Explained with ayahs 96–99
عوام کی فطرت
لوگوں سے عام طور پر جو غلطی ہو رہی ہے اس کا ذکر ہے کہ عموماً ایمان سے اور نیک کاموں سے بھاگتے رہتے ہیں۔ صرف حضرت یونس ؑ کی پوری بستی ایمان لائی تھی اور وہ بھی اس وقت جبکہ عذابوں کو دیکھ لیا اور یہ بھی صرف ان کے ساتھ ہی ہوا کہ آئے ہوئے عذاب واپس کردیئے گئے اور دنیا و آخرت کی رسوائی سے بچ گئے یہ لوگ ایک لاکھ بلکہ زائد تھے۔ اپنی پوری عمر تک پہنچے اور دنیوی فائدے بھی حاصل کرتے رہے تو فرماتا ہے کہ اگر نبیوں کے آنے پر ان کے امتی صدق دل سے ان کی تابعداری کرتے، برائیوں سے رک جاتے اور نیکیاں کرنے لگتے تو ہم ان پر کشادہ طور پر بارشیں برساتے اور زمین سے پیداوار اگاتے۔ لیکن انہوں نے رسولوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
سورة الْاَعْرَاف 78
اصل میں لفظ مکر استعمال ہوا ہے جس کے معنی عربی زبان میں خفیہ تدبیر کے ہیں، یعنی کسی شخص کے خلاف ایسی چال چلنا کہ جب تک اس پر فیصلہ کن ضرب نہ پڑجائے اس وقت تک اسے خبر نہ ہو کہ اس کی شامت آنے والی ہے، بلکہ ظاہر حالات کو دیکھتے ہوئے وہ یہی سمجھتا رہے کہ سب اچھا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
تیسری آیت میں ارشاد فرمایا وَلَوْ اَنَّ اَهْلَ الْقُرٰٓي اٰمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَيْهِمْ بَرَكٰتٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ وَالْاَرْضِ وَلٰكِنْ كَذَّبُوْا فَاَخَذْنٰهُمْ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ یعنی اگر ان بستیوں کے رہنے والے ایمان لے آتے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتیں کھول دیتے، لیکن انہوں نے تکذیب کی تو ہم نے ان کو ان کے اعمال کی وجہ سے پکڑلیا۔ برکت کے لفظی معنی زیادتی کے ہیں۔ آسمان اور زمین کی برکتوں سے مراد یہ ہے کہ ہر طرح کی بھلائی ہر طرف سے ان کے لئے کھول دیتے) آسمان سے پانی ضرورت کے مطابق وقت پر برستا۔ زمین سے ہر چیز خواہش کے مطابق پیدا ہوتی۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
تفسیر آیت 97۔ 99۔ اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسـُنَا بَيَاتًا وَّهُمْ نَاۗىِٕمُوْنَ۔ اَوَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰٓي اَنْ يَّاْتِيَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّهُمْ يَلْعَبُوْنَ۔ اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِ ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۔
خدائی پکڑ بےامان ہوتی ہے : اھل القری سے اشارہ انہی قوموں کی طرف ہے جن کا ذکر اوپر گزرا۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قریش کو توجہ دلائی کہ بتاؤ وہ خدا کے عذاب کے مقابل میں اپنے بچاؤ کے لیے کوئی بند باندھ سکے ؟ ہمارا عذاب ان پر رات کی تاریکیوں میں دبے پاؤں بھی آیا جب کہ وہ سو رہے تھے اور دن دہارے ڈنکے کی چوٹ بھی آیا…
Read the full tafseer →99۔ 1 ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے پہلے یہ بیان فرمایا کہ ایمان وتقویٰ ایسی چیز ہے کہ جس بستی کے لوگ اسے اپنالیں تو ان پر اللہ تعالیٰ آسمان و زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتا ہے یعنی حسب ضرورت انہیں آسمان سے بارش مہیا فرماتا ہے اور زمین اس سے سیراب ہو کر خوب پیداوار دیتی جس سے خوش حالی و فروانی ان کا مقدر بن جاتی ہے لیکن اس کے برعکس تکذیب اور کفر کا راست اختیار کرنے پر قومیں اللہ کے عذاب کی مستحق ٹھہر جاتی ہیں، پھر پتہ نہیں ہوتا کہ شب و روز کی کس گھڑی میں عذاب آجائے اور ہنستی کھیلتی بستیوں کو آن واحد میں کھنڈرات بنا کر رکھ دیے اس لئے اللہ کی ان تدبیروں سے بےخوف نہیں ہونا چاہیئے۔ اس بےخوفی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–102
51: یہاں اصل لفظ“ مکر ”ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جسکا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کاروائی کی جارہی ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے باوجود دنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جسکا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنی بد عملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو ان کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے، لہذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہیے اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر ہم راہ راست…
Read the full tafseer →اللہ کے مکر سے مراد وہ خفیہ تدبیر ہے جس سے وہ بیخبر ہوں تاکہ انسان اللہ سے ڈرتے رہیں اور اللہ کے احکام میں محتاط رہیں۔ اور جو لوگ نہ ڈریں گے وہ خسارے میں رہیں کیونکہ عافیت کوشی ، غفلت اور حد سے گزرجانے اور لاپرواہی کا نتیجہ خسران مبین ہی ہوسکتا ہے۔ کیا یہ لوگ اللہ کی چال اور تدبیر سے بےخوف ہوگئے ہیں حالانکہ یہ وہی لوگ ہیں جن کے آباؤ اجداد کو ہلاک کردیا گیا اور ان کے بعد یہ اس دنیا کے وارث بنائے گئے اور جنہیں ان کی غفلت ہی کی وجہ سے برباد کیا گیا کہ ان کی بربادی میں ان کے لئے کوئی ہدایت اور عبرت نہیں ہے ؟
Read the full tafseer →5 دنیاوی خوشحالی اور عیش کے بعد جو خدا کی ناگہانی پکڑ ہے، اسی کو " مگر اللہ " (خدا کا داؤ) فرمایا عیش و تنعم میں پڑ کر وہ ہی لوگ خدا کی ناگہانی گرفت سے بےفکر ہوتے ہیں جن کی شامت اعمال نے انہیں دھکا دے دیا ہو۔ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ کسی حال میں خدا کو نہ بھولے
ظفر اس کو آدمی نہ جانئے گا، گو ہو کیسا ہی صاحب فہم و ذکا
جسے عیش میں یاد خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوف خدا نہ رہا
Read the full tafseer →Explained with ayahs 95–99
آیت 95 ثُمَّ بَدَّلْنَا مَکَان السَّیِّءَۃِ الْحَسَنَۃَ حَتّٰی عَفَوْا وَّقَالُوْا قَدْ مَسَّ اٰبَآءَ نَا الضَّرَّآءُ وَالسَّرَّآءُ فَاَخَذْنٰہُمْ بَغْتَۃً وَّہُمْ لاَ یَشْعُرُوْنَ
جب وہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی پر اڑے رہے تو ان پر دنیاوی آسائشوں کے دہانے کھول دیے گئے کہ اب کھاؤ ‘ پیو اور عیش کرو۔ پھر وہ عیش و عشرت کی زندگی میں اس قدر مگن ہوئے کہ سختیوں کے دور کو بالکل ہی بھول گئے اور کہنے لگے کہ ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں ‘ اس میں امتحان اور آزمائش کی کون سی بات ہے ‘ حتیٰ کہ ان کی پکڑ کی گھڑی آن پہنچی اور انہیں اس کا شعور ہی نہیں تھا کہ اللہ تعالیٰ کی گرفت یوں اچانک آجائے…
Read the full tafseer →103 اوصاف ذمیمہ کی نسبت اللہ کی طرف کیسے ؟ یہاں اللہ تعالیٰ کے لیے مکر کا لفظ استعمال ہوا ہے اور ایسے الفاظ مشاکلہ کی صورت میں عربی زبان میں عام مستعمل ہیں۔ مثلاً برائی کا رد عمل جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگا اسے بھی برائی کا نام دیا جائے گا۔ جیسے (جَزَاۗءُ سَـيِّئَةٍۢ بِمِثْلِهَا 27) 10 ۔ یونس :27) منافقوں اور کافروں کے مکر کا ردعمل یا جو سزا انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوگی اسے بھی مکر ہی کا نام دیا جائے گا ایسے مقامات پر سمجھنے کی بات صرف یہ ہے کہ ایسے الفاظ کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو اس کے مورد الزام صرف کافر، مشرک اور منافق وغیرہ ہی ہوں گے۔
Read the full tafseer →133 ۔ (آیت) ” مکر اللہ “ سے مراد عذاب الہی ہے جس کی گرفت مجرموں پر عموما بالکل اچانک ہوتی ہے۔ ای اخذہ العبد من حیث لا یشعر (مدارک) (آیت) ” الخسرون “۔ سے مراد محاورۂ قرآنی میں عموما کافر ہی ہوتے ہیں۔ یہ معنی لے کر آیۃ سے یہ استنباط کیا گیا ہے کہ عذاب الہی سے قطعا بےخوف ہوجانا کفر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
آیت نمبر 94 تا 99
ترجمہ : اور کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور انہوں نے اس کی تکذیب ہو مگر یہ کہ ہم نے اس بستی کے رہنے والوں کو فقر کی سختی اور مرض کی تکلیف میں نہ پکڑا ہوتا کہ وہ عاجزی کرنے لگیں اور ایمان لے آئیں، پھر ہم نے ان کی بدحالی عذاب کو خوشحالی غنیٰ اور صحت سے بدل دیا یہاں تک کہ ان کو خوب ترقی ہوئی (یعنی ان کی جان و مال میں کثرت ہوئی) اور نعمت کی ناشکری کرتے ہوئے کہنے لگے جس طرح ہم پر آئے ہیں ہمارے اسلاف پر بھی اچھے برے دن آتے ہی رہے ہیں زمانہ کا یہی دستور ہے، یہ اللہ کی جانب سے سزا نہیں ہے لہٰذا جس مذہب پر تم ہو اسی پر قائم رہو اللہ تعالیٰ نے فرمایا، تو ہم…
Read the full tafseer →افامنوا مکر اللہ فلایامن مکر اللہ الا القوم الخسرون۔ تو کیا یہ لوگ اللہ کی ناگہانی پکڑ سے بےفکر ہوگئے سو (یاد رکھو کہ) اللہ کی نامعلوم پکڑ سے صرف وہی لوگ بےفکر ہوتے ہیں جن کی شامت آگئی ہو۔
مکر اللہ کی دی ہوئی ڈھیل ‘ کہ ایک وقت تک راحت و نعمت میں رکھتا ہے پھر اچانک نامعلوم راستہ سے عذاب میں مبتلا کردیتا ہے جس طرح کہ پہلی قوموں سے اس نے کیا۔ القوم الخاسرون یعنی جنہوں نے کفر و معصیت کا ارتکاب کیا اور نظر و بصیرت سے کام لے کر اپنے حال کا گزشتہ اقوام کے حال سے توازن نہیں کیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
(97۔ 98۔ 99) کیا مکہ والے اس بات سے غفلت میں ہیں کہ رات کو ان کے غافل ہونے کی حالت میں ہمارا عذاب ان کے پاس نہیں آئے گا یا دن میں جب وہ گمراہی میں مبتلا ہوں گے ہمارا عذاب ان پر نہیں آئے گا، عذاب الہی سے نقصان والے یعنی کافر ہی بےفکر ہوتے ہیں۔
Read the full tafseer →فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ۔۔ : اللہ تعالیٰ کے مکر (خفیہ تدبیر) سے مراد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر نہ پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ کچھ پتا ہی چلے کہ اس کی شامت آنے والی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکر و فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے، اس لیے اسے بھی بطور مجانست ”مکر“ کہہ دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورة بقرہ (15)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر : 99
قولہ تعالیٰ : آیت : افامنوا مکر اللہ یعنی کیا وہ اپنے مکرو فریب پر اللہ تعالیٰ کے عذاب اور اس کی سزا سے بےخوف ہوگئے ہیں۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس کے مکر سے مراد اس کی خفیہ تدبیر ہے جو اس نے نعمت و صحت عطا کرنے کی صورت میں اپنا رکھی ہے۔
Read the full tafseer →(1) امام ابن ابی حاتم نے ہشام بن عروہ (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے اپنے دوست کی طرف لکھا کہ جب اللہ تعالیٰ سے اس چیز کو پائے جو تیرے لئے خوشی کا باعث ہو امن میں نہ ہوجا کہ شاید اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی خفیہ تدبیر ہو۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تبارک نے فرشتوں سے فرمایا یہ کیا ڈرنا ہے حالانکہ میں نے تم کو اس مقام اور مرتبہ پر فائز کیا جس پر تمہارے علاوہ کسی کو نہیں کیا فرشتوں نے عرض کیا اے ہمارے رب ہم امن میں نہیں ہیں آپ کی خفیہ تدبیر سے اور آپ کی تدبیر سے نہیں امن میں ہوتی مگر وہ قوم جو خسارہ پانے والی ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ سے بےخوف نہ ہونا
(3)…
Read the full tafseer →[ اَفَاَمِنُوْا : تو کیا وہ لوگ امن میں ہوئے ] [ مَكْرَ اللّٰهِ : اللہ کی خفیہ تدبیر سے ] [ فَلَا يَاْمَنُ : پس امن میں نہیں ہوتے ] [ مَكْرَ اللّٰهِ : اللہ کی تدبیر سے ] [ اِلَّا : مگر ] [ الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ : خسارہ پانے والے لوگ ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
اللہ کے عذاب سے نڈر نہ ہوں :
اس کے بعد آنحضرت سرور عالم ﷺ کے زمانے کے کافروں کو تنبیہ فرمائی کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے پرانی قوموں پر عذاب بھیجا ان پر بھی عذاب آسکتا ہے۔ کیا یہ لوگ اس بات سے نڈر ہیں کہ ان کے پاس ہمارا عذاب رات کے وقت آجائے جب کہ یہ سوتے ہوں یا اس بات سے بےخوف ہیں کہ ہمارا عذاب دن کے شروع حصہ میں آجائے جبکہ یہ لوگ کھیل رہے ہوں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ اللہ کے عذاب سے نڈر نہ ہوں۔ پہلی امتوں سے عبرت حاصل کریں اور نبی اکرم ﷺ کی تکذیب سے باز آئیں۔ پھر فرمایا (اَفَاَمِنُوْا مَکْرَ اللّٰہِ ) (کیا یہ لوگ اللہ کی تدبیر سے نڈر بنے ہوئے ہیں) یہ استفہام انکاری ہے، مطلب یہ ہے کہ نڈر نہ بنیں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–102
بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ
قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین
(ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
103: ہمزہ استفہام انکار کے لیے ہے۔ اور “ اَھْلَ الْقْرٰي ” سے مکہ اور گرد و نواح کی بستیوں کے لوگ مراد ہیں جنہوں نے آنحضرت ﷺ کی تکذیب کی بعض کے نزدیک یہ عام ہے۔ والمراد بالقری مکۃ وما حولھا لانھم کذبوا محمدا ﷺ و قیل ھو عام فی جمیع القری (قرطبی ج 7 ص 253) مشرکین عرب گذشتہ سرکش قوموں کے انجام بد سے اچھی طرح واقف ہیں مگر اس کے باوجود عناد اور سرکشی پر اڑے ہوئے ہیں کیا انہیں اس بات کا خطرہ اور اندیشہ نہیں کہ کہیں رات کو سوتے وقت یا دن کو جب وہ کھیل میں مصروف ہوں اچانک ہی اللہ کا عذاب آپہنچے اور ان کو ہلاک کردے۔ کیا وہ اللہ کے عذاب سے بالکل ہی بےفکر ہیں۔ جو لوگ اس طرح اللہ کے عذاب سے نڈر ہو کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ربط آیات
تبلیغ رسالت کے سلسلے میں اللہ تعالیٰ نے اس سورة کی ابتداء میں تخلیق انسان اور خلاف ارضی کا ذکر کیا ہے پھر انبیاء کی بعثت اور سلسلہ تبلیغ کے ضمن میں پانچ انبیاء اور ان کی قوموں کا حال بیان کیا گزشتہ دو آیات میں اللہ نے اقوام عالم کی ذہنیت کا حال بیان فرمایا ، ان کی انبیاء دشمنی اور اللہ کی سنت کا ذکر کیا جب لوگوں انبیاء (علیہم السلام) کی مخالفت پر تل جاتے ہیں تو ابتداء میں اللہ تعالیٰ معمولی آزمائش میں ڈالتا ہے اندرونی اور بیرونی تکالیف میں ڈال کر قوم کو متنبہ کرتا ہے اگر لوگ اس تنبیہہ کا کوئی اثر قبول نہیں کرتے تو پھر اللہ تعالیٰ تکلیف کی جگہ راحت اور برائی کی جگہ اچھائی کو لے آتا ہے…
Read the full tafseer →اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللہِ 0 ۚ فَلَا يَاْمَنُ مَكْرَ اللہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ 99 ۧ
مكر
المَكْرُ : صرف الغیر عمّا يقصده بحیلة، وذلک ضربان : مکر محمود، وذلک أن يتحرّى بذلک فعل جمیل، وعلی ذلک قال : وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] . و مذموم، وهو أن يتحرّى به فعل قبیح، قال تعالی: وَلا يَحِيقُ الْمَكْرُ السَّيِّئُ إِلَّا بِأَهْلِهِ [ فاطر/ 43]
( م ک ر ) المکر ک
ے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں
یہ دو قسم پر ہے ( 1) اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے ورنہ مذموم چناچہ آیت کریمہ : ۔ وَاللَّهُ خَيْرُ الْماكِرِينَ [ آل عمران/ 54] اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
ولو ان اھل القریٰ امنوا واتقوا لفتحنا علیہم برکات من السماء والارض۔ یہاں یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ وہ لوگ کہ جن پر ان کے گناہوں کی نحوست نازل ہوئی۔ اگر ایمان لاتے اور پرہیزگاری اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمانوں اور زمین کی برکتیں کھول دیتے۔ آسمان کی برکتیں وقت پر پانی برسنا اور زمین کی برکات اچھی طرح نباتات کا اگانا کھیتی اور درختوں میں عمدہ پھول اور پھل آنا۔ اس عالم میں جو کچھ ہو رہا ہے اس کے دو سبب ہیں۔ ایک فاعلی جو سماوات ہیں۔ ان کی تاثیریں زمین پر پہنچتی ہیں۔ آفتاب کی گرمی اور ماہتاب کی رطوبت و برودت علی ہذا القیاس ہر ستارے اور ہر گردش فلک کی ایک تاثیر خاص اس فاعل حقیقی نے رکھی ہے۔ دوسرا سبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
اَفَاَمِنَ اَھْلُ الْقُرآی اَنْ یَّاْتِیَہُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّھُمْ نَاْئَمُوْنَ ۔ اَوََاَمِنَ اَھْلُ الْقُرٰٓی اَنْ یَّاْتِیَہُمْ بَاْسُنَا ضُحیً وَّھُمْ َیْلَعُبْوَنَ ۔ اَفاَمِنُُوْامَکْرَاللّٰہِ فَلَا یَاْ مَنُ مَکْرَ اللّٰہِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُ وْنَ ۔ (الاعراف : 97، 99)
” کیا بستیوں کے لوگ اس بات سے بےخوف ہوگئے کہ آدھمکے ان پر ہمارا عذاب راتوں رات اور وہ سوئے پڑے ہوں یا بستیوں والے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان پر آجائے ہمارا عذاب دن دھاڑے اور وہ کھیل کود میں ہوں تو کیا وہ اللہ کی تدبیر سے بےخوف ہیں تو یاد رکھو کہ خدا کی تدبیر سے وہی لوگ بےخوف ہوتے ہیں جو نامراد ہونے والے ہوں “۔
دو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
فہم القرآن
ربط کلام : سابقہ آیات میں پانچ اقوام کی تباہی اور اس کے اسباب بیان کرتے ہوئے دنیا میں جزاء و سزا کا ایک عمومی اصول بیان فرمایا اور اس کے بعد ایمان اور تقویٰ کی ترغیب دیتے ہوئے زمین و آسمان کی برکات کی خوشخبری سنائی اب پھر مجرموں کو وارننگ دی جا رہی ہے۔
قرٰی کا واحد ” قَرْیَۃ “ ہے یہ لفظ شہر اور دیہات دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ قرآن مجید نے اسے شہر اور بستیوں کے لیے استعمال فرمایا ہے سورة زخرف آیت : 31 میں ہے کہ لوگ شہروں کے رہنے والے ہوں یا دیہاتوں کے بسنے والے انھیں وارننگ اور انتباہ کیا جا رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی بغاوت اور نافرمانیاں کرکے کس طرح پرسکون اور امن میں رہ سکتے…
Read the full tafseer →اللہ کی خفیہ پکڑ سے بےخوف شخص مکمل خسارے والا ہے :
آیت 99: اَفَاَمِنُوْا (ہاں تو کیا وہ بےفکر ہوگئے) یہ افامن اہل القرٰی کی تکریر کے لئے لایا گیا مَکْرَ اللّٰہِ (اللہ تعالیٰ کی پکڑ سے) بندے کو اس طرح پکڑنا کہ اس کو شعور بھی نہ ہو۔ حضرت شبلی (رح) سے روایت ہے کہ کفار کے ساتھ اس کی خفیہ تدبیر یہ ہے کہ ان کو اس حالت میں چھوڑ دیا جس میں وہ تھے۔ ربیع بن خیثم کی بیٹی نے اپنے والد کو کہا کہ میں لوگوں کو دیکھتی ہوں کہ وہ سوتے ہیں اور تم نہیں سوتے۔ تو وہ کہنے لگے اے بیٹی تمہارا باپ اس بات سے خوف زدہ ہے کہ اس پر بیات نہ آجائے۔ گویا تو اس آیت کی طرف اشارہ کیا ان یاتیھم بأسنا بیاتًا۔ فَلاَ یَاْمَنُ…
Read the full tafseer →99(افآمنوا مکر اللہ فلا یامن مکر اللہ الا القوم الخسرون) اللہ تعالیٰ کا مکر ان لوگوں کو دنیا کی نعمتیں دے کر ڈھیل دینا ہے۔ عطیہ (رح) فرماتے ہیں اس کا پکڑنا اور اس کا عذاب۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
(96 ۔ 99) ۔ ان آیتوں میں اللہ پاک ان لوگوں کے حال سے خبر دیتا ہے جن کے پاس اس نے اپنے رسول بھیجے اور انہوں نے رسولوں کو نہ مانا بلکہ ان کو جھٹلایا اس لئے فرمایا کہ اگر وہ لوگ ایمان لے آتے اور رسولوں کی باتیں مانتے اور ان کی راہ پر چلتے تو ہم آسمان اور زمین تمام جگہ کی برکتیں ان پر بھیج دیتے آسمان سے وہ مینہ برستا کہ زمین بالکل سرسبز و شاداب ہوجاتی اور پیداوار کی وہ کثرت ہوتی کہ کھاتے کھاتے وہ تھک جاتے مگر انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اس واسطے اللہ نے ان کو اپنے عذاب میں پکڑ لیا اور ان کے کئے کا ایسا بدلہ دیا کہ آخر ہلاک ہی ہوگئے جانبر نہ ہو سکے پھر اللہ پاک نے قریش کو اپنے عذاب سے ڈرایا کہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–101
آیت 96
اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں انبیاء ومرسلین کو جھٹلانے والے گروہ کے بارے میں ذکر فرمایا کہ ان کو نصیحت اور تنبیہ کیلئے مصائب میں مبتلا کیا جاتا ہے اور مکرو استدراج کے طور پر انہیں آسانی اور فراخی عطا کی جاتی ہے۔ وہاں یہ بھی فرمایا کہ اگر بستیوں والے صدق دل سے ایمان لے آتے، ان کے اعمال اس ایمان کی تصدیق کرتے اور ظاہر و باطن میں تقویٰ سے کام لے کر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ تمام چیزوں کو چھوڑ دیتے تو ان پر زمین و آسمان کی برکات کے دروازے کھول دیئے جاتے۔ پس اللہ تعالیٰ آسمان سے ان پر لگاتار بارش برساتا اور زمین سے ان کے لئے وہ کچھ اگاتا جس پر ان کی اور ان کے جانوروں کی معیشت کا دار و مدار ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–141
دعا کا طریقہ
قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 99–101
137 اللہ کی گرفت و پکڑ سے غفلت و لاپرواہی خساروں کا خسارہ ۔ والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ کیا یہ لوگ بےخوف اور نڈر ہوگئے اس کی چال اور گرفت و پکڑ سے ؟ سو واضح رہے کہ اللہ کی چال اور اس کی گرفت وپگڑ سے بےخوف و نڈر نہیں ہوتے مگر وہی لوگ جو خسارہ اٹھانے والے ہیں ۔ والعیاذ باللہ ۔ پس سرکشوں کی ان سرکشیوں اور بدمستیوں پر اس قادر مطلق کی طرف سے جو برابر مہلت اور ڈھیل مل رہی ہے تو یہ دراصل اس کی طرف سے ایک ایسی کریمانہ روش ہے جس سے وہ ان کو اپنے کرم بےپایاں اور حلم بےنہایت کی بناء پر نوازتا ہے۔ تاکہ جس نے سنبھلنا سدھرنا ہو وہ سنبھل اور سدھر جائے۔ قبل اس سے کہ فرصت عمل اس کے ہاتھ سے نکل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 88–102
سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی
تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
رکوع نمبر 12 ۔ آیات 94 تا 99 ۔
اسرار و معارف :
اللہ رب العزت بہت ہی زیادہ کریم ہیں اس قدر کہ انسانی علوم اندازہ کرنے سے قاصر ہیں یہاں ارشاد ہوتا ہے کہ جب بھی اور جہاں بھی کوئی نبی مبعوث فرمایا وہاں انسانی ضروریات میں ایک خاص شدت بھی پیدا کردی لوگوں میں اعراض اور بیماریاں پیدا کردیں یا مالی نقصان سے دوچار کردیا کہ پریشان ہو کر اس کے حل کی تلاش میں نکلیں یا کسی ایسی ہستی کو تلاش کریں جو ان مصائب سے نجات دلا دے تو نبی کی دعوت سنیں اور کم از کم ذاتی غرض کے لیے ہی سہی میرے دروازے پہ تو آئیں یعنی ہدایت و گمراہی میں ایک راستہ اختیار کرنے ک امجاز تو انسان کو بنا دیا پھر بھی اس کی رحمت ایسے اسباب پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–99
ف 7 ۔ اللہ تعالیٰ کے داؤ سے مراسد کسی شخص کے خلاف ایسی خفیہ تدبیر کرنا ہے کہ جب تک وہ عین اس کے سر پر پہنچ جائے اسے کوئی ہوش نہ آئے اور نہ ہی کچھ پتہ چلے کہ س کی شامت آنے ولی ہے، یہ خفیہ تدبیر چونکہ کافروں کے مکرو فریب کے جواب میں ہوتی ہے یا اس کی سزا دینے کے لیے کی جاتی ہے اس لیے اسے بھی بطور مجانست مکر کہہ دیا ہے ( مزید دیکھئے سورة بقرہ آیت 15)
Read the full tafseer →(7:99) مکر۔ چال۔ المکر کے معنی کسی شخص کو حیلہ کے ساتھ اس کے مقصد سے پھیر دینے کے ہیں۔ اگر اس سے کوئی اچھا فعل مقصود ہو تو محمود ہوتا ہے اور اگر اس سے کوئی برا فعل مقصود ہو تو مذموم ہوتا ہے۔
اور جب اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو تو یہ محمود ہے۔ جیسے واللہ خیر المکرین ۔ (3:54) اور خدا خوب چال چلنے والا ہے۔ اور ولا یحیق المکر السییٔ الا باہلہ (35:142) اور بری چال کا وبال اس کے چلنے والے ہی پر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 94–99
لغات القرآن آیت نمبر (94 تا 99) ۔
یضرعون (وہ عاجزی کرتے ہیں) ۔ حتی عفوا (یہاں تک کہ وہ آگے بڑھ گئے) ۔ مس (چھولیا) ۔ بغتتہ (اچانک ) ۔ لفتحنا (البتہ ہم نے کھول دیا) ۔ یکسبون (وہ کمائی کرتے ہیں) ۔ افامن (کیا پھر وہ بےخوف ہوگئے) ۔ نائمون (سونے والے ) ۔ ضحی (دن چڑھے ) ۔ یلعبون (وہ کھیل رہے ہیں) ۔
تشریح : آیت نمبر (94 تا 99 ) ۔ ” گذشتہ آیات میں مسلسل پانچ قوموں کے عبرت انگیز واقعات بیان کر کے عرب کے کفار اور مشرکین کو نصیحت کی جارہی ہے کہ ذرا سوچو ! کیا یہی آزمائشیں تمہارے ساتھ پیش نہیں آرہی ہیں ؟ تم کس غفلت میں پڑے ہو ؟ کیا اللہ تعالیٰ کی خفیہ تدبیریں ٹیکی اس وقت اچانک تمہیں آ کر پکڑ نہیں سکتیں جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 97–100
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ بات بیان کی کہ یہ لوگ جو رسولوں کو جھٹلاتے ہیں اور راہ حق پر نہیں آتے کیسے بےپرواہ ہیں۔ ان سے پہلے جو لوگ گزرے ہیں جن کئ یہ جانشین بن کر بیٹھے ہیں، ان کے حال سے ذرا بھی عبرت نہیں حاصل کرتے کہ ان کا کیا حال ہوا۔ انہوں نے رسولوں کو جھٹلایا اور دین حق سے روگرداں رہے تو کس ذلت کے ساتھ گاؤں کے گاؤں ہلاک ہوئے۔ ہم چاہیں تو انہیں قوموں کی طرح کیا ان کو نہیں پکڑ سکتے ہیں ان پر عذاب نہیں بھیج سکتے ہیں۔ یہ ان کے پکڑے جانے کی نشانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر بھی مہر لگادی کہ نصیحت سننے اور سمجھنے سے مجبور ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ بغیر توبہ کے گناہ پر گناہ کرنے سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 86–102
[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
برکات کا نزول :
(ف 2) یعنی اگر یہ لوگ ایمان کی دعوت کو قبول کرلیں اور سچے معنوں میں مسلمان ہوجائیں ، تو پھر دیکھیں اللہ کی رحمتیں کیونکر ان پر نازل ہوتی ہیں ، وہ دیکھیں کہ کس طرح آسمان سے رحمتوں کی بارش ہوتی ہے اور انہیں محسوس ہو کہ ان کے لئے زمین برکات کے خزانے اگل رہی ہے ۔
گویا ایمان واتقاء کے بعد اللہ کی تائید وتضرت شامل حال ہوجاتی ہے ، اور مرد مومن کسی طرح بھی دنیا دار انسان سے حصول نعمت وجاہ میں پیچھے نہیں رہتا ۔
حل لغات :
یضرعون : مادہ ضراعۃ معنی عاجزی اور احتقار ۔
السیئۃ : تکلیف ، الحسنۃ مسرت ، خوشی دونوں لفظ برائی اور نیکی کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ، یہاں مقصود دکھ اور سکھ ہے ۔
Read the full tafseer →99 ہاں تو کیا یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی اچانک گرفت سے بےخوف اور پرامن ہوکر بیٹھ گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ڈھیل اور استدراج کے باعث ان کو کسی قسم کا خوف نہیں رہا ہے اگر ایسا ہے تو سمجھ لو کہ اللہ تعالیٰ کی اچانک گرفت سے صرف وہی لوگ بیخوف ہوا کرتے ہیں جو خسارہ اٹھانے والے اور تباہ و برباد ہونے والے ہوتے ہیں یعنی اس قسم کی بےخوفی اور نڈر پن کے وہی لوگ مرتکب ہوتے ہیں جو انجام کار تباہ و برباد ہونے والے ہیں۔
Read the full tafseer →ف 4۔ اس آیت سے استنباط کیا گیا ہے کہ عذاب الہی سے بےخوف ہونا کفر ہے کیونکہ محاورات قرآنیہ میں اکثر خاسر سے مراد کافر ہوتا ہے۔
Read the full tafseer →تدبیر الٰہی سے پخنت ہونے والوں کا انجام ہمیشہ برا رہا :
110: ” مکر “ عربی زبان میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اللہ کی خفیہ تدبیر یہ ہے کہ جو کسی کے لئے کنواں کھودے وہ اس کو یعنی کنواں کھودنے والے کو اس میں گرا دیتا ہے اور اس طرح گراتا ہے کہ اس کو پتہ نہیں چلتا کہ دھڑام کی آواز سنائی دیتی ہے۔ پھر خفیہ تدبیر الٰہی کیا ہوئی ؟ یہ کہ وہ وہاں سے پکڑ لیتا ہے جہاں سے کسی کو پکڑے جانے کا سان گمان بھی نہیں ہوتا اوپر آیت 95 کے حاشیہ 106 میں تنبیہہ کے بعد ڈھیل کی جو سنت الٰہی بیان ہوئی وہ اس خفیہ تدبیر الٰہی کی ایک مثال ہے کہ جب کسی قوم نے راحت و آرام اور عیش و نشاط کی زندگی میں اللہ کو بھلا دیا تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
The Arabic word بَرَکَہ :'barakah' used in this verse and translated as blessing signifies increase or growth. The expression 'blessing of the heaven and the earth' refers to all means of prosperity, like proper and timely rain from heavens (clouds), abundant and healthy produce of the earth and, above all, carefree enjoyment from their possessions with no anxiety to spoil the pleasure of things. That is, everything would have been blessed with 'barakah'.
The barakah manifests itself in two different ways. Sometimes, the thing itself increases in quantity, as is reported happening with the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 96–99
78. The expression makr signifies a secret strategy of which the victim has no inkling until the decisive blow is struck. Until then, the victim is under the illusion that everything is in good order.
Read the full tafseer →