Explained with ayahs 17–33
سیاہ رات اور کٹی ہوئی کھیتی
یہاں ان کافروں کی جو حضور ﷺ کی نبوت کو جھٹلا رہے تھے مثال بیان ہو رہی ہے کہ جس طرح یہ باغ والے تھے کہ اللہ کی نعمت کی ناشکری کی اور اللہ کے عذابوں میں اپنے آپ کو ڈل دیا، یہی حالت ان کافروں کی ہے کہ اللہ کی نعمت یعنی حضور ﷺ کی پیغمبر کی ناشکری یعنی انکار نے انہیں بھی اللہ کی ناراضگی کا مستحق کردیا ہے، تو فرماتا ہے کہ ہم نے انہیں بھی آزما لیا جس طرح ہم نے باغ والوں کو آزمایا تھا جس باغ میں طرح طرح کے پھل میوے وغیرہ تھے، ان لوگوں نے آپس میں قسمیں کھائیں کہ صبح سے پہلے ہی پہلے رات کے وقت پھل اتار لیں گے تاکہ فقیروں مسکینوں اور سائلوں کو پتہ نہ چلے جو وہ آ کھڑے ہوں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
سورة الْقَلَم 15
اصل میں الفاظ ہیں علی حرد۔ عربی زبان میں روکنے اور نہ دینے کے لیے بھی بولا جاتا ہے۔ قصد اور طے شدہ فیصلے کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اور سرعت کے معنی میں بھی مستعمل ہے۔ اسی لیے ہم نے ترجمے میں تینوں معنوں کی رعایت ملحوظ رکھی ہے۔
Read the full tafseer →(آیت) وَّغَدَوْا عَلٰي حَرْدٍ قٰدِرِيْنَ ، حرد کے معنی منع کرنے اور غیظ و غضب دکھانے کے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ یہ لو اپنے خیال میں یہ سمجھ کر چلے کہ ہمیں اس پر قدرت ہے کہ ہم کسی فقیر و مسکین کو کچھ نہ دیں کوئی آبھی جاوے تو اس کو دفع کردیں۔
Read the full tafseer →لفظ ’حَرْدٌ‘ کے اندر تیز گامی، جوش، امنگ اور نشاط کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ غریبوں اور مسکینوں کے تعاقب سے بچنے کا پورا سامان کر کے وہ بڑے حوصلہ اور پورے اعتماد کے ساتھ باغ کی طرف چلے۔ ’قَادِرِیْنَ‘ یعنی ان کے دل اعتماد و حوصلہ سے معمور تھے کہ اب کیا اندیشہ ہے، باغ اپنا ہے اور پھل تیار ہے، اب ہمارے ارمانوں میں کون خلل انداز ہو سکتا ہے! غریبوں، مسکینوں کے ٹوٹ پڑنے کا اندیشہ تھا سو اس کا بھی سدباب کر لیا ہے۔
Read the full tafseer →25۔ 1 یعنی اپنے معاملے کا انہوں نے اندازہ کرلیا، یا اپنے ارادے سے انہوں نے باغ پر قدرت حاصل کرلی، یا مطلب ہے مساکین پر انہوں نے قابو پا لیا۔
Read the full tafseer →9: اس کا ایک ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ”وہ یہ سوچ کر سویرے روانہ ہوئے کہ وہ غریبوں کو منع کرنے پر قادر ہوجائیں گے“
Read the full tafseer →سیاق کلام مزید مذاق کررہا ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ۔
وغدوا ................ قدرین (86 : 52) ” وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کیے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی اس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ (پھل منع کرنے پر) قادر ہیں “۔ وہ اس ارادے سے چلے کہ وہ مساکین سے پھل روکنے اور انہیں منع کرنے پر قادر ہیں۔ اب پہلی مرتبہ وہ ایک ایسی صورت حال سے دو چار ہوتے ہیں جس کی توقع وہ نہ کرتے تھے۔ اب مزاح کی جگہ سنجیدگی آجاتی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
5 یعنی یہ یقین کرتے ہوئے کہ اب جا کر سب پیداوار اپنے قبضہ میں کرلیں گے۔
Read the full tafseer →آیت 25{ وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ۔ } ”اور وہ صبح سویرے چلے جلدی جلدی یہ سمجھتے ہوئے کہ وہ اس ارادہ پر پوری طرح قادر ہیں۔“
یہ آیت لفظی تصویر کشی کی بہترین مثال ہے۔ اس وقت ان لوگوں کی جو ذہنی ‘ نفسیاتی اور ظاہری کیفیت تھی ان الفاظ میں اس کی ہوبہو تصویر کھینچ کر رکھ دی گئی ہے۔ انہیں زعم تھا کہ انہوں نے بڑی کامیاب منصوبہ بندی کی ہے ‘ ابھی تھوڑی ہی دیر میں وہ پھل اتار کرلے جائیں گے اور بھیک منگوں کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی۔ ] حَرْدکا معنی قصد اور ارادہ ہے۔ یعنی انہوں نے جو یہ ارادہ کیا تھا کہ آج کسی غریب کو باغ میں داخل نہیں ہونے دیں گے اور صبح سویرے باغ کا پھل اتار لیں گے ‘ وہ خیال کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–32
15 باغ والوں کا قصہ :۔ یہ واقعہ آیت نمبر 17 سے آیت نمبر 33 تک پھیلا ہوا ہے۔ جسے ہم تسلسل کے ساتھ اپنے الفاظ میں بیان کریں گے کسی شخص کا ایک باغ تھا جو بھرپور فصل دیتا تھا۔ اس شخص کا زندگی بھر یہ دستور رہا کہ جب بھی پھل کی فصل اٹھاتا تو اس کے تین حصے کرتا۔ ایک حصہ تو خود اپنے گھر کی ضروریات کے لیے رکھ لیتا۔ دوسرا حصہ اپنے قریبی رشتہ داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کردیتا اور تیسرا حصہ فقراء و مساکین میں بانٹ دیتا۔ اس کی اس سخاوت کی وجہ سے اس کا باغ سب سے زیادہ فصل دیتا۔ کٹائی کے دن فقراء و مساکین موقع پر پہنچ جاتے اور اپنا اپنا حصہ وصول کرلیتے۔
جب یہ شخص انتقال کر گیا تو اس کے بیٹوں کو خیال آیا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–25
11۔ یہ کن باغ والوں کا ذکر ہے ؟ بعض نے کہا ہے کہ کوئی باغ حبشہ میں تھا۔ قیل کانوا میں اھل الحبشۃ (ابن کثیر) عن عکرمۃ قال ھم ناس من الحبشۃ (ابن جریر) ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ باغ یمن میں تھا۔ عن ابن عباس قال کان بستان بالیمن (معالم) قال سعید بن جبیرکانوا من قریۃ یقال لھا فروان علی ستۃ امیال من صنعاء (ابن کثیر) بہرحال جہاں کہیں بھی ہو ایسا باغ تھا جس کی تلمیح سے اہل عرب خوب واقف تھے۔ اور قصہ کا ماحصل یہ ہے کہ جو اہل غفلت اپنی تدبیروں پر نازاں اور اہل حقوق کی حق تلفی میں لگے رہتے ہیں، وہ آخر خود ہی خسارہ میں رہتے ہیں۔ (آیت) ” ولایستثنون “۔ یعنی انہیں اس درجہ وثوق اپنے صبح کے پروگرام پر تھا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
فطاف علیھا طائف من ربک ادھر تو یہ لوگ یہ مشورہ کر رہے تھے اور ادھر آسمانی بلا نے باغ کو جلا کر خاک سیاہ کردیا، جب صبح تڑکے پھل توڑنے کے لئے جانے لگے تو ایک دوسرے کو آہستہ آہستہ پکارنے لگے، تاکہ فقیر و مسکین لوگ سن نہ لیں اور وہ اس بات پر خوش تھے کہ آج باغ میں آ کر ہم سے کوئی کچھ نہ مانگے گا، اور وہ اپنے آپ کو اپنے اس منصوبہ میں کامیاب سمجھ رہے تھے۔
Read the full tafseer →وغدوا علی حرد قادرین . انطلقوا پر عطف ہے اور علی حرد کا تعلق قادرین سے ہے۔ حرد کا لغوی
معنی ہے ارادہ کرنا ‘ روکنا ‘ غضبناک ہونا۔ اس لیے حسن بصری ‘ قتادہ اور ابو العالیہ نے کہا کہ یہاں حرد کا معنی ہے جدوجہد۔ قرطبی ‘ مجاہد اور عکرمہ نے کہا : وہ امر جس پر اتفاقِ رائے کرلیا تھا۔ ابو عبیدہ نے کہا : مسکینوں کے روکنے پر شعبی اور سفیان ثوری نے کہا : مسکینوں پر غصہ کرنے پر حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان کو اپنی نظر میں ‘ اپنے باغ اور باغ کے پھلوں پر قدرت حاصل تھی ‘ اسی قوّت پر وہ صبح ہی نکل کھڑے ہوئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–27
(23۔ 27) چناچہ پھر وہ لوگ باغوں کی طرف آہستہ آہستہ باتیں کرتے چلے کہ آج باغ تک کوئی محتاج نہ آنے پائے اور خود اپنے آپ کو اس کے نہ دینے پر، یا یہ کہ باغ کا پھل توڑنے پر قادر سمجھ کر چلے۔ پھر جب باغ کو جلا ہوا دیکھا تو کہنے لگے کہ ہم راستہ بھول گئے، پھر سوچ کر کہنے لگے کہ پیداوار کی خرابی سے ہم باغ کے نفع ہی سے محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →وَغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ۔۔۔:”حرد“ کا ایک معنی ہے قصد و ارادہ ، یعنی وہ پختہ ارادے کے ساتھ نکلے کہ کسی مسکین کو باغ میں گھسنے نہیں دیں گے اور دوسرا معنی ہے شدید غصہ ، یعنی وہ مساکین پر سخت غصے کے عالم میں نکلے۔ دونوں صورتوں میں ”قدرین“ کا معنی ہے ”اس حال میں کہ وہ اپنے خیال میں باغ کے پھل پر قادر تھے۔”حرد“ کا تیسرا معنی ہے روکنا ، یعنی وہ صبح صبح اس حال میں نکلے کہ (اپنے خیال میں) مساکین کو روکنے پر قادر تھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فانطلقوا وھم یتخافتون۔ یعنی وہ راز داری سے باتیں کر رہے تھے اپنی کلام کو وہ پست رکھ رہے تھے اور راز داری سے کام لے رہے تھے تاکہ کسی کو ان کے بارے میں علم نہ ہو، یہ عطا اورق تادہ کا قول ہے۔ یہ خفت یخفت سے مشتق ہے جب وہ ساکن ہوجائے اور کسی بات کو ظاہر نہ کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ اپنے آپ کو لوگوں سے چھپاتے ہیں تاکہ لوگ انہیں دیکھ نہ لیں۔ ان کا باپ فقراء اور مساکین کو خبر دیتا تو وہ کاٹنے کے وقت حاض رہو جاتے۔
وغدوا علی حرد قدرین۔ حرد کا معنی قصد ہے اور اپنے حساب سے وہ قادر تھے۔ وہ گمان کرتے تھے وہ اپنی مراد پر قدرت رکھتے ہیں۔ حضرت ابن عباس اور دوسرے علماء نے یہی معنی کیا ہیخ حرد کا معنی…
Read the full tafseer →60۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت علی حرد قدرین اور وہ پھل توڑنے کی قدرت کا خیال کر کے چل پڑے۔ اپنے آپ کو صاحب قدرت سمجھتے ہوئے۔
61۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت وغدوا علی حرد قدرین۔ یعنی وہ صبح سویرے چلے کہ اپنے کام پر وہ قادر ہوچکے تھے۔ اور انہوں نے ذاتی طور پر اس بات پر اتفاق یا کہ ان پر کوئی مسکین داخل نہیں ہو۔
62۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے آیت وغدوا علی حرد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ غصہ میں تھے۔
63۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت وغدوا علی حرد یعنی مساکین کے آنے سپہلے باغ کو توڑ لیا جائے اس لیے صبح…
Read the full tafseer →[وَّغَدَوْا : اور وہ سویرے نکلے ][ عَلٰي حَرْدٍ قٰدِرِيْنَ : ایک ارادہ پر قادر ہوتے ہوئے ]
ح ر د
[صَرْدًا : (ض) (1) منع کرنا۔ (2) ارادہ کرنا۔]
[ صَرْدٌ اسم ذات بھی ہے۔ ارادہ۔ زیر مطالعہ آیت۔ 25 ۔]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–32
ایک باغ کے مالکوں کا عبرت ناک واقعہ
رسول اللہ ﷺ کے ہجرت فرمانے کے بعد مکہ معظمہ کے مشرکوں پر اللہ تعالیٰ نے قحط بھیج دیا تھا۔ قحط کی وجہ سے بہت تکلیف اٹھائی، اس کے بارے میں فرمایا کہ ہم نے مکہ والوں کو آزمائش میں ڈالا جیسا کہ باغ والوں کو آزمائش میں ڈالا تھا، یہ باغ کہاں تھا باغ والے کون تھے اس کے بارے میں حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ یہ باغ یمن میں شہر صنعاء سے دو فرسخ کے فاصلہ پر تھا اسے نمازی لوگوں نے بویا تھا جو لوگ اس کے وارث چلے آ رہے تھے وہ بڑے سخی تھے جس دن باغ کے پھل کاٹتے تھے مساکین جمع ہوجاتے تھے اسی طرح کھیتی کاٹنے کے دن اور جس دن بھوسہ اور دانہ الگ کرتے تھے مساکین آجاتے تھے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
عبرتناک انجام غرور وتکبر بردولت دنیا و محرومی از سعادت وآخرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” انا بلونھم کما بلون آ اصحب الجنۃ ....... الی ...... لو کانوا یعلمون “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں اہل مکہ کے ان مغرور ومتکبر انسانوں کا ذکر تھا جنہوں نے محض اپنے مال و دولت اور اولاد وخاندان کے نشہ میں رسول خدا ﷺ کی توہین کی انکار وکفر کے مرتکب ہوئے تو اب ان آیات میں ایک باغ والوں کا قصہ بیان کرکے بتایا جارہا ہے کہ انسان کو دنیا کے مال ومنال پر بھروسہ کرکے مغرور ومتکبر نہ ہونا چاہئے دنیا کی حقیقت بس اتنی ہی ہے اور غرور کا انجام ایسا ہی ہے جیسے کہ اس باغ کی تباہی اور باغ والوں کی بربادی سے ظاہر ہورہا ہے یہ باغ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–25
11:۔ ” فطاف علہا “۔ طائف سے جبریل (علیہ السلام) مراد ہیں جو عذاب الٰہی لے کر آئے تھے۔ یہ فیصلہ کر کے وہ سو گئے، رات کو اللہ نے اس پر ایسا عذاب نازل فرمایا کہ سارا باغ تباہ و برباد ہوگیا اور زمین اس طرح صاف ہوگئی جس طرح وہاں سے سب کچھ کاٹ لیا گیا ہو۔ ” فتنادوا مصبحین “ صبح ہونے کو ہوئی تو سب نے ایک دوسرے کو آوازز دی کہ پھل توڑنا ہے تو جلدی جلدی باغ میں پہنچو۔ چناچہ سب روانہ ہوئے اور آہستہ آہستہ ایک دوسرے سے کہتے جارہے تھے کہ آج کوئی مسکین ہمارے قریب نہ آنے پائے۔ ” وغدوا علی حرد قادرین “ حرد، روکنا اور نہ دینا۔ چناچہ جب وہ وہاں پہنچے تو وہ خوش تھے اور اپنے زعم میں سمجھ رہے تھے کہ وہ اپنے مقصد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
گذشتہ سے پیوستہ :
گذشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان انعامات کا ذکر فرمایا ، جو پیغمبر ﷺ پر کئے اور توحید الہٰی ، رسالت اور معاد کے مکذبین کے متعلق ارشاد فریاما کہ ان کی کسی بات کو تسلیم نہ کریں کیونکہ ان بےہودہ لوگوں نے نبی جیسے عقل مند ، ذہین اور سب سے بلند اخلاق والی ہستی کو العیافہ باللہ مجنون کا خطاب دیا ۔ یہ مشرکین آپ ﷺ کو مداہنت پر آمادہ کرنا چاہتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دس الفاظ کے ساتھ مذمت بیان کی۔ پھر فرمایا کہ یہ اس لیے غرور وتکبر کرتے ہیں کہ ان کو اللہ تعالیٰ نے مالی و اولاد سے نوازا ہے۔ یہ انعامات تو شکر گزاری کا سبب بننا چاہئیں نہ کہ تکذیب و نافرمانی کا ان کے غرور کا…
Read the full tafseer →وَّغَدَوْا عَلٰي حَرْدٍ قٰدِرِيْنَ 25
غدا
الْغُدْوَةُ والغَدَاةُ من أول النهار، وقوبل في القرآن الغُدُوُّ بالآصال، نحو قوله : بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ
[ الأعراف/ 205] ، وقوبل الغَدَاةُ بالعشيّ ، قال : بِالْغَداةِ وَالْعَشِيِ [ الأنعام/ 52] ، غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12]
( غ د و ) الغدوۃ
والغداۃ کے معنی دن کا ابتدائی حصہ کے ہیں قرآن میں غدو ( غدوۃ کی جمع ) کے مقابلہ میں اصال استعمال ہوا ہے چناچہ فرمایا : ۔ بِالْغُدُوِّ وَالْآصالِ [ الأعراف/ 205] صبح وشام ( یا د کرتے رہو ) ( غدو ( مصدر ) رواح کے مقابلہ میں ) جیسے فرمایا : ۔ غُدُوُّها شَهْرٌ وَرَواحُها شَهْرٌ [ سبأ/ 12] اس کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
ترکیب : اذ تعلیلیۃ اوظرفیۃ بنوع تسمح لان الانقسام کان قبل ابتلائہم لیصرمنہا جواب القسم مصبحین حال من الفاعل فی یصرمنہا ولا یستثنون جملۃ مستانفہ لبیان ماوقع منھم وقیل حال فتنادوا معطوف علی اقسموا بینما اعتراض لبیان مانزل بتلک الجنۃ ان اغدوا ان مفسرۃ لان فی التنادی معنی القول او مصدریۃ ای اخرجواغدوۃً ان کنتم الخ جواب الشرط محذوف فاغدوا وھم یتخافتون الجملۃ حال من فاعل فانطلقوا ان لایدخلنہا ان مفسرۃ للتخافت المذکور لمافیہ من معنی القول علی حرد یتعلق بقادرین وقادرین حال وقیل خبر غدوا لا نھا حملت علی اصبحوا۔
تفسیر : اہل مکہ خصوص ولید وغیرہ ثروت و حشمت پر نازاں ہو کر کہتے تھے کہ ہم پر خدا کی نظر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
فَانْطَلَقُوْا وَھُمْ یَتَخَافَتُوْنَ ۔ اَنْ لاَّ یَدْخُلَنَّھَا الْیَوْمَ عَلَیْکُمْ مِّسْکِیْنٌ۔ وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قٰدِرِیْنَ ۔ (القلم : 23 تا 25)
(پس وہ چلے اور آپس میں چپکے چپکے کہہ رہے تھے کہ آج باغ میں کوئی مسکین نہ آنے پائے۔ اور سویرے چلے لپکتے ہوئے عزم و حوصلہ کے ساتھ۔ )
یعنی گھر سے نکلے تو چپکے چپکے ایک دوسرے کو ہوشیار کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ دیکھنا آج کے دن کوئی فقیر باغ میں گھسنے نہ پائے۔ یعنی یہ ان کے انتہائی بخل کی دلیل تھی جس کا ذکر اشرافِ قریش کی صفاتِ بد میں بھی ہوچکا ہے۔
حرد، کا معنی منع کرنے اور غیظ و غضب دکھانے کے ہیں۔ اس میں تیزگامی اور عزم و حوصلہ کا مفہوم بھی پایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
فہم القرآن
ربط کلام : اہل مکہ کی آزمائش۔
نبی معظم ﷺ کی جدوجہد کے سامنے بےبس ہو کر اہل مکہ نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ کچھ آپ نرم ہوجائیں اور کچھ ہم نرم ہوجاتے ہیں نبی ﷺ نے اسے مکمل طور پر مسترد کردیا۔ اس کے ردِّ عمل میں انہوں نے مزدور صحابہ کرام ؓ کی مزدوریاں روک لیں اور اپنے غریب رشتہ دار صحابہ کے ساتھ تعاون کرنے سے ہاتھ کھینچ لیا، ان کے سرداروں نے مہم چلائی کہ مسلمانوں کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کیا جائے۔ اس پر یہ آیات نازل ہوئیں جس میں انتباہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم مکہ والوں کو اس طرح آزمائیں گے جس طرح ان سے پہلے باغ والوں کو آزما چکے ہیں۔ واقعہ یوں ہے کہ ایک شخص کا باغ تھا وہ اپنے باغ کی…
Read the full tafseer →25 : وَّغَدَوْا عَلٰی حَرْدٍ قَادِرِیْنَ (وہ اپنے کو اس کے نہ دینے پر قادر سمجھ کر چلے) حردٍِؔ جدوجہد سے روکنا۔ قادرینؔ وہ اپنے نفسوں میں روکنے پر قادر ہیں۔ یہ نفطویہ کا قول ہے۔ نمبر 2۔ الحردؔ ارادہ اور سرعت یعنی وہ چلے تیزی سے اپنے باغ کا قصد کرنے والے تھے۔ اور اپنے دلوں میں اس کے کاٹنے پر قادر تھے اور اس کی منفعت کو مساکین سے روکنے والے تھے۔
نمبر 3۔ الحرد یہ باغ کا نام ہے۔ وہ حرد نامی باغ کی طرف چلے اس مال میں کہ وہ اس کے پھل اپنے خیال میں توڑنے والے تھے۔
Read the full tafseer →24-25 ۔” ان لا یدخلنھا الیوم علیھا مسکین، وغدوا علی حرد “ حرد لغت میں قصد کرنا، منع کرنا اور غضب کرنا کے معنی میں آتا ہے۔ حسن اور قتادہ اور ابوالعالیہ رحمہم اللہ نے کہا ہے جدوجہد پر۔ قرظی، مجاہد اور عکرمہ رحمہم اللہ فرماتے ہیں اتفاقی امر پر جس کو انہوں نے آپس میں طے کیا تھا اور یہ قصد کے معنی کی بناء پر ہے اس لئے کہ کسی چیز کا ارادہ کرنے والا کوشش کرنے والا اور کام کا پختہ ارادہ رکھنے والا ہوتا ہے۔ ابوعبیدہ اور قتیبی رحمہما اللہ فرماتے ہیں وہ صبح کو گھروں سے نکلے مساکین کو محروم کرنے کے لئے ، کہا جاتا ہے ” حاردت السنۃ “ جب اس کے لئے بارش نہ ہو اور ” حاردت الناقۃ “ جب اس کا دودھ نہ ہو اور شعبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
17۔ 33۔ اہل مکہ جب اپنے مال و متاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی اور اللہ کے رسول سے طرح طرح کی سرکشی انہوں نے شروع کی تو آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں قحط کی بددعا کی جس کا ذکر حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ کی روایت سے صحیح بخاری 1 ؎ و مسلم میں ہے اللہ کے رسول کی بد دعا سے بڑا سخت قحط پڑا یہاں تک کہ اہل مکہ مردار چیزیں کھا کر زندگی بسر کرنے لگے۔ آخر آنحضرت ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اور آپ ﷺ کی دعا سے وہ قحط رفع ہوا اس لئے اوپر کی آیتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب قریش کو قحط کا قصہ یاد دلایا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت اسی…
Read the full tafseer →(وغدوا) انتہائی بری، قساوت اور بےرحمی کی حالت میں انہوں نے صبح کی (علی حرد قادرین) یعنی گویا کہ وہ یہ گمان رکھتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حق کو روکنے پر قادر ہیں اور انہیں پختہ یقین ہے کہ وہ باغ پر قدرت رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 13–52
قول باری ہے (عتل بعد ذلک زنیم، جفا کار اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے) پہلے لفظ کے بارے میں ایک قول ہے کہ ہٹے کٹے اور بدخلق نیز سفاک انسان کو عتل کہا جاتا ہے۔ زنیم اس ولدالزنا کو کہا جاتا ہے جو دراصل ایک خاندان کا فرد نہ ہو مگر اس میں شامل ہوگیا ہو۔
ہمیں عبدالباقی بن قانع نے روایت بیان کی، انہیں حسین بن اسحاق التستری نے، انہیں الولیدبن عتبہ نے، انہیں الولید بن مسلم نے، انہیں ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان نے عثمان بن عمیر البجلی سے، انہوں شہرین حوشب سے، انہوں نے حضرت شداد بن اوس سے کہ حضور ﷺ نے فرمایا (لا یدخل الجنۃ جو اظ ولا جعظری ولا عتل زنیم) میں نے دریافت کیا کہ جو اظ کسے کہتے ہیں۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–26
17 باغ والوں کی بدحواسی کے منظر کا ذکر وبیان سو جب وہ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ وہاں پر باغ کا نام و نشان بھی نہیں تو انہوں نے کہا کہ ہم تو راستہ بھول گئے۔ اور رات کے اندھیرے میں بھٹک کر کسی اور جگہ پہنچ گئے ہیں کیونہ ان کے باغ کا تو نام و نشان ہی مٹ گیا تھا، والعیاذ باللہ سوگردش آسمانی نے ان کے اس باغ کا حلیہ اس قدر بگاڑ کر رکھ دیا تھا کہ جب ان کی نظر اس پر پڑی، تو اول وہلہ میں وہ اس کو پہچان ہی نہ سکے اور یہاں تک کہ ان کو خیال ہوا کہ ہم بھول کر کسی اور جگہ پہنچ گئے اور رات کے اندھیرے میں راستہ بھٹک کر کسی اور طرف نکل آئے، سو کہاں اس باغ کی وہ آبادی و رونق اور کہاں اس کی یہ اجاڑ اور ویرانی ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–35
باغ والوں کے بخل کا واقعہ
تشریح :۔ اس قصے سے سبق ملتا ہے کہ صرف دنیا میں کھو جانا اور اللہ کی طرف سے آنکھیں بند کرلینا سراسر غلط راستہ ہے رب العزت کا یہی طریقہ ہے کہ وہ بندوں کو ایسی ہی سزاؤں سے جھنجوڑتا ہے کہ انسان غفلت سے باز آجائے یہ دنیاوی نقصانات تو صرف آنکھیں کھولنے کے لیے کرائے جاتے ہیں نافرمان اور غفلت سے بیدار نہ ہونے والے لوگوں کو آخرت میں بڑا سخت عذاب دیا جائے گا۔ جب کہ فرمانبرداروں کے لیے آرام و آسائش کے بہترین باغات ہیں اور یہی فرق ہے نافرمانوں اور فرمانبرداروں میں کیونکہ اللہ بہترین انصاف کرنے والا ہے۔ اچھے اور برے لوگوں کا حساب ایک جیسا نہیں ہوسکتا۔ حدیث میں نصیحت کی گئی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
آیات 1 تا 23۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے قلم کی اور جو کچھ قلم سے لکھاجاتا ہے یعنی آپ ﷺ نے امی ہونے کے باوجود علم کے وہ دریابہائے کہ خود قلم اور اس کی تحریر آپ کے کامل عقل مند اور بےمثال صاحب خرد ہونے پر دال ہے۔
مجنون۔
جب آپ ﷺ نے اعلان نبوت فرما کر ساری انسانیت کو دعوت حق دے دی اور تمام انسانوں کے لیے ایک عقیدہ اور ایک نظام حیات تو مشرکین نے اسے معاذ اللہ پاگل پن قرار دیا کہ دنیا کی عظیم الشان حکومتیں ساری دنیا پہ ایک نظام رائج نہ کرسکیں۔ پھر آپ ﷺ امی ہیں ، اکیلے ہیں یا چند مسلمان جن کی بظاہر کوئی حیثیت نہیں پھر اقوام عالم کے مزاج الگ ، فکر الگ ، رنگ ونسل اپنی اپنی ، غذا الگ زبانیں الگ موسم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–25
ف 14 علی حررر “ کے مفسرین نے کئی مطلب بیان کئے ہیں بعض کہتے ہیں کہ ” وہ تیزی اور زور سے چلے “ یا ” وہ غصہ سے چلے “ یا ” وہ اپنے آپ کو نجیلی پر قادر سمجھتے ہوئے چلے “ یا ” حرد “ ان کے باغ کا نام تھا، یعنی وہ اپنے آپ کو اس باغ پر قادر سمجھتے ہوئے چلے۔ “ بہرحال وہ یہ سمجھتے ہوئے صبح سویرے چل دیئے کہ جاتے ہی سارا میوہ اپنے قبضہ میں کرلیں گے اور غریبوں مسکینوں کے لئے کچھ نہ چھوڑیں گے۔
Read the full tafseer →(68:25) وغدوا علی حرد قادرین۔ واؤ عاطفہ۔ غدوا ماضی جمع مذکر غائب غدو (باب نصر) مصدر سے ۔ وہ صبح کے وقت چلے۔ غدو صبح کے وقت سفر کرنا۔ غداۃ صبح کا وقت ۔ تڑکا۔
اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ واصبر نفسک مع الذین یدعون ربھم بالغداۃ والعشی (18:28) اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے ہیں ۔ ان کے ساتھ صبر کرتے رہو۔
اور جگہ فرمایا :۔ یسبح لہ بالغدو والاصال (24:36) (اور) ان میں صبح و شام اس کی تسبیح کرتے ہیں ۔
حرد۔ اس کے معانی میں مختلف اققوال ہیں ۔ لیکن عام فہم اور موقع محل کے مطابق وہ معانی قابل ترجیح ہیں جو کہ صاحب ضیاء القرآن نے اختیار کئے ہیں۔ لکھتے ہیں :۔
حرد کا معنی قصد اور ارادہ ہے یعنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–33
لغات القرآن۔
یسطرون۔ وہ لکھتے ہیں۔ ممنون۔ منقطع ہونے والا۔ ختم ہونے والا۔ تبصر۔ تو دیکھے گا۔ المفتون۔ دیوانہ۔ ودوا۔ وہ پسند کرتے ہیں۔ تدھن۔ تو خوشامد کرے۔ تو نمر پرے۔ حلاف۔ بہت قسمیں کھانے والا۔ مھین۔ ذلیل کمینہ۔ ھماز۔ طعنے دینے والا۔ مشائ۔ پھرنے والے۔ نیمیم۔ چغل خور۔ باتیں لگانے والے۔ مناع۔ روکنے والا۔ معتد۔ حد سے بڑھنے والا۔ اثیم۔ گناہ گار۔ عتل۔ اکھڑ۔ اجد۔ زنیم۔ بدنام۔ نسیم۔ ہم داغ دیں گے۔ الخرطوم۔ ناک۔ دم۔ سونڈ۔
تشریح : سورة القلم کا آغاز ” ن “ سے کیا گیا ہے جو حروف مقطعات میں سے ایک حروف ہے۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ اس کی تفصیل اس سے پہلی ابتدائی سورتوں میں آچکی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–33
(ف 4) اہل مکہ جب اپنے مال ومتاع پر بہت اترائے اور اللہ کی نعمتوں کی ناشکری کی، اور نبی ﷺ سے طرح طرح کی سرش کی انہوں نے شروع کی تو نبی ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ یارب ، انہیں ایسی قحط سالی میں مبتلا کر جیسی حضرت یوسف کے زمانہ میں ہوئی تھی چناچہ اہل مکہ قحط کی مصیبت میں ایسے مبتلا ہوگئے کہ وہ بھوک کی شدت میں مردار اور ہڈیاں تک کھاگئے اور اس طرح آزمائش میں ڈالے گئے ، آخرنبی ﷺ سے رفع قحط کی دعا کرنے کی التجا کی اورآ پکی دعا سے قحط رفع ہوا۔ اس لیے اوپر کی ایتوں میں ولید بن مغیرہ کا خاص طور پر ذکر فرما کر سب کو قحط کا قصہ یاد دلا اور فرمایا کہ ان لوگوں کی نافرمانی کے سبب سے ان پر قحط کی آفت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–27
[8] اصل میں لفظ '' حرث '' استعمال ہوا ہے جس کے معنی کھیت کے ہیں۔ غالباً اس باغ میں درختوں کے درمیان کھیت بھی ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 1: ان آیات میں اس حقیقت کو واضح فرمایا ہے ۔ کہ جو لوگ اللہ کے مال و دولت کی بنا پر احکام الٰہی کا انکار کردیتے ہیں ۔ ا ہیں یقین رکھنا چاہیے ۔ کہ یہ فراوانی اور آسودگی ہمیشہ نہیں رہے گی ۔ فرمایا کہ مکہ والوں کہ ہم نے عیش وتکلفات سے بہرہ مند کرکے اسی طرح آزمایا ہے ۔ جس طرح کہ بنی اسرائیل کے ایک گروہ کو ہم نے مال و دولت سے نوازا ۔ ان کو ایک نہایت عمدہ باغ مرحمت فرمایا ۔ مگر انہوں نے ازراہ بخل یہ طے کرلیا ۔ کہ ہم اس کا پھل صرف آپس میں بانٹ لیں گے ۔ اس میں کسی غریب کا حصہ نہیں ہوگا ۔ پھر جو کچھ باغ کی آمدنی سے ملے گا ۔ اس کو صرف اپنی ان آسانی کے لئے استعمال کریں گے ۔ اور مستحقین کو کچھ نہیں…
Read the full tafseer →(25) اور اپنے کو بخل اور مساکین کو نہ دینے پر قادر سمجھتے ہوئے صبح سویرے پہنچ گئے۔ یعنی خفیہ باتیں کرتے اور فقیروں کو محروم رکھنے کی نیت سے اور اپنے خیال میں اس نیت بخل پر قدرت رکھتے ہوئے صبح ہی صبح باغ میں جا پہنچے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–31
ف 4۔ یعنی ان اہل مکہ کو سامان عیش دے رکھا ہے تاکہ دیکھیں کہ نعمتوں کے شکر میں ایمان لاتے ہیں یا ناشکری و بےقدری کر کے کفر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →صبح ہونے سے قبل ہی انہوں نے اپنے بخل کا فیصلہ کر لیا
25 ؎ (حرد) تیزی اور غصہ کے ساتھ روکنا۔ (مفردات راغب) (حرد) کے معنی لغت میں قصد کرنے اور قصد میں ہونے کے ہیں لیکن حسن ، قتادہ اور ابو العالیہ نے سعی و کوشش سے تفسیر کی ہے۔ قرطبی ، مجاہد اور عکرمہ نے اسے طے شدہ معاملات بتایا ہے جس کی باہم قرارداد کرلی ہے اور یہ دونوں تفسیریں قصد کے معنی پر ہی مبنی ہیں کیونکہ انسان جس چیز کا ارادہ رکھتا ہے۔ کوشش سے کام لیتا ہے اور معاملہ کے متعلق بھی ایک بات طے کرلیتا ہے بعض نے لکھا ہے (عدوا غعلی حرد) یعنی مسکینوں کو روکنے کے لئے اپنے گھر سے صبح سویرے چلے اور اسی طرح جب بارش نہ ہو تو عرب کے لوگ بولتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →وَغَدَوْا عَلَىٰ حَرْدٍ قَادِرِينَ And in early hours of the day they rushed quickly, while they were (assuming themselves) powerful (to pluck the fruits and prevent the poor.) [ 68:25] '. The word hard means 'to prevent' and 'to express anger'.5 In other words, they thought they had the power to pick the fruit for themselves and prevent the poor people from having a share in it, and even if they do come to the garden, the owners of the garden decided to chase them out.
(5). This word also means 'to rush quickly'. This meaning of the word has been adopted in the translation of the text.…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–26
15 The word hard in Arabic is used for hindering and withholding, for a purpose and resolution, and for making haste; hence, the composite rendering adopted by us.
Read the full tafseer →