Explained with ayahs 101–102
عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا
پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گذر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے، صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ جب تک رسول نہ آجائیں، خبردار نہ کردیئے جائیں عذاب نہیں دیئے جاتے، ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کردیا تھا ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت…
Read the full tafseer →سورة الْاَعْرَاف 81
پچھلی آیت میں جو ارشاد ہوا تھا کہ ”ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے“ ، اس کی تشریح اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں خود فرمادی ہے۔ اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دلوں پر مہر لگانے سے مراد ذہن انسانی کا اس نفسیاتی قانون کی زد میں آجانا ہے جس کی رو سے ایک دفعہ جاہلی تعصبات یا نفسانی اغراض کی بنا پر حق سے منہ موڑ لینے کے بعد پھر انسان اپنی ضد اور ہٹ دھرمی کے الجھاؤ میں الجھتا ہی چلا جاتا ہے اور کسی دلیل، کسی مشاہدے اور کسی تجر بے سے اس کے دل کے دروازے قبول حق کے لیے نہیں کھلتے۔
Read the full tafseer →اس کے بعد فرمایا وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤ ْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ یعنی ان سب لوگوں کے انبیاء ورسل ان کے پاس معجزات لے کر پہنچے جن کے ذریعہ حق و باطل کا فیصلہ ہوجاتا ہے، مگر ان کی ضدا اور ہٹ دھرمی کا یہ عالم تھا کہ جس چیز کے متعلق ایک مرتبہ ان کی زبان سے یہ نکل گیا تھا کہ یہ غلط اور جھوٹ ہے پھر اس کے حق وصدق ہونے پر کتنے ہی معجزات، دلائل اور حجتیں سامنے آگئیں مگر وہ اس کی تصدیق و اقرار کے لئے آمادہ نہ ہوئے۔ اس آیت سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ معجزات تمام انبیاء ورسل کو عطا فرمائے گئے ہیں جن میں سے بعض انبیاء کے معجزات کا قرآن میں ذکر…
Read the full tafseer →تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ۭكَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ۔
دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ دلوں پر مہر کب لگتی ہے ؟ کس طرح کے لوگوں پر لگتی ہے اور بالآخر اس کا نتیجہ کیا نکلتا ہے ؟ اس آیت میں ان سوالوں کا جواب ہے۔ فرمایا کہ ہم نے قوموں کی جو سرگزشت تمہیں سنائی ہے لوگوں کو چاہیے کہ اس سے سبق لیں۔ فرمایا کہ ان کے پاس خدا کے رسول نہایت واضح نشانیاں لے کر آئے لیکن وہ ان پر ایمان لانے والے نہ بنے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ پہلے سے خدا کی آیتوں اور…
Read the full tafseer →(1) جس طرح گزشتہ صفحات میں چند انبیاء کا ذکر گزرا۔ بینات سے مراد دلائل وبراہین اور معجزات دونوں ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ رسولوں کے ذریعے سے جب تک ہم نے حجت تمام نہیں کردی ہم نے انہیں ہلاک نہیں کیا۔ کیونکہ جب تک ہم رسول نہیں بھیجتے عذاب نازل نہیں کرتے۔
11۔ 1 اس کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ یوم میثاق کو جب عہد لیا گیا تھا تو یہ اللہ کے علم میں ایمان لانے والے نہ تھے اس لئے جب ان کے پاس رسول آئے تو اللہ کے علم کے مطابق ایمان نہیں لائے، کیونکہ ان کی تقدیر میں ہی ایمان نہیں تھا جسے اللہ نے اپنے علم کے مطابق لکھ دیا تھا۔ جس کو حدیث میں تعبیر کیا گیا ہے دوسرا مفہوم یہ ہے کہ جب پیغمبر ان کے پاس آئے تو اس وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
51: یہاں اصل لفظ“ مکر ”ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جسکا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کاروائی کی جارہی ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے باوجود دنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جسکا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنی بد عملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو ان کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے، لہذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہیے اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر ہم راہ راست…
Read the full tafseer →یہ قصے اللہ کی جانب سے تھے اور رسول اللہ ﷺ کو ان کا کوئی علم نہ تھا۔ آپ کو یہ قصے بذریعہ وحی تعلیم کئے گئے تھے۔
وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ " ان کے رسول ان کے پاس کھلی نشانیاں لے کر آئے " لیکن ان نشانیوں کا ان پر کوئی اثر نہ ہوا اور وہ بدستور رسولوں کو جھٹلاتے رہے جس طرح وہ ان نشانیوں سے پہلے بھی جھٹلاتے تھے۔ یہ نشانیاں اور معجزات بھی ان کو ایمان تک نہ پہنچا سکے۔ یہ نہ تھا کہ ان کے سامنے دلائل کی کمی تھی بلکہ حقیقی صورت حالات یہ تھی کہ ان کے دلوں کو تالے لگے ہوئے تھے ، ان کا احساس مردہ ہوگیا تھا ، اور ہدایت کی طرف وہ متوجہ ہی نہ تھے۔ جس چیز کی کمی تھی وہ یہ تھی کہ ان کی…
Read the full tafseer →1 یعنی جس چیز کا ایک دفعہ انکار کر بیٹھے، پھر کتنے ہی نشان دیکھیں، دنیا ادھر سے ادھر ہوجائے ممکن نہیں کہ اس کا اقرار کرلیں۔ جب حق تعالیٰ کے مقابلہ میں کسی قوم کی ضد اور ہٹ دھرمی اس درجہ تک پہنچ جاتی ہے تب عادتاً اصلاح حال و قبولِ حق کا امکان باقی نہیں رہتا۔ یہ ہی صورت دلوں پر مہر لگ جانے کی ہوتی ہے۔ یہاں واضح فرمایا کہ اللہ کی طرف سے دلوں پر مہر لگا دینے کا کیا مطلب ہے (تنبیہ) ( وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ رُسُلُهُمْ بالْبَيِّنٰتِ ) 7 ۔ الاعراف :103) سے معلوم ہوگیا کہ جو انبیاء (علیہم السلام) قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط، اہل مدین کی بستیوں کی طرف مبعوث ہوئے وہ سب بینات (واضح نشان) دے کر بھیجے گئے۔…
Read the full tafseer →آیت 101 تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِہَاج۔
انباء الرسل کے سلسلے میں اب تک پانچ رسولوں یعنی حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت لوط اور حضرت شعیب علیہ السلام کا ذکر ہوچکا ہے۔ آگے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آرہا ہے جو قدرے طویل ہے۔
وَلَقَدْ جَآءَ تْہُمْ رُسُلُہُمْ بالْبَیِّنٰتِ ج فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ط
یعنی جسے ایمان لانا ہوتا ہے وہ جیسے ہی حق منکشف ہوتا ہے اسے قبول کرلیتا ہے۔ جسے قبول نہیں کرنا ہوتا اس کے لیے نصیحتیں ‘ دلیلیں ‘ نشانیاں اور معجزے سب بےاثر ثابت ہوتے ہیں۔ یہی نکتہ سورة الانعام آیت 110 میں اس طرح بیان ہوا ہے :…
Read the full tafseer →105 یعنی سیدنا نوح (علیہ السلام) سیدنا ہود (علیہ السلام) سیدنا صالح (علیہ السلام) سیدنا لوط (علیہ السلام) اور سیدنا شعیب (علیہ السلام) کے علاقہ ہائے تبلیغ رسالت۔
106 دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے ؟ آیت کے اس حصہ میں دو باتیں بیان ہوئی ہیں ایک یہ کہ دل پر مہر کب اور کیسے لگتی ہے ؟ اور دوسرے یہ کہ اس مہر لگنے کی نسبت اللہ کی طرف کس لحاظ سے ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ انسان کے دل پر مہر یوں لگتی ہے کہ وہ جس بات کا ایک دفعہ انکار کردیتا ہے یا اسے جھٹلا دیتا ہے پھر اسے کوئی نشانی دیکھنے سے یا کسی کے سمجھانے سے حقیقت سمجھ میں آ بھی جائے تو محض اس لیے اپنے پہلے سے کیے ہوئے انکار پر ڈٹ جاتا ہے کہ…
Read the full tafseer →136 ۔ یہ بیان ہورہا ہے کافروں کے کمال قساوت قلب اور شدت عناد کا کہ جس سے ایک بار یا پہلے وہلہ میں انکار کربیٹھے اس پر انہیں پھر ایمان لانے کی توفیق نہ ہوئی اور ہر دلیل ہر ثبوت، ہر معجزہ ان کے لیے بیکار ہی رہا۔ (آیت) ” البینت “۔ دلائل ومعجزات سب پر حاوی ہے۔ ای الحجج علی صدقھم (ابن کثیر) ای الایات والمعجزات والعجائب (معالم)
137 ۔ (ان کے کفر اختیاری کی بنا پر) اس اصل کا بیان قرآن مجید میں بار بار آچکا ہے کہ جب بندہ اپنے قصد سے کفر کی راہ اختیار کئے رہتا ہے تو حق تعالیٰ اسے اسی راہ پر جما دیتا ہے اور ان کے دل پر مہرلگا دیتا ہے۔ لما علم منھم انھم یختاروں الثبات علی الکفر (مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
آیت نمبر 100 تا 108
ترجمہ : اور کیا ان لوگوں پر کہ جو زمین کے سابق مالکان کی ہلاکت کے بعد سکونت کے اعتبار سے زمین کے وارث بنے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیں أن مع اپنے مابعد (لونشاءُ ) کے یَھْدِ کا فاعل ہے اور أن مخففہ عن الثقیلہ ہے اور (أن) کا اسم محذوف ہے تقدیر عبارت أنَّہٗ ہے، جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کو پکڑ لیا، ہمزہ چاروں جگہ توبیخ کیلئے ہے اور جو فاء اور واؤ اس پر داخل ہیں عطف کیلئے ہیں ایک قرأت میں واؤ کے سکون کے ساتھ ہے، پہلی جگہ اَوْ کے ذریعہ عطف کرتے ہوئے، اور ان کے دلوں پر مہر (بند) لگا دیں کہ وہ نصیحت کو غور و فکر کے خیال…
Read the full tafseer →تلک القری نقص علیک من انبآء ہا ولقد جآء تہم رسلہم بالبینت فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل کذلک یطبع اللہ علی قلوب الکفرین : ان بستیوں کے کچھ کچھ واقعات ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات لے کر آئے تھے پھر جس بات کو پہلی بار انہوں نے جھوٹا کہہ دیا (پیغمبروں کے بعد بھی) اس پر ایمان لانے والے نہ ہوئے اللہ اسی طرح کافروں کے دلوں پر بند لگا دیتا ہے
Read the full tafseer →(101) جن بستیوں والوں کو ہم نے ہلاک کیا ہے ان کی ہلاکت کے کچھ واقعات بذریعہ جبریل امین ؑ ہم آپ کو سنا رہے ہیں، ان سب کے پاس رسول، اوامرو نواہی اور علامات نبوت لے کر آئے مگر میثاق سے پہلے جس کی تکذیب کردی تھی پھر اس کی تصدیق نہیں کی، یا یہ کہ پہلی قوموں نے جن باتوں کی تکذیب کی تھی، بعد والی امتوں نے ان کو تسلیم نہیں کیا، اسی طرح اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے دلوں کو جو علم الہی میں مشرک ہیں بند کردیتا ہے۔
Read the full tafseer →تِلْكَ الْقُرٰي۔۔ : یہاں ”القرٰی“ سے مراد گزشتہ پانچ اقوام (قوم نوح، عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب) کی بستیاں ہیں۔ آپ کو ان کے کچھ حالات سنانے کا مقصد یہ ہے کہ کفار مکہ جو ان بستیوں میں رہنے والوں کی طرح آپ کی مخالفت کر رہے ہیں، عبرت حاصل کریں۔
فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ : یعنی ان کے ایمان نہ لانے کی وجہ یہ نہیں تھی کہ ان کے رسولوں کے پاس اپنے سچا ہونے کے دلائل نہیں تھے، یا وہ دلائل اتنے واضح اور روشن نہیں تھے کہ قائل کرسکیں، بلکہ اس کا سبب ان کی قوم کا پہلے سے طے کرلینا تھا کہ ہم نے ماننا ہی نہیں۔ اب پہلے جھٹلا دینے کے بعد وہ ایمان لے آتے تو ان کی جھوٹی عزت…
Read the full tafseer →آیت نمبر : 101
آیت : تلک القری یعنی یہ وہ بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک اور تباہ وبرباد کیا۔ اور وہ حضرت نوح، عاد، حضرت لوط، حضرت ہود اور حضرت شعیب علیم السلام کی بستیاں ہیں جن کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ نقص ہم بیان کرتے ہیں۔ آیت : علیک من انبآئھا آپ سے ان کی خبریں۔ اور یہ حضور نبی مکرم ﷺ اور مسلمانوں کے لیے باعث تسلی و اطمینان ہے۔
آیت : فما کانوا لیومنوا یعنی ایسا نہیں کہ وہ کفار اپنے ہلاک ہونے کے بعد ایمان لائیں اگر ہم انہیں زندہ کردیں (معالم التنزیل، جلد 2، صفحہ 515) ۔ یہ حضرت مجاہد (رح) کا قول ہے۔ اس کی نظیر یہ ارشاد ہے : آیت : ولو ردوا لعادوا ( انعام : 28) ( اور اگر انہیں واپس بھیجا جائے ( جیسے…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے ابن کعب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل “ کے بارے میں فرمایا کہ اللہ کے علم میں تھا جس دن انہوں نے میثاق کے ساتھ اقرار کیا کہ کون اس کو جھٹلاتا ہے اور کون تصدیق کرتا ہے۔
(2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” فما کانوا لیؤمنوا بما کذبوا من قبل “ کے بارے میں فرمایا۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کا یہ قول بھی ہے لفظ آیت ” ولو ردوا لعادو لما نھو عنہ “ (الانعام آیت 28) اور اگر ان کو واپس بھیجا جائے تو پھر وہی کریں گے جس سے روکے…
Read the full tafseer →[ تِلْكَ الْقُرٰي : یہ بستیاں ] [ نَقُصُّ : ہم سناتے ہیں ] [ عَلَيْكَ : آپ کو ] [ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕهَا : جن کی خبروں میں سے ] [ وَلَقَدْ جَاۗءَتْهُمْ : اور آچکے ہیں ان کے پاس ] [ رُسُلُهُمْ : ان کے رسول ] [ بِالْبَيِّنٰتِ : واضح (نشانیوں ) کے ساتھ ] [ فَمَا كَانُوْا : تو وہ لوگ نہیں تھے ] [ لِيُؤْمِنُوْا : کہ ایمان لاتے ] [ بِمَا : اس پر جس کو ] [ كَذَّبُوْا : انہوں نے جھٹلایا ] [ مِنْ قَبْلُ : اس سے پہلے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يَطْبَعُ : چھاپ لگاتا ہے ] [ اللّٰهُ : اللہ ] [ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ : انکار کرنے والوں کے دلوں پر ]
Read the full tafseer →(تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآءِھَا) (یہ بستیاں ہیں جن کے قصے ہم آپ کو سناتے ہیں) (وَ لَقَدْ جَآءَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بالْبَیِّنٰتِ ) (اور ان کے پاس ان کے پیغمبر واضح معجزات لے کر آئے) (فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ) (اور وہ ایسے نہ تھے کہ جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلا دیا تھا اس پر ایمان لے آتے) ان کے پاس حق آیا تو اس کی تکذیب جو پہلے کردی تھی اسی تکذیب پر جمے رہے لہٰذا ایمان نہ لائے۔ (کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ) (ایسے ہی اللہ تعالیٰ کافروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے) اس مہر لگانے کا سبب اوپر بیان ہوا ہے۔ اس مہر کے سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–102
بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین
(ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…
Read the full tafseer →105:“ اَلْقُرٰي ” سے تمام مذکورہ بستیوں کی طرف اشارہ ہے۔ جن کے انبیاء (علیہم السلام) اور جن کی قوموں کے واقعات پہلے مذکور ہوچکے ہیں۔ اس سے یہ بات بھی معلوم ہوگئی کہ اس اشارہ کا محسوس مبصر ہی کے لیے استعمال ہونا ضروری نہیں بلکہ معہود فی الذہن کی طرف بھی اشارہ ہوسکتا ہے۔ لہذا “ ماتقول فی ھذا الرجل ” سے مبتدعین کا آنحضرت ﷺ کے قبر میں حاضر ہونے پر استدلال غلط ہے۔ “ بِمَا کَذـَ بُوْا ” میں با سببیہ ہے اور “ کَذٰلِکَ ” میں کاف بمعنی لام ہے۔ یعنی جب ان کے پاس اللہ کے پیغمبر آئے تو انہوں نے ان کی تکذیب کر ڈالی اس لیے جب انہوں نے معجزات پیش کئے تو بھی وہ ایمان نہ لائے اور کفر پر اڑے رہے اس لیے ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
ربط آیات
گزشتہ چند رکوع میں اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اپنچ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان فرمایا ان قوموں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اللہ کی ناشکر گزاری کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ دنیا سے ناپید ہوگئے اب اللہ تعالیٰ نے ان پانچ اقوام کی مجموعی حالت پر تبصرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے مواقع فراہم کیے مگر انہوں نے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا انہوں نے اپنی پیش رو اقوام کے انجام سے کوئی سبق نہ سیکھا اور خود بھی ہلاک ہوئے ان واقعات میں امت آخرالزمان کو تسلی بھی دی گئی ہے اور انہیں نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ ان حالات سے…
Read the full tafseer →تِلْكَ الْقُرٰي نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ اَنْۢبَاۗىِٕہَا 0 ۚ وَلَقَدْ جَاۗءَتْہُمْ رُسُلُہُمْ بِالْبَيِّنٰتِ 0 ۚ فَمَا كَانُوْا لِيُؤْمِنُوْا بِمَا كَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ 0 ۭ كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ 101
قصص
الْقَصُّ : تتبّع الأثر، يقال : قَصَصْتُ أثره، والْقَصَصُ : الأثر . قال تعالی: فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/ 64] ، وَقالَتْ لِأُخْتِهِ قُصِّيهِ [ القصص/ 11]
( ق ص ص ) القص
کے معنی نشان قد م پر چلنے کے ہیں ۔ محاورہ ہے ۔ قصصت اثرہ یعنی میں اس کے نقش قدم پر چلا اور قصص کے معنی نشان کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : فَارْتَدَّا عَلى آثارِهِما قَصَصاً [ الكهف/…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–104
ترکیب : لم یہد یتبین للذین الخ اس سے متعلق۔ ان مخففہ اسم اس کا محذف انہ یہ جملہ فاعل ہے یہد کا اے لم یتبین لھم مشیتنا و قدرتنا علی اہلاکھم بذنوبھم من عہد میں زاید ای ما وجدنا عہدًالاکثرھم۔
تفسیر : یہاں تک منکرین کے قصہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہونے کے وقائع بیان فرمائے تھے۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ کچھ انہیں بستیوں پر حصر نہیں جن کا کہ ہم نے حال بیان کیا بلکہ جہاں کہیں انبیاء آئے وہاں یہی بات پیش آئی۔ اب یہاں ان تمام تاریخی واقعات اور عبرت آمیز حادثات کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو پہلے لوگوں کے حال سے عبرت پیدا نہیں ہوتی کہ ان کو ہم نے ان کی بدکاری کی وجہ سے ہلاک کردیا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِھَا ج وَلَقَدْ جَآئَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ج فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہ ُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ ج وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ ۔ (الاعراف : 101، 102)
” یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔ اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
فہم القرآن
ربط کلام : دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والے لوگوں کا رویہ اور ان کی عادات۔
ایک مرتبہ پھر غافل اور نافرمانوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج جن بستیوں اور سر زمین کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں ان سے پہلے ان لوگوں کا کیا حال ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےخوف ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں ملیا میٹ کردیا۔ ان کے بعد آنے والوں کی بصیرت تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے سے پہلے لوگوں کی غلطیوں سے بچیں اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جن کے واقعات اللہ تعالیٰ نے اس لیے بار بار اور کھول کھول کر بیان کیے تاکہ نئی نسل اپنے سے پہلے لوگوں کے انجام سے عبرت…
Read the full tafseer →اہل قریٰ نے انبیاء کی نصیحت کو پہلی مرتبہ جھٹلا دیا ‘ پھر کبھی تصدیق نہیں کی :
آیت 101: تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْچبَآپھَا (ان بستیوں کے کچھ واقعات ہم آپ سے بیان کر رہے ہیں)
فائدہ : یہ اس آیت کی طرح ہے : وَّہٰذَا بَعْلِیْ شَیْخًا 1 (ہود : 72) کہ وہ مبتداء اور خبر اور حال ہے۔ نمبر 2۔ القرٰی صفت تلک موصوف اور نقص اس کی خبر ہے مطلب یہ ہوا کہ وہ بستیاں جن کا اوپر ذکر ہوا یعنی قوم نوح سے شعیب ( علیہ السلام) تک اس کی بعض خبریں تم پر بیان کرتے ہیں۔ اور ان کی کچھ خبریں جو ہم نے تم پر بیان نہیں کیں۔ وَلَقَدْ جَآئَ تْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ (اور ان سب کے پاس ان کے پیغمبر معجزات…
Read the full tafseer →101(تلک القریٰ ) یہ بستیاں جن کے بسنے والوں کے حالات ہم نے آپ (علیہ السلام) کو سنائے یعنی قوم نوح و عاد وثمود اور قوم لوط و شعیب (علیہم السلام) کے حالات (نقص علیک من ام نبآئھا ) کیونکہ ان میں نصیحت ہے (ولقد جآء نھم رسلھم بالبینت فما کانوا لیومنوا بما کذبوا من قبل) معجزات و عجائبات (پھر ہرگز نہ ہوا کہ ایمان لائیں اس بات پر جس کو پہلا جھٹلا چکے تھے) یعنی معجزات و عجائب دیکھنے کے بعد بھی اس دین پر ایمان نہ لاسکے جس پر ان کے دیکھنے سے پہلے ایمان نہ لائے تھے اس کی نظری اللہ تعالیٰ کا قول ” قد سالھا قوم من قبلکم ثم اصبحوا بھا کافرین “ ابن عباس ؓ اور سدی (رح) فرماتے ہیں یعنی نہیں تھا ان کفار جن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 101–102
(101 ۔ 102) ۔ اوپر حضرت نوح ( علیہ السلام) کی امت کا حال تھا کہ انہوں نے نبی وقت کا کہنا نہ مانا آخر طوفان سے ہلاک ہوگئے اسی طرح حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد سخت آندھی سے اور حضرت صا ( علیہ السلام) لح کی امت قوم ثمود کڑک کی سخت آواز اور زلزلہ سے اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت پتھروں کے مینہ سے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی امت زلزلہ اور انگارے برسنے سے جو ہلاک ہوئی ان سب کا حال بیان فرما کر اس آیت میں آنحضرت کی تسکین اور قریش کی تنبیہ خدا تعالیٰ نے جو فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کر قریش بھی نبی وقت کی نصیحت نہ مانیں گے تو جس طرح گذشتہ امتوں کی بستیاں غارت ہوگئی ہیں اسی طرح یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
آیت 96
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کیلئے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکرو استدراج کے طور پر انہیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لئے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دار و مدار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
137 اللہ کی گرفت و پکڑ سے غفلت و لاپرواہی خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے اس کی چال اور گرفت و پکڑ سے ؟ سو واضح رہے کہ اللہ کی چال اور اس کی گرفت وپگڑ سے بےخوف و نڈر نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس سرکشوں کی ان سرکشیوں اور بدمستیوں پر اس قادر مطلق کی طرف سے جو برابر مہلت اور ڈھیل مل رہی ہے تو یہ دراصل اس کی طرف سے ایک ایسی کریمانہ روش ہے جس سے وہ ان کو اپنے کرم بےپایاں اور حلم بےنہایت کی بناء پر نوازتا ہے۔ تاکہ جس نے سنبھلنا سدھرنا ہو وہ سنبھل اور سدھر جائے۔ قبل اس سے کہ فرصت عمل اس کے ہاتھ سے نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–108
رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔
اسرار و معارف :
ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…
Read the full tafseer →ف 10 یہاں القرٰ سے مراد گذشتہ اقوام خمسہ نوح ( علیہ السلام) عاد، ثمود، قوم لوط اور قوم شعیب ( علیہ السلام) کی بستیاں ہیں۔
1 کیونکہ کفرو شرک ان کی سرشت اور خمیر میں پڑگیا تھا اور وہ اسے کسی حال میں چھوڑنے کے لیے تیار نہ تھے،2 یعنی جس طرح پہلی امتوں کو ضد اور ہٹ دھرمی کی کی وجہ سے ان کے دلو کی صلاحتیں سلب کرلی گئی تھیں اور انہیں ایمان نصیب نہیں ہو اتھا اسی طرح ان کے دل مسخ ہوچکے تھے اور ان میں ایمان کی صلاحیت باقی نہیں رہی (رازی )
Read the full tafseer →(7:101) ابنائھا۔ ابنائ۔ بنأ کی جمع ہے۔ خبریں۔ بنأ اس خبر کو کہتے ہیں جس سے بڑا فائدہ اور یقین یا ظن غالب حاصل ہو۔ جس خبر میں یہ باتیں نہ ہوں اس کو بنأ نہیں کہتے۔ کوئی خبر اس وقت تک بنأ کہلانے کی مستحق نہیں ہوتی۔ جب تک کہ شائبہ کذب سے پاک نہ ہو۔ جیسے وہ خبر جو بطریق تواتر ثابت ہو۔ یا جس کو اللہ اور اللہ کے رسول نے بیان فرمایا ہو۔
ھا ضمیر واحد مؤنث غائب القری کی طرف راجع ہے۔ بستیوں سے یہاں مراد حضرت نوح۔ لوط۔ ہود۔ شعیب علیہم الاسلام کی قوموں کی بستیاں ہیں۔
فما کانوا لیؤمنوا۔ لام تاکید کے لئے۔ اور ہرگز نہ ہوا یہ کہ وہ ایمان لاتے۔ یعنی وہ ہرگز ایمان نہ لائے۔ (اس پر جس کو وہ پہلے جھٹلا چکے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
لغات القرآن آیت نمبر (100 تا 102 ) ۔
یرثون (وہ مالک ہوتے ہیں) ۔ اصبنھم (ہم نے ان کو پہنچایا۔ مصیبت میں ڈالا) ۔ نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لا یسمعون (وہ نہیں سنتے ہیں) ۔ تلک القری (یہ بستیاں ) ۔ نقص (ہم بیان کرتے ہیں ) ۔ انباء (خبریں ) ۔
تشریح : آیت نمبر (100 تا 102) ۔ ” جیسا کہ گذشتہ آیات میں سمجھایا گیا ہے کہ قوموں کی تباہی ان کے گناہوں اور بد اعمالیوں کی سزا ہے جب وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں بہت دور نکل جاتی ہیں۔ جب اصلاح کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں، زلزلہ، طوفان، قحط، آتش زدگی، آتش فشانی، جنگ، وبا، وغیرہ یہ محض موسمی، جغرافیائی طبعیاتی، اتفاقی، حادثاتی یا جیسا کہ کارل مارکس وغیرہ نے سمجھایا…
Read the full tafseer →مختلف انبیاٗ کرام (علیہ السلام) کی قوموں کی ہلاکت اور یوم المیثاق یعنی عہد کا دن
اوپر قوم حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر تھا کہ انہوں نے نبی وقت کا کہا نہ مانا آخر طوفان سے ہلاک ہوگئے۔ اسی طرح حضرت ہودعلیہ السلام کی امت قوم عاد سخت آندھی سے اور حضرت صالح (علیہ السلام) کی امت قوم ثمود کڑک کی سخت آواز اور زلزلہ سے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی امت پتھروں کے مینہ سے اور حضرت شعیب (علیہ السلام) کی امت زلزلہ اور انگارے برسنے سے ہلاک ہوئی، ان سب کا حال بیان فرما کر اس آیت میں آنحضرت ﷺ کی تسکین اور قریش کی تنبیہ خدائے تعالیٰ نے جو فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اگر قریش بھی نبی وقت کی نصیحت نہ مانیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–101
(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ وہ لوگ جو مجرم ہیں جنہوں نے سرکشی اور تمرد سے دنیائے دین میں طوفان برپا کر رکھا ہے ، اور جو دن رات معصیت اور گناہ میں صرف کرتے ہیں ، جن کے دل بےکیف اور آنکھیں بےنور ہوچکی ہیں جن کے متعلق علم الہی کا فیصلہ یہ ہے ، کہ حرف غلط کی طرح ہٹ جائیں ، وہ مامون کیوں ہیں ، انہیں ہلاکت وتباہی کی فکر کیوں نڈھال نہیں کردیتی ، وہ کیوں نہیں سوچتے کہ عذاب کی گھڑیاں قریب آرہی ہیں ، کیا عذاب الہی کے لئے کوئی دقت ہے جو اس کا انتظار کر رہے ہیں ، ان کو معلوم ہونا چاہئے ، کہ عذاب کے لئے کوئی خاص ذلت نہیں ، وہ اس وقت آسکتا ہے جب کہ یہ سوجائیں ، اور دنیا ومافیہا سے غافل ہوں ، وہ اس وقت آسکتا ہے ،…
Read the full tafseer →10 1 اے پیغمبر ! یہ چند بستیاں تھیں جن کے بعض احوال و واقعات آپ کو ہم نے سنائے ہیں اور ان بستیوں کی بعض خبروں سے آپ کو آگاہ کررہے ہیں ان بستیوں کے رہنے والے لوگوں کے پاس ان کے رسول کھلے معجزے اور واضح دلائل لے کر آئے تھے مگر ان کی ضد کا یہ عالم تھا کہ جس چیزکو ابتدائً جھٹلا چکے تھے اور پہلے ہی مرتبہ جس چیز پر منہ سے نہیں نکل چکی تھی اس کو آخر تک مان کر ہی نہیں دیا اور آخر تک اپنی ہٹ پر قائم رہے جس طرح یہ لوگ نافرمانی میں سنگ دل تھے اسی طرح اللہ تعالیٰ نہ ماننے والوں کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 100–102
ف 1۔ اس بند لگانے کا سبب ان ہی کی ابتداء میں کفر کرنا ہے لقولہ تعالیٰ طبع اللہ علیھا بکفرھم۔
Read the full tafseer →کفار کے کمال قساوت قلب اور شدت عناد کا بیان :
112: ان بستیوں سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) ، لوط (علیہ السلام) ، ہود (علیہ السلام) اور شعیب (علیہ السلام) کی بستیاں ہیں۔ منکرو سرکش جماعتوں کے جو حالات بیان کئے گئے ہیں وہ سب کے سب اس نوعیت کے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قدرتی حوادث کا ظہور تھا مثلاً زلزلہ ، طوفان ، سیلاب اور آتش فشاں پھر انہیں مقرر عذاب کیوں کہا گیا ؟ اس لئے کہ گو ان کا ظہور قدرت کے عادی اور جاری صورتوں میں ہی ہوا تھا لیکن اس لئے ہوا تھا کہ انکار و سرکشی کے نتائج لوگوں کے سامنے آجائیں اور پیغمبروں نے ان کے ظہور کی پہلے سے خبر دے دی تھی۔ ضروری نہیں کہ ہر زلزلہ کسی گروہ کے لئے…
Read the full tafseer →The verse 101 has contained the phrase تِلْكَ الْقُرَىٰ نَقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَائِهَا "these are stories of the towns that We narrate to you." The word: نَبَا 'naba' in Arabic is used to denote some great news. With the word: مِن 'min' the verse has indicated that the events described in these verses are only some of a large number of events bearing the same lesson. The verse has further said, "And surely, their messengers came to them with clear signs, but they were not to believe in what they had belied earlier." It brings out their obstinate attitude towards the prophets who came to…
Read the full tafseer →81. The purpose behind the 'sealing of hearts' mentioned in the preceding verse is also explained in the present verse. It is clear from the two verses that the 'sealing of hearts' means that man's capacity to hear and understand the truth is seriously, impaired because of the operation of natural, psychological laws. Because of these laws, once a person turns away from the truth because of his irrational prejudices and the dominance of lust, he becomes enmeshed in his own obstinacy and adamance. With the passage of time this adamance is compounded to such an extent that despite all rational…
Read the full tafseer →