Al-Qalam 68:29

Al-Qalam · from ayah 29

68:29

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۟قَالُوۡا سُبۡحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيۡنَ

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Exalted is our Lord! Indeed, we were wrongdoers."

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:29

و ہ پکار اٹھے پاک ہے ہمارا رب، واقعی ہم گناہ گار تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بےشک ہم ہی قصوروار تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو سب کہنے لگے ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ﻇالم تھے

— مولانا محمد جوناگڑہی

کہنے لگے : ہم اپنے پروردگار کی تسبیح کرتے ہیں، یقینا ہم ظالم تھے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے پاکی ہے ہمارے رب کو بیشک ہم ظالم تھے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(تب) وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے، بے شک ہم ہی ظالم تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہمارا رب پاک ہے، بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : پاک ہے ہمارا پروردگار، ہم ہی ظالم تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تب وہ پکارے، ہمارا رب پاک ہے، بیشک ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بنے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس پر وہ سب پکار اٹھے کہ پاک ہے ہمارا رب بلاشبہ ہم ظالم تھے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ لوگ بولے کہ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا (واقعی تم ٹھیک کہتے ہو) ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم تھے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تب وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

They cried out: “Glory be to our Lord! Certainly we were sinners.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :We pronounce the purity of our Lord. No doubt, we were wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :We pronounce the purity of our Lord. No doubt, we were wrongdoers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said: "Glory to Our Lord! Verily, we have been wrongdoers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Glorified be our Lord! Lo! we have been wrong-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Exalted is our Lord! Indeed, we were wrongdoers."

— Saheeh International

They said, "All glory belongs to God. We have certainly been unjust".

— Muhammad Sarwar

They said: Glory be to our Lord, surely we were unjust.

— Muhammad Habib Shakir

They said: hallowed be Our Lord! verily we have been wrong- doers.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Glory to our Lord! Verily we have been doing wrong!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة الْقَلَم 17 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل ضرور توڑیں گے اس وقت اس شخص نے ان کو تنبیہ کی تھی کہ تم خدا کو بھول گئے۔ انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی۔ پھر جب وہ مسکینوں کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کر رہے تھے اس وقت بھی اس نے انہیں نصیحت کی کہ اللہ کو یاد کرو اور اس بری نیت سے باز آجاؤ، مگر وہ اپنی بات پر جمے رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ اس بھائی کی بات اس وقت تو کسی نے نہ سنی مگر اب سب نے اقرار کیا کہ اللہ تعالیٰ پاک ہے ہر نقص و کمی سے اور ہم ظالم ٹھہرے کہ ہم نے فقراء کے حصہ کو بھی کھا لینا چاہا۔ تنبیہ۔ یہ درمیان آدمی جس نے صحیح بات کہی تھی اگرچہ دوسروں سے بہتر تھا مگر پھر بہرحال انہیں کیساتھ ہو لیا اور انہیں کی غلط رائے پر عمل کے لئے تیار ہوگیا تھا اس لئے حشر اس کا بھی انہیں جیسا ہوا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو آدمی کسی گناہ سے لوگوں کو روکے مگر وہ نہ رکیں، پھر خود بھی ان کے ساتھ لگا رہے اور گناہ میں شریک رہے تو یہ بھی انہیں کے حکم میں ہوتا ہے اس کو چاہئے کہ وہ نہیں روکے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فوراً بولے کہ لاریب ہمارا رب پاک ہے، یہ اس نے ہمارے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ ہم ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے بنے کہ اپنی کامیابیوں کے نشہ میں اس کی شانوں کو بھول گئے اور اگر کسی نے ہمیں یاد دلانے کی کوشش کی تو سنی ان سنی کر دی۔۔۔ یہ اسی طرح کا اعتراف ہے جس طرح کا اعتراف فرعون نے اس وقت کیا جب وہ اپنی فوجوں سمیت موجوں کی لپیٹ میں آ گیا۔ اس طرح کی توبہ بعد ازوقت ہونے کے سبب سے بالکل بے سود ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 29–31

29۔ 1 یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ معصیت کا عزم اور اس کے لیے ابتدائی اقدامات بھی ارتکاب معصیت کی طرح جرم ہے جس پر مؤاخذہ ہوسکتا ہے صرف وہ ارادہ معاف ہے جو وسوسے کی حد تک ہو۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

11: ان بھائیوں میں ایک دوسروں کی بہ نسبت اچھا تھا، اس نے پہلے بھی بھائیوں سے کہا تھا کہ اللہ کا ذکر کرو، اور غریبوں کو منع نہ کرو، لیکن بعد میں وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–29

بل نحن محرومون (86 : 72) ” نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔ اور یہ ہے اصل حقیقت۔ اب سازش اور مکاری کے انجام نے انہیں گھیر لیا تھا۔ سرکشی اور دوسروں کے حقوق مارنے کا انجام انہوں نے دیکھا۔ اب ان میں سے معتدل ، عقلمند اور صالح آدمی یہ تبصرہ کرتا ہے : معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اس حرکت کا فیصلہ کررہے تھے تو اس نے ان کو غریبوں کی اس حق تلفی سے منع کیا تھا۔ اس نے چونکہ اپنی رائے پر اصرار نہ کیا تھا اس لئے اسے بھی دوسروں کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑا۔ لیکن وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم نے میری بات نہ سنی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 29–30

8 اب اپنی تقصیر کا اعتراف کر کے رب کی طرف رجوع ہوئے اور جیسا کہ عام مصیبت کے وقت قاعدہ ہے ایک دوسرے کو الزام دینے لگے، ہر ایک دوسرے کو اس مصیبت اور تباہی کا سبب گردانتا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

آیت 28{ قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ۔ } ”ان کے درمیان والے نے کہا : میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم اپنے رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟“ یہ انہی کے کسی نیک فطرت بھائی کا ذکر ہے جو گاہے بگاہے انہیں روکتا ٹوکتا تھا اور انہیں یاد دہانی کراتا رہتا تھا کہ تم اللہ کو بھولے ہوئے ہو اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–32

15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 29–31

قالوا سبحن ربنا انا کنا ظالمین یعنی اب انہیں احساس ہوا کہ ہم نے اپنے باپ کے طرز عمل کے خلاف قدم اٹھا کر غلطی کا ارتکاب کیا ہے جس کی سزا اللہ نے ہمیں دی ہے، اور اس تباہی و بربادی کا الزام آپس میں ایک دوسرے کو دینے لگے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قالوا سبحان ربنا . بولے ہمارا رب پاک ہے ‘ اس جملہ میں اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ظالم ہونے سے پاک ہے۔ (وہ ظالم نہیں) ۔ انا کنا ظلمین . اور اپنے ظالم ہونے کا اعتراف ہے کہ ہم نے ہی مسکینوں کا حق روک کر اپنے اوپر ظلم کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 29–30

(29۔ 30) بیشک ہم نے قصور کر کے اور انشاء اللہ نہ کہہ کر اور محتاجوں کو نہ دینے کی نیت کر کے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ہے، پھر ایک دوسرے کو مخاطب کر کے باہم الزام دینے لگے کہ فلاں تو نے ایسا کیا اور فلاں تو نے ایسا کیا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 28–29

قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ۔۔۔۔:”اوسطھم“ کا معنی ان کے درمیان والا بھی ہے اور ان میں سے افضل بھی ہے ، جیسے فرمایا :(وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا) (البقرہ : 143)”اور اسی طرح ہم نے تمہیں سب سے بہتر امت بنایا“۔ تو ان میں سے جو بہتر تھا اس نے انہیں ان کے خبیث ارادے کے وقت نصیحت کی تھی ”لو لا تسبحون“ کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے اور اس بری نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے ؟ مگر انہوں نے اس کی بات نہیں مانی تھی ، اب اس نے انہیں وہ بات یاد دلائی۔ ’ لو لا تسبحون“ کا معنی بعض نے یہ کیا ہے کہ ”تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟“ مگر سارا پھل توڑنے کا ارادہ کر کے ”ان شاء اللہ“ پڑھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–32

قال اوسطھم سب سے اچھے، سب سے عادل (4) اور سب سے دانشمند نے کہا، الم اقل لکم لولا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ ان کی استثناء تسبیح ہوا کتری، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ یہ اس پر دال ہے کہ اوسط نے انہیں استثناء کا حکم دیا تھا۔ دوسرے بھائیوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ ابوصالح نے کہا، ان کی استثناء سبحان اللہ تھی (5) اس نے ان سے کہا تھا تم سبحان اللہ کیوں نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس پر شکر کیوں نہیں بجا لائے ؟ نحاس نے کہا، تسبیح کا اصل معنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ مجاہد نے تسبیح کو انشاء اللہ کی جگہ رکھا ہے کیونکہ تنزیہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–32

68۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم یعنی ان میں جو سب سے زیادہ انصاف پسند تھا (اس نے کہا) ۔ 69۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت قال اوسطہم کے بارے میں روایت کیا یعنی جو ان میں سب سے زیادہ انصاف پسند تھا اور اللہ کی کتاب میں جہاں بھی اوسط کا لفظ ہے اس سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 70۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 71۔ ابن ابی حاتم نے سری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم اقل لکم لو لا تسبحون کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کا استثنی اس زمانے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ : انھوں نے کہا ہمارے رب کی پاکیزگی ہے ][ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ : بیشک ہم تھے ظلم کرنے والے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 29–32

13:۔ ” قالوا سبحن ربنا “ اب ان کے ہوش ٹھکانے آئے اور فوراً بول اٹھے ہمارا پروردگار شرک سے پاک ہے بیشک ہم غیر اللہ کو برکات دہندہ سمجھ کر اپنی جانوں پر ظلم کر رہے تھے۔ ” فاقبل بعضہم اب وہ ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے اور آخر انہوں نے اعتراف کرلیا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کیا ہے وہ حدود اللہ سے تجاوز تھا۔ ” عسی ربنا ان یبدلنا “ ہم اپنے کیے پر نادم ہیں اور اپنے پروردگار سے امید رکھتے ہیں کہ اب جبکہ ہم اپنے کیے سے توبہ کرچکے ہیں، وہ ہمیں اس کے عوض بہتر باغ عطا فرمائیگا کیونکہ اب ہم توبہ کر کے اللہ کی طرف راغب ہوچکے ہیں اور اس کی بارگاہ سے عفو درگذر کی امید رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِيْنَ۝ 29 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ سبحان و ( سُبْحَانَ ) أصله مصدر نحو : غفران، قال فَسُبْحانَ اللَّهِ حِينَ تُمْسُونَ [ الروم/ 17] ، وسُبْحانَكَ لا عِلْمَ لَنا [ البقرة/ 32] ، وقول الشاعرسبحان من علقمة الفاخر «1» قيل : تقدیره سبحان علقمة علی طریق التّهكّم، فزاد فيه ( من) ردّا إلى أصله «2» ، وقیل : أراد سبحان اللہ من أجل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–32

قَالَ اَوْسَطُھُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ فَاَقْـبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلاَ وَمُوْن۔ قَالُوْا یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ ۔ عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَـآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۔ (القلم : 28 تا 23) (ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ وہ پکار اٹھے، پاک ہے ہمارا رب واقعی ہم گنہگار تھے۔ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا ہائے بدبختی بیشک ہم ہی سرکش ہوگئے تھے۔ توقع ہے کہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

اعترافِ جرم : 29 : قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ (سب کہنے لگے۔ ہمارا پروردگار پاک ہے بیشک ہم قصور وار ہیں) انہوں نے خرابی بسیار کے بعد اس چیز پر گفتگو کی جو کہ ان کو قبل ازیں کرنی چاہیے تھی اور نیکی کی ممانعت کرنے کے ظلم کا اپنے متعلق اعتراف کیا۔ اور انشاء اللہ چھوڑنے کی غلطی مان گئے اور اللہ تعالیٰ کی تنزیہ کرتے ہوئے اس کو ظلم سے پاک قرار دیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28 ۔” قال اوسطھم “ ان میں سے انصاف پسند اور زیادہ سمجھ دار اور افضل نے۔ ” الم اقل لکم لو لا تسبحون “ کیوں نہیں استثناء کیا تم ن یان پر ان کے قول ” لیصرمنھا مصبحین “ میں استثناء چھوڑنے پر انکار کیا ہے اور استثناء کا نام تسبیح رکھا ہے اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی تعظیم ہے اور اس بات کا اقرار ہے کوئی کسی چیز پر اس کی مشیت کے بغیر قادر نہیں ہوسکتا اور ابوصالح (رح) فرماتے ہیں اس کا استثناء سبحان اللہ تھا اور کہا گیا ہے کیوں نہیں تم اللہ کی تسبیح کرتے اور سبحان اللہ کہتے اور جو تم کو دیا ہے اس پر شکر کرتے اور کہا گیا ہے تم اپنے فعل سے استغفار کیوں نہیں کرتے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(قالو سبحن ربنا انا کنا ظالمین) ۔ وہ کہنے لگے کہ ہمارا رب پاک ہے بیشک ہم ہی قصور وار تھے، اس کے بعد انہوں نے اپنی کوتاہی کا تدارک کیا مگر اسوقت جب ان کے باغ پر عذاب نازل ہوچکا تھا جو اٹھایا نہیں جاسکتا تھا۔ ہوسکتا ہے ان کی یہ تسبیح، اپنی جانوں پر ظلم کرنے کا اقرار، تخفیف گناہ میں کوئی فائدہ دے اور توبہ بن جائے، اس لیے وہ سخت نادم ہوئے۔

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 بدبختوں کا گرفت میں آنے کے بعد اعتراف و اقرار جرم : سو اس مرد ناصح کی اس تذکیر و یاد دہانی کے جواب میں انہوں نے اعتراف جرم کرتے ہوئے فوراً کہا کہ پاک ہے ہمارا رب ہر نقص و عیب سے اور اس سے کہ کوئی انسان اپنی عقل و تدبیر کے بل بوتے پر اس کے قدرت و مشیت پر غالب آسکے، سبحانہ و تعالیٰ اور یہ اس نے ہمارے اوپر کوئی ظلم نہیں کیا، بلکہ ہم لوگ خود ہی اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے تھے، ہم اپنی کامیابیوں کے نشے میں اس کی قدرت اور اسیک شانوں کو بھول گئے تھے او اگر اعتراف تھا جس طرح فرعون نے اپنی غرقابی کے موقع پر کیا تھا اور بےوقت کا ایسا اعتراف بےسود ہوتا ہے، والعیاذ باللہ العظیم ایسے وقت میں جبکہ ایسے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 29–30

ف 2 ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے کہ تمہارے ہی مشورہ پر چل کر ہم اس تباہی سے دوچار ہوئے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:29) قالوا سبحان ربنا۔ بولے ہمارا رب پاک ہے۔ اس جملہ میں اس امر کا اقرار ہے کہ اللہ ظاہم ہونے سے پاک ہے یعنی وہ ظالم نہیں ہے۔ انا کنا ظلمین۔ (بلکہ) ہم ہی ظلم کرنے والے ہیں ۔ یعنی ہم نے مسکینوں کا حق رکھ کر (اپنے اوپر) ظلم کیا۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–35

[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–31

ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(29) اس پر سب نے کہا ہمارا پروردگار جملہ عیوب سے پاک ہے بیشک ہم ہی ظالم اور قصور وار تھے۔ یعنی توبہ کے طور پر کہا کہ ہم نے ہی اپنی جان پر ظلم کیا اللہ تعالیٰ نے کوئی زیادتی نہیں کی۔ یہ اعتراف تھا گناہوں کا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–31

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انہوں نے کہا پاک ہے ہمارا پروردگار بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے 29 ؎ پھر کیا ہوا کہ جب ان کا سب کچھ لٹ گیا تو اس وقت انہوں نے اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی تسبیح وتحمید شروع کردی اور اس حقیقت کو تسلیم کرلیا کہ یہ ہمارا ہی قصور تھا اور ہم نے اپنی جانوں پر خود ظلم کیا تھا۔ اس طرح ان کو جو تاسف اور افسوس ہوا وہ ان کے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ تھا اور انہوں نے اس حقیقت کو تسلیم کرلیا۔ آپ سمجھ لیں کہ یہ بھی ان کی خوش بختی کی بات تھی۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قَالُوا سُبْحَانَ رَ‌بِّنَا إِنَّا كُنَّا ظَالِمِينَ (They said, "We pronounce the purity of our Lord. No doubt, we were wrongdoers." 68:29). Neither of the brothers had paid heed to this brother's advice at that point. But when the damage was done, they admitted that Allah is Pure, Free from any qualities of weaknesses and shortcomings, and that they were the wrongdoers, in that they were unjust to the poor intending to deprive them of their share and devour it themselves. Warning Although the best of the three brothers offered the right advice, he joined the other brothers in following…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

17 This means that when they were saying on oath: "We shall surely pluck the fruit of our garden tomorrow," this person had warned them at that time, saying: "Have you forgotten God? Why don't you say: If Allah so wills?" But they did not listen to him. Then, while they were making up their mind not to give away anything to the needy. he again advised them to remember Allah and to desist from their evil intention, but they persisted in what they had resolved.

Read the full tafseer →