Explained with ayahs 117–122
جادوگر سجدہ ریز ہوگئے
اسی میدان میں جادوگروں کے اس حملے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بذریعہ وحی حکم فرمایا کہ اپنے دائیں ہاتھ سے لکڑی کو صرف زمین پر گرا وہ اسی وقت ان کے سارے ہی لغویات ہضم کر جائے گی۔ چناچہ یہی ہوا۔ آپ کی لکڑی نے اژدھا بن کر سارے میدان کو صاف کردیا جو کجھ وہاں تھا سب کو ہڑپ کر گیا۔ ایک بھی چیز اب میدان میں نظر نہ آتی تھی۔ پھر حضرت موسیٰ ؑ نے جہاں اس پہ ہاتھ رکھا ویسی کی ویسی لکڑی بن گئی۔ یہ دیکھتے ہی جادوگر سمجھ گئے کہ یہ جادو نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کی طرف سے معجزہ ہے۔ حق ثابت ہوگیا باطل دب گیا۔ تمیز ہوگئی معاملہ صاف ہوگیا۔ فرعونی بری طرح ہارے اور بری طرح پسپا ہوئے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
سورة الْاَعْرَاف 91
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں کی چال کو الٹا انہی پر پلٹ دیا۔ انہوں نے تمام ملک کے ماہر جادوگروں کو بلا کر منظر عام پر اس لیے مظاہرہ کردیا تھا کہ عوام الناس کو حضرت موسیٰ ؑ کے جادوگر ہونے کا یقین دلائیں یا کم از کم شک ہی میں ڈال دیں۔ لیکن اس مقابلہ میں شکست کھانے کے بعد خود ان کے اپنے بلائے ہوئے ماہرین فن نے بالاتفاق فیصلہ کردیا کہ حضرت موسیٰ ؑ جو چیز پیش کر رہے ہیں وہ ہرگز جادو نہیں ہے بلکہ یقناً رب العالمین کی طاقت کا کرشمہ ہے جس کے آگے کسی جادو کا زور نہیں چل سکتا۔ ظاہر ہے کہ جادو کو خود جادوگروں سے بڑھ کر اور کون جان سکتا تھا۔ پس جب انہوں نے عملی تجربے اور آزمائش کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ، ښقَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ، رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ، یعنی جادوگر سجدے میں ڈال دیئے گئے اور کہنے لگے کہ ہم رب العلمین یعنی رب موسیٰ و ہارون پر ایمان لے آئے۔ سجدے میں ڈال دیئے گئے فرما کر اس طرف اشارہ فرما دیا کہ موسیٰ ؑ کا معجزہ دیکھ کر یہ لوگ کچھ ایسے مبہوت اور مجبور ہوگئے کہ بےاختیار سجدہ میں گر گئے۔ اور اس کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرما کر ان کو سجدہ میں ڈال دیا۔ اور رب العالمین ”کے ساتھ رب موسیٰ و ہارون“ بڑھا کر اپنی بات کو فرعون کے مقابلہ میں واضح کردیا کیونکہ وہ بیوقوف تو اپنے آپ ہی کو رب العالمین کہتا…
Read the full tafseer →وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ۔ ساحر حضرت موسیٰ کے معجزے کی قہرمانیت سے اتنے متاثر و مرعوب ہوئے کہ بےتحاشا سجدے میں گرپڑے۔ مجہول کا صیغہ ان کے جذبہ تعطیم وا کرام سے مغلوبیت کی تعبیر کے لیے ہے۔ تعظیم و اکرام کے لیے سجدہ کا رواج مصریوں، عربوں، اسرائیلیوں سب میں رہا ہے اگرچہ اکثر حالات میں اس کی حد وہی ہوتی تھی جو ہمارے ہاں نماز میں رکوع کی ہوتی ہے۔
ساحر سحر اور معجزے کے فرق کو سب سے زیادہ جانتا ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ سحر اور معجزے میں امتیاز کی سب سے زیادہ صلاحیت خود ساحر کے اندر ہوتی ہے بشرطیکہ اس کے اندر اعتراف حق کے لیے اخلاقی جرات ہو۔ ساحر اپنے علم کی حقیقت اور اپنے مبلغ سے اچھی طرح آشنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
117۔ 1 لیکن یہ جو کچھ بھی تھا ایک تخیل شعبدہ بازی اور جادو تھا جو حقیقت کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا چناچہ موسیٰ ؑ کے لاٹھی ڈالتے ہی سب کچھ ختم ہوگیا اور لاٹھی نے ایک خوفناک اژدھا کی شکل اختیار کرکے سب کچھ نگل لیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
55 یہاں قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ القی استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی گرگئے نہیں بلکہ گرادئیے گئے، ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ ان کے ضمیر نے انہیں بےساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کردیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کاروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ان میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہوگیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
اس منظر میں ایک کے بعد خلاف توقع دوسرے مناظر آتے ہیں۔ اب ایک عظیم منظر اچانک نظروں کے سامنے ہے۔ وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِيْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰي وَهٰرُوْنَ ۔ اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرا دیا۔ کہنے لگے ہم نے مان لیا رب العالمین کو۔ اس رب کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔
یہ ہے انسانی ضمیر میں سچائی کا رعب اور دبدبہ۔ انسانی شعور اچانک روشن ہوجاتا ہے اور جب کوئی دل قبولیت حق کے لئے تیار ہوجاتا ہے تو اس کے اندر اچانک سچائی کا چراغ روشن ہوجاتا ہے اور وہ یقین سے بھر جاتا ہے۔ یہ جادوگر اپنے فن کی حدود سے اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
8 یعنی عصائے موسیٰ سانپ بن کر ان کی تمام لاٹھیوں اور رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا۔ جس سے ساحرین کو تنبہ ہوئی کہ یہ سحر سے بالا تر کوئی اور حقیقت ہے۔ آخر فرعون کے لوگ بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور ساحرین خدائی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے۔ کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون نے ظہور حق پر سجدہ شکر ادا کیا۔ اسی وقت ساحرین بھی سر بسجود ہوگئے۔ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ کا لفظ بتلاتا ہے کہ کوئی ایسا قوی حال ان پر طاری ہوا جس کے بعد بجز خضوع و استسلام کوئی چارہ نہیں رہا۔ رحمت الٰہیہ کا کیا کہنا کہ جو لوگ ابھی ابھی پیغمبر خدا سے نبرد آزمائی کر رہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
آیت 120 وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔
یعنی ایسے لگا جیسے جادوگروں کو کسی نے سجدے میں گرادیا ہے۔ ان پر یہ کیفیت حق کے منکشف ہوجانے کے بعد طاری ہوئی۔ یہ ایک ایسی صورت حال تھی کہ جب کسی با ضمیر انسان کے سامنے حق کو مان لینے کے علاوہ دوسرا کوئی راستہ option رہ ہی نہیں جاتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–123
120 جادوگروں کا سجدے میں گرنا اور ایمان کا اعلان :۔ یعنی اس مقابلے میں جب فرعون اور اس کے درباری مغلوب اور سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) غالب آئے تو ان دونوں نبیوں نے سجدہ شکر ادا کیا انہیں دیکھ کر جادوگروں پر ایسی کیفیت طاری ہوئی کہ وہ بھی بےاختیار ان کے ساتھ سجدہ میں گرگئے بعد میں اسی بھرے مجمع میں اپنے ایمان لانے کا اعلان کیا کہ ہم اس اللہ رب العالمین پر ایمان لاتے ہیں جو موسیٰ (علیہ السلام) و ہارون (علیہ السلام) کا پروردگار ہے اور یہ وضاحت اس لیے کی کہ فرعون بھی اپنے رب ہونے کا دعویٰ رکھتا تھا۔ رہی یہ بات کہ ان جادوگروں کے دلوں پر کیا گزری اور کیسے ایسی کیفیت طاری ہوگئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
157 ۔ یعنی ہم تو شرک و مخلوق پرستی کے گورکھ دھندے سے نکل آئے۔ ہم نے دین توحید اختیار کرلیا۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت کی ہم تصدیق کررہے ہیں۔ ساحروں کو اب اس کا احساس ہوگیا تھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس جو کچھ ہے وہ سحر وطلسم سے کہیں بلند تر کوئی اور ہی چیز ہے۔ اور اسی احساس نے انہیں سجدے میں گرایدیا۔ (آیت) ” سجدین “۔ لازمی نہیں کہ سجدہ یہاں اصطلاحی معنی میں ہو، ہوسکتا ہے کہ جادوگروں کا محض جھک جانا اور اطاعت اختیار کرلینا مراد ہو۔ وحمل السجود علی الخضوع ای انھم خضوا (روح)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی…
Read the full tafseer →والقی السحرۃ سجدین : اور ساحر سجدہ میں بےاختیار گرپڑے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–122
(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔
سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔
وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…
Read the full tafseer →وَاُلْقِيَ السَّحَرَةُ سٰجِدِيْنَ : یعنی چونکہ جادوگر جادو کی حقیقت کو سمجھتے تھے، اس لیے معجزہ دیکھ کر وہ بےاختیار سجدے میں گرپڑے، جیسے وہ خود نہ گرے ہوں بلکہ اندر سے کسی چیز نے انھیں گرا دیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–121
آیت نمبر : 118۔ 122
قولہ تعالیٰ : آیت : فوقع الحق حضرت مجاہد (رح) نے فرمایا : تو حق غالب آگیا (تفسیر ماوردی، جلد 2، صفحہ 246 ) ۔ آیت : وانقلبوا صغرین یہ حال ہونے کی بناء پر منصوب ہے۔ اور اس سے فعل صغر یصغر لصغرا وصغرا وصغارا ہے۔ یعنی فرعون کی قوم اون ان کے ساتھ فرعون بھی ذلیل و خوار اور مغلوب ہو کر واپس پلٹے اور رہے جادو گر تو وہ ایمان لے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–126
(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔
فرعون کے جادوگروں کی تعداد
(3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔
(4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ وَاُلْقِيَ : اور ڈالے گئے ] [ السَّحَرَةُ : جادوگر لوگ ] [ سٰجِدِيْنَ : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ]
نوٹ ۔ 1: 120، میں القی ، ماضی مجہول کا صیغہ آیا ہے ۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ جادوگروں کو سجدے میں گرایا گیا تھا ۔ اس سے ذہن میں کچھ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ۔ البتہ اس واقعہ کے پس منظر کی چند باتیں اگر ذہن میں واضح ہوں تو پھر یہ الجھنیں دور ہوجاتی ہیں ، اس لیے پس منظر کو سمجھ لیں ۔
(1) اس زمانے میں مصر، عرب اور خود بنی اسرائیل میں بھی سجدہ تعظیمی کا رواج عام تھا ۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے بھائی ان کے سامنے سجدہ تعظیمی ہی میں گرے تھے۔ اس لیے جادوگروں کے لیے سجدہ میں گرنا کوئی نامانوس بات نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–120
اب آگے یہ ہوا کہ جادو گروں نے یہ سمجھ لیا کہ ہم نے جس سے مقابلہ کیا یہ جادو گر نہیں ہے، یہ واقعی اللہ کا رسول ہے اور اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہے۔ جب حق واضح ہوگیا تو ان سے نہ رہا گیا اور فوراً سجدہ میں گرگئے اور یہ اعلان کردیا کہ ہم رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔ چونکہ ایمانیات کا تفصیلی علم نہ تھا اس لیے انہوں نے اجمالی ایمان کا اعلان کردیا۔ قرآن مجید میں لفظ سجدوا یا خروا سجدوا کے بجائے (وَ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ ) فرمایا جس میں یہ بتادیا کہ ان کے دل میں حق نے اس قدر گھر کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے لیے سجدہ کرنے پر مجبور ہوگئے۔ وہ تو حضرت موسیٰ کا مقابلہ کر کے فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–120
115:“ وَقَعَ اَيْ ظھر ” یعنی حق ظاہر ہوگیا اور جادوگروں کا عمل باطل ہوگیا۔ “ فَغُلِبُوْا ھُنَالِکَ ” فرعون اور اس کی قوم بھرے مجمع میں مغلوب ہوگئے اور ذلیل ہو کر وہاں سے واپس لوٹے۔ “ وَ اُلْقِيَ السَّحَرَةُ ” یعنی زور سے سجدے میں ڈال دئیے گئے کیونکہ انہوں نے پہلے “ اِمَّا اَنْ تُلْقِیَ ” کہہ کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ادب کیا تھا۔ “ من اتی یمشی اتیته ھرولة ” جب جادوگروں نے دیکھا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا عصا اژدہا بن کر ان کی تمام رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گیا اور پھر دوبارہ اپنی اصلی حالت پر آگیا مگر اس کے باوجود اس کے حجم میں کوئی اضافہ نہیں ہوا تو ان پر حق واضح ہوگیا اور وہ سمجھ گئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–126
ربط آیات
گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے…
Read the full tafseer →وَاُلْقِيَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِيْنَ 120
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–122
1 ؎ فرعون اور اس کا دربار۔ 12 منہ
Read the full tafseer →وَ اُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ ۔ قَالُوْٓا اٰمَنَّا بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ رَبِّ مُوْسٰی وَھٰرُوْنَ ۔
(الاعراف : 122، 121، 120)
” اور جادوگر سجدے میں گرپڑے اور پکار اٹھے کہ ہم اس رب العالمین پر ایمان لے آئے جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے “۔
فرعون اور اس کے عمائدین پر شکست کا دوسرازور دار حملہ
یہ وہ زور دار اور ناقابل برداشت حملہ تھا جو فرعون اور اس کے درباریوں پر ہوا اور جس نے پورے تماشائیوں کے ہجوم کو ہلا کر رکھ دیا کہ ملک بھر کے نامور جادوگر جنھیں پورے ملک سے تلاش کر کے لایا گیا تھا اور جن کے کمال فن پر بادشاہ اور پورے ملک کے لوگوں کو اس حد تک اعتماد تھا کہ وہ حضرت موسیٰ کی شکست کو یقینی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–122
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔
سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…
Read the full tafseer →مغلوبیت کے بعد جادوگر موسیٰ ( علیہ السلام) کا لشکر بن گئے :
آیت 120: وَاُلْقِیَ السَّحَرَۃُ سٰجِدِیْنَ (اور وہ جو ساحر تھے وہ سجدہ میں گرگئے) نمبر 1۔ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوگئے۔ گویا ان کو کسی ڈالنے والے نے زبردستی ڈال دیا۔ نمبر 2۔ جو کچھ انہوں نے دیکھا اس کو دیکھ کر وہ اپنے اختیار میں نہ رہے گویا وہ ڈال دیے گئے وہ دن کی ابتداء میں جادوگر کافر تھے اور دن کے آخر میں نیک شہداء بن گئے۔
Read the full tafseer →120(والقی السحرۃ سجدین) اللہ کے لئے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے سجدہ میں ڈال دیا اور بعض نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے الہام کیا کہ وہ سجدہ کریں تو انہوں نے سجدہ کیا ۔
اخفش (رح) فرماتے ہیں اتنی تیزی سے سجدہ میں گئے گویا کہ کسی نے ان کو سجدہ میں گرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–121
151 معجزئہ موسوی کی اثر آفرینی کا ایک نمونہ و مظہر : سو اس سے عصائے موسوی کے معجزے کی اثر آفرینی کا نمونہ و مظہر سامنے آگیا اور یہ حق و صداقت اور قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم الشان نمونہ و مظہر تھا کہ عصائے موسوی کے اس معجزے کو دیکھتے ہی وہ سب جادوگر بلا اختیار سجدے میں گرپڑے۔ سو اس سے ایمان و یقین کی قوت اور اس کی انقلاب آفرینی کا ایک عظیم الشان مظہر و نمونہ سامنے آگیا۔ وہ جادوگر یکایک اور بےساختہ سجدے میں گرگئے اپنے اندر کی آواز اور ضمیر کی پکار سے۔ اور یکدم وہ کچھ سے کچھ ہوگئے اور کہیں سے کہیں پہنچ گئے۔ کہاں ان کی کیفیت یہ تھی کہ چند ہی لمحے پہلے یہ لوگ مقابلے میں جیتنے کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–126
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
جادو اور معجزہ میں فرق :
جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 119–120
ف 3 یعنی اس طرح بےاختیار ہو کر گرپڑے جیسے اندر سے کسی چیز نے انہیں یک لخت گرادیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
(7:120) القی۔ وہ ڈالا گیا ۔ وہ پھینک دیا گیا۔ القاء سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مذکر غائب ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقت کو دیکھ کر وہ اس طرح بےاختیار سجدہ میں گرگئے گویا کسی بیرونی طاقت نے ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے۔
امام رازی (رح) نے لکھا ہے کہ وہ اس طرح فوراً سجدہ میں گرے کہ معلوم ہوتا تھا کہ کسی بیرونی طاقت نے پکڑ کر ان کو سجدہ میں گرا دیا ہے
سورۂ ھود میں ہے وجاء ہ قومہ یھرعون الیہ (11:78) اور اس کی قوم کے لوگ دوڑتے ہوئے اس کے پاس آئے (یعنی وہ یوں دوڑ کر آئے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ ان کو پیچھے سے کوئی ہانک کر بھگائے لا رہا ہے۔ یعنی ان کی شدت جذبات اور سرعت کار سے یوں نظر آرہا تھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 113–122
لغات القرآن آیت نمبر (113 تا 122 ) ۔
اجر (انعام) ۔ المقربین (مقربین۔ (باعزت درباری) ۔ ان تلقی (یہ کہ تو ڈالے گا) ۔ القوا (انہوں نے ڈالا۔ انہوں نے پھینکا ) ۔ سحروا (باندھ دیا ) ۔ اعین الناس (لوگوں کی آنکھوں کو) ۔ استرھبوا (انہوں نے ڈرادیا ) ۔ بسحر عظیم (بڑے جادو سے ) ۔ اوحینا (ہم نے وحی کی ) ۔ الق (ڈال دے ) ۔ عصاک (اپنی لاٹھی کو ) ۔ تلقف (نگلنے لگا ) ۔ مایا فکون (جو کچھ کہ وہ بناتے ہیں ) ۔ وقع (واقع ہوگیا۔ کھل گیا) ۔ بطل (تبا ہوگیا ) ۔ غلبوا (وہ مغلوب کردیئے گئے) ۔ ھنالک (اس جگہ) ۔ انقلبوا (وہ پلٹ گئے) ۔ صغرین (ذلیل و سوا ہونے والے ) ۔ القی (ڈال دیئے گئے۔ (القاء) ۔ سجدین (سجدہ کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 111–126
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت
مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 117–121
[45] یعنی یہ معجزہ دیکھ کر ان پر ایسا اثر ہوا کہ وہ بےاختیار سجدے میں گرگئے۔ معلوم ہوتا تھا کہ کسی نے ان کی پیشانیاں پکڑ کر زمین پر لگا دیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–124
(ف 1) جادوگر چونکہ فن سحر سے واقف تھے ، اس لئے جب انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معجزہ فرمائی دیکھی تو فرط شوق سے سجدے میں گر گئے ، ان کو معلوم ہوگیا ، یہ چابکدستی یافن فریب نہیں حقیقت اور ایک بالادست قدرت ہے ۔
Read the full tafseer →120 اورتمام جادو سجدے میں گرپڑے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 116–121
ف 1۔ جس سے وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ کی شکل میں لہراتی نظر آنے لگیں۔
Read the full tafseer →جادوگر اسی میدان میں بےاختیار سجدہ میں گر گئے :
131: جادوگر اس وقت تک جادوگر تھے لیکن اب وہ جادوگر نہ رہے وہ سجدہ میں گرا دئیے گئے اس کو کہتے ہیں جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔ جو کچھ انہوں نے مقابلہ میں دیکھا وہ کسی صاحب فن کا فن نہیں تھا بلکہ وہ رب العالمین کا حق تھا جو کوئی مصنوعی اور بناوٹی چیز نہیں تھی بلکہ اصلی اور حقیقی تھی پھر اللہ کا فضل جو شامل حال ہوا تو ان آنکھوں کے پردے کھل گئے اور رب العالمین کے حضور سجدہ شکر میں بےساختہ گر گئے ایسے گویا کہ وہ گرا دئیے گئے اس دن کی یہ حالت ایسی تھی جیسے کے بےاختیارانہ آدمی فرط محبت میں کرتا ہے لیکن ان کی اصلی حالت کو بھی اللہ نے منکشف فرما دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 120–122
Next, the verse said:
فَوَقَعَ الْحَقُّ وَبَطَلَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿118﴾ فَغُلِبُوا هُنَالِكَ وَانقَلَبُوا صَاغِرِينَ ﴿119﴾ وَأُلْقِيَ السَّحَرَةُ سَاجِدِينَ ﴿120﴾قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿121﴾ رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ ﴿122﴾
"So, the truth prevailed and what they were doing became a nullity. So there they were overcome and turned humiliated. And the sorcerers were constrained to fall in prostration. They said, "We believe in the Lord of the worlds, the Lord of Musa and Harun."
The sorcerers were so overawed by the miracle of the prophet Musa (علیہ السلام) that they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 118–122
91. Thus God turned the tables on Pharaoh and his courtiers they arranged the magic show in the hope that it would convince the people that Moses was just a sorcerer, and thus make them sceptical about his claim to prophethood. But the actual outcome was quite the opposite. The sorcerers who had been assembled were defeated. Not only that, it was also unanimously acknowledged that the signs displayed by Moses in support of his claim were not feats of magic. Rather, his signs rather manifested the might of God, the Lord of the universe, and hence could not be overcome by magic.
Read the full tafseer →