Al-A'raaf 7:102

Al-A'raaf · from ayah 102

7:102

وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ— وَاِنْ وَّجَدْنَاۤ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِیْنَ ۟وَمَا وَجَدۡنَا لِاَكۡثَرِهِمۡ مِّنۡ عَهۡدٍ‌ۚ وَاِنۡ وَّجَدۡنَاۤ اَكۡثَرَهُمۡ لَفٰسِقِيۡنَ‏

اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And We did not find for most of them any covenant; but indeed, We found most of them defiantly disobedient.

— Saheeh International

Juz 9 · Ruku 13 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-A'raaf

All translations of 7:102

ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور ہم نے ان میں سے اکثروں میں (عہد کا نباہ) نہیں دیکھا۔ اور ان میں اکثروں کو (دیکھا تو) بدکار ہی دیکھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا

— مولانا محمد جوناگڑہی

ہم نے ان کی اکثریت میں عہد کی کوئی پاسداری نہیں پائی، اور واقعہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور ان میں اکثر کو ہم نے قول کا سچا نہ پایا اور ضرور ان میں اکثر کو بے حکم ہی پایا،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں عہد (کا نباہ) نہ پایا اور ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے نافرمان ہی پایا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور ہم نے ان میں سے اکثر کے لیے کوئی عہد نہیں پایا اور بیشک ہم نے ان کے اکثر کو فاسق ہی پایا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان میں اکثر لوگ ایسے تھے جن میں ہم نے عہد کا لحاظ نہ پایا اور ان میں سے اکثر کو فاسق ہی پایا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی استواری نہیں پائی۔ ان میں سے اکثر بدعہد ہی نکلے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کا کوئی نباہ نہ پایا، اور ہم نے ان کی اکثریت کو سخت بدکار پایا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور ہم نے پاس (عہد) ان میں سے اکثر میں نہ پایا اور ہم نے ان میں سے اکثر کو بس نافرمان ہی پایا۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی پاسداری نہیں پائی اور ہم نے تو ان کی اکثریت کو فاسق ہی پایا

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور ہم نے ان میں سے بہتوں میں عہد کا نباہ نہیں دیکھا اور ان میں بہتوں کو دیکھا تو بد کار ہی دیکھا۔

— محترمہ رفعت اعجاز

We did not find most of them true to their covenants; indeed We found most of them to he transgressors.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

We did not find with most of them any covenant (unbroken), and surely We have found most of them sinners.

— Muhammad Taqi Usmani

We did not find with most of them any covenant (unbroken), and surely We have found most of them sinners.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And most of them We found not true to their covenant, but most of them We found indeed rebellious.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

We found no (loyalty to any) covenant in most of them. Nay, most of them We found wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And We did not find for most of them any covenant; but indeed, We found most of them defiantly disobedient.

— Saheeh International

We did not find many among them keeping their promises. However, We did find many evil-doers among them.

— Muhammad Sarwar

And We did not find in most of them any (faithfulness to) covenant, and We found most of them to be certainly transgressors.

— Muhammad Habib Shakir

And We found no covenant in most of them; and most of them We found ungodly.

— Abdul Majid Daryabadi

Most of them We found not men (true) to their covenant: but most of them We found rebellious and disobedient.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 7:102

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 101–102

عہد شکن لوگوں کی طے شدہ سزا پہلے قوم نوح، ہود، صالح، لوط اور قوم شعیب کا بیان گذر چکا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ ان سب کے پاس ہمارے رسول حق لے کر پہنچے، معجزے دکھائے، سمجھایا، بجھایا، دلیلیں دیں لیکن وہ نہ مانے اور اپنی بد عادتوں سے باز نہ آئے۔ جس کی پاداش میں ہلاک ہوگئے، صرف ماننے والے بچ گئے۔ اللہ کا طریقہ اسی طرح جاری ہے کہ جب تک رسول نہ آجائیں، خبردار نہ کردیئے جائیں عذاب نہیں دیئے جاتے، ہم ظالم نہیں لیکن جبکہ لوگ خود ظلم پر کمر کس لیں تو پھر ہمارے عذاب انہیں آ پکڑتے ہیں۔ ان سب نے جن چیزوں کا انکار کردیا تھا ان پر باوجود دلیلیں دیکھ لینے کے بھی ایمان نہ لائے۔ آیت…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْاَعْرَاف 82 ”کوئی پاس عہد نہ پایا“ یعنی کسی قسم کے عہد کا پاس بھی نہ پایا، نہ اس فطری عہد کا پاس جس میں پیدائشی طور پر ہر انسان خدا کا بندہ اور پروردہ ہونے کی حیثیّت سے بندھا ہوا ہے، نہ اس اجتماعی عہد کا پاس جس میں ہر فرد بشر انسانی برادری کا ایک رکن ہونے کی حیثیّت سے بندھا ہوا ہے، اور نہ اس ذاتی عہد کا پاس جو آدمی اپنی مصیبت اور پریشانی کے لمحوں میں یا کسی جذبہ خیر کے موقع پر خدا سے بطور خود باندھا کرتا ہے۔ انہی تینوں عہدوں کے توڑنے کو یہاں فسق قرار دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تیسری آیت میں ارشاد فریا وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ یعنی ان میں سے اکثر لوگوں کو ہم نے ایفائے عہد کرنے والا نہ پایا۔ حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ عہد سے مراد عہد الست ہے جو ازل میں تمام مخلوقات کے پیدا کرنے سے پہلے ان سب کی روحوں کو پیدا فرما کرلیا گیا تھا، جس میں حق تعالیٰ نے فرمایا الست بربکم یعنی کیا میں تمہارا پروردگار نہیں، اس وقت تمام ارواح انسانی نے اقرار اور عہد کے طور پر جواب دیا بلی یعنی ضرور آپ ہمارے رب ہیں، دنیا میں آکر اکثر لوگ اس عہد ازل کو بھول گئے خدا تعالیٰ کو چھوڑ کر مخلوق پرستی کی لعنت میں گرفتار ہوگئے، اس لئے اس آیت میں فرمایا کہ ہم نے ان میں سے اکثر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَكْثَرَهُمْ لَفٰسِقِيْنَ۔ یہ دلوں پر مہر لگنے کا نتیجہ اور اثر بیان ہوا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کسی گروہ کے دلوں پر مہر کردیا کرتا ہے تو ان کی مت اس طرح ماری جاتی ہے کہ کوئی نشانی بھی ان کو دکھاؤ وہ اپنی جگہ سے کھسکنے کا نام نہیں لیتے۔ بار بار قسمیں کھا کھا کے عہد کریں گے کہ اگر فلاں معجزہ دکھا دو تو ہم مان لیں گے لیکن وہ معجزہ بھی دکھا دیا جائے تو کسی نئے معجزے کا مطالبہ شروع کردیں گے اور اپنے پہلے عہد سے پھرجائیں گے۔ لفظ ‘ فاسق ’ یہاں عہد شکن کے مفہوم میں ہے۔ یہی مضمون زیادہ وضاحت سے سورة انعام میں یوں بیان ہوا ہے۔ وَأَقْسَمُوا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

12۔ 1 اس سے بعض نے عہد الست جو عالم ارواح میں لیا گیا تھا، بعض نے عذاب ٹالنے کے لئے پیغمبروں سے جو عہد کرتے تھے، وہ عہد اور بعض نے عام عہد مراد لیا ہے جو آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ اور یہ عہد شکنی، چاہے وہ کسی بھی قسم کی ہو، فسق ہی ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 99–102

51: یہاں اصل لفظ“ مکر ”ہے جس کے معنی عربی میں ایسی خفیہ تدبیر کے ہوتے ہیں جسکا مقصد وہ شخص نہ سمجھے جس کے خلاف وہ کاروائی کی جارہی ہو، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو ان کی بد اعمالیوں کے باوجود دنیا میں خوش حالی اور ظاہری خوشیاں عطا فرماتے ہیں، جسکا مقصد انہیں ڈھیل دینا ہوتا ہے، پھر جب وہ اپنی بد عملی میں بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں تو ان کو ایک دم سے پکڑ میں لے لیا جاتا ہے، لہذا عیش و عشرت کے عالم میں بھی انسان کو اپنے اعمال سے غافل ہو کر نہیں بیٹھنا چاہیے ؛ بلکہ اپنی اصلاح کی فکر کرتے رہنا چاہیے اور یہ خطرہ ہمیشہ پیش نظر رکھنا چاہیے کہ اگر ہم راہ راست…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں جس عہد کا ذکر ہے وہ فطرت انسانی کا عہد بھی ہوسکتا ہے جس کا ذکر اس سورة کے آخر میں ہوا ہے (واذ اخذ ربک من بنی ادم من ظہورہم ذریتہم واشہدہم علی انفسہم الست بربکم قالوا بلی شہدنا) " اے نبی لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رب نے بنی ادم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا : " کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں ؟ " انہوں نے کہا : " ضرور آپ ہمارے رب ہیں۔ " ہم اس پر گواہی دیتے ہیں "۔ اس عہد سے وہ عہد بھی مراد ہوسکتا ہے جو ان لوگوں کے اسلاف نے اپنے رسولوں سے کیا تھا کہ وہ ایمان لائیں گے مگر بعد میں آنے والے لوگ اس سے منحرف ہوگئے جیسا کہ ہر جاہلیت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 " عہد " سے ممکن ہے عام عہود مراد ہوں یا خاص " عہد الست " کا ارادہ کیا گیا ہو، یا وہ عہد جو مصائب اور سختیوں کے وقت کرتے تھے کہ فلاں سختی اٹھالی جائے تو ہم ضرور ایمان لے آئیں گے جیسے فرعونیوں نے کہا تھا ( ۚ لَىِٕنْ كَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَكَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَكَ بَنِيْٓ اِ سْرَاۗءِيْلَ 134؀ۚ فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُمُ الرِّجْزَ اِلٰٓي اَجَلٍ هُمْ بٰلِغُوْهُ اِذَا هُمْ يَنْكُثُوْنَ 135۔ ) 7 ۔ الاعراف :134-135)

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 102 وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِہِمْ مِّنْ عَہْدٍ ج۔ دُنیا میں جب بھی کوئی قوم ابھری ‘ اپنے رسول کے سہارے ابھری۔ ہر قوم کے علمی و اخلاقی ورثے میں اپنے رسول کی تعلیمات اور وصیتیں بھی موجود رہی ہوں گی۔ ان کے رسول نے ان لوگوں سے کچھ عہد اور میثاق بھی لیے ہوں گے ‘ لیکن ان میں سے اکثر نے کبھی کسی عہد کی پاسداری نہیں کی۔ وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَہُمْ لَفٰسِقِیْنَ اب انباء الرسل کے سلسلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر آ رہا ہے۔ اس سے پہلے ایک رسول کا ذکر اوسطاً ایک رکوع میں آیا ہے لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام کا ذکر سات آٹھ رکوعوں پر مشتمل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ سورتیں ہجرت سے متصلاً قبل…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

107 عہد کو پورا نہ کرنا فسق ہے :۔ عہد سے مراد وہ فطری عہد بھی ہوسکتا ہے جو انسان کی سرشت میں موجود ہے اور یہ عہد آیت (اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ 172؀ۙ ) 7 ۔ الاعراف :172) کے نام سے مشہور ہے جس کی رو سے ہر انسان نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنے پروردگار کے سوا کسی دوسرے کو معبود نہیں بنائے گا اور وہ عہد بھی جو انسان دوسرے انسانوں سے کرتا ہے خواہ یہ لین دین کے معاملات سے تعلق رکھتا ہو یا نکاح و طلاق کے معاملات سے، اور وہ عہد بھی جو کوئی انسان ذاتی طور پر اپنے پروردگار سے کرتا ہے یعنی عہد خواہ کسی طرح کا ہو اسے توڑنے والا فاسق ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

138 ۔ خطاب پیغمبر سے ہے کہ ان نافرمانوں کی سرشت اور ذہنیت ہمیشہ سے یہی رہی ہے۔ سو آپ ان پر زیادہ غم نہ کریں۔ اکثرھم میں ضمیر الناس (لوگوں) کی طرف ہے، یا امم سابقہ کی طرف۔ الضمیر للناس علی الاطلاق یعنی ان اکثر الناس نقضوا عھد اللہ (مدارک) ای لا کثر الامم الماضیۃ (ابن کثیر) (آیت) ” من عھد “۔ عھد یہاں وفاء العہد کے معنی میں ہے اور حذف مضاف کی مثالین قرآن مجید میں بکثرت ملتی ہیں۔ ای من وفاء عھد (بیضاوی) لیکن خود عھد سے یہاں مراد کیا ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ مراد عہد یوم میثاق ہے۔ قال ابن عباس یرید الوفاء بالعھد الذی عاھد ھم اللہ وھم فی صلب ادم (کبیر) قال ابن مسعود العھد ھنا عھد الایمان (کبیر) دوسرا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 100–102

آیت نمبر 100 تا 108 ترجمہ : اور کیا ان لوگوں پر کہ جو زمین کے سابق مالکان کی ہلاکت کے بعد سکونت کے اعتبار سے زمین کے وارث بنے یہ بات واضح نہیں ہوئی کہ اگر ہم چاہیں تو ان کو ان کے گناہوں کے سبب عذاب میں پکڑ لیں أن مع اپنے مابعد (لونشاءُ ) کے یَھْدِ کا فاعل ہے اور أن مخففہ عن الثقیلہ ہے اور (أن) کا اسم محذوف ہے تقدیر عبارت أنَّہٗ ہے، جیسا کہ ہم نے ان سے پہلے والوں کو پکڑ لیا، ہمزہ چاروں جگہ توبیخ کیلئے ہے اور جو فاء اور واؤ اس پر داخل ہیں عطف کیلئے ہیں ایک قرأت میں واؤ کے سکون کے ساتھ ہے، پہلی جگہ اَوْ کے ذریعہ عطف کرتے ہوئے، اور ان کے دلوں پر مہر (بند) لگا دیں کہ وہ نصیحت کو غور و فکر کے خیال…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وما وجدنا لاکثرہم من عہد وان وجدنا اکثرہم لفسقین۔ اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفاء عہد نہ دیکھا اور اکثر لوگوں کو ہم نے بےحکم ہی پایا۔ تلک القری یعنی گزشتہ اقوام کی بستیاں قوم نوح ‘ قوم عاد ‘ قوم ثمود ‘ قوم لوط اور قوم شعیب کی بستیاں من انباۂ ا۔ من تبعضیہ ہے یعنی کچھ واقعات بعض خبریں۔ البینت معجزات اور وہ دلائل جو ان کی رسالت کو ثابت کرتی ہیں۔ ماکانوا لیؤمنوا لان یومنوا تھا ان مصدری کو حذف کردیا گیا۔ لام حجود تاکید نفی ایمان کے لئے ہے اور مصدر اسم فاعل کے معنی میں ہے یعنی وہ ایماندار نہ تھے۔ بما کذبوا من قبل یعنی پیغمبروں کی بعثت سے پہلے جو توحید کی تکذیب کرتے تھے اس پر برابر قائم رہے ایمان نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(102) اکثر لوگوں میں ابتداء ہی سے وفائے عہد نہیں دیکھا بلکہ سب کو ہم نے عہد شکن ہی پایا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِهِمْ مِّنْ عَهْدٍ ۚ: ”مِّنْ عَهْدٍ ۚ“ (کوئی بھی عہد) کا لفظ نکرہ استعمال ہوا ہے، جس کا عموم ”مِن“ سے مزید بڑھ گیا ہے۔ مراد کسی بھی قسم کا عہد ہے، نہ فطری جو ”اَلست بربکم“ کے وقت کیا تھا، نہ شرعی جو پیغمبروں سے عذاب ٹالنے کی درخواست کے وقت کرتے تھے اور نہ عرفی جو وہ آپس میں ایک دوسرے سے کرتے تھے۔ لَفٰسِقِيْنَ : ”نافرمان“ یعنی کسی عہد کا پاس نہ کرنے والے پکے بےایمان۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر : 102 قولہ تعالیٰ : آیت : وما وجدنا لاکثرھم من عھد اس میں من زائدہ ہے اور یہ معنی جنس پر دلالت کرتا ہے اور اگر من نہ ہوتا تو پھر یہ وہم جائز ہوتا کہ یہ معنوی اعتبار سے واحد ہے۔ ( یعنی صرف ایک وعدہ مراد ہوتا ٰ ) حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : اس سے مراد وہ وعدہ ہے جو ان سے اس وقت لیا گیا جب انہیں حضرت آدم (علیہ السلام) کی پشت سے نکالا گیا تھا اور جس نے عہد توڑ دیا اس کے لیے کہا گیا ہے اس کا کوئی عہد نہیں یعنی گویا اس نے وعدہ کیا ہی نہیں۔ اور حضرت حسن (رح) نے کہا (تفسیر حسن بصری، جلد 3، صفحہ 106) ہے ؟ اس وعدہ سے مراد وہ عہد ہے جو انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ان سے لیا گیا کہ وہ اللہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ عہد سے مراد ہے وفا (یعنی ہم نے ان کی اکثریت کو وعدہ وفا کرنے والا نہ پایا۔ (2) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو وعدہ کا پابند نہیں فرمایا اور اس کے سبب اللہ تعالیٰ نے ان کو کسی آزمائش میں مبتلا نہیں کیا پھر ان کو معاف کردیا۔ (3) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے لفظ آیت ” وما وجدنا لاکثرھم من عھد “ کے بارے میں فرمایا کہ اس دن کا عہد ہے جو میثاق…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمَا وَجَدْنَا : اور ہم نے نہیں پایا ] [ لِاَكْثَرِهِمْ : ان کے اکثر کے لیے ] [ مِّنْ عَهْدٍ : وعدہ کی کوئی پابندی ] [ وَاِنْ : اور بیشک ] [ وَّجَدْنَآ : ہم نے پایا ] [ اَكْثَرَهُمْ : ان کے اکثرکو ] [ لَفٰسِقِيْنَ : یقینا نافرمانی کرنے والے ] آیت نمبر 102 میں لفسقین پر لام تاکید سے معلوم ہوا کہ ان وجدنا کا ان نافیہ نہیں بلکہ ان مخففہ ہے۔ جس کے معنی ہیں ” بیشک “ نوٹ ۔ 1: ایک ایک قوم کا معاملہ بیان کرکے جو سبق انسانیت کو دیا گیا ہے اسے اب ایک جامع ضابطہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے ۔ اس ضابطے کی ایک اہم شق انبیاء کی بعثت ہے ۔ اور اب چونکہ نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہوچکا ہے ، اس لیے ہم لوگ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ مَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ ) (اور ہم نے ان میں سے اکثر لوگوں میں عہد کا پورا کرنا نہ پایا) انسان کا یہ عجیب مزاج ہے کہ جب مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اللہ کو یاد کرتا ہے اور بہت پکا مشرک بھی اپنے باطل معبودوں کو بھول جاتا ہے اور یہ وعدے کرنے لگتا ہے کہ یہ مصیبت دور ہوگئی تو ایمان قبول کرلوں گا اور شرک سے پرہیز کروں گا لیکن مصیبت دور کرنے کے بعد وہ اپنے عہد کو بھول جاتا ہے اور پھر شرک اور کفر پر ہی جما رہتا ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد کی پاسداری نہیں پائی۔ پھر فرمایا (وَ اِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ ) (اور بیشک ہم نے ان میں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 94–102

بیان اجمالی حال و مآل امم سابقہ برائے عبرت ونصیحت امم حاضرہ قال اللہ تعالیٰ وما ارسلنا فی قریۃ من نبی۔۔۔ الی۔۔۔ وان وجدنا اکثرھم لفسقین (ربط) گزشتہ رکوعات میں امم سابقہ کے واقعات قرے تفصیل کے ساتھ بیان کیے اب ان کا اجمالی خلاصہ بیان کرتے ہیں تاکہ موجودہ زمانے کے لوگوں کے لیے عبرت اور نصیحت کا ذریعہ بنیں کہ اے لگو تمہیں ان واقعات سے انبیاء کرام کی تکذیب کے برے نتائج کا علم ہوگیا مگر یہ یاد رکھو کہ یہ سزائیں ان کو دفعۃً نہیں دی گئیں بلکہ تنبیہات کے بعد دی گئیں کیونکہ ہماری عادت یہ ہے کہ لوگ جب انبیاء کی تکذیب کرتے ہیں تو ہم شروع میں تنبیہ کے طور پر بیماری اور قحط اور مختلف قسم کی سختیوں اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

106: حضرت حسن فرماتے ہیں عہد سے عہد توحید مراد ہے جو امم سابقہ سے انبیاء (علیہم السلام) کے ذریعے لیا گیا۔ العہد الذی عہد الیھم مع الانبیاء (علیہم السلام) ان یعبدوہ ولا یشرکوا بہ شیئا (قرطبی ج 7 ص 255) ۔ یعنی ان میں اکثر بد عہد ثابت ہوئے اور انہوں نے توحید کو چھوڑ کر شرک اختیار کرلیا۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 100–102

ربط آیات گزشتہ چند رکوع میں اللہ تعالیٰ نے تاریخ انبیاء کے سلسلے میں اپنچ انبیاء (علیہم السلام) اور ان کی قوموں کا حال بیان فرمایا ان قوموں نے اپنے انبیاء کی تکذیب کی اور اللہ کی ناشکر گزاری کا ثبوت دیا جس کی وجہ سے ان پر اللہ کا عذاب نازل ہوا اور وہ دنیا سے ناپید ہوگئے اب اللہ تعالیٰ نے ان پانچ اقوام کی مجموعی حالت پر تبصرہ کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں بہت سے مواقع فراہم کیے مگر انہوں نے ان سے کچھ فائدہ نہ اٹھایا انہوں نے اپنی پیش رو اقوام کے انجام سے کوئی سبق نہ سیکھا اور خود بھی ہلاک ہوئے ان واقعات میں امت آخرالزمان کو تسلی بھی دی گئی ہے اور انہیں نصیحت بھی کی گئی ہے کہ وہ ان حالات سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَمَا وَجَدْنَا لِاَكْثَرِہِمْ مِّنْ عَہْدٍ۝ 0 ۚ وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَكْثَرَہُمْ لَفٰسِقِيْنَ۝ 102 وجد الوجود أضرب : وجود بإحدی الحواسّ الخمس . نحو : وَجَدْتُ زيدا، ووَجَدْتُ طعمه . ووجدت صوته، ووجدت خشونته . ووجود بقوّة الشّهوة نحو : وَجَدْتُ الشّبع . ووجود بقوّة الغضب کو جود الحزن والسّخط . ووجود بالعقل، أو بواسطة العقل کمعرفة اللہ تعالی، ومعرفة النّبوّة، وما ينسب إلى اللہ تعالیٰ من الوجود فبمعنی العلم المجرّد، إذ کان اللہ منزّها عن الوصف بالجوارح والآلات . نحو : وَما وَجَدْنا لِأَكْثَرِهِمْ مِنْ عَهْدٍ وَإِنْ وَجَدْنا أَكْثَرَهُمْ لَفاسِقِينَ [ الأعراف/ 102] . ( و ج د ) الو جود ( ض) کے معنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 100–104

ترکیب : لم یہد یتبین للذین الخ اس سے متعلق۔ ان مخففہ اسم اس کا محذف انہ یہ جملہ فاعل ہے یہد کا اے لم یتبین لھم مشیتنا و قدرتنا علی اہلاکھم بذنوبھم من عہد میں زاید ای ما وجدنا عہدًالاکثرھم۔ تفسیر : یہاں تک منکرین کے قصہ اور ان پر عذاب الٰہی نازل ہونے کے وقائع بیان فرمائے تھے۔ اس کے بعد یہ بھی ظاہر کردیا تھا کہ کچھ انہیں بستیوں پر حصر نہیں جن کا کہ ہم نے حال بیان کیا بلکہ جہاں کہیں انبیاء آئے وہاں یہی بات پیش آئی۔ اب یہاں ان تمام تاریخی واقعات اور عبرت آمیز حادثات کا نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ کیا ان لوگوں کو پہلے لوگوں کے حال سے عبرت پیدا نہیں ہوتی کہ ان کو ہم نے ان کی بدکاری کی وجہ سے ہلاک کردیا۔…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 101–102

تِلْکَ الْقُرٰی نَقُصُّ عَلَیْکَ مِنْ اَنْبَآئِھَا ج وَلَقَدْ جَآئَتْھُمْ رُسُلُھُمْ بِالْبَیِّنٰتِ ج فَمَا کَانُوْا لِیُؤْمِنُوْا بِمَا کَذَّبُوْا مِنْ قَبْلُ ط کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہ ُ عَلٰی قُلُوْبِ الْکٰفِرِیْنَ ۔ وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ ج وَاِنْ وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ ۔ (الاعراف : 101، 102) ” یہ بستیاں ہیں جن کی سرگزشتوں کا کچھ حصہ ہم تمہیں سنا رہے ہیں ان کے پاس ان کے رسول کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے تو وہ ایمان لانے والے نہ بنے بوجہ اس کے کہ وہ پہلے سے جھٹلاتے رہے تھے اسی طرح اللہ ٹھپہ لگا دیا کرتا ہے کافروں کے دلوں پر۔ اور ہم نے ان میں سے اکثر میں عہد…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار کے دلوں پر مہر ثبت ہونے اور ان کی ہلاکت کا سبب، اللہ کے ساتھ ان کی عہد شکنی تھی۔ کفار کی ہلاکت اور ان کی گمراہی کا سبب بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو نافرمان اور بد عہد پایا تھا۔ عہد سے مراد وہ ازلی عہد ہے جو روز آفرینش اللہ تعالیٰ نے تمام بنی نوع انسان سے لیا تھا کہ کیا میں تمہارا رب ہوں یا نہیں ؟ جس کی تفسیر اسی سورة کی آیت 172 میں بیان کی جائے گی انشاء اللہ عہد سے مراد وہ اقرار اور عہد ہے جو آدمی ایمان لاتے ہوئے کلمۂ شہادت کے الفاظ میں اقرار کرتا ہے۔ جس کا مختصر مفہوم یہ ہے کہ کلمہ پڑھنے والا اقرار کرتا ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اکثریت عہد و پیمان کو توڑنے والے تھے : آیت 102: وَمَا وَجَدْنَا لِاَکْثَرِھِمْ مِّنْ عَھْدٍ (اور اکثر لوگوں میں ہم نے وفائے عہد نہ دیکھا) اس میں ہم کی ضمیر مطلقاً لوگوں کی طرف راجح ہے۔ یعنی اکثریت نے اللہ تعالیٰ کے عہد و میثاق کو ایمان کے سلسلے میں توڑدیا۔ نحو : یہ آیت جملہ معترضہ ہے یا اس سے مراد امم مذکورہ ہیں کہ جب یہ لوگ کسی تکلیف و خوف میں اللہ تعالیٰ سے اس طرح عہد کرلیتے لئن انجیتنا لنؤمنن پھر وہ ان کو نجات دے دیتا تو وہ اپنے وعدے سے پھرجاتے وَاِنْ اور حالت اور بات یہ ہے وَّجَدْنَآ اَکْثَرَھُمْ لَفٰسِقِیْنَ (اور ہم نے اکثر لوگوں کو بےحکم ہی پایا) اطاعت سے نکلنے والے تھے۔ مسئلہ : وجدنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

تفسیر 102(وما وجدنا لاکثرھم من عھد) یعنی مثاق کے دن جس دن تمہیں آدم علیہ السام کی پیٹھ سے نکالا تھا اور عہد لیا تھا اس عہد کا پورا کرتا نہ پایا (و ان وجدنا اکثرھم لفسقین) یعنی عہد کو توڑنے والے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 101–102

(101 ۔ 102) ۔ اوپر حضرت نوح ( علیہ السلام) کی امت کا حال تھا کہ انہوں نے نبی وقت کا کہنا نہ مانا آخر طوفان سے ہلاک ہوگئے اسی طرح حضرت ہود (علیہ السلام) کی امت قوم عاد سخت آندھی سے اور حضرت صا ( علیہ السلام) لح کی امت قوم ثمود کڑک کی سخت آواز اور زلزلہ سے اور حضرت لوط ( علیہ السلام) کی امت پتھروں کے مینہ سے اور حضرت شعیب ( علیہ السلام) کی امت زلزلہ اور انگارے برسنے سے جو ہلاک ہوئی ان سب کا حال بیان فرما کر اس آیت میں آنحضرت کی تسکین اور قریش کی تنبیہ خدا تعالیٰ نے جو فرمائی ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ کر قریش بھی نبی وقت کی نصیحت نہ مانیں گے تو جس طرح گذشتہ امتوں کی بستیاں غارت ہوگئی ہیں اسی طرح یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 102 اللہ تبارک و تعالیٰ گزشتہ قوموں کی ہلاکت کے بعد باقی رہ جانے والی قوموں کو متنبہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : (آیت) ” کیا ان لوگوں کو جو اہل زمین کے (مر جانے کے) بعد زمین کے مالک ہوتے ہیں یہ امر موجب ہدایت نہیں ہوا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے گناہوں کے سبب ان پر مصیبت ڈال دیں۔ کیا ان امتوں پر واضح نہیں ہوا جو ان قوموں کے اپنے گناہوں کے سبب سے ہلاکت کے بعد، جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں، زمین میں وارث نبی ہیں ؟ پھر انہوں نے بھی ان ہلاک ہونے والے لوگوں جیسے اعمال کا ارتکاب شروع کردیا۔ کیا انہیں اس حقیقت کا علم نہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو انہیں بھی ان کے گناہوں کے سبب سے پکڑ لے ؟ کیونکہ اولین و…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 55–141

دعا کا طریقہ قول باری ہے وادعواربکم تضرعاً عاوخفیۃ۔ اپنے رب کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے) آیت میں چپکے چپکے رب کو پکارنے کا حکم ہے حسن کا قول ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس بات کی تعلیم دی ہے کہ تم اپنے رب کو کس طرح پکارو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے ایک عہد صالح کا ذکر فرمایا جس کی پکار کو اس نے پسند فرمایا تھا چناچہ ارشاد ہے اذنادی ربہ نداء خفیا۔ جبکہ اس نے اپنے رب کو چپکے چپکے پکارا) یعنی حضرت زکریاعلیہ السلام عبداللہ بن المبارک نے حسن بصری سے روایت کی ہے کہ لوگ یعنی صحابہ کرام بڑی عاجزی اور نیاز مندی کے ساتھ دعائیں مانگا کرتے تھے اور صرف سرگوشی کی آواز سنائی دیتی تھی۔ حضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

140 لوگوں کی اکثریت ہمیشہ بدکاروں ہی کی رہی : سو ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے ان کی اکثریت کو بدکار ہی پایا۔ پس عوام کی اکثریت کو معیارِ حق و صداقت نہیں قرار دیا جاسکتا جس طرح کہ نور حق و ہدایت سے محروم لوگوں کا کہنا اور ماننا ہے۔ اور اسی بناء پر دور حاضر میں جمہوریت کے بت کو پوجا جا رہا ہے کہ عوام کالانعام کی اکثریت کا ووٹ جس کو مل جائے وہی صحیح اور درست ہے۔ جو چاہے کرے خواہ اس کے فیصلے حق و صدق کے خلاف ہی کیوں نہ ہوں ۔ والعیاذ باللہ ۔ اور اسی بناء پر اہل بدعت جہلاء سادہ لوح عوام کی تائید کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دیتے ہیں، جبکہ قرآن و سنت کی تعلیمات مقدسہ اور نصوص کریمہ کی روشنی میں عوام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 88–102

سیدنا شعیب (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب الٰہی تشریح : مدین کی قوم پچھلی قوموں، یعنی قوم نوح، عاد، ثمود، اور قوم لوط کی طرح اخلاقی، مذہبی اور تعلیمی لحاظ سے بالکل بگڑ چکی تھی۔ سیدنا شعیب (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری اٹھائی، یہ واقعہ یہاں صرف اس لیے بیان کیا گیا کہچو ن کہ یہ سورت مکہ میں نازل ہوئی اور اس وقت اہل مکہ کا حال بھی کچھ ایسا ہی تھا تو لوگوں کو عبرت دلانے کے لیے ان کو ان تمام قوموں کے حالات اور انجام بتایا گیا کہ عرب لوگ سبق سیکھیں اور راہ ہدایت اختیار کریں۔ اہل مدین اس وقت شرک، بد دیانتی، جھوٹ فریب، ظلم، قتل و فساد غیر اخلاقی وکردار کی انتہائی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 100–108

رکوع نمبر 13 ۔ آیات 100 تا 108 ۔ اسرار و معارف : ہلاک ہونے والے اپنے انجام کو پہنچے مگر بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا بہت بڑا نشان بن کے کیسی کیسی خوشحال اور مضبوط قومیں جن کے پاس ہر طرح کے وسائل اور ذرائع موجود تھے دولت کی ریل پیل تھی عالیشان محل تھے اور طاقتور فوج تھی مگر مسلسل گناہ کے باعث عذاب الہی کی گرفت میں آئے اور ایسے تباہ ہوئے کہ سوائے عبرت کے کچھ باقی نہ بچا تو جو لوگ ان کے بعد آ کر پھر سے آباد ہوئے ہیں اور جو اس کتاب اور موجودہ پیغام کے مخاطب ہیں انہیں یہ ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ اللہ قادر ہے جب چاہے گناہ پر سزا دے سکتا ہے اور پہلی قوموں کی طرح انسان اپنے اعمال کی شامت میں…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 من عھد ( کوئی بھی اقرار) کا لفظ نکرہ استعمل ہوا ہے اس لیے اس سے مراد ہر قسم کا اقرار ہے چا ہے وہ فطری ہو یا شرعی یا عرفی4 نافرمان یعنی کسی قرار کا پاس نہ کرنے والے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(7:102) فما وجدنا ۔۔ من عھد۔ اور ہم نے ان سے اکثر کو عہد کا پابند نہ پایا۔ ما نافیہ ہے۔ ان مخففہ ہے ان سے۔ انا وجدنا ضرور پایا ہم نے۔ فاسقین۔ حکم عدولی کرنے والے۔ نافرمانی کرنے والے۔ حدود شریعت سے نکل جانے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 100–102

لغات القرآن آیت نمبر (100 تا 102 ) ۔ یرثون (وہ مالک ہوتے ہیں) ۔ اصبنھم (ہم نے ان کو پہنچایا۔ مصیبت میں ڈالا) ۔ نطبع (ہم مہر لگا دیتے ہیں) ۔ لا یسمعون (وہ نہیں سنتے ہیں) ۔ تلک القری (یہ بستیاں ) ۔ نقص (ہم بیان کرتے ہیں ) ۔ انباء (خبریں ) ۔ تشریح : آیت نمبر (100 تا 102) ۔ ” جیسا کہ گذشتہ آیات میں سمجھایا گیا ہے کہ قوموں کی تباہی ان کے گناہوں اور بد اعمالیوں کی سزا ہے جب وہ ضد اور ہٹ دھرمی میں بہت دور نکل جاتی ہیں۔ جب اصلاح کی تمام امیدیں ختم ہوجاتی ہیں، زلزلہ، طوفان، قحط، آتش زدگی، آتش فشانی، جنگ، وبا، وغیرہ یہ محض موسمی، جغرافیائی طبعیاتی، اتفاقی، حادثاتی یا جیسا کہ کارل مارکس وغیرہ نے سمجھایا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 102–103

ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے معجزوں کا ذکر فرمایا ہے۔ معجزہ : معجزہ ایک ایسی عادت سے باہر کرنے والی چیز کو کہتے ہیں، جس کا ظہور بدون تائید غیبی کے نہ ہوسکے اور خلقت اس جیسی چیز کے ظاہر کردینے سے عاجز ہو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 86–102

[41] یعنی یہ لوگ مبتلائے مصیبت ہو کر ایمان لانے کا عہد کرتے اور کہتے کہ اگر ہمیں اس سے نجات مل گئی تو ہم ضرور ایمان لائیں گے پھر جب نجات پاتے تو عہد سے پھرجاتے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 102–107

نبذعھد : (ف 1) ان تمام قصص کا مقصد یہ ہے کہ حضور ﷺ کو بتایا جائے کہ قومیں کس طرح بار بار اللہ کے بندھے ہوئے میثاق کو توڑتی چلی آئی ہیں اور کیوں کہ ہم نے ان کو سخت ترین سزائیں دی ہیں ، تاکہ ایک طرف آپ کو قریش مکہ کی مخالفت سے مایوسی نہ ہو اور دوسری جانب مکہ والوں کے دل میں ڈر پیدا ہو ، اور ان کو معلوم ہو کہ اگر ہم نے رسول اللہ کا کہا نہ مانا اور انکار کیا تو ہمارا حشر بھی یہی ہوگا ۔ ان قصوں سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جب وقت حق کا اظہار ہوتا ہے اکثریت کی جانب سے پر زور مخالفت ہوتی ہے اور ابتداء حق کو قبول کرنے والے بہت تھوڑے لوگ ہوتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

102 اور ہم نے ان منکرین کو اکثر وفائے عہد کا پابند نہ پایا اور عہد کا پورا نہ پایا اور ہم نے تو ان میں سے اکثر کو بےحکم اور نافرمان ہی پایا یعنی جب ان پر کوئی بلائے ناگہانی آجاتی ہے تو یہ لوگ اس وقت اطاعت و فرماں برداری کا عہد کرلیتے ہیں اور پھر ان میں کے اکثر اس عہد کو توڑ دیتے ہیں ہوسکتا ہے کہ عہد الست کا مراد ہو اگر وہ عہد مراد ہو تب بھی اکثریت نے اس عہد کو توڑا ہے۔ بہرحال عہد کو پورا کرنے والی سعید روحیں بہت کم ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 100–102

ف 1۔ اس بند لگانے کا سبب ان ہی کی ابتداء میں کفر کرنا ہے لقولہ تعالیٰ طبع اللہ علیھا بکفرھم۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

عہد شکنی ان کی فطرت ثانیہ ہے وعدہ کر کے توڑنا ان کا معمول ہے : 113: اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ ان کی اس حالت پر زیادہ غمگین نہ ہوں ان نافرمانوں کی سرشت اور ذہنیت ہمیشہ یہی رہی ہے سو آپ ﷺ ان پر زیادہ غم نہ کریں۔ رہی یہ بات کہ اس جگہ عہد سے کون سا عہد مراد ہے ؟ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا کہ اس عہد سے مراد ” عہد الست “ ہے جو ازل میں تمام انسانوں سے لیا گیا جس کے جواب میں ان سب نے ” بلی “ کہا تھا لیکن دنیا میں آکر اکثر لوگ اس کو بھول گئے اور اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کو چھوڑ کر مخلوق پرستی کی لعنت میں گرفتار ہوگئے اس لئے یہاں فرمایا گیا کہ ” ہم نے ان میں سے اکثروں کو ایسا پایا کہ وہ اپنے عہد پر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The verse 102 has said, "And We did not find with most of them any covenant (unbroken)." The Companion ` Abdullah ibn Abbas ؓ has said that the covenant referred to in this verse is the Covenant called . That is, the covenant that Allah made with the spirits of all the creatures before creating them, when Allah said to them: أَلَسْتُ بِرَ‌بِّكُمْ ''Am I not your Lord?" All the human spirits entered into a covenant by answering" Yes" to the question. Most of the people forgot this covenant after they came to earth, and got involved in worshipping false gods instead of worshipping Allah. The…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

82. The statement that 'We did not find most of them true to their covenants' signifies the general propensity of people not to honour their commitments. They are neither faithful to the primordial covenant which they made with God (see al-A'raf 7: 172) which is binding on every mortal as God's servant and creature, nor faithful to the collective covenant which is binding on every human being as a member of the human fraternity. Nor are men generally faithful to the commitments which they make to God in hours of distress or in moments when their moral instincts are awake and astir. Violation…

Read the full tafseer →