Al-Qalam 68:28

Al-Qalam · from ayah 28

68:28

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ ۟قَالَ اَوۡسَطُهُمۡ اَلَمۡ اَقُلۡ لَّكُمۡ لَوۡلَا تُسَبِّحُوۡنَ

ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

The most moderate of them said, "Did I not say to you, 'Why do you not exalt [Allah]?' "

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Qalam

All translations of 68:28

اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اُس نے کہا "میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

ایک جو اُن میں فرزانہ تھا بولا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

ان سب میں جو بہتر تھا اس نے کہا کہ میں تم سے نہ کہتا تھا کہ تم اللہ کی پاکیزگی کیوں نہیں بیان کرتے؟

— مولانا محمد جوناگڑہی

ان میں جو شخص سب سے اچھا تھا، وہ کہنے لگا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

ان میں جو سب سے غنیمت تھا بولا کیا میں تم سے نہیں کہتا تھا کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

ان کے ایک عدل پسند زِیرک شخص نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم (اللہ کا) ذِکر و تسبیح کیوں نہیں کرتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

ان میں سے بہتر نے کہا کیا میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

ان کے منجھلے نے کہا : میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان میں جو شخص کچھ معقول تھا اس نے کہا، میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اس وقت بولا وہ شخص جو ان میں سب سے بہتر (اور صائب رائے والا) تھا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ کیوں تسبیح نہیں کرتے (اپنی اس بدنیتی کو چھوڑ کر)

— مولانا اسحاق مدنی

پھر ان میں سے جو (نسبۃ) بہتر تھا وہ بولا کہ کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا سو (اب) تسبیح کیوں نہیں کرتے ہو ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

ان کے درمیان والے نے کہا : میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم (اپنے رب کی) تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ایک جو ان میں درمیانہ تھا بولا کیا میں نے تم سے نہیں بولا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے

— محترمہ رفعت اعجاز

The best among them said: “Did I not say to you: why do you not give glory to (your Lord)?”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Said he who was the best among them, :Did I not say to you, _Why do you not pronounce tasbiH (Allah‘s purity) ?

— Muhammad Taqi Usmani

Said he who was the best among them, :Did I not say to you, _Why do you not pronounce tasbiH (Allah‘s purity) ?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

The Awsat among them said; "Did I not tell you, `Why do you not Tusabbihun."'

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

The best among them said: Said I not unto you: Why glorify ye not (Allah)?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

The most moderate of them said, "Did I not say to you, 'Why do you not exalt [Allah]?' "

— Saheeh International

A reasonable one among them said, "Did I not tell you that you should glorify God?"

— Muhammad Sarwar

The best of them said: Did I not say to you, Why do you not glorify (Allah)?

— Muhammad Habib Shakir

The most moderate of them said: said I not Unto you, wherefore hallow him ye not!

— Abdul Majid Daryabadi

Said one of them, more just (than the rest): "Did I not say to you, 'Why not glorify (Allah)?'"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 68:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 17–33

سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–29

سورة الْقَلَم 17 اس کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ قسم کھا کر کہہ رہے تھے کہ کل ہم اپنے باغ کے پھل ضرور توڑیں گے اس وقت اس شخص نے ان کو تنبیہ کی تھی کہ تم خدا کو بھول گئے۔ انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی۔ پھر جب وہ مسکینوں کو کچھ نہ دینے کا فیصلہ کر رہے تھے اس وقت بھی اس نے انہیں نصیحت کی کہ اللہ کو یاد کرو اور اس بری نیت سے باز آجاؤ، مگر وہ اپنی بات پر جمے رہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قَالَ اَوْسَطُهُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ ان میں سے جو درمیان آدمی تھا یعنی باپ کی طرح نیک صالح اللہ کی راہ میں خرچ پر خوش ہونے والا تھا دوسرے بھائیوں کی طرح بخیل سخت دل نہ تھا اس نے کہا کہ کیا میں نے تمہیں پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کے نام کی تسبیح کیوں نہیں کرتے، تسبیح کے لفظی معنی پاکی بیان کرنے کے ہیں، مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے اپنا مال بچا لینے کی تدبیر کا منشاء یہ ہے کہ آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے وہ خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے اور زیادہ دیتا ہے۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اَوْسَطُہُمْ‘ سے مراد ان کے اندر کا سب سے زیادہ میانہ رو اور معقول آدمی۔ برے سے برے معاشرے کے اندر بھی بعض سعید روحیں ہوتی ہیں جو لوگوں کو ان کی بے راہ روی پر ٹوکتی رہتی ہیں خواہ غفلت کے متوالے سنیں یا نہ سنیں۔ اسی طرح کا کوئی اللہ کا بندہ ان کے اندر بھی تھا جو وقتاً وفوقتاً ان کو یاددہانی کرتا رہتا تھا کہ اپنے رب سے غافل نہ رہو بلکہ اس کی تسبیح کرتے رہو۔ لفظ ’تَسْبِیْح‘ ایک جامع کلمہ ہے جو اللہ کی یاد اور اس کی بندگی کے پورے مفہوم پر حاوی ہے۔ پہلے تو اس کا وعظ ان سرمستوں پر کارگر نہ ہوا لیکن جب ان کی غفلت کا انجام ان کے سامنے آ گیا تب ان کو اندازہ ہوا کہ خدا بھی کوئی چیز ہے اور یہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 28–31

11: ان بھائیوں میں ایک دوسروں کی بہ نسبت اچھا تھا، اس نے پہلے بھی بھائیوں سے کہا تھا کہ اللہ کا ذکر کرو، اور غریبوں کو منع نہ کرو، لیکن بعد میں وہ بھی دوسرے بھائیوں کے ساتھ شامل ہوگیا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–29

بل نحن محرومون (86 : 72) ” نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے “۔ اور یہ ہے اصل حقیقت۔ اب سازش اور مکاری کے انجام نے انہیں گھیر لیا تھا۔ سرکشی اور دوسروں کے حقوق مارنے کا انجام انہوں نے دیکھا۔ اب ان میں سے معتدل ، عقلمند اور صالح آدمی یہ تبصرہ کرتا ہے : معلوم ہوتا ہے کہ جب یہ لوگ اس حرکت کا فیصلہ کررہے تھے تو اس نے ان کو غریبوں کی اس حق تلفی سے منع کیا تھا۔ اس نے چونکہ اپنی رائے پر اصرار نہ کیا تھا اس لئے اسے بھی دوسروں کے ساتھ نقصان میں شریک ہونا پڑا۔ لیکن وہ انہیں یاد دلاتا ہے کہ تم نے میری بات نہ سنی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 منجھلا بھائی ان میں زیادہ ہشیار تھا۔ اس نے مشورہ کے وقت متنبہ کیا ہوگا کہ اللہ کو مت بھولو۔ یہ سب اسی کا انعام سمجھو اور فقیر محتاج کی خدمت سے دریغ نہ کرو۔ جب کسی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا، چپ ہو رہا اور ان ہی کا شریک حال ہوگیا۔ اب یہ تباہی دیکھ کر اس نے وہ پہلی بات یاد دلائی۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 28–29

آیت 28{ قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ۔ } ”ان کے درمیان والے نے کہا : میں تمہیں کہتا نہ تھا کہ تم اپنے رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟“ یہ انہی کے کسی نیک فطرت بھائی کا ذکر ہے جو گاہے بگاہے انہیں روکتا ٹوکتا تھا اور انہیں یاد دہانی کراتا رہتا تھا کہ تم اللہ کو بھولے ہوئے ہو اور اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے سے پہلوتہی کرتے ہو۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 18–32

15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔ جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

14۔ یعنی توبہ و استغفار سے اپنی غلطی کا تدارک کیوں نہیں کرتے۔ (آیت) ” اوسطھم “۔ یعنی ان لوگوں میں سے بہترین شخص۔ ابن عباس ؓ صحابی اور ائمہ تابعین نے یہی معنی لیے ہیں۔ اے اعدلھم واعقلھم وافضلھم ‘(معالم) قال ابن عباس ؓ مجاھد و سعید بن جبیر وعکرمہ ومحمد بن کعب والربیع بن انس والضحاک وقتادۃ اے اخیرھم (ابن کثیر) بعض نے لفظی معنی لے کر باغوں کے مالکوں میں سے منجھلے بھائی سے مراد لی ہے۔ قال ..... لکم “۔ یہ شخص وہ تھا جس کا عقیدہ تو صحیح تھا لیکن عملا یہ بھی ان لوگوں کا شریک حال ہوگیا تھا۔ (آیت) ” لو لا تسبحون “ تسبیح کے عموم میں توبہ، استغفار وغیرہ سب شامل ہیں۔ اے لولا تذکروں اللہ وتتوبون الیہ من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

قال اوسطھم الم اقل لکم (الآیۃ) اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں جو نسبۃً بہتر تھا اس نے اس وقت بھی جب وہ فقیروں کو نہ دینے کی قسم کھا رہے تھے کہا تھا کہ تم خدا کو بھول گئے ؟ انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ مگر انہوں نے اس کی پروا نہ کی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قال اوسطھم . ان میں سے ایک متوسط عمر کے آدمی نے جو سب سے زیادہ انصاف پسند اور سمجھدار تھا ‘ کہا الم اقل لکم لولا تسبحون . استفہام تقریری ہے ‘ کیا میں نے تم سے نہیں کہہ دیا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ انشاء اللہ کہنے کو تسبیح قرار دیا ‘ اس لیے کہ انشاء اللہ کہنے میں اللہ کی تعظیم اور اس بات کا اقرار ہوتا ہے کہ اللہ کی مشیت کے بغیر کسی کو کسی بات پر قدرت حاصل نہیں ہوتی۔ (یہی تسبیح کا مفہوم ہے) ۔ ابو صالح نے کہا وہ لوگ انشاء اللہ کہنے کے موقع پر سبحان اللہ کہا کرتے تھے (اسی لیے انشاء اللہ کی جگہ تَسَبِّحُوْنَ کہا) یا یہ مطلب ہے کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ اللہ کی نعمت کا شکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

ان میں سے درمیانہ عمر والے نے یا یہ کہ جو بات میں یا عقل میں کسی قدر اچھا آدمی تھا اس نے کہا کہ کیوں میں نے تمہیں کہا نہ تھا کہ انشاء اللہ کیوں نہیں کہہ لیتے اور اس شخص نے اپنے ساتھیوں سے جبکہ وہ قسمیں کھا رہے تھے تب یہ بات کہی تھی سو سب کہنے لگے کہ ہم اپنے پروردگار سے توبہ کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 28–29

قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ۔۔۔۔:”اوسطھم“ کا معنی ان کے درمیان والا بھی ہے اور ان میں سے افضل بھی ہے ، جیسے فرمایا :(وَکَذٰلِکَ جَعَلْنٰـکُمْ اُمَّۃً وَّسَطًا) (البقرہ : 143)”اور اسی طرح ہم نے تمہیں سب سے بہتر امت بنایا“۔ تو ان میں سے جو بہتر تھا اس نے انہیں ان کے خبیث ارادے کے وقت نصیحت کی تھی ”لو لا تسبحون“ کہ تم اللہ کی تسبیح کیوں نہیں کرتے اور اس بری نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے ؟ مگر انہوں نے اس کی بات نہیں مانی تھی ، اب اس نے انہیں وہ بات یاد دلائی۔ ’ لو لا تسبحون“ کا معنی بعض نے یہ کیا ہے کہ ”تم ان شاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟“ مگر سارا پھل توڑنے کا ارادہ کر کے ”ان شاء اللہ“ پڑھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 28–32

قال اوسطھم سب سے اچھے، سب سے عادل (4) اور سب سے دانشمند نے کہا، الم اقل لکم لولا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے ؟ ان کی استثناء تسبیح ہوا کتری، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ یہ اس پر دال ہے کہ اوسط نے انہیں استثناء کا حکم دیا تھا۔ دوسرے بھائیوں نے اس کی اطاعت نہ کی۔ ابوصالح نے کہا، ان کی استثناء سبحان اللہ تھی (5) اس نے ان سے کہا تھا تم سبحان اللہ کیوں نہیں کہتے اور اللہ تعالیٰ نے تمہیں جو کچھ دیا ہے اس پر شکر کیوں نہیں بجا لائے ؟ نحاس نے کہا، تسبیح کا اصل معنی اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کرنا ہے۔ مجاہد نے تسبیح کو انشاء اللہ کی جگہ رکھا ہے کیونکہ تنزیہ کا معنی یہ ہے کہ کوئی بھی چیز…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–32

68۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم یعنی ان میں جو سب سے زیادہ انصاف پسند تھا (اس نے کہا) ۔ 69۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے آیت قال اوسطہم کے بارے میں روایت کیا یعنی جو ان میں سب سے زیادہ انصاف پسند تھا اور اللہ کی کتاب میں جہاں بھی اوسط کا لفظ ہے اس سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 70۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قال اوسطہم سے مراد ہے سب سے زیادہ انصاف کرنے والا۔ 71۔ ابن ابی حاتم نے سری (رح) سے روایت کیا کہ آیت الم اقل لکم لو لا تسبحون کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کہ ان کا استثنی اس زمانے میں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَالَ اَوْسَطُهُمْ : کہا ان کے زیادہ افضل نے ][ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ : کیا میں نے نہیں کہا تھا تم لوگوں سے ][ لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ : کہ تسبیح کیوں نہیں کرتے (اللہ کی)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 17–32

ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 17–33

عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔ (ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 26–28

12:۔ ” فلما راوھا “ جب وہ باغ کی جگہ پہنچے تو اسے اجڑا ہوا دیکھ کر بولے رات کے اندھیرے میں ہم راستہ بھول گئے ہیں اور اپنے باغ کے بجائے کسی دوسری جگہ پہنچ گئے۔ ” بل نحن محرومون “ لیکن جب انہوں نے آس پاس کے کھیتوں اور زمینوں کا بغور جائزہ لیا تو سمجھ گئے کہ یہ جگہ تو ہمارے ہی باغ کی ہے اور ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ اللہ نے اس کو اجاڑ کر ہمیں اس کے پھل سے محروم کردیا ہے۔ قال اوسطھم، اب ان میں سے جو سب سے اچھا بھائی تھا، وہ بولا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم خدا کی تسبیح و تقدیس کیوں نہیں کرتے ہو اور برکات دینے میں اس کو وحدہ لا شریک کیوں نہیں سمجھتے ہو ؟۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 17–33

گذشتہ سے پیوستہ : گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالَ اَوْسَطُہُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّكُمْ لَوْلَا تُـسَبِّحُوْنَ۝ 28 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ وسط وَسَطُ الشیءِ : ما له طرفان متساویا القدر، ويقال ذلک في الكمّيّة المتّصلة کالجسم الواحد إذا قلت : وَسَطُهُ صلبٌ ، وضربت وَسَطَ رأسِهِ بفتح السین . ووَسْطٌ بالسّكون . يقال في الكمّيّة المنفصلة كشيء يفصل بين جسمین . نحو : وَسْطِ القومِ كذا . والوَسَطُ تارة يقال فيما له طرفان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–33

ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔ تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 28–32

قَالَ اَوْسَطُھُمْ اَلَمْ اَقُلْ لَّـکُمْ لَوْلاَ تُسَبِّحُوْنَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَ رَبِّنَـآ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ۔ فَاَقْـبَلَ بَعْضُہُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّتَلاَ وَمُوْن۔ قَالُوْا یٰـوَیْلَنَـآ اِنَّا کُنَّا طٰغِیْنَ ۔ عَسٰی رَبُّنَـآ اَنْ یُّبْدِلَنَا خَیْرًا مِّنْھَـآ اِنَّـآ اِلٰی رَبِّنَا رٰغِبُوْنَ ۔ (القلم : 28 تا 23) (ان میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم لوگ رب کی تسبیح کیوں نہیں کرتے۔ وہ پکار اٹھے، پاک ہے ہمارا رب واقعی ہم گنہگار تھے۔ پھر وہ آپس میں ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے۔ انھوں نے کہا ہائے بدبختی بیشک ہم ہی سرکش ہوگئے تھے۔ توقع ہے کہ ہمارا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 17–33

فہم القرآن ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔ نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : قَالَ اَوْسَطُھُمْ (ان میں سے اچھے آدمی نے کہا) انصاف پسند سب سے بہتر آدمی اَلَمْ اَقُلْ لَّکُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُوْنَ (کیا میں نے تم کو نہ کہا تھا۔ اب تسبیح کیوں نہیں کرتے) تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے کیونکہ استثناء تسبیح ہے کیونکہ تعظیم الٰہی کا معنی دونوں میں مشترک ہے استثناء تفویض اور تسبیح تنزیہ ہے اور تنزیہ وتفویض ہر دو تعظیم ہیں۔ نمبر 2۔ تم اللہ تعالیٰ کو یاد کرکے اس کی بارگاہ میں خبیث نیت سے توبہ کیوں نہیں کرتے۔ گویا ان کے منصف آدمی نے ان کے اس ارادہ کے وقت ان کو یہ بات کہی۔ تم اللہ تعالیٰ اور اس کے اس انتقام کو یاد کرو جو وہ مجرمین سے لیا کرتا ہے۔ پس اس خبیث خیال سے توبہ کرو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

27 ۔” تو ان میں سے بعض نے کہا ” بل نحن محرومون “ ہم اس کی خیر اور نفع سے محروم کیے گئے ہیں، ہمارے مساکین کو نہ دینے کی وجہ سے اور استثناء چھوڑنے کی وجہ سے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 17–33

17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 26–28

(فلما رواھا) جب انہوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا (قالوا) تو انہوں نے حیرت اور بےقراری سے کہا (انا لضالون) ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب تحقیق ہوگیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے (بل نحن محرومون) ہم اس باغ سے محروم ہیں اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے (قال اوسطھم) یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا 0 الم اقل لکم لو لا تسبحون) کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں ؟ ان میں سے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 13–52

قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔ ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

19 نیک بخت انسان کی تنبیہ و تذکیر کا ذکر وبیان : سو اس وقت ان کے میانہ رو شخص نے ان بگڑے ہوئے انسانوں سے کہا کہ کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے ؟ یعنی اوسط سے یہاں پر مراد عقل ورائے کے اعتبار سے اوسط ہے، (قرطبی، صفوہ وغیرہ) سو یہ ان کے اندر کا سب سے میانہ رو اور معقول آدمی تھا اور یہ کوئی تعجب کی بات نہیں، برے سے برے معاشرے میں بھی کچھ ایسی نیک بخت اور سعید روحیں موجود ہوتی ہیں جو لوگوں کو ان کی بےراہ روی پر ٹوکتی اور غلط راستے سے روکتی رہتی ہیں، غفلت کے مارے خواہ ان کی بات سنیں یا نہ سنیں، خیر کی بات کو اپنائیں یا نہ اپنائیں، ایسے نیک بخت اور سعادت مند لوگ ان کو حق و…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 17–35

باغ والوں کے بخل کا واقعہ تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–33

آیات 1 تا 23۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔ مجنون۔ جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 27–28

ف 1 ” لولا تسبحون “ کے لفظی معنی ہیں ” تم تسبیح کیوں نہیں کرتے “ اس مقام پر تسبیح سے مراد ” انشاء اللہ “ بھی ہوسکتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا اور قول و عمل سے اس کا شکر بجالانا بھی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(68:28) قال اوسطھم۔ مضاف مضاف الیہ۔ ان میں سے کا درمیانہ۔ اس سے مراد یا تو ان کا منجھلا بھائی ہے یا بمعنی اعقلہم ہے ان میں سب سے زیادہ عقلمند۔ زیرک۔ الم اقل لکم : جملہ استفہام تقریری ہے ہمزہ استفہامیہ۔ لو اقل مضارع نفی جحد بلم صیغہ واحد متکلم۔ کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھا لولا تسبحون : لولا کیوں نہیں۔ تسبحون : مضارع جمع مذکر غائب ۔ تسبیح (تفعیل) مصدر۔ تم تسبیح کرتے ہو۔ تم پاکی بیان کرتے ہو۔ یہاں آیت زیر غور میں مراد ہے تم انشاء اللہ کہتے ہو۔ لو لا تسبحون۔ تم انشاء اللہ کیوں نہیں کہتے۔ یہاں انشاء اللہ کہنے کو تسبیح قرار دیا ہے اس لئے کہ انشاء اللہ کہنے میں اللہ تعالیٰ کی تعظیم اور اس بات کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–33

لغات القرآن۔ یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔ تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 17–33

(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–35

[9] یعنی اللہ کی پاکی کیوں نہیں بیان کرتے ؟ مطلب یہ ہے کہ فقراء و مساکین سے تم اپنا مال اس لئے بچانا چاہتے ہو کہ تم سمجھتے ہو کہ اللہ تم کو اس کے بجائے اور نہ دے گا حالانکہ اللہ تعالیٰ اس سے پاک ہے۔ وہ اس کی راہ میں خرچ کرنے والوں کو اپنے پاس سے زیادہ دیتا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 17–31

ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(28) ان لڑکوں میں سے منجھلے لڑکے نے کہا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی پاکی بیان کیوں نہیں کرتے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی اللہ کی طرف سے سمجھتے یہ نعمت اور فقیر سے دریغ نہ کرتے۔ خلاصہ : یہ ہے کہ جب اس باغ کو اجڑا ہوا دیکھا اور اس کے کھیت کو جھلسا ہوا پایا اور یہ سمجھ لیا کہ یہ باغ تو ہمارا ہی ہے مگر اس پر خدا کا قہر نازل ہوا ہے اور یہ عذاب کی وجہ سے اجرا ہے تب انہوں نے کہا بل نحن محرومون اور جب اپنی محرومی قسمت کا ان کو یقین ہوگیا تب ان کے منجھلے بھائی نے جوان سب میں بہتر اور باپ کا مسلک سے قریب تھا دوسرے بھائیوں سے کہا کیوں میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم اللہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 17–31

ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ان میں سے بہتر آدمی نے کہا کہ میں نے تم سے کہا تھا کہ تم پاکیزگی اختیار نہیں کر رہے 28 ؎ (اوسطھم) ان میں سے جو کچھ معقول تھا۔ ان کا درمیانہ اوسط مضاف ھم ضمیر جمع مذکر غائب مضاف الیہ یہاں (اوسط) سے مراد وہ شخص ہے جو افراط وتفریط کے درمیان ہو۔ جیسے حود کہ وہ اسراف اور بخل کے درمیانی درجہ کا نام ہے۔ ایسی صورت میں (اوسط) کا لفظ مدح کے لئے آیا ہے نہ کہ عمر کے لحاظ سے درمیانہ مراد ہے اور عین ممکن ہے کہ جس وقت یہ صلاح مشورے ہو رہے تھے اس نے کوئی اس طرح کی بات ضرور کی ہوگی لیکن جب سب کی رائے اس کے خلاف ہوئی تو اس نے خاموشی اختیار کرلی۔ اس سے معلوم ہوگیا کہ حقیقی بہن بھائیوں میں بھی سب کے حالات اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قَالَ أَوْسَطُهُمْ أَلَمْ أَقُل لَّكُمْ لَوْلَا تُسَبِّحُونَ (Said he who was the best among them, "Did I not say to you, 'Why do you not pronounce tasbih (Allah's purity)?"....68:28). The middle brother was the best of them. He was righteous like his father. It used to please him to spend in the cause of Allah. He was not niggardly or stingy like the other brothers. He had advised them to recite tasbih which, literally, means to pronounce Allah's purity. He told them that they were withholding the share of the poor with the fear that their fruit will be depleted and will not be replenished…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–29

17 This means that when they were saying on oath: "We shall surely pluck the fruit of our garden tomorrow," this person had warned them at that time, saying: "Have you forgotten God? Why don't you say: If Allah so wills?" But they did not listen to him. Then, while they were making up their mind not to give away anything to the needy. he again advised them to remember Allah and to desist from their evil intention, but they persisted in what they had resolved.

Read the full tafseer →