66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے ، اس پر بڑے سخت مزاج اور زبردست فرشتے (محافظ بنائے گئے) ہیں جو اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو بھی حکم دیا جائے اسے (فوراً ) بجا لاتے ہیں

ایمان والوں کو اپنے اہل و عیال کو آگ دوزخ سے بچانے کی تلقین 6 ؎ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات ؓ کے متعلق جو مؤقف اختیار کیا تھا وہ سو فی صحیح تھا اور اپنی بیویوں کے جن مطالبات کو آپ ﷺ نے رد فرمایا اس کی تصدیق گزشتہ آیات میں تفصیل سے گزر چکی ۔ آپ ﷺ کے نرم رویہ سے بلا شبہ آپ ﷺ کو کچھ تکلیف بھی برداشت کرنا پڑی لیکن جو کچھ ہوا وہ پیار و محبت کے ضمن میں ہوا نہ کہ دشمنی اور کسی شدت مخالفت کے باعث جیسا کہ لوگوں نے سمجھ لیا کیونکہ اپنے اہل و عیال کو دنیا کی زیب وزینت کی طرف سے ہٹا کر سادگی اور دنیا کے شور و شغف سے نفرت دلا کر اس کی طرف جو بغیر بناوٹ نمائش یا تکلف کے ہو مائل کرنا ایک بہترین عمل ہے جس سے دنیا کے سنورنے اور آخرت کے درست ہونے کے امکانات ہیں اور اس کے نتیجے میں آخرت میں چل کر پورا خاندان جنت میں مل کر رہ سکتا ہے اور اگر غور کیا جائے تو انسانوں کے لیے اس سے بڑی سعادت اور کوئی نہیں ہو سکتی ۔ زیر نظر آیت سے اس ذمہ داری سے ہر انسان کو اور خصوصاً ہر مسلمان کو آگاہ کیا جا رہا ہے کہ یاد رکھو تمہاری ذمہ داری صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہے بلکہ اپنے اہل و عیال کو بھی عذاب جہنم سے بچانے کی پوری کوشش کرنا تم پر لازم ہے۔ روایات میں آیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو سیدنا عمر فاروق ؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! اپنے آپ کو دوزخ سے بچانے کا مفہوم سمجھ میں آگیا ۔ ہم اپنے اہل و عیال کو کیونکر دوزخ سے بچا سکتے ہیں اس کا مفہوم سمجھ میں نہیں آیا ۔ ہم اپنے اہل و عیال کو دوزخ سے کیونکر بچا سکتے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : ( حق الولد علی الوالدان یحسن اسمعہ و یعلمہ الکتابۃ ویزوجہ اذا بلغ) ” اولاد کا حق اپنے والد پر یہ ہے کہ جب وہ پیدا ہوں تو ان کے اچھے نام رکھے ، جب وہ بڑے ہوں تو انہیں اچھی تعلیم دے اور جب وہ بالغ ہوں تو ان کی اچھی جگہ شادی کرے “۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ : ( عن عمرو بن شعیب ؓ عن ابیہ عن جدہ قال قال رسول اللہ ﷺ مروا اولاد کم بالصلوٰۃ وھم ابناء سبع سنین واضربوھم علیھا وھم ابناء عشر سنین وفرقوا بینھم فی المضاجع) ( ابو دائود) ” عمرو بن شعیب ؓ اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ لوگو ! اپنی اولاد کو نماز کا حکم دو ، جب وہ سات برس کے ہوں اور پھر ترک نماز پر مارو ، جب وہ دس برس کے ہوں تو ان کے سونے کی جگہ الگ الگ کر دو ۔ مطلب یہ ہے کہ ایک چارپائی پر باریک بستر پر دو کو مت سلائو ۔ اور اختصار اس کا یہ ہے کہ اولاد کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری والدین پر ڈالی گئی ہے اگر وہ اس ذمہ داری کو پورا نہیں کریں گے تو عند اللہ وہ مجرم ٹھہریں گے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ تعلیم و تربیت کا آغاز بچپن سے ہونا چاہئے اس لیے کہ اوائل عمر میں جو سبق دیا جاتا ہے تا دم واپسیں وہ یاد رہتا ہے اور اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ اولاد ابھی جنم لینے والی ہو تو اسی وقت ہی سے بننے والی ماں اور ہونے والے باپ کو سنبھل جانا چاہیے کہ اب اولاد آنے والی ہے کیونکہ اس وقت کی بےاحتیاط حرکتیں اولاد پر مرتب ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور پھر جب اولاد پیدا ہوجائے اگرچہ وہ پیدا ہوتے ہی بولنے نہیں لگ جاتی ، اس طرح بات چیت کرنا شروع نہیں کردیتی ، اس کی عقل و فکر پختہ نہیں ہوتی لیکن ہو کچھ اس کی آنکھیں دیکھتی ہیں اور کان جو کچھ سنتے ہیں وہ ساری باتیں اس کے لا شعور میں محفوظ ہونا شروع ہوجاتی ہیں اور جوں ہی وہ بڑا ہوتا ہے اور قریب بلوغت پہنچتا ہے تو کسی وقت ان کا بٹن بھی آن (on) ہو سکتا ہے اور وہی باتیں نکلنا شروع ہوجاتی ہیں اور یہ بھی ان کی باتوں سے جو کچھ اس کے دماغ کی سکرین (Screen) پر نقش پڑتے ہیں وہ ابھرنا شروع ہوجاتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ جن کے والدین اولاد کے ساتھ ایسی حرکتیں کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ابھی ان کی ان حرکتوں کا احساس نہیں ہوا ان کے بچے جلد ہی واہیات حرکتیں شروع کردیتے ہیں اور یہ باتیں جو ہم عرض کر رہے ہیں تعلیم و تربیت کا عرق اور نچوڑ ہیں ۔ اس طرح جو والدین اپنے بچوں کو اطاعت خداوندی کی طرف راغب نہیں کرتے ان کی اولاد عموماً راہ حق سے بھٹک جایا کرتی ہے اور اس طرح جو والدین بچوں کو پیار کے ساتھ سمجھا کر اس کے سامنے اچھی حرکات کر کے پریکٹیکل (Peractical) کر کے ان کو نہیں بناتے بلکہ ان کو جھڑک کر ، دبا کر ، مار کر ، نہایت سرکشی سے نیکی کی طرف راغب کرنا چاہتے ہیں ان کو جونہی شعور آتا ہے تو وہ والدین سے باغی ہونا شروع ہوجاتے ہیں اور والدین کو والدین نہیں بلکہ ڈکٹیٹر (Dictator) سمجھنے لگتے ہیں اور بلا شبہ اس کے نتائج بھی بہت کم اچھے نکلتے ہیں ۔ جو لوگ اس شعبہ (Psychiatry) سے متعلق ہیں وہ اگر کسی کے باپ کو جانتے ہوں اور پھر بچوں کی حرکات و سکنات باپ کے خلاف پاتے ہوں تو ان کو چاہیے کہ ان کی ماں کے حالات کا جائزہ لیں ۔ دادا ، دادی اور نانا نانی وغیرہ پر خیال دوڑائیں ۔ تو یقینا وہ اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ بچوں میں یہ حرکتیں کہاں سے آئی ہیں ؟ اور اس طرح یہ بھی کہ ماں کی طرف سے آئی ہیں یا باپ کی طرف سے اور یہ بھی کہ ماں کی طرف سے کونسی حرکتیں آئی ہیں اور باپ کی طرف سے کونسی حرکتیں آئی ہیں ۔ کاش کہ ہم اپنی اولاد کی تعلیم و تربیت اسلام کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق کریں اور خود آپ اپنا مطالعہ کر کے جو خلاف اسلام باتیں ہیں ان کو اپنے اندر سے دور کرنے کی کوشش کریں ۔ تعجب ہے کہ ہم کیا کر رہے ہیں کہ خود تو دن بدن بگڑتے چلے جا رہے ہیں اور خواہش کرتے ہیں کہ ہماری اولاد درست ہوجائے۔ کاش ! آج ہم اللہ تعالیٰ کے اس فرمان اور رسول اللہ ﷺ کے ارشادات کی روشنی میں اپنی اولاد کی پرورش کریں اور انہی خطوط پر تعلیم و تربیت کا بندوست کریں تو ہمیں اپنے بچوں اور بچیوں سے بےراہ روی اور آوارہ مزاجی کا شکوہ نہ رہے یا کم از ہوجائے لیکن بدقسمتی سے آج ہمارے مذہبی اداروں میں اخلاقی قدریں باقی نہیں رہیں اور اس سے بڑھ کر ان درسگاہوں میں جو کچھ سکھایا جاتا ہے وہ مخفی گروہی اختلاف ہیں ، جھگڑے ہیں ، چوریوں کا درس دیا جاتا ہے اور بچوں کو آوارہ بنانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتی جاتی اور دوسری درسگاہوں ، کالجوں ، یونیورسٹیوں میں بھی کوئی حکیمانہ اہتمام نہیں رہا بلکہ بد اعتدالیاں باقی رہ گئی ہیں اور ایسے ماحول میں رہ کر کوئی اکا دکا صحیح انسان بھی مل جاتا ہیے تو اس کی اکثریت کے سامنے آخر ویلیو (Value) کیا ہے ؟ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آج ہماری درسگاہیں اور یونیورسٹیاں لا دینی نظریات اور ملحدانہ افکار کی رزم گاہیں بن چکی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ معاشرہ کی وہ حس جس تیزی سے معدوم ہوتی چلی جا رہی ہے جو کسی نازیبا حرکت پر آتش زیرپا ہوجایا کرتی تھی اور ایسا کرنے والے کے خلاف احتجاج کی ایک تند و تیز لہر بن کر ابھرتی تھی ۔ غور کرو کہ آج جب ہمارے قومی اخباروں میں بےراہ رو لڑکیوں کے کردار کو باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم کے تحت اجاگر کیا جاتا ہے اور ان حالات کو ہر لڑکی اور لڑکا بغور پڑھتے ہیں ۔ اس طرح اخبار کھلی خبریں چھاپتے ہیں کہ امریکہ کے صدر بل کلنٹن پر ( جو موجودہ دور کے صدر ہیں) پرچہ درج ہوچکا ہے اور پھر اس زنا کی پوری داستانیں شیطان زادیوں کے مطاب کر کے چھابی جاتی ہیں اور وہ سارے پوز (Style) ٹیلی ویژن پر کا سٹ کیے جاتے ہیں اور چنددنوں کے بعد پھر خبر آتی ہے کہ اس عورت نے عدالت میں بھی اعتراف کرلیا ہے کہ میرے ساتھ کوئی زیادتی نہیں ہوئی بلکہ صدر صاحب مدظلہ العالی نے جو کچھ کیا ہے وہ بالکل میری مرضی سے کیا ہے لہٰذا یہ کوئی غیر مبارک کام نہیں ہے جو اخبارات نے خواہ مخواہ بغیر تحقیق کے لکھ دیا جو کچھ لکھ دیا ہے تو ہماری نوجوان نسل پر بھی اس کے کچھ اثرات مرتب ہو رہے ہیں اس لیے جو کچھ امریکہ کے صدر مدظلہ العالی کے پاس ہے وہ سب کچھ سامان ان کے پاس بھی موجود ہے اور اس طرح وہ تو ایک سرد ملک کے باشندے ہیں اور ہم تو ایک نہایت گرم ملک میں رہ رہے ہیں اور پھر جب ہماری نقالی کی یہ حالت ہے کہ ہم ہر کام یورپ کی نقالی میں کر رہے ہیں اگر سب کے سب نہیں تو ہماری عزت مآب سوسائٹی جس میں اس ملک کے سارے ایم ۔ این ۔ اے ، ایم ۔ پی ۔ اے اور وزراء و صدور تو کم از کم ضرور آتے ہیں اور جو اس ملک عزیز کے سارے نواب ، پیر اور پیرزادے ، صاحب زادے ، سجادہ نشین ، گدی نشنہ ، ساری مذہبی جماعتوں اور سیاسی جماعتوں کے امیر ، لیڈر اور رہنماء ، ملک عزیز کا سارا سرمایہ دار طبقہ اور جاگیردار طبقہ ہمارے ملک عزیز کے زاری ، مزاری ، سردار ، قریشی اور عباسی تو اس زد میں آتے ہیں اور ان سب کو بذاتہٖ ایسے وسائل بھی میسر ہیں جو امریکہ کے ایک صدر کو ہیں ۔ اس کو قارئین مبالغہ نہ سمجھیں ، حقیقت یہ ہے کہ اگر کچھ نہیں ہے تو صرف ہماری حکومت کے خزانے میں کچھ نہیں ہے۔ ان لوگوں کے خزانے فرعون اور قارون کو بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور ان میں سے تو ایک ایک امریکہ کے صدر کی ساری جائیداد کو خرید سکتا ہے اور قیمت بھی پاکستانی روپے میں نہیں بلکہ امریکی ڈالر میں ادا کرسکتا ہے۔ آپ خیال کریں گے کہ ہم اصل موضوع ہے بہت دور نکل گئے ہیں بلا شبہ اصل موضوع سے ذرا ہٹ گئے لیکن ابھی اپنے ہی ملک کے اندر ہیں جہاں سے واپس آنا آسان ہے۔ بات یہ جاری تھی کہ ہم میں ہر ایک مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خود آگ دوزخ سے بچے اور اپنے اہل و عیال کو اس سے بچانے کی پوری پوری سعی و کوشش کرے وہ آگ کہ جس کو معمولی آگ نہ سمجھو کیونکہ یہ موسیٰ (علیہ السلام) کی دور سے دیکھی جانے والی آگ نہیں ہے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی طرح اس آگ کے قریب یا آگ کے اندر جانے والے مبارک نہیں ہو سکتے بلکہ وہ لوگ جو نہایت خسارے میں چلے گئے جس خسارے کے پورے ہونے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ وہ آگ حبل کے اوپر بڑے بڑے تند خو اور سخت مزاج فرشتے بطور دربان مقرر کیے گئے ہیں اور ان کو جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا گیا ہے وہ اس میں ذرا بھر بھی کمی نہیں کرتے اور جن کو جس طرح داخل کرنے کا ان کو حکم دیا جاتا ہے بالکل اسی طرح داخل کرتے ہیں اور وہاں کوئی رشوت خوری کی صورت نہیں ہے اور اس جیل میں ڈالے جانے والوں کے لیے جو درکات ہیں اللہ کرے کہ کسی دشمن کو بھی اس کے قریب نہ لے جائے ۔ یہ ہماری دعا ہے لیکن جو کچھ ہونا ہے اس میں ہماری دعا کیا کرسکتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان دربانوں کو کوئی گریہ وزاری کر کے متاثر نہیں کرسکتا اور نہ ہی کسی کی دھونس و دھاندلی ان کے سامنے چلتی ہے کیونکہ وہ خود غلاظ شداد کی صفتوں سے متصف ہیں اور پھر اس سے بڑھ کر یہ ہے کہ یہ حکم خداوندی کے بہت پابند ہیں اور تعمیل حکم میں کسی طرح کی سستی وہ نہیں کرتے۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے کافرو ! آج کے دن تم بہانے نہ بناؤ ، تم وہی بدلہ پاؤ گے جو تم کیا کرتے تھے

اے کافرو ! آج کے دن تو بہانے مت بنائو تم کو وہی بدلے ملے گا جو تم کرتے رہے 7 ؎ اوپر خود بیان تھا وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے دیا گیا تھا اور زیر نظر کا فرمان کافروں کو مخاطب کر کے سنایا جا رہا ہے کہ تم سارے کے سارے ہی بڑے لوگ ہو جن کا سکہ دنیاوی زندگی میں چلتا تھا اور تم سب کے سب اپنے اپنے علاقہ کے بادشاہ سلامت تھے۔ تمہاری مکاریوں اور عیاریوں کا حال اب کھلا ہے اور اس لیے نہیں کہ تم کو معذرتوں اور عذرداریوں کی درخواستیں دینے کا موقع دیا جائے گا نہیں اور ہرگز نہیں ۔ وہ وقت ابھی اس دنیا کے فنا ہونے کے بعد آئے گا اور پھر آگے گا جب آئے گا اور بلا شبہ وہ کسی کے ٹالے ٹل بھی نہیں جائے گا لیکن ہم تو تم کو اس دنیاوی زندگی میں اس کا پورا نقشہ کھینچ کر بتا رہے ہیں اور یہ بات آج بھی اچھی طرح یاد رکھو کہ وہاں عذر اور مجبوریاں پیش کرنے سے چھٹکارا نہیں ہوگا ۔ اس دن تم کو آج کے کیے ہوئے کرتوتوں کی سزا ضرور ملے گی جو باوجود منع کرنے کے تم برابر کرتے رہے اور ہماری باتوں کا تم نے خوب مذاق اڑایا اور ساتھ ان لوگوں کا بھی جنہوں نے ہماری یہ باتیں تم تک پہنچائیں ۔ بہر حال ابھی سنبھلتے کا وقت ہے اگر سنبھل جائو گے تو خیر ہوگی اور اگر تم نہیں سنبھلو گے تو تمہاری سفارش کے لیے ہمارے ہاں کوئی بھی کھڑا نہیں ہوگا اور کان کھول کر سن لو کہ تمہاری کیا پکڑ سخت ہے کہ جب تم کو پکڑنے والے پکڑیں گے تو اس وقت تمہاری حالت بھی دیدنی ہوگی۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے آگے سچے دل سے توبہ کرلو امید ہے کہ تمہارا رب (معاف کر دے گا) تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جس دن اللہ اپنے نبی کریم ﷺ کو اور ان لوگوں کو جو آپ کے ساتھ ایمان لائے رسوا نہ کرے گا ، ان کا نور ان کے آگے اور ان کی دا ہنی طرف دوڑتا چلا جاتا ہوگا وہ دعا کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے اور ہم کو بخش دے اور بلاشبہ تو ہر بات پر قادر ہے

ایمان والوں ! بارگاہ خداوندی میں سچے دل سے توبہ کرو ، صرف ناموں سے معاملہ نہیں چلے گا 8 ؎ کافروں کو مخاطب کرنے کے بعد مومنوں کی طرف دوبارہ مضمون کو پھیر دیا گیا ہے اور ان کو ان کے عرف کے نام سے یاد کیا گیا ہے کہ اگر تم نے زبان سے جو دعویٰ ایمان کیا ہے صرف اسی زبانی دعویٰ پر انحصار کر کے خالی نام ہی نام پر انحصار کھا تو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ ابھی وقت ہے اور دعویٰ ایمان کے بعد سچے دل سے توبہ کرنے کا دروازہ کھلا ہے اس لے تمہارے حق میں بھی یہی بہتر ہے کہ تم سچے دل سے توبہ کرو ۔ توبۃ توبۃ توبۃ توبہ کرنا ، گناہ سے باز آنا ، توبہ کی توفیق دینا۔ توبہ قبول فرمانا یہ ناب یتوب کا مصدر ہے۔ لازم اور متعدی ہے دونوں طرح سے مستعمل ہے تاب اللہ عل العبد جب بولا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ اور معنی یہی ہوتے ہیں کہ اللہ نے بندہ کو توبہ کی توفیق دی اور تاب العبد کے معنی ہیں بندہ نے توبہ کی جیسا کہ قرآن کریم میں ہے کہ : ( ثم تاب اللہ علیھم لیتوبوا) ( التوبہ : 118) ” پھر ان کو توبہ کی توفیق دی تاکہ وہ توبہ کریں “۔ مختصر یہ کہ توبہ کا لفظ جب علی کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو متعدی ہوتا ہے اور مہربان ہونے اور توفیق دینے کے معنی ہوتے ہیں اور بغیر علی کے آتا ہے تو لازم ہوتا ہے اور توبہ کرنے کے معنی ہوتے ہیں ۔ گناہ کے یا حسن وجوہ چھوڑ دینے کا نام توبہ ہے۔ یہ معذرت کی سب سے اچھی شکل ہے کیونکہ معذرت کی تین ہی صورتیں ہیں۔ (1) عذر بیان کرنے والا یوں کہے گا کہ میں نے کیا ہی نہیں۔ (2) یہ بیان کرے گا کہ میں نے اس وجہ سے کیا ۔ (3) میں نے جو کیا وہ برا کیا اور میں باز آیا ۔ علاوہ ازیں کوئی چوتھی صورت نہیں ہے اور یہ آخری تیسری صورت جو ہے وہ توبہ ہے اور شریعت میں توبہ کا جو مفہوم ہے وہ اس طرح ہے : (1) گناہ کو برا سمجھ کر خود ہی چھوڑ دینا (2) جو کچھ غلطی ہوگئی اس پر نادم و شرمندہ ہونا (3) دوبارہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرنا ۔ (4) جن اعمال کا اعادہ کے ذریعہ تدارک ہو سکتا ہے ان کا جہاں تک ممکن ہو تدراک کرنا ۔ جب یہ چاروں باتیں پوری ہوں گی یا جمع ہوں گی تب توبہ کی شرطیں پوری ہوں گی “۔ ( امام راغب اصفہانی) خیال رہے کہ اگر حق العبد ہے تو اس کا تدراک ادا کرنے سے ہوگا اور اگر حق اللہ ہے اور قضا شروع ہے تو قضا کرنے سے ورنہ محض توبہ سے ۔ زیر نظر آیت میں جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ ہے ( توبہ نصوحا) اور ( نصوحا) مبالغہ کا صیغہ ہے نصح سے معنی ہیں خالص اور سچی توبہ۔ ایسی سچی توبہ کہ اس کے بعد گناہ کا ارادہ بھی نہ کیا جائے۔ ( بغوی) نصرح مصدر ( فتح) خلوص مراد خلوص ( صادی) لیکن اس لفظ (توبۃ نصوحا) کے متعلق بعض لوگوں نے کچھ قصے بھی گھڑے ہوئے ہیں جن کو دیہاتی ملاں اپنے خطبوں میں سناتے ہیں ۔ ان کی حقیقت اور اصلیت کچھ نہیں ہے وہ ملاں کیا ہے ؟ لال بجھکڑ ہیں اور لال بجھکڑوں کا ایک قصہ ہم اس نام سے پہلے سنا چکے ہیں اگر آپ نے اس تفسیر کا مطالعہ کیا ہے تو یقینا ذہن میں آجائے گا ۔ اس میں ” شاڑ شڑب بڑ شڑ بڑشوں “ کے الفاظ آئے ہیں ۔ اس طرح کسی صاحب نے توبہ کے متعلق جو کہا ہے خوب کہا ہے ؎ توبہ چوں باشد پشیمان آمدن بردر حق نو مسلماں آمدن خدمتے از گرفتنی با نیاز با حقیقت روئے کردن از حجاز اس میں ذہن نشین کرنے کی جو بات ہے وہ یہ ہے کہ گناہوں پر کبھی ندامت اسی وقت ہوتی ہے جب انسان کو گناہ بالکل چھوڑ جاتے ہیں اور کبھی اس لیے افسوس ہوتا ہے کہ گناہ کرنے والے کی صحت گناہ کر کے تباہ ہوجاتی ہے اور صاحب مال لوگوں کا مال تباہ و بربادہو جاتا ہے۔ عزت خاک میں مل جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص ان وجوہات سے اپنے گناہوں پر نادم ہوتا ہے تو اسے توبہ نہیں کہا جائے گا توبہ تو اس وقت ہوگی جب اسے اس بات پر ندامت ہو کہ اس نے اپنے رب کریم کی حکم عدول کی ہے ، اپنے نفس کو خوش کرنے کے لیے اپنے خالق ومالک کو ناراض کردیا ہے حالانکہ اس کو ایسا نہیں کرنا چاہئے تھا اور یہ کہ ایسا کر کے اس نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے۔ (عسی ربکم ان یکفر عنکم سیاتکم) ” امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم سے در گزر کرے گا “ ۔ یہ سچی توبہ کا مآل و نتیجہ بیان کیا جا رہا ہے اگر تم ایسی توبہ کرو گے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے کچھ بعید نہیں ہے کہ وہ تمہارے گناہوں کو معاف کر دے اور تم کو اپنی رحمت و شفقت میں چھپا لے اور اس طرح چھپا لے کہ تمہارے گناہوں کا کسی کو سراغ تک نہ ملے ۔ ذرا غور کرو کہ اگر اللہ نے تمہارے ساتھ یہ معاملہ کیا ہے تو تم کتنے خوش قسمت ہو ۔ اب بھی اگر تم کو توبہ نصیب نہیں ہو رہی تو پھر تمہاری بد بختی کا بھی عالم عجیب ہے کہ جو راز تمہارے اس وقت کھلنے والے ہیں جس وت تم کو پارسا سمجھنے والے تمہارے منہ تکتے رہ جائیں گے کہ یہ ہیں وہ مولانا اور یہ ہیں وہ ہمارے مذہبی رہنما جن کو ہم حضرت العلام کے نام سے یاد کرتے تھے اور جن کی زبان اقدس سے نکل ہوئی بات کو حرف آخر سمجھا کرتے تھے ۔ اور اگر تم سنبھل گئے تو گویا ہم خرماو ہم صواب ہوگئے کہ اس دنیا کا مزہ بھی چکھا اور آخرت کی زندگی کو بھی سنوارنے کا موقع ہاتھ سے نہ گیا اور نتیجہ بہت ہی کامیاب رہا کہ اب باغات ہیں اور تم ہو اور پھر صرف یہی نہیں کہ لو کے سوا وہاں کچھ نہ ہو ، نہیں یہاں تو وہ سب کچھ ہے لیکن وہ لو ہے کہ بالکل نہیں ۔ باغات کیا ہیں ؟ ایسے باغات ہیں کہ دنیا جہاں کے جتنے میوئوں سے تم کو واقفیت تھی جس کا تم نام لو اور جو تم کو مرغوب ہو اور وہ کرو اور سر توڑ کر کھانا شروع کرلو اور جی بھر کر کھائو نہ ان پھلوں میں فضلات ہیں اور نہ ہی کسی طرح کا کوئی دوسرا عیب اور ان باغوں کی تیاری کے لیے نہریں جاری ہیں جو ہر وقت رواں دواں رہتی ہیں کہ چاہو تم جس وقت ان کو باغات سے سینچ لو اور ارادہ کرو گے تو پانی ایسا چلنا شروع ہوگا کہ باغ میں ہریاول ہی ہریاول نظر آئے گی اور سدا ایک ہی جیسا پھل دیں گے۔ پھر یہ دن ہی وہ دن ہے کہ اس دن میں کسی طرح کی کوئی پریشانی نہ رسول اللہ ﷺ کو لا حق ہوگی اور نہ ہی کسی مومن و مسلم کو اور جنت میں جو انعامات پیش کیے جائیں گے ان کی تفصیل پیچھے کئی ایک مقامات پر گزر چکی ہے اور عروۃ الوثقیٰ جلد ششم میں سورة الواقعہ کی تفسیر میں بھی اس کی تفصیل گزر چکی ہے۔ ایک نظر اس پوری سورت پر پھیر لیں اور اگر سورة الرحمن اور الواقعہ دونوں کو ملا کر مطالعہ کریں تو ان شاء اللہ العزیز جنت کا پورا منظر نگاہوں کے سامنے آجائے گا اور اگر ایمان طاقت و قوت کمزور بھی ہے تو ان شاء اللہ طاقتور ہوجائے گی اور جی چاہے گا کہ ان انعامات کو حاصل کرنے کے لیے جو کچھ لٹانا پڑے لٹا دینا مشکل نہیں ہے اور ہم بہر حال لٹا دیں گے۔ رسول اللہ ﷺ پر سچے دل سے ایمان لانے والوں کی حالت کا بیان اس طرح ہوگا کہ ” ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا چلا جاتا ہوگا اور وہ اللہ تعالیٰ سے دعائیں کرتے جاتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارا نور ہمارے لیے مکمل فرما دے اور ہم کو بخش دے۔ بلا شبہ تو ہر بات پر قادر ہے “ اس طرح گویا اہل ایمان میدان حشر میں بالکل ممتازہوں گے اور جس طرف ان کو لے جایا جا رہا ہوگا وہ راستے مکمل طور پر روشن ہوں گے اور اندھیروں کا وہاں نام و نشان بھی نہیں ہوگا یہ تو اس حالت کا بیان ہے جس حالت میں ان کو جنت کی طرف لایا جا رہا ہوگا اور سبحان اللہ کہ وہ سماں کیا ہی سماں ہوگا اور وہ رونق کیا ہی رونق ہوگی جس کی رونق افزوزیوں کے سامنے دنیا کے ان قمقموں اور لائٹوں کی کوئی حقیقت نہیں ہوگی جن کا دو رویہ انتظام کیا جاتا ہے۔ تفصیل اس کی قبل ازیں سورة الحدید کی آیت 12 تا 14 میں گزر چکی ہے اور دنیا کے قمقموں کا ذکر بلا شبہ سورج کو چراغ دکھانے کے متراف ہوگا اس طرح گویا اہل حق کا امتیازی نشان واضح کردیا جس میں ذرا بھر بھی کسی کو اشتباہ نہیں رہتا ۔ سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی کریم ﷺ کافروں اور منافقوں سے جہاد باللسان کیجئے اور ان پر سختی بھی کیجئے (اگر باز نہ آئیں تو) ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ کیسا برا ٹھکانہ ہے

اے پیغمبر اسلام ﷺ ! کفار اور منافقین کے خلاف جہاد جاری رکھو اور ان پر سختی کرو 9 ؎” اے نبی کریم ﷺ کافروں اور منافقوں سے جہاد کیجئے “ جہاد کی مکمل وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ جلد ششم سورة الحج کی آیت 87 میں بیان کرچکے ہیں اور اس کی مکمل وضاحت کردی گئی ہے اور جہاد کی ساری صورتیں بھی وہاں بیان کردی گئی ہیں اس جگہ اتنا بیان کردینا ضروری سمجھتے ہیں کہ ہماری ہاں جہاد بالسیف ہی کو جہاد سمجھا جاتا ہے پھر اس کا جو طریقہ اس وقت رائج ہے اس پر جہاد کا لفظ نہیں بلکہ تخریب کاری زیادہ موزوں نظر آتا ہے۔ لیکن بد قسمتی سے ہماری تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں اس کو محض اپنے پیٹ کی خاطر روا سمجھتی ہیں اور حکومت پاکستان یہ سمجھتی ہے کہ باہر کے تخریب کاروں کا جواب ہم مفت میں دے رے ہیں اور اس طرح سے جو کچھ ہمارا حصہ بنتا ہے وہ ہم کو بھی مل رہا ہے اس لیے یہ دہرا فائدہ اور پھر مفت کا فائدہ چھوڑنے کی کیا ضرورت ہے ؟ اگر مذہبی رہنما مال کھا رہے ہیں تو کیا ہے ہم بھی تو بہت کچھ کھا رہے ہیں جس پر انہوں نے محض اس لیے پردہ ڈال رکھا ہے کہ وہ بھی جہاں تک اس حلال و طیب مال میں شریک ہو سکتے ہیں ہو رہے ہیں اور اس کا کیا جاتا ہے کہ من ترا حاجی بکو یم تو مرا حاجی بکو ۔ نتیجہ اس کا سب کے سامنے ہے اور امریکہ کو جو افغانستان کی جنگ نے پہنچایا ہے اور اس کے بعد یا اس کے ساتھ ساتھ جنگ عراق نے وہ اس کو کبھی نہیں بھول سکتا اور نہ ہی وہ کبھی بھولے گا ۔ وہ اسی طرح کا جہاد ایک بار پھر چاہتا ہے کہ یا تو پاکستان اور ہندوستان میں ہوجائے یا کسی دوسرے دو مسلمان ملکوں میں ۔ نشانہ اس کا کون بنتا ہے ؟ پاکستان اور ہندوستان یا کوئی دوسرا مسلمان ملک اور اس سے جو وہ فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے وہ اس طرح کے فوائد سوچ رہا ہے جس طرح کے پہلے اس نے حاصل کیے ہیں لیکن یہ سنت اللہ کے بالکل خلاف ہے کہ اتنی مدت تک ایک ہی طاقت اپنی طاقت کے گھمنڈ میں مبتلا رہے اور اس طرح کی وہ تخریب کاریاں کرنے کے باوجود دوسروں کو تخریب کار سمجھتی اور کہتی رہے۔ ہم کو معلوم ہے کہ اس نے جو خفت ویت نام میں اٹھائی تھی وہ اس کا بدلہ دوبارہ حاصل کرچکا ہے اور اب تیسری بار اس کو فائدہ حاصل نہیں ہوگا بلکہ وہ سراسر نقصان میں رہے گا بلکہ اپنے پہلے اٹھائے ہوئے فائدوں پر بھی وہ خود لکیر پھیر دے گا اور دنیا دیکھے گی کہ اس کا نشہ کس طرح ہرن ہر تا ہے۔ بلا شبہ اس کی چالیس بہت گہری ہیں لیکن عین ممکن ہے کہ اس وقت وہ جنگ صرف دو ملکوں کی جنگ رکھنے میں کامیاب نہ ہو بلکہ جنگ ساری دنیا میں دما دم مست قلندر کرا دے بادل بن رہے ہیں اور مشرق وسطی کے ممالک اس کی زد میں آئیں یا ہندوستان اور پاکستان کو وہ اندھا بنا دے۔ ویسے بھی بیسویں صدی ختم ہونے میں صرف 2 سال کا عرصہ با قی رہ گیا ہے اور کوئی قوم مسلسل سو سال سے اس طرح کی چالیں چلتی رہے اور پھر بیل اس کو اس طرح کی چالوں کے لیے چھوڑ دیا جائے عقل اس کی تسلیم نہیں کرتی ۔ ہاں ! اگر امریکہ نے کچھ مزید وقت نکالنا ہے تو اس کو اپنا یہ نظریہ بدلنا ہوگا اگر اس نے نظریہ نہ بدلا تو یقینا اس کی حالت بدل کر رہ جائے گی ۔ ہم کو معلوم ہے کہ وہ اس میں جلدی کیوں کر رہا ہے اور اتنی جلدی وہ ایک تیسرا کھیل کیوں کھیلنا چاہتا ہے اس کے زعم میں ہے کہ ہم نے روسیوں کو میدان سے بھگا دیا ہے اور وہ اگر اٹھ کھڑے ہوئے تو پھر ہماری باری ہوگی اس لیے رگڑنے پر رگڑا دھر رگڑا ہی اس کے لیے مفید ہوگا ۔ لیکن یہ بات آپ کو معلوم ہوگی کہ جیتے ہوئے کو جب ہارنا ہوتا ہے تو اس کے ذہن کی سوچ یہی ہوتی ہے جو امریکہ کا ذہن اس وقت سوچ رہا ہے۔ بہر حال یہ باتیں ضمناً اس میں آگئی ہیں کہ جب اس طرح کی بات ہمارے سامنے آتی ہے تو ہم بات کہنے پر مجبور ہوجاتے ہیں کیونکہ سنت اللہ میں جو ہوتا آیا ہے اس کی روشنی میں بات کو چھپا دینا ہمارے بس میں نہیں رہتا ۔ زیر نظر آیت میں جو حکم دیا جا رہا ہے وہ براہ راست نبی کریم ﷺ کو بھی دیا جا رہا ہے اور آپ کے ساتھ عام مسلمانوں کو بھی کہ کافروں اور منافقوں کے ساتھ جنگ کرو اور ان پر سختی بھی کرو کیونکہ یہ جنگ نیزہ کی نوک کی بجائے قلم اور قوت بیان سے جنگ کرنے کا وقت ہے کہ جہاد بالسیف سے جو طاقتیں اور قوتیں دب جاتی ہیں ان کو مزید دبان کے لیے جہادبالسیف سے زیادہ جہاد بالقلم ہی کام کرتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہ لیا جائے کہ ہم جہاد بالسیف سے انکار کر رہے ہیں ۔ نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ ہم صرف یہ کہہ رہے ہیں کہ وہ قوتیں جو جہاد بالسیف سے مرعوب ہوجاتی ہیں ان کے ساتھ جب جہاد بالقلم جاری نہ کیا جائے اور ان کے سامنے حق اور ناحق کا فرق واضح کر کے نہ رکھ دیا جائے تو ان کے سامنے آنے میں زیادہ وقت نہیں لگتا اس کی انتظار میں زیادہ سے زیادہ دو ایک نسل تک ہوتی ہے اور اگر اس کے بعد جہاد بالقلم جاری کردیا جائے تو جہاد بالسیف کئی صدیوں تک مؤخر کیا جاسکتا ہے اور یہ بات عین حکمت الٰہی کے مطابق ہے اور اگر ہر قوم جہاد بالسیف کی طاقت کو کھو نہ بیٹھے تو اس کے اندر کی موت مزید چڑھا جاتی ہے ورنہ کسی دوسری قوم کو موقع دے دیا جاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں منافقوں کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے اور یہ بات ہم پوچھتے میں حق بجانب ہوں گے کہ ہم کو بتایا جائے کہ کونسی جنگ منافقوں اور مسلمانوں کے درمیان لڑی گئی ہے ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ تاریخ کو کنگھال جایئے احادیث کا گہرا مطالعہ کر دیکھئے اور قرآن کریم میں جتنے واقعات آئے ہیں ایک ایک پر نظر ڈال لیجئے آپ کو منافقوں کے ساتھ جہاد بالسیف کی ایک مثال بھی میسر نہیں آئے گی خصوصاً جب قرآن کریم کے تخاطب انداز کو آپ پیش نظر رکھیں گے تو بات مزید واضح ہوجائے گی کیونکہ اس خطاب کے مخاطب خود نبی کریم ﷺ ہیں اور آپ ﷺ کی موجودگی میں بلا ریب منافقین بھی موجود تھے اگرچہ وہ کتنے ہی کم تھے اور پھر ان کی کمی کے پیش نظر جنگ تو مزید لڑنا آسان تھا لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ کی مثال میسر نہیں آئے گی کہ آپ ﷺ نے منافقین مکہ کے خلاف کبھی تلوار اٹھائی ہو اور یہ بات پہلے ہی واضح ہے کہ منافق تو پہلے تلوار کبھی اٹھانے کی ہمت ہی نہیں رکھتا اگر وہ ایسا کرسکتا تو وہ آخر منافق ہی کیوں ہوتا وہ کافر ہی کیوں نہ ہوتا حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے نہایت نازک ترین حالات میں بھی منافقوں پر تلوار نہیں اٹھائی تھی جب کہ ان کی ریشہ دوانیوں سے عالم اسلام میں پریشانیاں لا حق ہوجاتی تھیں ۔ لاریب اس سے منافقوں کا احتساب ہی مراد ہو سکتا ہے اور احتساب اور جہاد بالسیف میں جو فرق ہوتا ہے اس سے تو بچہ بچہ آگاہ ہے بلکہ بعض اوقات کسی ایک منافق کی گردن مارنے کی آپ سے اجازت طلب کی گئی تو بھی آپ نے اجازت نہیں دی حالانکہ اس طرح اجازت کافروں کے مارنے کی آپ نے ایک سے زیادہ بار دی ہے مثال کے طور پر کعب بن اشرف کا قتل ، ابی ابن خلف کا قتل ، سلام بن ابی الحقیق کا قتل ، محمد بن مسلمہ کا قتل ، ابو الحقیق کے دونوں بیٹوں کا قتل وغیرہ وغیرہ اور ہارون کا دوزخ رسید ہوجانا اس سے کون انکار کرسکتا ہے کہ منافق ہوں یا کافر وہ طبعی موت مریں یا مارے جائیں ہر حال میں دوزخ کا ایندھن تو ان کا بنناہی ہے بلکہ دوزخ کا ایندھن بننے میں کافر سے بہت نیچے درجے میں ان منافقوں کو چلایا جانے والا ہے اس سے آخر کس کو انکار ہے۔ گزشتہ آیات میں دو جماعتوں کا برابر برابر ذکر چلتا آ رہا ہے کبھی ایمان والوں کو مخاطب کر کے بات کی جاتی ہے اور کبھی کافروں کو اور اللہ تعالیٰ چونکہ دونوں ہی کا رب ہے اس لیے اس نے ایمان لانے والوں کو بھی واضح کردیا ہے کہ صرف زبانی دعویٰ ایمان سے کچھ حاصل نہیں ہوتا جب تک اس کے ساتھ عمل صالح نہ لگایا جائے اور کافروں کو مخاطب کرکے فرمایا ہے کہ کفر سے باز آ جائو اگر تم باز نہ آئے تو تم سے جو پہلے کافر گزرے ہیں ان کی تاریخ سے آگاہ رہنا کہ انجام کیا ہوتا ہے اس لیے کہ جو انجام ان کا ہوا وہی تمہارا بھی ہوگا اور ایک آدھی بار اس سورت میں کافروں اور مسلمانوں دونوں کی تفہیم کے لیے مثال پیش کی جا رہی ہے اور اسی مضمون پر سورت کو ختم کیا گیا ہے۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی مثال بیان فرماتا ہے دونوں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں پھر دونوں نے ان (نبیوں) کی خیانت کی پھر وہ دونوں (نبی جو ان کے شوہر تھے) اللہ کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ کام نہ آئے ان (عورتوں) کو حکم ملا کہ (تم دونوں) دوزخ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ (دوزخ میں) داخل ہو جاؤ

کافروں کی تفہیم کے لیے دو نبیوں کی بیویوں کی مثال پیش کی جا رہی ہے ، سنو اور سمجھو 10 ؎ موسوم خواہشات آج سے نہیں جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے اس وقت سے اس کے ساتھ چلی آرہی ہیں کہ آدمی کو کرنا کرانا بھی کچھ نہ پڑے اور نتیجہ بھی اس کے حق میں رہے۔ وہ کافر بھی رہے اور جنت کا مالک بھی ہو ۔ دنیا میں بھی وہ اقتدار میں رہے اور آخرت کا سہرا بھی اس کے سر بندھے ۔ اس بات کی وضاحت بار بار کی جا چکی ہے کہ ہر قوم کے مترفین نے وقت کے نبی کو مخاطب کیا اور یہ بات کہی کہ وہ خواہ مخواہ کے ڈر اوے ہم کو مت دو اگر ہم اتنے ہی برے ہوتے جتنا کہ تو ہم کو سمجھتا ہے تو پھر یہ مال و دولت کی ریل پیل ہمارے ہاں کیوں ہوتی ؟ تو نے تو اپنے ماننے والوں کو صرف جنت اور بہشت کے وعدوں پر رکھا ہے اور ہمارے ہاں تو وہ سب کچھ آج بھی موجود ہے اور اس طرح یہ بھی کہ ہم تو پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ آخرت و اخرت کچھ نہیں ہے لیکن اگر آخرت ہوتی بھی تو ہم ہی وہاں بھی جنت میں براجمان ہوں گے کیونکہ وہ بھی تو آخر اس اللہ کی بناء ہوئی ہے بقول تمہارے جس نے اس دنیا کو بنایا ہے اور پھر جب اس دنیا کو اس نے بنا کر ہمارے حوالے کردیا ہے تو آخرت جنت کو ہمارے حوالے کیوں نہیں کرے گا یہ اس طرح کی وہ باتیں بناتے رہے اور اس طرح کی باتیں قریش مکہ نے محمد رسول اللہ ﷺ کو کہیں ان کے اس وہم کو دور کرنے کے لیے مثال دے کر سمجھایا جا رہا ہے کہ جن باتوں پر تم اس طرح کی باتیں بناتے ہو کبھی کہتے ہو کہ اگر جنت تیرے حصے میں آئی تو آخر تو بھی تو ہمارا ہے ہم آپ کے ہاں چل بیٹھیں گے اور ہم کیا تیرے جیسا کریم النفس ہم کو وہاں سے اٹھا دے گا اور کبھی کچھ گیت سنا دیتے ہیں کبھی کوئی اب تم کو ایک مثال دے کر سمجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے اگر تم نے غور کیا تو شاید بات تمہاری سمجھ میں آجائے تم نے بھی نوح (علیہ السلام) کا ذکرسنا ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ اللہ کے نبی و رسول تھے لیکن ان کی بیوی نے جو انہیں کے ساتھ رہی وہی اس کی خوراک اور کھانے پینے کا بندوست کرتے رہے۔ زن و شو کا تعلق قائم ہوا اولاد ہوئی لیکن جب اس کے اعمال اچھے نہ تھے تو نوح (علیہ السلام) اللہ کا نبی اور رسول ہونے کے باوجود اس کے کچھ کام نہ آسکا ۔ اس کو اس دنیا کی زندگی میں بھی لوگوں کے سامنے غرق کر کے رکھ دیا گیا اور آخرت میں بھی اس کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے اور یہی حال لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا تھا۔ یہاں طرح مصرع کے طور پر ایک بات یاد رکھنا چاہئے کہ لوط (علیہ السلام) کی ایک بیوی نے آپ کے ساتھ ہجرت کی تھی وہ ہجرت جو لوط (علیہ السلام) نے اپنے چچا ابراہیم (علیہ السلام) کے ساتھ کی تھی ۔ غالباً اس کی وفات کے بعد لوط (علیہ السلام) نے جس بستی میں اللہ کے حکم سے ڈیرہ لگایا تھا یعنی سدوم اس قوم میں آپ نے شادی کی ہوگی اور اس بستی کے اس کا تعلق تھا۔ لوط (علیہ السلام) کی زوجہ محترمہ ہونے کا شرف تو اس کو حاصل ہوگیا لیکن نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی طرح وہ بھی برابر منافقت سے کام لیتی رہی اور اس نے ہمیشہ اپنے آباء و اجداد کے لوگوں کے طور طریقوں کو پسند کیا ۔ اس طرح گویا نوح اور لوط (علیہ السلام) دونوں اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول ﷺ تھے لیکن جب بیویوں نے ان کی مخالفت کی تو وہ اپنی تعلیم کے خلاف کام کرنے والی بیویوں کے کام نہ آسکے حالانکہ یہ بات تو تم بھی مانتے ہو کہ جتنا نازک اور قریب کا رشتہ بیوی سے ہوتا ہے اتنا قریب اور نزدیک کا راستہ اور کوئی نہیں ہوتا ۔ لیکن اس ساری نزاکت کے باوجود ان کو دوزخ کا ایندھن بنا دیا گیا ۔ پھر تم بتائو کہ جو باتیں تم بتاتے ہو ان باتوں کے لیے آپ کے ساتھ کیا کوئی مثال ہے اور اس طرح قرآن کریم نے سارے رشتے ناطے گزار کر آخر میں یہ بات واضح کردی ہے کہ رشتہ داریاں انسان کو آخرت میں کام نہیں آئیں گی ۔ اس کی مزید وضاحت آگے آنے والی ہے اور آنے والی سورتوں میں مضمون کی مناسبت سے وہاں ان کی تفصیل ذکر کریں گے۔ خیال رہے کہ ان دونوں عورتوں کے ذکر میں ( خانتا) کا لفظ آیا ہے جس نے ان کی خیانت دین کا ذکر کیا ہے لیکن اس کو کفر پر بھی محمول کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو بد کاری اور بےحیائی میں مبتلا کہا جاسکتا ہے۔ ہمارے خیال میں اس خیانت سے اسلامی خیانت مراد ہے۔ گویا عورتیں اسلامی کاموں میں اپنے خاوندوں کی نافرمانی کی مرتکب ہوتی تھیں اور منافقت سے کام لیتی تھیں لیکن اس کے باوجود اللہ کے نبیوں نے ان سے وقت گزارا اور دنیاوی زندگی کا سارا راہ و رسم ان کے ساتھ جائز اور روا رکھا ۔ جس میں آج ہمارے لیے بہت بڑی رہنمائی ہے اگر ہم ایسی باتوں سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہوں۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور (اسی طرح) اللہ ایمان والوں کیلئے فرعون کی بی بی کی مثال بیان فرماتا ہے جب اس نے دعا کی کہ اے میرے رب ! میرے واسطے جنت میں اپنے پاس ایک گھر بنا دے اور مجھ کو فرعون اور اس کے (کافرانہ) عمل سے بچا لے اور مجھ کو (ان) ظالم لوگوں سے نجات دے

ایمان والوں کی ایمانی تقویت کیلئے سیدہ آسیہ اور سیدہ مریم (علیہ السلام) کی مثال موجود ہے 11 ، 12 ؎ فرعون کی بیوی میں مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے ؟ یہی کہ وہ کفر کے استبدادی پنجہ میں جکڑی گئی تھی لیکن اس نے اس کے باوجود ایمان والوں کا ساتھ دیا اور ان حالات میں دیا جن حالات میں مسلمانوں کا ساتھ دینا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا کہ فرعون نے جب بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانے کا حکم دیا تو اس وقت اس کو بہت قلق ہوا لیکن حکومت وقت جو اس کے اپنے گھر میں تھی اس کی سکیموں کا ساتھ نہ دیا بلکہ وہ ایمان والوں کی سکیموں کو اپناتی رہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا نبی اسرائیل میں پیدا ہونے کے باوجود بادشاہی محلات میں پرورش پانا تو یہ سارا کارنامہ اس آسیہ بنت مزاحم کا ہے کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے ساتھ تعلق کے باعث اس نے اس طرح کی ایک سکیم تیار کی جو عین اللہ تعالیٰ کے علم میں موجود تھی اور اس نے جو سکیم تیار کی اللہ تعالیٰ نے اس سے اس کو پروان چڑھا دیا ۔ سکیم کیا تھی ؟ یہی کہ اس طرح جب بچہ وضع ہوا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو خطرہ لا حق ہو اتو وہ اس طرح ایک صندوقچہ تیار کروا کر ایک خاص طریقہ سے اس میں بچہ کو رکھ کر دریا میں چھوڑ دے اور دریا کے اس رخ پر چھوڑے جس رخ پرچھوڑی ہوئی چیز یعنی اس مقام پر جا کر اس نہر میں گر جاتی ہے جو نہر فرعون کے محلات سے گزاری گئی ہے اور پھر اس کو ہماری منتظر جماعت اسی طرح نہر سے نکال کر محل میں آئے کہ کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوگی اور اس طرح موسیٰ (علیہ السلام) جب فرعون کے محل میں پہنچ گیا کہ اس کے زند و رکھنے اور پرورش کے فرائض اپنا لینے کی ذمہ داری کو بھی پورا کروں گی اس طرح گویا ایک خطرہ تو موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں کو پہلے ہی تھا لیکن اس سے بڑا خطرہ مول لینے پر وہ تیار ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی وہ نیک بندی تھی اور جو کچھ کر رہیتی گویا اللہ تعالیٰ ہی کے حکم سے کر رہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے اس کی بنائی ہوئی سکیم کو اپنی سکیم سے تعبیر فرمایا اور یہ بھی کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے موسیٰ (علیہ السلام) کی ماں اور فرعون کی بیوی آسیہ کے دل میں اللہ نے مرقسم کردی اور جب وہ کچھ کہا گیا جو دونوں کے درمیان طے ہوا تھا ایمانی قوت کا ساتھ اللہ تعالیٰ نے دیا اور ان کی سکیم کو حرف بہ حرف پورا کردیا اور اس کو اعزاز دیکھئے کہ اس کی سکیم کو اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف نسبت دی اور اس کا ایک کافر کے گھر میں رہنا اس کے اسلام میں مزاحمت کا باعث نہ ہوا اس جگہ صرف اس کی یہ ایک بات بیان کی گئی اور نہ معلوم اس نے فرعون کو کہاں کہاں لگام دینے کی سکیمیں بنائی ہوں گی اور اس اللہ کی بندی کا وجود مسلمانوں کے لیے یعنی بنی اسرائیل کے لئے کس طرح رحمت کا باعث بنتا رہا ہوگا ۔ دوسری طرف مریم بنت عمران کا حال پڑھو کہ کس طرح اس کی ماں نے جب کہ وہ ابھی ماں کے بطن ہی میں تھیں تو ان کو اللہ کی راہ میں وقف کیے جانے کا اعلان کیا تھا۔ پھر مریم کی ماں کے دل میں یہ بات تھی کہ اللہ مجھے اس بطن سے لڑکا عطا کرے گا لیکن اللہ تعالیٰ کی رضا کہ اس نے مریم کو پیدا کردیا پھر وضع حمل کے بعد بڑی حسرت و یاس کے ساتھ مریم کی ماں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کی کہ میرے اللہ میں نے اس حمل میں جو وضع کیا ہے وہ لڑکی ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے مریم کی ماں کو تسلی دیتے ہوئے کس طرح ارشاد فرمایا کہ اے مریم کی ماں ہمارے علم میں ہے کہ تیرے ہاں لڑکی پیداہوئی اور ہم نے اس لڑکی کو اس شان کا بنایا ہے کہ اس شان و شوکت کا مالک تیرا تجویز کردہ لڑکا بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ تو بےفکر رہ اور اپنی منت کو اللہ کی رضا کے لیے پورا کرو اور مریم نے جو جو کارہائے نمایاں انجام دیئے ہیں وہ سب کے سب میرے علم میں ہیں اور پھر وہی کچھ ہوا جو اللہ تعالیٰ نے مریم کے دل میں پہلے ڈال دیا تھا کہ مریم ایک پارسا والدین کی پارسا بیٹی تھی جنہوں نے اس کو بیت المقدس کی عزت کے لیے وقف کردیا تھا اور وہ ایک عمر تک جو جوانی کی عمر کہلاتی ہے لوگوں سے الگ تھلگ ایک حجرہ میں رہیں اور اللہ تعالیٰ کے ایک نبی و رسول سیدنا ذکریا (علیہ السلام) ان کی پرورش پر مامور رہے ۔ لیکن اس اللہ کی بندی نے باوجود بیت المقدس یعنی اللہ تعالیٰ کے ایک مقدس گھر کی منذورہ ہونے کے قوم کے رسم و رواج کے خلاف بلکہ قوم کے اس بت کو توڑنے کے لیے جو ہیکل کی منذور یا منذورہ ہو شادی نہیں کرسکتے حالانکہ یہ حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ایک یہود کی اختراع تھی انہوں نے پوری قوم کو اس بت کو توڑنے کی ہمت کی اور اللہ تعالیٰ نے ان کو اس طرح کی ہمت عطا کی کہ باوجود ان نامساعد حالات کے یہاں سے ہجرت کر کے دور دراز جگہوں کی طرف اپنے خاوند کے ساتھ نکل گئیں اور انجام کار اللہ نے اس کو ایک ہونے والے نبی کی ماں بنا دیا اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے اس حکم کی اس نے تصدیق کردی کہ جو اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ ہر انسان پاکباز رہنے کے لیے ، پاک بازی کی زندگی گزارنے کے لیے شادی کرے جس طرح آدم (علیہ السلام) سے لے کر محمد رسول اللہ ﷺ تک سارے نبی اور رسول شادی کرتے آئے اور نبیوں اور رسولوں نے اپنے بیٹوں اور بیٹیوں کی شادیاں بھی کی ہیں پھر سیدہ مریم کا ذکر چونکہ پیچھے بار بار گزر چکا ہے اس لیے ہم اس کی تفصیل اس جگہ عرض نہیں کر رہے۔ تا ہم زیر نظر آیت میں جو تین جملے ارشاد فرمائے کہ : ( احصنت فرجھا فنفخنافیہ من زوحنا وصدقت بکلمت ربھا) ( احصنت فرجھا) قرآن کریم میں ہے اور سیدہ مریم کے بارے میں قرآن کریم کے نازل کرنے والے اللہ نے یہ جملہ بولا ہے اور بالکل یہی جملہ صاحب قرآن نے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیٹی فاطمہ ؓ کے لیے استعمال کیا ہے اور وضاحت سے کیا چناچہ ارشاد فرمایا ہے کہ : (ان فاطمۃ الحصنت فرجھا واللہ عزوجل اذخلھا با حصان فرجھا و ذریتھا الجنۃ) مجمع الزوائد ج 6 ص 202 ، کنز العمال ج 6 ص 219 ، طبرانی ، بزار عن عبد اللہ بن مسعود ؓ اور اس کے قریب قریب الفاظ ہیں مستدرک حاکم ج 2 ص 152 ، خصائص کبریٰ ج 4 ص 202 ، رحمۃ المداۃ ص 321) (احصنت فرجھا) اور (محصنات) کے یہی معنی رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائے ہیں ۔ بخاری ص 359 پارہ 28 ، مسلم ص 66 ج 2 ، ابو دائود ص 252 ، ترمذی ص 322 ج 2 ، ابن ماجہ 186 ج 2 ، دارمی ص 303 ، مؤطا امام مالک ج 3 ، مؤطا امام محمد ص 296 ، ام شافعی ص 43 ، ج 6 ، منتقی ابن الجارود ص 373 ، بیہقی ص 211 ج 2) ( فنفخنا فیہ من زوحنا) ای من رحمتنا للعیسی روح اللہ ای رحمۃ للہ پس ہم نے اپنی رحمت اس میں پھونک دی اور ظاہر ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ہی اللہ کی رحمت ہے۔ رہی یہ بات کہ رحمت اللہ نے کس طرح پھونک دی تو اس کے متعلق ارشاد فرمایا کہ : ( فصدقت بکلمت ربھا) مریم نے اللہ تعالیٰ کے کلمہ کی تصدیق کی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی کہ : ( استحللتم فرجھن بکلمۃ اللہ) اللہ تعالیٰ کے حکم سے اہل اسلام شادی کرتے ہیں اور میل ملاپ کرتے ہیں ۔ مرد ہیں یا عورتیں گویا فرمایا جا رہا ہے کہ مریم نے اللہ کے حکم کے مطابق اس کے کلمہ کی عقلی تصدیق کرتے ہوئے شادی کی اگرچہ وہ ان کے رسم و رواج کے خلاف تھی کہ جو لوگ منذور یا منذرہ ہوتے تھے وہ شادی نہیں کرتے تھے۔ تفصیلات اس کی چونکہ عروۃ الوثقیٰ جلد دوم سورة آل عمران کی آیت 1 سے آیت 63 تک مسلسل چلی گئی ہیں پھر جو 78 سے 80 جلد سوم سورة النساء کی آیت 71 تا 174 ، سورة المائدہ کی آیت 109 تا 118 ، جلد پنجم سورة مریم کی آیت 16 تا 27 میں گزر چکی ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں اور اس مضمون پر یعنی سیدہ مریم کی فرمانبرداری کی داستان پر سورة التحریم کو ختم کیا جا رہا ہے۔ رب اغفروارحم وانت خیر الراحمین
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری مثال) مریم بنت عمران کی ہے جس نے اپنے ناموس کی حفاظت کی (یعنی نکاح کیا) پھر ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کو اور اس کی کتابوں کو سچا جانا اور (لوگوں کی پرواہ نہ کی) وہ (مریم) فرمانبرداروں میں سے تھی

تعارف سورت الملک نام سورت :۔ اس سورت کا نام سورة الملک ہے جو اس سورت کی آیت اول سے لیا گیا ہے۔ یہ سورة مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے اس لیے مکی کہلاتی ہے۔ اس سورة کا نزول نمبر 77 سے ہے اور ترتیب نمبر 67 درج کیا گیا ہے۔ اس سورت میں 2 رکوع اور تیس آیات کریمات بیان کی گئی ہیں ۔ اس سورت میں 325 کلمات اور 1350 حروف بیان کیے جاتے ہیں لیکن ہم نے ان کو شمار نہیں کیا بلکہ گزشتہ لوگوں پر انحصار کیا ہے۔ موضوع سورت :۔ مکی سورتوں کا موضوع تقریباً ایک ہی جیسا ہے کہ ان میں توحید الٰہی کا بیان ہوتا ہے ، اس کے بعد دوبارہ زندگی اور جب اٹھنے پر دلائل پیش کیے جاتے ہیں ، اس کے بعد جنت کے انعامات اور دوزخ کے عذاب کا ذکر کر کے لوگوں کو ڈرایا گیا ہے اور یہ تینوں مضمون اس سورت میں پائے جاتے ہیں ۔ اس سورة کی آیت اول سے آیت 5 تک توحید الٰہی کا بیان ہے اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کا بیان ہے اور اس کے حسن تدبیر اور اس کی فرمانروائی کا تذکرہ کیا گیا ہے اور انسان کو بتایا گیا ہے کہ یہ موت وحیات کا سلسلسہ اللہ تعالیٰ نے شروع کیا ہے اور پھر اس سے انسان کی توجہ اس حکمت خداوندی کی طرف موڑ دی گئی ہے کہ اس سے مقصود صرف انسان کا امتحان ہے کہ تم میں کون اپنی زندگی اچھے کاموں بلکہ خوب سے خوب تر کاموں میں لگاتا ہے اور کون شیطان کی پیروی میں لگ جاتا ہے۔ آیت 6 سے آیت 11 تک کفر کے جس ہولناک نتائج کا کفار کو آخرت میں سامنا کرنا پڑے گا اس کا ذکر ہے اور پھر اس بیان کے بعد آیت 12 سے آیت 14 تک خوف رکھنے والوں کے لیے اجر وثواب کا ذکر فرمایا گیا ہے اور اس حقیقت کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے اپنے بندوں کی کوئی بات بھی مخفی نہیں و ہے اور نہ ہی مخفی رکھی جاسکتی ہے بلکہ وہ ہر بات سے خبر رکھنے ولا ہے۔ آیت 15 سے 30 تک اللہ تعالیٰ کی ذات کی توحید پر دلائل آفاقیہ اور عقلیہ بیان کیے گئے ہیں اور بتایا گیا ہے کہ زمین میں اڑنے والے پرندوں یا رزق کے تمام ذرائع اور پانی کی فراہمی وغیرہ یہ تمام چیزیں تمہیں پکار پکار کر بتا رہی ہیں کہ ان کی تخلیق کرنے والا اور ان سے تمہارے لیے آسائشیں فراہم کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے اور کوئی دوسرا نہیں ہے۔ اس سورت کی فضلیت میں بہت کچھ بیان کیا گیا ہے اور اس سورت کے سمجھ سوچ کر پڑھنے والوں کو بہت خوشخبریاں سنائی گئی ہیں اس کے متعلق کتب احادیث میں بہت وضاحت سے بیان کیا گیا ہے اور مختصر یہ کہ ایک روایت میں اس کے متعلق آپ ﷺ کا بیان ہے کہ : ” یہ سورت اللہ تعالیٰ کے عذاب کو روکنے والی ہے اور یہ سورت اپنے پڑھنے والے عذاب قبر سے نجات دلانے والی ہے “۔ ( ترمذی) آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اس سورت کی تلاوت کرتا ہے یعنی سوچ سمجھ کر پڑھتا ہے یہ اس کے لیے قیامت کو سارش کرے گی اور اللہ نے چاہا اس کو بخشش دیا جائے گا ۔ بہت سی روایات میں آیا ہے کہ آپ ﷺ اس سورت کو اکثر پڑھا کرتے تھے اور اس کے ساتھ سورة السجدہ کی تلاوت بھی فرمایا کرتے تھے۔ ایک شخص کو آپ ﷺ نے تحفہ پیش کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس سورت کو پڑھا کرو عذاب الٰہی سے نجات دلانے والی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا مجھے بہت پسند ہے کہ میری امت کا ہر فرد اس کی تلاوت کیا کرے۔ ( ابو دائود)