : تو عنقریب ] [ تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ جان لوگے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا
فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
116: جادوگروں نے فوراً اسی جگہ اعلان کردیا کہ ہم فرعون کی ربوبیت سے بیزار ہوئے اور اس رب العالمین پر ایمان لائے جس کو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اپنا رب مانتے ہیں۔ “ قَالَ فِرْعَوْنُ الخ ” فرعون نے غضبناک ہو کر جادوگروں سے کہا کہ تم نے میرے نوکر اور ملازم ہو کر میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ کے رب کو مان لیا ہے۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ سارا معاملہ سوچی سمجھی اسکیم کے مطابق کیا ہے اور تم موسیٰ و ہارون سے مل کر لوگوں کو مرعوب و مغلوب کر کے یہاں سے نکالنا چاہتے ہو۔ “ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ” تمہیں ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ فرعون کی طرف سے جادوگروں کو سزا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے…
Read the full tafseer →قَالَ فِرْعَوْنُ اٰمَنْتُمْ بِہٖ قَبْلَ اَنْ اٰذَنَ لَكُمْ 0 ۚ اِنَّ ہٰذَا لَمَكْرٌ مَّكَرْتُمُوْہُ فِي الْمَدِيْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَہْلَہَا 0 ۚ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ 123
وأَذِنَ :
استمع، نحو قوله : وَأَذِنَتْ لِرَبِّها وَحُقَّتْ [ الانشقاق/ 2] ، ويستعمل ذلک في العلم الذي يتوصل إليه بالسماع، نحو قوله : فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ [ البقرة/ 279] .
( اذ ن) الاذن
اور اذن ( الیہ ) کے معنی تو جہ سے سننا کے ہیں جیسے فرمایا ۔ { وَأَذِنَتْ لِرَبِّهَا وَحُقَّتْ } ( سورة الِانْشقاق 2 - 5) اور وہ اپنے پروردگار کا فرمان سننے کی اور اسے واجب بھی ہے اور اذن کا لفظ اس علم پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
2 ؎ یعنی اسرائیل کو۔ 12 منہ
؎ یہ نام یونانی تاریخوں سے لئے گئے ہیں۔ اگر عرب اور ایران کے نزدیک ان میں تغیر ہو تو کچھ عجب نہیں۔ چناچہ مؤرخین اسلام نے موسیٰ کے عہد کے فرعون کا نام ولید بتلایا ہے۔ کسی نے ابو العباس بن ولید بن مصعب بن ریان کہا ہے۔ مسند۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–126
قَا لُوْآاِنَّآ اِلیٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّٓآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰ یٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآئَتْنَا ط رَبّنَآ آفِرْغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 125، 126)
” انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں “۔
جادگروں کا جواب جو ایمان کی رفعتوں کا امین ہے
اے فرعون ! تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو اور سولی پر چڑھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
فہم القرآن
ربط کلام : جادو گروں کے ایمان لانے پر فرعون کا ان پر سازش کرنے کا الزام اور ان کو مار ڈالنے کی دھمکیاں۔ اس پر جادوگروں کا رد عمل اور عزم و استقلال کا مظاہرہ۔
حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں دکھائی دیتی ہے کہ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر باطل پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا۔ یہی بات قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ” کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو ہر جانب پھیلا کر رہے گا۔ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تمام…
Read the full tafseer →فرعون کی مکارانہ تقریر و دھمکی :
آیت 123: قَالَ فِرْعَوْنُ ٰامَنْتُمْ بِہٖ (فرعون کہنے لگا کہ ہاں تم موسیٰ پر ایمان لائے ہو) خبر کی صورت میں۔
قراءت : حفص نے پڑھا ہے اس صورت میں یہ فرعون کی طرف سے ان کو تو بیخ ہے۔ دو ہمزہ کیساتھ۔ حفص کے علاوہ کوفی قراء نے پڑھا۔ پہلا ہمزہ استفہام کا ہے اور اس کا معنی استبعاد اور انکار ہے۔ قَبْلَ اَنْ ٰاذَنَ لَـکُمْ (میری اجازت کے بغیر) میرے تمہیں اجازت دینے سے پہلے اِنَّ ھٰذَا لَمَکْرٌ مَّکَرْ تُمُوْہُ فِی الْمَدِیْنَۃِ لِتُخْرِجُوْا مِنْہَآ اَھْلَھَا (حقیقت میں یہ تم سب کی سازش تھی جو تم نے شہر میں اس لئے کی تھی کہ یہاں کے رہنے والوں کو باہر نکال دو ) یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
123 (قال فرعون امنتم بہ) کیا تم ایمان لے آئے۔ حفص (رح) نے ” آمنتم “ جملہ خبر یہ پڑھا ہے، یہاں اور سورة طہ اور الشعراء میں اور دیگر حضرات نے استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” امنتم بہ “ (قبل ان اذن لکم) کہ کیا تم نے میری اجازت کے بغیر موسیٰ کی تصدیق کردی (ان ھذا لمکر مکر تم وہ) یہ ایک سازش تھی جو تم نے اور موسیٰ نے مل کر تیار کی تھی (فی المدینۃ) تاکہ تم مصر پر غالب آ جائو (لتخر جوا منھآ اھلھا فسوف تعلمون) میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
153 فرعون کی سٹنٹ بازی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے فرعون کی بوکھلاہٹ، حواس باختگی اور اس کی سٹنٹ بازی کا ایک مظہر و نمونہ سامنے آتا ہے۔ سو اس پر فرعون نے سخت جھنجلاہٹ کے عالم میں کہا کہ یہ ایک بہت بڑی سازش تھی جو تم لوگوں نے مل کر اس شہر میں پکائی تھی۔ تاکہ اس طرح تم لوگ نکال باہر کرو اس ملک سے اس کے اصل باشندوں کو۔ سو ابھی تم لوگوں کو معلوم ہوا چاہتا ہے انجام اپنے کیے کرائے کا۔ سو یہ ایک صریح جھوٹ تھا جو اس ملعون نے سب کے روبروبکا تھا اور ایک سیاسی سٹنٹ تھا جو اس نے لوگوں کو ورغلانے کے لیے چھوڑا تھا۔ ورنہ اس کی لغویت مخفی اور محتاج بیان نہیں۔ سو اس سے ایک طرف تو اس کی بوکھلاہٹ کا پتہ چلتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–126
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
جادو اور معجزہ میں فرق :
جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–124
ف 5 دنیا میں ہر متکبر اور سرکش حکمران کا یہ قاعدہ ہے یہ جب وہ دلیل کے میدان میں ہار جاتا ہے تو جیل پھانسی اور قتل کی دھمکی دینے پر اتر آتا ہے او اس غرض کے لے ایسے قوانین وضع کرتا ہے جن کی رو سے کسی پر اس کا جر م ثاتب کئے بغیر اسے ہر قسم کی سزا دی جاسکے چناچہ یہی کام فرعون نے کیا۔ جب وہ دلیل کے میدان میں شکست کھا گیا تو سزا دینے کی دھمکی پر اتر آیا اور فی الفور عوام کے سامنے دو قسم کے الزام لگا دئیے، اول یہ کہ ان کی سازش ہے، دوم یہ کہ اس سازش کر ذریعہ مصریوں کو ملک بدر کے حکومت پر قبضہ جما نا چاہتے ہیں اس لیے اولا فسوف تعلمون کہہ کر وعید سنائی اور پھر اس وعید کی وضاحت بھی سنا دی ( کذافی الکبیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–125
(7:123) مکر۔ چال۔ نیز ملاحظہ ہو 7:99 ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
لغات القرآن آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔
امنتم (تم ایمان لے آئے) ۔ اذن (اجازت دے دی) ۔ مکر تم وہ (تم نے تدبیر کی۔ سازش کی) ۔ لتخر جوا (تاکہ تم نکال لے جائو) ۔ لاقطعن (البتہ میں ضرور کاٹوں گا) ۔ اصلبن (میں ضرور پھانسی دوں گا ) ۔ ماتنقم (تو دشمنی نہیں کرتا ) ۔ افرغ (ڈال دے) ۔
تشریح : آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ ” اس واقعہ کے بعد جب کہ تمام جادو گروں نے ایک سچائی کو دیکھ کر ایمان قبول کرلیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ان اہل ایمان نے بھرے دربار میں صاف صاف کہہ دیا تو فرعون سمجھ گیا کہ اب پانسہ پلٹ چکا ہے اور تیرکمان سے نکل چکا ہے۔ اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ان جادو گروں کے بعد ساری رعایا ہی موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–126
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت
مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
[46] یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسرے طرف کا پاؤں، مثلاً داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کہ اس طرح سارا دھڑ بیکار ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
(ف 1) جادوگر چونکہ فن سحر سے واقف تھے ، اس لئے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزہ فرمائی دیکھی تو فرط شوق سے سجدے میں گر گئے ، ان کو معلوم ہوگیا ، یہ چابکدستی یافن فریب نہیں حقیقت اور ایک بالادست قدرت ہے ۔
Read the full tafseer →123 فرعون نے اپنی حکومت کو بچانے اور عام بغاوت کو دبانے کے لئے جادوگروں سے کہا کہ تم میری اجازت دینے سے پہلے ہی اس موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئے یہ ایک سازش ہے جو تم سب نے مل کر کی ہے تاکہ تم اس ملک مصر کے حقیقی باشندوں کو اور مصر کی حکمران قوم کو اس ملک مصر سے نکال دو اور حاکم قوم کو یہاں سے بےدخل کرکے اپنا راج قائم کرلو لہٰذا عنقریب تم کو اس کا نتیجہ اور انجام معلوم ہوا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ف 2۔ رب موسیٰ وھارون اس لیے بڑھایا کہ فرعون اپنے کو رب اعلی بتلاتا تھا تو رب العالمین کا مصداق سننے والے اس کو نہ سمجھ جائیں اس لیے اس کو بڑھا کر مراد متعین کردی کہ جس کو موسیٰ و ہارون رب کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →فرعون نے جب ساحروں کی بات سنی تو ان کو دھمکی سنا دی :
134: فرعون وقت کا بادشاہ تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کا مخالف لیکن سیاست دان یقیناً تھا ۔ اس نے جب دیکھا کہ ملک کے تمام باشند گان کے سامنے اسے شکست ہوئی اور جن جادوگروں پر بھروسہ کیا تھا وہی ایمان لے آئے تو ڈرا کہیں ایسا نہ ہو کہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے متعقد نہ ہوجائیں اس لئے جادوگروں پر مکروسازش کا الزام لگایا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے مل گئے یہ اس کی ذہانت کا ثبوت ہے اس نے حالات کی نزاکت کو فوراََ بھانپ لیا اور فوراََ بول اٹھا ۔ اچھا ! معلوم ہوگیا کہ تم بھی اس باغی گروہ کے افراد ہو جن کا سر غنہ موسیٰ ہے اور تم سب نے مل کر…
Read the full tafseer →The foregoing verses had a detailed account of the contest between the prophet Musa (علیہ السلام) and the sorcerers and that after their defeat the sorcerers declared their faith in Allah. Some historical reports say that subsequent to their declaration of faith in Allah, six hundred thousand more people followed suit and declared their belief in Allah. Before this open contest there were only two individuals believing in Allah. Now a great army of people became Muslims. It was, obviously an embarrassing situation for the Pharaoh. Like a clever politician he managed to conceal his state of…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 123–126
92. Faced with utter failure Pharaoh finally resorted to branding the whole magic tournament as a conspiracy concocted by Moses and his accomplice sorcerers. Under threat of death and physical torture he asked the sorcerers to confess that they had acted in collusion with Moses. This last move by Pharaoh was ineffectual. For the sorcerers readily agreed to endure every torture, clearly proving thereby that their decision to accept Moses' message reflected their sincere conviction and that no conspiracy was involved. Pharaoh was hardly left with any choice. He, therefore, gave up all pretence…
Read the full tafseer →