Explained with ayahs 109–110
درباریوں سے مشورے ہوئے ! ٭٭ جب ڈر خوف جاتا رہا فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہوگئے تو فرعون نے کہا بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا ہمیں جلاوطن کر دے گا بتاؤ کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا وہی سامنے آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
سورة الْاَعْرَاف 88
یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بےسرو سامان آدمی یکایک اٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا، تو محض اس کے اس فعل سے کہ اس نے ایک لاٹھی کو اژدہا بنادیا اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہوجاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمراں طبقے سمیت ملک کے اقتدار سے بےدخل کر دے گا ؟ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہوا جبکہ اس شخص نے صرف نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا…
Read the full tafseer →قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ، لفظ ملاء کسی قوم کے بااثر سرداروں کے لئے بولا جاتا ہے۔ معنی یہ ہیں کہ قوم فرعون کے سردار یہ معجزات دیکھ کر اپنی قوم کو خطاب کر کے کہنے لگے کہ یہ تو بڑا جادوگر ہے وجہ یہ تھی کہ
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست
ان بیچاروں کو خدائے تعالیٰ اور اس کی قدرت کاملہ کی کیا خبر تھی جنہوں نے ساری عمر فرعون کو اپنا خدا اور جادوگروں کو اپنا رہبر سمجھا اور جادوگروں کے شعبدوں ہی کو دیکھا تھا، وہ اس حیرت انگیز واقعہ کو دیکھ کر اس کے سوا کہہ ہی کیا سکتے تھے کہ یہ بھی کوئی بڑا جادو ہے لیکن ان لوگوں نے بھی یہاں ساحر کے ساتھ علیم کا لفظ بڑھا کر یہ ظاہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ۔
قَالَ الْمَلَاُ الایہ : یہ وہ مشورت ہے جو فرعون کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معجزے دیکھ کر پہلے آپس میں کی، پھر اپنی طے شدہ رائے فرعون کی خدمت میں پیش کی۔ انہوں نے رائے یہ قائم کی کہ یہ شخص کچھ ایسا ویسا جادوگر نہیں ہے بلکہ بڑا ماہر جادوگر ہے اور اس کے پیش نظر صرف وہی نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ بنی اسرائیل کو منظم کر کے یہ چاہتا ہے کہ ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کردے۔
فرعون اور اس کے درباریوں کا سیاسی سٹنٹ : یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ ضروری نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–111
19۔ 1 معجزے دیکھ کر، ایمان لانے کی بجائے، فرعون کے درباریوں نے اسے جادو قرار دیکر یہ کہہ دیا یہ تو
بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تمہاری حکومت کو ختم کرنا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ کے زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا اور اس کا عام چلن تھا، اس لئے انہوں نے معجزات کو بھی جادو سمجھا جس میں سرے سے انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ خالص اللہ کی معشیت سے ظہور میں آتے ہیں تاہم درباریوں کو حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرعون کو بہکانے کا موقع مل گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–111
53: یہ دو معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے، کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچہ تھا، اس لئے آپ کو ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جو جادوگروں کو بھی عاجز کردیں اور آپ کی نبوت ہر کس وناکس پر واضح ہوجائے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے…
Read the full tafseer →9 معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات سے ہیبت زدہ ہو کر پبلک کو جمع کیا اور پہلے اس نے بذات خود (کما فی الشعراء) پھر اس کی طرف سے بڑے بڑے لیڈروں نے اس رائے کا اظہار کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) (معاذ اللہ) کوئی بڑے ماہر جادوگر معلوم ہوتے ہیں۔ کیونکہ جو خوارق موسیٰ (علیہ السلام) سے ظاہر ہوئے ان کی حسیّات کے موافق جادو سے بہتر ان کی کوئی توجیہ نہ ہوسکتی تھی۔
Read the full tafseer →آیت 109 قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ
انہوں نے کہا ہوگا کہ یہ جو یہاں سے جان بچا کر بھاگ گیا تھا اور کئی سال بعد واپس آیا ہے تو کہیں سے بہت بڑا جادو سیکھ کر آیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–109
112 عصائے موسیٰ اور ید بیضاء :۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپ (علیہ السلام) نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔
یہاں بعض عقل پرست فرقوں…
Read the full tafseer →146 ۔ مصرکا جادو قدیم سے مشہور چلا آتا ہے اس وقت مصر علوم سحروکہانت کا مرکز تھا۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 109 تا 126
ترجمہ : قوم فرعون میں جو لوگ سردار تھے انہوں نے کہا واقعی یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے یعنی علم سحر میں ماہر ہے اور سورة الشعراء میں یہ قوم فرعون کی طرف منسوب ہے، تو ہوسکتا ہے کہ لوگوں نے فرعون کے ساتھ مشورہ کے طور پر کہا ہو، اس کا مقصد تو یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے ناکل باہر کرے سو تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو ؟ انہوں نے مشورہ دیا کہ آپ ان کو اور ان کے بھائی کو مہلت دے دیجئے یعنی (فی الحال) ان کے معاملہ کو ملتوی رکھئے، اور شہروں میں جمع کرنے والے ہر کاروں کو بھیج دیجئے کہ وہ آپ کے پاس ہر ماہر جادوگر کو لاکر حاضر کریں اور ایک قراءت میں سحَّار ہے، کہ علم سحر میں جو فوقیت رکھتے…
Read the full tafseer →قال الملا من قوم فرعون ان ہذا لساحر علیم : قوم فرعون کے سرداروں نے (آپس میں) کہا کوئی شک نہیں کہ یہ بڑا ماہر جادوگر ہے
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–122
(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔
سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔
وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ۔۔ : یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ فرعون کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ ؑ کو جادوگر قرار دیا۔ سورة شعراء (34) میں مذکور ہے کہ فرعون نے اپنے سرداروں سے یہ بات کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ ؑ کے معجزے کو بےاثر بنانے کے لیے دو بہتان گھڑے، ایک تو یہ کہ یہ ماہر جادوگر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ حکومت پر قبضہ کرکے تمہیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (34، 35) اس کی قوم جسے اس نے اس حد تک بیوقوف اور بےوقعت بنایا تھا کہ وہ اسے اپنا معبود اور اس کی بات کو اپنے رب کی بات ماننے لگ گئے تھے (دیکھیے زخرف : 54) اس قوم نے بھی اسی کی بات کو دہرا دیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیت نمبر : 104۔ تا 112
حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔
عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی
(2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…
Read the full tafseer →[ قَالَ : کہا ] [ الْمَلَاُ : سرداروں نے ] [ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ : فرعون کی قوم میں سے ] [ اِنَّ : بیشک ] [ هٰذَا : یہ ] [ لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ: یقینا ایک علم والا جادوگر ہے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–116
موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا
جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–129
ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام)
قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین
(ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔
اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–112
110: یہ دیکھ کر قوم فرعون کے درباری امراء اور اہل حل و عقد بول اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا ماہر جادوگر ہے اور تمہیں ملک مصر سے نکال کر اس پر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس پر فرعون نے کہا “ فَمَا ذَا تَامُرُوْنَ ” تو پھر اس کے معاملے میں تمہارا کیا مشورہ ہے۔ “ قَالُوْا اَرْجِهْ ” انہوں نے کہا اس کے معاملے میں آپ جلدی نہ کریں بلکہ اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دے دیں اور اپنے ملک کے تمام شہروں میں اپنے آدمی بھیج دیں وہ ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے دربار میں لا حاضر کریں تاکہ ان دونوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–119
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ہٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ 109 ۙ
فِرْعَوْنُ
: اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة .
فرعون
یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔
سحر
والسِّحْرُ يقال علی معان :
الأوّل : الخداع وتخييلات لا حقیقة لها، نحو ما يفعله المشعبذ بصرف الأبصار عمّا يفعله لخفّة…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–116
ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔
تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
گزشتہ رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون اور آل فرعون کی طرف بعثت کے سلسلے میں جو تفصیل بیان کی گئی ہے ان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ایک مکالمہ ہے اس میں جو اہم باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اگرچہ وہ ان آیات کی وضاحت میں مذکور ہو چکیں لیکن آئندہ آیات سے ان کو مربوط کرنے کے لیے ایک ترتیب کے ساتھ میں ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے فرعون تم جو اپنے آپ کو اپنی رعایا کا سب سے بڑا رب قرار دے رہے ہو یہ سراسر ایک جھوٹ اور فریب ہے تمہارا اور تمہاری رعایا کا رب بھی وہی ہے جو رب العالمین ہے۔ وہ رب العالمین اپنی مخلوق سے کیا چاہتا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–122
فہم القرآن
ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔
سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…
Read the full tafseer →آیت 109: قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ ھٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِیْمٌ (قوم فرعون کے سرداروں نے کہا بیشک یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے) سحرجاننے والا اور اس کا ماہر اس نے لوگوں کے تخیل میں لاٹھی کو سانپ اور گندمی رنگ سپید بنادیا ہے۔ اس کلام کی نسبت سورة شعراء میں فرعون کی طرف کی گئی۔ کہ اس نے اپنے سرداروں کو یہ بات کہی۔ یہاں سرداروں کی طرف کی گئی پس احتمال ہے کہ فرعون نے بھی کہی اور سرداروں نے بھی کہی۔ فرعون کا وہاں نقل فرمایا جبکہ سرداروں کی بات یہاں نقل کی۔ نمبر 2۔ فرعون نے پہلے کہی اور سرداروں نے اس کے منہ سے سن کر کہنی شروع کی۔ اور انہوں نے اپنے ماتحتوں کے لیے یہی بات کہی۔
Read the full tafseer →109(قال الملا من قمو فرعون ان ھذا لسحر علیھم) یعنی لوگوں کو آنکھوں پر جادو کردیا ہے جس کی وجہ سے ان کو عصا سانپ لگنے لگا اور گندمی ہاتھ سفید لگنے لگا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
145 عصائے موسیٰ کا سچ مچ کا ایک اژدہا بن جانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ نے جب اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو زمین پر ڈالا تو وہ یکایک ایک اژدہا بن گیا۔ یعنی سچ مچ کا اژدہا جیسا کہ معجزہ کی شان ہوتی ہے نہ کہ جادو اور شعبدہ کی طرح محض نظر بندی اور چابکدستی کا مظاہرہ۔ پھر وہ سانپ بھی ایسا تھا کہ جسامت کے لحاظ سے تو وہ ایک کھلم کھلا اژدہا { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ} تھا لیکن حرکت اور پھرتی کے اعتبار سے ایک باریک سانپ { جَآنٌّ }۔ بہرحال تھا وہ سانپ ہی جو کہ چلتا پھرتا تھا { حَیَّۃٌ تَسْعٰی }۔ بہرکیف وہ سچ مچ اور حقیقی معنوں میں سانپ بن گیا تھا جو سب کی آنکھوں کے سامنے دوڑتا پھرتا تھا۔ نظربندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–126
رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔
اسرار و معارف :
جادو اور معجزہ میں فرق :
جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ف 8 ماذا فی محل نصب مفعل التا مرون بخذالجارای بای شی تامرو ن ای تشیرون یہ فرعون کی بات ہے جو اس نے معجزات دیکھنے کے بعد اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو آزادی کے بہانے مصر کے لوگوں کو یہاں سے نکلا دے اور خود حکومت مصر پر قابض ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیروں اور مشیروں نے فرعون سے یہ بات یہ ہو سورة شعر ٰ کے سیا ق کلام کے یش نظر علمانے یہ دونوں کے احتمال ذکرکئے ہیں مگر پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ اصل یہ کلام فرعون کا ہے جیسا کہ سورت شعرٰ میں مذکور ہے یہاں پر کی طر اس کی نسبت مجازی ہے یعنی انہوں نے بھی بطور تبلیغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–110
(7:108) نزع۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب فتح) نزع سے باہر نکالا۔
بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث بیاض سے۔ اس کی جمع بیض ہے۔ اور مذکر ابیض۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
لغات القرآن آیت نمبر (107 تا 112 ) ۔
القی (اس نے ڈالا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ ثعبان ( اژدھا۔ بڑا سا سانپ) ۔ نزع (کھینچا۔ نکالا) ۔ بیضاء (سفید۔ چکمدار ) ۔ ناظرین (دیکھنے والے) ۔ سحر علیم (اچھی طرح جادو جاننے والا۔ ماہر جادو گر) ۔ ان یخرجکم (یہ کہ وہ تمہیں نکال دے) ۔ من ارضکم (تمہاری زمین سے) ۔ فما ذاتامرون (پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ) ۔ ارجہ (ڈھیل دے اس کو) ۔ اخاہ (اس کے بھائی کو ) ۔ المدائن (شہر۔ بستیاں ) ۔ حشرین (جمع کرنے والے ) ۔ یا توک (آجائیں گے تیرے پاس ) ۔
تشریح : آیات نمبر (107 تا 112 ) ۔ ” اسزمانہ میں ملک مصر میں جادو کا بڑا زور تھا یعنی عام فطرت سے ہٹ کر کوئی نئی حیرت انگیز چیز پیش کردینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، معجزہ اور جادو میں فرق
معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدائے تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے : مثلا (1) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی، لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور (2) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور (3) ۔ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنادے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
[44] جس سے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ نظر آنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون :
(ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔
اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔
مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس…
Read the full tafseer →109 اس عظیم الشان واقعہ کے بعد فرعون نے اپنے امراء اور مشیرانِ خاص سے دریافت کیا جیسا کہ دوسری سورتوں سے معلوم ہوتا ہے اس پر ان امراء اور رئوسا نے اپنی رائے ظاہر کی فرعون کی قوم کے امرا اور رئوسا نے کہا بیشک یہ موسیٰ (علیہ السلام) بڑا ماہر اور حاذق جادوگر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 108–115
ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔
Read the full tafseer →فرعون کے سرداروں نے موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کو جادو سے تعبیر کیا :
120: اصل مسئلہ جو زیر بحث تھا وہ کیا تھا ؟ وہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل پر جو جورو ظلم روا رکھا گیا تھا اس کا جواز کیا ہے ؟ ملک کے قانون میں بنی اسرائیل اور پھر غیر بنی اسرائیل میں جو فرق رکھا گیا ہے اس کی حقیقت کیا ہے ؟ ایک ملک کے رہنے والوں کے لئے ایک ہی قانون کیوں نہیں بنایا گیا ؟ بادشاہ وقت نے وقتاً و فوقتاً بنی اسرائیل کے بچوں کو کیوں ذبح کرانے کا حکم نافذ کیا ہے ؟ جساہ کہ بائبل میں ہے کہ :
” تب مصر میں ایک نیا بادشاہ ہوا جو یوسف کو نہیں جانتا تھا اور اس نے اپنی قوم کے لوگوں کو کہا دیکھو ! اسرائیلی ہم سے زیادہ اور قوی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
The Arabic word 'Mala" is used for influential chiefs. After seeing these miracles they said to the people he was a great sorcerer. Being ignorant of divine powers of Allah they could say nothing else as they believed Pharaoh to be their god and had seen nothing but the magical charms of the sorcerers in their life. They, however, added the word "alim' signifying the one who knows, showing their impression that the miraculous acts of Musa (علیہ السلام) were of the kind that could not be performed by an ordinary magician. So, they said that he was a sorcerer of great knowledge.
The difference…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 109–110
88. The above account raises the question as to how a destitute member of the slave Israeli nation could pose such a serious threat to an emperor as mighty as Pharaoh. This is especially so when one considers that Pharaoh was not only an absolute ruler over territory which stretched in one direction from Syria to Libya and in the other from the Mediterranean coast to Ethiopia, but was even considered a deity deserving of worship,
One might also wonder how the transformation of Moses' rod into a serpent could he considered an event of such magnitude as to give rise to the fear that Moses would…
Read the full tafseer →