Ayah 66:1یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا ہے) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ یا شہد کو، ایک معروف واقعے کے مطابق، اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ ) اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ( لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ ) آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ (تبتغی) آپ چاہتے ہیں۔ اس تحریم کے ذریعے سے (مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ) اپنی بیویوں کی رضامندی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
Ayah 66:2یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کردیا اور آپ پر رحم فرمایا اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے تمام قسموں کے لیے عام حکم جاری کرتے ہوئے فرمایا (قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ۚ ) اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسمیں کھولنا (توڑنا) فرض کردیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کردیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلاجاسکے اور وہ کفارہ بتلا دیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے (یا ایھا الذین آمنوا لاتحرموا۔۔۔ تا۔۔۔۔ اذا حلفتم۔ المائدہ۔ 87، تا۔ 89) اے ایمان والو۔ تم ان پاک چیزوں کو حرام نہ ٹھہراؤ جن کو اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ اور اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں تم کو دی ہیں اور انمیں سے حلال پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھتے ہو۔ اللہ تمہاری قسموں میں سے لغو قسم پر تم سے مواخذہ نہیں فرماتا لیکن مواخذہ اس پر فرماتا ہے کہ تم جن قسموں کو مضبوط کرو تو اس کا کفارہ دس مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے گھر والوں کو کھلاتے ہو یا ان کو کپڑے پہنانا یا ایک غلام آزاد کرنا ہے پھر جسکو یہ میسر نہ ہو تو وہ تین دن کے روزے رکھے جب تم قسم کھاؤ اور توڑ دو تو یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے۔ پس ہر وہ شخص جو کسی حلال طعام، مشروب یا لونڈی کو حرام ٹھہرائے یا کسی فعل یاترک پر اللہ کی قسم اٹھائے پھر وہ قسم کو توڑ دے یا توڑنے کا ارادہ کرے تو اس پر یہ مذکورہ کفارے کی ادائیگی واجب ہے اللہ کا فرمان ہے (وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ ) یعنی اللہ تعالیٰ تمہارے امور کیس رپرستی کرنے ولا ہے اور تمہارے دین ودنیا کے امور میں تمہاری بہترین طریقے سے تربیت کرنے والا ہے جس کے سبب سے تم سے شر دور ہوتا ہے بنابریں اس نے تمہاری قسمیں حلال کرنے کے لیے تمہارے لیے ایک طریقہ مقرر فرمایا تاکہ تم پر جو ذمے داری ہے وہ پوری ہوجائے۔ (وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ ) جس کے علم نے تمہارے ظواہر اور بواطن کا احاطہ کررکھا ہے اس نے جو کچھ پیدا کیا ہے اس نے حکم دیا ہے وہ اس میں حکمت کو ملحوظ رکھنے والا ہے اس لیے اس نے تمہارے لیے ایسے احکام مشروع کیے ہیں جن کے بارے میں اسے معلوم ہے کہ وہ تمہارے مصالح کے موافق اور تمہارے احوال کے مناسب ہیں۔
Ayah 66:3(وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا ۚ ) اور جب پیغمبر نے اپنی ایکب یوی سے ایک راز کی بات کہی (تو اس نے دوسری کو بتادی) ۔ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنی حضرت حفصہ ہیں ان کو نبی اکرم نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں انہوں نے یہ بات حضرت عائشہ کو بتادی الللہ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہ نے افشا کردی تھی نبی کو آگاہ کردیا نبی کریم نے اپنے حلم اور کرم کیب نا پر اسب ات میں سے جو انہوں نے افشا کی تھی کچھ بات حضرت حفصہ کو بتادی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا حضرت حفصہ نے آپ سے عرض کیا (مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا ۭ ) یعنی اس خبر سے آپ کو کس نے آگاہ کیا جو ہم نے باہر نہیں نکلی ؟ ( قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ ) آپ نے فرمایا علیم وخبیر نے مجھے خبر دی ہے۔ جس پر کوئی چیز مخفی نہیں وہ بھیدوں اور چھپی ہوئی چیزوں کو خوب جانتا ہے ی۔
Ayah 66:4(اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا ۚ ) خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت عائشہ، اور حضرت حفصہ کی طرف ہے جو اس بات کا سبب بنیں کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھیں اللہ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انہیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہوگئے جو ان کے لائق تھی یعنی ورع اور رسول اللہ کا ادب واحترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ( وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ ) اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی جو شاق گزرتا ہے آپ پر اور تمہاری طرف سے رویہ دائم رہا (فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ) تو اللہ اور جبرائیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔ یہ سب رسول اللہ کے اعوان و مددگار ہیں اور جس کے اعوان وانصار یہ لوگ ہوں وہ مددیافتہ ہے اور دوسرے لوگ جو آپ کے ساتھ دشمنی کرتے ہیں تو یہ بےیارومددگار چھوڑے ہوئے ہیں یہ سید المرسلین رسول کی سب سے بڑی فضیلت اور سب سے بڑا اشرف ہے کہ باری تعالیٰ نے اپنی ذات کریمہ اور اپنی مخلوق میں خاص لوگوں کو رسول کریم کے اعوان وانصار مقرر فرمایا۔
Ayah 66:5ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عوروتوں پر بےحد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے اس لیے فرمایا (عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ ) یعنی تم رسول اللہ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اگر اوہ تمہیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہوگا اور نہ وہ تمہاری محتاج ہی ہوں کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے میں آپ کو ایسی بیویاں عطا کردے جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں گی۔ یہ ایسی تعلیق کے باب میں سے ہے جس کا وجود نہیں اور نہ اس کا وجود لازم ہے کیونکہ آپ نے ان ازواج مطہرات کو طلاق نہیں دی اور اگر آپ طلاق دے دیتے تو وہی ہوتا جو ان ازواج مطہرات کے بارے میں ذکر فرمایا ہے وہ اسلام جو کہ ظاہری شریعت کو قائم کرنے کا نام ہے اور ایمان جو باطنی شریعت عقائد اور اعمال قلوب کو کرنے کا نام ہے دونوں کو جامع ہوتیں۔ قنوت سے مراد دائمی اطاعت اور اطاعت پر استمرار ہے۔ (تٰۗىِٕبٰتٍ ) وہ ان امور سے توبہ کرنے والی ہوں گی جن کو اللہ ناپسند کرتا ہے پس اللہ تعالیٰ نے انکو ایسے امور کو قائم کرنے سے موصوف فرمایا ہے جن کو وہ پسند کرتا ہے اور انکو ایسے امور سے اجتناب کرنے سے موصوف فرمایا جو اسے ناپسند ہیں۔ (ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا) یعنی ان میں بعض ثیبہ (بیوہ) ہوں گی اور بعض کنواری تاکہ آپ کو اپنی پسند کے مطابق تنوع حاصل ہو۔ چناچہ جب ازواج مطہرات نے یہ تخویف اور تادیب سنی تو وہ رسول اللہ کی رضا جوئی کے لیے جلدی سے آگے بڑھیں۔ لہذا یہ مذکورہ اوصاف ان پر منطبق ہوئے اور وہ مومن عورتوں میں سب سے افضل قرار پائیں اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے مکمل احوال اور اعلی امور کا انتخاب کرتا ہے پس جب اللہ تعای نے مذکورہ خواتین کو اپنے رسول کے حرم کے لیے باقی رکھنا پسند کیا تو اس سے ثابت ہوا کہ وہ تمام عورتوں سے بہتر اور کامل ہیں۔
Ayah 66:6یعنی اے لوگو جن کو اللہ نے ایمان سے نوازا ہے ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے (قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا) اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کر ایاجائے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب وعلم سکھائے اور انکو اللہ کے احکامت کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔ پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں جو اس کی سرپرستی میں اور اس کے تصرف میں ہوں اللہ کے اوامر کی تعمیل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آگ کے یہ اوصاف بیان کیے ہیں تاکہ بندے اللہ تعالیٰ کے حکم کو حقیر سمجھنے سے ڈریں چناچہ فرمایا (وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ جیسا کہ فرمایا (انکم وما تعبدون من۔۔۔ تا۔۔۔ واردون۔ الانبیا 98) بیشک تم اور تمہارے وہ خود ساختہ معبود جن کی تم اللہ کو چھوڑ کر عبادت کرتے ہو جہنم کا ایندھن ہیں تمہیں جہنم میں وارد ہونا ہے۔ ( عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ) جس پر سخت دل مضبوط فرشتے مقرر ہیں اور ان فرشتوں کے اخلاق بہت درشت ہیں اور ان کا انتقام بہت برا ہوگا جہنمی ان کی آوازیں سن کر گھبرائیں گے اور ان کو دیکھ کر خوف کھائیں گے اور یہ فرشتے اپنی طاقت وقوت سے جہنمیوں کو رسوا کریں گے اور ان پر اللہ تعالیٰ کے احکامت نافذ کریں گے جس نے ان کے بارے میں عذاب کا حتمی فیصلہ کیا ہے اور سخت سزا ان پر واجب کی ہے۔ ( لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَآ اَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ ) اللہ انہیں جو حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم انہیں ملتا ہے اسے بجالاتے ہیں اس میں بھی مکرم فرشتوں کی مدح، اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے اس کے سرتسلیم خم کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر ان کی اطاعت کا زکر ہے۔
Ayah 66:7یعنی قیامت کے روز الفاظ میں جہنمیوں کو زجر توبیخ کی جائے گی پس ان سے کہا جائے گا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ ۭ ) اے کافرو۔ آج عذر مت پیش کرو۔ یعنی عذر پیش کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہوگیا اور اب تو اعمال کی جزا وسزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہا اور تم نے اللہ کے انکار، اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں اور اولیا کے ساتھ جنگ کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا۔
Ayah 66:8اللہ تبارک وتعالی نے اس آیت کریمہ میں خالص توبہ کا حکم دیا ہے اور اس پر ان کی برائیاں مٹا دینے، جنتوں میں داخل کرنے اور فوز و فلاح کا وعدہ کیا ہے جب قیامت کے دن اہل ایمان اپنے نور ایمان کے ساتھ اور اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے اس کی خوشبو اور راحت سے متمع ہورہے ہوں گے اور اس روشنی کے بجھ جانے پر ڈریں گے جو منافقین کو دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے اور وہ ان کے نور کو پورا کرے، اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے گا ان کے پاس جو نور اور یقین ہوگا اس کے ذریعے سے للہ تعالیٰ انہیں نعمتوں بھری جنتوں اور رب کریم کے جوار میں پہنچائے گا یہ سب خالص توبہ کے آثار ہیں خالص توبہ سے مراد وہ توبہ ہے جو ان تمام گناہوں کو شامل ہو جو بندے نے اللہ کے حق میں کیے ہیں اس توبہ سے اللہ کی رضا اور اس کے قرب کے سوا کچھ مقصود نہ ہو پھر بندہ تمام احوال میں اس توبہ پر قائم رہے۔
Ayah 66:9اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کرنے اور اس بارے میں ان پر سختی کرنے کا حکم دیتا ہے اس میں ان کے ساتھ دلیل کے ذریعے سے جہاد کرنا ان کو اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دینا گمراہی کی مخلتف اقسام پر مبنی ان کے موقف کا بطال کرنا اور جو کوئی اللہ کی دعوت کو قبول کرنے ور اس کے فیصلے کی اطاعت کرنے سے انکار کردے تو اس کے خلاف اسلحہ اور جنگ کے ذریعے سے جہاد کرنا، سب شامل ہے پس ایسے لوگوں کے خلاف جہاد کیا جائے اور ان پر سختی کی جائے رہا جہاد کا پہلا مرتبہ تو وہ اس ذریعے سے ہو جو بہترین ہے پس کفار اور منافقین پر اور انکے خلاف جہاد پر اللہ کا اپنے رسول اور آپ کی جماعت کو لگانا دنیا کے اندر ان کے لیے عذاب ہے اور آخرت میں ان کے لیے جہنم کا عذاب ہوگا جو بہت بری جگہ ہے جس کی ہر طرف بدبخت اور خائب و خاسر شخص لوٹے گا۔
Ayah 66:10یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ نے مومنوں اور کافروں کے لیے بیان کی ہیں تاکہ ان پر واضح ہوجائے کہ کافر کا مومن کے ساتھ اتصال اور مومن کا قرب کافر کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور مومن کا کافر کے ساتھ اتصال مومن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکت اگر مومن فرائض کو پورا کرتا ہے گویا اس میں ازواج مطہرات کے لیے معصیت سے بچنے کی تنبیہ ہے نیز رسول اللہ کے ساتھ اتصال ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اگر انہوں نے برائی کی ہے چناچہ فرمایا (ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا) اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثالیں بیان فرمائی ہیں یہ دونوں تھیں۔ یعنی دونوں عورتیں (تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ ) ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے گھر میں۔ اور یہ تھے حضرت نوح اور حضرت لوط (فخانتھما) پس انہوں نے دونوں کی خیانت کی۔ یعنی دین میں ان دونوں نے نبیوں کی خیانت کی۔ دونوں اپنے شوہروں کے دین کے سوا کسی اور دین پر تھیں خیانت سے یہی معنی مراد ہیں اور اس سے نسب اور بستر کی خیانت مراد نہیں کیونکہ کسی نبی کی بیوی بدکار کی مرتکب نہیں ہوئی اور نہ اللہ تعالیٰ نے کسی بدکار عورت کو انبیائے کرام میں سے کسی کی بیوی بنایا ہے۔ (فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ ) پس نہ کام آئے وہ دونوں۔ (یعنی حضرت نوح اور لوط اپنی بیویوں کے کچھ کام نہ آئے) اللہ کے مقابلے میں کچھ بھی اور انہیں کہا گیا کہ وہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ داخل ہوجائیں۔
Ayah 66:11(وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ ۘ) اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی تھی اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحم۔ (اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ) جب اس نے کہا اسے میرے رب میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ الہ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتی تھیں اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور رب کریم کی مجاورت کا سوال نیز وہ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا کرتی تھی کہ وہ اسے فرعون کے فتنے، اس کے اعمال بد اور ہر ظالم کے فتنہ سے نجات دے۔ اللہ نے حضرت آسیہ کی دعا قبول فرمائی چناچہ وہ کامل ایمان اور اس پر ثابت قدمی کے ساتھ زندہ رہیں اور تمام فتنوں سے بچی رہی بنابریں نبی نے فرمایا مردوں میں سے مرتبہ کمال کو پہنچنے والے لوگ تو بہت ہیں مگر عورتوں میں مریم بنت عمران، آسیہ بنت مزاحم، خدیجہ بن خویلد کے سوا کوئی عورت مرتبہ کمال کو نہیں پہنچی اور عائشہ کی تمام عورتوں پر فضیلت ایسے ہے جیسے ثرید کی فضیلت تمام کھانوں پر۔
Ayah 66:12(وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا) اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ یعنی انہوں نے اپنی کامل دیانت، عفت اور پاکیزگی کی بنا پر ہر فحش کام سے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی۔ (فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا) پس ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ جبرائیل نے اس کے کرتے کے گریبان میں پھونک ماری اور ان کی یہ پھونک حضرت مریم تک پہنچی چناچہ اس طرح حضرت مریم سے رسول کریم اور سید عظیم حضڑت عیسیٰ متولد ہوئے۔ (وَصَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهٖ ) اور انہوں نے اپنے رب کے کلام اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی۔ یہ حضرت مریم کو علم اور معرفت سے موصوف کیا گیا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے کلمات کی تصدیق اس کے کلمات دینی اور قدری کی تصدیق کو شامل ہے اس کی کتابوں کی تصدیق ان امور کا تقاضا کرتی ہے جن کے ذریعے سے تصدیق حاصل ہوتی ہے اور یہ علم وعمل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ بنابریں فرمایا (وَكَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ ) اور وہ فرماں برداروں میں سے تھیں۔ یعنی وہ خشیت اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مداومت کرنے والوں میں سے تھیں یہ ان کے کمال عمل کا وصف ہے کیونکہ وہ صدیقہ تھیں اور صدیقیت کمال علم وعمل کا نام ہے۔