Al-Qalam 68:40

Al-Qalam · from ayah 40

68:40

سَلْهُمْ اَیُّهُمْ بِذٰلِكَ زَعِیْمٌ ۟ۚۛسَلۡهُمۡ اَيُّهُمۡ بِذٰلِكَ زَعِيۡمٌ ۛۚ‏

ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

Ask them which of them, for that [claim], is responsible.

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:40

اِن سے پوچھو تم میں سے کون اِس کا ضامن ہے؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سے پوچھو تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہدار (اور دعویدار) ہے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

(اے پیغمبر) ان سے پوچھو کہ : ان میں سے کون ہے جس نے اس بات کی ضمانت لے رکھی ہو ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تم ان سے پوچھو ان میں کون سا اس کا ضامن ہے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون اس (قسم کی بے ہودہ بات) کا ذِمّہ دار ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان سے پوچھ ان میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

آپ ان سے پوچھیے کہ اس بات کا ضامن کون ہے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان سے پوچھو، ان میں کون اس کا ضمن بنتا ہے ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

ذرا ان سے یہ تو پوچھو کہ ان میں سے کون ذمہ دار ہے اس کا ؟

— مولانا اسحاق مدنی

ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون اس کا ذمہ دار ہے ؟

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

(اے نبی ﷺ !) ذرا ان سے پوچھئے کہ ان میں سے کون ہے جو اس کا ضامن ہو ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ان سے پوچھو کہ ان میں سے اس کا کون ذمہ لیتا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Ask them: “Which of them can guarantee that?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Ask them which of them stands surety for that.

— Muhammad Taqi Usmani

Ask them which of them stands surety for that.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Ask them, which of them will stand as surety for that!

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Ask them (O Muhammad) which of them will vouch for that!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Ask them which of them, for that [claim], is responsible.

— Saheeh International

(Muhammad), ask which of them can guarantee that on the Day of Judgment.

— Muhammad Sarwar

Ask them which of them will vouch for that,

— Muhammad Habib Shakir

Ask then, which of them will stand thereof a surety?

— Abdul Majid Daryabadi

Ask thou of them, which of them will stand surety for that!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:40

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–41

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْقَلَم 22 اصل میں لفظ زعیم استعمال ہوا ہے۔ کلام عرب میں زعیم اس شخص کو کہتے ہیں جو کفیل، یا ضامن، یا کسی قوم کی طرف سے بولنے والا ہو۔ مطلب یہ ہے کہ تم سے کون آگے بڑھ کر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے اللہ سے تمہارے لیے ایسا کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔ اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 40–41

فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن بنتا ہے کہ ان کے لیے خدا نے نجات و فلاح کا غیر مشروط ابدی پروانہ جاری کر رکھا ہے؟ اگر ان کے کچھ شرکاء ہیں جن کی نسبت ان کا گمان ہے کہ وہ ان کے اوپر خدا کو ہاتھ ڈالنے نہ دیں گے تو ان کو پیش کریں اگر وہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں۔ یعنی ان کو دکھائیں ورنہ کم از کم ان کے نام ہی لیں تاکہ دوسروں کو بھی ان کی حیثیت و حقیقت کا کچھ اندازہ ہو۔۔۔ یہ امر یہاں ملحوظ رہے کہ مشرکین کو اپنے جن معبودوں پر ناز تھا کہ وہ خدا کے بڑے چہیتے ہیں وہ ان کو اس کی پکڑ سے بچا لیں گے ان کی بے حقیقتی قرآن نے ہر پہلو سے اس طرح واضح کر دی ہے کہ اس چیلنج کے جواب میں وہ ان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

40۔ 1 کہ کیا وہ قیامت والے دن ان کے لئے وہی کچھ فیصلہ کروائے گا، جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–41

13: بعض کافر یہ کہتے تھے کہ اگر بالفرض ہمیں اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا تب بھی وہ ہمیں وہاں جنت کی نعمتیں دے گا، جیسا کہ سورة حم السجدہ : 50 میں گذرا ہے۔ یہ آیتیں اس بےبنیاد خیال کی تردید فرما رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

سلھم ................ زعیم (86 : 04) ” ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے “۔ یعنی اس معاہدے کے اوپر کوئی ہے دستخط کرنے والا اور اس پر عمل کروانے کی ضمانت دینے والا کہ اللہ کے ساتھ ایسا کوئی معاہدہ ہوا ہے اور جو قیامت تک کے لئے قابل عمل اور قابل نفاذ ہے۔ یہ اس قسم کا مزاح ہے ، اس قدر فصیح وبلیغ مزاح ہے کہ اسے سن کر ایک معقول آدمی تو پانی پانی ہوکر رہ جاتا ہے کیونکہ اسے ایک نہایت ہی کھلی اور روشن حقیقت کا سامنا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 37–40

2 یعنی یہ بات کہ مسلم اور مجرم دونوں برابر کردیے جائیں ظاہر ہے عقل و فطرت کے خلاف ہے۔ پھر کیا کوئی نقلی دلیل اس کی تائید میں تمہارے پاس ہے ؟ کیا کسی معتبر کتاب میں یہ مضمون پڑھتے ہو کہ جو تم اپنے لیے پسند کرلو گے وہ ہی ملے گا ؟ اور تمہاری من مانی خواہشات پوری کی جائیں گی۔ یا اللہ نے قیامت تک کے لیے کوئی قسم کھالی ہے کہ تم جو کچھ اپنے دل سے ٹھہرالو گے وہ ہی دیا جائے گا ؟ اور جس طرح آج عیش و رفاہیت میں ہو۔ قیامت تک اسی حال میں رکھے جاؤ گے ؟ جو شخص ان میں سے ایسا دعویٰ کرے اور اس کے ثابت کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے، لاؤ، اسے سامنے کرو۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ کہاں سے کہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–41

آیت 36{ مَا لَـکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟“ کیا تمہاری َمت ماری گئی ہے جو ایسی رائے بناتے ہو ؟ کیا اللہ کے ہاں ایسا ہی اندھیر مچاہوا ہے کہ وہاں مسلمین اور مجرمین برابر ہوجائیں گے ؟ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حکومت اپنے باغیوں اور اپنے وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–41

18 غلط فہمی کی تین طرح سے تردید :۔ آیت نمبر 37 تا 41 میں تین مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو ان کے اس باطل نظریہ کی تردید میں نقلی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہیں : 1۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں آسودگی اور خوشحالی کی زندگی میسر ہوگی جیسا کہ تمہاری یہ خواہش ہے۔ 2۔ یا تم نے ہم سے کچھ ایسے حلف نامے لے رکھے ہیں کہ تمہیں قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو اور اپنے حق میں ایسا ہی فیصلہ چاہتے ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ان حلف ناموں کو ہم سے پورا کرا کے دینے کے لیے تم سے کون ذمہ دار اور ضامن ہے ؟ 3۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے کچھ معبود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 40–41

23۔ منکرین سے پھر حجت وبرہان کا مطالبہ ہے آخر کس چیز نے انہیں اب تک انکار پر جمارکھا ہے ؟ کس سہارے اور کس کے بھروسہ پر وہ اب تک اپنے عقائد باطلہ پر اڑے ہوئے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–41

ام لکم کتاب فیہ تدرسون یعنی تم جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ ہمیں وہاں بھی وہ سب کچھ ملے گا جو یہاں ملا ہوا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے کہ جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے اور تم اس میں پڑھ کر یہ حکم لگاتے ہو، یا ہم نے تم سے پختہ عہد کر رکھا ہے جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جو تم پسند کرو گے ؟ آپ ﷺ ان سے پوچھئے تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہ دار ہے کہ قیامت کے دن ان کے لئے وہی فیصلے کروائے گا جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا ؟ یا جن کو انہوں نے اس کا شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے ؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

سلھم ایھم بذلک رعیم . ان سے دریافت کرو کہ اس دعوے کا مدعی اور مثبت کون ہے۔ اللہ نے ان آیات میں ان تمام عقلی و نقلی دلائل کی نفی فرما دی جن سے ثبوت دعویٰ کا امکان ہوسکتا تھا ‘ نہ ان کو استحقاق ہے ‘ نہ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے ‘ نہ کوئی ایسا شخص ہے جو اس دعوے کو ثابت کرسکتا ہو کہ یہ اس کی تقلید کرتے ہوں۔ جب مؤمنوں کے ساتھ کافروں کی مساوات کی نفی (ہر طرح) کردی تو (یہ خیال ممکن تھا کہ اگرچہ خدا کافروں کو مؤمنوں کے برابر درجہ میں نہیں کرے گا لیکن خدا کے دوسرے شریک ایسا کردیں گے۔ اس امکانی خیال کو دفع کرنے کے لیے) آئندہ آیت میں وجود شرکاء کی ہی نفی فرما دی کہ جب اللہ کا کوئی شریک ہی نہیں تو اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 40–41

(4041) آپ ان سے ذرا چوپھیے تو کہ تمہارے اس دعوے پر تمہارا کون ضامن ہے کیا ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ معبود ہیں کہ انہوں نے ان سے اس چیز کا وعدہ کر رکھا ہے تو ان کو چاہیے کہ ان ٹھہرائے ہوئے معبودوں کو پیش کریں اگر یہ اپنے اس دعوے میں سچے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

سلھم ایھم بذلک زعیم : ان سے پوچھیے ! ان میں سے کون اس کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انھیں وہی ملے گا جو وہ کہیں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 40–41

سلھم ایھم بذلک زعیم۔ اے محمد ﷺ ان سے پوچھئے جو میرے بارے میں خود ساختہ باتیں کرتے ہیں جس بات کا ذکر پہلے گزر چکا ہے اس کا کوئی ضامن ہے کہ کفار کے لئیب ھی وہ بھلائی ہے جو مسلمانوں کے لئے ہے۔ زعیم سے مراد کفیل اور ضامن ہے (1) یہ حضرت ابن عباس اور قتادہ کا قول ہے۔ ابن کیسان نے کہا، یہاں زعیم سے مراد حجت قائم کرنے والا اور دعویٰ کرنے والا ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا، زعیم سے مراد رسول ہے (2) ام لھم شرکآء اصل کلام یہ ہے الھم شرکاء یہاں میم زائد ہے۔ شرکاء کا معین شہداء ہے۔ فلیاتوابشرکآ بھم جو انہوں نے گمان کیا ہے اس پر گواہی دیں ایسے گواہ لے آئو۔ ان کانوا صدقین۔ اگر وہ اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔ ایک قول…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–41

73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔ 74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[سَلْهُمْ اَيُّهُمْ : آپ پوچھیں ان سے کہ ان کا کون ][ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌ: اس کی ضمانت دینے والا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–40

﴿اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ0037﴾ (الی آخر الآیات) یہ بات جو تم نے کہی ہے تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے پاس آسمان سے کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جسے تم آپس میں پڑھتے ہو ؟ اور کیا اس کتاب میں یہ مضمون ہے کہ تم جو چاہو اپنے پاس سے اپنی خواہش کے مطابق کہہ دو گے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا ؟ پھر فرمایا کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں کہ تمہیں وہ دیا جائے گا جس کا تم فیصلہ کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ تم بتاؤ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا عہد ہے کہ جو تم کہہ دو گے ہم وہی کردیں گے اور تمہارے کہنے کے مطابق فیصلہ ہوگا ؟ ایسا نہیں ہے پھر بڑھ چڑھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

18:۔ ” سلھم “ خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے، فرمایا آپ ان دعویداروں سے سوال تو کریں کہ ان کے اس دعوے کا ضامن کون ہے کہ قیامت کے دن ان کا انجام بھی ویسا ہی ہوگا جیسا کہ مسلمانوں کا ہوگا۔ ای سل یا محمد ھؤلاء المتقولین علی ایھم کفی بما تقدم ذکرہ وھو ان لہم من الخیر ما للمسلمین (قرطبی ج 18 ص 247) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–41

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : گذشتہ آیات میں مشرکین مکہ کو تبنیہ کی گئی۔ ان کو مال و دولت ، اقتدار ، ریاست پر بڑا فخر تھا اللہ نے ایک مثال کے ذریعہ ان کو سمجھایا کہ یہ سب چیزیں اللہ نے ا ن کو امتحان کی خاطر دی ہیں ۔ یہ چیزیں اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پسندیدہ اور اسکے محبوب ہیں بلکہ یہ تو مکذب اور بری خصلتوں کے مالک ہیں۔ ان میں تکبر ، گناہ ، حدود کو توڑنا ، چغلی کرنا ، قسمیں کھانا ، حق کی مخالفت ، رسالت سے انکار ، اللہ کی وحدانیت سے انکار ، جزائے عمل اور معاد کا انکار پایا جاتا ہے۔ تو باغ والوں کی مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ان کو نعمتیں عطا کی گئی تھیں مگر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

سَلْہُمْ اَيُّہُمْ بِذٰلِكَ زَعِيْمٌ۝ 40 سأل السُّؤَالُ : استدعاء معرفة، أو ما يؤدّي إلى المعرفة، واستدعاء مال، أو ما يؤدّي إلى المال، فاستدعاء المعرفة جو ابه علی اللّسان، والید خلیفة له بالکتابة، أو الإشارة، واستدعاء المال جو ابه علی الید، واللّسان خلیفة لها إمّا بوعد، أو بردّ. ( س ء ل ) السؤال ( س ء ل ) السوال کے معنی کسی چیز کی معرفت حاصل کرنے کی استد عایا اس چیز کی استز عا کرنے کے ہیں ۔ جو مودی الی المعرفۃ ہو نیز مال کی استدعا یا اس چیز کی استدعا کرنے کو بھی سوال کہا جاتا ہے جو مودی الی المال ہو پھر کس چیز کی معرفت کی استدعا کا جواب اصل مٰن تو زبان سے دیا جاتا ہے لیکن کتابت یا اشارہ اس کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–41

ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔ تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 40–41

سَلْہُمْ اَیُّـھُمْ بِذٰلِکَ زَعِیْمٌ۔ اَمْ لَھُمْ شُرَکَـآئُ ج فَلْیَاْ تُوْا بِشُرَکَـآئِہِمْ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ ۔ (القلم : 40، 41) (ان سے پوچھئے، ان میں سے کون اس کا ضامن بنتا ہے۔ کیا ان کے کچھ شرکاء ہیں تو وہ لائیں اپنے شریکوں کو، اگر وہ سچے ہیں۔ ) گزشتہ آیت میں پوچھا گیا تھا کہ کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مرضی کے مطابق ان سے سلوک کرے گا اور قیامت (اگر آگئی) تو وہاں بھی یہ لوگ نوازے جائیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے یہ پوچھئے کہ تم جو عہدوپیمان وغیرہ کی باتیں کرتے ہو، کیا کوئی اس کا ضامن بھی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–41

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

40 : سَلْھُمْ (ان مشرکین سے پوچھیں) اَیُّھُمْ بِذٰلِکَ (ان میں سے اس کا کون) اس فیصلہ کا زَعِیْمٌ (ذمہ دار ہے) یعنی کفیل ہے کہ ایسا ضرور ہوگا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

39 ۔” ام لکم ایمان “ معاہدے ومیثاق ہیں۔ ” علینا بالغۃ “ پختہ جو تم نے ہم سے کیے ہیں۔ پس تم نے ان کو ہم سے پختہ کرلیا ہے کہ وہ نہ لوٹیں گے۔ ” الی یوم القیامۃ ان لکم “…” ان “ کو کسرہ دیا گیا ہے خبر میں لام داخل ہونے کی وجہ سے “ ذلک العھد “…” لما تحکمون “ اپنے لئے خیر اور عنداللہ اعزاز کا۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–41

34۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 40–41

(سلھم ایھم بذالک زعیم) ۔ یعنی ان سے پوچھو کہ اس دعوی کی کون ذمہ داری اٹھاتا ہے جس کا بطلان واضح ہے کسی کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اسے لے کر آگے بڑھے اور نہ وہ اس میں ضامن ہی بن سکتا ہے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

31 منکرین سے ان کی تعجیر و تجہیل کیلئے ایک اور سوال : سو منکرین کے مزاعم باطلہ کی بیخ کنی کیلئے مزید ارشاد فرمایا گیا کہ ان سے کہو کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے ؟ ظاہر ہے کہ ایسا بھی کوئی نہیں ہوسکتا ‘ کیونکہ یہ باتیں جو تم لوگ کہتے اور سنتے ہو ‘ عقل و منطق کے خلاف خود ساختہ و من گھڑت ہیں جن کی ذمہ داری اٹھانے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا (صفوۃ التفاسیر وغیرہ) سو اس طرح ان مشرکین کے سب مزاعم باطل ہوگئے ‘ اور کوئی حجت و دلیل ان کے پاس ایسی نہیں رہ گئی جس کا یہ سہارا لے سکیں ‘ اور کفر و شکر اور انکار و باطل کے حً میں آخر کوئی دلیل ہو ہی کیا سکتی ہے ؟ جب کہ وہ عقل کے بھی سراسر خلاف ہے نقل…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–40

ف 7 یعنی ان میں سے کون اس چیز کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انہیں وہی ملے گا جو مسلمانوں کو ملے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:40) سلہم : سل فعل امر واحد مذکر حاضر سؤال (باب فتح) مصدر۔ تو سوال کر تو پوچھ لے۔ تو دریافت کرلے ۔ تو مانگ لے : س و ل حروف مادہ۔ ہم ضمیر مفعول جمع مذکر غائب کا مرجع مشرکین ہے۔ سلہم ای المشرکین (مدارک التنزیل) ایہم : ای استفہامیہ ہے۔ مضاف ہے۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ۔ ان میں سے کون ؟ ذلک : کا اشارہ اس عہد و پیمان کی طرف ہے جو اوپر آیت 39 میں مذکور ہوا۔ زعیم : ضامن ، ذمہ دار۔ زعامۃ (باب فتح، نصر) مصدر سے جس کے معنی ضامن بننا یا کفیل ہونا۔ سلہم ایہم بذلک زعیم : (ای محمد ﷺ ) ان (مشرکین سے) پوچھئیے کہ ان میں سے کون اس بات کا ضامن ہے یا اس کی ذمہ داری لیتا ہے کہ ان کا اللہ سے کوئی عہد و…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن۔ تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔ تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–41

(ف 1) شان نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہماری ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوش حالی ملے گی، اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبردار کو ایک سا کردے۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–41

[10] کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اللہ جو اپنی نعمتوں سے ہمیں نواز رہا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور تم جو بدحالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اللہ کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر قیامت واقع ہوئی جیسا کہ تم کہتے ہو تو ہم وہاں بھی عیش کریں گے اور عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو تمہارے حصے میں آئے گا۔ اس کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–41

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(40) اے نبی آپ ان سے دریافت کیجئے کہ آخر انمیں وہ کون شخص ہے کہ اس قسم کی باتوں کا ضامن اور ذمہ دار ہے۔ یعنی اگر کوئی قسما قسمی ہوچکی ہے اور ہم نے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ ہم ابتدائے آفریشن سے لے کر آخر تک تم سے یکساں سلوک کریں گے اور جس طرح دنیا میں تم کو عیش و عشرت کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ دیا ہے اور بطور استدراج ہر قسم کی ترقی کے مواقع تمہارے لئے مہیا کردیئے گئے اسی طرح آخرت میں بھی تم کو ہر قسم کا آرام و آسائش مہیا کیا جائے گا تو جو اس طرح کا مہمل اور لایعنی باتوں کا ذمہ دار اور ضامن ہے وہ کون ہے اسے بتائو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–40

ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

آپ ﷺ ان سے پوچھئے کہ اس بات کا ان میں سے کون ذمہ دار ہے ؟ 40 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ ان لوگوں سے پوچھئے کہ وہ کون ہے ان میں سے جس نے ہم سے نجات اور فلاح و فوز کا وعدہ نامہ لکھوایا ہے۔ ذرا وہ ہمارے سامنے تو آئے جس سے ڈر کر ہم نے اس کی باتوں کی تصدیق کی ہے اور ہم نے کہہ دیا کہ یہ لوگ ہمارے چہیتے ہیں ، اس لئے چاہے یہ کیا کرتے رہیں ہم ان پر کوئی گرفت نہیں کریں گے۔ اس طرح کی سوچ رکھنے والے یہود میں بھی تھے اور نصاریٰ میں بھی اور آج بدقسمتی سے ان لوگوں کی نقالی میں ہمارے ہاں بھی ایسے لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے ، جن کے گمان میں اس طرح کی باتیں پائی جاتی ہیں اور جو لوگ دھڑلے سے کہتے ہیں کہ ہم کو اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–43

This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

22 Za'im in Arabic is used for a person who stands a surety on behalf of another, or is a spokesman of others. Thus, the verse means to ask: "Which of you will come forward and say that he has made such and such a covenant with Allah on your behalf?"

Read the full tafseer →