Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی
یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة الْقَلَم 15
اصل میں الفاظ ہیں علی حرد۔ عربی زبان میں روکنے اور نہ دینے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ قصد اور طے شدہ فیصلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور سرعت کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمے میں تینوں معنوں کی رعایت ملحوظ رکھی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(آیت) فَلَمَّا رَاَوْهَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَاۗلُّوْنَ مگر جب اس جگہ کھیت باغ کچھ نہ پایا تو اول تو یہ کہنے لگے کہ ہم جگہ کو بھول کر کہیں اور آگئے، یہاں تو نہ باغ ہے نہ کھیت، مگر پھر قریبی مقامات اور نشانات پر غور کیا تو معلوم ہوا جگہ تو یہی ہے اور کھیت جل کر ختم ہوچکا ہے تو کہنے لگے بل نحن محرومون یعنی ہم اس نعمت سے محروم کردیئے گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
یعنی جب باغ پر نظر پڑی تو گردش آسمانی نے اس کا حلیہ اس طرح بگاڑ دیا تھا کہ پہلے وہلہ میں اس کو پہچان نہ سکے۔ خیال ہوا کہ شاید اندھیرے میں کسی اور سمت میں نکل آئے۔ بولے کہ ارے! ہم تو راستہ بھول گئے۔ لیکن پھر اصل حقیقت سامنے آئی کہ راستہ نہیں بھولے ہیں بلکہ باغ ہی اجڑ گیا ہے تب نہایت حسرت کے ساتھ بولے کہ یہ تو ہم بالکل ہی محروم ہو کے رہ گئے! ہم کن ارمانوں اور حوصلوں کے ساتھ گھر سے نکلے لیکن یہاں تو خاک نہیں!
Read the full tafseer →26۔ 1 یعنی باغ والی جگہ کو راکھ کا ڈھیر یا اسے تباہ برباد دیکھا۔ (1) یعنی پہلے پہل تو ایک دوسرے کو کہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
10: یعنی جب انہوں نے اپنے باغ کے پاس پہنچ کر دیکھا کہ وہاں درختوں کا نام و نشان ہی نہیں ہے تو شروع میں یہ سمجھے کہ وہ راستہ بھٹک کر کہیں اور پہنچ گئے ہیں۔
Read the full tafseer →فلما .................... لضالون (86 : 62) ” مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ، ” ہم راستہ بھول گئے ہیں “۔ یہ تو ہمارا باغ ہی نظر نہیں آتا۔ ہمارا باغ تو پھل سے لدا تھا۔ شاید ہم راستہ بھول کر کسی دوسری جگہ آگئے ہیں۔ لیکن جب معلوم ہوتا ہے کہ راستہ تو نہیں بھولے وہی معروف راستہ ہے جس سے آئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
6 وہ زمین کھیتی اور درختوں سے ایسی صاف ہوچکی تھی کہ وہاں پہنچ کر پہچان نہ سکے، سمجھے کہ ہم راہ بھول کر کہیں اور نکل آئے۔ پھر جب غور کیا تو سمجھے کہ نہیں، جگہ تو وہی ہے۔ مگر ہماری قسمت پھوٹ گئی اور حق تعالیٰ کی درگاہ سے ہم محروم کیے گئے۔
Read the full tafseer →آیت 26{ فَلَمَّا رَاَوْہَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ۔ } ”پھر جب انہوں نے اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم تو کہیں بھٹک گئے ہیں۔“
فوری طور پر تو وہ یہی سمجھے کہ وہ اندھیرے میں راستہ بھول کر کسی اور جگہ آگئے ہیں اور یہ ان کا باغ نہیں ہے۔ پھر جب انہیں اصل صورت حال کا ادراک ہوا تو کہنے لگے :
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–32
15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…
Read the full tafseer →12۔ (جو کہیں یہاں نکل آئے) باغ اب باقی ہی کہاں تھا، جسے وہ لوگ دیکھ کر پہچانتے، یہی سمجھے کہ ہم کسی غلط جگہ آگئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فلما رأوھا قالوا انا لضالون مگر جب اس جگہ باغ و کھیت کچھ نہ پایا، تو اول تو یہ کہنے لگے کہ ہم اپنے باغ کا راستہ بھول کر کسی دوسری طرف نکل آئے ہیں، یہاں نہ تو باغ ہے اور نہ کھیت، مگر جب دیگر نشانیوں پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ جگہ تو یہی ہے، مگر کھیت اور باغ وغیرہ سب جل کر ختم ہوگیا ہے تو کہنے لگے ” بل نحن محرومون “ یعنی تباہ شدہ باغ ہمارا ہی باغ ہے جس کو اللہ نے ہمارے طرز عمل کی پاداش میں ایسا کردیا، واقعی ہم اس نعمت سے بلکہ لاگت سے بھی محروم کردیئے گئے، یہ واقعی حرمان نصیبی ہے۔
Read the full tafseer →فلما راوھا قالوا انا لضالون . جب جا کر باغ کو سوختہ دیکھا تو بولے ہم راستہ بھٹک گئے ‘ یہ ہمارا باغ نہیں
ہے یا یہ مطلب ہے کہ ہم نے خطا کی کہ مسکینوں کو روک دیا اور ان کا حصہ نہیں نکالا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(23۔ 27) چناچہ پھر وہ لوگ باغوں کی طرف آہستہ آہستہ باتیں کرتے چلے کہ آج باغ تک کوئی محتاج نہ آنے پائے اور خود اپنے آپ کو اس کے نہ دینے پر، یا یہ کہ باغ کا پھل توڑنے پر قادر سمجھ کر چلے۔ پھر جب باغ کو جلا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے، پھر سوچ کر کہنے لگے کہ پیداوار کی خرابی سے ہم باغ کے نفع ہی سے محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فَلَمَّا رَاَوْہَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ۔۔۔۔: جب باغ نظر نہ آیا تو پہلے یہ سمجھے کہ ہم بھول گئے ہیں ، پھر جب یقین ہوگیا کہ یہ صاف زمین ہمارا ہی باغ ہے تو کہنے لگے ہماری قسم پھوٹ گئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فلما راوھا قالوآ انا لضآلون۔ جب انہوں نے اسے جلا ہوا دیکھا اس میں کوئی چیز بھی نہ تھی۔ وہ سیاہ رات کی طرح ہوگیا تھا۔ وہ اسے دیکھ رہے تھے گویا وہ راکھ ہو۔ انہوں نے اس کو عجیب و غریب جانا اور اس میں شک کیا۔ بعض نے بعض سے کہا : انا لضآلون ہم اپنے باغ کا راستہ بھول گئے ہیں، یہ قتادہ کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ہم صحیح راہ سے بھٹک گئے ہیں کیونکہ ہم نے مساکین کو محروم رکھنے کا ارادہ کیا تھا اسی وجہ سے ہمیں سزا دی گئی۔ بل نحن محرومون۔ بلکہ ہم نے جو کچھ کیا ہے اس کی وجہ سے ہمیں اپنے باغ سے محروم کردیا گیا ہے۔ اسباط نے حضرت ابن مسعود سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا، ایاکم…
Read the full tafseer →64۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قالوا انالضالون کہنے لگے۔ کہ ہم اپنے باغ کا راستہ بھٹک گئے۔
انصاف پسند آدمی کا قول
65۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت انا لضالون سے مراد ہے کہ ہم راستہ بھول گئے یہ ہمارا باغ نہیں آیت بل نحن محرومون بلکہ ہم محروم ہوگئے بلکہ ہمارے ساتھ کوئی اور معاملہ کردیا گیا اور ہم کو باغ سے محروم کردیا گیا۔ آیت قال اوسطہم کہا ان میں سے ایک متوسط عمر کے آدمی نے جو قوم میں سب سے زیادہ انصاف پسند اور زیادہ ڈرنے والا تھا جو قوم میں سب سے زیادہ انصاف پسند اور زیادہ ڈرنے والا تھا اور میں سے جو بہتر رجوع کرنے والا…
Read the full tafseer →[فَلَمَّا رَاَوْهَا : پھر جب انھوں نے دیکھا اس (باغ) کو ][ قَالُوْٓا اِنَّا لَضَاۗلُّوْنَ : تو کہا بیشک ہم یقینا راستہ بھولنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ
رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
12:۔ ” فلما راوھا “ جب وہ باغ کی جگہ پہنچے تو اسے اجڑا ہوا دیکھ کر بولے رات کے اندھیرے میں ہم راستہ بھول گئے ہیں اور اپنے باغ کے بجائے کسی دوسری جگہ پہنچ گئے۔ ” بل نحن محرومون “ لیکن جب انہوں نے آس پاس کے کھیتوں اور زمینوں کا بغور جائزہ لیا تو سمجھ گئے کہ یہ جگہ تو ہمارے ہی باغ کی ہے اور ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ اللہ نے اس کو اجاڑ کر ہمیں اس کے پھل سے محروم کردیا ہے۔ قال اوسطھم، اب ان میں سے جو سب سے اچھا بھائی تھا، وہ بولا : کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا کہ تم خدا کی تسبیح و تقدیس کیوں نہیں کرتے ہو اور برکات دینے میں اس کو وحدہ لا شریک کیوں نہیں سمجھتے ہو ؟۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →فَلَمَّا رَاَوْہَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَاۗلُّوْنَ 26 ۙ
لَمَّا
يستعمل علی وجهين :
أحدهما : لنفي الماضي وتقریب الفعل . نحو : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] . والثاني : عَلَماً للظّرف نحو : فَلَمَّا أَنْ جاءَ الْبَشِيرُ [يوسف/ 96] أي : في وقت مجيئه، وأمثلتها تکثر .
( لما ( حرف ) یہ دوطرح پر استعمال ہوتا ہے زمانہ ماضی میں کسی فعل کی نفی اور اس کے قریب الوقوع ہونے کے لئے جیسے فرمایا : وَلَمَّا يَعْلَمِ اللَّهُ الَّذِينَ جاهَدُوا[ آل عمران/ 142] حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں ۔ اور کبھی یہ اسم ظرف ک طورپر استعمال ہوتا ہے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔
تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فَلَمَّا رَاَوْھَا قَالُوْٓا اِنَّا لَضَآلُّوْنَ ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۔ (القلم : 26، 27)
(پس جب انھوں نے اس باغ کو دیکھا تو بولے کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ نہیں، بلکہ ہم تو محروم ہو کے رہ گئے۔ )
یعنی جب وہ باغ کی جگہ پر پہنچے تو انھوں نے دیکھا کہ باغ کی بجائے ایک تباہی کا منظر تھا، ایک ویرانہ دکھائی دے رہا تھا، گردشِ آسمانی نے اس طرح اس کا حلیہ بگاڑا تھا کہ اسے پہچان بھی نہ سکے۔ ایک دوسرے سے کہنے لگے معلوم ہوتا ہے ہم تاریکی میں راستہ بھول گئے ہیں، لیکن پھر گردوپیش میں غور سے دیکھا، کچھ روشنی پھیلی تو انھیں اصل حقیقت کا احساس ہوا کہ ہم راستہ نہیں بھولے بلکہ باغ ہی اجڑ گیا ہے۔ تب نہایت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔
نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →26 : فَلَمَّا رَاَوْھَا (پھر جب انہوں نے اس باغ کو دیکھا) اپنے باغ کو جلا ہوا دیکھا قَالُوْٓا (انہوں نے پہنچنے کے فوراً بعد کہا) اِنَّا لَضَآلُّوْنَ (بیشک ہم راستہ بھول گئے) ہم اپنے باغ کے راستہ سے بھٹک گئے اس میں وہ رونق نہیں اس لئے کہ وہ اس کی تباہی دیکھ رہے تھے۔ پھر جب انہوں نے غور کیا تو پہچان کر کہنے لگے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
26 ۔” فلماراوھا قالوا انا لضالون “ یعنی جب انہوں نے باغ کو جلا ہوا دیکھا تو کہنے لگے ہم تو باغ کا راستہ بھول گئے ہیں یہ ہمارا باغ نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(فلما رواھا) جب انہوں نے باغ کو اس وصف پر دیکھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر فرمایا ہے کہ وہ کٹی ہوئی کھیتی کی مانند تھا (قالوا) تو انہوں نے حیرت اور بےقراری سے کہا (انا لضالون) ہم باغ سے بھٹک گئے ہیں، شاید یہ کوئی اور باغ ہو۔ پس جب تحقیق ہوگیا کہ یہ وہی باغ ہے اور ان کے عقل و حواس لوٹے تو کہنے لگے (بل نحن محرومون) ہم اس باغ سے محروم ہیں اس وقت وہ پہچان گئے کہ یہ سزا ہے (قال اوسطھم) یعنی ان میں سے سب سے زیادہ انصاف پسند اور سب سے اچھا طریقہ رکھنے والے نے کہا 0 الم اقل لکم لو لا تسبحون) کیا میں نے تمہیں نہیں کہا تھا کہ تم اللہ کو ان اوصاف سے منزہ کیوں قرار نہیں دیتے جو اس کے لائق نہیں ؟ ان میں سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
17 باغ والوں کی بدحواسی کے منظر کا ذکر وبیان سو جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر باغ کا نام و نشان بھی نہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ اور رات کے اندھیرے میں بھٹک کر کسی اور جگہ پہنچ گئے ہیں کیونہ ان کے باغ کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا تھا، والعیاذ باللہ سوگردش آسمانی نے ان کے اس باغ کا حلیہ اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا تھا کہ جب ان کی نظر اس پر پڑی، تو اول وہلہ میں وہ اس کو پہچان ہی نہ سکے اور یہاں تک کہ ان کو خیال ہوا کہ ہم بھول کر کسی اور جگہ پہنچ گئے اور رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کسی اور طرف نکل آئے، سو کہاں اس باغ کی وہ آبادی و رونق اور کہاں اس کی یہ اجاڑ اور ویرانی ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ
تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →ف 15 یعنی شاید ہم کسی دوسری جگہ آگئے ہیں۔ یہ باغ جو کٹا ہوا یا جلا ہوا ہے ہمارا نہیں ہے۔6 1 یعنی بعد میں جب انہوں نے غور کیا تو سمجھ گئے کہ نہیں یہ جگہ تو ہمارے ہی باغ کی ہے لیکن ہماری قسمت پھوٹ گئی اور ہم اللہ تعالیٰ کی درگاہ سے دھتکار دیئے گئے۔
Read the full tafseer →(68:26) فلما :تعقیب کا ہے۔ لما جب (حرف ظرف) پھر ، جب ۔
راوھا : راوا ماضی جمع مذکر غائب رؤیۃ (رای ، یری) باب فتح مصدر سے رای مادہ راوا اصل میں رأیوا تھا۔ ی متحرک ماقبل اس کا مفتوح اس کو الف سے بدلا۔ اب الف اور واؤ دو ساکن جمع ہوئے الف کو حذف کردیا۔ راوا ہوگیا۔ انہوں نے دیکھا۔ ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث۔ الجنۃ کے لئے ہے۔
پھر جب انہوں نے اس کو (یعنی اپنے باغ کو) دیکھا۔ قالوا کہنے لگے ۔۔ لضالون : لام تاکید کا ہے ضالون گمراہ، بہکے ہوئے۔ راہ بھولے ہوئے۔ ضلال سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مذکر۔ ہم ضرور راہ بھول گئے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
[8] اصل میں لفظ '' حرث '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی کھیت کے ہیں۔ غالباً اس باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…
Read the full tafseer →(26) پھر جب اس باغ کو دیکھا تو کہنے لگے یقینا ہم راستہ بھول گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →جب انہوں نے اس جگہ کی حالت کو دیکھا تو کہنے لگے شاید ہم راستہ بھول گئے ہیں
26 ؎ جیسا کہ شروع کلام میں بھی بتا دیا گیا تھا کہ ادھر اس طرح کے مشورے ہو رہے تھے اور ادھر رب کریم نے اپنے لشکر کو حکم دے دیات ھا کہ ان اسکیموں کے پہنچنے سے پہلے پہلے تم کو اپنی سکیم لڑانا ہے کہ اس کھیتی اور باغ کو چورا چورا کرنا ہے اور اس سال وہ جس پلان (Plan) کے تحت خزانہ اکٹھا کرنا چاہتے ہیں ہمارا فیصلہ ہے کہ ایسے لوگوں کا اصل زر بھی ایک بار ختم کردیا جائے تاکہ ان کو معلوم ہو اور ان کی سمجھ میں آئے کہ انسان کے سارے ارادے کبھی پورے نہیں ہوتے اور یہ ضروری ہے کہ وہ پورے نہ ہوں کیونکہ انسان کی تفہیم ہوتی رہنی چاہئے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
فَلَمَّا رَأَوْهَا قَالُوا إِنَّا لَضَالُّونَ (But when they saw it [ the place of the ruined garden ], they said, "We have missed the way."....68:26). In other words, when they did not find their garden on that spot, they first thought that they must have lost their way and gone to the wrong place. But when they saw the surroundings, they realized that it was the right place they have gone to, but the garden had been burnt up and destroyed. So, they exclaimed: بَلْ نَحْنُ مَحْرُومُونَ "No, but we are deprived [ of the fruits ]....68:27)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
15 The word hard in Arabic is used for hindering and withholding, for a purpose and resolution, and for making haste; hence, the composite rendering adopted by us.
Read the full tafseer →