Explained with ayahs 1–5
بہتر عمل کی آزمائش کا نام زندگی ہے
اللہ تعالیٰ اپنی تعریف بیان فرما رہا ہے اور خبر دے رہا ہے کہ تمام مخلوق پر اسی کا قبضہ ہے جو چاہے کرے۔ کوئی اس کے احکام کو ٹال نہیں سکتا اس کے غلبہ اور حکمت اور عدل کی وجہ سے اس سے کوئی باز پرس بھی نہیں کرسکتا وہ تمام چیزوں پر قدرت رکھنے والا ہے۔ پھر خود موت وحیات کا پیدا کرنا بیان کر رہا ہے، اس آیت سے ان لوگوں نے استدلال کیا ہے جو کہتے ہیں کہ موت ایک وجودی امر ہے کیونکہ وہ بھی پیدا کردہ شدہ ہے، آیت کا مطلب یہ ہے کہ تمام مخلوق کو عدم سے وجود میں لایا تاکہ اچھے اعمال والوں کا امتحان ہوجائے جیسے اور جگہ ہے آیت (كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ باللّٰهِ وَكُنْتُمْ…
Read the full tafseer →سورة الْمُلْک 1
تبارک برکت سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ برکت میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات کے مفہومات شامل ہیں۔ اس سے جب مبالغہ کا صیغہ تبارک بنایا جائے تو اسکے معنی ہوتے ہیں کہ وہ بےانتہا بزرگ و عظیم ہے، اپنی ذات وصفات و افعال میں اپنے سوا ہر ایک سے با لا تر ہے، بےحدو حساب بھلائیوں کا فیضان اس کی ذات سے ہو رہا ہے، اور اس کے کمالات لازوال ہیں (مزید تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن جلد دوم، الاعراف، حاشیہ 43۔ جلد سوم، المومنون، حاشیہ 14۔ الفرقان، حواشی 19)۔
سورة الْمُلْک 2
الملک کا لفظ چونکہ مطلقاً استعمال ہوا ہے اس لیے اسے کسی محدود معنوں میں نہیں لیا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
وہ (خدا) بڑا عالیشیان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے جس نے موت اور حیات کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کر کے تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے (حسن عمل میں موت کا تو دخل یہ ہے کہ موت کی فکر سے انسان دنیا فانی اور قیامت کے اعتقاد سے آخرت کو باقی سمجھ کر وہاں کے ثواب حاصل کرنے اور وہاں کے عذاب سے بچنے کے لئے مستعد ہوسکتا ہے اور حیات کا دخل یہ ہے کہ اگر حیات نہ ہو تو عمل کس وقت کرے، پس حسن عمل کے لئے موت بمنزلہ شرط کے اور حیات بمنزلہ ظرف کے ہے اور چونکہ موت عدم محض نہیں ہے اس لئے اس پر مخلوقیت کا حکم صحیح ہے) اور وہ زبردست (اور بخشنے والا ہے (کہ اعمال غیر…
Read the full tafseer →اس کائنات کے خالق سے متعلق صحیح تصور کی راہ:
’تَبَارَکَ‘ کے اندر عظمت اور برکت دونوں کے مفہوم پائے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ صیغہ مبالغہ کا بھی ہے اس وجہ سے اس کے معنی ہوں گے کہ بڑی ہی باعظمت اور بافیض ہے وہ ذات جس کے قبضۂ قدرت میں اس کائنات کی باگ ہے۔ ’وَہُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ‘ اور باعظمت و بافیض ہونے کے ساتھ ساتھ وہ ہر چیز پر قادر بھی ہے۔ کوئی بڑے سے بڑا اور مشکل سے مشکل کام بھی ایسا تصور نہیں کیا جا سکتا جو اس کے حیطۂ امکان سے خارج ہو۔۱
یہ حال بیان ہوا ہے اس مشاہدے کا جو ایک عاقل اور صاحب فکر کے سامنے آتا ہے یا آنا چاہیے جب وہ اس کائنات کی نشانیوں پر غور کرتا ہے۔ اس کی دلیل آگے آ…
Read the full tafseer →1۔ 1 اسی کے ہاتھ میں بادشاہی ہے یعنی ہر طرح کی قدرت اور غلبہ اسی کو حاصل ہے، وہ کائنات میں جس طرح کا تصرف کرے، کوئی اسے روک نہیں سکتا، وہ شاہ کو گدا اور گدا کو شاہ بنا دے، امیر کو غریب اور غریب کو امیر کردے۔ کوئی اس کی حکمت و مشیت میں دخل نہیں دے سکتا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
1: فرق کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز ایک خاص توازن اور ربط کے ساتھ پیدا فرمائی ہے، اس میں کہیں غیر موزونیت نہیں ہے۔
Read the full tafseer →اس سورت کے آغاز میں اللہ کب برکات پر مشتمل یہ سپاس نامہ اس بات پر دال ہے کہ اللہ کی برکتیں اور اللہ کے کرم ، اور اللہ کے فیوض کی کوئی انتہا نہیں ہے۔ اللہ کی برکتیں اللہ کی سلطنت میں ہیں اور اس کی بادشاہت میں کوئی کمی نہیں۔ اللہ کی ذات اور اللہ کی صفات کی برکات کا فیض عام اس پوری کائنات میں جاری وساری ہے اور یہ پوری کائنتا اس کی حمد گا رہی ہے اور اس لاانتہا وجود کی وادیوں میں اس کی گونج ہے۔ قلب مومن ان برکتوں سے لبالب ہے اور یہ کائنات اس کتاب الٰہی کے ذریعہ قلب مومن پر نازل ہوتی ہے اور اس پوری کائنات میں ان کا ظہور ہے۔
بیدہ الملک (76 : 1) ” جس کے ہاتھ میں سلطنت ہے “۔ وہ اس کائنات کا مالک ہے ،…
Read the full tafseer →1 یعنی سب ملک اس کا ہے اور تنہا اسی کا اختیار ساری سلطنت میں چلتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 1{ تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ } ”بہت ہی بابرکت ہے وہ ہستی جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے“
یہ دین اسلام کے سیاسی منشور کی بنیادی شق ہے۔ یعنی پوری کائنات کا اقتدار اور اختیار کلی طور پر اللہ تعالیٰ کے دست قدرت میں ہے۔ دنیا میں اگر انسانوں کے ہاں اللہ تعالیٰ کے احکام سے کہیں بغاوت دکھائی دیتی ہے تو وہ بھی دراصل اسی کے عطا کردہ اختیار کی وجہ سے ہے۔ اس میں ایمان کے دعوے داروں کا امتحان بھی ہے کہ وہ بھلا اللہ کے اقتدار کو چیلنج کرنے والوں کے مقابلے میں کیا طرزعمل اختیار کرتے ہیں۔ ورنہ سورج ‘ چاند ‘ ستارے ‘ کہکشائیں ‘ ہوائیں اور کائنات کا ذرّہ ذرّہ اللہ تعالیٰ کے حکم کا پابند اور تابع…
Read the full tafseer →2 تبارک کا لغوی مفہوم :۔ تَبَارَکَ برکت کے معنی کسی چیز میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے خیر کا ثابت ہونا ہے (مفردات) یعنی جو کام کیا جائے اس میں متوقع زیادہ سے زیادہ فائدہ ہونے کا نام برکت ہے۔ بشرطیکہ یہ کام خیر کا پہلو رکھتا ہو اور جس چیز میں یہ خیر کا پہلو بارآور ثابت ہو وہ مبارک ہے۔ اور تبرک کا لفظ اللہ تعالیٰ سے مختص ہے اور صرف ان خیر کے کاموں کے لیے آتا ہے۔ جو اللہ تعالیٰ سے مخصوص ہیں۔ اس آیت میں اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کائنات کی ہر ایک چیز کو جس بہتر مقصد کے لیے پیدا فرمایا تھا وہ چونکہ بدرجہ اتم وہ مقصد پورا کر رہی ہے لہذا اللہ کی ذات تبارک یعنی بابرکت ہوئی۔
3 الْمُلْکُ یعنی…
Read the full tafseer →1۔ ملکیت اور قدرت دونوں اسی ذات واحد کی کامل اور غیر مشترک ہیں۔ کلمہ ملک میں خود ہی یہ مفہوم آگیا تھا۔ آیت کے دوسرے جزء نے اور زیادہ تصریح وتاکید کردی۔ بعض محققین سے یہ نکتہ بھی منقول ہے کہ بادشاہت اور حکومت عموما محل موجود اور کیفیت حاضر تک محدود سمجھی جاتی ہے۔ قدرت اس کے مقابلہ میں عام ووسیع ہے تو آیت کے جزء ثانی نے یہ صاف کردیا کہ صرف موجودات ہی کی بادشاہت و حکومت نہیں بلکہ سارے آیندہ ممکنات پر بھی حق تعالیٰ کی ملکیت اور قدرت اسی طرح وسیع ہے۔ (آیت) ” بیدہ۔ ید کے لفظی معنی ہاتھ کے ہیں۔ لیکن یہاں مراد اس کے مجازی معنی قبضہ یا تصرف کا ہونا بالکل ظاہر ہے، خود اردو میں بھی ایسے موقع پر ” ہاتھ “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–11
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، وہ بڑا عالی شان ہے محدثین (مخلوق) کی صفات سے پاک ہے، جس کے قبضہ تصرف میں بادشاہی اور قدرت ہے جس نے دنیا میں موت کو پیدا فرمایا اور حیات کو آخرت میں پیدا فرمایا، دونوں کو دنیا میں پیدا فرمایا چناچہ نطفہ میں حیات ڈالی جاتی ہے، اور حیات وہ ہے کہ جس سے احساس ہوتا ہے، اور موت اس کی ضد ہے یا عدم حیات کا نام موت ہے، یہ دونوں قول ہیں، اور ثانی صورت میں خلق بمعنی تقدیر ہوگا، تاکہ حیات میں تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون شخص عمل میں زیادہ اچھا ہے ؟ یعنی زیادہ فرمانبردار ہے، وہ اپنی نافرمانی کرنے والے سے انتقام لینے میں زبردست ہے اور…
Read the full tafseer →تبارک۔ یہ لفظ برکت سے ماخوذ ہے ‘ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں جو زیادتی والے کے کمال پر دلالت کرتی ہے اور مقتضی
نقصان نہیں ہوتی۔ مخلوق کی صفات میں نقص ہونا لازم ہے ‘ اس لیے وہ کمال وصفی جس پر لفظ تبارک دلالت کر رہا ہے صفات مخلوق سے بالکل منزہ ہوگا (گویا تبارک کا معنی ہوا تعالیٰ اور تنزہ) اللہ پر تمام اسماء وصفی کا اطلاق محض نتائج کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ مبادی ساقط الاعتبار ہوتے ہیں (مثلاً اللہ کا ایک اسم وصفی رحمن ہے۔ رحمت کا معنی ہے ایسا میلان نفس جس کا نتیجہ مہربانی اور احسان ہو میلان نفس مبدء احسان ہے اور احسان میلان نفس کا نتیجہ اور ظاہر ہے کہ اللہ نفس اور نفسانیات سے پاک ہے اس لیے اس کی ذات…
Read the full tafseer →وہ بڑا عالی شان اور برکتوں والا ہے جس کے قبضہ قدرت میں عزت و ذلت اور تمام بادشاہی ہے اور وہ عزت و ذلت پر پورا قادر ہے۔
Read the full tafseer →تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ :”تبرک“ ”برکۃ“ سے باب تفاعل ہے۔ اس میں مبالغہ پایا جاتا ہے، اسی مناسبت سے ترجمہ ”بہت برکت والا“ کیا گیا ہے۔ ”برکۃ“ کے معنی میں زیادہ ہونا ، بڑھنا ہونا۔”تبرک“ یعنی وہ خیر اور بھلائی میں ساری کائنات سے بےانتہاء بڑھا ہوا ہے اور بلندی ، بڑائی اور احسان ، غرض ہر لحاظ سے اس کی ذات بےحد و حساب خوبیوں اور بھلائیوں کی جامع ہے۔ مزید دیکھئے سورة ٔ فرقان کی پہلی آیت کی تفسیر۔
2۔”بیدہ“ پہلے لانے سے کلام میں حصر پیدا ہوگیا ، اس لیے ترجمہ ”صرف اس کے ہاتھ میں ہے“ کیا گیا ہے۔
3۔ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ دنیا میں بادشاہ تو بہت ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ نے یہ کیسے فرما دیا…
Read the full tafseer →” منزہ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ میں (سب جہانوں کی) بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر پوری طرح قادر ہے “۔
تبرک یہ برکت سے تفاعل کے وزن پر ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے حضرت حسن بصری نے کہا : اس کا معنی تقدس ہے یعنی وہ پاک ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ہمیشہ رہنے والا ہے پس وہ ایسا دائم ہے جس کے وجود کا اول نہیں اور اس کے دوام کا آخر نہیں۔ الذی بیدہ الملک دنیا و آخرت میں زمین و آسمان کی بادشاہی اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : اس کے قبضہ قدرت میں بادشاہی ہے، جسے چاہتا ہے عزت عطا فرماتا ہے اور جسے چاہتا ہے ذلت عطا فرماتا ہے، وہ زندگی عطا کرتا ہے، وہ موت عطا کرتا ہے، وہ غنی کرتا ہے،…
Read the full tafseer →1۔ احمد بن ابو داوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن الضریس والحاکم وصححہ وابن مردویہ و بیہقی فی شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب میں تیس آیتوں والی ایک سورة ہے۔ وہ آدمی کے لیے سفارش کرے گی یہاں تک کہ اس کو بخش دیا جائے گا۔
سورة ملک تلاوت کرنے والے کو جنت میں داخل کے گی۔
2۔ الطبرانی فی الاوسط وابن مردویہ اور الضیاء نے المختارہ میں انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایک سورة قرآن میں ایسی ہے جو اپنے پڑھنے والے کے بارے میں جھگڑا کرے گی۔ یہاں تک کہ اس کو جنت میں داخل کرادے گی اور وہی سورت ہے تبرک الذی بیدہ الملک۔
3۔ الترمذی والحاکم وابن…
Read the full tafseer →[تَبٰرَكَ الَّذِي : بابرکت ہوئی وہ (ذات)][ بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ][ الْمُلْكُ ۡ: ساری بادشاہت ہے ][ وَهُوَ عَلٰي كُلِ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز پر ][ قَدِيْرُ : قدرت رکھنے والا ہے ]
نوٹ۔ 1: حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہ سورة عذاب کو روکنے والی اور عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب سے بچائے گی۔ (معارف القرآن)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ تعالیٰ کی ذات عالی ہے وہ ہر چیز پر قادر ہے سارا ملک اسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسی نے موت وحیات کو پیدا فرمایا تاکہ تمہیں آزمائے
ان آیات میں اللہ تعالیٰ کی ذات عالی کی عظمت اور سلطنت اور قدرت اور شان خالقیت بیان فرمائی ہے۔ اول تو یہ فرمایا کہ وہ ذات برتر ہے اور بالا ہے جس کے قبضے میں پورا ملک ہے سارے عالم میں اسی کا راج ہے اسی کی سلطنت ہے اس کی قدرت سے کوئی بھی باہر نہیں۔ سورة ٴ یٰسین میں فرمایا : ﴿ فَسُبْحٰنَ الَّذِيْ بِيَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ ﴾ (سو پاک ہے وہ ذات جس کے قبضہ میں ہر چیز کی سلطنت ہے)
دوم یہ فرمایا کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے سوم یہ فرمایا کہ اس نے موت کو اور حیات کو پیدا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
شان عظمت وقدرت خداوندی مع بیان جزائے اہل سعادت وتنبیہ وتہدید براہل شقاوت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” تبرک الذی بیدہ الملک ......... الی ............. عذاب السعیر “۔
(ربط) سورة تحریم کا اختتام اس امر پر تھا کہ دین کی حفاظت کے لئے جہاد مع الکفار ضروری ہے اور ایمان وتقوی ہی انسان کی سعادت و کامیابی کی روح ہے تو اب اس مناسبت سے سورة تبارک الذی کی ابتداء حق تعالیٰ شانہ کی عظمت قدرت کے بیان سے ہورہی ہے اور یہ کہ اہل ایمان اور اہل سعادت کو کیسی کیسی نعمتوں سے نوازا جائے گا اور منکرین واشقیاء کیسے ہولناک عذاب میں مبتلا ہوں گے، اور یہ بھی اشارۃ ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر ایک گھر کا سرپرست اپنے اہل خانہ…
Read the full tafseer →2:۔ ” تبرک الذی “ یہ سورت کا دعوی ہے کہ برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور ہر نعمت اسی کی طرف سے ہے۔ تائید ” وما بکم من نعمۃ فمن اللہ۔ (2) ” وان تعدوا نعمۃ اللہ لا تحصوھا۔ شاہ ولی اللہ دہلوی یوں تعبیر فرماتے ہی۔ برکت از وست ہر برکت و خیر اسی کی طرف سے ہے۔ ” ھو الذی جاء بکل برکۃ وخیر “۔ یہی دعوی سورة الفرقان کی ابتداء میں اس عنوان سے مذکور ہے۔ ” تبرک الذی نزل الفرقان علی عبدہ۔ الایۃ “ سورة الرحمن میں فرمایا ” تبرک اسم ربک ذی الجلل والاکرام۔ یعنی برکت دینے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے اور اسی کے نام میں برکت ہے۔
3:۔ ” بیدہ الملک “ یہ سورت کے دعوے پر پہلی دلیل عقلی عام ہے کہ ساری کائنات کی سلطنت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔
دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی…
Read the full tafseer →بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تَبٰرَكَ الَّذِيْ بِيَدِہِ الْمُلْكُ 0 ۡوَہُوَعَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرُۨ 1 ۙ
برك
أصل البَرْك صدر البعیر وإن استعمل في غيره، ويقال له : بركة، وبَرَكَ البعیر : ألقی بركه، واعتبر منه معنی اللزوم، فقیل : ابْتَرَكُوا في الحرب، أي : ثبتوا ولازموا موضع الحرب، وبَرَاكَاء الحرب وبَرُوكَاؤُها للمکان الذي يلزمه الأبطال، وابْتَرَكَتِ الدابة : وقفت وقوفا کالبروک، وسمّي محبس الماء بِرْكَة، والبَرَكَةُ : ثبوت الخیر الإلهي في الشیء .
قال تعالی: لَفَتَحْنا عَلَيْهِمْ بَرَكاتٍ مِنَ السَّماءِ وَالْأَرْضِ [ الأعراف/ 96]
( ب رک ) البرک
اصل میں البرک کے معنی اونٹ کے سینہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تبارک تفاعل من البرکۃ وھی النماء والزیاوۃ حسیۃ کانت او عقلیۃ وکثرۃ الخیر ودوامہ ایضا وصیغۃ التفاعل للمبالغۃ فی ذلک الملک مبتداء بیدہ خبرو الجملۃ صلۃ الذی وھو فاعل تبارک وھو علی کل شیئٍ قدیر الجملۃ معطوفۃ علی الصلۃ مقررۃ لمضمونھا لیبلوکم واللام متعلقہ بخلق (ایکم مبتدائ) احسن عملا خبرہ والجملۃ واقعۃ موقع المفعول ثانیا لفعل البلویٰ المتضمن معنی العلم الذی خلق سبع سمٰوات قیل ھو لغت للعزیز الغفور اوبیان اوبدل والاوجہ انہ نصب اور فع علی المدح متعلق بالموصومین السابقین وان کان منقطعا عنھما اعرابا۔ طباقا صفۃ سبع سمٰوات ای مطابقۃ علی انہ مصدر وصف بہ المفعول اومصدر موکد لمحذوف ھو صف تھا ای…
Read the full tafseer →تَبٰـرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ز وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ نِ ۔ (الملک : 1)
(نہایت بزرگ و برتر ہے وہ جس کے قبضہ قدرت میں اس کائنات کی بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ )
تَبٰـرَکَ کا مفہوم
تَبٰـرَکَ … میں دو باتیں قابل لحاظ ہیں۔ پہلی بات یہ کہ اس کا مادہ برکت ہے اور برکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت، افزائش و فراوانی، دوام و ثبات اور کثرت خیرات و حسنات شامل ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رفیع و عظیم ہے۔ وہ عظمتوں کا سرچشمہ ہے اور رفعتیں اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ خیرات و حسنات اسی کے فیض سے وجود میں آتی ہیں۔ ہر چیز میں اضافہ اور کثرت اسی کی توجہ کا ثمر ہے۔ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : سورة التحریم کا اختتام اچھے اور برے کردار کے بیان پر ہوا یہی انسان کی تخلیق کا مقصد ہے کہ اسے آزمایا جائے کہ یہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔
” اللہ “ ہی کے ہاتھ میں زمین و آسمان کی بادشاہی ہے اور وہ بڑا ہی برکت والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
تبارک کا دوسرا معنٰی کثرت خیر اور دوام خیر بھی کیا گیا ہے۔
ملک سے مراد ساری کائنات اور اس کی بادشاہی ہے۔ اس فرمان میں بیک وقت مادہ پرست سائنسدانوں اور مشرکانہ عقائد رکھنے والوں کی تردید کی گئی ہے۔ جو سائنسدان سمجھتے ہیں کہ یہ کائنات بگ بینگ (BIG BANG) کے ذریعے خود بخود معرض وجود میں آئی اور اسے کوئی بنانے اور چلانے والا نہیں ہے۔…
Read the full tafseer →1 : تَبٰرَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرُ ڑ (وہ بڑا عالی شان ہے جس کے قبضہ میں تمام سلطنت ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے)
اسمائے سورت :
اس سورت کا نام الواقیہ نمبر 2۔ المنجیہ بھی ہے کیونکہ یہ اپنے پڑھنے والے کو عذاب قبر سے بچانے کا ذریعہ ہے۔
روایت مرفوعہ میں ہے، جس نے اس سورت کو ایک رات میں پڑھا اس نے بہت زیادہ اور بہت خوب عمل کیا۔
(رواہ الطبری و ابن مردویہ من حدیث ابن مسعود مرفوعًا)
تَبٰرَکَ (بلندو عالی شان ہے ان صفات سے جو مخلوق میں پائی جاتی ہیں) الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ یعنی ملک اسی کے تصرف میں ہے اور اس کو ہر موجود پر غلبہ حاصل ہے۔ وہ ملک کا مالک ہے۔ جس…
Read the full tafseer →سورة الملک
مکی ہے اور اس کی تیس 30 آیات ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
1۔ 5۔ سورة زحرف میں گزر چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیاکا چند روزہ انتظام اس طرح فرما دیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا ہے کسی کو رعیت اور ایک کی ضرورت دوسرے سے لگا دی ہے مثلاً رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کو انجام دیتے ہیں۔ اس طرح کے سب کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں۔ کھیتی کے لئے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لئے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ سب کچھ ہے مگر بادشاہ اور رعیت سب پر اصل بادشاہی خدا تعالیٰ کی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
(تبارک الذی بیدہ الملک) یعنی وہ ہستی بہت عظمت والی اور بلند ہے اس کی بھلائی بہت زیادہ اور اس کا احسان عام ہے۔ یہ اس کی عظمت ہے کہ عالم علوی اور عالم سفلی کا اقتدار اسی کے ہاتھ میں ہے وہی ہے جس نے اس کو پیدا کیا ہے وہ جیسے چاہتا ہے احکام دینی اور احکام قدری میں تصرف کرتا ہے جو اس کی حکمت کے تابع ہوتے ہیں اس کی عظمت اور اس کی قدرت کا کمال ہے جس کی بنا پر وہ ہر چیز پر قادر ہے اسی قدرت کے ذریعے سے اس نے بڑی بڑی مخلوقات، مثلا آسمان اور زمین کو وجود بخشا اور آیت (خلق الموت والحیوۃ) ، اس نے موت وحیات کو پیدا کیا، یعنی اس نے اپنے بندوں کے مقدر کیا کہ وہ ان کو زندگی عطا کرے پھر موت سے ہم کنار کرے…
Read the full tafseer →1: برکات دہندہ صرف اللہ تعالیٰ ہے : سو ارشاد فرمایا گیا کہ بڑی ہی برکت والی ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں بادشاہی ہے آسمان و زمین کی اس پوری کائنات کی۔ اور وہ ذات اتنی بڑی برکتوں والی ہے کہ اس کی خیرات و برکات کا کوئی کنارہ نہیں ‘ ایک ایک لمحہ و لحظہ ‘ میں اپنی جن بےپایاں رحمتوں اور برکتوں سے وہ ذات اقدس و اعلیٰ اپنی گوناگوں اور قسما قسم کی مخلوق کو جس طرح نوازتی ہے اس کا شمار وبیان بھی کسی کے حیطہ امکان و اختیار میں نہیں ‘ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا : " وان تعدوا نعمۃ اللہ لاتخصوھا " (ابراہیم ؛34) ۔ پھر کتنے ظالم اور کس قدر بےانصاف ہیں وہ لوگ جو اس واہب مطلق جل جلالہ سے منہ موڑ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
اللہ بادشاہوں کا بادشاہ ہے
تشریح : جیسا کہ سورت کے نام سے ظاہر ہے ” ملک “ مطلب ہے بادشاہی۔ دنیا کا نظام بناتے ہوئے جس حکمت کا اندازہ ہوتا ہے وہ کسی بندے بشر کے بس کی بات نہیں۔ جب ہم اس کی تخلیقات کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کی رحمت اور برکت کا بھی کوئی شمار نہیں اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنی تخلیقات سے نہ تو غافل ہے اور نہ ہی لاعلم ” اس کو ہر چیز کا علم ہے اور وہ مہربانیوں کا رحمتوں اور برکتوں کا سرچشمہ ہے۔ موت اور زندگی کسی کے اختیار میں ہرگز کسی صورت بھی نہیں یہ مرحلہ بھی بڑا غور طلب ہے۔ موت ختم ہوجانے کا نام نہیں بلکہ یہ دوسری دنیا میں داخل ہونے کا ایک ذریعہ ہے جیسے زندگی اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
آیات 1 تا 14۔
اسرار ومعارف۔
بہت ہی بابرکت ہے وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں ہے سلطنت و حکومت کہ حقیقی حکومت اسی کو سزوار ہے جو ہر چیز پر قادر ہے۔
صفات باری تعالیٰ جو اس کی حکومت پر دلالت کرتے ہیں۔
اول اس کا موجود ہوناہمیشہ سے ہمیشہ کے لیے دوم اس کا صفات کمال کا مالک ہونا سوم اس کا ہر چیز پر قادر ہونا اور چہارم ہر چیز کا خالق ہونا حتی کہ موت وحیات کا بھی ، وہی ذات ہے جس نے پیدا فرمایا موت کو اور حیات کو کہ تمہاری آزمائش ہوسکے کہ کون تم میں سے نیک عمل کرتا ہے اور وہ بھی ہے زبردست اور بخشنے والا بھی۔
موت اور اس کی اقسام۔
زندگی ایک حال ہے اور مخلوق ہے اسی طرح حیا تکے تعلق کو بدن سے الگ کرنا بھی ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ف 2 یعنی موت اور زندگی کا یہ سلسلہ جو دنیا میں چل رہا ہے اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ہے اور اس سے مقصود یہ ہے کہ آدمی کے اعمال کا امتحان لیا جائے اور ایمان و اطاعت کے بعد یہ دیکھا جائے کہ کمال احسان کا درجہ کس میں پایا جاتا ہے اگر عمل اچھے ہوں گے تو آخرت میں ان کا اچھا اجر پائے گا اور اگر برے ہوں گے تو آخرت میں برا بدلہ پائے گا۔ موت و حیاۃ کا یہ سلسلہ بےمقصد نہیں ہے بلکہ آخروی شاہ صاحب لکھتے ہیں :” اگر مرنا نہ ہوتا تو بھلے برے کام کا بدلہ کہاں ملتا۔ “ (موضح)3 زبردست ہے یعنی اسے کوئی دوسرا اپنا فیصلہ نافذ کرنے سے نہیں روک سکتا اور بخشنے والا ہے یعنی جو شخص توبہ کرے اور اس کی طرف متوجہ ہو وہ اسے…
Read the full tafseer →(67:1) تبارک : ماضی واحد مذکر غائب تبارک (تفاعل) مصدر۔ وہ بہت برکت والا ہے، وہ بڑی برکت والا ہے، مخاطب کا تبارکت بھی آتا ہے صرف ماضی کا صیغہ مستعمل ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ کے لئے آتا ہے اسی لئے بعض لوگ اسے اسم فعل بتاتے ہیں۔ البرکۃ کے معنی کسی شے میں خیر الٰہی ثابت ہونا کے ہیں۔ آیت ہذا میں تنبیہ کی ہے کہ وہ تمام خیرات جن کو لفظ تبارک کے تحت ذکر کیا ہے ذات باری تعالیٰ ہی کے ساتھ مختص ہے۔
الذی بیدہ الملک : الذی اسم موصول۔ الملک مبتدائ، بیدہ خبر، دونوں مل کر موصول کا صلہ اور یہ سارا جملہ مل کر فاعل ہے تبارک کا۔ بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں (دارین کی) بادشاہت ہے۔
وھو علی کل شیء قدیر۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
لغات القرآن۔
تبرک۔ برکت والا۔ ید۔ ہاتھ۔ یبلوا۔ وہ آزماتا ہے۔ ایکم۔ تم میں کون۔ احسن عملا۔ عمل کے اعتبار سے زیادہ بہتر۔ طباقا۔ ایک پر ایک۔ تفوت۔ فرق ۔ ارجع۔ لوٹالے۔ فطور (فطر) ۔ شگاف۔ دراڑ۔ کرتین۔ بار بار۔ ینقلب۔ پلٹ کر آئے گا۔ خاسئا۔ ذلیل و رسوا۔ حسیر۔ تھکا ماندہ۔ مصابیح (مصباح) ۔ چراغ۔ رجوما۔ مارنے کی چیز۔ القوا۔ ڈالے گئے۔ سمعوا۔ انہوں نے سنا۔ شھیقا۔ زبردست ڈرائونی آواز۔ دھاڑنا۔ تفور۔ جوش مارتی ہوگی۔ تکار۔ قریب ہے۔ تمیز۔ پھٹ پڑے گی۔ الغیظ۔ غصہ۔ فوج۔ جماعت۔ گروہ۔ سال۔ اس نے پوچھا۔ خزنۃ۔ حفاظت کرنے والا۔ نگران۔ لوکنا۔ اگر ہم ہوتے۔ اعترفوا۔ انہوں نے اقرار کیا۔ سحقا۔ دور دور۔ اسروا۔ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
خدا کا حقیقی بادشاہ ہونا، حاکمیت اعلی اور دنیوی بادشاہوں میں فرق ۔
(ف 1) سورة زخرف میں گذرچکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا کا چند روزہ انتظام اس طرح فرمادیا ہے کہ کسی کو بادشاہ کیا کسی کو رعیت ، اور ایک کی ضرورت دوسرے لگادی ، مثلا رعیت کے لوگ کھیتی کرکے بادشاہ کو محصول دیتے ہیں، فوج کے لوگ ضرورت کے وقت بادشاہ کی طرف سے لڑتے ہیں لکھنے پڑھنے والے لوگ بادشاہ کے دفتری کاموں کا انجام دیتے ہیں، جس طرح ان کاموں میں بادشاہ کی ضرورتیں رعیت اور نوکروں سے متعلق ہیں اسی طرح کھیتی کے لیے زمین کے ملنے کی رعیت کی ضرورت خرچ کے لیے تنخواہ کے ملنے کی ضرورت ، فوج اور قسم کے نوکروں کی ضرورتیں بادشاہ سے متعلق ہیں یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
[1] یعنی اللہ تعالیٰ نے زندگی اور موت کا یہ کارخانہ عبث نہیں بنایا ہے بلکہ لوگوں کے امتحان کے لئے بنایا ہے کہ کون نیکی کی زندگی اختیار کرتا ہے اور کون بدی کی۔ زندگی امتحان کی مہلت ہے اور موت کے معنی یہ ہیں کہ امتحان کا وقت ختم ہوگیا۔ اس امتحان کا لازمی تقاضا ہے کہ ایک دن ایسا آئے جس میں نیکوکار اپنی نیکیوں کا صلہ پائیں اور بدکار اپنی بدکاریوں کی سزا بھگتیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
اسلامی سوشلزم
1: جہاں تک ذات خد اوندی کا تعلق ہے ۔ وہ تو اضافہ وارتقاء مراتب سے یک قلم منزہ اور پاکی ہے ۔ اس لئے تبارک کی یہ معنے تو ہرگز نہیں ہیں ۔ کہ اس کی صفات جلال اور شنون جمال میں کہیں ازدیاء کا امکان ہے ۔ اس کی شان ازل سے ابد تک یکساں ہے ۔ وہ الان کم کان کا مصداق ہے ۔ وہ قدرت و حکمت اور حسن و کمال کا وہ آخری مفہوم ہے ۔ جس تک عقل انسانی پہنچ سکتی ہے ۔ مگر اس کا احاطہ نہیں کرسکتی ۔ البتہ اس کے معنے یہ ہوسکتے ہیں ۔ کہ اس کے فیوض رحمت میں ابداً اور دائماً باعتبار کائنات کے اضافہ ہوتا رہتا ہے ۔ اور اس کی ربوبیت زیادہ اتم کو زیادہ جمیل اور زیادہ مفید شکل میں بدل رہی ہے ۔ بیدہ کا لفظ جسمانیت…
Read the full tafseer →(1) اس سورت کی احادیث میں بہت فضیلت آئی ہے اس کو مالغہ بھی کہتے ہیں یہ سورت عذاب قبر کو اس شخص سے روکتی ہے جو اس کو سونے سے پہلے ایک مرتبہ پڑھ لیا کرتا ہے اس کو منجیہ بھی کہتے ہیں یہ عذاب سے نجات دلانے والی ہے۔
نبی کریم ﷺ سونے سے قبل سوروہ ملک اور الم تنزیل سجدہ کی ضرور تلاوت فرمایا کرتے تھے اس سورت کا نام حدیث میں واقعیہ بھی آیا ہے یہ …قبر میں مردے کو عذاب سے اس طرح بچاتی ہے جس طرح پرندہ اپنے بچے کو پروں میں چھٹا کر بچاتا ہے۔
حضوراکرم ﷺ فرماتے ہیں میں اس بات کو درست رکھتا ہوں کہ یہ سورت ہر مومن کے دل میں ہو یہ سورت عذاب قبر سے اور قیامت کے دن کی پریشانیوں سے اپنے پڑھنے والے کی حفاظت اور اس…
Read the full tafseer →ف 3۔ اوپر کی سورت میں حقوق رسالت کا بیان تھا، اس سورت میں حقوق توحید کا، اور ان کے ایفاء و اخلال پر جزاء و سزا کا بیان ہے ونیز آخر سورت سابقہ میں بعض اہل سعادت و بعض اہل شقاوت کا ذکر تھا، اس میں مطلقا سعداء و اشقیاء کا ذکر ہے۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے موت وحیات کو پیدا کیا ہے تاکہ تمہارے اعمال کی آزمائش ہو سکے
2 ؎ زندگی کو حیات یا حیات کو زندگی کہنا تو روا بھی ہے اور جائز و درست بھی اور یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس کو پیدا کرنے سے کیا مطلب ہے اور یہ بات کہ موت بھی مخلوق ہے اور اس کو پیدا کیا گیا ہے۔ ذرا سمجھنا اس کا مشکل ہے لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ موت چیز کیا ہے تو اس طرح کی ساری مشکل ہوا ہوجاتی ہے۔ اگر زندگی کا سمجھنا مشکل نہیں تو موت کا سمجھنا کیوں مشکل ہے ؟ زندگی ہے تو امر الٰہی ہے اور موت ہے تو الٰہی ہے ۔ گویا امر ہی کا نام زندگی ہے اور امر ہی کا نام موت ہے۔ پھر ایک کو سمجھنا آسان ہو اور دوسری کو سمجھنا مشکل ، آخر کیوں…
Read the full tafseer →Commentary
The Virtues of Surah Al-Mulk
Prophetic Tradition has named this Surah as Waqiyah (protector) and Munjiyah (saviour) as well. In a Tradition, the Holy Prophet ﷺ is reported to have said:
ھِیَ المانعۃ المنجیۃ تنجیہ من عذاب القبر
"It [ the Surah ] is the protector and saviour which will rescue and redeem him who recites it from the torment of the grave." [ Transmitted by Tirmidhi who has graded it as 'liasan, gharib' as quoted by Qurtubl ]
Sayyidna Ibn ` Abbas ؓ reports that the Messenger of Allah ﷺ said:
"It is my heart's desire that Surah Al-Mulk be in every believer's heart." […
Read the full tafseer →1 Tabaraka is a superlative from barkat. Barkat comprehends the meanings of exaltation and greatness, abundance and plentifulness, permanence and multiplicity of virtues and excellences. When the superlative tabaraka is formed from it, it gives the meaning that Allah is infinitely noble and great; He is superior to everything beside Himself in His essence and attributes and works; His beneficence is infinite, and His excellences are permanent and everlasting. (For further explanation, see E.N. 43 of AI-A`raf, E.N. 1.4 of Al-Mu'minun E.N.'s 1 and 19 of Al-Furgan) .
2 As the word al-Mulk has…
Read the full tafseer →