Al-Mulk 67:2

Al-Mulk · from ayah 2

67:2

١لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ؕ— وَهُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ ۟ۙاۨلَّذِىۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوَكُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا ؕ وَهُوَ الۡعَزِيۡزُ الۡغَفُوۡرُۙ‏

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

[He] who created death and life to test you [as to] which of you is best in deed - and He is the Exalted in Might, the Forgiving -

— Saheeh International

Juz 29 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Mulk

All translations of 67:2

جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے، اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

جس نے موت اور حیات کو اس لیے پیدا کیاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے کام کون کرتا ہے، اور وه غالب (اور) بخشنے واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

جس نے موت اور زندگی اس لیے پیدا کی تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ بہتر ہے، اور وہی ہے جو مکمل اقتدار کا مالک، بہت بخشنے والا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے اور وہی عزت والا بخشش والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے، اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا، تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے اور وہی سب پر غالب، بےحد بخشنے والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جس نے موت اور زندگی کو اس لیے پیدا کیا کہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ ہر چیز پر غالب بھی ہے اور بخش دینے والا بھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جس نے پیدا کیا ہے موت اور زندگی کو تاکہ تمہارا امتحان کرے کہ تم میں کون سب سے اچھے عمل والا بنتا ہے اور وہ غالب بھی ہے اور مغفرت فرمانے والا بھی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جس نے پیدا فرمایا موت اور حیات کو تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کس کا کام سب سے اچھا ہے اور وہی ہے سب پر غالب بڑا ہی بخشنے والا (اور نہایت درگزر کرنے والا)

— مولانا اسحاق مدنی

وہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ عمل میں کون بہتر ہے۔ اور وہ بڑا زبردست ہے بڑا مغفرت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔ اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے کام کرتا ہے وہ زبردست اور بخشنے والا ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Who created death and life that He might try you as to which of you is better in deed. He is the Most Mighty, the Most Forgiving;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

the One who created death and life, so that He may test you as to which of you is better in his deeds. And He is the All-Mighty, the Most-Forgiving,

— Muhammad Taqi Usmani

the One who created death and life, so that He may test you as to which of you is better in his deeds. And He is the All-Mighty, the Most-Forgiving,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Who has created death and life that He may test you which of you is best in deed. And He is the Almighty, the Oft-Forgiving;

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who hath created life and death that He may try you which of you is best in conduct; and He is the Mighty, the Forgiving,

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

[He] who created death and life to test you [as to] which of you is best in deed - and He is the Exalted in Might, the Forgiving -

— Saheeh International

It is He who has created death and life to put you to the test and see which of you is most virtuous in your deeds. He is Majestic and All-forgiving.

— Muhammad Sarwar

Who created death and life that He may try you-- which of you is best in deeds; and He is the Mighty, the Forgiving,

— Muhammad Habib Shakir

Who hath created death and life that He might prove you, as to which of you is excellent in work. And He is the Mighty, the Forgiver.

— Abdul Majid Daryabadi

He Who created Death and Life, that He may try which of you is best in deed: and He is the Exalted in Might, Oft-Forgiving;-

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 67:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی باز پرس بھی نہیں کرسکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے۔ پھر خود موت وحیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہوجائے جیسے اور جگہ ہے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْمُلْک 4 یعنی دنیا میں انسانوں کے مرنے اور جینے کا یہ سلسلہ اس نے اس لیے شروع کیا ہے کہ ان کا امتحان لے اور یہ دیکھے کہ کس انسان کا عمل زیادہ بہتر ہے۔ اس مختصر سے فقرے میں بہت سی حقیقتوں کی طرف اشارہ کردیا گیا ہے۔ اول یہ کہ موت اور حیات اسی کی طرف سے ہے، کوئی دوسرا زندگی بخشنے والا ہے نہ موت دینے والا۔ دوسرے یہ کہ انسان جیسی ایک مخلوق، جسے نیکی اور بدی کرنے کی قدرت عطا کی گئی ہے، اس کی نہ زندگی بےمقصد ہے نہ موت۔ خالق نے اسے یہاں امتحان کے لیے پیدا کیا ہے۔ زندگی اس کے لیے امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ اس کے امتحان کا وقت ختم ہوگیا ہے۔ تیسرے یہ کہ اسی امتحان کی غرض سے خالق…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

موت وحیات کی حقیقت خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ یعنی پیدا کیا اس نے موت اور حیات کو احوال انسانی میں سے یہاں صرف دو چیزیں موت وحیات بیان کی گئیں کیونکہ یہی دونوں انسان کے تمام عمر کے احوال و افعال پر حاوی ہیں۔ حیات کے لئے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہر ہے کہ حیات ایک وجودی چیز ہے تخلیق وتکوین کا اس سے متعلق ہونا ظاہر ہے لیکن موت و جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا، اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا نام نہیں بلکہ روح اور بدن کا تعلق منقطع کر کے روح کو ایک مکان سے دوسرے مکان میں منتقل کرنے کا نام ہے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

صحیح تصورکے لازمی نتائج: یہ اوپر والی ہی بات دوسرے اسلوب میں فرمائی گئی ہے جس سے اس کی قدرت، حکمت اور فیض بخشی کی مزید وضاحت ہوتی ہے۔ فرمایا کہ وہی ہے جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا ہے۔ ان میں سے کسی پر بھی کسی دوسرے کو کوئی اختیار نہیں ہے۔ پھر موت زندگی پرمقدم ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ہر چیز اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کے فیض سے پردۂ عدم سے عالم وجود میں آئی ہے، وہ نہ چاہتے تو کوئی چیز وجود میں نہیں آ سکتی۔ عدم کے بعد زندگی اور زندگی کے بعد پھر موت اس بات کی شہادت ہے کہ اس دنیا کا کارخانہ بے غایت و بے مقصد نہیں ہے یہ یوں ہی چلتا رہے یا یوں ہی ایک دن ختم ہو جائے۔ اگر ایسا ہو تو یہ ایک…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

روح ایک ایسی غیر مرئی چیز ہے جس بدن سے اس کا تعلق واتصال ہوجائے وہ زندہ کہلاتا ہے اور جس بدن سے اس کا تعلق منقطع ہوجائے وہ موت سے ہم کنار ہوجاتا ہے اس نے یہ عارضی زندگی کا سلسلہ، جس کے بعد موت ہے اس لیے قائم کیا ہے تاکہ وہ آزمائے کہ اس زندگی کا صحیح استعمال کون کرتا ہے ؟ جو اسے ایماء و اطاعت کے لیے استعمال کرے گا اس کے لیے بہترین جزاء ہے اور دوسروں کے لیے عذاب۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 1–3

1: فرق کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز ایک خاص توازن اور ربط کے ساتھ پیدا فرمائی ہے، اس میں کہیں غیر موزونیت نہیں ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہ کہ وہ قادر مطلق ہے اور اپنی مملکت میں ہر قسم کے تصرفات کرتا ہے ، تو اس کے آثار قدرت اور نمونہ تصرفات ملاحظہ فرمائیں کہ اس نے موت وحیات کی تخلیق کی۔ موت میں وہ حالت بھی شامل ہے جو کسی زندہ چیز کو حیات دینے سے پہلے ہوتی ہے۔ اور وہ حالت بھی شامل ہے ، جو حیات واپس لینے کے بعد طاری ہوتی ہے۔ اور حیات میں بھی پہلی زندگی شامل ہے اور مرنے کے بعد اٹھائے جانے والی زندگی بھی شامل ہے۔ یہ سب حالات اللہ کی تخلیقات میں آتے ہیں۔ ذہن انسانی میں یہ حقیقت بٹھانے کا مقصد یہ ہے کہ اے انسان تجھے بےمقصد نہیں پیدا کیا گیا تو ایک ذمہ دار مخلوق ہے۔ یہ نہیں ہے کہ بس یونہی اتفاقاً تو آگیا ہے اور بس یونہی ایک دن مرکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یعنی مرنے جینے کا سلسلہ اسی نے قائم کیا، ہم پہلے کچھ نہ تھے (اسے موت ہی سمجھو) پھر پیدا کیا، اس کے بعد موت بھیجی، پھر مرے پیچھے زندہ کردیا۔ کما قال (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ ) 2 ۔ البقرۃ :28) موت وحیات کا یہ سارا سلسلہ اس لیے ہے کہ تمہارے اعمال کی جانچ کرے کہ کون برے کام کرتا ہے کون اچھے، اور کون اچھے سے اچھے۔ پہلی زندگی میں یہ امتحان ہوا اور دوسری زندگی میں اس کا مکمل نتیجہ دکھلا دیا گیا۔ فرض کرو اگر پہلی زندگی نہ ہوتی تو عمل کون کرتا، اور موت نہ آتی تو لوگ مبداء و منتہٰی سے غافل اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { نِ الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا } ”جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون اچھے اعمال کرنے والا ہے۔“ { وَہُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُ۔ } ”اور وہ بہت زبردست بھی ہے اور بہت بخشنے والا بھی۔“ یہ ہے انسانی زندگی اور موت کی تخلیق کا اصل مقصد۔ جو کوئی اس فلسفے کو نہیں سمجھے گا اسے زندگی ‘ موت اور موت کے بعد پھر زندگی کی یہ باتیں محض افسانہ معلوم ہوں گی۔ جیسے ایک معروف جاہلی شاعر نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا تھا : حَیَاۃٌ ثُمَّ مَوْتٌ ثُمَّ بَعْثٌ حَدِیْثُ خَرَافَۃٍ یا اُمَّ عَمرو ! ”کہ یہ زندگی ‘ پھر موت ‘ پھر…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 موت ایک ایجابی چیز ہے جسے اللہ نے پہلے پیدا کیا تھا :۔ اللہ تعالیٰ نے موت کا نام زندگی سے پہلے لیا کہ اس نے موت کو بھی پیدا کیا۔ جس سے معلوم ہوا کہ موت محض ایک سلبی چیز نہیں بلکہ ایجابی چیز ہے۔ اور اس سے معتزلہ کے اس قول کی تردید ہوتی ہے جو کہتے ہیں کہ زندگی نہ ہونے کا نام ہی موت ہے۔ جبکہ اصل حقیقت یہ ہے موت روح اور جسم کے انفصال کا نام ہے اور زندگی ان دونوں کے اتصال کا۔ دنیوی زندگی سے پہلے موت سے مراد وہ دور ہے جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا آدم کو پیدا کرنے کے بعد ان تمام روحوں کو بھی پیدا فرمایا جو ان کی پشت سے تاقیامت پیدا ہونے والی تھیں۔ عہد الست اسی دور سے متعلق ہے۔ (7: 172) اور یہ دور روح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

2۔ اور اسی کے لحاظ سے آخرت میں جزاء وسزادے گا۔ (آیت) ” خلق الموت والحیوۃ “۔ یہاں یہ بتادیا کہ خود موت وزندگی بھی تمام دوسری ایجابی وسلبی مخلوقات کی طرح حق تعالیٰ کی مخلوق ہی ہیں۔ کوئی دیوی دیوتا نہیں، جیسا کہ بہت سی جاہلی قوموں نے سمجھ رکھا ہے۔ (آیت) ” خلق الموت “۔ موت عدم محض یا فقط سلب حیات کا نام نہیں، جیسا کہ بعض جاہلی فلاسفہ نے خیال کیا ہے، ایک مستقل وجودی مخلوق ہے۔ واستدل بھذہ الایۃ من قال ان الموت امر وجودی لانہ مخلوق (ابن کثیر) والموت علی ماذھب الیہ الکثیرون من اھل السنۃ صفۃ وجودیۃ تضاد الحیوۃ (روح) قال اصحابنا انہ صفۃ وجودیۃ مضادۃ للحیاۃ (کبیر) یہود کا ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ صرف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–11

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

الذی خلق الموت والحیاۃ . حیات اللہ کی بھی صفت ہے اور مخلوق کی بھی (مطلق) حیات کے لیے صاحب حیاۃ کا عالم ‘ قادر اور صاحب ارادہ ہونا لازم ہے۔ اللہ نے اپنے ارادہ اور ممکنات کی استعداد (فطری) کے موافق مختلف ممکنات کو مختلف درجات کی زندگی عطا فرمائی ہے۔ ا) کسی مخلوق (یعنی انسان) کو ایسی زندگی عطا فرمائی جس کے نتیجہ میں اللہ کی ذات وصفات کی معرفت اس کو حاصل ہوگئی ‘ یہی وہ امانت ہے جس کو انسان نے برداشت کرلیا اور تمام آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اس کو اٹھانے سے خوفزدہ ہوگئے ‘ یہ حیات (معرفت اندوز) اللہ کی طرف سے محض القاء نوری کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے ‘ اس کو اور اس کے مقابل والی موت کو آیت : افمن کان…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ وہ ہے ذات ہے جس نے موت کو سفید مینڈھے کی شکل میں پیدا کیا کہ اس کا کسی چیز پر سے گزر نہیں ہوتا اور نہ کوئی چیز اس کی خوشبو سونگھتی ہے مگر یہ کہ وہ فورا مرجاتی ہے اور حیات کو بلقاء گھوڑے کی شکل میں پیدا کیا، یہ گدھے سے بڑا اور خچر سے چھوٹا ہے اس کا قد منتہائے نظر ہوتا ہے، انبیاء کرام اس پر سواری کرتے ہیں جس چیز پر سے اس کا گزر ہوتا ہے وہ زندہ ہوجاتی ہے یا یہ کہ اس نے نطفہ اونسمہ کو پیدا کیا تاکہ آزمائے کہ موت وحیات کے درمیان تم میں کون شخص زیادہ خلوص کے ساتھ عمل کرتا ہے اور وہ زبردست بخشنے والا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ نِالَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ۔۔۔: یہاں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی پیدا کی ہوئی چند چیزوں کا ذکر فرمایا جو مخلوق کی باہر ہیں، تا کہ انسان کے دل میں اللہ کی قدرت کا پورا یقین جم جائے۔ اس مقام پر اپنی قدرتوں میں سے پہلی چیز موت و حیات ذکر فرمائی ، کیونکہ موت اور زندگی میں انسان کے تمام احوال پورے پورے آجاتے ہیں۔ 2۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کی دنیا میں آنے سے پہلے کی حالت کو موت قرار دیا اور دنیا میں آنے کے بعد یہاں سے جانے کو بھی موت قرار دیا۔ اسی طرح دنیا میں آنے کو زندگی قرار دیا ، پھر موت کے بعد اٹھنے کو زندگی قرار دیا ، جیسا کہ فرمایا :(کَیْفَ تَکْفُرُوْنَ بِ اللہ ِ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں دو مسئلے ہیں : موت اور حیات کی تخلیق کا معنی مسئلہ نمبر 1 ۔ الذی خلق الموت ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے تمہیں موت اور زندگی کے لئے پیدا کیا، یعنی دنیا میں موت کے لئے اور آخرت میں زندگی کے لئے پیدا کیا (3) ۔ موت کو زندگی پر مقدم کیا کیونکہ موت صفت قہر کے زیادہ قریب ہے جس طرح بنات کو بنین پر مقدم کیا فرمایا : یھب لمن یشاء اناثا (الشوریٰ :49) ایک قول یہ کیا گیا ہے : موت کو اس لئے مقدم کیا کیونکہ یہ زندگی سے پہلے ہے کیونکہ اشیاء ابتدا میں موت کے حکم میں تھیں جس طرح نطفہ، مٹی وغیرہ۔ قتادہ نے کہا : رسول اللہ ﷺ ارشاد فرمایا کرتے تھے : ” اللہ تعالیٰ نے انسان کو موت کے ساتھ ذلیل کیا، دنیا کو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

21۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی فی شعب الایمان سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا وہ ذات جس نے موت اور زندگی کو پیدا فرمایا تاکہ تم کو آزمائے کہ کون تم میں سے اچھے عمل کرتا ہے۔ یعنی کون تم میں اچھا ہے موت کو یاد کرنے کے لحاظ سے اور اس کی تیاری کرنے کے لحاظ سے اور اس سے خوف اور ڈرنے کے لحاظ سے۔ 22۔ عبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے آیت الذی خلق الموت والحیوۃ کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے آدم کی اولاد کو ذلیل کیا موت کے سبب اور دنیا کو بنادیا زندگی کا گھر پھر موت کا گھر۔ اور آخرت کو بنادیا بدلے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[الَّذِي خَلَقَ : جس نے پیدا کیا ][ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوةَ : موت کو اور حیات کو ][ لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ وہ جانچے تم لگوں کو (کہ)][ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ : تم لوگوں کا کون زیادہ اچھا ہے ][ عَمَلًا : بلحاظ عمل کے ][ ۭوَهُوَ الْعَزِيْزُ الْغَفُوْر : اور وہ ہی بالا دست ہے بےانتہا بخشنے والا ہے ] نوٹ۔ 2: آیت۔ 2 میں ہے کہ اس نے پیدا کیا موت اور قیامت کو۔ حیات کے لیے پیدا کرنے کا لفظ تو اپنی جگہ ظاہ رہے، کہ حیات ایک وجودی چیز ہے۔ لیکن موت جو بظاہر ایک عدم کا نام ہے، اس کے ساتھ تخلیق کا تعلق کس طرح ہوا۔ اس کے جواب میں ائمہ تفسیر سے متعدد اقوال منقول ہیں۔ سب سے زیادہ واضح بات یہ ہے کہ موت عدم محض کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 1–5

اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے) دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–5

شان عظمت وقدرت خداوندی مع بیان جزائے اہل سعادت وتنبیہ وتہدید براہل شقاوت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک ......... الی ............. عذاب السعیر “۔ (ربط) سورة تحریم کا اختتام اس امر پر تھا کہ دین کی حفاظت کے لئے جہاد مع الکفار ضروری ہے اور ایمان وتقوی ہی انسان کی سعادت و کامیابی کی روح ہے تو اب اس مناسبت سے سورة تبارک الذی کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت قدرت کے بیان سے ہورہی ہے اور یہ کہ اہل ایمان اور اہل سعادت کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور منکرین واشقیاء کیسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بھی اشارۃ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ایک گھر کا سرپرست اپنے اہل خانہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” الذی خلق الموت “ یہ تیسری دلیل عقلی عام ہے۔ یہ موت وحیات کا سلسلہ اسی نے پیدا فرمایا تاکہ آزمائش کر کے کہ کون نیک عمل کرتا ہے اور کون نہیں اور پھر حساب کتاب بھی وہی لے گا۔ پھر وہ ایسا غالب ہے کہ نہ ماننے والوں کو سزا دے گا اور ایسا مہربان ہے کہ ماننے والوں سے اگر خطائیں ہوجائیں و ان سے اپنے انعامات چھین نہیں لیتا بلکہ استغفار پر در گذر فرماتا ہے اور معافی عطاء کرتا ہے، تو کیا برکات دہندہ کوئی اور ہوگا ؟۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–5

وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔ دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيٰوۃَ لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا۝ 0 ۭ وَہُوَالْعَزِيْزُ الْغَفُوْرُ۝ 2 ۙ خلق الخَلْقُ أصله : التقدیر المستقیم، ويستعمل في إبداع الشّيء من غير أصل ولا احتذاء، قال : خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] ، أي : أبدعهما، ( خ ل ق ) الخلق ۔ اصل میں خلق کے معنی ( کسی چیز کو بنانے کے لئے پوری طرح اندازہ لگانا کسے ہیں ۔ اور کبھی خلق بمعنی ابداع بھی آجاتا ہے یعنی کسی چیز کو بغیر مادہ کے اور بغیر کسی کی تقلید کے پیدا کرنا چناچہ آیت کریمہ : ۔ خَلْقِ السَّماواتِ وَالْأَرْضِ [ الأنعام/ 1] اسی نے آسمانوں اور زمین کو مبنی بر حکمت پیدا کیا میں خلق بمعنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : تبارک تفاعل من البرکۃ وھی النماء والزیاوۃ حسیۃ کانت او عقلیۃ وکثرۃ الخیر ودوامہ ایضا وصیغۃ التفاعل للمبالغۃ فی ذلک الملک مبتداء بیدہ خبرو الجملۃ صلۃ الذی وھو فاعل تبارک وھو علی کل شیئٍ قدیر الجملۃ معطوفۃ علی الصلۃ مقررۃ لمضمونھا لیبلوکم واللام متعلقہ بخلق (ایکم مبتدائ) احسن عملا خبرہ والجملۃ واقعۃ موقع المفعول ثانیا لفعل البلویٰ المتضمن معنی العلم الذی خلق سبع سمٰوات قیل ھو لغت للعزیز الغفور اوبیان اوبدل والاوجہ انہ نصب اور فع علی المدح متعلق بالموصومین السابقین وان کان منقطعا عنھما اعرابا۔ طباقا صفۃ سبع سمٰوات ای مطابقۃ علی انہ مصدر وصف بہ المفعول اومصدر موکد لمحذوف ھو صف تھا ای…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّـکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً ط وَھُوَالْعَزِیْزُالْغَفُوْرُ ۔ (الملک : 2) (جس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تم لوگوں کو آزما کر دیکھے کہ تم میں سب سے اچھے عمل والا کون ہے اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔ ) قدرتِ کاملہ کی دلیل اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اس سے بڑا ثبوت اور ظہور اور کیا ہوگا کہ وہ موت اور زندگی کا خالق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی عقل سے کام لے کر انسانوں نے کیسی کیسی محیرالعقول ایجادات کی ہیں لیکن ان میں سے ہر ایجاد کسی نئی چیز کی تخلیق نہیں بلکہ چند اشیاء میں مناسب ترتیب اور ترکیب کا راز پالینے سے وجود میں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : سورة التحریم کا اختتام اچھے اور برے کردار کے بیان پر ہوا یہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے کہ اسے آزمایا جائے کہ یہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔ ” اللہ “ ہی کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہی ہے اور وہ بڑا ہی برکت والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ تبارک کا دوسرا معنٰی کثرت خیر اور دوام خیر بھی کیا گیا ہے۔ ملک سے مراد ساری کائنات اور اس کی بادشاہی ہے۔ اس فرمان میں بیک وقت مادہ پرست سائنسدانوں اور مشرکانہ عقائد رکھنے والوں کی تردید کی گئی ہے۔ جو سائنسدان سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات بگ بینگ (BIG BANG) کے ذریعے خود بخود معرض وجود میں آئی اور اسے کوئی بنانے اور چلانے والا نہیں ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

2 : الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ (جس نے موت وحیات کو پیدا کیا) نحو : مبتدأ محذوف کی خبر ہے۔ نمبر 2۔ پہلے الذی سے بدل ہے۔ الحیاۃ : جس کے پائے جانے سے احساس درست ہو۔ الموتؔ : جس کے پائے جانے سے احساس درست نہ رہے۔ خلق ‘ موت وحیات کا معنی : اس مصح (تندرست) کا ایجاد حیات اور اعدام موت ہے۔ مطلب یہ ہے اے مکلف (انسانوں) اس نے تمہاری موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ لِیَبْلُوَکُمْ ( تاکہ تمہاری آزمائش کرے) تاکہ وہ اپنے امرو نہی سے۔ اس موت اور زندگی کے ذریعہ تمہارا امتحان لے، جو موت امیر و اسیر کو شامل ہے اور جو زندگی بیمار و طبیب ہر دو سے بےوفائی کرنے والی ہے۔ تاکہ تم سے وہ ظاہر ہو جو اس کے علم میں ہے کہ تم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–5

1۔ 5۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 1–4

(تبارک الذی بیدہ الملک) یعنی وہ ہستی بہت عظمت والی اور بلند ہے اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات، مثلا آسمان اور زمین کو وجود بخشا اور آیت (خلق الموت والحیوۃ) ، اس نے موت وحیات کو پیدا کیا، یعنی اس نے اپنے بندوں کے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے پھر موت سے ہم کنار کرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

3 سلسلہ موت وحیات کا خالق بھی وہی وحدہ لاشریک ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ جس نے پیدا فرمایا زندگی اور موت کو۔ یعنی زندگی اور موت دونوں اسی کے قبضہ قدرت و اختیار میں ہیں ‘ وہ جس کو چاہے زندگی بخشے اور جس کو چاہے موت سے ہمکنار فرما دے اور دن رات کے چوبیس گھنٹوں کے ہر لمحہ میں اور اس کائنات کے ہر ہر خطے میں اس کی اس شان احیاء و اماتت کا ظہور ہمیشہ اور طرح طرح سے ہوتا رہتا ہے اور موت اگرچہ نظر بظاہر ایک عدی چیز ہے مگر اس عدم و اعدام میں بھی ایک وجودی معنی پایا جاتا ہے کہ موت بہرحال ایک حقیقت اور اٹل حقیقت ہے ‘ اور ایسی اٹل کہ حق تعالیٰ کے کلام معجز نظام میں اس کو تعبیر بھی یقین کے لفظ سے فرمایا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–5

اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے تشریح : جیسا کہ سورت کے نام سے ظاہر ہے ” ملک “ مطلب ہے بادشاہی۔ دنیا کا نظام بناتے ہوئے جس حکمت کا اندازہ ہوتا ہے وہ کسی بندے بشر کے بس کی بات نہیں۔ جب ہم اس کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رحمت اور برکت کا بھی کوئی شمار نہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات سے نہ تو غافل ہے اور نہ ہی لاعلم ” اس کو ہر چیز کا علم ہے اور وہ مہربانیوں کا رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ موت اور زندگی کسی کے اختیار میں ہرگز کسی صورت بھی نہیں یہ مرحلہ بھی بڑا غور طلب ہے۔ موت ختم ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسری دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے جیسے زندگی اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–14

آیات 1 تا 14۔ اسرار ومعارف۔ بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔ صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔ اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔ موت اور اس کی اقسام۔ زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 1–2

ف 2 یعنی موت اور زندگی کا یہ سلسلہ جو دنیا میں چل رہا ہے اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ آدمی کے اعمال کا امتحان لیا جائے اور ایمان و اطاعت کے بعد یہ دیکھا جائے کہ کمال احسان کا درجہ کس میں پایا جاتا ہے اگر عمل اچھے ہوں گے تو آخرت میں ان کا اچھا اجر پائے گا اور اگر برے ہوں گے تو آخرت میں برا بدلہ پائے گا۔ موت و حیاۃ کا یہ سلسلہ بےمقصد نہیں ہے بلکہ آخروی شاہ صاحب لکھتے ہیں :” اگر مرنا نہ ہوتا تو بھلے برے کام کا بدلہ کہاں ملتا۔ “ (موضح)3 زبردست ہے یعنی اسے کوئی دوسرا اپنا فیصلہ نافذ کرنے سے نہیں روک سکتا اور بخشنے والا ہے یعنی جو شخص توبہ کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو وہ اسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(67:2) الذی خلق الموت والحیوۃ لیبلوکم ایکم احسن عملا : ن نون قطنی، جس حرف پر تنوین (یعنی دوزبر یا دو زیر یا دو پیش) ہو اور اس کے بعد والے حرف پر جزم ہو تو اس تنوین کو نون مکسور سے بدل کر پڑھیں گے۔ قرآن مجید میں ایسے کئی مقامات پر چھوٹا سا نون بھی لکھا ہوا ہوتا ہے اس نون کو نون قطنی کہتے ہیں۔ الذی اسم موصول خلق الموت والحیوۃ اس کا صلہ، صلہ موصول مل کر خبر مبتدا محذوف کی ای ھو الذی ۔۔ لیبلوکم : لام تعلیل کا۔ یبلو مضارع منصوب بوجہ عمل لام، واحد مذکر غائب بلا (باب نصر) مصدر تاکہ وہ آزمائش کرے۔ تاکہ وہ چھانٹ چھانٹ کر الگ الگ کر دے ۔ کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر (مفعول اول) ای استفہامیہ ، مضاف کم…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–14

لغات القرآن۔ تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–5

خدا کا حقیقی بادشاہ ہونا، حاکمیت اعلی اور دنیوی بادشاہوں میں فرق ۔ (ف 1) سورة زخرف میں گذرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا چند روزہ انتظام اس طرح فرمادیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا کسی کو رعیت ، اور ایک کی ضرورت دوسرے لگادی ، مثلا رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں، فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کا انجام دیتے ہیں، جس طرح ان کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں اسی طرح کھیتی کے لیے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لیے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت ، فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 1–2

[1] یعنی اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کا یہ کارخانہ عبث نہیں بنایا ہے بلکہ لوگوں کے امتحان کے لئے بنایا ہے کہ کون نیکی کی زندگی اختیار کرتا ہے اور کون بدی کی۔ زندگی امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ امتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوکار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بدکار اپنی بدکاریوں کی سزا بھگتیں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

اسلامی سوشلزم 1: جہاں تک ذات خد اوندی کا تعلق ہے ۔ وہ تو اضافہ وارتقاء مراتب سے یک قلم منزہ اور پاکی ہے ۔ اس لئے تبارک کی یہ معنے تو ہرگز نہیں ہیں ۔ کہ اس کی صفات جلال اور شنون جمال میں کہیں ازدیاء کا امکان ہے ۔ اس کی شان ازل سے ابد تک یکساں ہے ۔ وہ الان کم کان کا مصداق ہے ۔ وہ قدرت و حکمت اور حسن و کمال کا وہ آخری مفہوم ہے ۔ جس تک عقل انسانی پہنچ سکتی ہے ۔ مگر اس کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ البتہ اس کے معنے یہ ہوسکتے ہیں ۔ کہ اس کے فیوض رحمت میں ابداً اور دائماً باعتبار کائنات کے اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ اور اس کی ربوبیت زیادہ اتم کو زیادہ جمیل اور زیادہ مفید شکل میں بدل رہی ہے ۔ بیدہ کا لفظ جسمانیت…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا اور جس نے مرنا جینا بنایا تاکہ وہ تمہاری آزمائش کرے اور تم کو آزمائے کہ تم میں عمل کے اعتبار سے کون بہتر اور اچھا ہے اور وہ بڑا زبردست بہت بخشنے والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں یعنی مرنا نہ ہوتا تو بھلے برے کام کا بدلا کہاں ملتا۔ خلاصہ : یہ ہے کہ حضرت حق تعالیٰ نے مخلوق میں مرنے اور جینے کا سلسلہ جاری کیا کتم عدم سے اس عالم میں لانا اور زندگی کو بخشا پھر یہاں سے دوسرے عالم میں منتقل کردینا اسی کو زندگی اور موت فرمایا۔ عدم کو پہلے پارے میں موت سے تعبیر کیا ہے ۔ وکنتم امواتا فاحیاکم۔ اس موت یعنی عدم سے اس جہان میں لائے زندگی بخشی ، پھر موت دیں گے یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

ف 4۔ حسن عمل میں موت کا تو یہ دخل ہے کہ موت کے مشاہدہ سے انسان دنیا کو فانی اور بعث کے اعتقاد سے آخرت کو باقی سمجھ کر وہاں کے ثواب حاصل کرنے اور وہاں کے عقاب سے بچنے کے لئے مستعد ہوسکتا ہے، اور حیات کا دخل یہ ہے کہ اگر حیات نہ ہو تو عمل کس وقت کرے، پس حسن عمل کے لئے موت بمنزلہ شرط کے اور حیات بمنزلہ ظرف کے ہے اور چونکہ موت عدم محض نہیں، اس لئے اس پر مخلوقیت کا حکم صحیح ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 2–3

اللہ وہ ذات ہے جس نے سات آسمان بنائے جن میں کوئی خلل نہیں ہے 3 ؎ (طباقا) اوپر نیچے اور تہ بہ تہ اور تہ در تہ کو کہتے ہیں۔ یہ باب مفاعلہ کا مصدر ہے۔ فعل اس کا طابق یطابق آتا ہے ” مطابقت “ اسماء متضائفہ میں سے ہے۔ اس کے معنی ہیں ایک چیز کو دوسری چیز کے اوپر اس طرح رکھنا کہ اندازہ درست رہے اور وہ بالکل اس کے اوپر آئے۔ طباق ایک شے کو دوسری شے پر اس طرح رکھنے کو کہتے ہیں کہ اوپر کی چیز نیچے کی چیز کو ڈھانپ لے جس کا مطلب یہ ہوا کہ اوپر کی چیز نیچے کی چیز سے اتنی بڑی ہونی چاہئے کہ اس کو ڈھانپ سکے اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان تھا اور یہ اس کی قدرت کی مدلل دلیل ہے اور بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Reality of Life and Death خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ (...the One who created death and life...67:2) Out of the human conditions, only two phenomena, i.e. life and death are mentioned here, because they cover all of human conditions and actions of his entire life. The creation of 'life' is quite obvious, because life is a positive reality that can be the object of creation and bringing into existence. However, one may ask how 'death' can be 'created', while it is a negative concept that refers to a state of non-existence. In answer to this question, the leading commentators have come up…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 That is, the object of giving life to men in the world and causing their death is to test them to see which of them is best in deeds. Allusion has been made in this brief sentence to a number of truths: (1) That life and death are given by Allah; no one else can grant life nor cause death; (2) that neither the life nor the death of a creation like man, which has been given the power to do both good and evil, is purposeless; the Creator has created him in the world for the test: life is for. him the period of the test and death means that the time allotted for the test has come to an end;…

Read the full tafseer →