رَبِّ مُوْسٰی وَهٰرُوْنَ ۟رَبِّ مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ
یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر
— Fateh Muhammad Jalandhari
The Lord of Moses and Aaron."
— Saheeh International
Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz
رَبِّ مُوْسٰی وَهٰرُوْنَ ۟رَبِّ مُوۡسٰى وَهٰرُوۡنَ
یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر
— Fateh Muhammad Jalandhari
The Lord of Moses and Aaron."
— Saheeh International
Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz
Read the whole surah · Surah Al-A'raaf
اُس رب کو جسے موسیٰؑ اور ہارونؑ مانتے ہیں"
یعنی موسیٰ اور ہارون کے پروردگار پر
جو موسیٰ اور ہارون کا بھی رب ہے
جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔
جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا،
(جو) موسٰی اور ہارون (علیہما السلام) کا رب ہے،
موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔
جو موسیٰ اور ہارون کا پروردگار ہے
موسیٰ اور ہارون کا خداوند
جو کہ رب ہے موسیٰ اور ہارون کا،
(وہی جو) پروردگار ہے موسیٰ اور ہارون کا
موسیٰ ؑ ٰ اور ہارون ؑ کے رب پر
) (یعنی) موسیٰ اور ہارون کے رب پر۔
the Lord of Moses and Aaron.'
the Lord of Musa and Harun.
the Lord of Musa and Harun.
"The Lord of Musa and Harun."
The Lord of Moses and Aaron.
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
The Lord of Moses and Aaron."
the Lord of Moses and Aaron."
The Lord of Musa and Haroun.
The Lord of Musa and Harun.
"The Lord of Moses and Aaron."
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 117–122
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
سورة الْاَعْرَاف 91 اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی چال کو الٹا انہی پر پلٹ دیا۔ انہوں نے تمام ملک کے ماہر جادوگروں کو بلا کر منظر عام پر اس لیے مظاہرہ کردیا تھا کہ عوام الناس کو حضرت موسیٰ ؑ کے جادوگر ہونے کا یقین دلائیں یا کم از کم شک ہی میں ڈال دیں۔ لیکن اس مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد خود ان کے اپنے بلائے ہوئے ماہرین فن نے بالاتفاق فیصلہ کردیا کہ حضرت موسیٰ ؑ جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ ہرگز جادو نہیں ہے بلکہ یقناً رب العالمین کی طاقت کا کرشمہ ہے جس کے آگے کسی جادو کا زور نہیں چل سکتا۔ ظاہر ہے کہ جادو کو خود جادوگروں سے بڑھ کر اور کون جان سکتا تھا۔ پس جب انہوں نے عملی تجربے اور آزمائش کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ، ښقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ، یعنی جادوگر سجدے میں ڈال دیئے گئے اور کہنے لگے کہ ہم رب العلمین یعنی رب موسیٰ و ہارون پر ایمان لے آئے۔ سجدے میں ڈال دیئے گئے فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ موسیٰ ؑ کا معجزہ دیکھ کر یہ لوگ کچھ ایسے مبہوت اور مجبور ہوگئے کہ بےاختیار سجدہ میں گر گئے۔ اور اس کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرما کر ان کو سجدہ میں ڈال دیا۔ اور رب العالمین ”کے ساتھ رب موسیٰ و ہارون“ بڑھا کر اپنی بات کو فرعون کے مقابلہ میں واضح کردیا کیونکہ وہ بیوقوف تو اپنے آپ ہی کو رب العالمین کہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ ساحروں نے حضرت موسیٰ کی تعظیم ہی پر بس نہیں کیا بلکہ صاف صاف اپنے ایمان کا اعلان بھی کردیا اور وہ بھی اس تصریح کے ساتھ کہ ہم عالم کے رب، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔ جس کے صاف معنی یہ بھی تھے کہ انہیں فرعون کی خدائی سے انکار ہے۔ کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس اعلان کا سارے مجمع پر کیا اثر پڑا ہوگا اور فرعون اور اس کے درباریوں کی کیسی رسوائی ہوئی ہوگی ! ساحروں کے اندر حق پسندی کی رمق موجود تھی : یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہرچند یہ لوگ جادوگر تھے اور ان کے اندر اس پیشہ کی بعض خصوصیات بھی، جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، پیدا ہوگئی تھیں تاہم حق پسندی کی…
Read the full tafseer →122۔ 1 سجدے میں گر کر انہوں نے رب العالمین پر ایمان لانے اعلان دیا جس سے فرعونیوں کو مغالطہ ہوسکتا تھا کہ یہ سجدہ فرعون کو کیا گیا ہے جس کی الوہیت کے وہ قائل تھے اس لئے انہوں نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کا رب کہہ کر واضح کردیا کہ یہ سجدہ ہم جہانوں کے رب کو ہی کر رہے ہیں۔ لوگوں کے خود ساختہ کسی رب کو نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
55 یہاں قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ القی استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی گرگئے نہیں بلکہ گرادئیے گئے، ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ ان کے ضمیر نے انہیں بےساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کردیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کاروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ان میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہوگیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
9 چونکہ فرعون بھی اپنی نسبت اَنَارَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا، شاید اس لیے رَبُّ الْعَالَمِیْنَ کے ساتھ رَبِّ مُوْسیٰ وَھرُوْنَ کہنے کی ضرورت ہوئی۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہوگیا کہ بیشک جہان کا پروردگار وہ ہی ہوسکتا ہے جس نے موسیٰ و ہارون کو اپنی خاص ربوبیت سے بدون توسط اسباب ظاہرہ دنیا کے متکبروں پر علیٰ رؤس الاشہاد اس طرح غالب کر کے دکھلا دیا۔
Read the full tafseer →رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ آخر کیا وجہ تھی کہ جادوگر مغلوب ہوئے تو فوراً ایمان لے آئے اور وہ بھی انتہائی پختہ ‘ یقین اور استقامت والا ایمان ! کہاں وہ فرعون سے انعام کی بھیک مانگ رہے تھے اور کہاں اب اسے خاطر میں نہ لاتے ہوئے نتائج سے بےپروا ہو کر ڈنکے کی چوٹ پر اپنے ایمان کا اعلان کردیا۔ جادوگروں کے اس رویے کی منطقی توجیہہ یہ ہے کہ جو شخص کسی فن کا ماہر ہو اسے اس فن کے ممکنات کی انتہا اور اس کے حدود وقیود limitations کا بخوبی علم ہوتا ہے۔ وہ اپنے فن کے مخصوص میدان field of specialization میں کسی چیز کی قدر ‘ اہمیت ‘ معیار وغیرہ کو صحیح پہچان سکتا ہے۔ جادو گر جو اپنے فن کے منجھے ہوئے ماہرین تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
120 جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان :۔ یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بےاختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گرگئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہوگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
157 ۔ یعنی ہم تو شرک و مخلوق پرستی کے گورکھ دھندے سے نکل آئے۔ ہم نے دین توحید اختیار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی ہم تصدیق کررہے ہیں۔ ساحروں کو اب اس کا احساس ہوگیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جو کچھ ہے وہ سحر وطلسم سے کہیں بلند تر کوئی اور ہی چیز ہے۔ اور اسی احساس نے انہیں سجدے میں گرایدیا۔ (آیت) ” سجدین “۔ لازمی نہیں کہ سجدہ یہاں اصطلاحی معنی میں ہو، ہوسکتا ہے کہ جادوگروں کا محض جھک جانا اور اطاعت اختیار کرلینا مراد ہو۔ وحمل السجود علی الخضوع ای انھم خضوا (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی…
Read the full tafseer →رب موسیٰ وہرون : یعنی موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–122
(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔ سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔ وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔۔ : ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے“ کے ساتھ (رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ) (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ ؑ کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–126
آیت نمبر : 122۔ 126 قولہ تعالیٰ : آیت : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم یہ فرعون کی طرف سے ان کا انکار ہے۔ آیت : ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منھا اھلھا یعنی تمہارے اور ان کے درمیان اس بارے میں اتفاق ہوچکا ہے کہ تم شہر کے والی اور حاکم بن جاؤ، یعنی تمہارے اس صحراء میں ظاہر ہونے سے پہلے یہ مصر کے شہر میں تم میں سے تھا۔ آیت : فسوف تعلمون یہ ان کے لیے دھمکی اور جھڑک ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : سب سے پہلے فرعون نے سولی دی اور ہاتھ او پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 440) (یعنی) دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ ( یا) دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں، یہ حسن مروی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–126
(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ : جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–127
قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–123
116: جادوگروں نے فوراً اسی جگہ اعلان کردیا کہ ہم فرعون کی ربوبیت سے بیزار ہوئے اور اس رب العالمین پر ایمان لائے جس کو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اپنا رب مانتے ہیں۔ “ قَالَ فِرْعَوْنُ الخ ” فرعون نے غضبناک ہو کر جادوگروں سے کہا کہ تم نے میرے نوکر اور ملازم ہو کر میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ کے رب کو مان لیا ہے۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ سارا معاملہ سوچی سمجھی اسکیم کے مطابق کیا ہے اور تم موسیٰ و ہارون سے مل کر لوگوں کو مرعوب و مغلوب کر کے یہاں سے نکالنا چاہتے ہو۔ “ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ” تمہیں ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ فرعون کی طرف سے جادوگروں کو سزا کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے…
Read the full tafseer →رَبِّ مُوْسٰي وَہٰرُوْنَ 122 موسی مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته . هرن هَارُونُ اسم أعجميّ ، ولم يرد في شيء من کلام العرب .
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
1 ؎ فرعون اور اس کا دربار۔ 12 منہ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–126
قَا لُوْآاِنَّآ اِلیٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّٓآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰ یٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآئَتْنَا ط رَبّنَآ آفِرْغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 125، 126) ” انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں “۔ جادگروں کا جواب جو ایمان کی رفعتوں کا امین ہے اے فرعون ! تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو اور سولی پر چڑھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–122
فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
اعلانِ حق : آیت 121، آیت 122: قَالُوْٓا ٰامَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر) رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (جو موسیٰ و ہارون کا بھی رب ہے) مسئلہ : یہ ماقبل سے بدل ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
123 (قال فرعون امنتم بہ) کیا تم ایمان لے آئے۔ حفص (رح) نے ” آمنتم “ جملہ خبر یہ پڑھا ہے، یہاں اور سورة طہ اور الشعراء میں اور دیگر حضرات نے استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ ” امنتم بہ “ (قبل ان اذن لکم) کہ کیا تم نے میری اجازت کے بغیر موسیٰ کی تصدیق کردی (ان ھذا لمکر مکر تم وہ) یہ ایک سازش تھی جو تم نے اور موسیٰ نے مل کر تیار کی تھی (فی المدینۃ) تاکہ تم مصر پر غالب آ جائو (لتخر جوا منھآ اھلھا فسوف تعلمون) میں تمہارے ساتھ کیا کرتا ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →152 معبود برحق اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ سب کے سب علی الاعلان پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے پروردگار عالم پر جو کہ خالق ومالک اور ربِّ حقیقی ہے اس ساری کائنات کا اور جو رب ہے موسیٰ اور ہارون کا۔ نہ کہ فرعون جو کہ جھوٹا رب بنا ہوا تھا۔ اور جب سارے جہانوں کا خالق ومالک اور رب و رازق اللہ وحدہ لاشریک ہے تو معبود برحق بھی وہی ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور ہر شکل اسی کا حق اور اسی کے ساتھ مختص ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کے سوا کسی بھی اور ہستی کو رب ماننا سراسر ظلم اور بےانصافی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو جنہوں نے اس وحدہ لا شریک کے سوا اوروں کو اپنا معبود مانا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–126
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 121–122
ف 4 رب العالمین کے ساتھ رب موسیٰ وھارون اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انہوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کی ساری اسکیم خاک میں مل گئی انہوں نے تو جادو گروں کے کو جع کر کے اس لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا تھا کہ لوگوں پر ثابت کردیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) جو معجزے لے کر آئے ہیں وہ بھی ایک جادو ہے مگر جب تمام جادو گروں نے مل کر اس کے خدا کی طرف سے معجزہ ہونے کا اعتراف کیا اور اوہ ایمان لا کر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا ہو کہ لوگوں کو موسیٰ ( علیہ السلام) کے محض ایک جادو گر ہونے کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
(7:120) القی۔ وہ ڈالا گیا ۔ وہ پھینک دیا گیا۔ القاء سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقت کو دیکھ کر وہ اس طرح بےاختیار سجدہ میں گرگئے گویا کسی بیرونی طاقت نے ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ وہ اس طرح فوراً سجدہ میں گرے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے پکڑ کر ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے سورۂ ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ (11:78) اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے (یعنی وہ یوں دوڑ کر آئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کو پیچھے سے کوئی ہانک کر بھگائے لا رہا ہے۔ یعنی ان کی شدت جذبات اور سرعت کار سے یوں نظر آرہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔ اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–126
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–124
[46] یعنی ایک طرف کا ہاتھ اور دوسرے طرف کا پاؤں، مثلاً داہنا ہاتھ اور بایاں پاؤں کہ اس طرح سارا دھڑ بیکار ہوجاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
(ف 1) جادوگر چونکہ فن سحر سے واقف تھے ، اس لئے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزہ فرمائی دیکھی تو فرط شوق سے سجدے میں گر گئے ، ان کو معلوم ہوگیا ، یہ چابکدستی یافن فریب نہیں حقیقت اور ایک بالادست قدرت ہے ۔
Read the full tafseer →122 جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا بھی رب ہے یعنی فرعون بھی اپنے کو رب العالمین سمجھتا تھا اس لئے موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کے نام بڑھائے تاکہ یہ بات صاف ہوجائے کہ ہمارا مومن یہ وہ رب ہے جس پر موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) ایمان لانے کو کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 122–123
ف 2۔ رب موسیٰ وھارون اس لیے بڑھایا کہ فرعون اپنے کو رب اعلی بتلاتا تھا تو رب العالمین کا مصداق سننے والے اس کو نہ سمجھ جائیں اس لیے اس کو بڑھا کر مراد متعین کردی کہ جس کو موسیٰ و ہارون رب کہتے ہیں۔
Read the full tafseer →موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) کے رب پر ایمان لانے کی تصریح : 133: اتفاق دیکھئے کہ ساحروں کی زبان سے یہ الفاظ کہ ہم اس رب پر ایمان لائے جو موسیٰ (علیہ السلام) اور ہارون (علیہ السلام) کا رب ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کو قبول فرمایا اور ان کے مناقب قرآن کریم میں بیان کئے حالانکہ یہ مقابلہ کے ایک اہم کردار تھے۔ دوسری طرف اس مقابلہ کا اہم کردار فرعون تھا اس نے اس وقت نہ مانا جب اس مقابلہ کے پہلے کردار یعنی ساحروں نے تسلیم کیا لیکن بعد میں ایک وقت آیا کہ اس مقابلہ کا دوسرا کردار یعنی فرعون بھی بول اٹھا کہ میں یقین کرتا ہوں کہ اس کی ہستی کے سوا کوئی معبود نہیں جس پر بنی اسرائیل ایمان رکھتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
Next, the verse said: فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿118﴾ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ ﴿119﴾ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ ﴿120﴾قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿121﴾ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ ﴿122﴾ "So, the truth prevailed and what they were doing became a nullity. So there they were overcome and turned humiliated. And the sorcerers were constrained to fall in prostration. They said, "We believe in the Lord of the worlds, the Lord of Musa and Harun." The sorcerers were so overawed by the miracle of the prophet Musa (علیہ السلام) that they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
91. Thus God turned the tables on Pharaoh and his courtiers they arranged the magic show in the hope that it would convince the people that Moses was just a sorcerer, and thus make them sceptical about his claim to prophethood. But the actual outcome was quite the opposite. The sorcerers who had been assembled were defeated. Not only that, it was also unanimously acknowledged that the signs displayed by Moses in support of his claim were not feats of magic. Rather, his signs rather manifested the might of God, the Lord of the universe, and hence could not be overcome by magic.
Read the full tafseer →