Al-A'raaf 7:108

Al-A'raaf · from ayah 108

7:108

وَّنَزَعَ یَدَهٗ فَاِذَا هِیَ بَیْضَآءُ لِلنّٰظِرِیْنَ ۟۠وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِىَ بَيۡضَآءُ لِلنّٰظِرِيۡنَ

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)

— Fateh Muhammad Jalandhari

And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 13 of surah · Ruku 3 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:108

اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کی نگاہوں میں سفید براق (تھا)

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وه یکایک سب دیکھنے والوں کے روبرو بہت ہی چمکتا ہوا ہو گیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) کھینچا تو وہ سارے دیکھنے والوں کے لیے سامنے یکایک چمکنے لگا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکا لا تو وہ دیکھنے والوں کے سامنے جگمگانے لگا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور اپنا ہاتھ (گریبان میں ڈال کر) نکالا تو وہ (بھی) اسی وقت دیکھنے والوں کے لئے (چمک دار) سفید ہوگیا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو اچانک وہ دیکھنے والوں کے لیے سفید چمکنے والا تھا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (بغل سے) اپنا ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کو چمکدار دکھائی دینے لگا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعۃً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال کر نکالا تو یکایک وہ چمک رہا تھا دیکھنے والوں کے لئے،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (موسی نے) اپنا ہاتھ باہر نکالا سو وہ دیکھنے والوں کے روبرو یک بیک خوب روشن تھا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور اپنا ہاتھ (گریبان سے) نکالا تو اچانک وہ تھا دیکھنے والوں کے لیے سفید (چمکدار)۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اپنا ہاتھ باہر نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکدار دکھائی دینے لگا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then he drew out his hand, and it appeared luminous to all beholders.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and he drew out his hand, and it was luminous for the onlookers.

— Muhammad Taqi Usmani

and he drew out his hand, and it was luminous for the onlookers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And he drew out his hand, and behold! it was white (with radiance) for the beholders.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And he drew forth his hand (from his bosom), and lo! it was white for the beholders.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And he drew out his hand; thereupon it was white [with radiance] for the observers.

— Saheeh International

Then he uncovered his hand and it appeared sheer white to the onlookers.

— Muhammad Sarwar

And he drew forth his hand, and lo! it was white to the beholders.

— Muhammad Habib Shakir

And he drew forth his hand, when lo: it was white unto the beholders.

— Abdul Majid Daryabadi

And he drew out his hand, and behold! it was white to all beholders!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:108

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 107–108

عصائے موسیٰ اور فرعون آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی، وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لئے اسے روک، اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے، میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا۔ حضرت موسیٰ نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کو دیھکتے ہی فرعون کہنے لگا میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 106–108

سورة الْاَعْرَاف 87 یہ دو نشانیاں حضرت موسیٰ ؑ کو اس امر کے ثبوت میں دی گئی تھیں کہ وہ اس خدا کے نمائندے ہیں جو کائنات کا خالق اور فرماں روا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم اشارہ کرچکے ہیں، پیغمبروں نے جب کبھی اپنے آپ کو فرستادہ رب العالمٰین کی حیثیت سے پیش کیا تو لوگوں نے ان سے یہی مطالبہ کیا کہ اگر تم واقعی رب العالمٰین کے نمائندے ہو تو تمہارے ہاتھوں سے کوئی ایسا واقعہ ظہور میں آنا چاہیے جو قوانین فطرت کی عام روش سے ہٹا ہوا ہو اور جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہو کہ رب العالمٰین نے تمہاری صداقت ثابت کرنے کے لیے اپنی براہ راست مداخلت سے یہ واقعہ نشانی کے طور پر صادر کیا ہے۔ اسی مطالبہ کے جواب میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

اس کے بعد فرمایا وّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ للنّٰظِرِيْنَ ، نزع کے معنی ایک چیز کو دوسری چیز میں سے کسی قدر سختی کے ساتھ نکالنے کے ہیں، مراد یہ ہے کہ اپنے ہاتھ کو کھینچ کر نکالا، یہاں یہ مذکور نہیں کہ کس چیز میں سے نکالا۔ دوسری آیات میں دو چیزیں مذکور ہیں، ایک جگہ ادخل یَدَکَ فِی جَیبِکَ آیا ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں ڈالو۔ دوسری جگہ واضْمُمْ يَدَكَ اِلٰى جَنَاحِكَ مذکور ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ اپنا ہاتھ اپنے بازو کے نیچے دباؤ۔ ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ ہاتھ کا نکالنا گریبان کے اندر سے یا بازو کے نیچے سے ہوتا تھا۔ یعنی کبھی گریبان میں ہاتھ ڈال کر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 106–108

تفسیر آیت 106 تا 108۔ قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ۔ فرعون کے لیے یہ بات نہایت عجیب تھی کہ ایک شخص، وہ بھی اس کی رعیت میں سے، اس کے پاس خدا کا راسول ہو کر آئے۔ وہ خود، جیسا کہ ہم خود دوسرے مقام میں تصریح کرچکے ہیں، اپنے آپ کو سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج کا اوتار اور لوگوں کا رب اعلی بنائے بیٹھا تھا اس وجہ سے اس نے سنتے ہی کہا، اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ تم خدا کے رسول ہو کر آئے ہو تو اپنے رسول ہونے کی کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت موسیٰ نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

18۔ 1 یعنی اللہ تعالیٰ نے نے جو دو معجزے انہیں عطا فرمائے تھے، اپنے صداقت کے لئے انہیں پیش کردیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 108–111

53: یہ دو معجزے تھے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو عطا فرمائے تھے، کہتے ہیں کہ اس زمانے میں جادوگروں کا بڑا چرچہ تھا، اس لئے آپ کو ایسے معجزات عطا فرمائے گئے جو جادوگروں کو بھی عاجز کردیں اور آپ کی نبوت ہر کس وناکس پر واضح ہوجائے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 107–108

حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔ حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔ (مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 یعنی ہاتھ گریبان میں ڈال کر اور بغل میں دبا کر نکالا تو لوگوں نے کھلی آنکھوں دیکھ لیا کہ غیر معمولی طور پر سفید اور چمکدار تھا۔ یہ روشنی اور چمک کسی مرض برص وغیرہ کی وجہ سے نہ تھی، بلکہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ قلب منوّر کی روشنی بطریق اعجاز ہاتھ میں سرایت کر جاتی تھی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 105–108

آیت 105 حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لآَّ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط فرعون کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی اجنبی آدمی نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعون برسر اقتدار تھا وہ اس فرعون کا باپ تھا اور اسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں بچایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے پاس ساحل پر آ لگا تھا اور محل کے ملازمین نے اسے اٹھا لیا تھا۔ فرعون کو پتا چلا تو وہ اسرائیلی بچہ سمجھ کر آپ علیہ السلام کے قتل کے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 108–109

112 عصائے موسیٰ اور ید بیضاء :۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے مطالبہ پر اپنا عصا زمین پر پھینکا تو وہ تھوڑی دیر میں بہت بڑا اژدہا بن گیا اور اپنا منہ کھول کر فرعون ہی کی طرف لپکا۔ فرعون نے سخت دہشت زدگی کی حالت میں موسیٰ (علیہ السلام) سے التجا کی کہ اس سانپ کو سنبھال لے۔ آپ (علیہ السلام) نے اسے ہاتھ لگایا تو وہ پھر عصا بن گیا پھر آپ نے اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبایا اور اسے نکالا تو وہ سفید اور چمکدار تھا۔ حالانکہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کا اپنا رنگ گندمی تھا یہ ہاتھ اتنا تابدار ہو کر بغل سے نکلتا تھا جس سے آنکھیں چندھیانے لگتی تھیں۔ یہاں بعض عقل پرست فرقوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

145 ۔ (آیت) ” للنظرین “۔ سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیوں کہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی، جیسے کہا کرتے ہیں کہ کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا اور انقلاب حقایق کا محال ہونا جو فلاسفہ میں مشہور ہے اس کی حقیقت یہ ہے کہ حقایق ثلاثہ یعنی وجوب وامتناع وامکان ایک دوسرے کی طرف منقلب نہیں ہوتے ورنہ عناصر کا استحالہ کون نہیں دیکھتا “۔ (تھانوی) (آیت) ” نزع یدہ “۔ یعنی اپنا ہاتھ گریبان سے باہر نکالا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 103–108

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ : ثم بعثنا۔۔۔۔۔ وملائہ (الآیۃ) ، یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے، جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے اور بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دیکر بھیجا گیا تھا، بنی اسرائیل اصالۃً ملک شام کے علاقہ فلسطین میں کنعان کے رہنے والے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے مصری وزارت مالیات کے زمانہ میں اپنے خاندان کو مصر بلا لیا تھا، یہ لوگ مصر آکر آباد ہوگئے اور یہیں کے ہو کر وہ گئے، اسی خاندان بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کیلئے آپ کو معجزے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ونزع یدہ فاذا ہی بیضاء للنظرین۔ اور (جیب کے اندر سے) اپنا ہاتھ نکالا تو دیکھنے والوں کو وہ سفید گورا (بہت ہی خیرہ کن روشنی والا) دکھائی دینے لگا۔ ثُعْبَانٌ نر اژدہا۔ یہ چھوٹے سانپ کی طرح لہراتا اور حرکت کرتا تھا اسی لئے دوسری آیت میں آیا ہے کَاَنَّہَا جَانٌّ گویا وہ حرکت کرتا ہوا چھوٹا سانپ تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ اور سدی کی طرف اس قول کی نسبت کی گئی ہے کہ حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کی لاٹھی اژدہا بن گئی۔ یہ اژدہا زرد رنگ کا تھا اس کے اوپر بال تھے سر پر کلغی تھی اتنا منہ کھولے تھا کہ دونوں جبڑوں کے درمیان اسّی ہاتھ کا فاصلہ تھا ایک میل زمین سے اونچا تھا نچلا جبڑا زمین پر اور بالا جبرا قصر کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 106–122

(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔ سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔ وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

بَيْضَاۗءُ للنّٰظِرِيْنَ : اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہاتھ کی وہ سفیدی عام سفیدی نہیں تھی بلکہ اس میں کوئی معجزانہ شان تھی کہ اس کی چمک اور ہیبت کی وجہ سے فرعون نے اسے جادو قرار دیا، ورنہ عام سفیدی کو جادو کون کہتا ہے ؟

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 104–112

آیت نمبر : 104۔ تا 112 حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 104–112

(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔ عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی (2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَّنَزَعَ : اور انہوں نے کھینچ نکالا ] [ يَدَهٗ : اپنا ہاتھ ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ ھِىَ : وہ ] [ بَيْضَاۗءُ : سفید تھا ] [ لِلنّٰظِرِيْنَ : دیکھنے والوں کے لیے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 104–116

موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 103–108

ذکر بعثت موسیٰ (علیہ السلام) و مکالمۂ او با فرعون قال اللہ تعالیٰ ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ فاذاھی بیضاء للناظرین (ربط) موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں سب سے پہلے ان کی بعثت کا واقعہ اور فرعون کے ساتھ ان کے مناظرہ اور مکالمہ کا ذکر فرماتے ہیں پھر ہم نے ان انبیاء مقدم الذکر کے بعد موسیٰ بن عمران کو اپنی نشانیاں دیکر یعنی معجزات اور دلائل نبوت دیکر فرعون اور اس کے قوم کے بڑے لوگوں کی طرف دعوت وتبلیغ کی خاطر بھیجا پس انہوں نے دلائل اور براہین رسالت یعنی معجزات کے ساتھ ظلم کیا معجزات کا حق یہ تھا کہ ان پر ایمان لاتے اور ان کی تصدیق سے اپنی اصلاح کرتے لیکن بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کی۔…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 106–108

109: فرعون نے کہا اگر واقعی تم اپنے دعوے میں سچے ہو اور اپنی نبوت پر واقعی کوئی دلیل اور معجزہ لائے ہو تو پیش کرو۔ “ فَاَلْقٰي عَصَاہُ الخ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دی جو گرتے ہی سانپ بن گئی اور پھر گریبان میں ہاتھ ڈال کر باہر نکلا تو وہ روشن اور درخشاں تھا یعنی میری نبوت کا پہلا گواہ تو یہ سانپ والا معجزہ ہے یہ بھی دیکھ لو اور دوسرا یہ نور ہے اسے بھی دیکھ لو۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 103–108

ربط آیات اس سے اللہ تعالیٰ نے پانچ انبیا (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کو جرات دلائی اور تسلی دی کہ ان قوموں کا حال پیش نظر رکھو اور تبلیغ دین کے لیے مستعد ہوجائو۔ پھر اللہ نے درمیان میں اقوام عالم کی عمومی ذہنیت کا ذکر کیا اور اللہ کی وہ سنت اور دستور بیان کیا جس کے تحت نافرمانوں کو سزا ملتی ہے اور اطاعت گزاروں کو فلاح نصیب ہوتی ہے اب اس درس سے تاریخ انبیا ہی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تو یہاں سے کافی دور تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آپ کی قوم بنی اسرائیل اور فرعون اور اس کی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَّنَزَعَ يَدَہٗ فَاِذَا ہِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ۝ 108 ۧ نزع نَزَعَ الشیء : جَذَبَهُ من مقرِّه كنَزْعِ القَوْس عن کبده، ويُستعمَل ذلک في الأعراض، ومنه : نَزْعُ العَداوة والمَحبّة من القلب . قال تعالی: وَنَزَعْنا ما فِي صُدُورِهِمْ مِنْ غِلٍ [ الأعراف/ 43] . وَانْتَزَعْتُ آيةً من القرآن في كذا، ونَزَعَ فلان کذا، أي : سَلَبَ. قال تعالی: تَنْزِعُ الْمُلْكَ مِمَّنْ تَشاءُ [ آل عمران/ 26] ، وقوله : وَالنَّازِعاتِ غَرْقاً [ النازعات/ 1] قيل : هي الملائكة التي تَنْزِعُ الأرواح عن الأَشْباح، وقوله :إِنَّا أَرْسَلْنا عَلَيْهِمْ رِيحاً صَرْصَراً فِي يَوْمِ نَحْسٍ مُسْتَمِرٍّ [ القمر/ 19] وقوله :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 105–116

ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔ تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 106–108

قَالَ اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَۃٍ فَاْتِ بِھَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ۔ وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 106، 108) ” فرعون نے کہا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو ‘ اگر تم سچے ہو۔ تو اس نے اپنی لٹھیا ڈال دی وہ یکایک ایک سچ مچ کا اژدھا بن گئی اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعتاً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلا “۔ ہر پیغمبر کے معجزات قوم کے مذاق کے آئینہ دار ہوتے ہیں پیشتر اس کے کہ ہم ان معجزات کی وضاحت کریں یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ معجزات کے بارے میں سنت الٰہی یہ رہی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 103–108

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والی اقوام میں آل فرعون سرفہرست تھے۔ جنھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی بار بار وعدہ خلافی کی بلکہ قوم کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا دعویٰ کیا تھا۔ فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا یہ سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ید بیضاء کا معجزہ : آیت 108: وَّنَزَعَ یَدَہٗ (اور اپنا ہاتھ باہر نکال لیا) اپنے گریبان سے فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ (پس وہ اچانک سب دیکھنے والوں کیلئے بہت ہی چمکتا ہوا ہوگیا) یعنی وہ سفید تھا دیکھنے کے لیے اور دیکھنے کے لیے سفیدی وہی ہوتی ہے۔ جو سفیدی عجیب اور عام عادت کے خلاف ہو۔ لوگ اس کو دیکھنے کیلئے جمع ہوتے تھے۔ روایت میں ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) نے فرعون کو اپنا ہاتھ دکھا کر فرمایا یہ کیا ہے ؟ اس نے کہا یہ تیر اہاتھ ہے۔ پھر اس کو اپنے گریبان میں ڈال کر کھینچا اچانک وہ سفید تھا۔ اس کی شعاعیں سورج کی شعاعوں پر غالب آگئیں۔ حالانکہ موسیٰ ( علیہ السلام) کا رنگ شدید گندمی تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 108(ونزع یدہ فاذاھی بیضآء للنظرین) یعنی اپنے ہاتھ کو گریبان میں داخل کر کے نکالا اور بعض نے کہا کہ اپنی بغل سے نکالا تو وہ سفید تھا۔ اس میں ایسی روشنی تھی کہ سورج کی روشنی پر غالب آگئی حالانکہ موسیٰ (علیہ السلام) کا رنگ گندمی تھا۔ پھر اس ہاتھ کو گریبان میں داخل کیا تو پہلے جیسا ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 103–127

(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 103–156

آیت 103 پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 107–109

145 عصائے موسیٰ کا سچ مچ کا ایک اژدہا بن جانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ نے جب اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو زمین پر ڈالا تو وہ یکایک ایک اژدہا بن گیا۔ یعنی سچ مچ کا اژدہا جیسا کہ معجزہ کی شان ہوتی ہے نہ کہ جادو اور شعبدہ کی طرح محض نظر بندی اور چابکدستی کا مظاہرہ۔ پھر وہ سانپ بھی ایسا تھا کہ جسامت کے لحاظ سے تو وہ ایک کھلم کھلا اژدہا { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ} تھا لیکن حرکت اور پھرتی کے اعتبار سے ایک باریک سانپ { جَآنٌّ }۔ بہرحال تھا وہ سانپ ہی جو کہ چلتا پھرتا تھا { حَیَّۃٌ تَسْعٰی }۔ بہرکیف وہ سچ مچ اور حقیقی معنوں میں سانپ بن گیا تھا جو سب کی آنکھوں کے سامنے دوڑتا پھرتا تھا۔ نظربندی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 103–156

آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–108

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔ اسرار و معارف : ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 106–110

ف 8 ماذا فی محل نصب مفعل التا مرون بخذالجارای بای شی تامرو ن ای تشیرون یہ فرعون کی بات ہے جو اس نے معجزات دیکھنے کے بعد اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو آزادی کے بہانے مصر کے لوگوں کو یہاں سے نکلا دے اور خود حکومت مصر پر قابض ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیروں اور مشیروں نے فرعون سے یہ بات یہ ہو سورة شعر ٰ کے سیا ق کلام کے یش نظر علمانے یہ دونوں کے احتمال ذکرکئے ہیں مگر پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ اصل یہ کلام فرعون کا ہے جیسا کہ سورت شعرٰ میں مذکور ہے یہاں پر کی طر اس کی نسبت مجازی ہے یعنی انہوں نے بھی بطور تبلیغ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 108–110

(7:108) نزع۔ ماضی واحد مذکر غائب (باب فتح) نزع سے باہر نکالا۔ بیضائ۔ سفید۔ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث بیاض سے۔ اس کی جمع بیض ہے۔ اور مذکر ابیض۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 107–112

لغات القرآن آیت نمبر (107 تا 112 ) ۔ القی (اس نے ڈالا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ ثعبان ( اژدھا۔ بڑا سا سانپ) ۔ نزع (کھینچا۔ نکالا) ۔ بیضاء (سفید۔ چکمدار ) ۔ ناظرین (دیکھنے والے) ۔ سحر علیم (اچھی طرح جادو جاننے والا۔ ماہر جادو گر) ۔ ان یخرجکم (یہ کہ وہ تمہیں نکال دے) ۔ من ارضکم (تمہاری زمین سے) ۔ فما ذاتامرون (پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ) ۔ ارجہ (ڈھیل دے اس کو) ۔ اخاہ (اس کے بھائی کو ) ۔ المدائن (شہر۔ بستیاں ) ۔ حشرین (جمع کرنے والے ) ۔ یا توک (آجائیں گے تیرے پاس ) ۔ تشریح : آیات نمبر (107 تا 112 ) ۔ ” اسزمانہ میں ملک مصر میں جادو کا بڑا زور تھا یعنی عام فطرت سے ہٹ کر کوئی نئی حیرت انگیز چیز پیش کردینا،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 104–110

واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، معجزہ اور جادو میں فرق معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدائے تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے : مثلا (1) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی، لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور (2) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور (3) ۔ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنادے تو…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 108–115

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون : (ف 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے قصہ کو اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ متعدد مواقع پر ذکر فرمایا ہے کیونکہ اس میں صدہانکات ومعارف پنہاں ہیں ۔ اس میں فرعون اور بنی اسرائیل کی تاریخ ہے آزادی اور حریت کے درس ہیں ، ایمان ویقین کے روح پرور نظارے ہیں معجزات ہیں خوارق ہیں ، بنی اسرائیل کی ذہنیت ہے ، گویا وہ سب کچھ ہے جس کی نسل انسانی کو ضرورت ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ جب مصر میں فرعون نے ظلم و استبداد کا ارتکاب کیا ، اور اسرائیلیوں پر طرح طرح کے ظلم وستم ڈھائے تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا ، تاکہ انکی رہنمائی کرے ، اور انہیں اس…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

108 اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ہاتھ کو جو باہر نکالا تو وہ ہاتھ اسی وقت سب دیکھنے والوں کے لئے سفید اور بہت چمکدار ہوگیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 108–115

ف 5۔ للناظرین سے کوئی نظر بندی کا شبہ نہ کرے کیونکہ یہ تاکید ہے اس کے واقعی بیاض کی جیسے کہا کرتے ہیں کھلی آنکھوں لوگوں نے دیکھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قوم بنی اسرائیل پر ظلم و زیادتی کے دلائل ” ید بیضا “ کی صورت میں دکھائے : 119: ” اپنا ہاتھ موسیٰ (علیہ السلام) نے باہر نکالا تو وہ اچانک دیکھنے والوں کے لئے سفید چمکیلا تھا۔ “ اس سے یہ بات واضح فرما دی کہ ہاتھ میں جو چمک ظاہر ہوئی وہ محض فریب نظر کی نوعیت کی نہیں تھی بلکہ غوروفکر سے دیکھنے والوں کو اس کی تابانی بالکل اصلی اور حقیقی معلوم ہوتی تھی اور یہ بات بھی واضح ہے کہ ” نظر “ کا لفظ اصلاً عربی میں غورو فکر ہی سے دیکھنے کے لئے آتا ہے اور یہ کسی بیماری کے باعث بھی نہیں تھا کیونکہ ہاتھ کی اصل صورت اور ہیئت بالکل وہی تھی جو اصل ہاتھ کی ہوتی ہے اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی تھی اور یہی اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Thereafter, the verse (7:108) said, وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِ‌ينَ 'And he drew out his hand, and it was white light to the onlookers.' The Arabic word: نَزع naza` a signifies extracting something from another thing with force. Here this word indicates that the prophet Musa (علیہ السلام) applied some force while drawing out his hand. The verse does not speak of a place from where he drew out his hand. In other verses, however, we find mention of two things. In a verse (27:12) we find the words أَدْخِلْ يَدَكَ فِي جَيْبِكَ 'enter your hand under your robe.' The other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 106–108

87. Moses was granted these two miraculous signs in order to provide testimony to his being a Messenger of God, the creator and sovereign of the universe. As we have mentioned earlier, whenever the Prophets introduced themselves as God's Message-bearers, people asked them to produce some miraculous sign, to perform something supernatural. In response to those demands the Prophets produced what the Qur'an terms as 'signs', and which are called 'miracles' by theologians. Those who tend to play down the supernatural character of such signs or miracles, and who try to explain them in terms of…

Read the full tafseer →