Al-A'raaf 7:110

Al-A'raaf · from ayah 110

7:110

یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ— فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۟يُّرِيۡدُ اَنۡ يُّخۡرِجَكُمۡ مِّنۡ اَرۡضِكُمۡ‌ ۚ فَمَاذَا تَاۡمُرُوۡنَ

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who wants to expel you from your land [through magic], so what do you instruct?"

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 14 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:110

تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے، اب کہو کیا کہتے ہو؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہاری کیا صلاح ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے باہر کر دے سو تم لوگ کیا مشوره دیتے ہو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری زمین سے نکال باہر کرے۔ اب بتاؤ تمہاری کیا رائے ہے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تمہیں تمہارے ملک سے نکا لا چاہتا ہے تو تمہارا کیا مشورہ ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(لوگو!) یہ تمہیں تمہارے ملک سے نکالنا چاہتا ہے، سو تم کیا مشورہ دیتے ہو،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

جو چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سر زمین سے نکال دے، تو تم کیا حکم دیتے ہو ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے۔ اب تم کیا مشورہ دیتے ہو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال دے تو تم کیا رائے دیتے ہو ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو چاہتا ہے کہ نکال باہر کرے تم لوگوں کو تمہاری سرزمین سے، تو پھر تم لوگ کیا حکم دیتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

چاہتا ہے کہ تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دے۔ سو بتاؤ تمہاری اب کیا صلاح ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ چاہتا ہے کہ تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کرے تو اب تمہاری کیا رائے ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اس کا ارادہ یہ ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ بھلا تمہارا کیا خیال ہے ؟

— محترمہ رفعت اعجاز

who seeks to drive you out from your land. What would you have us do?'

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

He wants to expel you from your land. So, what do you suggest?

— Muhammad Taqi Usmani

He wants to expel you from your land. So, what do you suggest?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"He wants to get you out of your land, so what do you advise"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who would expel you from your land. Now what do ye advise?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who wants to expel you from your land [through magic], so what do you instruct?"

— Saheeh International

and said, "He wants to expel you from your land." They asked (others), " what is your opinion in the matter?

— Muhammad Sarwar

He intends to turn you out of your land. What counsel do you then give?

— Muhammad Habib Shakir

He would drive you forth from your land; so what is it that ye enjoin?

— Abdul Majid Daryabadi

"His plan is to get you out of your land: then what is it ye counsel?"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:110

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 109–110

درباریوں سے مشورے ہوئے ! ٭٭ جب ڈر خوف جاتا رہا فرعون پھر سے اپنے تخت پر آ بیٹھا اور درباریوں کے اوسان درست ہوگئے تو فرعون نے کہا بھئی مجھے تو یہ جادوگر لگتا ہے اور ہے بھی بڑا استاد۔ ان لوگوں نے اس کی تائید کی اور کہا حضور درست فرما رہے ہیں۔ اب مشورے کرنے لگے کہ اگر یہ معاملہ یونہی رہا تو لوگ اس کی طرف مائل ہوجائیں گے اور جب یہ قوت پکڑے گا تو ہم سے بادشاہت چھین لے گا ہمیں جلاوطن کر دے گا بتاؤ کیا کرنا چاہئے ؟ اللہ کی شان ہے جس سے خوف کھایا وہی سامنے آیا۔

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 109–110

سورة الْاَعْرَاف 88 یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر ایک غلام قوم کا ایک بےسرو سامان آدمی یکایک اٹھ کر فرعون جیسے بادشاہ کے دربار میں جا کھڑا ہوتا ہے جو شام سے لیبیا تک اور بحر روم کے سواحل سے حبش تک کے عظیم الشان ملک کا نہ صرف مطلق العنان بادشاہ بلکہ معبود بنا ہوا تھا، تو محض اس کے اس فعل سے کہ اس نے ایک لاٹھی کو اژدہا بنادیا اتنی بڑی سلطنت کو یہ خطرہ کیسے لاحق ہوجاتا ہے کہ یہ اکیلا انسان سلطنت مصر کا تختہ الٹ دے گا اور شاہی خاندان کو حکمراں طبقے سمیت ملک کے اقتدار سے بےدخل کر دے گا ؟ پھر یہ سیاسی انقلاب کا خطرہ آخر پیدا بھی کیوں ہوا جبکہ اس شخص نے صرف نبوت کا دعویٰ اور بنی اسرائیل کی رہائی کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ، یعنی یہ ماہر جادوگر یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے) تو اب بتلا دو کہ تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا مشورہ دیتے ہو ؟

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 109–110

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ۔ قَالَ الْمَلَاُ الایہ : یہ وہ مشورت ہے جو فرعون کے درباریوں نے حضرت موسیٰ کے معجزے دیکھ کر پہلے آپس میں کی، پھر اپنی طے شدہ رائے فرعون کی خدمت میں پیش کی۔ انہوں نے رائے یہ قائم کی کہ یہ شخص کچھ ایسا ویسا جادوگر نہیں ہے بلکہ بڑا ماہر جادوگر ہے اور اس کے پیش نظر صرف وہی نہیں ہے جو یہ ظاہر کر رہا ہے بلکہ یہ بنی اسرائیل کو منظم کر کے یہ چاہتا ہے کہ ہم کو ہمارے ملک سے بےدخل کردے۔ فرعون اور اس کے درباریوں کا سیاسی سٹنٹ : یہاں یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ ضروری نہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 109–111

19۔ 1 معجزے دیکھ کر، ایمان لانے کی بجائے، فرعون کے درباریوں نے اسے جادو قرار دیکر یہ کہہ دیا یہ تو بڑا ماہر جادوگر ہے جس سے اس کا مقصد تمہاری حکومت کو ختم کرنا ہے کیونکہ حضرت موسیٰ علیہ کے زمانے میں جادو کا بڑا زور تھا اور اس کا عام چلن تھا، اس لئے انہوں نے معجزات کو بھی جادو سمجھا جس میں سرے سے انسان کا دخل ہی نہیں ہوتا۔ خالص اللہ کی معشیت سے ظہور میں آتے ہیں تاہم درباریوں کو حضرت موسیٰ ؑ کے بارے میں فرعون کو بہکانے کا موقع مل گیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 108–111

53: یہ دو معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے، کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچہ تھا، اس لئے آپ کو ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جو جادوگروں کو بھی عاجز کردیں اور آپ کی نبوت ہر کس وناکس پر واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 109–110

فرعون اور اس کا ٹولہ اس قدر بیوقوف نہ تھا کہ وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان اور مطالبے کے نتائج سے با خبر نہ ہو بلکہ وہ واضح طور پر موسیٰ (علیہ السلام) کے اعلان کو سمجھ جاتے ہیں اور اس کا اعلان کردیتے ہیں۔ لیکن اس انداز میں کہ لوگوں کی نظریں حضرت موسیٰ کے معجزانہ دلائل سے پھرجائیں۔ چناچہ فرعوان اور اس کے ٹولے نے حضرت موسیٰ پر یہ الزام لگایا کہ وہ ایک عظیم جادوگر ہیں۔ قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ اِنَّ هٰذَا لَسٰحِرٌ عَلِيْمٌ۔ يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ ۔ اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ " یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 یعنی عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھلا کر مخلوق کو اپنی طرف مائل کرنے اور انجام کار ملک میں اثرو اقتدار پیدا کر کے اور بنی اسرائیل کی حمایت و آزادی کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں، ان کے ملک و وطن (مصر) سے بےدخل کر دے۔ ان حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 110 یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْج فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ یہ تو چاہتا ہے کہ جادو کے زور پر تمہیں اس ملک سے نکال کر یہاں خود اپنی حکومت قائم کرلے۔ اس نازک صورتحال سے عہدہ بر آہونے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جائے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 110–111

113 اور بعض دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر قرار دینے کی بات فرعون نے پہلے خود کی تھی بعد میں اس کے درباریوں نے ہاں میں ہاں ملا دی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

147 ۔ (اور خود اپنی حکومت یہاں قائم کرے) دنیا پرستوں کی یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کوئی اہل حق اغراض دنیوی سے بالاتر ہو کر خالصۃ للہ بھی کام کرسکتا ہے۔ مرشدتھانوی (رح) نے فرمایا کہ فرعون نے موسیٰ (رح) کے طریق حق کو ایک باطل کی صورت میں ظاہر کیا۔ یہی حال اہل باطل کا ہے کہ عوام کو اہل حق سے نفرت دلانے کے لیے ان کے حق کو برے برے عنوان سے ظاہر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 110–119

یرید ان۔۔۔۔ ارضکم، فرعون کے درباریوں اور قوم کے سرداروں نے کہا کہ یہ شخص عجیب و غریب ساحرانہ کرشمے دکھا کر عوام کو اپنی طرف مائل کرکے اور انجام کار ملک میں اثر و رسوخ کے ذریعہ ملک میں اقتدار حاصل کرنا چاہتا ہے، اور بنی اسرائیل کی آزادی اور حمایت کا نام لے کر قبطیوں کو جو یہاں کے اصل باشندے ہیں ان کے ملک وطن مصر سے بےدخل کرکے خود قابض ہونا چاہتا ہے، ان سب حالات کو پیش نظر رکھ کر مشورہ دو کہ کیا ہونا چاہیے ؟ باہمی مشورہ کے بعد یہ طے ہوا کہ فرعون سے یہ درخواست کی جائے کہ ان دونوں (موسیٰ و ہارون علیہم السلام) کے معاملہ میں جلدی نہ کی جائے، ان کا بہترین توڑ اور مؤثر جواب یوں ہوسکتا ہے کہ پوری ملک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یرید ان یخرجکم من ارضکم فما ذا اتامرون : جو تم کو تمہارے ملک سے نکال باہر کردینا چاہتا ہے اب تم لوگوں کا (اس کے متعلق) کیا مشورہ ہے

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–122

(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔ سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔ وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 109–110

قَالَ الْمَلَاُ مِنْ قَوْمِ فِرْعَوْنَ۔۔ : یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ فرعون کی قوم کے سرداروں نے موسیٰ ؑ کو جادوگر قرار دیا۔ سورة شعراء (34) میں مذکور ہے کہ فرعون نے اپنے سرداروں سے یہ بات کہی تھی۔ معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے موسیٰ ؑ کے معجزے کو بےاثر بنانے کے لیے دو بہتان گھڑے، ایک تو یہ کہ یہ ماہر جادوگر ہے اور دوسرا یہ کہ یہ حکومت پر قبضہ کرکے تمہیں سرزمین مصر سے نکالنا چاہتا ہے۔ دیکھیے سورة شعراء (34، 35) اس کی قوم جسے اس نے اس حد تک بیوقوف اور بےوقعت بنایا تھا کہ وہ اسے اپنا معبود اور اس کی بات کو اپنے رب کی بات ماننے لگ گئے تھے (دیکھیے زخرف : 54) اس قوم نے بھی اسی کی بات کو دہرا دیا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 104–112

آیت نمبر : 104۔ تا 112 حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 104–112

(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔ عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی (2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يُّرِيْدُ : وہ ارادہ رکھتا ہے ] [ اَنْ : کہ ] [ يُّخْرِجَكُمْ : وہ تم لوگوں کو نکالے ] [ مِّنْ اَرْضِكُمْ : تمہاری زمین سے ] [ فَمَاذَا : (فرعون نے پوچھا ) پھر کیا ] [ تَاْمُرُوْنَ : تم لوگ مشورہ دیتے ہو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 104–116

موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 109–129

ذکر مقابلۂ ساحران فرعون باموسی (علیہ الصلوۃ والسلام) قال اللہ تعالیٰ قال الملأ من قوم فرعون ان ھذا لسٰحر علیم۔۔۔ الی۔۔۔ وتوفنا مسلمین (ربط) فرعون نے جب یہ دونوں معجزے دیکھے تو گھبرا گیا اور مشورہ کے لیے اپنی قوم کے سرداروں کو بلایا اور پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے لوگوں نے یہ خیال کر کے موسیٰ (علیہ السلام) سے جو کرشمہ ظاہر ہوا ہے وہ کوئی شعبدہ یا جادو ہے اس لیے مشورہ یہ دیا کہ مقابلہ کے لیے جادوگروں کو جمع کیا جائے تاکہ جدو کا مقابلہ جادو سے کیا جائے اجئتنا لتخرجنا من ارضنا بسحرک یٰموسی فلنا تینک بسحر مثلہ۔ الایات۔ اس قصہ کے ذکر کرنے سے موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت و رسالت کا اثبات مقصود ہے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 109–112

110: یہ دیکھ کر قوم فرعون کے درباری امراء اور اہل حل و عقد بول اٹھے کہ یہ تو کوئی بہت بڑا ماہر جادوگر ہے اور تمہیں ملک مصر سے نکال کر اس پر خود قابض ہونا چاہتا ہے۔ اس پر فرعون نے کہا “ فَمَا ذَا تَامُرُوْنَ ” تو پھر اس کے معاملے میں تمہارا کیا مشورہ ہے۔ “ قَالُوْا اَرْجِهْ ” انہوں نے کہا اس کے معاملے میں آپ جلدی نہ کریں بلکہ اس کو اور اس کے بھائی کو مہلت دے دیں اور اپنے ملک کے تمام شہروں میں اپنے آدمی بھیج دیں وہ ملک کے تمام ماہر جادوگروں کو آپ کے دربار میں لا حاضر کریں تاکہ ان دونوں کا مقابلہ کیا جاسکے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 109–119

ربط آیات تبلیغ رسالت کے سلسلے میں پہلے پانچ انبیا (علیہم السلام) اور ان کی اقوام کا ذکر ہوا۔ پھر سنت اللہ اور اقوام کی ذہنیت کا بیان ہوا یہ صرف ان پانچ انبیاء کی بات نہیں بلکہ دیگر انبیاء کے ساتھ بھی ان کی قوموں نے ایسا ہی سلوک کیا پھر اللہ کا دستور یہ رہا کہ پہلے ان لوگوں پر تنگی ڈال کر انہیں آزمایا اور پھر آسودگی دے کر بھی آزمائش کی۔ اکثر و بیشتر نتیجہ یہی نکلا کہ لوگوں نے انبیاء کو تسلیم نہ کیا اور تباہ ہوئے۔ ان کی ہلاکت کا تذکرہ ان الفاظ میں ہوچکا ہے ” فانظرکیف کان عاقبۃ المفسدین “ دیکھو ! فساد کرنے والوں کا کیسا برا انجام ہوا۔ ان انبیاء کے بعد پھر دوسرے دور میں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يُّرِيْدُ اَنْ يُّخْرِجَكُمْ مِّنْ اَرْضِكُمْ۝ 0 ۚ فَمَاذَا تَاْمُرُوْنَ۝ 110 رود والْإِرَادَةُ منقولة من رَادَ يَرُودُ : إذا سعی في طلب شيء، والْإِرَادَةُ في الأصل : قوّة مركّبة من شهوة وحاجة وأمل، نحو : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] ( ر و د ) الرود الا رادۃ یہ اراد یرود سے ہے جس کے معنی کسی چیز کی طلب میں کوشش کرنے کے ہیں اور ارادۃ اصل میں اس قوۃ کا نام ہے ، جس میں خواہش ضرورت اور آرزو کے جذبات ملے جلے ہوں ۔ چناچہ فرمایا : إِنْ أَرادَ بِكُمْ سُوءاً أَوْ أَرادَ بِكُمْ رَحْمَةً [ الأحزاب/ 17] یعنی اگر خدا تمہاری برائی کا فیصلہ کر ہے یا تم پر اپنا فضل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 105–116

ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔ تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 109–110

گزشتہ رکوع میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی فرعون اور آل فرعون کی طرف بعثت کے سلسلے میں جو تفصیل بیان کی گئی ہے ان میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے درمیان ایک مکالمہ ہے اس میں جو اہم باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں اگرچہ وہ ان آیات کی وضاحت میں مذکور ہو چکیں لیکن آئندہ آیات سے ان کو مربوط کرنے کے لیے ایک ترتیب کے ساتھ میں ان کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ سب سے پہلی جو بات ارشاد فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ اے فرعون تم جو اپنے آپ کو اپنی رعایا کا سب سے بڑا رب قرار دے رہے ہو یہ سراسر ایک جھوٹ اور فریب ہے تمہارا اور تمہاری رعایا کا رب بھی وہی ہے جو رب العالمین ہے۔ وہ رب العالمین اپنی مخلوق سے کیا چاہتا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 109–122

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے معجزہ کا مطالبہ، معجزہ سامنے آنے پر فرعون کے ساتھیوں کا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر جادو گر ہونے کا الزام اور ان کا چیلنج۔ سورۃ الشعراء کی آیت 16 تا 33 میں بیان ہوا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کو اپنی نبوت کا ثبوت دیا اور بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ کیا تو فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اخلاقی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ ہم نے تیری پرورش کی اور تو عرصہ درازتک ہمارے ہاں ٹھہرا اور پھر تو نے ایک ایسا کام کیا جو تجھے اچھی طرح یاد ہے یعنی تو نے ہمارے ایک شخص کو قتل کیا۔ کیا ہمارے احسانات کا تو انکار کرتا ہے ؟ موسیٰ…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

فرعون کا کلام : آیت 110: یُّرِیْدُ اَنْ یُّخْرِجَکُمْ مِّنْ اَرْضِکُمْ (وہ یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرے) یعنی ارض مصر فَمَاذَا تَاْ مُرُوْنَ (پس تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو) تم کیا مشورہ دیتے ہو۔ یہ ٰامرتہٗ فامرنی بکذا سے لیا گیا۔ جب تم مشورہ کرو اور وہ تمہیں اپنی رائے دے۔ یہ فرعون کا کلام ہے۔ جو اس نے اپنے سرداروں کو اس وقت کہا جب سرداروں نے فرعون سے کہا ان ھذا لساحر علیم یر ید ان یخر جکم یہ پڑھا لکھا جادو گر تمہیں تمہاری سرزمین سے نکالنا چاہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

100(یرید ان یخرجکم ) اے قبطی لوگو ! (من ارضکم) مصر سے (فما ذا تامرون) یعنی کیا مشورہ دیتے ہو۔ یہ فرعون نے کہا تھا اگرچہ اس کا تذکرہ نہیں ہے اور بعض نے کہا ان سرداروں نے کہا تھا فرعون اور اس کے خواص کو۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 110–112

146 فرعون کی بوکھلاہٹ کا ایک نمونہ و مظہر : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ کے ان معجزوں کو دیکھنے کے بعد فرعون نے اپنے سرداروں اور درباریوں سے کہا کہ یقینا یہ شخص ایک بڑا ماہر جادوگر ہے جو اپنے جادو کے زور سے تم لوگوں کو تمہاری اس سرزمین سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے۔ تو تم لوگ مجھے کیا حکم دیتے ہو ؟ اس بات سے فرعون کی بزدلی اور اس کی بوکھلاہٹ ملاحظہ ہو کہ کہاں تو وہ اپنے تئیں رب اعلیٰ ہونے کا دعویٰ کرتا تھا اور کہاں یہ کیفیت کہ وہ اپنے درباریوں سے کہتا ہے تم کیا حکم دیتے ہو ؟ اور یہ سب خوف اور ڈر اس موسیٰ (علیہ السلام) سے ہے جو کہ تنہا اور بظاہر بےیارو مددگار تھا۔ سو اس سے اندازہ کیا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 109–126

رکوع نمبر 14 ۔ آیات 109 تا 126 ۔ اسرار و معارف : جادو اور معجزہ میں فرق : جب امراء دربار نے دیکھا جن میں مذہبی پیشوا اور دنیاوی سردار سب شامل تھے تو کہہ اٹھے کہ انہیں فن جادوگری میں کمال حاصل ہے کم از کم اتنا ضرور مان گئے کہ یہ کمال آج تک کسی جادوگر سے دیکھا نہ سنا چونکہ ان کے قلوب اس قدر سیاہ اور تباہ ہوچکے تھے کہ قبول حق کی استعداد ہی نہ تھی ورنہ جادوگروں پر موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزات کی برتری تو سامنے تھی نیز جادو اور معجزہ میں کئی طرح سے فرق ہوتا ہے سب سے پہلے تو افراد ہی مختلف طرح کے ہوتے ہیں جادوگر کا شیطان سے رابطہ ہوتا ہے لہذا وہ غلیظ اور بدکار ہوتا ہے جبکہ نبی کا رابطہ ذات باری سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 106–110

ف 8 ماذا فی محل نصب مفعل التا مرون بخذالجارای بای شی تامرو ن ای تشیرون یہ فرعون کی بات ہے جو اس نے معجزات دیکھنے کے بعد اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو آزادی کے بہانے مصر کے لوگوں کو یہاں سے نکلا دے اور خود حکومت مصر پر قابض ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیروں اور مشیروں نے فرعون سے یہ بات یہ ہو سورة شعر ٰ کے سیا ق کلام کے یش نظر علمانے یہ دونوں کے احتمال ذکرکئے ہیں مگر پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ اصل یہ کلام فرعون کا ہے جیسا کہ سورت شعرٰ میں مذکور ہے یہاں پر کی طر اس کی نسبت مجازی ہے یعنی انہوں نے بھی بطور تبلیغ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 108–110

(7:108) نزع۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب فتح) نزع سے باہر نکالا۔ بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث بیاض سے۔ اس کی جمع بیض ہے۔ اور مذکر ابیض۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 107–112

لغات القرآن آیت نمبر (107 تا 112 ) ۔ القی (اس نے ڈالا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ ثعبان ( اژدھا۔ بڑا سا سانپ) ۔ نزع (کھینچا۔ نکالا) ۔ بیضاء (سفید۔ چکمدار ) ۔ ناظرین (دیکھنے والے) ۔ سحر علیم (اچھی طرح جادو جاننے والا۔ ماہر جادو گر) ۔ ان یخرجکم (یہ کہ وہ تمہیں نکال دے) ۔ من ارضکم (تمہاری زمین سے) ۔ فما ذاتامرون (پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ) ۔ ارجہ (ڈھیل دے اس کو) ۔ اخاہ (اس کے بھائی کو ) ۔ المدائن (شہر۔ بستیاں ) ۔ حشرین (جمع کرنے والے ) ۔ یا توک (آجائیں گے تیرے پاس ) ۔ تشریح : آیات نمبر (107 تا 112 ) ۔ ” اسزمانہ میں ملک مصر میں جادو کا بڑا زور تھا یعنی عام فطرت سے ہٹ کر کوئی نئی حیرت انگیز چیز پیش کردینا،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–110

واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، معجزہ اور جادو میں فرق معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدائے تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے : مثلا (1) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی، لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور (2) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور (3) ۔ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنادے تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–115

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔ اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

1 10 اس موسیٰ (علیہ السلام) کا مقصد یہ ہے اور یہ چاہتا ہے کہ تم کو تمہارے ملک سے نکال دے اور خود یہاں حکمران بن کر بیٹھ جائے اب تم بتائو بادشاہ کو کیا مشورہ دیتے ہو یعنی بادشاہ دریافت فرماتے ہیں اب تم بتائو بادشاہ کو کیا مشورہ دیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 108–115

ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون کے درباریوں نے اپنا مشورہ دینے کے بعد فرعون کی رائے معلوم کرنا چاہی : 121: فرعون کے درباریوں اور سرداروں نے اپنا انٹرویو جو موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں سے ان کو حاصل ہوا فرعون کی خدمت میں پیش کرتے ہوئے اس کی رائے بھی طلب کی کہ آپ کیا چاہتے ہیں ؟ اگر اس سانپ کا سر فوراً نہ کچل دیا گیا تو یقیناً یہ تجھ کو بھی ڈسے گا اور تیری کابینہ کو بھی اور اس کے دور رس نتائج نکلیں گے اور اس طرح لینے کے دینے پڑجائیں گے۔ حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کی باتوں کا فوری نوٹس لے اور اس کو قرار واقعی سزا دلوائے۔ ان لوگوں نے اپنی رائے ان الفاظ میں پیش کی اور مطالبہ کیا کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

The Arabic word 'Mala" is used for influential chiefs. After seeing these miracles they said to the people he was a great sorcerer. Being ignorant of divine powers of Allah they could say nothing else as they believed Pharaoh to be their god and had seen nothing but the magical charms of the sorcerers in their life. They, however, added the word "alim' signifying the one who knows, showing their impression that the miraculous acts of Musa (علیہ السلام) were of the kind that could not be performed by an ordinary magician. So, they said that he was a sorcerer of great knowledge. The difference…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 109–110

88. The above account raises the question as to how a destitute member of the slave Israeli nation could pose such a serious threat to an emperor as mighty as Pharaoh. This is especially so when one considers that Pharaoh was not only an absolute ruler over territory which stretched in one direction from Syria to Libya and in the other from the Mediterranean coast to Ethiopia, but was even considered a deity deserving of worship, One might also wonder how the transformation of Moses' rod into a serpent could he considered an event of such magnitude as to give rise to the fear that Moses would…

Read the full tafseer →