Al-A'raaf 7:100

Al-A'raaf · from ayah 100

7:100

اَوَلَمْ یَهْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ بَعْدِ اَهْلِهَاۤ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ— وَنَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۟اَوَلَمۡ يَهۡدِ لِلَّذِيۡنَ يَرِثُوۡنَ الۡاَرۡضَ مِنۡۢ بَعۡدِ اَهۡلِهَاۤ اَنۡ لَّوۡ نَشَآءُ اَصَبۡنٰهُمۡ بِذُنُوۡبِهِمۡ‌ ۚ وَنَطۡبَعُ عَلٰى قُلُوۡبِهِمۡ فَهُمۡ لَا يَسۡمَعُوۡنَ

کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 13 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:100

اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر واقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟ (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سنتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

کیا ان لوگوں کو جو اہلِ زمین کے (مرجانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں، یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر لگادیں کہ کچھ سن ہی نہ سکیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور کیا ان لوگوں کو جو زمین کے وارث ہوئے وہاں کے لوگوں کی ہلاکت کے بعد (ان واقعات مذکوره نے) یہ بات نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے جرائم کے سبب ان کو ہلاک کر ڈالیں اور ہم ان کے دلوں پر بند لگا دیں، پس وه نہ سن سکیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو لوگ کسی زمین (کے باشندوں کی ہلاکت) کے بعد اس کے وارث بن جاتے ہیں، بھلا کیا ان کو یہ سبق نہیں ملا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو (بھی) ان کے گناہوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں مبتلا کردیں ؟ اور (جو لوگ اپنی ضد کی وجہ سے یہ سبق نہیں لیتے) ہم ان کے دلوں پر مہر لگا دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں وہ کوئی بات نہیں سنتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کیا وہ جو زمین کے ما لکوں کے بعد اس کے وارث ہوئے انہیں اتنی ہدایت نہ ملی کہ ہم چاہیں تو انہیں ان کے گناہوں پر آ فت پہنچائیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کرتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سنتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

کیا (یہ بات بھی) ان لوگوں کو (شعور و) ہدایت نہیں دیتی جو (ایک زمانے میں) زمین پر رہنے والوں (کی ہلاکت) کے بعد (خود) زمین کے وارث بن رہے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے باعث انہیں (بھی) سزا دیں، اور ہم ان کے دلوں پر (ان کی بداَعمالیوں کی وجہ سے) مُہر لگا دیں گے سو وہ (حق کو) سن (سمجھ) بھی نہیں سکیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور کیا ان لوگوں کی رہنمائی جو زمین کے وارث اس کے رہنے والوں کے بعد بنتے ہیں، اس بات نے نہیں کی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں سزا دیں اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں تو وہ نہیں سنتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو لوگ ان بستیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین کے وارث ہوئے کیا انہیں یہ رہنمائی نہیں ملی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے بدلے ان پر (بھی) مصیبت ڈال سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر (بھی) کرسکتے ہیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا سبق نہیں ملا ان کو جو ملک کے وارث بنے ہیں اس کے اگلے باشندوں کے بعد کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آ پکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں تو وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو کیا ان لوگوں کے لئے جو آج وارث بنے ہوئے ہیں اس زمین کے، اس کے باشندوں (کی ہلاکت) کے بعد، یہ بات ظاہر نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی دھڑکیں، ان کے گناہوں کے سبب، اور ہم مہر لگا دیتے ہیں ایسے لوگوں کے دلوں پر، جس سے وہ سنتے ہی نہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ان لوگوں پر جواب زمین کے وارث ہیں بعد اس کے (سابق) باشندوں کے یہ بات واضح نہیں ہوئی ہے کہ اگر ہم چاہتے تو انہیں بھی مصیبت میں مبتلا کردیتے ان کے گناہوں کے عوض میں۔ اور ہم بندلگائے ہوئے ہیں ان کے دلوں پر سو وہ سنتے ہی نہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو کیا ان لوگوں کو سبق نہیں ملا جو زمین کے وارث ہوئے ہیں اس کے پہلے رہنے والوں کے (ہلاک ہونے کے) بعد کہ ہم چاہیں تو ان کو بھی پکڑ لیں ان کے گناہوں کی پاداش میں ! اور ہم ان کے دلوں پر مہر کردیا کرتے ہیں پھر وہ کچھ سنتے ہی نہیں

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ ان بستیوں کے ہلاک ہونے کے بعد زمین کے وارث ہوئے کیا انہیں یہ رہنمائی نہیں ملی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے بدلے ان پر (بھی) مصیبت ڈال سکتے ہیں۔ اور ان کے دلوں پر مہر (بھی) کرسکتے ہیں کہ وہ سن ہی نہ سکیں۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Has it not, then, become plain to those who have inherited the earth in the wake of the former generations that, had We so willed, We could have afflicted them for their sins, (they, however, are heedless to basic facts and so) We seal their hearts so that they hear nothing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Have all these events still not taught a lesson to those who inherit the land after its (former) inhabitants, that if We so willed, We could afflict them for their sins? But We seal their hearts, so that they do not listen.

— Muhammad Taqi Usmani

Have all these events still not taught a lesson to those who inherit the land after its (former) inhabitants, that if We so willed, We could afflict them for their sins? But We seal their hearts, so that they do not listen.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Is it not a guidance for those who inherit the earth from its previons inhabitants that had We willed, We would have punished them for their sins. And We seal up their hearts so that they hear not

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Is it not an indication to those who inherit the land after its people (who thus reaped the consequence of evil-doing) that, if We will, We can smite them for their sins and print upon their hearts so that they hear not?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Has it not become clear to those who inherited the earth after its [previous] people that if We willed, We could afflict them for their sins? But We seal over their hearts so they do not hear.

— Saheeh International

Is it not a lesson for the successors of the past generations that had We wanted, We could have punished them for their sins, sealed their hearts and deprived them of hearing?

— Muhammad Sarwar

Is it not clear to those who inherit the earth after its (former) residents that if We please We would afflict them on account of their faults and set a seal on their hearts so they would not hear.

— Muhammad Habib Shakir

Guideth it not those who inherit the land after the people thereof, that, had We willed, We would have afflicted them for their sins? And We have put a seal upon their hearts, so that they hearken not.

— Abdul Majid Daryabadi

To those who inherit the earth in succession to its (previous) possessors, is it not a guiding, (lesson) that, if We so willed, We could punish them (too) for their sins, and seal up their hearts so that they could not hear?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:100

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

گناہوں میں ڈوبے لوگ ؟ ارشاد ہے کہ ایک گروہ نے ہمارا مقابلہ کیا اور ہم نے انہیں تاخت و تاراج کیا۔ دوسرا گروہ ان کے قائم مقام ہوا تو کیا اس پر بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی کہ اگر وہ بداعمالیاں کریں گے تو اپنے سے اگلوں کی طرح کھو دیئے جائیں گے جیسے فرمان ہے آیت (اَفَلَمْ يَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا قَبْلَهُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ يَمْشُوْنَ فِيْ مَسٰكِنِهِمْ ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي النُّهٰى01208) 20۔ طه :128) یعنی کیا انہیں اب تک سمجھ نہیں آئی کہ ہم نے ان سے پہلے بہت سی آباد بستیاں اجاڑ کر رکھ دیں جن کے مکانوں میں اب یہ رہتے سہتے ہیں۔ اگر یہ عقل مند ہوتے تو ان کے لئے بہت سی عبرتیں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 79 یعنی ایک گرنے والی قوم کی جگہ جو دوسری قوم اٹھتی ہے اس کے لیے اپنی پیش رو قوم کے زوال میں کافی رہنمائی موجود ہوتی ہے۔ وہ اگر عقل سے کام لے تو سمجھ سکتی ہے کہ کچھ مدّت پہلے جو لوگ اسی جگہ داد عیش دے رہے تھے اور جن کی عظمت کا جھنڈا یہاں لہرا رہا تھا انہیں فکر وعمل کی کن غلطیوں نے برباد کیا، اور یہ بھی محسوس کرسکتی ہے کہ جس بالا تر اقتدار نے کر انہیں ان کی غلطیوں پر پکڑا تھا اور ان سے یہ جگہ خالی کرالی تھی، وہ آج کہیں چلا نہیں گیا ہے، نہ اس سے کسی نے یہ مقدرت چھین لی ہے کہ اس جگہ کے موجودہ ساکنین اگر وہی غلطیاں کریں جو سابق ساکنین کر رہے تھے تو وہ ان سے بھی اسی طرح جگہ خالی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر (آگے اس کی علت بتلاتے ہیں کہ ان کو عذاب سے کیوں ڈرنا چاہئے، اور علت ان کا امم سابقہ کے ساتھ جرم کفر میں شریک ہونا ہے یعنی) اور ان (گذشتہ) زمین پر رہنے والوں کے بعد جو لوگ (اب) زمین پر بجائے ان کے رہتے ہیں کیا ان واقعات مذکورہ نے ان کو یہ بات (ہنوز) نہیں بتلائی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو (بھی مثل امم سابقہ کے) ان کے جرائم (کفر تکذیب) کے سبب ہلاک کر ڈاتے (کیونکہ) امم سابقہ ان ہی جرئم کے سبب ہلاک کی گئی) اور (واقعی یہ واقعات تو ایسے ہی ہیں کہ ان سے سبق لینا چاہئے تھا لیکن اصل یہ ہے کہ) ہم ان کے دلوں پر بند لگائے ہوئے ہیں اس سے وہ حق بات کو دل سے) سنتے (بھی) نہیں (اور ماننا تو درکنار…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۔ الذین یرثون الارض، سے مراد یہاں قریش ہیں۔ فرمایا کہ جو لوگ انہیں قوموں کے بعد جن کا ذکر اوپر گزرا اس ملک میں حکومت و اقتدار کے وارث ہوئے ہیں آخر وہ اپنے مورثوں کی تاریخ سے سبق کیوں نہیں لیتے، خدا نے جس ترازو اور جس باٹ سے ان کو تولا وہ اسی باٹ اور ترازو سے ان کو کیوں نہیں تولے گا ؟ فرمایا کہ آخر وہ یہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس طرح ہم نے ان کو ان کے جرموں کی پاداش میں ہلاک کردیا اسی طرح، جب چاہیں، ان کو بھی ہلاک کردیں۔…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

10۔ 1 یعنی گناہوں کے نتیجے میں عذاب ہی نہیں آتا، دلوں پر قفل لگ جاتے ہیں، پر بڑے بڑے عذاب بھی انہیں خواب غفلت سے بیدار نہیں کر پاتے، دیگر بعض مقامات کی طرح یہاں بھی اللہ تعالیٰ نے ایک تو یہ بیان فرمایا ہے کہ جس طرح گزشتہ قوموں کو ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں ہلاک کیا ہم چاہیں تو تمہیں بھی تمہارے کرتوتوں کی وجہ سے ہلاک کردیں اور دوسری بات یہ بیان فرمائی کہ مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے لوگوں کے دلوں پر مہر لگا دی جاتی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کی حق کی آواز کے لئے ان کے کان بھی بند ہوجاتے ہیں پھر واعظ و نصیحت ان کے لئے بیکار ہوجاتے ہیں۔ آیت میں ہدایت تبیین (وضاحت) کے معنی میں ہے اسی لیے…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–102

51: یہاں اصل لفظ“ مکر ”ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جسکا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کاروائی کی جارہی ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے باوجود دنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جسکا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنی بد عملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو ان کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے، لہذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہیے اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر ہم راہ راست…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یعنی ، بیشک اللہ کی سنت اٹل ہوتی ہے اور اللہ کی مشیت جاری رہتی ہے۔ اگر اللہ ان لوگوں کے گناہوں کے سبب انہیں اسی طرح پکڑے جس طرح ان کے آباؤ اجداد پکڑے گئے تھے تو انہیں کون بچا سکتا ہے ؟ یا اگر اللہ ان کے دلوں پر مہر لگا دے اور ان سے ہدایت کی توفیق ہی سلب کرلے اور وہ ہدایت سے ہمیشہ ہی کے لئے محروم ہوجائیں اور دلائل ہدایت کی طرف سے ان کا رخ ہی پھرجائے اور ان کی دنیا و آخرت دونوں تباہ ہوجائیں تو کون ان کی مدد کو پہنچ سکے گا۔ سباقہ لوگوں کی ہلاکت اور ان کے بعد ان موجودہ لوگوں کی جانشینی اور اس بارے میں اللہ کی سنت کی کارفرمائیاں یہ سب امور ان کے لئے غور و فکر و ہدایت وتقویٰ کا وافر ساماں مہیا کرتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 100 اَوَلَمْ یَہْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ اَہْلِہَآ اَنْ لَّوْ نَشَآءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ ج کیا بعد میں آنے والی قوم نے اپنی پیش رو قوم کی تباہی و بربادی سے کوئی سبق حاصل نہیں کیا ؟ قوم عاد نے کیوں کوئی سبق نہیں سیکھا قوم نوح کے عذاب سے ؟ اور قوم ثمود نے کیوں عبرت نہیں پکڑی قوم عاد کی بربادی سے ؟ ‘ اور قوم شعیب نے کیوں نصیحت حاصل نہیں کی قوم لوط کے انجام سے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

104 یعنی اگر وہ چاہتے تو اپنی پیش رو قوم کے انجام سے عبرت حاصل کرسکتے تھے اور یہ بات وہ خوب سمجھ سکتے تھے کہ جن جرائم کی پاداش میں پہلی قومیں ہلاک کی گئی ہیں اگر ہم میں بھی وہ جرائم پائے جائیں تو ہم پر بھی ویسی ہی مصیبت نازل ہوسکتی ہے اور ہمارے دلوں پر بھی ایسی ہی مہر لگ سکتی ہے جب ہمارے کان کوئی ہدایت کی بات سننے پر آمادہ ہی نہ ہوں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

134 ۔ یعنی منکرین مکذبین سابق کا انجام دیکھ کر بھی کیا یہ حقیقت ابھی کفار معاصرین پر منکشف نہیں ہوئی ہے ؟ (آیت) ” اولم یھد للذین “۔ ھدایۃ کا تعدیہ جب ل، کے ساتھ آتا ہے تو اس کے معنی ہوتے ہیں۔ تبیین۔ کے یعنی روشن وواضح ہوجانے کے انما عدی یھدباللام بمعنی یبین (بیضاوی) (آیت) ” للذین۔۔ اھلھا “۔ مراد کفار عرب رسول اللہ ﷺ کے معاصرین ہیں یرید کفار مکۃ ومن حولھم (قرطبی) 135 ۔ (کلام حق وپیام حق کو تو جہ والتفات یا ارادۂ قبول سے) (آیت) ” قلوبھم “۔ میں ضمیر انہی کافروں کی طرف ہے جو عدم ایمان پر جمے ہوئے تھے۔ ای علی قلب من لم یرد منہ الایمان۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 100–102

آیت نمبر 100 تا 108 ترجمہ : اور کیا ان لوگوں پر کہ جو زمین کے سابق مالکان کی ہلاکت کے بعد سکونت کے اعتبار سے زمین کے وارث بنے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیں أن مع اپنے مابعد (لونشاءُ ) کے یَھْدِ کا فاعل ہے اور أن مخففہ عن الثقیلہ ہے اور (أن) کا اسم محذوف ہے تقدیر عبارت أنَّہٗ ہے، جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کو پکڑ لیا، ہمزہ چاروں جگہ توبیخ کیلئے ہے اور جو فاء اور واؤ اس پر داخل ہیں عطف کیلئے ہیں ایک قرأت میں واؤ کے سکون کے ساتھ ہے، پہلی جگہ اَوْ کے ذریعہ عطف کرتے ہوئے، اور ان کے دلوں پر مہر (بند) لگا دیں کہ وہ نصیحت کو غور و فکر کے خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اولم یہد للزین یرثون الارض من بعد اہلہا ان لو نشآء اصبنہم بذنوبہم وتطبع علی قلوبہم فہم لا یسمعون۔ اور کیا ان لوگوں کو جو اس زمین پر سابق باشندوں کی جگہ رہتے ہیں ان واقعات نے یہ بات ہنوز نہیں بتائی کہ اگر ہم چاہتے تو ان کے جرائم کی پاداش میں ان کو تباہ کر ڈالتے۔ ہم ان کے دلوں پر بند لگائے ہوئے ہیں اسی لئے وہ (حق کی آواز) نہیں سنتے۔ یرثون الارض زمین کے وارث ہوتے ہیں یعنی سکونت کے اعتبار سے (ملک مراد نہیں ہے) من بعد اہلہا یعنی پچھلے باشندوں کی ہلاکت کے بعد۔ چونکہ اس جگہ ہدایت کا معنی ہے بیان کرنا اس لئے یَہْدِکے بعد لام آیا ہے ان لَّو اَنْ مخففہ ہے اور اس کے بعد والا جملہ (بتاویل مفرد ہو کر)…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(100) کیا سرزمین مکہ کے رہنے والوں پر ابھی تک یہ چیز واضح نہیں ہوئی کہ جیسا ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا ہے اسی طرح ان کو بھی ہلاک کردیں اور ان پر مہر لگا دیں جس کی وجہ سے انکو رسول اکرم ﷺ اور قرآن حکیم کی تصدیق کی توفیق ہی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اَوَلَمْ يَهْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ۔۔ : یعنی کیا بعد میں آنے والوں کو پہلوں کے حالات سن اور دیکھ کر یہ بات واضح طور پر معلوم نہیں ہوئی اور انھیں اس سے رہنمائی حاصل نہیں ہوئی کہ ہم چاہیں تو ان کی طرح ان کو بھی ان کے گناہوں میں پکڑ لیں۔ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ : یعنی ہم ان کے گناہوں کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر کردیتے ہیں تو وہ نصیحت کی کوئی بات نہیں سنتے، آخر کار اللہ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کردیے جاتے ہیں۔ ہمارے استاذ شیخ محمد عبدہ ؓ لکھتے ہیں کہ اس فقرے کا یہ ترجمہ اس صورت میں ہوگا جب اسے ”ُ اَصَبْنٰهُمْ بِذُنُوْبِهِمْ ۚ“ پر معطوف نہ مانا جائے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر۔ 100 قولہ تعالیٰ : آیت : اولم یھد کیا یہ واضح اور ظاہر نہیں ہوا ؟ آیت : للذین یرثون الارض مراد کفار مکہ اور ان کے ارد گرد رہنے والے لوگ ہیں۔ اصبنٰھم یعنی اگر ہم چاہیں تو ہم انہیں پکڑ لیں۔ بذنوبھم ان کے کفر اور ان کے جھٹلانے کے سبب۔ ونطمع، ای ونحن نطبع امورھم مہر لگا دیں۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ اصبنا پر معطوف ہے، یعنی نصیبھم ونطبع ( ہم انہیں سزا دیں اور مہر لگا دیں) تو اس میں ماضی مستقبل کے محل میں واق ہے۔

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر اور ابو الشیخ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” اولم یھد “ یعنی کیا یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی۔ (2) امام ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” اولم یھد “ کا یہی معنی نقل کیا ہے۔ (3) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” للذین یرثون الارض من بعد اہلہا “ کے بارے میں فرمایا کہ ان سے مراد مشرکین ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اَوَ : اور کیا ] [ لَمْ يَهْدِ : رہنمائی نہیں کی ] [ لِلَّذِيْنَ : ان کے لیے جو ] [ يَرِثُوْنَ : وارث ہوئے ] [ الْاَرْضَ : زمین کے ] [ مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ : اس کے رہنے والوں (کی ہلاکت ) کے بعد ] [ اَنْ : کہ ] [ لَّوْ : اگر ] [ نَشَاۗءُ : ہم چاہیں ] [ اَصَبْنٰهُمْ : تو ہم پہنچیں ٹھیک ان کو ہی ] [ بِذُنُوْبِهِمْ : بسبب ان کے گناہوں کے ] [ وَنَطْبَعُ : اور ہم چھاپ لگا دیتے ہیں ] [ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [ فَهُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ : تو وہ لوگ نہیں سنتے ] آیت نمبر 100 میں مِنْۢ بَعْدِ اَهْلِهَآ میں مِنْۢ بَعْدِ کے بعد ہلاکت کا لفظ محذوف ہے اور یہ پورا فقرہ لَمْ يَهْدِ کا فاعل ہے ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

زمین کے وارث ہونے والے سابقہ امتوں سے عبرت حاصل کریں ہلاک ہونے والی چند امتوں کے جو واقعات گزشتہ چند رکوع میں بیان کیے گئے ان سے عبرت دلانے کے لیے ارشاد فرمایا کہ جو امتیں ہلاک کی گئیں ان کی جگہ جو لوگ زمین پر آباد ہوئے کیا ان بعد میں آنے والوں کو ان واقعات سے عبرت حاصل نہ ہوئی اور کیا انہیں اس بات کا علم نہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو بھی ان کے گناہوں کے سبب ہلاک کردیں۔ اور بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔ لہٰذا وہ سنتے ہی نہیں۔ کانوں سے سن لیتے ہیں لیکن قبول کرنے کی نیت سے نہیں سنتے۔ لہٰذا سنا بےسنا برابر ہوجاتا ہے اور یہ مہر لگانا ایسا ہی ہے، جیسا کہ سورة نساء میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–102

بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین (ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

104:“ ھدایت ” سے اس کا متعارف و معنی مراد ہے یا بمعنی ظہور ہے۔ یعنی کیا پہلی امتوں کی ہلاکت اور ان کی تباہی ان کی ہدایت کا موجب نہ بنی یاس اس سے ان پر یہ حقیقت واضح نہیں ہوئی کہ کفر وعناد کی وجہ سے ان کو بھی عذاب سے ہلاک کیا جاسکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 100–102

ربط آیات گزشتہ چند رکوع میں اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اپنچ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان فرمایا ان قوموں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اللہ کی ناشکر گزاری کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ دنیا سے ناپید ہوگئے اب اللہ تعالیٰ نے ان پانچ اقوام کی مجموعی حالت پر تبصرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے مواقع فراہم کیے مگر انہوں نے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا انہوں نے اپنی پیش رو اقوام کے انجام سے کوئی سبق نہ سیکھا اور خود بھی ہلاک ہوئے ان واقعات میں امت آخرالزمان کو تسلی بھی دی گئی ہے اور انہیں نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ ان حالات سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَوَلَمْ يَہْدِ لِلَّذِيْنَ يَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْۢ بَعْدِ اَہْلِہَآ اَنْ لَّوْ نَشَاۗءُ اَصَبْنٰہُمْ بِذُنُوْبِہِمْ۝ 0 ۚ وَنَطْبَعُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لَا يَسْمَعُوْنَ۝ 100 هدى الهداية دلالة بلطف، وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه : الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل، والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى [ طه/ 50] . الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء، وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 100–104

ترکیب : لم یہد یتبین للذین الخ اس سے متعلق۔ ان مخففہ اسم اس کا محذف انہ یہ جملہ فاعل ہے یہد کا اے لم یتبین لھم مشیتنا و قدرتنا علی اہلاکھم بذنوبھم من عہد میں زاید ای ما وجدنا عہدًالاکثرھم۔ تفسیر : یہاں تک منکرین کے قصہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہونے کے وقائع بیان فرمائے تھے۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ کچھ انہیں بستیوں پر حصر نہیں جن کا کہ ہم نے حال بیان کیا بلکہ جہاں کہیں انبیاء آئے وہاں یہی بات پیش آئی۔ اب یہاں ان تمام تاریخی واقعات اور عبرت آمیز حادثات کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو پہلے لوگوں کے حال سے عبرت پیدا نہیں ہوتی کہ ان کو ہم نے ان کی بدکاری کی وجہ سے ہلاک کردیا۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَوَلَمْ یَھْدِ لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْ م بَعْدِ اَھْلِھَا اَنْ لَّوْ نَشَآئُ اَصَبْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ ج وَ نَطْبَعُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ فَھُمْ لَا یَسْمَعُوْنَ ۔ (الاعراف : 100) ” کیا سبق نہیں ملا ان لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے ہیں کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں ابھی آپکڑیں اور ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیں وہ سننے سمجھنے سے رہ جائیں “۔ دلوں پر مہر اللہ کے عذاب تمہید ہے اس آیت کریمہ میں نام لیے بغیر قریش سے خطاب فرمایا جا رہا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اے قریش کے لوگو ! تم جس سرزمین پر آباد ہو اس زمین پر تم سے پہلے دوسری قومیں آباد رہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 100–101

فہم القرآن ربط کلام : دنیا اور آخرت میں نقصان اٹھانے والے لوگوں کا رویہ اور ان کی عادات۔ ایک مرتبہ پھر غافل اور نافرمانوں کو انتباہ کیا جا رہا ہے۔ کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ آج جن بستیوں اور سر زمین کے یہ وارث بنے ہوئے ہیں ان سے پہلے ان لوگوں کا کیا حال ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ کے خوف سے بےخوف ہوئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے انھیں ملیا میٹ کردیا۔ ان کے بعد آنے والوں کی بصیرت تو یہ ہونی چاہیے کہ وہ اپنے سے پہلے لوگوں کی غلطیوں سے بچیں اور ان کے انجام سے عبرت حاصل کریں۔ جن کے واقعات اللہ تعالیٰ نے اس لیے بار بار اور کھول کھول کر بیان کیے تاکہ نئی نسل اپنے سے پہلے لوگوں کے انجام سے عبرت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ہم نے بعد میں آنے والوں کو بتلایا کہ گناہوں پر پکڑ ہوسکتی ہے : آیت 100: اَوَلَمْ یَھْدِ (کیا یہ بات نہیں بتلائی) وہ کھول کر بیان کرتا ہے لِلَّذِیْنَ یَرِثُوْنَ الْاَرْضَ مِنْم بَعْدِ اَھْلِھَآ اَنْ لَّوْنَشَآ ئُ اَصَبْنٰھُمْ بِذُنُوْبِھِمْ (ان لوگوں کو جو ان کے بعد زمین پر ان کی جگہ رہتے ہیں کہ اگر ہم چاہتے تو ان کو ان کے جرائم کی پاداش میں ہلاک کر ڈالتے) فائدہ : ان لو نشاء یہ اولم یھد کا فاعل ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے اور ان مخففہ من المثقلہ ہے یعنی کیا نہیں بتائی ان لوگوں کو یہ بات جو ان کے پیچھے آئے۔ ان لوگوں نے جواُن سے پہلے گزرے انہی علاقوں میں۔ اور وہ ان کی زمین کے اس شان سے وراث ہوئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

100(اولم یھد) قتادہ اور یعقوب نے ” نھ ”‘ نون کے ساتھ پڑھا ہے کہ جمع تعظیم کے لئے ہے اور باقی حضرت نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے (للذین یرثون الارض من بعد اھلھآ) ان کی ہلاکت کے بعد (ان لونشآء اصبنھم) یعنی ان کو پکڑ لیں اور ہم ان کو سزا دیں (بذنوبھم) جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے لوگوں کو سزا دی ہے (ونطبع علی قلوبھم فھم لا یسمعون) ایمان کو اور نہیں قبول کرتے نصیحت کو۔ زجاج (رح) فرماتے ہیں کہ ” نطبع “ ماقبل سے منقطع ہے کیونکہ ” اصبناھم “ ماضی ہے اور ” نطبع “ مستقبل ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اللہ پاک نے اس میت میں یہ بات بیان کی کہ جو لوگ رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے کیسے بےپرواہ میں ان سے پہلے جو لوگ گذرے ہیں جن کے یہ جانشین بن کر بیٹھے ہیں ان کے حال سے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہوا انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور دین حق سے روگرداں رہے تو کس ذلت کے ساتھ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوئے ہم چاہیں تو انہیں قوموں کی طرح گیا اس کو نہیں پکڑ سکتے ہیں ان پر عذاب نہیں بھیج سکتے ہیں یہ ان کے پکڑے جانے کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر بھی اسی مہر لگادی کہ نصیحت سننے اور سمجھنے سے مجبور ہیں۔ ترمذی ‘ نسائی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 96–101

آیت 96 اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کیلئے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکرو استدراج کے طور پر انہیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لئے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دار و مدار ہے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 99–101

137 اللہ کی گرفت و پکڑ سے غفلت و لاپرواہی خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے اس کی چال اور گرفت و پکڑ سے ؟ سو واضح رہے کہ اللہ کی چال اور اس کی گرفت وپگڑ سے بےخوف و نڈر نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس سرکشوں کی ان سرکشیوں اور بدمستیوں پر اس قادر مطلق کی طرف سے جو برابر مہلت اور ڈھیل مل رہی ہے تو یہ دراصل اس کی طرف سے ایک ایسی کریمانہ روش ہے جس سے وہ ان کو اپنے کرم بےپایاں اور حلم بےنہایت کی بناء پر نوازتا ہے۔ تاکہ جس نے سنبھلنا سدھرنا ہو وہ سنبھل اور سدھر جائے۔ قبل اس سے کہ فرصت عمل اس کے ہاتھ سے نکل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–102

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–108

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔ اسرار و معارف : ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 اور انہیں تباہ کر ڈالیں ج جیسا کہ ان کو تباہ کر ڈا لا جن کی جگہ یہ آباد ہوئے ہیں۔ ابن کثیر)9 آخراک اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور وہ بھی تباہ کردیئے جاتے ہیں اس فقرہ کا دیا گیا ترجمہ اس صورت میں ہے جب اسے اصبناھم بذنوبھم پر معطور نہ جائے کہ اور اگر اسے اصبنام ھم بذجو بھم پر معطوف مانا جائے اور ہمارے خیال میں زیادہ صحیح یہی ہے۔ تو ترجمہ یوں ہوگا اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگا دیں کہ پھر وہ نصیحت کی کوئی بات نہ سن سکیں مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ اپنی زمین کے کسی حصے میں آباد فرماتے ہے انہیں ہر آن اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا چاہیے اور کہ جانتے ہوئے اور انپنی زندگی گزارنے نے چاہیے کہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:100) لم یھد۔ مضارع مجزوم بوجہ عمل لم۔ ھدایۃ مصدر۔ باب ضرب۔ اصل میں یھدی تھا۔ لم کی وجہ سے مضارع بمعنی ماضی ہوا۔ کیا ہدایت نہیں کی ۔ کیا موجب ہدایت نہیں ہوا۔ جب لازم کو حرف صلہ یا حرف جر لگا کر متعدی بنایا جائے تو معنی بھی بدل جاتے ہیں۔ مثلاً ذھب گیا۔ ذھب بہ لے گیا۔ موجودہ صورت میں ھدی یھدی پر اللام حرف صلہ لایا گیا ہے۔ یھدی ل واضح کرنا۔ اولم یھد للذین ۔۔ بذنوبھم۔ کیا ان لوگوں کو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوئے ہیں اس امر واقعی نے واضح نہیں کردیا۔ کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں۔ ونطبع ۔۔ لایسمعون ۔ اگر یہ جملہ پہلے پر عطف ہے تو مطلب یہ ہوگا۔ ” اور ہم ان کے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 100–102

لغات القرآن آیت نمبر (100 تا 102 ) ۔ یرثون (وہ مالک ہوتے ہیں) ۔ اصبنھم (ہم نے ان کو پہنچایا۔ مصیبت میں ڈالا) ۔ نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لا یسمعون (وہ نہیں سنتے ہیں) ۔ تلک القری (یہ بستیاں ) ۔ نقص (ہم بیان کرتے ہیں ) ۔ انباء (خبریں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (100 تا 102) ۔ ” جیسا کہ گذشتہ آیات میں سمجھایا گیا ہے کہ قوموں کی تباہی ان کے گناہوں اور بد اعمالیوں کی سزا ہے جب وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں بہت دور نکل جاتی ہیں۔ جب اصلاح کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں، زلزلہ، طوفان، قحط، آتش زدگی، آتش فشانی، جنگ، وبا، وغیرہ یہ محض موسمی، جغرافیائی طبعیاتی، اتفاقی، حادثاتی یا جیسا کہ کارل مارکس وغیرہ نے سمجھایا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 97–100

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بات بیان کی کہ یہ لوگ جو رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے کیسے بےپرواہ ہیں۔ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں جن کئ یہ جانشین بن کر بیٹھے ہیں، ان کے حال سے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہوا۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور دین حق سے روگرداں رہے تو کس ذلت کے ساتھ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوئے۔ ہم چاہیں تو انہیں قوموں کی طرح کیا ان کو نہیں پکڑ سکتے ہیں ان پر عذاب نہیں بھیج سکتے ہیں۔ یہ ان کے پکڑے جانے کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر بھی مہر لگادی کہ نصیحت سننے اور سمجھنے سے مجبور ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–102

[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 100–101

(ف 1) مقصد یہ ہے ، کہ وہ لوگ جو مجرم ہیں جنہوں نے سرکشی اور تمرد سے دنیائے دین میں طوفان برپا کر رکھا ہے ، اور جو دن رات معصیت اور گناہ میں صرف کرتے ہیں ، جن کے دل بےکیف اور آنکھیں بےنور ہوچکی ہیں جن کے متعلق علم الہی کا فیصلہ یہ ہے ، کہ حرف غلط کی طرح ہٹ جائیں ، وہ مامون کیوں ہیں ، انہیں ہلاکت وتباہی کی فکر کیوں نڈھال نہیں کردیتی ، وہ کیوں نہیں سوچتے کہ عذاب کی گھڑیاں قریب آرہی ہیں ، کیا عذاب الہی کے لئے کوئی دقت ہے جو اس کا انتظار کر رہے ہیں ، ان کو معلوم ہونا چاہئے ، کہ عذاب کے لئے کوئی خاص ذلت نہیں ، وہ اس وقت آسکتا ہے جب کہ یہ سوجائیں ، اور دنیا ومافیہا سے غافل ہوں ، وہ اس وقت آسکتا ہے ،…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

100 اور کیا وہ لوگ جو گزشتہ ہلاک شدہ لوگوں کی جگہ آج کل زمین کے وارث بنے ہوئے ہیں ان کے لئے ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوئی اور ان پر یہ امر ظاہر نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان نئے وارث شدگان کو بھی ان کے جرائم کے باعث پکڑلیں اور ان کو عذاب میں مبتلا کردیں اور ہم نے ان کے دلوں پر مہر لگ گئی ہے اس لئے یہ سنتے تک نہیں اور ان کو سماع قبول میسر نہیں جو بات سن کر دل میں نہ اترے اس کا سننا نہ سننا برابر ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 100–102

ف 1۔ اس بند لگانے کا سبب ان ہی کی ابتداء میں کفر کرنا ہے لقولہ تعالیٰ طبع اللہ علیھا بکفرھم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کسی کا سنی بات کو ان سنی کردینا قہر الٰہی کی مہر کی تمہید ہے : 111: مطلب یہ ہے کہ منکرین و مکذبین سابق کا انجام دیکھ کر بھی کیا یہ حقیقت ابھی کفار و معاصرین پر منکشف نہیں ہوئی ہے ؟ اللہ نے جس ترازو اور جس باٹ سے ان کو تولا اسی باٹ اور اسی ترازو سے آخر ان کو کیوں نہیں تو لے گا ؟ آخر وہ کیوں نہیں سوچتے کہ جس طرح ہم نے ان کو ان کے جرموں کی پاداش میں ہلاک کردیا اسی طرح جب چاہیں ان کو بھی ہلاک کردیں اور جس طرح ان کا جانشین ہم نے ان کو بنایا اب ان کا جانشین دوسروں کو بنا دیں تو پھر کیا یہ لوگ ہم کو اس سے باز رکھ لیں گے ؟ ” اور ان کے دلوں پر مہر لگا دیں “ یعنی جب یہ لوگ واقعات ماضیہ سے بھی کوئی عبرت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After relating events of the early people, the above verses invite the people of Arabia and the people of the world to take lesson from these events by abstaining from deeds that incurred Allah's wrath, and by following the practices that led the prophets and their believers to eternal success. The verse 100 speaks " Is it not a guidance to those who inherit the land after it's (former) inhabitants that, if We so will, We would afflict them for their sins?" The word ھَدٰی۔ یَھدِی signifies to guide or to inform. The events narrated above have been made the subject of the verb (guide) یَھدِ.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

79. Every nation which rises in place of one that falls, can perceive the misdeeds which brought about the preceding nation's fall. Were such a people to make use of their reason, to appreciate the false ideas and misdeeds which led to the undoing of those who once strutted abroad in vainglory, they would have realized that the Supreme Being Who had once punished them for their misdeeds and deprived them of power and glory had not ceased to exist. Nor has that Supreme Being been deprived of the power to inflict a punishment on the people of the present times, a power with which He smote the…

Read the full tafseer →