Al-A'raaf 7:125

Al-A'raaf · from ayah 125

7:125

قَالُوْۤا اِنَّاۤ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۟ۚقَالُـوۡۤا اِنَّاۤ اِلٰى رَبِّنَا مُنۡقَلِبُوۡنَ‌ۚ

وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Indeed, to our Lord we will return.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:125

انہوں نے جواب دیا "بہر حال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

وہ بولے کہ ہم تو اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے جواب دیا کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا : یقین رکھ کہ ہم (مر کر) اپنے مالک ہی کے پاس واپس جائیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے ہم اپنے رب کی طرف پھرنے والے ہیں

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

انہوں نے کہا: بیشک ہم اپنے رب کی طرف پلٹنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا یقینا ہم اپنے رب ہی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جادوگر کہنے لگے : ہم یقینا اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

وہ بولے ہم اپنے رب ہی کی طرف تو لوٹیں گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے (اطمینان سے) جواب دیا کہ (پرواہ نہیں کہ) ہمیں تو بہرحال اپنے رب ہی کے پاس لوٹ کر جانا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے (خیر) ہم اپنے پروردگار ہی کے پاس لوٹیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا (ٹھیک ہے) ہمیں تو اپنے رب ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They replied: 'We shall surely return to our Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We have surely to return to our Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We have surely to return to our Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Verily, we are returning to our Lord."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Lo! We are about to return unto our Lord!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Indeed, to our Lord we will return.

— Saheeh International

The magicians said, "We will certainly return to Our Lord.

— Muhammad Sarwar

They said: Surely to our Lord shall we go back:

— Muhammad Habib Shakir

They said: verily unto our Lord we are turning.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "For us, We are but sent back unto our Lord:

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:125

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 123–126

فرعون سیخ پا ہو گیا جادوگروں کے اس طرح مجمع عام میں ہار جانے پھر اس طرح سب کے سامنے بےدھڑک اسلام قبول کرلینے سے فرعون آگ بگولا ہوگیا اور اس اثر کو روکنے کیلئے سب سے پہلے تو ان مسلمانوں سے کہنے لگا تمہارا بھید مجھ پر کھل گیا ہے تم سب مع موسیٰ کے ایک ہی ہو یہ تمہارا استاد ہے تم اس کے شاگرد ہو تم نے آپس میں پہلے یہ طے کیا کہ بھئی تو پہلے چلا جا پھر ہم آجائیں گے اس طرح میدان قائم ہو ہم مصنوعی لڑائی لڑ کر ہار جائینگے اور اس طرح اس ملک کے اصلی باشندوں کو یہاں سے نکال باہر کریں گے۔ فرعون کے اس جھوٹ پر اللہ کی مار ہے۔ کوئی بیوقوف انسان بھی اس کے ایک جملہ کو بھی صحیح نہیں سمجھ سکتا۔ سب کو معلوم تھا…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 123–126

سورة الْاَعْرَاف 92 فرعون نے پانسہ پلٹتے دیکھ کر آخری چال یہ چلی تھی کہ اس سارے معاملہ کو موسیٰ اور جادوگروں کی سازش قرار دیدے اور پھر جادوگروں کو جسمانی عذاب اور قتل کی دھمکی دے کر ان سے اپنے اس الزام کا اقبال کرالے۔ لیکن یہ چال بھی الٹی پڑی۔ جادوگروں نے اپنے آپ کو ہر سزا کے لیے پیش کر کے ثابت کردیا کہ ان کا موسیٰ ؑ کی صداقت پر ایمان لانا کسی سازش کا نہیں بلکہ سچے اعتراف حق کا نتیجہ تھا۔ اب اس کے لیے کوئی چارہ کار اس کے سوا باقی نہ رہا کہ حق اور انصاف کا ڈھونگ جو وہ رچانا چاہتا تھا اسے چھوڑ کر صاف صاف ظلم و ستم شروع کردے۔ اس مقام پر یہ بات بھی دیکھنے کے قابل ہے کہ چند لمحوں کے اندر ایمان نے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ، یعنی اگر تو ہمیں قتل کردے گا تو مضائقہ نہیں، ہم اپنے رب کے پاس چلے جائیں گے، جہاں ہم کو ہر طرح کی راحت ملے گی۔ جادوگر چونکہ فرعون کی سطوت وجبروت سے ناواقف نہ تھے اس لئے یہ نہیں کہا کہ ہم تیرے قابو میں نہیں آئیں گے یا ہم مقابلہ کریں گے بلکہ اس کی دھمکی کو صحیح مان کر یہ جواب دیا کہ یہ مانا کہ تو ہمیں ہر قسم کی سزا دینے پر دنیا میں قادر ہے مگر ہم دنیا کی زندگی ہی کو ایمان لانے کے بعد کوئی چیز نہیں سمجھتے، دنیا سے گزر جائیں گے تو اس زندگی سے بہتر زندگی ملے گی اور اپنے رب کی ملاقات نصیب ہوگی۔ اور یہ معنی بھی ہو سکتے ہیں کہ اس زندگی میں جو تیرا دل چاہے کرلے،…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰيٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَاۗءَتْنَا ۭرَبَّنَآ اَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِيْنَ۔ ایمان باللہ کا کرشمہ : ایمان باللہ کا کرشمہ دیکھئے۔ یہ وہی جادوگر ہیں جن کی دناءت اور پست ہمتی کا ابھی چند منٹ پہلے یہ حال تھا کہ اپنے کرتب دکھانے کے لیے فرعون کے سامنے حاضر ہوتے ہیں تو بھانڈوں، نقالوں اور مسخروں کی طرح اپنے فن کے مظاہر پر بھرپور انعام کی التجا پیش کرتے ہیں یا ایمان کی روشنی دل میں داخل ہوتے ہی ان کے باطن کا ہر گوشہ اس طرح جگمگا اٹھا ہے کہ معلوم ہوتا ہے تاریکی کی کوئی پرچھائیں ان کے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

125۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ اگر ہمارے ساتھ ایسا معاملہ کرے گا تو تجھے بھی اس بات کے لئے تیار رہنا چاہیے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تجھے اس جرم کی سخت سزا دے گا اس لئے کہ ہم سب کو مر کر اس کے پاس جانا ہے اس کی سزا سے کون بچ سکتا ہے ؟ گویا فرعون کے عذاب دنیا کے مقابلے میں اسے عذاب آخرت سے ڈرایا گیا ہے۔ دوسرا مفہوم یہ ہے کہ موت تو ہمیں آنی ہی آنی ہے اس سے کیا فرق پڑے گا کہ موت سولی پر بھی آئے یا کسی اور طریقے سے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 120–126

55 یہاں قرآن کریم نے مجہول کا صیغہ القی استعمال فرمایا ہے جس کے لفظی معنی گرگئے نہیں بلکہ گرادئیے گئے، ہیں۔ اس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ حالات ایسے پیش آئے کہ ان کے ضمیر نے انہیں بےساختہ سجدے میں گر جانے پر مجبور کردیا۔ اوپر ترجمے میں اس پہلو کی رعایت کی کوشش کی گئی ہے۔ یہاں ایمان کی یہ طاقت بھی ملاحظہ فرمائیے کہ جو جادوگر چند لمحوں پہلے اپنے مذہب کی دفاعی کاروائی پر بھی فرعون سے انعام مانگ رہے تھے، اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے کے بعد ان میں یہ عظیم حوصلہ پیدا ہوگیا کہ وہ فرعون جیسے جابر حکمران کی دھمکیوں کو ذرا بھی خاطر میں نہیں لائے، اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جانے کا اشتیاق ظاہر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 124–125

تشدد ، تعذیب اور سخت اور عبرت آموز سزا۔ یہ ہیں وہ وسائل جو ہر طاغوتی نظام ، حق کے مقابلے میں لاتا ہے۔ اس لئے کہ حق کا مقابلہ کبھی بھی حجت اور استدلال سے نہیں کیا جاسکتا۔ بلکہ تشدد کے ہتھیار ہمیشہ سچائی کے خلاف استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن جب نفس انسانی کو ایمانی سربلندی حاصل ہوجاتی ہے اور اس کے اندر ایمان کی حقیقت جاگزیں ہوجاتی ہے تو وہ اس کرہ ارض کی عظیم قوتوں کے مقابلے میں آکھڑا ہوتا ہے اور اسے سرکشوں اور طاغوتوں کے انتقام کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی اور ایسے افراد کی زندگی میں نظریہ حیات کو دنیاوی زندگی پر برتری حاصل ہوجاتی ہے اور یہ فانی زندگی آنے والی دائمی زندگی کے مقابلے میں ہیچ نظر آتی ہے۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 124–125

2 ساحرین توحید اور تمنائے لقاء اللہ کی شراب سے مخمور ہوچکے تھے، جنت و دوزخ گویا آنکھوں کے سامنے تھیں۔ بھلا وہ ان دھمکیوں کی کیا پرواہ کرسکتے تھے انہوں نے صاف کہہ دیا کہ کچھ مضائقہ نہیں جو کرنا ہو کر گزر پھر ہم کو اپنے خدا کے پاس جانا ہے تیرے سر ہو کر سہی۔ وہاں کے عذاب سے یہاں کی تکلیف آسان ہے اور اس کی رحمت و خوشنودی کے راستہ میں دنیا کی بڑی سے بڑی تکالیف و مصائب کا برداشت کرلینا بھی عاشقوں کے لیے سہل ہے۔ " ہنیئًا لارباب النعیم نعیمہم۔ وللعاشق المسکین مایتجرَّع "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 125 قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ جادو گروں پر انکشافِ حق سے حاصل ہونے والی یقین کی پختگی اور گہرائی کا یہ عالم تھا کہ ایک مطلق العنان بادشاہ کی اتنی بڑی دھمکی ان کے پائے استقامت میں ذرا بھی لرزش پیدا نہ کرسکی۔ ان کے اس جواب کے ایک ایک لفظ سے ان کے دل کا اطمینان جھلکتا اور چھلکتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 124–125

121 فرعون کی دوسری چالاکی جادوگروں پر عتاب :۔ فرعون نے اپنے بچاؤ کے لیے پہلی تدبیر تو یہ کی تھی کہ موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کو عوام میں محض ایک جادوگر کی حیثیت سے متعارف کرایا جائے اور اسی لیے اس نے باہمی مشورے سے یہ شاہی دنگل رچایا تھا پھر جب اس مقابلے میں مات کھا گیا تو اپنی خفت اور ندامت کو مٹانے کے لیے دوسری تدبیر یہ اختیار کی کہ ان ایمان لانے والے جادوگروں پر یہ الزام لگا دیا کہ تم پہلے ہی اس سازش میں شریک تھے موسیٰ ( علیہ السلام) تمہارا استاد ہے اور تم سب اس کے چیلے چانٹے ہو اور تم سب مل کر یہ چاہتے ہو کہ یہاں کے اصل باشندوں کو نکال کر اس ملک پر قبضہ کرلو اس معرکے میں جس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

160 ۔ (تو اس سزا اور موت سے ہمیں ڈراتا کیا ہے ؟ ) اللہ اللہ، ایمان باللہ بھی ذہن کے اندر کیسا انقلاب برپا کردیتا ہے۔ یہ ساحر وہی ہیں کہاں تو ابھی اپنا کمال فن دکھانے کے لیے مال وجاہ، انعام واکرام کے طالب تھے۔ اور کہاں اب سر فروشی پر بےتکلف آمادہ ہوگئے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 120–126

والقی۔۔۔ سجدین۔ عصاء موسیٰ جب سانپ بن کر ان کی تمام رسیوں کو نگل گیا اور سارا بنا بنایا کھیل ختم کردیا جس سے جادو گروں کو تنبہ ہوا کہ یہ سحر سے بالاتر کوئی اور حقیقت ہے، آخر کار فرعون کے لوگ اور خود فرعون بھرے مجمع میں شکست کھا کر اور ذلیل و خوار ہو کر میدان مقابلہ سے لوٹے، اور جادوگر خدا کی نشانی دیکھ کر بےاختیار سجدہ میں گرپڑے کہتے ہیں کہ موسیٰ و ہارون (علیہما السلام) نے سجدہ شکر ادا کیا اسی وقت جادوگر بھی سربسجود ہوگئے، اُلقی السحرۃ، کا لفظ بتلا رہا ہے کہ کوئی قوی حال جادوگروں پر ایسا طاری ہوا جس کے بعد بجز خشوع خضوع اور استسلام کے کوئی چارہ نہیں رہا، رحمت الہٰیہ کا کیا کہنا جو لوگ ابھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا ان الی ربنا منقلبون : انہوں نے جواب دیا (کچھ پروا نہیں) ہم اپنے رب کے پاس ہی ضرور لوٹ کر جائینگے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 125–126

(125۔ 126) جادوگر کہنے لگے ہم تو اپنے پروردگار کے پاس جائیں گے تو نے ہم میں کون ساعیب دیکھا، جس کی وجہ سے سزا دینا چاہتا ہے، صرف یہی کہ جب ہمارے سامنے آیات الہی آئیں ہم ان پر ایمان لے آئیں۔ ہمارے پروردگار سولی اور ہاتھ پیر کاٹے جانے کے وقت ہم پر صبر کا فیضان فرماتا کہ ہم کفر نہ اختیار کریں، اور اخلاص کے ساتھ مومن ہی مریں۔ (یعنی موت کی سختی کہیں کفر پر مجبور نہ کردے)

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ : یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں، وہ کسی نہ کسی شکل میں ضرور آنی ہے، اگر ہماری قسمت میں یہی لکھا ہے کہ ہمارا خاتمہ سولی پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے سولی دو ، ہمیں کوئی پروا نہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 122–126

آیت نمبر : 122۔ 126 قولہ تعالیٰ : آیت : قال فرعون امنتم بہ قبل ان اذن لکم یہ فرعون کی طرف سے ان کا انکار ہے۔ آیت : ان ھذا لمکر مکرتموہ فی المدینۃ لتخرجوا منھا اھلھا یعنی تمہارے اور ان کے درمیان اس بارے میں اتفاق ہوچکا ہے کہ تم شہر کے والی اور حاکم بن جاؤ، یعنی تمہارے اس صحراء میں ظاہر ہونے سے پہلے یہ مصر کے شہر میں تم میں سے تھا۔ آیت : فسوف تعلمون یہ ان کے لیے دھمکی اور جھڑک ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا : سب سے پہلے فرعون نے سولی دی اور ہاتھ او پاؤں مختلف سمتوں سے کاٹے (المحرر الوجیز، جلد 2، صفحہ 440) (یعنی) دایاں پاؤں اور بایاں ہاتھ ( یا) دایاں ہاتھ اور بایاں پاؤں، یہ حسن مروی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 113–126

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جادوگر ستر آدمی تھے۔ صبح کو وہ جادوگر اور شام کو وہ شہدا تھے۔ اور دوسرے الفاظ میں دن کے پہلے حصے میں وہ جادوگر تھے اور سن کے آخری حصہ میں وہ شہداء تھے جب ان کو قتل کردیا گیا۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کے جادوگر بارہ ہزار تھے۔ فرعون کے جادوگروں کی تعداد (3) امام ابن جریر، اور ابن ابی حاتم نے ابن اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ فرعون کے لئے پندرہ ہزار جادوگر جمع کئے گئے۔ (4) امام ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابو ثمامہ (رح) سے روایت کیا کہ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوْٓا : انہوں نے کہا ] [ اِنَّآ : بیشک ہم ] [ اِلٰى رَبِّنَا : اپنے رب کی طرف ہی ] [ مُنْقَلِبُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 121–127

قوم فرعون کے سرداروں نے فرعون کو بھڑکایا کہ تو موسیٰ اور ان کی قوم کو کب تک یوں ہی چھوڑے رہے گا فرعون نے جادو گروں کو دھمکی دی تھی اس کا علم تو درباریوں کو ہو ہی گیا تھا۔ لیکن ان لوگوں نے بطور خوشامد اور چاپلوسی کے فرعون کو ابھارا اور اس سے کہا کیا تو موسیٰ اور اس کی قوم کو (جو اس کے ماننے والے ہیں خواہ بنی اسرائیل میں سے ہوں خواہ جادو گر ہوں خواہ وہ لوگ ہوں جو قوم فرعون میں سے مسلمان ہوگئے تھے) اسی طرح چھوڑے رکھے گا کہ وہ زمین میں فساد کرتے رہیں اور تجھ سے اور تیرے تجویز کیے ہوئے معبودوں سے علیحدہ رہیں ؟ مطلب ان لوگوں کا یہ تھا کہ اس کا کچھ انتظام کرنا چاہئے۔ ان لوگوں کے ساتھی بڑھتے رہیں گے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 124–125

117: یعنی میں تمہارے ہاتھ پاؤں کٹوا کر تم کو سولی پر لٹکا دوں گا “ مِنْ خِلَافٍ ” یعنی ہر ایک کی ایک جانب کا ہاتھ اور دوسری جانب کا پاؤں۔ “ قَالُوْا الخ ” جادوگروں نے کہا اگر تو ایسا کرے گا تو یہ ہمارا عین مقصود ہے کیونکہ اس طرح ہم اپنے رب کی آغوش رحمت میں پہنچ جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 120–126

ربط آیات گزشتہ درس میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے جادوگروں کے درمیان مقابلے کا ذکر ہوا تھا معجزات دیکھ کر فرعون نے کہا یہ بڑا جادوگر ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے او خود عمان حکومت سنبھال لے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف فرعون کے سرداروں نے اس کی ہاں میں ہاں ملائی فرعون کو مشورہ دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں جلدی نہ کی جائے بلکہ اسے مہلت دی جائے انہوں نے کہا کہ ملک کے بڑے بڑے جادوگروں کو اکٹھا کرکے موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مقابلہ کرایا جائے اس پروگرام کے تحت تمام چیدہ چیدہ ساحروں کو جمع کیا گیا سب لوگ میدان میں اکٹھے ہوگئے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰى رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ۝ 125 ۚ انقلاب قَلْبُ الشیء : تصریفه وصرفه عن وجه إلى وجه، والِانْقِلابُ : الانصراف، قال : انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] ، وقال : إِنَّا إِلى رَبِّنا مُنْقَلِبُونَ [ الأعراف/ 125] ( ق ل ب ) قلب الشئی کے معنی کسی چیز کو پھیر نے اور ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف پلٹنے کے ہیں الانقلاب کے معنی پھرجانے کے ہیں ارشاد ہے ۔ انْقَلَبْتُمْ عَلى أَعْقابِكُمْ وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ ( یعنی مرتد ہوجاؤ ) وَمَنْ يَنْقَلِبْ عَلى عَقِبَيْهِ [ آل عمران/ 144] اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 123–126

2 ؎ یعنی اسرائیل کو۔ 12 منہ ؎ یہ نام یونانی تاریخوں سے لئے گئے ہیں۔ اگر عرب اور ایران کے نزدیک ان میں تغیر ہو تو کچھ عجب نہیں۔ چناچہ مؤرخین اسلام نے موسیٰ کے عہد کے فرعون کا نام ولید بتلایا ہے۔ کسی نے ابو العباس بن ولید بن مصعب بن ریان کہا ہے۔ مسند۔

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 121–126

قَا لُوْآاِنَّآ اِلیٰ رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ ۔ وَمَا تَنْقِمُ مِنَّٓآ اِلَّآ اَنْ اٰمَنَّا بِاٰ یٰتِ رَبِّنَا لَمَّا جَآئَتْنَا ط رَبّنَآ آفِرْغْ عَلَیْنَا صَبْرًا وَّ تَوَفَّنَا مُسْلِمِیْنَ ۔ (الاعراف : 125، 126) ” انھوں نے جواب دیا بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رب ہی کی طرف ہے تو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رب کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انھیں مان لیا اے رب ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں “۔ جادگروں کا جواب جو ایمان کی رفعتوں کا امین ہے اے فرعون ! تم ہمیں موت سے ڈراتے ہو اور سولی پر چڑھانے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 123–126

فہم القرآن ربط کلام : جادو گروں کے ایمان لانے پر فرعون کا ان پر سازش کرنے کا الزام اور ان کو مار ڈالنے کی دھمکیاں۔ اس پر جادوگروں کا رد عمل اور عزم و استقلال کا مظاہرہ۔ حق و باطل کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت بالکل عیاں دکھائی دیتی ہے کہ حق ہمیشہ دلائل کی بنیاد پر باطل پر غالب رہا ہے اور غالب رہے گا۔ یہی بات قرآن مجید نے دو ٹوک الفاظ میں بیان فرمائی ہے کہ ” کافر اور مشرک چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنے منہ کی پھونکوں سے بجھا دیں جبکہ اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہے کہ وہ اپنے نور کو ہر جانب پھیلا کر رہے گا۔ اس نے اپنے رسول کو دین حق اور ہدایت کے ساتھ اس لیے بھیجا ہے تاکہ اس کا دین تمام…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ساحروں کا جواب : آیت 125: قَالُوْٓا اِنَّآ اِلٰی رَبِّنَا مُنْقَلِبُوْنَ (انہوں نے جواب دیا۔ کہ ہم مر کر اپنے مالک ہی کے پاس جائیں گے) پس ہمیں موت کا ڈر نہیں اس لئے کہ ہم اپنے اس ربّ کی رحمت و ملاقات کی طرف پلٹ جائیں گے۔ یا اِنَّا سے وہ اپنے آپ اور فرعون ہر دو مراد لے کر گویا کہہ رہے تھے کہ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں واپس جائیں گے وہ خود ہمارے مابین فیصلہ فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 125–126

تفسیر 126 (وما تنقم منا) یعنی تو ہم سے ناپسند نہیں کرتا اور ضحاک وغیرہ نے فرمایا ہے تو ہم پر عیب نہیں لگاتا اور عطاء (رح) فرماتے ہیں ہمارا تیرے پر کوئی گناہ نہیں ہے جس پر تو ہمیں عذاب دے ۔ (الا ان امنا بایت ربنا لما جآء تنا ) پھر اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے (ربنا افرغ علینا صبرا و توقنا مسلمین) کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ فرعون نے ان کے اہتھ پائوں کٹوا کر انکو سولی پر چڑھا دیا تھا لیکن دیگر حضرات فرماتے ہیں کہ فرعون ان پر قدرت نہیں پاسکا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا کہ (لایصلون الیکما با یاتنا انتما ومن اتبعکما الغالبون) تم دونوں اور تمہارے متعبین ہی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

155 قوت ایمان و یقین ایک بےمثال قوت : سو فرعون کی اس خوفناک دھمکی کے جواب میں ان مومنان صدق و صفا نے کہا کہ کوئی پروا نہیں کہ ہم نے تو بہرحال لوٹ کر اسی خالق ومالک کے حضور جانا اور حاضر ہونا ہے۔ اگر شہادت کے راستے سے جائین تو اور کہا چاہیے ؟ سو اس سے قوت ایمان و یقین کی انقلاب آفرینی کا یہ مظہر و نمونہ ملاحظہ ہو کہ یہ انسان کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتی ہے ۔ سبحان اللہ ۔ انقلاب ملاحظہ ہو کہ کہاں وہ کیفیت کہ مقابلہ پر آنے سے پہلے یہ لوگ فرعون سے اجر و عوض کا مطالبہ کر رہے تھے اور کہاں اب دولت ایمان سے سرفرازی کے بعد ان کا یہ حال ہے کہ جان تک کی بازی لگانے کے لئے بھی برضا ورغبت تیار ہیں کہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 109–126

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 6 یعنی موت سے کسی حال میں چھٹکارا نہیں وہ کسی شکل میں ضرور آتی ہے اگر ہماری قسمت میں بھی لکھا ہے کہ ہماری زندگی کا خاتمہ پھانسی کے تختے پر ہو تو ہمیں بڑی خوشی سے بھانسی دو ہمیں کوئی پروا نہیں۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 123–126

لغات القرآن آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ امنتم (تم ایمان لے آئے) ۔ اذن (اجازت دے دی) ۔ مکر تم وہ (تم نے تدبیر کی۔ سازش کی) ۔ لتخر جوا (تاکہ تم نکال لے جائو) ۔ لاقطعن (البتہ میں ضرور کاٹوں گا) ۔ اصلبن (میں ضرور پھانسی دوں گا ) ۔ ماتنقم (تو دشمنی نہیں کرتا ) ۔ افرغ (ڈال دے) ۔ تشریح : آیت نمبر (123 تا 126 ) ۔ ” اس واقعہ کے بعد جب کہ تمام جادو گروں نے ایک سچائی کو دیکھ کر ایمان قبول کرلیا اور ہر طرح کے خطرات سے بےنیاز ان اہل ایمان نے بھرے دربار میں صاف صاف کہہ دیا تو فرعون سمجھ گیا کہ اب پانسہ پلٹ چکا ہے اور تیرکمان سے نکل چکا ہے۔ اس کو خطرہ محسوس ہوا کہ کہیں ان جادو گروں کے بعد ساری رعایا ہی موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 111–126

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بنی اسرائیل کی شکایت مطلب یہ ہے کہ فرعون کے وزیروں اور امیروں نے فرعون کے پاس جاکر بطور مشورہ یہ بات کہی کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور اس کی پیروی کرنے والوں کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے، ورنہ یہ لوگ آپ کی رعیت کو بہکا کر آپ کی طرف سے پھیر دیں گے اور خدا کی طرف متوجہ کردیں گے اور آپ کو اور آپ کے دین و آئین کو اور معبودوں کو چھوڑ دیں گے، تو پھر فرعون نے جل کر وہی حکم جاری کرنے کو کہا جو پہلے کرچکا تھا۔ جس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے تھے کہ ہم ان کے لڑکوں کو قتل کر ڈالیں گے اور لڑکیوں کو چھوڑ دیں گے، ہمارے سامنے ان لوگوں کی کیا ہستی ہے ہم سب زبردست ہیں۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 125–137

[47] یعنی بنی اسرائیل جو غلامی اور محکومی کے شکنجوں میں جکڑے ہوئے تھے اللہ نے ان کو رفعت بخشی اور ان کو سرزمین فلسطین کی حکومت عطا فرمائی۔ برکتوں والی زمین سے مراد فلسطین ہی کی سرزمین ہے کیونکہ قرآن میں اس صفت کے ساتھ اسی سر زمین کا ذکر ہوا ہے۔ [48] اس سے اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جس کا ذکر آیات 129-128 میں گزر چکا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 125–126

قوت ایمانی : (ف 2) فرعون نے یہ دیکھ کر کہ جادوگر ایمان لے آئے ہیں سخت دھمکی دی ، اس نے کہا ، دیکھو معلوم ہوتا ہے ، تمہارا پہلے سے سمجھوتا تھا ، میں تمہیں سولی پر چڑھادوں گا ، تمہارے ہاتھ پاؤں آڑے ترچھے کاٹ دوں گا ، مگر یہاں اس دھمکی کا کیا اثر ہوتا ، جب کہ قوت ایمانی دلوں میں سرایت کرچکی تھی ، جب کہ رگ رگ میں ایمان کی حراست پہنچ چکی تھی ، انہوں نے نہایت صبر و استقلال سے جواب دیا ہمارا تو مقصد ہی اللہ کی جانب رجوع کرنا ہے ، اس سے ملنا ہے تو پھر خوف کس بات کا ؟ یہ عجیب بات ہے کہ ادھر چند لمحوں پہلے ہو جادوگر تھے موسیٰ (علیہ السلام) کو شکست دینے کے لے مقابلہ آراء تھے ، یا یہ انقلاب ہے کہ ایمان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

125 ان نو مسل جادوگروں نے جواب دیا یقیناً ہم سب تو اپنے رب ہی کی طرف واپس جانے والے ہیں یعنی تیری سزا کا ہم کو کوئی خطرہ نہیں ہے آخر تو ہم مرکر اپنے پروردگار ہی کی طرف جائیں گے پھر ہمیں اندیشہ کیا ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان کا نشہ جس کو بھی چڑھ جائے وہ کسی کی دھمکیوں سے نہیں اترتا : 136: یہ کون لوگ ہیں ؟ وہی جادوگر جو اب سے چند گھنٹے پہلے فرعون کو اپنا رب اعلی مانتے اور اس کی گمراہی کی آبیاری کے لئے وہ اس میدان میں آئے تھے اور اس میدان میں آنے سے پہلے بھانڈوں ، نقالوں اور مسخروں کی طرح اپنے فن کے مظاہرہ پر بھر پور انعام حاصل کرنے کی التجائیں فرعون کے سامنے کر رہے تھے اب میدان میں اپنی آنکھوں سے عصائے موسیٰ کی کرشمہ سازیاں دیکھ کر رب موسیٰ کو پہچان گئے اور ایمان کا اعلان کردیا تو یہ اعلان کرتے ہی وہ صرف گوشت پوست کے بنے ہوئے انسان نہیں رہے بلکہ وہ عزیمت و استقامت کے پہاڑ بن گئے اور انہوں نے دنیا پر ثابت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Pharaoh made all the efforts that he could to control his people. The belief in Allah, or "Iman' as it is called by the Qur'an, is a great power. When it finds it's way into one's heart, one finds himself as powerful as to face the whole world and all the forces gathered together against him. This was a great change. Only a few hours ago, the sorcerers were the worshippers of Pharaoh, but having faith in Allah they demonstrated such a great power and courage that in response to all the threats to their lives by the Pharaoh, they only said with perfect satisfaction that, in that case,…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 123–126

92. Faced with utter failure Pharaoh finally resorted to branding the whole magic tournament as a conspiracy concocted by Moses and his accomplice sorcerers. Under threat of death and physical torture he asked the sorcerers to confess that they had acted in collusion with Moses. This last move by Pharaoh was ineffectual. For the sorcerers readily agreed to endure every torture, clearly proving thereby that their decision to accept Moses' message reflected their sincere conviction and that no conspiracy was involved. Pharaoh was hardly left with any choice. He, therefore, gave up all pretence…

Read the full tafseer →