Al-Qalam 68:39

Al-Qalam · from ayah 39

68:39

اَمْ لَكُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بَالِغَةٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَةِ ۙ— اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَ ۟ۚاَمۡ لَـكُمۡ اَيۡمَانٌ عَلَيۡنَا بَالِغَةٌ اِلٰى يَوۡمِ الۡقِيٰمَةِ‌ ۙ اِنَّ لَـكُمۡ لَمَا تَحۡكُمُوۡنَ‌ۚ

یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Or do you have oaths [binding] upon Us, extending until the Day of Resurrection, that indeed for you is whatever you judge?

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 2 of surah · Ruku 4 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:39

یا پھر کیا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاؤ؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس شے کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لئے حاضر ہوگی

— مولانا فتح محمد جالندہری

یا تم نے ہم سے کچھ قسمیں لی ہیں؟ جو قیامت تک باقی رہیں کہ تمہارے لیے وه سب ہے جو تم اپنی طرف سے مقرر کر لو

— مولانا محمد جوناگڑہی

یا تم نے ہم سے قیامت کے دن تک باقی رہنے والی قسمیں لے رکھی ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم طے کرو گے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یا تمہارے لیے ہم پر کچھ قسمیں ہیں قیامت تک پہنچتی ہوئی کہ تمہیں ملے گا جو کچھ دعویٰ کرتے ہو

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یا تمہارے لئے ہمارے ذِمّہ کچھ (ایسے) پختہ عہد و پیمان ہیں جو روزِ قیامت تک باقی رہیں (جن کے ذریعے ہم پابند ہوں) کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جس کا تم (اپنے حق میں) فیصلہ کرو گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یا تمہارے پاس ہمارے ذمے کوئی حلفیہ عہد ہیں، جو قیامت کے دن تک جاپہنچنے والے ہیں کہ بیشک تمہارے لیے یقینا وہی ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یا ہمارے ذمہ تمہارے پاس حلفیہ عہد ہیں جو قیامت کے دن تک جا پہنچیں گے کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم حکم لگاؤ گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں قیامت تک باقی رہنے والی کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو تم فیصلہ کرو گے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یا تمہارے لئے ہمارے ذمے کوئی ایسی قسمیں ہیں قیامت تک پہنچنے والی (اس مضمون کی) کہ بلاشبہ کہ تمہیں ضرور وہی کچھ ملے گا جس کا فیصلہ تم کرتے ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

کیا ہمارے ذمہ کچھ تمہارے حق میں کھائی ہوئی قسمیں ہیں قیامت تک باقی رہنے والی کہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کا تم فیصلہ کررہے ہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

کیا تم نے ہم سے کوئی قسم لے رکھی ہے جو باقی رہنے والی ہو قیامت کے دن تک کہ تمہارے لیے وہی کچھ ہوگا جو تم فیصلہ کرو گے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں جو قیامت کے دن تک چلی جائیں گی کہ جس چیز کا تم حکم کرو گے وہ تمہارے لیے حاضر ہوگی

— محترمہ رفعت اعجاز

Or have We sworn a covenant with you which We are bound to keep till the Day of Resurrection, (a covenant requiring that whatever you ordain for yourselves shall be yours)?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Or do you have oaths sworn by Us, remaining effective up to the Day of Judgment, that you will get what you decide?

— Muhammad Taqi Usmani

Or do you have oaths sworn by Us, remaining effective up to the Day of Judgment, that you will get what you decide?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Or have you oaths from Us, lasting until the Day of Judgement, that yours will be what you judge

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Or have ye a covenant on oath from Us that reacheth to the Day of Judgment, that yours shall be all that ye ordain?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Or do you have oaths [binding] upon Us, extending until the Day of Resurrection, that indeed for you is whatever you judge?

— Saheeh International

Do you have a covenant with Us which allows you to do whatever you want until the Day of Judgment?

— Muhammad Sarwar

Or have you received from Us an agreement confirmed by an oath extending to the day of resurrection that you shall surely have what you demand?

— Muhammad Habib Shakir

Or have ye oaths from us reaching to the Day of Resurrection, that you shall be that which ye judge?

— Abdul Majid Daryabadi

Or have ye Covenants with Us to oath, reaching to the Day of Judgment, (providing) that ye shall have whatever ye shall demand?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:39

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 34–41

گنہگار اور نیکو کار دونوں کی جزاء کا مختلف ہونا لازم ہے اوپر چونکہ دنیوی جنت والوں کا حال بیان ہوا تھا اور اللہ کی نافرمانی اور اس کے حکم کے خلاف کرنے سے ان پر جو بلا اور آفت آئی اس کا ذکر ہوا تھا اس لئے اب ان متقی پرہیزگار لوگوں کا حال ذکر کیا گیا جنہیں آخرت میں جنتیں ملیں گی جن کی نعمتیں نہ فنا ہوں، نہ گھٹیں، نہ ختم ہوں، نہ سڑیں، نہ گلیں، پھر فرماتا ہے کیا ہوسکتا ہے کہ مسلمان اور گنہگار جزا میں یکساں ہوجائیں ؟ قسم ہے زمین و آسمان کے رب کی کہ یہ نہیں ہوسکتا، کیا ہوگیا ہے تم کس طرح یہ چاہتے ہو ؟ کیا تمہارے ہاتھوں میں اللہ کی طرف سے اتری ہوئی کوئی ایسی کتاب ہے جو خود تمہیں بھی محفوظ ہو اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 35–43

قرآن کریم کے اس لفظ نے اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِيْنَ كَالْمُجْرِمِيْنَ ، اس حقیقت کو واضح کردیا کہ عقلاً یہ ہونا ضروری ہے کہ کوئی ایسا وقت آئے جہاں سب کا حساب ہو اور جہاں مجرموں کے لئے کوئی چور دروازہ نہ ہو اور جہاں انصاف ہی انصاف ہو اور نیک و بد کا کھل کر امتیاز واضح ہو اور اگر یہ نہیں ہے تو دنیا میں کوئی برا کام برا نہیں اور کوئی جرم جرم نہیں اور پھر خدائی عدل و انصاف کے کوئی معنے نہیں رہتے۔ اور جب قیامت آنا اور اعمال کی جزاء و سزا ہونا یقینی ہوگیا تو آگے کچھ اہواں قیامت اور مجرمین کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے جس میں قیامت کے دن کشف ساق کا اعجاز بیان ہوا ہے اس کی حقیقت خلاصہ تفسیر میں آ چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرمایا کہ کیا خدا نے تم سے قیامت تک کے لیے عہد کر رکھا ہے کہ جو تم چاہو گے تمہارے ساتھ وہی معاملہ ہو گا؟ ظاہر ہے کہ اس قسم کے کسی عہد کی نشان دہی تم نہیں کر سکتے تو آخر وہ کیا چیز ہے جس کے بل پر تمہیں ناز ہے کہ نہ دنیا میں تمہیں کوئی ہلا سکتا اور نہ آخرت میں تم پر کوئی مسؤلیت ہے! یہ امر یہاں واضح رہے کہ قوموں سے اللہ تعالیٰ نے آخرت کی فوز و فلاح کے جو وعدے فرمائے ہیں وہ ایمان اور عمل صالح اور اس عہد کی پابندی کے ساتھ مشروط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے واسطہ سے لوگوں سے لیے ہیں۔ کسی قوم سے بھی اس نے کوئی ایسا عہد نہیں کیا ہے جو بالکل غیر مشروط طور پر قیامت تک کے لیے ہو۔ حضرت ابراہیم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 38–39

39۔ 1 یا ہم نے تم سے پکا عہد کر رکھا ہے، جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جس کا تم اپنی بابت فیصلہ کرو گے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 38–41

13: بعض کافر یہ کہتے تھے کہ اگر بالفرض ہمیں اللہ تعالیٰ نے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا تب بھی وہ ہمیں وہاں جنت کی نعمتیں دے گا، جیسا کہ سورة حم السجدہ : 50 میں گذرا ہے۔ یہ آیتیں اس بےبنیاد خیال کی تردید فرما رہی ہیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ام لکم .................... تحکمون (86 : 93) ” یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہدوپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگاﺅ“۔ اگر کتاب نہیں ہے تو پھر اللہ کا کوئی عہد تمہارے ساتھ ہوگا پھم ؟ اور یہ عہد قیامت تک کے لئے ہوگا۔ اور اس کے مطابق تمہارا یہ حق تسلیم کرلیا گیا ہوگا ، کہ تمہارے نفس کے بارے میں تمہارا اپنا اختیار ہے تم جو چاہو ، کرو لیکن ایسی کوئی بات نہیں ہے ، اللہ کے ہاں ایسا عہد کسی کے ساتھ نہیں ہے۔ آخر وہ کس بنیاد پر ایسی باتیں کرتے ہیں اور ان کی دلیل کیا ہے ؟

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 37–40

2 یعنی یہ بات کہ مسلم اور مجرم دونوں برابر کردیے جائیں ظاہر ہے عقل و فطرت کے خلاف ہے۔ پھر کیا کوئی نقلی دلیل اس کی تائید میں تمہارے پاس ہے ؟ کیا کسی معتبر کتاب میں یہ مضمون پڑھتے ہو کہ جو تم اپنے لیے پسند کرلو گے وہ ہی ملے گا ؟ اور تمہاری من مانی خواہشات پوری کی جائیں گی۔ یا اللہ نے قیامت تک کے لیے کوئی قسم کھالی ہے کہ تم جو کچھ اپنے دل سے ٹھہرالو گے وہ ہی دیا جائے گا ؟ اور جس طرح آج عیش و رفاہیت میں ہو۔ قیامت تک اسی حال میں رکھے جاؤ گے ؟ جو شخص ان میں سے ایسا دعویٰ کرے اور اس کے ثابت کرنے کی ذمہ داری اپنے اوپر لے، لاؤ، اسے سامنے کرو۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ وہ کہاں سے کہتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 36–41

آیت 36{ مَا لَـکُمْقف کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ۔ } ”تمہیں کیا ہوگیا ہے ‘ تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟“ کیا تمہاری َمت ماری گئی ہے جو ایسی رائے بناتے ہو ؟ کیا اللہ کے ہاں ایسا ہی اندھیر مچاہوا ہے کہ وہاں مسلمین اور مجرمین برابر ہوجائیں گے ؟ کیا دنیا میں کہیں ایسا ہوتا ہے کہ کوئی حکومت اپنے باغیوں اور اپنے وفاداروں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دے ؟

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 37–41

18 غلط فہمی کی تین طرح سے تردید :۔ آیت نمبر 37 تا 41 میں تین مختلف صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ جو ان کے اس باطل نظریہ کی تردید میں نقلی دلائل کی حیثیت رکھتی ہیں اور وہ یہ ہیں : 1۔ کیا کسی الہامی کتاب میں یہ بات لکھی ہوئی ہے کہ آخرت میں بھی تمہیں آسودگی اور خوشحالی کی زندگی میسر ہوگی جیسا کہ تمہاری یہ خواہش ہے۔ 2۔ یا تم نے ہم سے کچھ ایسے حلف نامے لے رکھے ہیں کہ تمہیں قیامت کے دن وہی کچھ ملے گا جو تم چاہتے ہو اور اپنے حق میں ایسا ہی فیصلہ چاہتے ہو۔ اگر ایسی بات ہے تو بتاؤ کہ ان حلف ناموں کو ہم سے پورا کرا کے دینے کے لیے تم سے کون ذمہ دار اور ضامن ہے ؟ 3۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ان کے کچھ معبود…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 37–41

ام لکم کتاب فیہ تدرسون یعنی تم جو یہ دعویٰ کر رہے ہو کہ ہمیں وہاں بھی وہ سب کچھ ملے گا جو یہاں ملا ہوا ہے، کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے کہ جس میں یہ بات لکھی ہوئی ہے اور تم اس میں پڑھ کر یہ حکم لگاتے ہو، یا ہم نے تم سے پختہ عہد کر رکھا ہے جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تمہارے لئے وہی کچھ ہوگا جو تم پسند کرو گے ؟ آپ ﷺ ان سے پوچھئے تو کہ ان میں سے کون اس بات کا ذمہ دار ہے کہ قیامت کے دن ان کے لئے وہی فیصلے کروائے گا جو اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے فرمائے گا ؟ یا جن کو انہوں نے اس کا شریک ٹھہرا رکھا ہے وہ ان کی مدد کر کے ان کو اچھا مقام دلوا دیں گے ؟ اگر ان کے شریک ایسے ہیں تو ان کو سامنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ام لکم ایمان علینا . یعنی یا قسموں سے پختہ کیے ہوئے تمہارے عہد ہم پر لازم ہیں۔ بالغۃ . انتہائی پختہ۔ الی یوم القیامۃ . اس کا تعلق (بالغۃ سے نہیں ہے بلکہ) محذوف فعل سے ہے یعنی ایسے عہد جو قیامت تک ہم پر لازم رہیں ‘ اس کی ذمہ داری سے اس وقت تک سبکدوشی نہ ہو جب تک قیامت کے دن تمہارے فیصلہ کے مطابق فیصلہ نہ ہوجائے یا بالغۃ سے تعلق ہے یعنی قیامت تک پہنچنے والے عہد۔ ان لکم لما تحکمون . لفظ ایمان سے قسم کا مفہوم پیدا ہوا تھا۔ یہ جملہ اس کا جواب (یعنی محل مفعول میں) ہے۔ یعنی کیا ہم نے قسم کھالی ہے کہ جو تم فیصلہ کرو گے ‘ وہی تم کو ضرور ملے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 37–39

(37۔ 39) کیا اس کتاب میں تمہارے لیے وہ چیز لکھی ہو جس کو تم پسند کرتے ہو یعنی جنت ملنا، کیا ہمارے ذمہ کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں کہ تمہیں آخرت میں جنت ملے جس کا تم اپنے لیے فیصلہ کر رہے ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ام لکم ایمان علینا بالغۃ…:”ایمان“ ”یمین“ کی جمع ہے، قسم، حلفیہ عہد۔ فرمایا، یا پھر تمہارے پاس ہمارے کوئی حلفیہ عہد ہوں جو قیامت تک کے لئے ہوں کہ تمہیں وہی ملے گا جو تم فیصلہ کرو گے۔ ظاہر ہے ہمارا عہد اگر ہے بھی تو ان سے ہے جو ایمان اور عمل صالح سے متصف ہیں، مجرموں اور ظالموں سے تو ہمارا کوئی عہد ہے ہی نہیں، جیسا کہ فرمایا :(لاینال عھدی الظلمین) (البقرۃ : 123)”میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔“

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 38–39

ان لکم لماتحکمون۔ خبر پر لام آنے کی وجہ سے ان کے ہمزہ کو کسرہ دیا۔ اس کلام کا تعلق ایمان کے ساتھ ہے محل نصب کا ہے لیکن لام کی وجہ سے کسرہ دیا گیا۔ تو کہتا ہے : حلفت ان لک کذا ایک قول یہ کیا گیا ہے، کلا ملای یوم القیمۃ پر مکمل ہوگی، پھر فرمایا : ان لکم لما تحکمون۔ یعنی معاملہ ایسا نہیں۔ ابن یزید نے ان لکم فیہ لماتخیرون۔ اور ان لکم لما تحکمون۔ دونوں میں استفہام کے ساتھ پڑھا ہے۔ حضرت حسن بصری نے بالغۃ نصب کے ساتھ حال پڑھا ہے یا تو یہ لکم کی ضمیر سے حال ہے کیونکہ یہ ایمان کی خبر ہے کیونکہ اس میں ایک ضمیر ہے جو اس کے مناسب ہے یا یہ علینا کی ضمیر سے حلا ہے اگر آپ علینا کو ایمان کی صفت بنائیں ایمان…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 33–41

73۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت کذلک العذاب اسی طرح ہے عذاب۔ یعنی دنیا کی سزا آیت ولعذاب الاخرۃ اکبر۔ اور البتہ آخرت کا عذاب بڑا ہے اور فرمایا آیت سلہم ایہم بذلک زعیم۔ ان سے پوچھیے کون سا ان میں اس بات کا ذمہ دار ہے۔ یعنی اس کام کا ان میں سے کون ضامن ہے۔ 74۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ تدرسون یعنی تم پڑھتے ہو اور آیت ایمان علینا بالغہ۔ کیا تمہارے لیے ہم نے قسمیں کھائی ہیں جو قیامت تک چلی جائیں گی یعنی ہم پر کوئی وعدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا : یا تمہارے لیے ہم پر ایسی قسمیں ہیں جو ][ بَالِغَةٌ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَةِ ۙ: پہنچنے والی ہیں قیامت کے دن تک ][ اِنَّ لَكُمْ : کہ تمہارے لیے ][ لَمَا : ضرور وہ ہوگا جو ][ تَحْكُمُوْنَ : تم لوگ آڈر دو گے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 37–40

﴿اَمْ لَكُمْ كِتٰبٌ فِيْهِ تَدْرُسُوْنَۙ0037﴾ (الی آخر الآیات) یہ بات جو تم نے کہی ہے تمہارے پاس اس کی کیا دلیل ہے ؟ کیا تمہارے پاس آسمان سے کوئی کتاب نازل ہوئی ہے جسے تم آپس میں پڑھتے ہو ؟ اور کیا اس کتاب میں یہ مضمون ہے کہ تم جو چاہو اپنے پاس سے اپنی خواہش کے مطابق کہہ دو گے اسی کے مطابق فیصلہ ہوجائے گا ؟ پھر فرمایا کیا تمہارے لیے ہمارے اوپر قسمیں ہیں جو قیامت تک باقی رہنے والی ہیں کہ تمہیں وہ دیا جائے گا جس کا تم فیصلہ کرتے ہو ؟ مطلب یہ ہے کہ تم بتاؤ کیا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ایسا عہد ہے کہ جو تم کہہ دو گے ہم وہی کردیں گے اور تمہارے کہنے کے مطابق فیصلہ ہوگا ؟ ایسا نہیں ہے پھر بڑھ چڑھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 34–52

بشارت اہل ایمان وتقوی بنعماء جنت وتذلیل وتوہین کفار ومشرکین درروز آخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ان للمتقین عندربھم .......... الی ........ الاذکر للعلمین “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں ان منکرین ومکذبین کا ذکر تھا جو دولت کے نشہ میں مست ہو کر اللہ کی نافرمانی پر کمر بستہ ہوئے رسول خدا ﷺ کی توہین وتذلیل کی تو انکی نافرمانی اور غرور کا انجام ہلاکت ایک تاریخی واقعہ کی شکل میں بیان فرمایا گیا اب ان آیات میں اہل تقوی و ایمان کا اعزاز واکرام اور جنت میں حق تعالیٰ شانہ ان کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازے گا بیان فرمایا جارہا ہے پھر اسی کے ساتھ تنبیہ کے طور پر مجرمین ومنکرین کا قیامت کے روز کیسا برا انجام…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 37–39

17:۔ ” ام لکم کتب “ خطاب مشرکین سے ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہاری مرضی کی باتیں موجود ہیں یعنی کیا اس میں لکھا ہے کہ ان کے معبود برکات دہندہ ہیں یا یہ کہ قیامت کے دن مسلمان ان کے برابر ہوں گے ؟ ” ام لکم ایمان “ یا ہم نے تمہارے ساتھ پختہ وعدے کر رکھے ہیں جن کو پورا کرنا قیامت تک ہمارے ذمہ ہے اور جو کچھ تم کہہ رہے ہو، ہم اس کو ضرور پورا کریں گے کہ قیامت کے دن تم مسلمانوں کے برابر ہو گے (بالغۃ) ای ثابتۃ الکم الی یوم القیامۃ لا نخرج عن عھدتہا الا یومئذ اذا حکمنالکم و اعطیناکم ماتحکمون (روح ج 29 ص 34) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 34–41

گذشتہ سے پیوستہ (ربطہ) : گذشتہ آیات میں مشرکین مکہ کو تبنیہ کی گئی۔ ان کو مال و دولت ، اقتدار ، ریاست پر بڑا فخر تھا اللہ نے ایک مثال کے ذریعہ ان کو سمجھایا کہ یہ سب چیزیں اللہ نے ا ن کو امتحان کی خاطر دی ہیں ۔ یہ چیزیں اس با ت کی دلیل نہیں ہیں کہ یہ لوگ اللہ کے پسندیدہ اور اسکے محبوب ہیں بلکہ یہ تو مکذب اور بری خصلتوں کے مالک ہیں۔ ان میں تکبر ، گناہ ، حدود کو توڑنا ، چغلی کرنا ، قسمیں کھانا ، حق کی مخالفت ، رسالت سے انکار ، اللہ کی وحدانیت سے انکار ، جزائے عمل اور معاد کا انکار پایا جاتا ہے۔ تو باغ والوں کی مثال بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے سمجھایا کہ ان کو نعمتیں عطا کی گئی تھیں مگر انہوں نے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اَمْ لَكُمْ اَيْمَانٌ عَلَيْنَا بَالِغَۃٌ اِلٰي يَوْمِ الْقِيٰمَۃِ۝ 0 ۙ اِنَّ لَكُمْ لَمَا تَحْكُمُوْنَ۝ 39 ۚ أَمْ»حرف إذا قوبل به ألف الاستفهام فمعناه : أي نحو : أزيد أم عمرو، أي : أيّهما، وإذا جرّد عن ذلک يقتضي معنی ألف الاستفهام مع بل، نحو : أَمْ زاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصارُ [ ص/ 63] أي : بل زاغت . ( ا م حرف ) ام ۔ جب یہ ہمزہ استفہام کے بالمقابل استعمال ہو تو بمعنی اور ہوتا ہے جیسے ازید فی الدار ام عمرو ۔ یعنی ان دونوں میں سے کون ہے ؟ اور اگر ہمزہ استفہام کے بعد نہ آئے تو بمعنیٰ بل ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا :۔ { أَمْ زَاغَتْ عَنْهُمُ الْأَبْصَارُ } ( سورة ص 63) ( یا) ہماری آنکھیں ان ( کی طرف )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 34–41

ترکیب : جنات النعیم اسم ان للمتقین خبرھا عندربہم یجوزان یکون ظرفاللا سقراروان یکون حالامن جنات افنجعل الھمزۃ للکانکارو الفاء للعطف علیٰ مقدر تقیضیہ المقام ای الخیف فی الحکم فنجعل المسلمین کالکافرین ام منقطعۃ کتاب موصوف فیہ تدرسون الجملۃ صفۃ لکتاب ان قراء الجمہور بالکسر علی انھا معمولۃ لتدرسون ای تدرسون فی الکتاب ان لکم فیہ لماتخیرون۔ وقیل تم الکلام عندقولہ تدرسون ثم ابتداء فقال ان لکم الخ بالغۃ بالرفع نعت لایمان وبالنصب علی الحال والعامل فیھا الظرف الی یوم القیامۃ بالمقدر فی لکم ای ثابتۃ لکم الیٰ یوم القیامۃ او ببالغۃ ای ایمان تبلغ ذلک الیوم۔ تفسیر : گروہ اشقیا کا حال پہلے مجملاً بیان فرمایا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَمْ لَـکُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بِالِغَـۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لا اِنَّ لَـکُمْ لَمَا تَحْکُمُوْنَ ۔ (القلم : 39) (یا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم فیصلہ کرو گے۔ ) اگر تمہارے پاس کوئی کتاب نہیں تو پھر یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی عہدوپیمان اللہ تعالیٰ نے تم سے ایسا کر رکھا ہو جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تم جو چاہو گے ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے تو پھر وہ عہد و پیمان پیش کرو۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی چیز ان کے پاس نہ تھی جسے وہ پیش کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کی فوزوفلاح کے جو وعدے قوموں سے کیے ہیں وہ ایمان اور عمل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 34–41

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ہوگا اور متقین کے لیے انعامات ہوں گے۔ فہم القرآن کا مطالعہ کرنے والے حضرات جانتے ہیں کہ قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ نیکی اور برائی، متقین اور مجرمین جنت اور جہنم کا مقابلۃً ذکر کرتا ہے۔ اسی اسلوب کے پیش نظر یہاں بھی مجرموں کا انجام ذکر کرنے کے بعد متقین کے انعامات کا ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہوا کہ کیا ہم تابعدار اور نافرمان لوگوں کو برابر کردیں ؟ ایساہرگز نہیں ہوگا یقیناً متقی لوگ اپنے رب کے ہاں انعام وکر ام والی جنت میں ہوں گے۔ جب جنتیوں کے انعام کا ذکر کیا جاتا ہے تو کفار اور مشرکین کہتے ہیں کہ ہم ایمانداروں سے دنیا میں بھی بہتر ہیں اور…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

39 : اَمْ لَکُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا (کیا ہمارے اوپر کچھ قسمیں چڑھی ہوئی ہیں جو تمہاری خاطر سے کھائی گئی ہوں) ایمانؔ سے ایسے وعدے جن کو قسموں سے پختہ کیا گیا ہو۔ بَالِغَۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ (اور وہ قسمیں قیامت تک باقی رہنے والی ہوں) یعنی وہ اس دن تک پہنچنے والی ہیں۔ اور وافر مقدار میں اس دن ختم ہونگی ان میں کوئی قسم باطل نہ ہوگی یہاں تک کہ مقسم علیہ کی پختگی ثابت ہوجائے۔ (اس کے مطابق ترکیب اول ہوگی) نحو : نمبر 1۔ ایمان موصوف ہے اور بالغۃؔ صفت اور الی یوم القیامۃ اس کے متعلق ہے نمبر 2۔ مقدر سے متعلق ہے تقدیر کلام اس طرح ہے ھی ثابتۃ لکم علینا لا الیٰ یوم القیامۃ لا نخرج عن عھدتہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 34–41

34۔ 41۔ اوپر دنیا کے ایک باغ کا ذکر تھا اس کے پورا کرنے کے لئے جنت کے باغوں کا ذکر فرمایا اس طرح کی آیتوں کو سن کر مشرکین مکہ یہ کہا کرتے تھے کہ اگر مرنے کے بعد پھر جینا اور میوے کھانے کے لئے باغوں کا ملنا سچ ہے تو دنیا میں جس طرح ہم لوگ بہ نسبت مسلمانوں کے خوشحالی سے گزران کرتے ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ہم اچھی طرح رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں مشرکوں کی اس بات کا یہ جواب دیا کہ آخرت کا حال کسی نے آنکھ سے تو ابھی تک دیکھا نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ سے وہ حال اپنے رسول کو بتایا ہے اور اللہ کے رسول کے ذریعہ سے وہ حال مسلمان لوگوں کو معلوم ہوا ہے۔ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 34–39

اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں آگاہی فرماتا ہے جو اس نے کفر اور معاصی سے بچنے والوں کے لیے تیار کررکھی ہیں، یعنی مختلف انواع کی نعمتیں اور اکرم الاکرمین کے جوار میں ہر قسم کے تکدر سے پاک زندگی، نیز وہ آگاہ فرماتا ہے کہ اس کی حکمت تقاضا نہیں کرتی کہ وہ اہل تقوی، اپنے رب کے فرماں بردار بندوں، اس کے احکام کی تعمیل کرنے والوں اور اس کی مرضی کی اتباع کرنے والوں کو مجرموں کے برابر قرار دے جنہوں نے اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی نافرمانی، اس کی آیات اور اس کے رسولوں کے ساتھ کفر اور اس کے اولیاء کے ساتھ محاربت میں مبتلا کررکھا ہے، جو کوئی یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سب لوگوں کو ثواب میں برقرار دے گا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

30 منکرین کے غرور پر ایک ضرب : سو منکرین کے غرور پر ایک اور ضرب لگانے کے لئے ارشاد فرمایا گیا کہ کیا تمہارے لئے ہمارے ذمے اس طرح کے کوئی عہد ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جو تم چاہو گے ؟ اور ظاہر ہے کہ یہ صورت بھی نہیں، ہمارے ذمے تمہاری لئے ایسی کوئی عہد و پیمان نہ ہیں اور نہ ہوسکتے ہیں، بلکہ اس کے برعکس اصل حقیقت یہ ہے جس کو طرح طرح سے واضح کیا گیا ہے کہ ہواں پر اصل فیصلہ انسان کے اپنے ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار پر ہوگا، تو پھر تم لوگ آخر کیوں اس طرح کے مغالطوں کا شکار ہو اور تم کیوں طرح طرح کی گمراہیوں میں غلطاں و پیچاں ہو ؟ تمہیں ناز کس چیز کا ہے ؟ اور کس اساس و بنیاد پر تم لوگ اس طرح کے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 36–52

کفار کی خوش فہمیاں، نبی ﷺ کو صبر کی تلقین تشریح : پچھلی آیات میں مسلمان اور کافر کی سزا و جزا کو علیحدہ علیحدہ کر کے بتا دیا گیا ہے کہ یہ اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ کیونکہ ہم یعنی کفار مکہ کے سردار دنیا میں امیر کبیر ہیں تو اس لیے ہیں کہ ہم سے اللہ خوش ہے تو اس نے ہمیں یہ تمام نعمتیں دے رکھی ہیں اس لیے آخرت اگر آئی تو وہاں بھی ہمیں کسی تحریر میں رب العزت نے ان سے اس بات کا وعدہ کر رکھا ہے کہ ان کو تو انعام و اکرام دئیے جائیں گے اور مسلمان کیونکہ یہاں اس دنیا میں کچھ کم حیثیت ہیں اس لیے آخرت میں بھی ان کو کچھ نہیں ملے گا۔ کچھ ہی دیر کی بات ہے بہت جلد سب کچھ سامنے آنے والا ہے (جب ساق کھول دی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 34–52

آیات 34 تا 52۔ اسرار ومعارف۔ اور جو لوگ عظمت الٰہی کا اقرار کرلیتے ہیں ان کی خاطر تو ان کے پروردگار نے جنت کی نعمتیں سجارکھی ہیں جو لوگ اطاعت گزار اور حکم بجالانے والے ہیں بھلامجرم ان کی برابری کس طرح کرسکتے ہیں کہ تم اے کفار برائی پہ اچھے نتیجے کی امید رکھتے ہو تمہاری یہ رائے قطعی غلط ہے کیا اس کے لیے تمہارے پاس کوئی نقلی دلیل ہے عقلا تو ویسے محال ہے تو کیا کسی آسمانی کتاب میں تمہیں یہ حق دیا گیا ہے کہ اپنے لیے بہتری چن لو یا اللہ نے قیامت تک کوئی قسم کھارکھی ہے کہ تم جو مانگو ملے گا بھلا تمہارے پاس ایسی باتوں کی کیا ضمانعت ہے ؟ یا کوئی اور ہستی ایسی ہے جو اللہ کی شریک ہے اس نے تمہیں وعدہ دے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 36–40

ف 7 یعنی ان میں سے کون اس چیز کا ذمہ لیتا ہے کہ آخرت میں انہیں وہی ملے گا جو مسلمانوں کو ملے گا بلکہ اس سے بھی زیادہ۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 38–39

(68:38) ان لکم فیہ لما تخیرون : ان محل مفعول میں ہے اس لئے بالکسر نہیں ہونا چاہیے بلکہ ان بالفتح ہونا چاہیے عبارت کو اصل میں یوں ہونا چاہیے ان لکم فیہ ما تخیرون (بفتح ھمزہ ان و ترک اللام فی خبرھا) جب لام کو تخیرون پر لایا گیا تو ہمزہ مکسور ہوگیا۔ اس کی دوسری صورت یہ ہے کہ قول محذوف ہے یعنی تم اس کتاب میں یہ قول پڑھتے ہو۔ کلام یوں ہو :۔ ام لکم کتب فیہ تدرسون فولا ان لکم فیہ لما تخیرون ۔ یا تمہارے پاس کوئی آسمانی کتاب ہے جس میں تم یہ قول پڑھتے ہو۔ تمہارے لئے وہاں (آخرت میں) وہی چیزیں ہوں گی جنہیں تم پسند کروگے۔ فیہ میں ضمیر ہ روز قیامت کے لئے ہے۔ الضمیر لیوم القیامۃ (روح البیان) تخیرون مضارع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 34–41

لغات القرآن۔ تدرسون۔ تم پڑھتے ہو۔ تخیرون۔ تم پسند کرتے ہو۔ ایمان۔ قسمیں۔ تشریح : مکہ کے کفار و مشرکین اپنی معمولی دولت اور چھوٹی چھوٹی سرداریوں کی وجہ سے اس طرح غرور وتکبر کے پیکر بنے ہوئے تھے کہ اپنے سوا ہر ایک کو حقیر اور ذلیل سمجھتے تھے۔ وہ اس غلط فہمی کا شکار تھے کہ جس طرح وہ اس دنیا مین عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں آخرت میں بھی اسی طرح راحت و آرام سے رہیں گے اور ان کے دیوی دیوتا ان کی سفارش کرکے جنت کی راحتوں سے ہم کنار کرادیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے خوش فہمی میں مبتلا ایسے لوگوں سے فرمایا ہے کہ جنت اور اس کی بھرپور نعمتوں کے مستحق وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے دنیا کی زندگی میں ایمان، عمل صالح،…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 34–41

(ف 1) شان نزول : مشرکین نے مسلمانوں سے کہا تھا کہ اگر مرنے کے بعد پھر ہم اٹھائے بھی گئے تو وہاں بھی ہم تم سے اچھے رہیں گے اور ہماری ہی درجہ بلند ہوگا جیسے کہ دنیا میں ہمیں آسائش حاصل ہے اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور فرمایا کہ ان مشرکوں کے پاس کیا اللہ کی طرف سے کوئی نوشتہ آیا ہے یا اللہ نے ان سے عہد لیا ہے یا کوئی ضامن انہوں نے پیدا کیا ہے یا ان کے بتوں نے ان سے اقرار کیا ہے کہ آخرت میں ان کو اللہ کے فرمانبرداروں سے بڑھ کر خوش حالی ملے گی، اللہ تعالیٰ کے انصاف میں یہ بات ہرگز روا نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نافرمان لوگوں کو اور فرمانبردار کو ایک سا کردے۔ یا اللہ تعالیٰ نے ان کے بتوں کو اپنے حکم میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 36–41

[10] کفار مکہ مسلمانوں سے کہا کرتے تھے کہ اللہ جو اپنی نعمتوں سے ہمیں نواز رہا ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ ہم سے خوش ہے اور تم جو بدحالی میں مبتلا ہو یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اللہ کے مغضوب ہو۔ لہذا اگر قیامت واقع ہوئی جیسا کہ تم کہتے ہو تو ہم وہاں بھی عیش کریں گے اور عذاب جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو تمہارے حصے میں آئے گا۔ اس کا جواب یہاں دیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 32–41

کیا مسلمان اور جرائم پیشہ لوگ برابر ہیں 1: جس طرح حق و باطل میں امیتاز ہے ۔ فسق وفجور تقوی اور پرہیزگاری برابر نہیں ۔ اور جس طرح سرکشی اور تمرد میں بین تفاوت ہے ۔ اسی طرح نتائج اعمال میں درجات کا فرق برحق ہے ۔ کچھ لوگ ایسے ہیں ۔ جو اپنی سیاہ کاریوں کے باعث اللہ کے غضب وسخط کے مستحق ہیں ۔ اور کچھ وہ ہیں ۔ جو صحت البقدہ اور حسن عمل کی بدولت مقام قرب وحضوری پر فائز ہیں ۔ اس کے لئے روح اور جسم کی پوری آسودگی کا انتظام ہے ۔ یہ لوگ جنات نعیم میں کام ورہن کی لذتوں سے بہرہ اندوز ہوں گے ۔ ان کے لئے روح کی بالیدگی کا سامان مہیا ہوگا ۔ ان کے لئے دیدہ ونظر کے لئے رب السموت کی جلوہ فرمائیاں باعث تسکین ہوں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(39) کیا تم نے ہم سے اس بات پر قیامت تک باقی رہنے والی کچھ محکم اور مضبوط قسمیں لے رکھی ہیں کہ جن چیزوں کا تم اپنے حق میں فیصلہ کررہے ہو وہ چیزیں تم کو ملیں گی۔ یعنی کیا ہمارے ذمہ کچھ ایسی قسمیں چڑھی ہوئی ہیں جو تمہارے خاطر سے کھائی گئی ہوں اور وہ قسمیں قیامت تک باقی رہنے والی ہوں اور ان قسموں اور ان عہد پیمان کا یہ مضمون ہو کہ جن چیزوں کا تم فیصلہ کررہے ہو وہ چیزیں تم کو ملیں گی۔ یعنی ثواب اور جنت کا تم دعویٰ کررہے ہو کہ یہ ہم کو ملیں گی یا ہم کو ہی ملیں گی تو کیا اس پر ہم سے کوئی عہد اور پیمان ہوگیا ہے ہم نے تمہارے لئے قسمیں کھا کر اس بات کو کہنا ہے اور وہ قسمیں بھی ایسی ہیں جن قسموں کا اثر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 33–40

ف 6۔ یعنی اے اہل مکہ تم بھی ایسے ہی عذاب کے مستحق ہو، بلکہ اس سے بھی زیادہ کے کیونکہ عذاب مذکور تو محض معصیت پر تھا، تم تو کفر کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا تم نے ہم سے قسمیں لے رکھی ہیں کہ جس کا تم حکم دو گے تم کو وہی مل جائے گا 39 ؎ اچھا اگر تمہارے پاس اس بات کی تحریر نہیں ہے اور تم نے اس طرح کی کوئی بات پڑھی بھی نہیں ہے تو کیا ہم سے تم نے زبانی عہد و پیمان لے رکھا ہے یا ہم نے تم کو قیامت تک اور قیامت کے بعد بھی عہد دے رکھا ہے کہ ہم تمہیں بالکل نہیں پوچھیں گے تم چاہو جو کچھ بھی کرتے رہے اور ہم اس قدر کمزور ہوچکے ہیں کہ تم کو پوچھ بھی نہ سکیں کہ تم کس طرح کی باتیں کرتے ہو۔ اتنا تمہارا رعب ہم پر چھا چکا ہے کہ جو تم حکم دو گے وہ ہم کو ہر حال میں ماننا ہی پڑے گا۔ تمہاری وقعت کیا ہے جس کے بل بوتے تم اس طرح کی باتیں بنا رہے ہو۔ تعجب ہے ہم کو کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 35–43

This verse: أَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِينَ كَالْمُجْرِ‌مِينَ (Otherwise, shall We make the obedient like the sinners?... 68:35). Clarifies that it is rationally necessary that there should come a time when people will have to give account of their deeds, a place where the guilty ones will find no escape routes, an ideal world where there will be absolute justice and fair play, where good and evil will be clearly distinguished. If this is not the state of affairs in the Hereafter, then no evil should be evil, and no sin should be sin in this mortal world. Divine justice would thus be rendered…

Read the full tafseer →