Ayah 66:1آپ ﷺ نے بعض ازواج کی رضا کیلئے ایک حلال چیز کیوں اپنے اوپر منع کرلی ہے ؟
1 ؎ کہاوت ہے کہ کسی بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا اور وہ شکار کو جاتا تو خود اور اپنے ساتھیوں کو بھی شکار کے گوشت کے سوا کوئی دوسری چیز کھانے پر پابندی رکھتا ۔ اس وجہ سے جب بادشاہ سلامت شکار کو جاتے تو بادشاہ کے ساتھی گوشت میں ڈالی جانے والی چیزوں کے سوا کوئی کھانے کی چیز ساتھ نہ لے جاتے ۔ ایک دفعہ بادشاہ سلامت شکار کو نکلے اور چلتے چلتے بہت دور نکل گئے اور بڑی دیر کے بعددور دراز جنگل طے کرنے کے بعد شکار ہاتھ لگا ۔ بہر حال شکار کا گوشت جلد تیار کرنے کا حکم ہوا اور سب کی خواہش بھی تھی کہ یہ گوشت جلد تیار ہو ۔ بہر حال گوشت تیار ہونے لگا تو معلوم ہوا کہ نمک ندارد ۔ لوگ پریشان ہوئے کہ ایک طرف نے ستایا ہے اور دوسری طرف جنگل میں بہت دور نکل آئے ہیں ، کوئی بستی بھی قریب نہیں اور گوشت کا مزہ بھی نمک کے بغیر کچھ نہیں ہوگا بہر حال گوشت تیار ہوگیا تو بادشاہ سلامت سے حقیقت حال عرض کی گئی ۔ آپ کے مصاحبین میں سے کسی نے ایک بستی کے قریب ہونے کا ذکر کیا لیکن بادشاہ نے سختی سے منع کردیا کہ آج گوشت بغیر نمک ہی کے استعمال ہوگا اور کسی بستی سے کوئی چیز نہیں لائی جائے گی ۔ کسی مصاحب نے اس کی حکومت پوچھ لی تو بادشاہ سلامت نے فرمایا کہ کسی لشکری کا کسی بستی سے نمک کا ایک تولہ مانگنابستی والوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنانے کے مترادف ہے لہٰذا میرے حکم پر عمل بھی ہوگا خواہ کسی کو پسند آئے یا نہ آئے ۔ اس کے عرض کرنے سے میری غرض یہ ہے کہ فی الحقیقت بات صحیح ہے کہ بڑے لوگوں کی طرف سے ایک ذرہ بھر ڈھیل سے بڑی بڑی تباہیاں برپا ہونے کا خطرہ ہوتا ہے ۔ آج اگر آپ اس ملک عزیز کے حالات پر غور کریں گے تو بات مزید واضح ہوتی دکھائی دے گی ۔ مغربی جمہوریت تو ویسے ہی کفر تھی جب اس ملک میں داخل ہوئی اور اب بھی ویسا ہی کفر ہے لیکن اس کے آنے کے وقت میں اور آج کے وقت میں جو فرق ہے وہ زمین و آسمان کے فرق سے بھی زیادہ ہے ۔ ابتدائی جمہوریت یعنی بی ۔ ڈی سے شروع ہوا کر ایم ۔ این ۔ اے تک دھونس ، دھاندلی ، رشوت اور منافقت کا یہ کاروبار جس قدر پھیل گیا ہے کسی سے پوشیدہ نہیں ہے اور پھر جوں ہی کوئی ایم ۔ این ۔ اے ہوگیا اس کی قیمت جوں لگنا شروع ہوئی تو وہ کروڑوں اور اربوں تک چلا گیا ۔ قل کے ، ختم شریف کے ، کپڑوں اور پیسوں کی طرح جس ادب و احترام سے وہ ملاں کو پیش کیے جاتے ہیں بالکل اسی طرح سینیٹ (Senate) کی سیٹیں ، وزارتیں اور لاکھوں ، اربوں روپیہ بڑے ادب و احترام کے ساتھ ایک ایم ۔ این ۔ اے کا ووٹ حاصل کرنے کے لیے وزیراعظم ہونے والے کی طرف سے پیش کیے جانے لگے ۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ کاروبار تو جو بڑھا سو بڑھا لیکن ملک میں کوئی ادارہ ایسا نہ رہا جس میں رشوت جی بھر بھر کرلینا شروع نہ کردی گئی ہو اور اب تو صورتحال یہ ہے کہ ایک چپڑاسی ، ایک اردلی ، ایک گیٹ کی پر کے مبارک عہدوں کے لیے آفر (Offer) ہزاروں سے متجاوز ہوگئی۔ سکول ، ٹیچر ، سپاہی ، پٹواری ، کلرک اور اسی طرح کے دوسرے محکموں کی ابتدائی اسامیوں (Clerical jobs) کے لیے بڑی بڑی سفارشیں اور سفارشوں کی رشوتیں چل رہی ہیں اور اس کے سوا اب کوئی چارہ کار نہیں رہا ۔ لیکن یہ سب اثر کس چیز کا ہے ؟ ملک کے وڈیروں کی بد اعتدالیوں کا ۔ جہاں ایک بادشاہ کے کسی سپاہی کا کسی بستی کا نمک حاصل کرنا گناہ سمجھا گیا تھا وہ محض اس وجہ سے تھا اور آج تو کانیں ہضم کی جا رہی ہیں۔
زیر نظر آیت میں بیان کی گئی بات اسی قبیل سے ہے جس سے قرآن کریم کی یہ آیت کہ : (عفا اللہ عنک لم اذنت لھم) (التوبۃ) ” اللہ تجھ کو معاف فرمائے تو نے ان لوگوں کو کیوں اجازت دے دی “ لیکن وہاں بھی آپ کو مخاطب کر کے ایک معمولی سی بات سے جس کا نتیجہ لوگ غلط نکال سکتے تھے منع فرمایا گیا اور زیر نظر آیت میں بھی ارشاد فرمایا کہ ” اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ ﷺ اپنے اوپر ہر وہ چیز کیوں منع کرتے ہیں جو اللہ نے تیرے لیے جائز ٹھہرائی ہے “۔ یہ چیز کیا تھی جیسا کہ روایات میں ذکر آیا ہے کہ آپ نے اپنی ازواج مطہرات ؓ کے ہاں کسی ایک سے شہید پیا اور کسی دوسری بی بی نے اس میں مغافیر کی شکایت کی کہ آپ ﷺ نے ازراہ دل آزادی فرما دیا کہ میں آئندہ ایسی شہد نہیں پیئوں گا لیکن اس میں ایک طرف کی دل آزادی کو روکنا تھا اور دوسری طرف سے دل آزادی کا مرتکب ہونا اور ظاہر ہے کہ اس سے وہ مقصد پورا نہیں ہوتا تھا جو آپ ﷺ نے ازراہ خلافت طبع ازراہ ناگواری ایک زوجہ محترمہ ؓ سے یہ بات فرما دی حالانکہ آپ ﷺ کی اپنی طبیعت نے اس سے انکار نہیں کیا تھا۔ گویا آپ ﷺ کو وہ شہد ناگوار نہیں محسوس ہوئی تھی لیکن آپ ﷺ کا کہنا ایک بی بی کی ناگواری کو اگر دور کرنا تھا یا دو بیبیوں کی ناگواری کو تو دوسری طرف یہ بات دوسری بی بی کی ناگواری کا باعث بھی ہو سکتی تھی ۔ بات اگرچہ بالکل معمولی تیا اور اپنی ازواج مطہرات ؓ ہی کا معاملہ بھی تھا لیکن اس سے استنباط کرنے والے اور استدلال کرنے والے نہ معلوم کیا کیا جائز اور درست کردیتے اس لیے آپ ﷺ کی زبان سے یہ کلمہ نکلتے ہی اس سے آپ ﷺ کو روک دیا گیا کہ آپ ﷺ کے لیے ایسی بات درست نہیں ہے کہ ایک طرف کی ناگواری کو دور کرتے کرتے دوسری طرف کی ناگواری کو برداشت کریں ۔ وہ چیز جو جائز اور حلال و طیب ہے اس کو کسی کی ناگواری کے باعث اپنے اوپر منع کرلینا تکلیف مالا یطاق ہے۔ جس کے نتائج اچھے نہیں نکل سکتے اور خصوصاً گھریلو زندگی کی ہم آہنگیوں کے یہ خلاف ہے کہ بعض بیبیوں کی رضا جوئی کے لیے بعض کی ناگواری کا باعث بنا جائے پھر اس کے اثرات بھی اچھے مرتب نہیں ہو سکتے ۔ بات شہد کے پینے پلانے کی تھی یا کوئی دوسرا واقعہ تھا بہر حال اس کا تذکرہ قرآن کریم نے نہیں کیا اور احادیث میں چونکہ ایک سے زیادہ باتیں اس طرح کی بیان ہوئی ہیں اس لیے کسی نے ایک کو اور کسی نے دوسری بات کو ترجیح دی ہے اور یہ استدلال کی بات ہے اگر دو سے زیادہ باتیں بھی اس طرح کی بیان ہوئی ہوں تو ممکن ہے اور آیت بہر حال اس طرح کی ساری باتوں کی نفی کرتی ہے اس لیے مفسرین نے جس کو بھی ترجیح دی ہے محض اپنی تفہیم اور قیاس سے دی ہے لیکن جہاں بھی قرآن کریم ایسے احکام بیان کرتا ہے ہم ان کو عموم کی حالت ہی میں رکھنا پسند کرتے ہیں تا وقتیکہ کوئی وضاحت حدیث میں نہ آئی ہو ۔ اس جگہ ایک واقعہ تو شہد (Honey) کا ہے اس میں مفسرین نے نام بنام وضاحت کی ہے کہ آپ ﷺ نے کس کے ہاں سے شہد پیا اور کس کس نے مل کر یہ بات بنائی کہ مغافیر کی بو آپ ﷺ کے منہ سے آتی ہے جب کہ ایسی کوئی بات نہیں تھی اور ایسے کہنے والیوں کا کہنا محض رقابت کے باعث تھا لیکن دوسری روایت اس سے بڑی ہے اور زیادہ تفصیل طلب ہے اور وہ بات بھی اس سے زیادہ خطرناک ہے لیکن ہم ان باتوں کا نام بنام ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتے اس لیے کہ وہاں واقعہ کچھ بھی ہو قرآن کریم نے ہماری رہنمائی کے لیے اس کو بیان کیا اور ہم کو جب بغیر ان ناموں کے اور بغیر واقعہ کی تحقیق کے اصل واقعہ سے سبق حاصل ہوتا ہے تو ہم وہ بات کیوں نہ کریں جو ہمارے لیے مفید مطلب ہے ۔ ہم وہی کام کیے چلے جائیں جس سے زیر نظر آیت روکتی ہے اور گزشتہ لوگوں کے ناموں کی تحقیق میں لگ کر اپنی ضرورت کی بات سے غافل ہوجائیں تو ہمارے لیے بات کبھی قابل درس نہیں ہو سکتی حالانکہ اس سے ہم کو سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ قرآن کریم کے احکام ہمارے لیے بھی وہی اہمیت رکھتے ہیں جو ہم سے پہلے لوگوں کے لیے اہمیت رکھتے تھے اور خصوصاً یہ کہ ایک معمولی بات جو گھریلو عدل کے خلاف ہو اگر وہ رسول اللہ ﷺ سے ہو تو عدل کے خلاف ہی سمجھی جاتی ہے تو ہم جو ساری زندگی عدل کے خلاف گھریلو زندگیاں گزار رہے ہیں ، ہمارا کیا حال ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو حق کے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور اللہ تعالیٰ اپنی صفات غفور یت اور رحمیت کے باعث ہم سے ہماری لعزشیں معاف فرما دے ۔ زیر نظر آیت میں دوسری توجیہات کے علاوہ یہ توجیہہ بھی ہو سکتی کہ آپ ﷺ کو مخاطب کر کے آپ ﷺ کی بیبیوں ؓ کے نام لے کر قوم کے مردوں اور عورتوں کے تسامحات کا ذکر کیا گیا ہو کیونکہ آگے آنے والی آیت سے اس توجیہ کا احتمال بھی ہوتا ہے ۔
Ayah 66:2اگر غلط قسم کا تہیہ تم کرلو تو اس کو ترک کرنے کے لیے اللہ نے تم کو خاص ہدایت عطا کردی ہے
2 ؎ اوپر کی آیت میں بات تو آپ ﷺ کو مخاطب فرما کر کی گئی تھی اور آپ ﷺ کی بعض ازواج ؓ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے لیکن زیر نظر آیت میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے جس سے وہ احتمال قوی ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے گزشتہ آیت کی تفسیر کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ (تحلۃ) کے معنی میں کھولنا ، ڈالنا ، حلال کرنا ۔ یہ حلال کا مصدر ہے وزن تفعلہ اور باب تفعیل کا دوسرا وزن ہے جسے کرم سے تکریم اور تکرمۃ کمل تکمیل اور تکملۃ دونوں وزن آتے ہیں اسی طرح یہ بھی حلل تعیلیلاً کا دوسرا مصدر ہے ۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم ای بین ما تنحل بہ عقدۃ ایمانکم من الکفارۃ ( امام راغب) ” اللہ نے وہ چیز بیان کردی جس سے تمہاری قسموں کی گرہ کھل جاتی ہے اور وہ کفارہ ہے۔ مطلب یہ یہ کہ قسم کھا کر تم نے جو گرہ ڈال لی تھی اس کے کھولنے کا طریقہ تمہیں بتا دیا ہے کہ کفارہ ادا کرو اور پابندی سے آزاد ہو جائو ۔ اس طرح گویا آیت کا اشارہ کفارہ قسم کی طرف ہے جس کا ذکر قبل ازیں کیا جا چکا ہے جیسا کہ سورة المائدہ کی آیت 89 میں اس کا واضح بیان کیا گیا ہے ۔ البتہ یہ بات اگر ایسی ہی ہے تو یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ سورة المائدہ میں جو حکم نازل ہوا وہ اس جائے تو وہ سورت اس سورة التحریم کے بعد کی تسلیم کی جاتی ہے ۔ اس لیے ضروری ہے کہ اس حکم کو اس سورت کے نزول سے پہلے کا تسلیم کیا جائے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کیا یہ حکم الگ حکم ہے جو اس آیت میں بیان کیا گیا ہے یا پہلی آیت کے مضمون کے ساتھ اس کا تعلق موجود ہے ۔ جہاں تک ہمیں معلوم ہے ہم پورے وثوق سے یہ بات کہہ سکتے ہیں کہ یہ بات تو شروع سے لے کر آج تک متفق چلی آرہی ہے کہ ان دونوں آیتوں کا ربط قائم کرنے کے لیے اس آیت کا حکم گزشتہ آیت کے حکم کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ اگر بات ایسی ہی ہے تو کم از کم ہماری نظر سے ایسا کوئی دوسرا حکم نہیں گزرا کہ رسول اللہ ﷺ کے کسی معاملہ میں آپ ﷺ کی تفہیم کے لیے یا آپ ﷺ کو حکم دینے کے لیے عام انسانوں کو مخاطب کر کے بات کی گئی ہو البتہ اس کی مثالیں بیسیوں موجود ہیں کہ دوسرے لوگوں کو سمجھانے کے لیے ، دوسروں کو روکنے کے لیے ، دوسروں کو نشانہ تنقید بنانے کے لیے ، دوسروں کو حکم دینے کے لیے رسول اللہ ﷺ کو مخاطب کر کے بات کہہ دی ہو اس لیے بظاہر خطاب تو آپ ﷺ کو ہو لیکن بات دوسروں سے کرنا مقصود ہو ۔ اس طرح اگر یہ صحیح ہے تو دونوں آیتوں کے احکام کا ربط اسی صورت قائم ہو سکتا ہے کہ پہلی آیت میں جو نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے بات کی گئی ہے وہ بات کسی دوسرے انسان ، گروہ یا جماعت کی ہو اور مخاطب آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کی ازواج ؓ کو کیا گیا ہو جیسا کہ ہم نے اوپر بھی دوبارہ اس کی طرف اشارہ کیا ہے اور دوسری صورت یہ ہے کہ گزشتہ آیت کا حکم الگ ہو جو براہ راست رسول اللہ ﷺ کا معاملہ ہو اور آپ ﷺ کو مخاطب کر کے ایک بات کہنے کے بعد عام انسانوں کی قسموں کا حکم ان کو یاد دلایا گیا ہو کہ کوئی شخص تم میں سے ایسی بات کے لیے قسم کھالے جس معاملہ میں اس کو قسم کھا کر بات کرنے کا حق نہ ہو لیکن وہ ایسے ناحق معاملہ میں قسم کھائے تو اس کو اپنی قسم کا کفارہ ادا کرنا ہے اور اپنی قسم کو توڑ دینا لازم و ضروری ہے اور ہر قسم کا کفارہ اس لیے ہے تاکہ آئندہ اس طرح قسم کھانے والا احتیاط کرے۔
دراصل اس سورت کی پہلی پانچ آیات کو مفسرین نے رسول اللہ ﷺ کے متعلق قرار دیا ہے اور ان کا آپس میں ربط قائم کرنے کے لیے بہت سی باتیں ان کو ملانا پڑیں ہیں تاکہ ان کا ربط قائم ہو سکے لیکن اگر آپ کسی تفسیر کو اٹھا کر ان پانچ آیات کریمات کی تفسیر پڑھیں گے تو آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا کہ نہ تو یہ واقعہ ایک ہے اور نہ ہی اس طرح ربط قائم کرنے سے ان کا کوئی ربط قائم ہوتا نظر آتا ہے اور جو باتیں مفسرین نے ربط قائم کرنے کے لیے ملائی ہیں وہ الگ قسم کی باتیں صاف دکھائی دے رہی ہیں اور بار بار غور کرنے سے بھی کوئی بات بنتی نظر نہیں آتی اور اس طرح جن روایات اور احادیث کو ان آیات کی تفسیر میں نقل کیا جاتا ہے وہ سب کی سب اکٹھی کرلی جائیں تو بھی اس کی وضاحت نہیں ہوتی اور نہ ہی ان روایات کا آپس میں کوئی جوڑ جڑتا نظر آتا ہے جن باتوں کو شان نزول کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے وہ آپس میں اس قدرمختلف ہیں کہ ان کو ملانے سے انسان مزید بھول بھلیوں میں پڑجاتا ہے۔ جو کچھ ہم نے سمجھا ہے اس کو بیان کرنا ہم ضروری سمجھتے ہیں اگرچہ وہ گزشتہ مفسرین سے میل نہ کھاتا ہو ۔ ہاں ! ہم یہ ضرور کہیں گے کہ اگر کسی بھائی یا بزرگ کو ہماری رائے سے اختلاف ہو تو وہ سو بار رکھے اور جس طرح اس کو انشراح حاصل ہوتا ہے وہ اس کو تسلیم کرنے میں آزاد ہے ۔ اس معاملہ میں ہم محض یہ اپیل کریں گے کہ وہ بغیر کسی فتویٰ کے ہماری تفہیم کو رد کردے ۔ تفہیم ہماری اس طرح ہے کہ :
ا۔ اس سورة کی پہلی آیت میں خطاب براہ راست نبی اعظم و آخر ﷺ سے ہے جو بات بیک آپ ﷺ کے اور آپ ﷺ کے ازواج مطہرات ؓ کے درمیان ہوئی جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ نے ایک حلال و طیب چیز کو محض اپنی بعض ازواج کی خوشنودی کے لیے اپنے اوپر منع فرما لیا لیکن اس طرح آپ ﷺ کی ازواج کو بعض پر اہمیت دیئے جانے کا پہلو نکلتا تھا جب کہ اس میں اہمیت دیئے جانے کی کوئی وجہ بھی موجود نہ تھی اور یہ بھی کہ اس سے دوسری بعض کی خواہ ایک تھی ، سبکی کا پہلو نکلتا تھا اور آپ ﷺ کی اس پرائیویٹ (Private) زندگی کا جس کو بھی پتہ چلتا وہ اس سے غلط استدال کرسکتا تھا کہ دیکھو آپ ﷺ نے اس سلسلہ میں اپنی بعض ازواج کو بعض پر اہمی تدی ہے اور اس طرح سے اہمیت دی جاسکتی ہے اس طرح اگر کسی کا دل ٹوٹتا ہے تو ٹوٹا کرے ہمارے پاس آپ ﷺ کا اسوہ حسنہ موجود ہے ۔ اس لیے ان ساری باتوں کا انسداد کردیا اور آپ ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اس طرح آپ ﷺ نے جو اپنی بعض ازواج کی خاطر ایک ایسی چیز کو اپنے اوپر منع کرلیا ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے اور نہ کسی دوسرے کے لیے منع کیا ہے اور یہ بھی کہ بعض ازواج کو بعض پر وہ اہمیت دے دی گئی ہے جہاں کوئی اہمیت کی بات نہیں تھی۔ اس لیے آپ ﷺ کو اس بابت رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے آپ ﷺ اس چیز کو بخوشی استعمال کریں اور آئندہ محتاط رہیں اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے ۔ آپ ﷺ کے اس طرح کہہ دینے کی بات کو اس نے پیشگی معاف کردیا ہے۔
ب۔ آپ ﷺ نے ایک چیز کو جس کو آپ ﷺ مرغوب جانتے تھے اور آپ ﷺ کی طبیعت کو بھی اس سے قطعاً انکار نہیں تھا محض اپنی ازواج میں سے کسی ایک یا دو کے کہنے پر اپنے اوپر منع کرلیا اس طرح کسی شرعی حلت و حرمت میں آپ ﷺ نے کوئی مداخلت نہیں کی محض آپ ﷺ کے رک جانے کے لیے ( تحرم) کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔
ج ۔ آپ ﷺ نے اس معاملہ میں کوئی قسم وغیرہ نہیں اٹھائی تھی جس کے ازالہ کے لیے اللہ تعالیٰ نے دوسری آیت میں عام حکم نازل کردیا اور نہ ہی آپ ﷺ کے کفارہ ادا کرنے کا کوئی ذکر کسی روایت و حدیث میں موجود ہے ، بلکہ آیت دوم کا حکم ایک بالکل الگ حکم ہے بلکہ ایک دیئے گئے حکم کی وضاحت ہے اور قرآن کریم اس طرح کی یاددہانیاں عام طور پر کراتا رہتا ہے جن روایات میں آپ ﷺ کے قسم کھانے کا ذکر کیا گیا ہے وہ محض اس آیت سے استدلالاً کہا گیا ہے اس لیے کسی روایت و حدیث میں آپ ﷺ کے کفارہ ادا کرنے کا ذکر نہیں آیا۔
آیت اول میں آپ ﷺ کو بالکل اسی طرح کا حکم دیا گیا ہے جس طرح کا حکم سورة المائدہ میں عام مسلمانوں کو مخاطب کر کے دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد الٰہی ہے کہ ( یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا) ( 5 : 57) حالانکہ یہ بات سب کو معلوم ہے کہ اس سے مراد مسلمانوں کو ہدایت دینا ہے کہ تم یہودیوں اور عیسائیوں کے راہبوں کی طرح اپنے نفسوں کو دنیوی لذتوں سے مت روکو بلکہ اللہ نے جو حلال و طیب مال تم کو دیا ہے اس کو کھائو پیئو۔
ہ۔ آیت اول کا مضمون آیت دوم کے مضمون سے بالکل جدا ہے ۔ آپ ﷺ کو بات سمجھانے کے لیے عام مسلمانوں کو مخاطب کرے بات کرنے کی کوئی مثال قرآن کریم میں اور کسی صحیح حدیث میں نہیں ہے اور نہ ہی جائز اور درست ہے ۔ کسی وزیر تعلیم (Education Minster) کا سیکرٹری تعلیم (Education Secratry) کو مخاطب کر کے کسی پروفیسر (Professor) صاحب کی غلطی کے متعلق کچھ کہا جاسکتا ہے لیکن کسی پروفیسر کو مخاطب کر کے سیکرٹری تعلیم کی غلطی کی بات کرنا طنز میں آئے گا جو کسی حال میں درست نہیں ہے اور نہ ہی اس کو کوئی درست کہے گا بلکہ یہ بات خود وزیر تعلیم کی شان (Status) کے خلاف ہے۔
و۔ اسلام بڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی غلطیوں ہی سے نہیں بلکہ بڑے بڑے لوگوں کی معمولی معمولی لغزشوں کو پکڑنے کا درس دیتا ہے اس لیے خطائے بزرگاں گرفتن خطا است کا محاورہ بالکل سطح زمین کی ایجاد ہے۔ معاشرہ کی اصلاح اسی طرح ممکن ہے کہ ہر بڑے بڑے لوگوں کی معمولی معمولی غلطوں کو بڑا سمجھ کر بڑوں کے بڑے تادیبی کارروائی کریں۔
ذ۔ آیت دو کا مضمون محض اپنی اہمیت کے لحاظ سے اس جگہ بیان ہوا ہے ۔ یہ فطری چیز ہے کہ جب کسی اہم واقعہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو وہاں دوسرے اہم واقعات بھی بیان کردیئے جاتے ہیں جن سے مقصود محض بیان کو تقویت دیتا ہے نہ کہ ان کا آپس میں جوڑ ملانا ہے ۔ آج ایک اہم واقعہ رونما ہوگیا تو اس کا ذکر کرتے ہوئے کسی گزشتہ اہم واقعہ کو بیان کردیا اس طرح کی مثالیں بھی قرآن کریم میں عام ہیں اور احادیث میں ، تاریخ میں بھی اور آج بھی ہماری زبان میں عام ہیں لیکن ان کا آپس میں اگر کوئی تعلق قائم ہوتا ہے تو محض یہی کہ ایک واقعہ کی اہمیت کے پیش نظر دوسرا واقعہ بیان کردیا گیا اور اس کو سب لوگ سمجھتے اور جانتے ہیں اور یہ عام ہے ۔
ح۔ ایمان والوں کو ان کی قسموں سے نکلنے کا جو طریقہ بتایا گیا ہے اس کو کسی حیلہ پر محمول نہ کیا جائے بلکہ یہ ایک قانون ہے جس کی وضاحت سورة المائدہ کی آیت 89 میں کردی گئی اور اس کی وضاحت عروۃ الوثقیٰ جلد سوم میں محولہ حوالہ میں ملے گی۔
ط۔ زیر نظر آیت نمبر 2 میں جو اس کی وضاحت فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایمان والوں کا دوست ہے اور ایمان والوں کے معاشرہ کی اصلاح چاہتا ہے تاکہ اس اصلاح شدہ معاشرہ کی مثال دی جاسکے اور بلا شبہ جب یہ معاشرہ قائم ہوا تھا اس وقت وہ مثالی ہی تھا جس کی مثالیں آج تک جا رہی ہیں اپنے تو اپنے غیر بھی کہیں ان کا ذکر کردیتے ہیں ۔ وہ واقعہ اس طرح ہے کہ :
” ایک آدمی نے دوسرے سے زمین کا ایک ٹکڑا خریدا ۔ کچھ عرصہ کے بعد جب وہ اس زمین کو اپنی کسی ضرورت کے لیے کھود رہا تھا تو اس میں سے ایک خزانہ نکل آیا ۔ اس نے اس خزانہ کو بہت آرام کے ساتھ نکلا اور اٹھا کر اس شخص کے پاس لے گیا جس سے زمین کا وہ ٹکڑا خریدا تھا۔ اس کے سامنے خزانہ پیش کرتے ہوئے عرض کی کہ بھائی یہ اپنا خزانہ لے لو یہ تمہارا ہے میں نے آپ سے زمین خریدی تھی ، یہ خزانہ نہیں ھ خریدا تھا۔ اس نے کہا کہ بھائی ! یہ آپ کو مبارک ہو میں نے جب زمین دی تھی تو اس وقت اگر مجھے معلوم ہوتا تو میں کیوں فروخت کرتا ، جب میں نے فروخت کردی تو اب جو کچھ اس میں ہے سب آپ ہی کا ہے میں اس کو نہیں لے سکتا ۔ ان کے ہاں یہ ایک ایسا قضیہ کھڑا ہوا کہ دونوں اپنے اپنے مؤقف پر بضد ہوگئے اور دونوں مل کر ایک ثالث کے ہاں گئے ۔ ثالث نے بات سنی تو اس پر حقیقت واضح ہوگئی کہ دونوں بہت ہی مخلص ہیں اس لیے اخلاص کو دونوں نہیں چھوڑیں گے۔ اس نے ان سے پوچھا کہ آپ کے ہاں کوئی اولاد ہے تو ایک نے لڑکی اور دوسرے نے لڑکا بتایا ۔ ثالث نے کہا کہ اگر میری بات مانو تو ان دونوں کو رشتہ ازدواج میں منسلک کر کے دونوں کو خزانہ سپرد کر دو اور صلح و آتشی کے ساتھ رہنے کی تلقین کروچنانچہ یہی صورت انہوں نے اختیار کی ۔ ( بخاری و مسلم) مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے یہ مثال ایک ہندو کے مضمون میں پڑھی تھی لیکن اس وقت وہ مستحضر نہیں ہے۔
ی۔ زیر نظر آیت میں جو ایمان والوں کو مخاطب کر کے ان کو اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے ان میں تمام مرد اور عورتیں شمار ہیں اور جس طرح دوسرے سارے مسلمان شمار کیے گئے ہیں اسی طرح آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ بھی اسی ضمن میں آتی ہیں ، ان کے درمیان کوئی اس طرح کی بات واقعہ ہوئی تو یہ بھی عین ممکن ہے اور اسی طرح لکم ایمانکم مونسکم میں جو ضمائر جمع مذکر حاضر استعمال کی گئی ہیں ان میں بہر حال سب شمار ہیں اور جس طرح دوسروں کے لیے یہ حکم عام ہے اس عام میں حکم میں وہ سب داخل ہیں اور یہ ہدایت سب کے لے برابر ایک جیسی ہے اور اسی نسبت سے اس کا ذکر سورة المائدہ میں گزر چکا ہے جیسا کہ اوپر ہم نے ان کا حوالہ بھی دیا ہے ۔ ایک نظر سورة المائدہ کی آیت 89 پر بھی دوڑا لیں ۔ ان شاء اللہ مفید مطلب رہے گی۔
ک۔ آنے والی آیت 3 کے مضمون کا تعلق پھر نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس سے ہے لیکن اس مضمون کا آیت اول سے کوئی ربط نہیں ہے ۔ الایہ کہ وہ بھی آپ ﷺ ہی کی ذات کا ایک واقعہ ہے اور یہ بھی ۔ اس میں ہماری زندگی کے لیے بہت سے اسباق مخفی ہیں اور اس کی تفصیل میں ہماری معاشرتی زندگی کے لیے ان گنت رہنمائیاں پائی جاتی ہیں جن میں سے بعض کا ذکر ہم ان شاء اللہ العزیز آگے کریں گے ۔
Ayahs 66:3–4رسول اللہ ﷺ نے ایک راز کی بات اپنی ایک زوجہ محترمہ سے کی
3 ؎ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی ( اذ) یا ( واذ) وارد ہوا ہے وہاں لفظ (اذکر) محذوف مانا گیا ہے یعنی آپ ﷺ ان سے ذکر کیجئے ، اس وقت کو یاد کیجئے ، آپ خود یاد کیجئے ۔ مختصر یہ یہ کہ سیاق وسباق کے اعتبار سے جیسا موقع ہوگا ویسے معنی مراد لے لیے جائیں گے۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آتی ہے کہ جہاں یہ استعمال ہوا وہاں ایک نئی بات شروع ہوئی اور گزشتہ بات کو اس نے آنے والی بات سے الگ کردیا یوں سمجھیں کہ کوئی بات پہلے بیان کی جا چکی ہو تو اس کی دوبارہ یاد دہانی کرانا مقصود ہو تو اس کا استعمال کرلیا تاکہ اس واقعہ کی ایک الگ حیثیت قائم ہوجائے اور اس بات کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے اور آیت کے شروع ہوتے ہی اس نے ہماری تفہیم کی تصدیق کردی ہے اور آپ بھی اس پر غور کریں گے ان شاء اللہ العزیز آپ کو تسلیم کرنا ہی پڑے گا ۔ ( اذ) جب ، جبکہ ، جس وقت ، چونکہ وغیرہ یہ حرف زمان ہے یا ظرف مکان یاحرف مناجات ہے یا حرف مؤکد۔ ( اذ) کا استعمال فرمان ماضی کے لیے ہوتا ہے یا کم از کم اذ سے زیادہ اس کا استعمال ماضی کے لیے ہوتا ہے یعنی کسی گزشتہ واقعہ کی طرف توجہ دلانے کے لیے اور ( اذا) کا بیان بھی اس کے قریب قریب ہی ہے ، فرق ہے تو یہی کہ (اذا) کا استعمال زیادہ تر مستقبل کے لیے ہوتا ہے اور ماضی کے لیے بہت کم ۔ اور اس کا استعمال عام ہے آپ کہیں سے بھی قرآن کریم کھول لیں اور کسی رکوع کا مطالعہ کریں ( اذ) اور ( اذا) بہر حال مل جائے گا ۔ سورة البقرہ کی آیات میں ( اذ نجینکم) (2 : 49) ( واذا قرقنا) (2 : 50) ( واذوعدنا) (2 : 51) (واذاتینا موسیٰ الکتب) (2 : 53) (واذ قال موی) (2 : 54) (واذ قلتم) (2 : 55) (واذ قلنا ادخلوا) (2 : 58) (واذاستسقی) (2 : 60) (واذ قلتم) (2 : 62) (واذا خذنا) (2 : 63) (واذقال موسی) (2 : 67) (واذقتلتم نفسا) (2 : 72) غور کرو ( واذ) کس طرح ان سارے واقعات کو ایک دوسرے سے الگ الگ بیان کرتا جاتا ہے حالانکہ یہ آیات کریمات برابر برار جارہی ہیں ۔ بہر حال تسلیم کرو یا نہ کرو ان واقعات پر ایک نگاہ ڈال لو اور ہم کو کہہ لینے دو کہ یہ واقعہ گزشتہ واقعہ سے بالکل الگ ہے اگرچہ پہلی بات بھی آپ ﷺ کے متعلق ہے اور یہ بات بھی جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے ۔
” اور اس وقت کو یاد کرو جب پیغمبر اسلام نے اپنی بعض بیویوں سے ایک راز کی بات کہی “ ( اسر) کا معنی ہم نے ” راز “ کیا ہے ۔ وہ راز کی بات اللہ نے بیان نہیں فرمائی اور ہمارے مفسرین نے اسی پر سارا زور بیان صرف کیا ہے اور کسی نے کوئی راز اور کسی نے کوئی راز نکال کر باہر رکھ دیا ہے کہ اللہ میاں نہ بتانا چاہے تو کیا ہم اس کو چھپا رہنے دیں گے ؟ ہم گزارش کرتے ہیں کہ جس بات کو اللہ تعالیٰ نے ظاہر کرنا نہیں چاہا ہم اس کے کھوج میں بہر حال نہیں نکلیں گے ہم کو چاہے جو کچھ بھی کوئی کہے وہ کہتا رہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کی زوجہ محترمہ کے درمیان وہ راز کی بات ہے جو بھی ہے اس لیے ہم کو ہرگز ہرگز اس کا حق نہیں پہنچتا کہ اس کی ٹوہ کریں اور ٹوہ کرنے والوں کو بھی ہم اچھا نہیں کہیں گے ۔ مراد ہماری یہ ہے کہ ان کے اس فعل کو اچھا نہیں سمجھتے کیونکہ ٹوہ کسی عام آدمی کی بھی صحیح نہیں ہے ۔ چہ جائیکہ ہم پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کی زوجہ محترمہ ؓ کے مابین کسی راز کی ٹوہ میں لگ جائیں ۔ خام بد ہن کہ میں کوئی ایسی بات کہوں ۔ ( نبات) واحد مؤنث غائب ماضی (تنبیہ) مصدر۔ اس عورت نے اطلاح دی ۔ اس عورت نے خبر دی ۔ قرآن کریم نے پھر اس کی وضاحت نہیں فرمائی کہ وہ خبر کس کو دی لیکن عقل و فکر خود کہتی ہے کہ وہ راز کی بات جس کے متعلق تھی اس کو بتا دی اور ظاہر ہے کہ اس میں بھی ہمارے لیے وہی حکم ہے کہ جس بات کو اللہ نے مخفی رکھا ہمیں اس کے پیچھے پڑنے کی ضرورت نہیں اور نہ ہی اس کے پیچھے پڑنے سے ہمارا کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس وقت غیر متعلقین کا کوئی فائدہ تھا۔ پھر یہ فطری بات ہے کہ کوئی بھی راز کی بات جو کسی سے مخفی رکھی جائے جب اس کو پتہ چل جائے تو اس کے اندر کچھ خیال ضرور پیدا ہوتا ہے چاہے وہ احتراماً کوئی بات نہ کرے اور اس سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی بی بی سے جو بات کی تھی وہ اپنی ہی کسی دوسری بی بی کے بارے میں تھی اور اپنے گھر کی باتیں اپنے ہی گھر کے بعض لوگوں سے کی جائیں اور بعض سے پوشیدہ رکھی جائیں تو اس میں نہ کوئی گناہ کی بات ہے اور نہ ہی اس بات کو برا کہا جاسکتا ہے کیونکہ گھریلو مصلحتوں کو گھر والے ہی سمجھتے ہیں پھر اس کے اندر جو حکمت پوشیدہ ہے کہ آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا ؟ تو حقیقت خود بخود واضح ہوجائے گی کہ اس طرح سے بات کر کے بھول بھیلوں میں ڈالنا مقصود نہیں بلکہ سبق سکھانا اصل مطلوب ہے اور وہ بھی اپنی پوری امت کو جن میں اربوں ، کھربوں انسان آتے ہیں اور اگر وہ اس کی بات عملی طور پر کر کے نہ دکھاتے تو سبق حاصل نہیں ہو سکتا تھا۔ بہر حال آپ کی ان بی بی نے جن سے آپ ﷺ نے راز کی بات کی تھی اس بات کو آگے پہنچا دیا جس کے متعلق راز تھا اس کو اس کے سامنے بیان کردیا ایک طرف تو یہ ہوا اور دوسری طرف یہ ہوا کہ اس بی بی کا بات کو ظاہر کرنا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو بذریعہ وحی اطلاع کردی کہ جو بات آپ ﷺ نے اپنی ایک بی بی سے کسی کے راز کی کہی تھی اس نے وہ راز رازدار تک پہنچا دیا ہے ۔ قرآن کریم کے الفاظ ہیں ( واظھرہ اللہ علیہ) جب رسول اللہ ﷺ کو یہ بات معلوم ہوئی تو ظاہر ہے کہ فطرتاً آپ ﷺ کو ان کی اس حرکت سے ناگواری ہوئی ہوگی ۔ لیکن آپ ﷺ میں جو برداشت تھی وہ سبحان اللہ ! کہ کیا ہی برداشت تھی ۔ آپ ﷺ نے جو بھی محسوس کیا اس کو ظاہر نہیں ہونے دیا بلکہ باتوں ہی باتوں میں اس بی بی کو جتلا دیا کہ تم نے یہ بات جو راز کی تھی آگے پہنچا دی ہے اگرچہ آپ ﷺ نے اشارتا ً فرمایا تھا اور وہ مکمل بات آپ ﷺ نے اس سے نہ کی کہ تم فلاں جگہ اس اس طرح ملیں اور تو نے اس طرح یہ یہ بات اس اس طرح آگے پہنچا دی اور اس کی ضرورت بھی نہیں تھی ۔ یہ ظاہر ہے کہ جب بھی کوئی اس طرح کی بات آگے پہنچاتا ہے تو اس میں کچھ اتار چڑھائو وہ کرجاتا ہے اور پھر خصوصاً گھریلو باتوں میں جن کا تعلق ہی فقط عورتوں سے ہو اور پھر عورتیں بھی وہ جن پر کبھی خفگی کا اظہار نہ ہوا ہو اور وہ ہتھیلی پر پانی کی طرح رکھی گئی ہوں ۔ لاریب ! ان کے درجات بہت بلند ہیں ، ان کا مقام بہت اونچا ہے لیکن آخر وہ نبی کریم ﷺ کی بیویاں ہیں اور آپ ﷺ ان کے خاوند ہیں اور زن و شو کا خاص تعلق ان میں موجود ہے ۔ میاں بیوی کے تعلقات ادب و احترام میں مزاحم نہیں ہوتے اور دونوں کی اپنی اپنی حدود ہیں ۔
آپ ﷺ نے جب اس راز کھول دینے والی بی بی کو اس بات کی خبر دی تو وہ حیران و پریشان ہوگئیں اور کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ کو یہ بات کس نے بتا دی کہ میں نے آپ ﷺ کا راز جس کے متعلق تھا اس کو پہنچا دیا ہے ۔ تو آپ ﷺ نے صاف صاف ارشاد فرما دیا کہ مجھے اس نے بتایا جس کو ہر بات کا علم ہے اور کوئی بات اس سے پوشیدہ نہیں ہے۔
ہمارے مفسرین میں سے بڑے بڑے لوگوں نے اس آیت کے مفہوم انکشاف کیے ہیں ۔ آپ ﷺ کی بیبیوں کے نام نہایت عرق ریزی سے نکالے ہیں کہ آپ ﷺ نے جو راز کی بات کہی تھی وہ فلاں سے کہی تھی اور وہ راز جو تھا وہ فلاں بی بی کے متعلق تھا اور بعض نے اس کے انکشاف میں ابوبکر صدیق و عمر فاروق ؓ کی خلافت کا نام بھی لیا اور پھر ان کے مقابلہ میں مقابلہ کرنے والوں نے حضرت علی ؓ کی خلافت کا ذکر بھی فرمایا ہے اور بعض نے بلا فصل ہونے کا نعرہ بلند کیا ہے اور بعض نے آپ ﷺ کی پرائیویٹ زندگی کے راز اور عورتوں کی باریاں مقرر کرنے اور کسی ایک سے التفات یا ملاقات نہ کرنے کا ذکر بھی کیا ہے اور علاوہ لمبے لمبے قصے اور کہانیاں بھی بیان کی ہیں اور ہم نے اوپر بھی ذکر کیا ہے اور ایک بار پھر بھی عرض کرتے ہیں کہ ہمیں ان باتوں کا کھوج لگانے کی نہ ضرورت ہے اور نہ ہی اپنی اپنی ماں کے بارے میں اس طرح کے انکشافات کسی کو کرتے دیکھا ہے ۔ آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ ہماری مائیں ہیں اور وہ ماریہ قبطیہ ہوں یا صفیہ بنت حیی ، وہ ریحانہ ہوں یا جو یریہ ؓ ۔ کوئی کسی کو لونڈی کہے یا باندی لیکن ہماری بہر حال وہ مائیں ہیں اس لیے ہمیں نہ ان واقعات کی کوئی ضرورت ہے اور نہ ہی امہات المؤمنین کے ناموں کی اور نہ راز کی بات کی کہ کیا تھی ؟ اس کے پیچھے لگنے کی کوئی ضرورت ہے ۔ ہاں ! ہم کو اس آیت سے جو کچھ سبق حاصل ہوتا ہے اس کا ذکر ضرور کریں گے اور وہ اس طرح ہے کہ :
(1) عورت ، عورت ہے خواہ وہ ماں ہو ، بیٹی ہو ، بہن ہو یا بیوی ہو ۔ عورت اور مرد میں جو فطری فرق ہے اس نے یہ بات واضح کردی ہے کہ عورتیں مردوں کے مقابلہ میں راز کی باتیں باتوں ہی باتوں میں کھول دیتی ہیں اور ان کو محسوس بھی نہیں ہوتا کہ میں نے کوئی بات کہہ دی ہے جو مجھے نہیں کہنا چاہئے تھے۔
(2) مرد کے مقابلہ میں عورت جلد مان جانے والی ہے بشرطکیہ اس کو ضدی اور چڑچڑی نہ بنا دیا گیا ہو۔
(3) ایک معمولی بات کو بڑا کرنے میں اور چھوٹی بات کو لمبا کرنے میں مرد کے مقابلہ میں زیادہ حساس ہوتی ہے ۔
(4) عورت مرد کی کمزوری کا ازالہ ہے یہی وجہ ہے کہ وہ مرد کے مقابلہ میں زیادہ کمزور ہے۔
(5) مرد سے وہ اپنی بات منوانے میں مرد کے مقابلہ میں زیادہ مضبوط ہے۔
(6) ناگواری کی باتوں میں اپنی بات کو کم کرنا اور دوسرے کی بات کو بڑھانا اس کے ڈھانچے میں داخل ہے۔
(7) میاں بیوی کے درمیان ایسی باتیں ہوتی ہیں جو دوسروں سے نہیں کہی جا سکتیں پھر دوسروں کو بھی کرید نے کی ضرورت نہیں ہوے۔
(8) اپنی بی بی سے اگر کوئی بات ناگواری کی ہوجائے تو اس کو خاموشی سے برداشت کرنے میں برکت ہے۔
(9) اپنی بی بی سے درشتی کے ساتھ پیش آنا اپنا نقصان آپ کرنا ہے۔
(10) مسلمانوں کو اپنی بیبیوں سے حسن سلوک کرنے کے لیے آپ ﷺ کے حسن سلوک کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔
اگر تم دونوں نے توبہ کرلی تو فبہا اگر تم نے جتھا بندی کی تو اللہ اس کا کار ساز ہے
4 ؎ زیر نظر آیت میں اس بیان کی مکمل تفصیل آگئی ۔ اگر کوئی اس کو سمجھنے کی کوشش کرے گا تو بات روز روشن سے بھی زیادہ واضح ہوجائے گی ۔ ( ان تتوبا الی اللہ) اگر تم دونوں توبہ کرلو تو مناسب ہے ۔ یہ دونوں کون ہیں ؟ ہماری مراد اس کھوج سے نہیں کہ ان کے ناموں کا پتہ چلے اور سارا راز طشت ازبام ہو ۔ ہماری مراد یہ ہے کہ جو بات ابھی تک واضح نہ تھی کہ بعض ازواجہ ۔ عرف بعضہ واعرض عن بعض ، فلما نباھابہ الفاظ سے جو عقدہ حل نہیں ہوا تھا وہ اس لفظ ( تقوبا) نے حل کردیا کہ ان میں سے ایک وہ ہے جس سے رسول اللہ ﷺ نے ایک راز کی بات کی اور دوسری وہ ہے جس کے متعلق بات کی اور یہ بھی واضح ہوگیا کہ جس سے آپ ﷺ نے راز کی بات کی اور جس کے متعلق کی دونوں کی کوئی قدر مشترک موجود ہے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوگیا کہ اصل بات جو بھی تھی وہ اسی کے متعلق تھی جس کے بارے میں آپ ﷺ نے دوسری سے بات کی اور اس دوسری سے بات کرنے میں یہی حکمت پنہاں تھی کہ یہ بات واضح ہوجائے کہ اس کے ساتھ دوسری کون ہے اور آپ ﷺ نے جس کو مخاطب کر کے بات فرمائی وہ وہی تھی جو پہلی کے ساتھ بات چیت میں شریک تھی۔ اب جب یہ ساری باتواضح ہوگئی اور اس حکمت عملی کے تحت ہوگئی جو آپ ﷺ نے اختیار فرمائی تو اب دونوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اطلاع پہنچانا مقصود ہے کہ اگر تم دونوں توبہ کرلو اور جو مطالبہ تم دونوں رسول اللہ ﷺ سے کر رہی ہو اس کو چھوڑ کر سیدھی ہو جائو تو تم دونوں کے دل آپ ﷺ کی طرف مائل ہوجائیں تو فبہا اور اگر تم دونوں نے آپس میں اتحاد کر کے رسول اللہ ﷺ پر چڑھائی کردی یعنی اپنا مطالبہ منوانے کی مزید کوشش شروع کردی تو اچھی طرح سن لو کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ جبریل (علیہ السلام) اور سارے صالح ایمان والے اور ان کے بعد سارے فرشتے اگر تم سمجھتی ہو کہ ان سب کے مقابلہ میں تم اپنے مطالبہ میں کامیاب ہو سکتی ہو تو دوبارہ مطالبہ دہرا کر دیکھ لو کہ اس کا نتیجہ کیا ہوتا ہے ؟ اٹھو اور جلدی کرو تاکہ یہ روز روز کے مطالبات کا معاملہ آج حل ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے بعد انہوں نے اپنے مطالبات کو ایسا ترک کیا کہ پھر کبھی اس طرح کی بات زندگی میں نہیں کی۔
زیر نظر آیت میں ایک لفظ آیا ہے ( صغت ) اور اس کی اصل ص غ ر ہے اور بعض نے اس کا مادہ ص غ ا تحریر کیا ہے جس کے معنی جھکجانے اور مائل ہوجانے کے ہیں ۔ اس طرح ( صغت) کے معنی ہیں وہ جھک پڑی اور مائل ہوگئی ۔ ماضی کا صیغہ واحد مؤنث غائب لیکن یہاں (قلوب) کے فاعل ہونے کی بناء پر صیغہ جمع کے معنی ہوں گے یا عربیت کے لحاظ سے تثنیہ کے معنی میں جو اردو میں بہر حال جمع ہی ہیں یعنی جھک پڑے ، مائل ہوگئے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہارے دل تو پہلے ہی رسول اللہ ﷺ کی طرف مائل ہیں لیکن اس کے باوجود اگر تم آپس میں ایک دوسرے کی مدد کے لے کھڑی ہوگئیں تو پھر ۔۔۔۔ لیکن اس کے بعد انہوں نے اپنے مؤقف میں نرمی اختیار کی ، سختی نہیں جیسا کہ مضمون سے واضح ہے۔ اس بات کی وضاحت اس لیے کرنا پڑی کہ (صفت قلوبکما) کے معنی یہ کرنا کہ ” تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں “ یا ” تمہارے دل رسول اللہ ﷺ کی طرف سے مڑ گئے یا پھرگئے “ ہرگز درست نہیں اور نہ ہی اس طرح کا کوئی تصور درست ہوسکتا ہے۔ عورت کا اپنے خاوند سے اچھے کپڑے ، کھانے یا زیور کا مطالبہ کرنے کا مطلب ایسا غلط لینا ہرگز صحیح نہیں بلکہ یہ تو محبت اور دل لگی کا ایک مشغلہ ہے اگرچہ رسول اللہ ﷺ کو ان کاموں میں مشغول کرنا صحیح نہیں تھا کیونکہ آپ ﷺ کی ذمہ داریاں قومی تھیں تاکہ انفرادی اور یہ بات بیوی کو معلوم تھی
Ayah 66:5تمہارے مطالبات نہ مانتے ہوئے اگر رسول اللہ ﷺ نے تم کو طلاق دے دی تو تمہارا کیا بنے گا ؟
5 ؎ ہاں ! تم ایک بار پھر غور سے سن لو کہ اگر ہمارے رسول ﷺ نے تمہارے مطالبات کے پیش نظر تم سب کی سب کو بھی طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں دے دے گا جو تم سے ہر حال میں بہتر ہوں گی ۔ وہ رسول کی فرمانبردار ہوں گی ۔ وہ سچے دل سے ایمان والیاں ہوں گی ۔ اطاعت شعار ہوں گی ۔ توبہ کرنے والیاں ہوں گی ۔ عبادت گزار ہوں گی ، روزہ رکھنے والیاں ہوں گی ، ان میں ثیبات بھی ہوں گی اور کنواریاں بھی ۔
حقیقت اس کی صرف اور صرف یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو سارے مہاجرین کی حالت جو تھی وہ سب کو معلوم ہے اور یہی حالت خود رسول اللہ ﷺ کی بھی تھی ۔ مدینہ آنے کے بعد بدر میں اور احد میں اگرچہ نقصان بھی ہوا لیکن ساتویں ہجری تک حالات کافی حد تک بدل گئے اور بحمد اللہ جہاد سے مال غنیمت وافر مقدار میں مل جانے کے باعث اور مہاجرین کی تجارت کے باعث مال تجارت سے بہت نفع اہل اسلام کو ہو اور ماشاء اللہ ہر گھر میں ریل پیل ہوگئی اور اس زمانہ تک نبی کریم ﷺ نے بعض حکمت کے تحت 8 ، 9 شادیاں کرلی تھیں ۔ ایک دوسرے کے دیکھا یدکھی جو صورت حال پیدا ہوتی ہے سب کو معلوم ہے۔ جب مال و دولت کی فروانی ہوئی اور عورتوں نے بھی اپنا بنائو سنگھار شروع کردیا اور اسلام نے بھی ایک حد تک عورتوں کے لیے رعایت رکھی تھی جو مسلمان مردوں کے لیے نہیں رکھی گئی تھی اس زمانہ میں رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں بھی کچھ مطالبات شروع ہوگئے بلا شبہ ان کے کچھ وجوہ بھی تھے کہ بعض عورتیں جو رسول اللہ ﷺ کے حبالہ عقد میں آئی تھیں کافی مال اپنے ساتھ لائی تھیں اور ہجرت سے پہلے یا ہجرت کے ما بعد آنے والی عورتوں کے ساتھ یہ سہولت نہیں تھی اس طرح پہلے آنے والیوں کو بعد میں آنے والیوں پر رشک بھی تھا کہ ہم حبالہ عقد میں آ کر اس حالت سے وقت گزار رہی ہیں اور بعد میں آنے والیاں اس طرح حالانکہ آپ کی طرف سے بعد میں آنے والیوں کے ساتھ کوئی خصوصی رعایت روا نہیں رکھی گئی تھی اس طرح سے بہت سے عوارضات اکٹھے ہوگئے اور آپ کی ازواج مطہرات نے آپ سے مطالبات شروع کردیئے ۔ اس جگہ ان ساری باتوں کی تفصیل کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ ہم نے سارے واقعات سورة الاحزاب کی آیات 28 تا 35 کی تفسیر میں جمع کردیئے ہیں اس لیے قارئین سے ہم عرض کریں گے کہ وہ عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة الاحزاب کی آیات محولہ کی طرف رجوع کریں ان کی تفصیل اس جگہ مل جائے گی ۔ اور اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی طرف سے جو جواب ان کو دیا ہے اس کا تفصیلی ذکر بھی وہاں موجود ہے۔ زیر نظر سورت بھی تقریباً اس زمانہ کی ہے اس لیے اس میں اس طرح کے حالات بیان کیے گئے ہیں اور زیر نظر آیت میں بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان عورتوں کو مخاطب کرلیا گیا ہے اور وہاں بھی بتایا گیا ہے اور یہاں بھی کہ بات کو شروع کرنے والی یا دو تھیں لیکن جب سب بیویاں رسول اللہ ﷺ ہی کی تھیں تو جو مطالبہ ایک نے پیش کیا تھا اور دوسری نے اس کی تصدیق کی تھی اور باقی بھی کوئی پیچھے نہیں تھی اس لیے کہ آخر وہ بھی عورتیں تھیں اور آپ ﷺ کو معلوم تھا کہ میں نے جو سلوک ایک سے کرنا ہے وہی سب کے ساتھ کرنا ہے کیونکہ کسی بی بی کے پاس کتنا ہی مال کیوں نہ ہو نان و نفقہ کی ذمہ داری تو بہر حال مرد پر ہوتی ہے اور اسلام کی یہی تعلیم ہے اس لیے جو لباس ایک کو ملے گا وہ سب کو ملے گا ، جو سلوک ایک سے ہوگا وہ سب سے ہوگا اور سب کا مطالبہ ایک ہی جیسا ہوگا ۔ ان حالات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کو مخاطب کر کے کہا جا رہا ہے کہ اگر تمہارے مطالبات اسی طرح جاری رہے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ آپ کو طلاق دے دیں گے تو ہم تم سے ہر حال میں ان کو اچھی عورتیں مہیا کردیں گے جو اس طرح کے مطالبات نہیں کریں گی ۔ رسول اللہ ﷺ کے گھروں میں اگر وہی کچھ زیب وزینت شروع ہوجائے جو عام گھروں میں ہے تو طالب اور مطلوب میں فرق کیا رہ گیا ۔ اور ان عورتوں کے جو اوصاف زیر نظر آیت میں گنوائے گئے یہ اوصاف اگرچہ آنے والی عورتوں کے بتائے گئے ہیں اور دراصل یہ مطالبہ ہے ان بیبیوں سے کہ تم کو ان اوصاف کا مظاہرہ کرنا چاہئے اگر تم کو ان حجروں ہی میں وقت گزارنا ہے تو ضروری ہے کہ جاہلیت کی سی زیب وزینت کی بجائے درس و تدریس کا عمل جاری ہو اور مسلمان عورتوں کی ترتیب کے یہ گھر درسگاہ بنیں اور یہاں سے سادگی کی تعلیم ان کو دی جائے اور خصوصاً خاوندوں کے ساتھ نہایت حسن و سلوک سے رہنا ان کو سکھایا جائے اس لیے کہ ہر جاندار کے حالات ایک جیسے نہیں ہوتے اس دھرتی میں جہاں مالداروں کو رہنا ہے وہاں غریبوں کو بھی وقت گزارنا ہے اگر غریب بھی وہی کچھ کھائیں اور اس طرح رہیں جس طرح امراء کھاتے پیتے اور رہتے ہیں تو غریب کو آخر غیب کیسے کہا جائے گا ۔ اسلام کا فلسفہ حیات تو یہ ہے کہ ہر انسان کو کھانے کے لیے روٹی ، پہننے کے لیے کپڑا اور رہنے کے لیے مکان مل جائے لیکن یہ بات تو کبھی بھی نہیں ہو سکتی کہ سب کے پاس ایک ہی جیسے گھر ہوں اور ایک ہی جیسا کھانا کھائیں اور ایک ہی طرح کا لباس پہنیں۔ ہاں ! اس سلسلہ میں دنیا میں رہ کر جب عمل ایک جیسا نہیں ہو سکتا تو برابری کا مطلب بھی یہ نہیں ہے کہ سب کا کھانا پینا ، رہنا سہنا ایک ہی طرح کا ہو ۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ اس بات کی متقاضی نہیں ہیں کہ ان کے گھروں کی زندگی میں اس طرح کی فراوانی آئے کہ غریبوں کو دیکھ کر دکھ ہونے لگے اور وہ اپنی غربت پر کڑھنے لگیں۔
اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوب تلقین کی گئی اور بحمد اللہ کسی ایک عورت نے بھی خواہ وہ کنواری آئی تھی یا ثیب اور خواہ وہ مال دار آئی یا نادار ، وہ کسی غریب خاندان کی تھی یا شاہی خاندان سے اس کا تعلق تھا اس آیت کے آنے کے بعد کسی نے کوئی مطالبہ نہیں کیا وہ بحمد اللہ پہلے بھی مسلمات و مومنات تھیں اور اب ان ہدایات کے آنے کے بعد ان پر مزید بہت گہرا اثر ہوا اور پھر کسی نے کسی طرح کا کوئی مطالبہ آپ ﷺ سے نہیں کیا ۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ باوجود اس کے کہ اس وقت کے مدینہ کے بادشاہ تھے اور یہ بھی کہ بحمد اللہ خزانے میں یعنی بیت المال میں مال کی فروانی تھی اور آپ ﷺ ہر طرف لوگوں کو مال تقسیم کرنے میں لگے رہتے تھے چونکہ آرڈر (Order) آپ ﷺ ہی کی طرف سے ہوتا تھا لہٰذا عورتوں کو یہ خیال ہو چلا تھا کہ ہم جب لوگوں کو اس قدر لٹا رہے ہیں تو ہمارا اپنا بھی اس میں بہر حال حق ہے لیکن ان کی یہ تفہیم ہونا باقی تھی کہ یہ قوم کا مال ہے۔ بیت المال میں جمع ہونے والے مال سے آپ ﷺ کی ذات کا کیا تعلق ہے۔ لیکن یہ بات بھی تو آخر آپ ﷺ ہی جانتے تھے ابھی دوسروں کے علم میں یہ بات نہ آئی تھی کہ اس میں آپ ﷺ نے اپنا حق محض قوت لا یموت ٹھہرا دیا ہے۔ اگر وہ بات ہوتی جو دوسرے بادشاہوں کے ہاں ہوتی تو آپ ﷺ میں اور ان میں فرق کیا رہتا ؟ آپ ﷺ اللہ کے رسول تھے اور آپ ﷺ اس وقت کے لوگوں کے لیے اور رہتی دنیا تک کے آنے والوں کے لیے روشنی کا مینار تھے۔ سب نے آپ ﷺ ہی سے روشنی حاصل کرنا تھی اور آپ ﷺ اس دنیا سے فقیر ہو کر جانا چاہتے تھے نہ شہنشاہ ہو کر ۔ آپ ﷺ نے دنیا والوں کو یہ درس دیا تھا کہ جس ملک کے خزانہ میں مال و دولت ہو اس ملک کے بادشاہ کے پاس خواہ چند کوڑیاں بھی نہ ہوں اس ملک کا سکہ دنیا مانتی ہے لیکن جس ملک کے اندر اربوں پتی لوگ ہوں اور سارے کے سارے ہی شہنشاہ بنے بےٹھٓ ہوں ، جن کے ذاتی مالوں سے دنیا کے بینک بھرے پڑے ہوں لیکن اس ملک کے خزانہ میں ایک کوڑی بھی نہ ہو اس ملک کے رہنے والوں کو کوئی بھی گھاس ڈالنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور اس کی طاقت کو کوئی بھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا اور نہ ہی اس ملک کو طاقتور ملک کہا جاسکتا ہے۔ دور جانے کی ضرورت نہیں آپ اس وقت اپنے ملک عزیز کی حالت پر غور کرلیں کہ اس ملک کے اندر رہنے والے لوگ ہیں کہ اگر ان میں سے کسی ایک کے ہاتھ اس ملک کے سارے محکمے فروخت کردیئے جائیں تو وہ اس ملک کے سارے محکمے بیک وقت خریدنے کے لیے تیار ہیں لنک ملک کے خزانے کی یہ حالت ہے کہ وہاں ملازموں کو دینے کے لیے تنخواہ تک موجود نہیں ہے اور سارا گزرارہ اور ملک کا سارا نظام کا سہ گدائی پر چل رہا ہے اور پھر تعجب ہے کہ گدا گر کون ہیں ۔ وہی کھربوں پتی اور وہ جب کشکول ہاتھ میں پکڑ کر غیروں کے دروازے پر جاتے ہیں تو وہ ان کو دیکھتے ہیں اور ہنس کر رہ جاتے ہیں کہ ان لوگوں کی مکاریوں اور عیاریوں کا کیا حال ہے لیکن پھر ان کو بھی خیال آتا ہے کہ اگر ان کا سارا روپیہ ، ان کی ساری دولت حکومت کے خزانہ میں چلی گئی تو آخر اتنے بڑے بڑے لوگ ہم کو سلام کرنے کیسے آئیں گے اس لیے وہ سمجھ کر چلو کہیں یہ لوگ من حیث القوم اٹھ کھڑے ہی نہ ہوجائیں اس لیے وہ ان کے کشکول میں کچھ نہ کچھ ڈال دیتے ہیں لیکن جب وہ اپنے ملک واپس آتے ہیں تو کبھی ان کے دورے کے اخر اجات اور ان کا مانگا ہوا مال برابر برابر نکل آتے ہیں اور کبھی چند ٹکے پڑھ جاتے ہیں تو وہ ملک کے لوگوں میں پھولے نہیں سماتے کہ دیکھو ہم نے کیسا جادو کا کھیل کھیلا ہے کہ تمہاری دال روٹی کا انتظام کچھ تو کر لائے ہیں ۔ ہم سے پہلوں نے اتنا بھی نہیں لیا تھا۔ ہم بات کرتے کرتے ذرا دور نکل گئے ہیں لیکن ہیں تو اپنے ملک کے اندر ہی جہاں سے واپس آنا کوئی زیادہ مشکل نہیں ہے۔
ہم کو معلوم ہے کہ زیر نظر آیت کے تحت ہمارے مفسرین نے رسول اللہ ﷺ کے ایلاء کرنے کی روایات درج کی ہیں اور ایک مہینہ کی قسم کھا کر ایک حجرہ میں بند ہو کر رہ جانے کی باتیں بنائی ہیں اور ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ وہ حجرہ کن بی بی کا مانا گیا ہے۔ اللہ کے فضل و کرم سے ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ آپ کے ایلاء کرنے الے واقعات کو مدینہ میں کس طرح بیان کیا گیا اور پھر کون کون آپ ﷺ کی خبر گیری کرنے کے لیے تشریف لے گئے۔ انہوں نے جاتے ہی آپ ﷺ سے کیا سوال کیا اور آپ ﷺ نے کیا جواب دیا اور پھر کس طرح 29 دن پورے کرنے کے بعد حجرے سے باہر تشریف لے آئے اور باہر آنے کے بعد کس زو وجہ محترمہ نے کیا کیا اور جبریل (علیہ السلام) نے آپ ﷺ کی کس طرح رہنمائی فرمائی ۔ امام بخاری (رح) نے کیا کیا روایات کس کس مقام پر اور کس کس صحابی کی زبان سے کن کن ابواب میں بیان کیں اور دوسرے صحاح میں کیا کچھ بیان ہوا ، ہمارے مفسرین نے ان پر کس طرح جرح کی اور پھر کس کس کو پسند اور ناپسند کیا لیکن ہم ان سب کو اس جگہ جگہ دینے سے معذوری کا اظہار کرتے ہیں ، کیوں ؟ اس لیے کہ قرآن کریم نے اس جگہ کسی ایسی بات کا اشارہ تک نہیں دیا ۔ علاوہ اس کے اس جگہ آیت زیر نظر میں (ان طلقکن) کے الفاظ آئے ہیں اور یہ الفاظ کسی طرح بھی ایلاء کے متحمل نہیں ہیں اور نہ ہی ( ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن) کے الفاظ ایلاء کے متحمل ہیں ۔ ہم روایات احادیث کے متعلق غلط ہونے کا الزام نہیں دے رہے وہ اپنی جگہ صحیح ہوں گی ، ایسے حالات و واقعات ہوئے ہوں گے ، آپ ﷺ نے اسی طرح کی تادیبی کارروائی کی ہوگی وہ سب باتیں اپنی اپنی جگہ صحیح اور درست لیکن بحث تو اس جگہ فقط یہ ہے کہ کیا قرآن کریم کی زیر نظر آیت یا اس سے پہلے کی آیت یا ان پانچ آیتوں میں سے کسی ایک آیت میں اس طرح کا کوئی اشارہ پایا جاتا ہے جس کی تفسیر میں ان روایات و احادیث کو اس کی تشریح میں اس جگہ درج کیا جائے۔ ہم کو کوئی اشارہ اس جگہ ایسا معلوم نہیں ہوا۔ اس لیے ان روایات و احادیث کو اس جگہ درج نہیں کر رہے ہیں اور زیر نظر آیت میں جو حکم آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو سنایا جا رہا ہے اور جو صفات ان کی گنوائی جا رہی ہیں ان میں سے ایک ایک آپ ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ میں بدرجہ اتم موجود تھیں اور تمام کی تمام امہات المومنین ؓ ایک دوسرے سے بڑھ کر مسلمت مومنات قنتت تائبات عابدات اور سائحات تھیں اور ان کی ان تمام صفات کا ذکر عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم سورة الاحزاب کی آیت 35 میں گزر چکا ہے اگرچہ وہاں ان صفات کے حامل مردوں کا بھی ذکر ساتھ ساتھ کیا گیا ہے۔ ہاں ! اتنی بات ہم مزید کہیں گے کہ بخاری و مسلم اور دوسری کتب احادیث میں جب سیدنا عمر ؓ کا ذکر آیا ہے کہ آپ کو ایک انصاری بھائی نے اطلاع دی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق دی ہے تو جلدی میں اپنی بیٹی کے پاس پہنچے اور پھر رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی ۔ آپ ﷺ ایک بالا خانہ میں تشریف فرما تھے۔ عمر ؓ نے پوچھا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا آپ ﷺ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فی البدیہ ارشاد فرمایا کہ نہیں ۔ اسوقت آپ ﷺ نے یہ ارشاد نہیں فرمایا اور کسی ایک جگہ بھی اس طرح کا ارشاد نہیں ملتا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہو کہ میں نے طلاق تو نہیں دی البتہ ایلاء کیا ہے۔ ہرگز ہرگز اس طرح کی کوئی بات کسی حدیث میں اشارتا ً بھی بیان نہیں کی گئی ۔ ایلاء کیا ہے ؟ ( یولون ( جمع مذکر غائب مضارع سے ایلاء مصدر ہے بروزن افعال ۔ عورت کے پاس نہ جانے کی قسم کو کہتے ہیں یعنی جب کوئی مرد اپنی بیوی کے پاس نہ جانے کی قسم کھالے تو اس کو ایسی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کرنا ضروری ہے اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو زیادہ سے زیادہ چار ماہ اس کا انتظار کیا جائے گا پھر اس سے طلاق کا مطالبہ کیا جائے گا کہ یا وہ قسم کا کفارہ ادا کرے یا بیوی کو طلاق دے۔ اس کی تفصیل عروۃ الوثقیٰ جلد اول اور سورة البقرہ کی آیت 326 میں گزر چکی ہے اور قسم کے کفارہ کا ذکر سورة المائدہ کی آیت 89 میں ہے اور سورة المائدہ عروۃ الوثقیٰ کی تیسری جلد میں ملے گی ۔