Al-A'raaf 7:121

Al-A'raaf · from ayah 121

7:121

قَالُوْۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۟ۙقَالُوۡۤا اٰمَنَّا بِرَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَ

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "We have believed in the Lord of the worlds,

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:121

کہنے لگے "ہم نے مان لیا رب العالمین کو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور کہنے لگے کہ ہم جہان کے پروردگار پر ایمان لائے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کہنے لگے کہ ہم ایمان ﻻئے رب العالمین پر

— مولانا محمد جوناگڑہی

وہ پکار اٹھے کہ : ہم اس رب العالمین پر ایمان لے آئے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے ہم ایمان لائے جہان کے رب پر،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

وہ بول اٹھے: ہم سارے جہانوں کے (حقیقی) رب پر ایمان لے آئے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہم جہانوں کے رب پر ایمان لائے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

(اور) کہنے لگے : ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بولے ہم عالم کے خداوند پر ایمان لائے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور وہ پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے پروردگار عالم پر،

— مولانا اسحاق مدنی

(اور) بولے کہ ہم تو ایمان لے آئے (سارے) جہانوں کے پروردگار پر

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

وہ (فوراً) پکار اٹھے کہ ہم ایمان لے آئے تمام جہانوں کے رب پر

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور کہنے لگے کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

saying: 'We believe in the Lord of the universe,

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We believe in the Lord of the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We believe in the Lord of the worlds,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "We believe in the Lord of all that exists.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Crying: We believe in the Lord of the Worlds,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "We have believed in the Lord of the worlds,

— Saheeh International

saying, "We declare our belief in the Lord of the Universe,

— Muhammad Sarwar

They said: We believe in the Lord of the worlds,

— Muhammad Habib Shakir

They said: we believe in the Lord of the worlds.

— Abdul Majid Daryabadi

Saying: "We believe in the Lord of the Worlds,-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:121

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 117–122

جادوگر سجدہ ریز ہوگئے اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 118–122

سورة الْاَعْرَاف 91 اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی چال کو الٹا انہی پر پلٹ دیا۔ انہوں نے تمام ملک کے ماہر جادوگروں کو بلا کر منظر عام پر اس لیے مظاہرہ کردیا تھا کہ عوام الناس کو حضرت موسیٰ ؑ کے جادوگر ہونے کا یقین دلائیں یا کم از کم شک ہی میں ڈال دیں۔ لیکن اس مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد خود ان کے اپنے بلائے ہوئے ماہرین فن نے بالاتفاق فیصلہ کردیا کہ حضرت موسیٰ ؑ جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ ہرگز جادو نہیں ہے بلکہ یقناً رب العالمین کی طاقت کا کرشمہ ہے جس کے آگے کسی جادو کا زور نہیں چل سکتا۔ ظاہر ہے کہ جادو کو خود جادوگروں سے بڑھ کر اور کون جان سکتا تھا۔ پس جب انہوں نے عملی تجربے اور آزمائش کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 120–122

وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ، ښقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ، یعنی جادوگر سجدے میں ڈال دیئے گئے اور کہنے لگے کہ ہم رب العلمین یعنی رب موسیٰ و ہارون پر ایمان لے آئے۔ سجدے میں ڈال دیئے گئے فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ موسیٰ ؑ کا معجزہ دیکھ کر یہ لوگ کچھ ایسے مبہوت اور مجبور ہوگئے کہ بےاختیار سجدہ میں گر گئے۔ اور اس کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرما کر ان کو سجدہ میں ڈال دیا۔ اور رب العالمین ”کے ساتھ رب موسیٰ و ہارون“ بڑھا کر اپنی بات کو فرعون کے مقابلہ میں واضح کردیا کیونکہ وہ بیوقوف تو اپنے آپ ہی کو رب العالمین کہتا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 121–122

قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔ ساحروں نے حضرت موسیٰ کی تعظیم ہی پر بس نہیں کیا بلکہ صاف صاف اپنے ایمان کا اعلان بھی کردیا اور وہ بھی اس تصریح کے ساتھ کہ ہم عالم کے رب، موسیٰ اور ہارون کے رب پر ایمان لائے۔ جس کے صاف معنی یہ بھی تھے کہ انہیں فرعون کی خدائی سے انکار ہے۔ کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس اعلان کا سارے مجمع پر کیا اثر پڑا ہوگا اور فرعون اور اس کے درباریوں کی کیسی رسوائی ہوئی ہوگی ! ساحروں کے اندر حق پسندی کی رمق موجود تھی : یہاں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہرچند یہ لوگ جادوگر تھے اور ان کے اندر اس پیشہ کی بعض خصوصیات بھی، جیسا کہ اوپر معلوم ہوا، پیدا ہوگئی تھیں تاہم حق پسندی کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

121۔ 1 جادوگر جادو کے فن اور اس کی اصل حقیقت جانتے تھے یہ دیکھا تو سمجھ گئے کہ موسیٰ ؑ نے جو کچھ یہاں پیش کیا، جادو نہیں ہے، یہ واقع ہی اللہ کا نمائندہ ہے اور اللہ کی مدد سے ہی اس نے یہ معجزہ پیش کیا ہے جس نے آن واحد میں ہم سب کے کرتبوں پر پانی پھیر دیا۔ چناچہ انہوں نے موسیٰ ؑ پر ایمان لانے کا اعلان کردیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوئی کہ باطل باطل ہے چاہے اس پر کتنے ہی حسین غلاف چڑھا لئے جائیں اور حق حق ہے چاہے اس پر کتنے ہی پردے ڈال دیئے جائیں تاہم حق کا ڈنکا بج کر رہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 120–126

55 یہاں قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ القی استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی گرگئے نہیں بلکہ گرادئیے گئے، ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ ان کے ضمیر نے انہیں بےساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کردیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کاروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ان میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہوگیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 120–122

اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔ یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 121–122

9 چونکہ فرعون بھی اپنی نسبت اَنَارَبُّکُمُ الْاَعْلٰی کہتا تھا، شاید اس لیے رَبُّ الْعَالَمِیْنَ کے ساتھ رَبِّ مُوْسیٰ وَھرُوْنَ کہنے کی ضرورت ہوئی۔ اس میں یہ بھی اشارہ ہوگیا کہ بیشک جہان کا پروردگار وہ ہی ہوسکتا ہے جس نے موسیٰ و ہارون کو اپنی خاص ربوبیت سے بدون توسط اسباب ظاہرہ دنیا کے متکبروں پر علیٰ رؤس الاشہاد اس طرح غالب کر کے دکھلا دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 120–121

آیت 120 وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ یعنی ایسے لگا جیسے جادوگروں کو کسی نے سجدے میں گرادیا ہے۔ ان پر یہ کیفیت حق کے منکشف ہوجانے کے بعد طاری ہوئی۔ یہ ایک ایسی صورت حال تھی کہ جب کسی با ضمیر انسان کے سامنے حق کو مان لینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ option رہ ہی نہیں جاتا۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 120–123

120 جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان :۔ یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بےاختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گرگئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہوگئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 120–122

157 ۔ یعنی ہم تو شرک و مخلوق پرستی کے گورکھ دھندے سے نکل آئے۔ ہم نے دین توحید اختیار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی ہم تصدیق کررہے ہیں۔ ساحروں کو اب اس کا احساس ہوگیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جو کچھ ہے وہ سحر وطلسم سے کہیں بلند تر کوئی اور ہی چیز ہے۔ اور اسی احساس نے انہیں سجدے میں گرایدیا۔ (آیت) ” سجدین “۔ لازمی نہیں کہ سجدہ یہاں اصطلاحی معنی میں ہو، ہوسکتا ہے کہ جادوگروں کا محض جھک جانا اور اطاعت اختیار کرلینا مراد ہو۔ وحمل السجود علی الخضوع ای انھم خضوا (روح)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 120–126

والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–122

(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔ سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔ وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 121–122

قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔۔ : ”ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے“ کے ساتھ (رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ) (جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے) اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انھوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا کہ لوگوں کو موسیٰ ؑ کے محض ایک جادوگر ہونے کا یقین دلا سکیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 118–121

آیت نمبر : 118۔ 122 قولہ تعالیٰ : آیت : فوقع الحق حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : تو حق غالب آگیا (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 246 ) ۔ آیت : وانقلبوا صغرین یہ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ اور اس سے فعل صغر یصغر لصغرا وصغرا وصغارا ہے۔ یعنی فرعون کی قوم اون ان کے ساتھ فرعون بھی ذلیل و خوار اور مغلوب ہو کر واپس پلٹے اور رہے جادو گر تو وہ ایمان لے آئے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 113–126

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ : تمام جہانوں کے رب پر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 121–127

قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 121–123

116: جادوگروں نے فوراً اسی جگہ اعلان کردیا کہ ہم فرعون کی ربوبیت سے بیزار ہوئے اور اس رب العالمین پر ایمان لائے جس کو موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) اپنا رب مانتے ہیں۔ “ قَالَ فِرْعَوْنُ الخ ” فرعون نے غضبناک ہو کر جادوگروں سے کہا کہ تم نے میرے نوکر اور ملازم ہو کر میری اجازت کے بغیر ہی موسیٰ کے رب کو مان لیا ہے۔ مجھے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تم نے یہ سارا معاملہ سوچی سمجھی اسکیم کے مطابق کیا ہے اور تم موسیٰ و ہارون سے مل کر لوگوں کو مرعوب و مغلوب کر کے یہاں سے نکالنا چاہتے ہو۔ “ فَسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ ” تمہیں ابھی معلوم ہوجاتا ہے کہ تمہارے ساتھ کیا ہوگا۔ یہ فرعون کی طرف سے جادوگروں کو سزا کی…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 120–126

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۝ 121 ۙ أیمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ […

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 121–126

قَا لُوْآاِنَّآ اِلیٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّٓآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰ یٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآئَتْنَا ط رَبّنَآ آفِرْغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 125، 126) ” انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں “۔ جادگروں کا جواب جو ایمان کی رفعتوں کا امین ہے اے فرعون ! تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو اور سولی پر چڑھانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 109–122

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 121–122

اعلانِ حق : آیت 121، آیت 122: قَالُوْٓا ٰامَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (کہنے لگے کہ ہم ایمان لائے رب العالمین پر) رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ (جو موسیٰ و ہارون کا بھی رب ہے) مسئلہ : یہ ماقبل سے بدل ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

121-122 (قالوا امنا برب العلمین) فرعون کہنے لگا مجھے مراد لے رہے ہیں تو انہوںں نے کہا (رب موسیٰ و ھرون) مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے ان جادوگروں کے سردار کو کہا تھا کہ اگر میں غالب آگیا تو کیا تم مجھ پر ایمان لے آئو گے ؟ تو اس نے کہا میں ایسا جادو لایا ہوں کہ کوئی جادو اس پر غالب نہیں ہوسکتا اور اگر آپ (علیہ السلام) مجھ پر غالب ہوگئے تو میں آپ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئوں گا حالانکہ اس وقت فرعون بھی دیکھ رہا تھا پھر بھی اس نے یہ کہہ دیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 120–121

151 معجزئہ موسوی کی اثر آفرینی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے عصائے موسوی کے معجزے کی اثر آفرینی کا نمونہ و مظہر سامنے آگیا اور یہ حق و صداقت اور قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر تھا کہ عصائے موسوی کے اس معجزے کو دیکھتے ہی وہ سب جادوگر بلا اختیار سجدے میں گرپڑے۔ سو اس سے ایمان و یقین کی قوت اور اس کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ سامنے آگیا۔ وہ جادوگر یکایک اور بےساختہ سجدے میں گرگئے اپنے اندر کی آواز اور ضمیر کی پکار سے۔ اور یکدم وہ کچھ سے کچھ ہوگئے اور کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ کہاں ان کی کیفیت یہ تھی کہ چند ہی لمحے پہلے یہ لوگ مقابلے میں جیتنے کی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 109–126

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 121–122

ف 4 رب العالمین کے ساتھ رب موسیٰ وھارون اس لیے کہا کہ کسی کو یہ گمان نہ گزرے کہ انہوں نے فرعون کو رب العالمین سمجھتے ہوئے سجدہ کیا ہے۔ اس طرح فرعون اور اس کے مشیروں کی ساری اسکیم خاک میں مل گئی انہوں نے تو جادو گروں کے کو جع کر کے اس لیے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کا مقابلہ کرایا تھا کہ لوگوں پر ثابت کردیں کہ موسیٰ ( علیہ السلام) جو معجزے لے کر آئے ہیں وہ بھی ایک جادو ہے مگر جب تمام جادو گروں نے مل کر اس کے خدا کی طرف سے معجزہ ہونے کا اعتراف کیا اور اوہ ایمان لا کر سجدہ میں گرپڑے تو فرعون اور اس کے مشیروں کے لیے کسی طرح ممکن نہ رہا ہو کہ لوگوں کو موسیٰ ( علیہ السلام) کے محض ایک جادو گر ہونے کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 120–122

(7:120) القی۔ وہ ڈالا گیا ۔ وہ پھینک دیا گیا۔ القاء سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقت کو دیکھ کر وہ اس طرح بےاختیار سجدہ میں گرگئے گویا کسی بیرونی طاقت نے ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے۔ امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ وہ اس طرح فوراً سجدہ میں گرے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے پکڑ کر ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے سورۂ ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ (11:78) اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے (یعنی وہ یوں دوڑ کر آئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کو پیچھے سے کوئی ہانک کر بھگائے لا رہا ہے۔ یعنی ان کی شدت جذبات اور سرعت کار سے یوں نظر آرہا تھا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 113–122

لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔ اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 111–126

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 117–121

[45] یعنی یہ معجزہ دیکھ کر ان پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے ان کی پیشانیاں پکڑ کر زمین پر لگا دیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 120–124

(ف 1) جادوگر چونکہ فن سحر سے واقف تھے ، اس لئے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزہ فرمائی دیکھی تو فرط شوق سے سجدے میں گر گئے ، ان کو معلوم ہوگیا ، یہ چابکدستی یافن فریب نہیں حقیقت اور ایک بالادست قدرت ہے ۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 116–121

ف 1۔ جس سے وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ کی شکل میں لہراتی نظر آنے لگیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے پروردگار عالم کے رب ہونے کا اعلان کردیا : 132: وہ سجدہ شکر میں ایسے گرے کہ زبان قال سے بھی پکار پکار کر کہنے لگے کہ ہم اس پروردگار عالم پر ایمان لائے جس کی الوہیت اور وحدانیت کا اعلان موسیٰ اور ہارون (علیہما السلام) نے کیا اور اس اعلان سے یہ بات خود بخود واضح ہوگئی کہ انہوں نے فرعون کے نعرہ : اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ002 کا صاف صاف انکارکر دیا ۔ اس کے معنی یہ بھی ہیں کہ وہاں سب کو معلوم تھا کہ یہ مقابلہ کس بنیاد پر ہو رہا ہے ۔ پورے مجمع میں کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ تھا کہ مقابلہ موسیٰ اور جادوگروں کے کرتب کا ہو رہا ہے اور فیصلہ اس بات کا ہونا ہے کہ کس کا کرتب زبردست ہے۔ سب یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 120–122

Next, the verse said: فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿118﴾ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِ‌ينَ ﴿119﴾ وَأُلْقِيَ السَّحَرَ‌ةُ سَاجِدِينَ ﴿120﴾قَالُوا آمَنَّا بِرَ‌بِّ الْعَالَمِينَ ﴿121﴾ رَ‌بِّ مُوسَىٰ وَهَارُ‌ونَ ﴿122﴾ "So, the truth prevailed and what they were doing became a nullity. So there they were overcome and turned humiliated. And the sorcerers were constrained to fall in prostration. They said, "We believe in the Lord of the worlds, the Lord of Musa and Harun." The sorcerers were so overawed by the miracle of the prophet Musa (علیہ السلام) that they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 118–122

91. Thus God turned the tables on Pharaoh and his courtiers they arranged the magic show in the hope that it would convince the people that Moses was just a sorcerer, and thus make them sceptical about his claim to prophethood. But the actual outcome was quite the opposite. The sorcerers who had been assembled were defeated. Not only that, it was also unanimously acknowledged that the signs displayed by Moses in support of his claim were not feats of magic. Rather, his signs rather manifested the might of God, the Lord of the universe, and hence could not be overcome by magic.

Read the full tafseer →