At-Tahrim 66:9

At-Tahrim · from ayah 9

66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْهِمْ ؕ— وَمَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ ؕ— وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۟يٰۤاَيُّهَا النَّبِىُّ جَاهِدِ الۡكُفَّارَ وَالۡمُنٰفِقِيۡنَ وَاغۡلُظۡ عَلَيۡهِمۡ‌ؕ وَمَاۡوٰٮهُمۡ جَهَنَّمُ‌ؕ وَبِئۡسَ الۡمَصِيۡرُ

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

O Prophet, strive against the disbelievers and the hypocrites and be harsh upon them. And their refuge is Hell, and wretched is the destination.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 2 of surah · Ruku 20 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tahrim

All translations of 66:9

اے نبیؐ، کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آؤ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اے پیغمبر! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ اور وہ بہت بری جگہ ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے نبی! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وه بہت بری جگہ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان کے مقابلے میں سخت ہوجاؤ۔ اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے غیب بتانے والے! (نبی) کافروں پر اور منافقوں پر جہاد کرو اور ان پر سختی فرماؤ، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور کیا ہی برا انجام،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے نبئ (مکرّم!) آپ کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے اور اُن پر سختی فرمائیے، اور ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور وہ کیا ہی برا ٹھکانا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سختی کر اور ان کی جگہ جہنم ہے اور وہ برا ٹھکانا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے نبی ! کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو اور ان پر سختی کرو۔ ان کی پناہ گاہ جہنم ہے جو بہت برا ٹھکانا ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کر اور ان پر سخت ہوجا اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ کیا ہی برا ٹھکانہ ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے پیغمبر جہاد کرو کھلے کافروں سے بھی اور منافقوں سے بھی اور سختی سے کام لو ان کے معاملے میں ان سب کا ٹھکانا جہنم ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانا ہے وہ

— مولانا اسحاق مدنی

اے نبی آپ جہاد کیجئے کافروں سے اور منافقوں سے اور ان پر سختی کیجئے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے نبی ﷺ !) جہاد کیجیے کافروں سے بھی اور منافقوں سے بھی اور ان پر سختی کیجیے۔ ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

O Prophet, strive against the unbelievers and the hypocrites, and be severe with them. Hell shall be their resort. What a grievous end!

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O Prophet, carry out Jihad (struggle) against the disbelievers and the hypocrites, and be harsh with them. Their final abode is Jahannam (Hell) , and it is an evil end.

— Muhammad Taqi Usmani

O Prophet, carry out Jihad (struggle) against the disbelievers and the hypocrites, and be harsh with them. Their final abode is Jahannam (Hell) , and it is an evil end.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O Prophet! Strive hard against the disbelievers and the hypocrites, and be severe against them; their abode will be Hell, and worst indeed is that destination.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O Prophet! Strive against the disbelievers and the hypocrites, and be stern with them. Hell will be their home, a hapless journey's end.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O Prophet, strive against the disbelievers and the hypocrites and be harsh upon them. And their refuge is Hell, and wretched is the destination.

— Saheeh International

Prophet, fight against the disbelievers and the hypocrites and be stern against them. Their dwelling will be hell fire, the most terrible fate.

— Muhammad Sarwar

O Prophet! strive hard against the unbelievers and the hypocrites, and be hard against them; and their abode is hell; and evil is the resort.

— Muhammad Habib Shakir

O Prophet! strive hard against the infidels and the hypocrites, and be stern Unto them. And their abode is Hell: a hapless destination!

— Abdul Majid Daryabadi

O Prophet! Strive hard against the Unbelievers and the Hypocrites, and be firm against them. Their abode is Hell,- an evil refuge (indeed).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 66:9

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 9–10

تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے، پھر مثال دے کر سمجھایا کہ کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں حضرت نوح ؑ کی اور حضرت لوط ؑ کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّحْرِيْم 23 تشریح کے لیے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد دوم، التوبہ، حاشیہ 82۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

خلاصہ تفسیر (ان آیات میں دوزخ سے بچنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہی اہل و عیال کو بتلا کر جہنم کی آگ سے بچانے کا طریقہ ہے وہ یہ ہے) اے ایمان والو اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (یعنی دل میں گناہ پر کامل ندامت ہو اور آئندہ اسکے نہ کرنے کا پختہ قصد ہو اس میں تمام احکامدین فرائض واجبات بھی داخل ہوگئے کہ ان کا چھوڑنا گناہ ہے اور تمام محرمات ومکروہات بھی آگئے کہ ان کا کرنا گناہ ہے) امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب (اس توبہ کی بدولت) تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جنکے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور یہ اس روز ہوگا) جس دن کہ اللہ نبی ﷺ کو اور جو مسلمان (ایمان اور…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(یایھا النبی جاھد الکفار والمنفقین واغلظ علیھم وما ولھم جھنم وبئس المصیر) (9)۔ مومنین و متعلقین کے احتساب کے بعد یہ نبی ﷺ کو اس عام فریضہ احتساب کی تاکید ہے جس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ مامور تھے۔ آیت میں جس جہاد کا حکم ہے وہ تلوار اور زبان دونوں ہی کا جہاد ہے، البتہ دونوں کے محل الگ الگ ہیں۔ جن لوگوں پر حجت تمام ہوچکی تھی اور وہ علانیہ حق دشمنی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے ان سے تو جہاد تلوار کے ذریعے سے تھا جس کی تفصیل پچھلی سورتوں میں گزر چکی ہے اور جو لوگ بظاہرتو ایمان کے مدعی تھی لیکن ایمان کے تقاضوں سے گریزاں تھے ان کے بارے میں خاص طور پر ہدایت ہوئی کہ ان کا احتساب کیا جائے اور اب یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

9۔ 1 کفار کے ساتھ جہاد، و قتال کے ساتھ اور منافقین سے، ان پر حدود الٰہی قائم کرکے، جب وہ ایسے کام کریں جو موجب حد ہوں۔ 9۔ 2 یعنی دعوت و تبلیغ میں سختی اور احکام شریعت میں درشتی اختیار کریں کیونکہ یہ لاتوں کے بھوت ہیں جو باتوں سے ماننے والے نہیں ہیں اس کا مطلب ہے کہ حکمت تبلیغ کبھی نرمی کی متقاضی ہوتی ہے اور کبھی سختی کی ہر جگہ نرمی بھی مناسب نہیں اور ہر جگہ سختی بھی مفید نہیں رہتی تبلیغ ودعوت میں حالات وظروف اور اشخاص و افراد کے اعتبار سے نرمی یا سختی کرنے کی ضرورت ہے۔ 9۔ 3 یعنی کافروں اور منافقوں دونوں کا ٹھکانا جہنم ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

10: جہاد کے معنی در اصل جد و جہد کے ہیں۔ اس میں پر امن جد و جہد بھی داخل ہے جس کے ذریعے کسی کو دین کی دعوت دی جائے، اور دین کی نشر و اشاعت اور اس کی تنفیذ کے لیے کام کیا جائے، اور مسلح جد و جہد بھی داخل ہے جس کے ذریعے دشمن کا مقابلہ کیا جائے، مگر یہ مسلح جد و جہد کافروں ہی کے مقابلے میں ہوسکتی ہے، منافق چونکہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں، اس لیے دنیا میں ان کے ساتھ مسلمانوں ہی کا سا معاملہ کیا جاتا ہے، اور عام حالات میں ان سے لڑائی نہیں کی جاتی، الا یہ کہ وہ بغاوت پر اتر آئیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مدینہ میں مسلمانوں نے ایسی ہی جماعت بنائی تھی ، اور ایسا ہی انقلاب برپا کردیا تھا ، اس لئے یہاں اس کے بچانے کی ہدایت کی جاتی ہے ، کیونکہ کفار اور منافقین اس کو ختم کرنا چاہتے تھے۔ یایھا النبی .................... المصیر (66 : 9) ” اے نبی کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آﺅ۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے “۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ مسلمان اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو جہنم سے بچائیں ، خالص توبہ کریں جس کی وجہ سے ان کے گناہ معاف ہوں گے۔ اور وہ جنتوں میں داخل ہوں گے ، جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں۔ اب حکم یہ ہے کہ کفار ومنافقین کے ساتھ جنگ کرو ، اس لئے کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 حضرت کا خلق اور نرم خوئی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اوروں کو فرماتا ہے تحمل کرو۔ اور آپ کو فرماتا ہے کہ سختی کرو۔ 5 پہلے مومنین کا ٹھکانا بتلایا تھا۔ یہاں اس کے بالمقابل کفار و منافقین کا گھر بتلا دیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 9{ یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ } ”اے نبی ﷺ ! جہاد کیجیے کافروں سے بھی اور منافقوں سے بھی اور ان پر سختی کیجیے۔“ یہ آیت جوں کی توں سورة التوبہ میں آیت 73 کے طور پر بھی آچکی ہے۔ منافقین چونکہ بظاہر کلمہ گو اور قانونی لحاظ سے مسلمان تھے ‘ اس لیے حضور ﷺ ان سے مسلمانوں جیسا سلوک روا رکھتے تھے۔ اس کے علاوہ حضور ﷺ اپنی نرم مزاجی کی وجہ سے ان کی بہت سی شرارتوں کو نظرانداز بھی فرماتے رہتے تھے۔ چناچہ اپنی مسلسل سازشوں پر جوابدہی نہ ہونے کی وجہ سے ان کے حوصلے بہت بڑھ گئے تھے۔ یہاں تک کہ وہ حضور ﷺ کے بارے میں گستاخانہ جملے بھی کستے رہتے تھے۔…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

20 اس آیت کے پورے پورے الفاظ سورة توبہ کی آیت نمبر 73، جیسے ہی ہیں۔ لہذا اس کی تشریح سورة توبہ کے حاشیہ نمبر 88 کے تحت ملاحظہ کی جائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

15۔ بلحاظ انجام آخرت دونوں کاٹھکانہ ایک ہی ہے۔ جہنم دونوں کے لیے مشترک ہے۔ (آیت) ” جاھد الکفار والمنفقین “۔ نفس جہاد یا جہد شدید تو کافروں اور منافقوں دونوں کے حق میں عام ہے، البتہ یہ حسب موقع ومصلحت ہونا چاہیے، کافروں کے مقابلہ میں تو یہ جہاد، قتال وعزاء کے معنی میں ہتھیاروں سے ہوگا۔ اور منافقین کے مقابلہ میں زبان سے۔ (آیت) ” واغلظ علیھم “۔ سختی، مضبوطی، ثابت قدمی، کافروں اور منافقوں دونوں کے مقابلہ میں لازمی ہے۔ فیہ الدلالۃ علی وجوب الغلظۃ علی الفریقین من الکفار والمنافقین ونھی عن مفازتھم ومعاشرتھم (جصاص) کہاں ہماری شریعت کے یہ احکام، اور کہاں ہمارا یہ عمل کہ ہر ” ترقی یافتہ “ و ” مہذب “…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 8–9

ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (نصوحا) میں نون کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ اس طریقہ پر کہ نہ دوبارہ گناہ کرے گا اور نہ اس کا ارادہ کرے گا امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا اور یہ ایسی توقع ہے کہ جس کا وقوع (یقینا) ہوگا، تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جس دن اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو آگ میں داخل کر کے رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا اللہ سے دعاء کرتے ہوں گے (یقولون) جملہ مستانفہ ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے اس نور کو جنت میں پہنچنے تک باقی رکھئے اور منافقوں کا نور بجھ جائے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یایھا النبی جاھد الکفار والمنفین واغلظ علیھم وماواھم جھنم و بئس المصیر . ” اے نبی ‘ کافروں اور منافقوں سے (تلوار اور دلائل کے ساتھ) جہاد کرو اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔ “ جَاھِدِ الْکُفَّارَ : یعنی تلوار سے اور دلائل سے کافروں اور منافقوں کے مقابلہ کی کوشش کرو ‘ ان کا رد کرو اور ان کا نفاق ظاہر ہوجائے تو ان کو رسوا کرو اور جہاد میں سختی کرو ‘ ان پر رحم نہ کرو۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اے نبی کریم کفار مکہ سے تلوار کے ساتھ اور منافقین مدینہ سے جہاد باللسان کیجیے تاکہ یہ لوگ مسلمان ہوجائیں اور ان پر قول و فعل کے ساتھ سختی کیجیے ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یٰـاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنٰـفِقِیْنَ۔۔۔۔۔: پچھلی آیات میں ایمان والوں کا ٹھکانہ بتایا تھا، اب دنیا اور آخرت میں کفار کے معاملے کا ذکر فرمایا کہ دنیا میں ان کے ساتھ جہاد کرنا ہے اور ان پر سختی کرنی ہے ، کسی قسم کی مداہنت یا چشم پوشی سے کام نہیں لینا ، تا کہ اسلام کا کلمہ سر بند رہے اور یہ لوگ اس کے سامنے سر جھکا کر زندگی بسر کریں اور آخرت میں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ منافقین کے ساتھ جہاد سے کیا مراد ہے ، اس کے لیے دیکھئے سورة ٔ توبہ (73) کی تفسیر۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں ایک ہی مسئلہ ہے : وہ یہ کہ اللہ کے دین کے معاملہ میں سختی کی جائے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ کفار کے ساتھ تلوار، وعظ و نصیحت اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں جہاد کریں اور منافقین کے ساتھ سختی کرنے اور حجت قائم کرنے میں جہاد کریں، ان پر آخرت کے احوال واضح کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ ان کے لئے کوئی نور نہیں ہوگا جس کے ساتھ وہ پل صراط کو عبور کریں گے جبکہ مومنوں کے پاس نور ہوگا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ان پر حدود قائم کرنے میں جہاد کریں کیونکہ وہ ایسے کام کرتے تھے جو ان پر حدود کو واجب کرتے تھے اور حدود ان پر قائم کی جاتی تھیں (1) ۔ وما ولھم جھنم ضمیر دونوں قسموں یعنی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 8–9

1۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وہناد وابن منیع وعبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے شعب الایامن میں نعمان بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے آیت توبۃ نصوحا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ آدمی برے کام سے اس طرح توبہ کرے پھر کبھی اس کی طرف نہ لوٹے۔ 2۔ احمد وابن مردویہ والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی گناہ سے ایسی توبہ کرنا پھر کبھی اس کی طرف رجوع نہ کرے۔ 3۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ” توبۃ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ : اے نبی آپ جہاد کریں ] [الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ : کافروں سے اور منافقوں سے ] [وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ : اور آپ سختی کریں ان پر ] [وَمَاوٰىهُمْ جَهَنَّمُ : اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ] [وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنی بری ہے (وہ) لوٹنے کی جگہ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم : چوتھی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ اے نبی آپ کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیں اور یہ بھی فرمایا کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیت میں کافروں سے جہاد بالسیف کا اور منافقوں پر حجت قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے انہیں یہ بتانا کہ آخرت میں تمہاری بدحالی ہوگی اور تمہارے ساتھ نور نہ ہوگا اور مومنین کے ساتھ پل صراط پر نہ گزر سکو گے یہ سب ان کے ساتھ جہاد کرنے اور سختی کا معاملہ کرنے کو شامل ہے پھر حضرت حسن سے نقل کیا ہے کہ سختی کا معاملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر حدود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 8–9

حکم توبہ وانابت الی اللہ باخلاص قلب ووعدۂ معافی خطایاوبشارت حصول نعمتہائے جنت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... وبئس المصیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی زندگی کے لیے ایسی ہدایات تھیں کہ ان پر عمل کرنے سے انسان اس قسم کی برائیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جو مزاجی عدم اعتدال یا گھریلو منازعات کی وجہ سے پیش آتی ہیں اب ان آیات میں اللہ کی طرف رجوع اور توبہ کا حکم ہے کہ مسلمان کو چاہئے کہ اپنی کوتاہی پر نادم وشرمندہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور توبہ و استغفار صدق دل سے کرے اسی سے اس کی نجات و کامیابی ہے، ارشاد فرمایا۔ اے ایمان والو رجوع کرو اللہ کی طرف سچے دل سے توبہ کرتے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

12:۔ ” یا ایہا النبی جاھد “ مضمون جہاد کا ذکر ہے جو سورة حدید کا دوسرا مضمون ہے۔ کفار اور منافقین دونوں فریقوں سے جہاد کا حکم فرمایا مگر دونوں کے ساتھ جہاد کی کیفیت مختلف ہے کافروں کے ساتھ سیف وسنان سے جہاد کرو اور منافقین سے حجت وبرہان سے (بیضاوی، مظہری، روح) ۔ جہاد اوراقامتِ حجت میں جہاں سختی اور شدت کی ضرورت ہو وہاں ان پر سختی بھی کریں۔ ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو نہایت بری جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–9

ربط آیات : ابتداء میں قسم کا مسئلہ بیان ہوا اور پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی ازواج سے سر زد ہونے والی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ، اور ان کو توبہ کی تلقین کی۔ اس کے بعد تمام اہل ایمان کی نصیحت کی کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا انتظام کرلیں۔ اب آج کے درس میں ایک تو عام اہل ایمان کو خالص دل سے توبہ کی ہدایت کی ہے اور دوسری بات یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ کفار کے ساتھ جہاد بالسیف کریں اور منافقوں کو زبنی سرزنش کریں۔ نیز ان کے انجام کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ خالص توبہ : گزشتہ آیات میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو اپنی کوتاہیوں پر توبہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ جَاہِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِيْنَ وَاغْلُظْ عَلَيْہِمْ۝ 0 ۭ وَمَاْوٰىہُمْ جَہَنَّمُ۝ 0 ۭ وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ۝ 9 نبی النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة «2» ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 7–9

ترکیب : الیوم منصوب بہ لاتعتذروا النصوحا بفتح النون ویقرء بضمھا علی الاول مصدر یقال نصح نصاحۃ ونصوحاً وقیل ھواسم فاعل اے ناصحۃ والاسناد مجازی و علی الثانی ھو مصدر لاغیرمثل القعود ثم اعرابہ علی الوجھین النصب علی الوصف للتوبۃ ای توبۃ بالغۃ فی النصح ویدخلکم منصوب علیٰ انہ معطوف علیٰ یکفر منصوب بناصبہ وقریٔ بالجزم عطفا علیٰ محل عسٰی کانہ قال توبوایوجب تکفیر سیئاتکم ویدخلکم یوم منصوب بیدخلکم اوباذکر والذین آمنوا معہ معطوف علی النبی وقیل مبتداء وخبرہ قولہ نورھم علی الاول الجملۃ (نورھم الخ) حالیۃ اومستانفۃ لبیان حالھم۔ یقولون خبرثان اوحال۔ تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ ملائکہ اس روز عذاب کریں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِالْکُفَّارَ وَالْمُنٰـفِقِیْنَ وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ ط وَمَاْوَھُمْ جَھَنَّمُ ط وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ ۔ (التحریم : 9) (اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کیجیے اور ان پر سخت ہوجائیے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔ ) مسلمانوں کی عملی زندگی کی تطہیر کے بعد جہاد کا حکم مسلمانوں کی عملی زندگی میں پاکیزگی اور استواری کی ترغیب و تاکید کے بعد اس اہم بات کی تاکید فرمائی جارہی ہے جو اس وقت آنحضرت ﷺ کے سامنے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل تھا کہ آپ کفار سے جہاد جاری رکھیں اور وہ جہاد ظاہر ہے تلوار کے ذریعے سے ہوگا۔ اور اس کے احکام گزشتہ سورتوں میں گزر چکے ہیں۔…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کفار اور منافقین کی ہر دم کوشش تھی کہ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو ناکام اور رسوا کیا جائے، جس وجہ سے کفار اور منافقین پر سختی کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور ان کی سزا جہنم بیان کی گئی ہے۔ اس سے پہلی آیت میں ارشاد ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا، وہ ایمانداروں کو جنت میں داخل فرمائے گا اور ان کا ایمان جنت کے راستے میں ان کے لیے روشنی ثابت ہوگا۔ ان کے مقابلے میں کفار اور منافقین کی سزا جہنم ہوگی جو نہایت ہی برا ٹھکانہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے قتال فی سبیل اللہ کا حکم آنے سے پہلے بےحد صبر اور اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرتے ہوئے دن رات کوشش فرمائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

9 : یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ جَاھِدِ الْکُفَّارَ (اے نبی ﷺ کافروں سے جہاد کریں) تلوار کے ساتھ وَالْمُنٰفِقِیْنَ (اور منافقین سے) سخت بات، وعظ بلیغ کے ذریعہ۔ ایک قول : ان پر حدود اسلامی کو قائم کر کے وَاغْلُظْ عَلَیْھِمْ (اور ان پر سختی کرو) دو فریق پر اس مجاہدہ میں جو قتال اور حجت باللسان کی صورت میں ان کے ساتھ اختیار فرمائیں۔ وَمَاْ وٰھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمَصِیْرُ (ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

8 ۔ یایھا الذین………توبۃ نصوحا۔ حسن اور ابوبکر رحمہما اللہ نے عاصم سے ” نصوحا “ نون کے پیش کے ساتھ پڑھا ہے اور اکثر حضرات نے اس کے زبر کے ساتھ یعنی ” توبۃ “ ذات نصح جو صاحب توبہ کی خیر خواہی کرے جس چیز سے توبہ کی ہے اس کی طرف عود کو چھوڑنے کے ساتھ اور اس کے معنی میں اختلاف ہوا ہے۔ عمر، ابی ومعاذ فرماتے ہیں ” التوبۃ النصوح “ یہ کہ توبہ کرے پھر گناہ کی طرف نہ لوٹے۔ جیسا کہ دودھ تھن میں واپس نہیں جاتا۔ حسن (رح) فرماتے ہیں وہ توبہ یہ ہے کہ بندہ گزشتہ پر شرمندہ ہو اور پختہ ارادہ ہو کہ دوبارہ گناہ نہ کرے گا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ زبان سے استغفار کرے اور دل سے نادم ہو اور بدن سے رک جائے۔ سعید بن…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–9

8۔ 9 اوپر ذکر تھا کہ ہر ایمان دار آدمی نیک کام کرکے اور برے کام سے باز رہ کر اپنی جان کو اور یہی تاکید رکھ کر اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائے ان آیتوں میں توبہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بشریت کے تقاضے سے اگر کوئی شخص برا کام کر بیٹھے اور پھر فوراً اس پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گناہ گار کی توبہ قبول کرتا ہے۔ صححھ 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی غقور رحیمی کی صفت ایسی پیاری ہے کہ جو لوگ زمین پر ہیں یا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے اور اس بارے میں ان پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں ان کے ساتھ دلیل کے ذریعے سے جہاد کرنا ان کو اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا گمراہی کی مخلتف اقسام پر مبنی ان کے موقف کا بطال کرنا اور جو کوئی اللہ کی دعوت کو قبول کرنے ور اس کے فیصلے کی اطاعت کرنے سے انکار کردے تو اس کے خلاف اسلحہ اور جنگ کے ذریعے سے جہاد کرنا، سب شامل ہے پس ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان پر سختی کی جائے رہا جہاد کا پہلا مرتبہ تو وہ اس ذریعے سے ہو جو بہترین ہے پس کفار اور منافقین پر اور انکے خلاف جہاد پر اللہ کا اپنے رسول اور آپ کی جماعت کو لگانا دنیا کے اندر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

کفارو منافقین سے نرم رویہ نہ رکھا جائے قول باری ہے (یایھا النبی جاھد الکفارو المنافقین واغلظ علیھم وماواھم جھنم۔ اے نبی ! کفار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئو، ان کا ٹھکانہ جہنم ہے) ۔ حسن کا قول ہے کہ اس زمانے میں حدود کی سزائیں سب سے زیادہ منافقین کو ملتی تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے حدود قائم کرنے کے سلسلے میں ان کے ساتھ سختی سے پیش آنے کا حکم دیا۔ ایک قول کے مطابق منافقین کے ساتھ زبان سے جہاد ہوتا ہے اور کافروں کے ساتھ جنگ کے ذریعے جہاد ہوتا ہے۔ ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ آیت میں اس امر پر دلالت موجود ہے کہ کفار ومنافقین کے ساتھ سختی سے پیش آنا واجب ہے، نیز ان کے ساتھ اٹھنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 17] کفار کے خلاف جہاد کا حکم وارشاد۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اے پیغمبر جہاد کرو کافروں سے۔ یعنی ان سے جہاد سیف وسنان کے تمام ممکنہ اسلحہ اور ہتھیاروں اور آلات حرب وضرب کے ساتھ جیسا کہ جہاد کا تقاضا ہے اور آپ کے توسط سے یہی حکم اور ارشاد آپ کی امت کو بھی ہے کہ وہ ہمیشہ فریضہ جہاد ادا کرے بہر کیف پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کے خلاف جہاد کرو کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر پیغمبر ﷺ کے واسطے حجت تمام ہوگئی اور یہ لوگ اعلانیہ حق و دشمنی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں سو ایسے کھلے کافروں کے خلاف سیف وسنان کے ساتھ جہاد کیا جائے اب ان کے لیے کوئی عذر باقی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 9–11

چار عورتوں کا تذکرہ (دو کافرہ اور دو مومنہ) تشریح : ان آیات میں بڑے ہی صاف الفاظ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کو ہر طرح سے ختم کرتے جاؤ تاکہ دنیا شر و فساد اور بےسکونی سے پاک ہوجائے۔ دنیا میں انسان کو آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس میں پیغمبر ان کی بیویاں اور عام انسان مرد ہوں یا عورتیں سب کو اللہ تعالیٰ آزمائش میں ڈالتا ہے۔ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنامحمدالرسول اللہ ﷺ تک سب آزمائش سے گزرے ہیں اسی لیے سب کو نصیحت کی گئی کہ اپنی اپنی ذمہ داریاں خلوص، نیک نیتی، صبر اور اللہ سے دعا کرتے ہوئے پوری کرو۔ آدمیوں کا فرض ہے مقررہ حدود میں رہ کر بیویوں کی…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–12

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ توبہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو خلوص دل سے ہو اور عمل کی اصلاح پر محیط ہو۔ مفسرین کرام کے مطابق توبہ یہ ہے کہ جن کے حقوق غصب کیے ہوں ادا کرے یا معاف کرائے کسی کی توہین کی ہوتومعافی حاصل کرے اور قضا نمازیں روزے لوٹائے حتی المقدور جس قدر ہوسکے اور آئندہ شریعت مطہرہ پر پورا پورا عمل کرے یعنی محض زبانی بات نہ ہو عملا ہر ممکن اصلاح کرے تو اللہ کریم ہے وہ ضرور اس کی خطائیں بخش دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا جہاں ہمیشہ نہریں جاری ہیں۔ معیت رسول۔ اس دن جب ساری انسانیت جمع ہوگی اللہ اپنے نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(66:9) جاھد الکفار : جاھد امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر تو جہاد کر۔ تو لڑائی کر۔ مجاھدۃ کے معنی دشمن کی مدافعت میں مقدور بھر کوشش و طاقت صرف کرنا۔ جہاد کی تین قسمیں ہیں :۔ (1) ظاہری دشمن سے جہاد۔ (2) شیطان سے جہاد۔ (3) اپنے نفس سے جہاد۔ یہاں جہاد نمبر (1) مراد ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم (61:11) اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ یہاں تینوں قسموں کا جہاد مراد ہے۔ الکفار مفعول بہٖ والمنفقین مفعول ثانی۔ (جہاد کرو کفار اور منافقین سے) ۔ واغلظ علیہم : واؤ عاطفہ اغلظ : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غلظۃ (باب نصر) مصدر بمعنی سختی…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–12

لغات القرآن۔ قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔ تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

(ف 1) آنحضرت ﷺ کا خلق اور نرم خوئی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اوروں کو فرماتا ہے ، تحمل کرو اور آپ کو فرماتا ہے کہ سختی کرو، یعنی کفار سے جہاد کیجئے تلوار سے ان کی خبر لیجئے، اور منافقین مدینہ کو سزا دیجئے اول زبان سے ڈرائیے دھمکائیے نہ مانیں تو سزا دیجئے اور دونوں گروہوں پر خوب سختی کیجئے ان سب کاٹھکانہ جہنم ہے وہ بری جگہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 8–11

[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حدید حاشیہ 19 صفحہ 1330۔ [12] یعنی راستے میں بجھ نہ جائے بلکہ دخول جنت تک باقی رکھ۔ یہ وہ اس وقت کہیں گے جب وہ پل صراط پر سے گزر رہے ہوں گے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

اسلام کی زندگی کفر کی موت ہے 2: کفر ایمان کے مابین ایک ازلی آویزش ہے ۔ اور جنگ ہے یہ ناممکن ہے کہ منکرین کے ہاتھ میں قوت واقتدار ہو ۔ اور وہ اسلام کو بخوبی گوارا کرلیں ۔ اور اس چیز کو برداشت کرلیں ۔ کہ اللہ کے بندہ علی الاعلان اس کا نام بلند کرسکیں ۔ اس کے دین کو پھسلایا کریں اور مظالم کے انسداد کے لئے منظم ہوسکیں ۔ کیونکہ اسلام کے بقاء اور کی اشاعت کا بدلہ نتیجہ اوہام اور خرافات کی موت ہے ۔ جہل اور تعصب کی موت ہے ۔ ظلم اور سفا کی کی موت ہے ۔ باطل اور جھوٹ کی موت ہے ۔ پھر اس طرح زندگی اور موت کبھی یکجا نہیں ہوسکتے ۔ تاریکی اور روشنی میں تعاون محال ہے ۔ اسی طرح یہ ناممکن ہے ۔ کہ مسلم اور کافر…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(9) اے نبی کفار کے اور منافقین کے ساتھ جہاد کیجئے اور ان کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیجئے ان سب کافروں اور منافقوں کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ جہنم بہت بری جگہ ہے۔ یعنی کافروں کے ساتھ جہاد تلوار سے اور منافقوں کے ساتھ جہاد زبان سے دنیا میں یہ اس کے مستحق ہیں اور آخرت میں ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو ٹھکانے اور پھرجانے کی بہت بری جگہ ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت کا خلق یہاں تک ہے کہ اللہ صاحب اوروں کو فرماتا ہے تحمل کرو ان کو فرماتا ہے سختی کرنا۔ نبی کریم ﷺ کی عام شفقت اور رحمت مشہور ہے اس لئے کافروں کے خلاف سخت گیری کا حکم دیا یہ جہاد فرض ہونے کے بعد کی باتیں ہیں حضرت موسیٰ کے مزاج چونکہ سختی…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 8–9

ف 4۔ یعنی دل میں کامل ندامت ہو معصیت پر اور عزم علی الترک ہو۔ 5۔ مقصود صرف مومنین کا بیان کرنا ہے، نبی ﷺ کا ذکر ملا دینا تقویت حکم کے لئے ہے، یعنی جیسے عدم خزی نبی یقینی ہے ایسا ہی عدم خزی مومنین بھی یقینی ہے اور خزی سے مراد خزی مخصوص ہے، جو کفر کی جزا ہے۔ لقولہ تعالیٰ ان الخزی الیوم والسوء علی الکافرین، اور مومنین سے مراد مطلق مومنین ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اے پیغمبر اسلام ﷺ ! کفار اور منافقین کے خلاف جہاد جاری رکھو اور ان پر سختی کرو 9 ؎” اے نبی کریم ﷺ کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے “ جہاد کی مکمل وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة الحج کی آیت 87 میں بیان کرچکے ہیں اور اس کی مکمل وضاحت کردی گئی ہے اور جہاد کی ساری صورتیں بھی وہاں بیان کردی گئی ہیں اس جگہ اتنا بیان کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری ہاں جہاد بالسیف ہی کو جہاد سمجھا جاتا ہے پھر اس کا جو طریقہ اس وقت رائج ہے اس پر جہاد کا لفظ نہیں بلکہ تخریب کاری زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہماری تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس کو محض اپنے پیٹ کی خاطر روا سمجھتی ہیں اور حکومت پاکستان…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 8–9

Commentary تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا (...turn to Allah with a faithful repentance...66:8). The word taubah, literally, means 'to turn' or 'to return', in the sense of turning or withdrawing from sins. In the terminology of the Qur'an and Sunnah, it signifies 'to regret committing sins in the past and to firmly resolve abstaining from them in future'. Taubah is qualified in the verse by the word نصوح nasuh. If it is taken as the infinitive of nasaha / nasihah, it signifies 'to make pure and sincere'; and if it be derived from nasahah, it signifies 'to repair clothes by sewing'.…

Read the full tafseer →