Explained with ayahs 107–108
عصائے موسیٰ اور فرعون
آپ نے فرعون کی اس طلب پر اپنے ہاتھ کی لکڑی زمین پر ڈال دی جو بہت بڑا سانپ بن گئی اور منہ پھاڑے فرعون کی طرف لپکی، وہ مارے خوف کے تخت پر سے کود گیا اور فریاد کرنے لگا کہ موسیٰ اللہ کے لئے اسے روک، اس نے اس قدر اپنا منہ کھولا تھا کہ نیچے کا جبڑا تو زمین پر تھا اور اوپر کا جبڑا محل کی بلندی پر۔ خوف کے مارے فرعون کی ہوا نکل گئی اور چیخنے لگا کہ موسیٰ اسے روک لے، میں ایمان لاتا ہوں اور اقرار کرتا ہوں کہ بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ کر دونگا۔ حضرت موسیٰ نے اسی وقت اس پر ہاتھ رکھا اور اسی وقت لکڑی جیسی لکڑی بن گیا۔ حضرت وہب فرماتے ہیں حضرت موسیٰ ؑ کو دیھکتے ہی فرعون کہنے لگا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
سورة الْاَعْرَاف 87
یہ دو نشانیاں حضرت موسیٰ ؑ کو اس امر کے ثبوت میں دی گئی تھیں کہ وہ اس خدا کے نمائندے ہیں جو کائنات کا خالق اور فرماں روا ہے۔ جیسا کہ اس سے پہلے بھی ہم اشارہ کرچکے ہیں، پیغمبروں نے جب کبھی اپنے آپ کو فرستادہ رب العالمٰین کی حیثیت سے پیش کیا تو لوگوں نے ان سے یہی مطالبہ کیا کہ اگر تم واقعی رب العالمٰین کے نمائندے ہو تو تمہارے ہاتھوں سے کوئی ایسا واقعہ ظہور میں آنا چاہیے جو قوانین فطرت کی عام روش سے ہٹا ہوا ہو اور جس سے صاف ظاہر ہو رہا ہو کہ رب العالمٰین نے تمہاری صداقت ثابت کرنے کے لیے اپنی براہ راست مداخلت سے یہ واقعہ نشانی کے طور پر صادر کیا ہے۔ اسی مطالبہ کے جواب میں…
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ؑ نے اس کے مطالبہ کو مانتے ہوئے اپنی لاٹھی زمین پر ڈال دی وہ اژدھا بن گئی فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ، ثعبان بڑے اژدھا کو کہا جاتا ہے اور اس کی صفت مبین ذکر کرکے بتلاد یا کہ اس لاٹھی کا سانپ بن جانا کوئی ایسا واقعہ نہ تھا کہ کسی اندھیرے یا گوشہ پردہ میں واقع ہوا ہو جس کو کوئی دیکھے کوئی نہ دیکھے، جیسے عموما شعبدہ بازوں یا جادوگروں کا طرز ہوتا ہے، بلکہ یہ واقعہ بھرے دربار میں سب کے سامنے پیش آیا۔
بعض تاریخی روایات میں حضرت ابن عباس سے منقول ہے کہ اس اژدھا نے فرعون کی طرف منہ پھیلایا تو گھبرا کر تخت شاہی سے کود کر حضرت موسیٰ ؑ کی پناہ لی اور دربار کے ہزاروں آدمی اس کی دہشت سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
تفسیر آیت 106 تا 108۔ قَالَ اِنْ كُنْتَ جِئْتَ بِاٰيَةٍ فَاْتِ بِهَآ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ۔ فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ۔
فرعون کے لیے یہ بات نہایت عجیب تھی کہ ایک شخص، وہ بھی اس کی رعیت میں سے، اس کے پاس خدا کا راسول ہو کر آئے۔ وہ خود، جیسا کہ ہم خود دوسرے مقام میں تصریح کرچکے ہیں، اپنے آپ کو سب سے بڑے دیوتا یعنی سورج کا اوتار اور لوگوں کا رب اعلی بنائے بیٹھا تھا اس وجہ سے اس نے سنتے ہی کہا، اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو کہ تم خدا کے رسول ہو کر آئے ہو تو اپنے رسول ہونے کی کوئی نشانی دکھاؤ۔ حضرت موسیٰ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
15۔ 1 جو اس بات کی دلیل ہے کہ میں واقعی اللہ کی طرف سے مقرر کردہ رسول ہوں۔ اس معجزے اور بڑی دلیل کی تفصیل بھی آگے آرہی ہے۔
15۔ 2 بنی اسرائیل جن کا اصل مسکن شام کا علاقہ تھا، حضرت یوسف ؑ کے زمانے میں مصر چلے گئے تھے اور پھر وہیں کے ہو کر رہ گئے۔ فرعون نے ان کو غلام بنا لیا تھا اور ان پر طرح طرح کے مظالم کرتا تھا، جس کی تفصیل پہلے سورة ، بقرہ میں گزر چکی ہے اور آئندہ بھی آئے گی۔ فرعون اور اس کے درباری امراء نے جب حضرت موسیٰ ؑ کی دعوت کو ٹھکرا دیا تو حضرت موسیٰ نے فرعون سے دوسرا مطالبہ کیا کہ بنی اسرائیل کو آزاد کردے تاکہ یہ اپنے آبائی مسکن میں جاکر عزت اور احترام کی زندگی گزاریں اور اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
52:: یہاں سے آیت نمبر : 162 تک حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کے کچھ اہم حصے تفصیل کے ساتھ بیان ہوئے ہیں، اس سورت میں فرعون کے ساتھ آپ کی گفتگو اور مقابلے اور اس کے غرق ہونے کی تفصیل، نیز حضرت موسیٰ ؑ کو تورات عطا ہونے کے واقعات آرہے ہیں، آپ حضرت یعقوب ؑ کی چوتھی پشت میں آتے ہیں، سورة یوسف میں قرآن کریم نے بتایا ہے کہ حضرت یوسف ؑ جب مصر کے وزیر خزانہ بن گئے تو انہوں نے اپنے والدین اور بھائیوں کو فلسطین سے مصر بلالیا تھا، اسرائیلی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب ؑ کی ساری اولاد جو بنو اسرائیل کہلاتی ہے پھر وہیں آباد ہوگئی تھی، اور مصر کے بادشاہ نے ان کو شہری آبادی سے الگ ایک علاقہ دے دیا تھا، مصر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–108
حضرت موسیٰ کا جواب یہ تھا = فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ۔ وَّنَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا ھِىَ بَيْضَاۗءُ لِلنّٰظِرِيْنَ ۔ موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔ اور اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔
حضرت موسیٰ کے ہاتھوں اچانک عظیم معجزات کے صدور سے وہ لوگ ششدر رہ گئے۔ عصا ایک سانپ بن گیا تھا اور اس کی حقیقت یوں بدل گئئی تھی کہ اب اس کے سانپ ہونے میں شک ہی نہ رہا تھا۔
(مُّبِيْنٌ) کے معنی واضح طور پر ، جیتا جاگتا۔ دوسری صورت میں کہا گیا (فاذا ھی حیۃ تسعی) " تو وہ اچانک چلنے پھرنے والا سانپ بن گیا "۔ حضرت موسیٰ سرخ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–107
7 جس کے اژدھا ہونے میں کسی طرح کی شک و شبہ کی گنجائش نہ تھی کہتے ہیں کہ وہ اژدھا منہ کھول کر فرعون کی طرف لپکا آخر فرعون نے بدحواس ہو کر موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کے پکڑنے کی درخواست کی۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا ہاتھ لگانا تھا کہ پھر عصا بن گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–108
آیت 105 حَقِیْقٌ عَلٰٓی اَنْ لآَّ اَقُوْلَ عَلَی اللّٰہِ الاَّ الْحَقَّ ط
فرعون کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کوئی اجنبی آدمی نہیں تھے۔ آپ علیہ السلام اس کے ساتھ ہی شاہی محل میں پلے بڑھے تھے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کے وقت جو فرعون برسر اقتدار تھا وہ اس فرعون کا باپ تھا اور اسی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بچپن میں بچایا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی والدہ نے آپ علیہ السلام کو ایک صندوق میں بند کر کے دریائے نیل میں ڈال دیا تھا۔ وہ صندوق فرعون کے محل کے پاس ساحل پر آ لگا تھا اور محل کے ملازمین نے اسے اٹھا لیا تھا۔ فرعون کو پتا چلا تو وہ اسرائیلی بچہ سمجھ کر آپ علیہ السلام کے قتل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–107
111 سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے فرعون سے مطالبات :۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے پاس پہنچ کر اسے دو باتیں ارشاد فرمائیں ایک یہ کہ میں اللہ رب العالمین کا فرستادہ ہوں اور میرے اس بیان کی صداقت کے طور پر مجھے دو معجزے بھی عطا کیے گئے ہیں لہذا تم اپنی خدائی سے دستبردار ہو کر ایمان لے آؤ (جیسا کہ بعض دوسری آیات قرآنی میں اس کی وضاحت موجود ہے) اور دوسری یہ کہ بنی اسرائیل کو آزاد کر کے میرے ہمراہ روانہ کردو تاکہ میں انہیں یہاں سے فلسطین کی طرف لے جاؤں) ان دو آیات میں کئی امور قابل غور اور وضاحت طلب ہیں مثلاً :
1۔ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ کیسے جرأت ہوئی کہ ایک اتنی عظیم الشان سلطنت کے…
Read the full tafseer →144 ۔ یہ خیال رہے کہ مصر قدیم میں سانپ ایک مقدس جانورسمجھا جاتا تھا جیسے ہندوستان میں گائے بلکہ ہندوستان میں تو خود سانپ بھی مقدس سمجھا جاتا ہے اور ہندوؤں میں سانپ کی پوجا کا دن ” ناگ پنچمی “ بڑے دھوم سے منایا جاتا ہے۔ (آیت) ” ثعبان “۔ کہتے ہیں ایک بڑے اور موٹے قسم کے سانپ یا اژدرکو۔ الحیۃ الضخم الذکر وھو اعظم الحیات (قرطبی) الثعبان الحیۃ الضخمۃ الذکر فی قول جمیع اھل اللغۃ (کبیر) عصائے موسوی جسامت کے لحاظ سے ایسا ہی ہوگا۔ باقی جہاں اس کی تیز رفتاری کا اظہار مقصود ہے وہاں قرآن مجید اس کے لیے جان لایا ہے۔ امکان اس کا بھی ہے کہ وہی عصا کہیں ثعبان بن جاتا ہو اور کہیں۔ جان۔ توریت میں یہ واقعات درج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ : ثم بعثنا۔۔۔۔۔ وملائہ (الآیۃ) ، یہاں سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا قصہ شروع ہو رہا ہے، جو مذکورہ انبیاء کے بعد آئے اور بنی اسرائیل کے جلیل القدر انبیاء میں سے ہیں جنہیں فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف دلائل و معجزات دیکر بھیجا گیا تھا، بنی اسرائیل اصالۃً ملک شام کے علاقہ فلسطین میں کنعان کے رہنے والے تھے، حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے مصری وزارت مالیات کے زمانہ میں اپنے خاندان کو مصر بلا لیا تھا، یہ لوگ مصر آکر آباد ہوگئے اور یہیں کے ہو کر وہ گئے، اسی خاندان بنی اسرائیل میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے فرعون اور اس کی قوم کی ہدایت کیلئے آپ کو معجزے…
Read the full tafseer →فالقی عصاہ فاذا ہی ثعبان مبین : پس موسیٰ نے اپنا عصا (زمین پر) ڈال دیا تو وہ دفعتہ ایک کھلا ہوا اژدہا بن گیا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–122
(106 تا 122) وہ کہنے لگا کہ اپنے رسول ہونے پر دلیل لاؤ چناچہ پہلی نشانی ڈالی تو وہ بہت بڑا زرد رنگ کا اژدہا بن گیا اور پھر اپنی بغل سے ہاتھ نکالا تو وہ خوب چمکتا ہوا ہوگیا۔
سردار کہنے لگے یہ تو بہت بڑا جادوگر ہے۔ تو فرعون نے ان سے کہا پھر ان کے بارے میں تم لوگ کیا مشورہ دیتے ہو، وہ کہنے لگے موسیٰ ؑ اور ہارون کو مہلت دو اور ابھی ان کو قتل مت کرو، یہاں تک کہ سب ماہر جادوگر آجائیں، چناچہ ستر جادوگر بلائے گئے اور انہوں نے فرعون سے کہا کہ اگر ہم نے موسیٰ کو ہرا دیا تو ہمیں بڑا انعام ملے گا ؟ فرعون نے کہا ہاں ! میں تمہیں بہت بڑا انعام دوں گا۔
وہ جادوگر حضرت موسیٰ ؑ سے کہنے لگے کہ پہلے آپ ڈالتے ہیں…
Read the full tafseer →فَاَلْقٰى عَصَاهُ۔۔ : موسیٰ ؑ نے فوراً ہی اپنا عصا پھینکا تو وہ خوف ناک اژدہا بن گیا۔ بعض مفسرین نے اس کی عجیب و غریب صفات لکھی ہیں، مثلاً اس نے منہ کھولا تو اس کا نچلا جبڑا زمین پر اور اوپر کا جبڑا اسی (80) ہاتھ اوپر کی طرف اٹھ کر محل کی دیوار کی بلندی تک پہنچ گیا اور وہ فرعون کی طرف بڑھا تو وہ بھاگ اٹھا اور اس کا پاخانہ خطا ہوگیا، لوگ بھی بھاگ گئے، فرعون چیخا کہ موسیٰ ! اسے پکڑو، میں ایمان لے آؤں گا۔ موسیٰ ؑ نے پکڑا تو وہ پھر لاٹھی بن گیا۔ (ابن کثیر، بقاعی) اگرچہ اس کی کوئی صحیح سند نہیں اور نہ اس کی تصدیق یا تردید کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ ہے، تاہم ”ثعبان“ کی صفت ”مبین“ سے اور اتنی لاٹھیوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
آیت نمبر : 104۔ تا 112
حقیق علی یعنی مجھ پر واجب ہے۔ اور جنہوں نے علی ان لا پڑھا ہے تو معنی یہ ہوگا حریص علی الاقوال ( وہ اس پر حریص ہے کہ میں نہ کہوں) اور حضرت عبداللہ کی قراءت میں حقیق الا اقول ہے یعنی اس میں علی موجود نہیں ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ علی بمعنی با ہے (زادالمسیر، جلد 2، صفحہ 182) ، یعنی حقیق بالا اقول اور اسی طرح حضرت ابی اور اعمش کی قراءت میں بالا اقول ہے۔ جیسے تو کہتا ہے : رمیت بالقوس وعلی القوس۔ پس اس بنا پر حقیق بمعنی محقوق ( ثابت شدہ) ہوگا۔ اور آیت : فارسل معی بنی اسراء یل کا معنی ہے تو انہیں چھوڑ دے۔ ( کیونکہ) وہ انہیں انتہائی مشقت آمیز کاموں میں لگائے رکھتا تھا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–112
(1) امام ابو الشیخ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو یوں پڑھتے تھے لفظ آیت ” حقیق علی ان لا اقول “۔
عصاء موسیٰ آدم (علیہ السلام) کی تھی
(2) امام عبد بن حمید اور ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” فالقی عصاہ “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ یہ لاٹھی آدم کی لاٹھی ہے۔ ان کو خاص طور پر ایک فرشتے نے دی تھی جب وہ مدینہ جا رہے تھے۔ یہ رات کو روشنی دیتی تھی اور دن کے وقت آپ اسے ساتھ لے کر زمین میں گھومتے پھرتے اور اپنے لئے رزق تلاش کرتے اور اس کے ساتھ اپنی بکریوں کے لئے پتے بھی جھاڑتے تھے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا لفظ آیت ” فاذا ہی ثعبان مبین “ یعنی ایک سانپ تھا…
Read the full tafseer →[ فَاَلْقٰى : تو انہوں نے ڈالا ] [ عَصَاهُ : اپنا عصا ] [ فَاِذَا : تو جب ہی ] [ ھِىَ : وہ ] [ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ : ایک واضح (جیتا جاگتا ) اژدھا تھا ]
ث ع ب : (ف) ثعبا ، پانی کو جاری کرنا ۔ پانی بہانا ۔ ثعبان ۔ فسعلان کے وزن پر مبالغہ ہے ۔ اژدھا ۔ [ کیونکہ یہ زمین پر ایسے چلتا ہے جیسے پانی بہتا ہے ] یہ مذکر اور مونث دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ۔ زیر مطالعہ آیت ۔ 107 ۔
(آیت ۔ 107) ھی کی ضمیر عصا کے لیے ہے جو مؤنث سماعی ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–116
موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون کا جادو گر بتانا اور مقابلہ کے لیے جادو گروں کو بلانا، اور جادو گروں کا ہار مان کر اسلام قبول کرلینا
جب فرعون اور اس کی جماعت نے یدبیضاء دیکھا اور لاٹھی کو دیکھا کہ وہ اژدھا بن گئی تو انہوں نے ان دونوں معجزوں کو جادو پر محمول کیا، سورة الذاریات میں فرمایا ہے (کَذٰلِکَ مَا اَتَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِِلَّا قَالُوْا سَاحِرٌ اَوْ مَجْنُوْنٌ) (اسی طرح سے ان سے (یعنی امت محمدیہ) پہلے جو بھی کوئی رسول آیا لوگوں نے کہا یہ جادو گر ہے یا دیوانہ ہے) حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کے مخالفین کا یہ طریقہ رہا ہے کہ وہ ان کے معجزات کو دیکھ کر ایمان لانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
ذکر بعثت موسیٰ (علیہ السلام) و مکالمۂ او با فرعون
قال اللہ تعالیٰ ثم بعثنا من بعدھم موسیٰ ۔۔۔ الی۔۔۔ فاذاھی بیضاء للناظرین
(ربط) موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات میں سب سے پہلے ان کی بعثت کا واقعہ اور فرعون کے ساتھ ان کے مناظرہ اور مکالمہ کا ذکر فرماتے ہیں پھر ہم نے ان انبیاء مقدم الذکر کے بعد موسیٰ بن عمران کو اپنی نشانیاں دیکر یعنی معجزات اور دلائل نبوت دیکر فرعون اور اس کے قوم کے بڑے لوگوں کی طرف دعوت وتبلیغ کی خاطر بھیجا پس انہوں نے دلائل اور براہین رسالت یعنی معجزات کے ساتھ ظلم کیا معجزات کا حق یہ تھا کہ ان پر ایمان لاتے اور ان کی تصدیق سے اپنی اصلاح کرتے لیکن بجائے تصدیق کے ان کی تکذیب کی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
109: فرعون نے کہا اگر واقعی تم اپنے دعوے میں سچے ہو اور اپنی نبوت پر واقعی کوئی دلیل اور معجزہ لائے ہو تو پیش کرو۔ “ فَاَلْقٰي عَصَاہُ الخ ” حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی لاٹھی زمین پر پھینک دی جو گرتے ہی سانپ بن گئی اور پھر گریبان میں ہاتھ ڈال کر باہر نکلا تو وہ روشن اور درخشاں تھا یعنی میری نبوت کا پہلا گواہ تو یہ سانپ والا معجزہ ہے یہ بھی دیکھ لو اور دوسرا یہ نور ہے اسے بھی دیکھ لو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
ربط آیات
اس سے اللہ تعالیٰ نے پانچ انبیا (علیہ السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان کرکے حضور ﷺ اور آپ کے پیرو کاروں کو جرات دلائی اور تسلی دی کہ ان قوموں کا حال پیش نظر رکھو اور تبلیغ دین کے لیے مستعد ہوجائو۔ پھر اللہ نے درمیان میں اقوام عالم کی عمومی ذہنیت کا ذکر کیا اور اللہ کی وہ سنت اور دستور بیان کیا جس کے تحت نافرمانوں کو سزا ملتی ہے اور اطاعت گزاروں کو فلاح نصیب ہوتی ہے اب اس درس سے تاریخ انبیا ہی کے سلسلے میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان لوگوں کا ذکر شروع ہورہا ہے جن کی طرف آپ کو مبعوث کیا گیا تو یہاں سے کافی دور تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) آپ کی قوم بنی اسرائیل اور فرعون اور اس کی…
Read the full tafseer →فَاَلْقٰى عَصَاہُ فَاِذَا ھِىَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ 107
لقی( افعال)
والإِلْقَاءُ : طرح الشیء حيث تلقاه، أي : تراه، ثم صار في التّعارف اسما لكلّ طرح . قال : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] ، قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ نَحْنُ الْمُلْقِينَ
[ الأعراف/ 115] ،
( ل ق ی ) لقیہ ( س)
الالقآء ( افعال) کے معنی کسی چیز کو اس طرح ڈال دیناکے ہیں کہ وہ دوسرے کو سمانے نظر آئے پھر عرف میں مطلق کس چیز کو پھینک دینے پر القاء کا لفظ بولا جاتا ہے ۔ قرآن میں ہے : فَكَذلِكَ أَلْقَى السَّامِرِيُ [ طه/ 87] اور اسی طرح سامری نے ڈال دیا ۔ قالُوا يا مُوسی إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 105–116
ترکیب : حقیق فعیل خبر مبتداء محذوف کی ای انا فا ذاللفاجاۃ یہ ظرف مکان کے لئے ہے ھی مبتداء ثعبان خبر ان ھذایر ید قال کا مفعول۔ لاجرا اسم ان لنا خبر جملہ دال بر جزا ان کنا یہ تمام جملہ مقولہ ہے قالوا کا۔ فلما القوا شرط سحروا واسترھبوا جواب۔ وجاؤ جملہ مستانفہ یا معطوفہ۔
تفسیر : قصہ موسیٰ و فرعون : یہ چھٹا قصہ موسیٰ کا ہے چونکہ یہ بہت بڑا واقعہ ہے اس لئے اس کو ان پہلے واقعات سے فصل دے کر بیان فرمایا یعنی ان واقعات کا نتیجہ تمام کرکے اس کو شروع کیا گیا۔ گرچہ یہ قصہ متعدد مطالب کے ادا کرنے کے واسطے قرآن میں متعدد جگہ آیا ہے لیکن اس جگہ بہت کچھ ذکر ہوا ہے۔ تفسیر سورة بقرہ میں ہم اس کو نہایت تفصیل کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
قَالَ اِنْ کُنْتَ جِئْتَ بِاٰیَۃٍ فَاْتِ بِھَا اِنْ کُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ ۔ فَاَلْقٰی عَصَاہُ فَاِذَا ھِیَ ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ۔ وَّ نَزَعَ یَدَہٗ فَاِذَا ھِیَ بَیْضَآئُ لِلنّٰظِرِیْنَ ۔ (الاعراف : 106، 108)
” فرعون نے کہا کہ اگر تم کوئی نشانی لے کر آئے ہو تو اس کو پیش کرو ‘ اگر تم سچے ہو۔ تو اس نے اپنی لٹھیا ڈال دی وہ یکایک ایک سچ مچ کا اژدھا بن گئی اور اس نے اپنا ہاتھ کھینچا تو وہ دفعتاً دیکھنے والوں کے لیے چمکتا ہوا نکلا “۔
ہر پیغمبر کے معجزات قوم کے مذاق کے آئینہ دار ہوتے ہیں
پیشتر اس کے کہ ہم ان معجزات کی وضاحت کریں یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ معجزات کے بارے میں سنت الٰہی یہ رہی ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–108
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے عہد کو توڑنے والی اقوام میں آل فرعون سرفہرست تھے۔ جنھوں نے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی بار بار وعدہ خلافی کی بلکہ قوم کے مزاج اور مشرکانہ عقائد سے فائدہ اٹھاتے ہوئے فرعون نے ” اَنَا رَبُّکُمُ الْاَعْلٰی “ کا دعویٰ کیا تھا۔
فرعون مصر کے حکمران کا اصلی نام نہیں بلکہ اس کا یہ سرکاری لقب تھا۔ قدیم تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یمن کا حکمران تبع، حبشہ کا بادشاہ نجاشی، روم کا حکمران قیصر، ایران کا فرمانروا کسریٰ کہلواتا اور ہندوستان کے حکمران اپنے آپ کو راجا کہلوانا پسند کرتے تھے۔ جس طرح آج کل صدارتی نظام میں حکمران پریذیڈنٹ اور پارلیمانی نظام رکھنے والے…
Read the full tafseer →عصائے موسوی کا اعجاز :
آیت 107: فَاَلْقٰی (پس آپ نے ڈال دیا) موسیٰ ( علیہ السلام) نے عَصَاہُ (اپنا عصا) اپنے ہاتھ سے فَاِذَا ھِیَ (تو اچانک) اذا مفاجات کے لیے ہے یہ ظرف مکان ہے یہ ثمہ اور ھناک کی طرح ہے۔ ثُعْبَانٌ بہت بڑا سانپ مُّبِیْنٌ (ایک اژدہا بن گیا) جس کا معاملہ ظاہر ہونے والا تھا۔ روایت میں ہے کہ وہ نر سانپ تھا جو منہ کھولنے والا تھا۔ اس کے جبڑوں کا فاصلہ 80 ہاتھ تھا۔ اس نے اپنا نچلا جبڑا زمین پر اور اوپر والا محل کی بالائی دیوار پر رکھا۔ پھر فرعون کی طرف متوجہ ہوا تو فرعون بھاگ نکلا اور پاخانہ کردیا۔ اور اس سے قبل اس نے پاخانہ نہ کیا تھا۔ اس نے لوگوں پر حملہ کردیا جس سے پچیس ہزار آدمی…
Read the full tafseer →107(فالقی) موسیٰ (علیہ السلام) نے (عصاہ فاذاھی ثعبان مبین)
ثعبان اور جان کی وضاحت
” ثعبان “ بڑا نر سانپ۔ اگر یہ اعتراض ہو کہ دوسری جگہ آیت میں اس کو ” جان “ کہا گیا ہے اور جان چھوٹے سانپ کو کت ہے ہیں تو جواب یہ ہے کہ وہ حرکت کرنے میں چھوٹے سانپ کی طرح تھا اور جسم کے اعتبار سے بڑا سانپ تھا۔ ابن عباس ؓ اور سدی (رح) نے فرمایا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) نے عصا ڈالا تو وہ بہت بڑا سانپ بن گیا۔ اس کا رنگ زرد بالوں والا اس کے جبڑوں کے درمیان اسی گز کا فاصلہ تھا، زمین سے ایک میل اونچا اٹھ گیا۔ اس طرح کہ دم نیچے نکالی اور اپنا نچلا جبڑا بھی زمین پر رکھ لیا اور اوپر والا جبڑا محل کی چھت سے جالگا اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–127
(103 ۔ 126) ۔ اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح ( علیہ السلام) اور ہود ( علیہ السلام) اور صالح ( علیہ السلام) اور لوط ( علیہ السلام) اور شعیب ( علیہ السلام) کا ذکر فرما کر ان آیتوں میں حضرت موسیٰ اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر عاجز کرنے والی چیز کو کہتے ہیں جس کا ظہور بدوں تائید غیبی کے نہ ہو سکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدا تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے مثلا حضرت صالح کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آیت 103
پھر ان رسولوں کے بعد ہم نے امام عظیم اور رسول کریم موسیٰ کلیم اللہ کو انتہائی سرکش اور جابر قوم یعنی فرعون اور اس کے سرداروں اور اشراف کی طرف مبعوث کیا۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑی بڑی آیات و معجزات کا مشاہدہ کروایا کہ ان جیسے معجزات کا مشاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ (فظلموا بھا) ” پس ظلم کیا نہوں نے ان کے مقابل ی میں “ بایں صورت کہ انہوں نے اس حق کی پیروی نہ کی کہ جس کی پیروی نہ کرنا ظلم ہے اس کے برعکس انہوں نے تکبر کے ساتھ حق کو ٹھکرا دیا (فانظر کیف کان عاقبۃ المفسدین) ” پس دیکھو، کیا انجام ہوا مفسدوں کا “ یعنی دیکھو کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو کیسے ہلاک کردیا، دنیا میں کیسے ان کو ملعون اور مذموم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–109
145 عصائے موسیٰ کا سچ مچ کا ایک اژدہا بن جانا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جب حضرت موسیٰ نے جب اللہ کے حکم سے اپنے عصا کو زمین پر ڈالا تو وہ یکایک ایک اژدہا بن گیا۔ یعنی سچ مچ کا اژدہا جیسا کہ معجزہ کی شان ہوتی ہے نہ کہ جادو اور شعبدہ کی طرح محض نظر بندی اور چابکدستی کا مظاہرہ۔ پھر وہ سانپ بھی ایسا تھا کہ جسامت کے لحاظ سے تو وہ ایک کھلم کھلا اژدہا { ثُعْبَانٌ مُّبِیْنٌ} تھا لیکن حرکت اور پھرتی کے اعتبار سے ایک باریک سانپ { جَآنٌّ }۔ بہرحال تھا وہ سانپ ہی جو کہ چلتا پھرتا تھا { حَیَّۃٌ تَسْعٰی }۔ بہرکیف وہ سچ مچ اور حقیقی معنوں میں سانپ بن گیا تھا جو سب کی آنکھوں کے سامنے دوڑتا پھرتا تھا۔ نظربندی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–156
آل فرعون کی غرقابی اور بنی اسرائیل کا عبرتناک بیان
تشریح : یہ طویل واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے حالات پر مبنی ہے یہ بھی پچھلے قصوں کی طرح مسلمانوں کو سبق سکھانے اور عبرت دلانے کے لیے بیان کیا گیا ہے یہ بیان مختلف قسم کے سبق آموز اور حیرت انگیز واقعات سے بھرا ہوا ہے گو کہ یہ اہل مکہ کو راہ راست پر لانے، ان میں ہمت و استقلال پیدا کرنے اور حق و باطل کی جنگ میں حق کی فتح و کامرانی دکھانے اور پھر اللہ رب العزت کا دستور العمل بتانے کے لیے بیان کیا گیا ہے کہ وہ کبھی دکھ سے آزماتا ہے کبھی فراخی سے آزماتا ہے۔ گزشتہ آیات کو غور سے پڑھنے کے بعد یہ تمام حقیقتیں بڑی واضح صورت میں انسانوں کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–108
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–110
ف 8 ماذا فی محل نصب مفعل التا مرون بخذالجارای بای شی تامرو ن ای تشیرون یہ فرعون کی بات ہے جو اس نے معجزات دیکھنے کے بعد اپنے وزیروں اور مشیروں سے کہی کہ کہیں ایسانہ ہو کہ موسیٰ ( علیہ السلام) بنی اسرائیل کو آزادی کے بہانے مصر کے لوگوں کو یہاں سے نکلا دے اور خود حکومت مصر پر قابض ہوجائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وزیروں اور مشیروں نے فرعون سے یہ بات یہ ہو سورة شعر ٰ کے سیا ق کلام کے یش نظر علمانے یہ دونوں کے احتمال ذکرکئے ہیں مگر پہلا احتمال زیادہ صحیح ہے علامہ زمحشری لکھتے ہیں کہ اصل یہ کلام فرعون کا ہے جیسا کہ سورت شعرٰ میں مذکور ہے یہاں پر کی طر اس کی نسبت مجازی ہے یعنی انہوں نے بھی بطور تبلیغ…
Read the full tafseer →(7:107) القی۔ القی یلقی القاء (افعال) ماضی واحد مذکر غائب اس نے زمین پر پھینکا ۔
فاذا۔ اذا یہاں دفعۃ۔ ناگہاں۔ فوراً ۔ کے معنوں میں آیا ہے۔ ویسے اس کا معنی جب اس وقت۔ بھی ہے۔
ثعبان۔ بہت بڑا سانپ۔ ازدھا۔ اسم ہے۔ مذکر مؤنث دونوں کے لئے آتا ہے۔ مبین۔ صاف۔ ظاہراً ۔ کھلا ۔ سچ مچ کا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 107–112
لغات القرآن آیت نمبر (107 تا 112 ) ۔
القی (اس نے ڈالا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ ثعبان ( اژدھا۔ بڑا سا سانپ) ۔ نزع (کھینچا۔ نکالا) ۔ بیضاء (سفید۔ چکمدار ) ۔ ناظرین (دیکھنے والے) ۔ سحر علیم (اچھی طرح جادو جاننے والا۔ ماہر جادو گر) ۔ ان یخرجکم (یہ کہ وہ تمہیں نکال دے) ۔ من ارضکم (تمہاری زمین سے) ۔ فما ذاتامرون (پھر تم کیا مشورہ دیتے ہو ؟ ) ۔ ارجہ (ڈھیل دے اس کو) ۔ اخاہ (اس کے بھائی کو ) ۔ المدائن (شہر۔ بستیاں ) ۔ حشرین (جمع کرنے والے ) ۔ یا توک (آجائیں گے تیرے پاس ) ۔
تشریح : آیات نمبر (107 تا 112 ) ۔ ” اسزمانہ میں ملک مصر میں جادو کا بڑا زور تھا یعنی عام فطرت سے ہٹ کر کوئی نئی حیرت انگیز چیز پیش کردینا،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 104–110
واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام، معجزہ اور جادو میں فرق
معجزہ اور جادو میں یہ فرق ہے کہ معجزہ میں عادت سے باہر جو چیز خدائے تعالیٰ انبیاء کی تصدیق کے طور پر پیدا کرتا ہے وہ اصلی چیز ہوتی ہے : مثلا (1) ۔ حضرت صالح (علیہ السلام) کے معجزہ سے جو اونٹنی پتھر میں سے پیدا ہوئی وہ دراصل اونٹنی ہی تھی، لوگوں نے مدت تک اس کا دودھ پیا اور (2) ۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) جو مردہ کو زندہ کرتے تھے وہ درحقیقت وہی مردہ شخص ہوتا تھا اور (3) ۔ آنحضرت ﷺ کی انگلیوں سے جو پانی کا چشمہ بہا وہ دراصل پانی ہی تھا لوگوں نے پیا اور ان کی پیاس بجھی۔ جادو میں ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی غریب جادوگر ٹھیکریوں کے روپے بنادے تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–116
[44] جس سے لاٹھیاں اور رسیاں سانپ نظر آنے لگیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 102–107
نبذعھد :
(ف 1) ان تمام قصص کا مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو بتایا جائے کہ قومیں کس طرح بار بار اللہ کے بندھے ہوئے میثاق کو توڑتی چلی آئی ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان کو سخت ترین سزائیں دی ہیں ، تاکہ ایک طرف آپ کو قریش مکہ کی مخالفت سے مایوسی نہ ہو اور دوسری جانب مکہ والوں کے دل میں ڈر پیدا ہو ، اور ان کو معلوم ہو کہ اگر ہم نے رسول اللہ کا کہا نہ مانا اور انکار کیا تو ہمارا حشر بھی یہی ہوگا ۔
ان قصوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب وقت حق کا اظہار ہوتا ہے اکثریت کی جانب سے پر زور مخالفت ہوتی ہے اور ابتداء حق کو قبول کرنے والے بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں ۔
Read the full tafseer →107 چنانچہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنا عصا ڈال دیا اور اپنی لاٹھی پھینکی اور عصا ڈالتے ہی وہ ایک صاف وصریح اژدہا بن گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 103–107
ف 2۔ یعنی معجزات۔
3۔ یہ تو تمام قصہ کا اجمال تھا آگے تفصیل ہے۔
Read the full tafseer →موسیٰ (علیہ السلام) نے توحید الٰہی کا نشان یعنی ” عصا “ کا معجزہ دکھایا :
118: فرعون خود سورج دیوتا یعنی رع یا راع کے اوتار کی حیثیت سے بادشاہی کا استحقاق بتاتا تھا اور یہ بات بھی مصر کی تاریخ سے ثابت ہے کہ اس قوم کے مذہب میں بہت سے دیوتائوں اور دیویوں کی عبادت ہوتی تھی اور ان سارے دیوتائوں اور دیویوں سے بڑا تو وہ خود تھا اور اس کی قوم بھی اس کو اسی منصب پر سمجھتی تھی اس لئے اس کو ” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى ٞۖ0024 “ کہ اے اہل مصر تمہارا رب اعلیٰ میں ہوں کا موقع ملا تھا اس نے موسیٰ (علیہ السلام) سے ” رب العالمین “ کے الفاظ سن کر پہلے تو تعجب کا اظہار کیا اور آخر کار ان کے رسول رب العالمین…
Read the full tafseer →The prophet Musa (علیہ السلام) in response to his demand, threw down his staff on the earth, instantly it turned into a serpent: فَإِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِينٌ. The word 'thu` ban' in Arabic signifies a huge serpent. The use of the word 'mubin' as an adjective which means 'clear or prominent' is quite descriptive of the fact that this miraculous event took place manifestly before the eyes of the people of the Pharaoh, and it was not performed secretly in a hidden or secluded place as is usually done by magicians. In some historical traditions it has been cited on the authority of the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 106–108
87. Moses was granted these two miraculous signs in order to provide testimony to his being a Messenger of God, the creator and sovereign of the universe. As we have mentioned earlier, whenever the Prophets introduced themselves as God's Message-bearers, people asked them to produce some miraculous sign, to perform something supernatural. In response to those demands the Prophets produced what the Qur'an terms as 'signs', and which are called 'miracles' by theologians.
Those who tend to play down the supernatural character of such signs or miracles, and who try to explain them in terms of…
Read the full tafseer →