Explained with ayahs 9–10
تحفظ قانون کے لئے حکم جہاد
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ کافروں سے جہاد کر ہتھیاروں کے ساتھ اور منافقوں سے جہاد کر حدود اللہ جاری کرنے کے ساتھ، ان پر دنیا میں سختی کرو، آخرت میں بھی ان کا ٹھکانا جہنم ہے جو بدترین باز گشت ہے، پھر مثال دے کر سمجھایا کہ کافروں کا مسلمانوں سے ملنا جلنا خلط ملط رہنا انہیں ان کے کفر کے باوجود اللہ کے ہاں کچھ نفع نہیں دے سکتا، دیکھو دو پیغمبروں کی عورتیں حضرت نوح ؑ کی اور حضرت لوط ؑ کی جو ہر وقت ان نبیوں کی صحبت میں رہنے والی اور دن رات ساتھ اٹھنے بیٹھنے والی اور ساتھ ہی کھانے پینے بلکہ سونے جاگنے والی تھیں، لیکن چونکہ ایمان میں ان کی ساتھی نہ تھیں اور…
Read the full tafseer →سورة التَّحْرِيْم 24
یہ خیانت اس معنی میں نہیں ہے کہ وہ بد کاری کی مرتکب ہوئی تھیں بلکہ اس معنی میں ہے کہ انہوں نے ایمان کی راہ میں حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط ؑ کا ساتھ نہ دیا بلکہ ان کے مقابلہ میں دشمنان دین کا ساتھ دیتی رہیں۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں " کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں رہی ہے۔ ان دونوں عورتوں کی خیانت دراصل دین کے معاملہ میں تھی۔ انہوں نے حضرت نوح ؑ اور حضرت لوط علی السلام کا دین قبول نہیں کیا۔ حضرت نوح علی السلام کی بیوی اپنی قوم کے جباروں کو ایمان لانے والوں کی خبریں پہنچایا کرتی تھی۔ اور حضرت لوط ؑ کی بیوی اپنے شوہر کے ہاں آنے والے لوگوں کی اطلاع اپنی قوم کے بد اعمال لوگوں کو دے…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ الآیة آخر سورت میں حق تعالیٰ نے چار عورتوں کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، پہلی دو عورتیں دو پیغمبروں کی بیویاں ہیں جنہوں نے دین کے معاملے میں اپنے شوہروں کی مخالفت کی، کفار و مشرکین کی امداد وموافقت خفیہ کرتی رہیں اس کے نتیجہ میں جہنم میں گئیں، اللہ کے مقبول و برگزیدہ پیغمبروں کی زوجیت بھی ان کو عذاب سے نہ بچا سکی، ان میں ایک حضرت نوح ؑ کی بی بی ہے جن کا نام واغلہ بیان کیا گیا ہے اور دوسری حضرت لوط ؑ کی بی بی جس کا نام والہ کہا گیا ہے (قرطبی) ان کے ناموں میں اور بھی مختلف اقوال ہیں۔ تیسری وہ عورت ہے جو سب سے بڑے کافر خدائی کے مدعی…
Read the full tafseer →(ضرب اللہ مثلاً للذین کفروا امرات نوح و امرات لوط کا نتا تحت عبدین من عبادنا صالحین فخانتھما فلم یغنیا عنھما من اللہ شیا وقیل ادخلا النار مع الداخلین) (10)۔
(آدمی کے کام آنے والے چیز اس کا عمل ہے نہ کہ بڑوں سے نسبت)۔ یہ آخر میں مثال پیش کی ہے اس بات کی اللہ تعالیٰ کے ہاں کام آنے والی چیز آدمی کا اپنا عمل ہے۔ جس کے پاس حسن عمل کی پونجی نہیں ہوگی اس کو کسی بڑے سے بڑے کی نسبت بھی کچھ نفع پہنچانے والی نہیں بن سکے گی۔ فرمایا کہ نوح ؑ اور لوط ؑ کی بیویاں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں لیکن انہوں نے ان کا اسوہ حسنہ اختیار کرنے کے بجائے ان کے ساتھ بےوفائی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ رسولوں کی…
Read the full tafseer →10۔ 1 مثل کا مطلب ہے کسی ایسی حالت کا بیان کرنا جس میں ندرت و غرابت ہوتا کہ اس کے ذریعے سے ایک دوسری حالت کا تعارف ہوجائے جو ندرت و غرابت میں اس کے مماثل ہو مطلب یہ ہوا کہ ان کافروں کے حال کے لیے اللہ نے ایک مثال بیان فرمائی ہے جو نوح اور لوط (علیہما السلام) کی بیوی کی ہے۔
10۔ 2 یہاں خیانت سے مراد ہے کہ یہ اپنے خاوندوں پر ایمان نہیں لائیں نفاق میں مبتلا رہیں اور ان کی ہمدردیاں اپنی کافر قوموں کے ساتھ رہیں چناچہ نوح ؑ کی بیوی، حضرت نوح ؑ کی بابت لوگوں سے کہتی کہ یہ مجنون ہے اور لوط ؑ کی بیوی اپنی قوم کو گھر میں آنے والے مہمانوں کی اطلاع پہنچاتی تھی بعض کہتے ہیں کہ یہ دونوں اپنی قوم کے لوگوں…
Read the full tafseer →11: حضرت نوح ؑ کی بیوی لوگوں سے اپنے مقدس شوہر کو مجنون کہا کرتی تھی، اور حضرت نوح ؑ کے راز ان کے دشمنوں کو بتادیا کرتی تھی، اور حضرت لوط ؑ کی بیوی بھی آپ کے دشمنوں کی مدد کیا کرتی تھی۔ (روح المعانی) یہ مثال دے کر اللہ تعالیٰ متنبہ فرما رہے ہیں کہ کسی قریب ترین رشتہ دار کا ایمان بھی انسان کو فائدہ نہیں دے سکتا جب تک وہ خود ایمان نہ لائے۔
Read the full tafseer →اس کے بعد اب تیسرا دور آتا ہے۔ اس سورت کا یہ آخری دور ہے۔ اور یہ تیسرا دور بھی پہلے کا تکمیلی دور ہے۔ یہ انبیاء کے گھروں میں کافر عورتوں اور کفار کے گھروں میں مومن عورتوں کی بات کرتا ہے۔
ضرب اللہ ................................ من القنتین
حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کے بارے میں جو یہ آیا ہے کہ انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی ، اس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے خاوندوں کی دعوت کے خلاف کام کیا۔ یہ نہ تھا کہ وہ کسی فحاشی کی مرتکب ہوئی تھیں۔ نوح (علیہ السلام) کی بیوی بھی دوسرے مزاح کرنے والوں کے ساتھ اپنے شوہر کے ساتھ مزاح کرتی تھی۔ اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6 یعنی حضرت نوح اور حضرت لوط کیسے نیک بندے، مگر دونوں کے گھر میں ان کی بیویاں منافق تھیں۔ بظاہر ان کے ساتھ تعلق تھا لیکن دل سے کافروں کے شریک حال تھیں۔ پھر کیا ہوا ؟ عام دوزخیوں کے ساتھ ان کو بھی اللہ نے دوزخ میں دھکیل دیا پیغمبروں کا رشتہ، زوجیت ذرا بھی عذاب الٰہی سے نہ بچا سکا۔ ان کے برعکس فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم، پکی ایماندار، ولی کامل، اور اس کا شوہر خدا کا سب سے بڑا باغی۔ وہ نیک بیوی میاں کو خدا کے عذاب سے نہ چھڑا سکی۔ نہ میاں کی شرارت و بغاوت کے جرم میں بیوی کو کچھ آنچ پہنچی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنا ایمان درست کرو۔ نہ خاوند بچا سکے نہ جورو، یہ (قانون عام طور پر)…
Read the full tafseer →ان آیات میں عورتوں کا معاملہ ایک اور پہلو سے زیربحث آ رہا ہے۔ واضح رہے کہ ان دونوں سورتوں الطلاق اور التحریم کی ایک مشترک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ان دونوں میں عورتوں کے معاملات بیان ہوئے ہیں۔ چناچہ اب عورتوں پر واضح کیا جا رہا ہے کہ وہ خود کو اپنے شوہروں کے تابع سمجھتے ہوئے آخرت کے حساب سے نچنت نہ ہوجائیں۔ اسلام میں عورت اور مرد کا درجہ انسان ہونے کی حیثیت سے برابر ہے۔ لہٰذا عورتیں اپنے دین و ایمان اور اعمال و فرائض کی خود ذمہ دار ہیں۔ اگر ان کا ایمان درست ہوگا اور اعمال صالحہ کا پلڑا بھاری ہوگا تبھی نجات کی کوئی صورت بنے گی۔ ان کے شوہر خواہ اللہ کے کتنے ہی برگزیدہ بندے کیوں نہ ہوں اس معاملے میں…
Read the full tafseer →21 یہ خیانت نہ مال کی خیانت تھی اور نہ عصمت کی کیونکہ حدیث میں یہ صراحت موجود ہے کہ کسی نبی کی کوئی بیوی کبھی بدکاری کی مرتکب نہیں ہوئی۔ بلکہ یہ ایمان اور اس کے تقاضوں کی خیانت تھی۔ نبیوں کی راہ اور تھی اور ان بیویوں کی راہ دوسری تھی۔ سیدنا نوح کی بیوی بھی کافر تھی اور اپنے خاوند یعنی سیدنا نوح کو دیوانہ سمجھتی اور کہتی تھی۔ سیدنا لوط کی بیوی کی بھی ساری ہمدردیاں اپنے خاوند کے بجائے کافروں کے ساتھ تھیں۔ کیونکہ وہ انہی کی قوم سے تھی۔ جب کوئی مہمان گھر میں آتا تو وہ اپنے ہمسایوں کو مخبری کردیتی تھی۔
22 یعنی نہ تو ان عورتوں کو پیغمبروں کی بیوی ہونا یا پیغمبروں کی صحبت میں رہنا کچھ فائدہ دے سکا۔…
Read the full tafseer →16۔ (یہ بظاہر کرنے کو کہ کسی صالح یہاں تک کہ پیغمبر سے محض مادی و طبعی تعلق و انتساب بلاایمان اور اپنی سعی اصلاح کے ہرگز کافی ومفید نہیں)
17۔ (اپنے کفر کی پاداش میں) (آیت) ” امرات نوح “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر تو بار بار اور آپ (علیہ السلام) کے نافرمان لڑکے کا ذکر ایک بار پہلے گزر چکا ہے۔ اب یہ معلوم ہوا کہ آپ (علیہ السلام) کی رفیق حیات بھی مومن نہیں بلکہ کافرہ تھی۔ (آیت) ” امرات لوط “۔ حضرت لوط (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ آپ (علیہ السلام) کی ان کافر بیوی کا ذکر بھی دو بار سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) میں آچکا ہے۔ (آیت) ” عبدین من عبادنا صالحین “۔ یعنی وہی حضرت…
Read the full tafseer →ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امرأت نوح (الآیۃ) سورت کے آخری رکوع میں اللہ تعالیٰ نے چار عورتوں کی مثالیں بیان فرمائی ہیں، پہلی دو عورتیں دو پیغمبروں کی بیویاں ہیں جنہوں نے دین کے معاملہ میں اپنے شوہروں کی مخالفت کی جس کے نتیجے میں جہنم میں گئیں، اللہ کے برگزیدہ پیغمبروں کی زوجیت بھی ان کو عذاب سے نہ بچا سکی، ان سے میں ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی جس کا نام واہلہ بیان کیا گیا ہے، دوسری لوط علیہ الصلوٰۃ السلام کی بیوی جس کا نام واعلہ بیان کیا گا ہے (قرطبی) ان کے ناموں میں اور بھی مختلف اقوال ہیں تیسری وہ عورت جو سب سے بڑے کافر خدائی کے مدعی فرعون کی بیوی آسیہ تھی مگر موسیٰ (علیہ السلام) پر…
Read the full tafseer →ضرب اللہ ....
الداخلین ” اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح کی بی بی کا اور لوط کی بی بی کا حال (بطور مثال) بیان فرمایا ہے ‘ وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں۔ سو ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ادا نہیں کیا تو یہ نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں ان دونوں عورتوں کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں عورتوں کو حکم دے دیا گیا کہ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ تم دونوں بھی دوزخ میں چلی جاؤ۔ “
حضرت نوح کی بی بی کا نام واعلہ تھا اور حضرت لوط کی بی بی واہلہ تھی۔ اللہ نے بطور مثال ان دو عورتوں کا تذکرہ یہ بتانے کے لیے کیا کہ کافروں کا رشتۂ قرابت یہاں تک کہ رشتۂ زوجیت بھی اگر پیغمبروں سے…
Read the full tafseer →حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیوی کے بارے میں جو حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے رسول اکرم کو ایذا پہنچائی تھی اب اللہ تعالیٰ اس سے متنبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کافروں کی عبرت کے لیے دو کافر عورتوں کا یعنی حضرت نوح کی بی بی اور لوط کی بی بی کا واقعہ بیان کرتا ہے یہ دونوں ہمارے دو رسولوں کے نکاح میں تھی اور اس کے علاوہ ان سے اور کسی خیانت کا اظہار نہیں ہوا کیونکہ نبی کی بیوی ہرگز اور کوئی خیانت نہیں کرسکتی تو عذاب خداوندی کے مقابلہ میں وہ دونوں نیک بندے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں عورتوں کو حکم ہوگیا کہ تم دوزخ میں داخل ہوجاؤ۔
Read the full tafseer →1۔ ضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ۔۔۔: کفار اور منافقین کے ساتھ جہاد کے حکم کے بعد کفر کی نحوست اور ایمان کی برکت بیان فرمائی کہ قیامت کے دن کافر کو کسی مسلمان کے ساتھ کسی طرح کی قرابت کام نہیں آئے گی ، حتیٰ کہ اگر پیغمبر کی بیوی کافر ہے تو وہ پیغمبر اسے بھی جہنم میں جانے سے نہیں بچا سکے گا۔ اس سے پہلے قرآن مجید میں نوح ؑ کے بیٹے اور ابراہیم ؑ کے والد کی صورت میں نسبی قرابت کی مثالیں گزر چکی ہیں۔ یہاں نوح ؑ کی بیوی اور لوط ؑ کی بیوی کو کافر لوگوں کی مثال کے طور پر ذکر فرمایا۔ بعض لوگوں نے کہا کہ یہ قصہ مطہرات کو سنایا گیا ہے ، مگر یہ بات غلط…
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائی ہے اس امر پر آگاہ کرنے کے لئے کہ جب دو افراد دین میں مختلف ہوں گے تو کوئی قریبی رشتہ دار اپنے قریبی رشتہ دار کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والہہ تھا (2) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والعہ تھا، یہ مقاتل کا قول ہے۔ ضحاک نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت جبرائیل امین نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا نام واغلہ تھا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والہہ تھا۔
فخانتھما عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہاں خیانت سے مراد کفر ہے۔ سلیمان بن رقیہ نے حضرت…
Read the full tafseer →14۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی الدنیاوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فخانتاہما کہ ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندون کا حق ادا نہیں کیا۔ یعنی ان دونوں نے زنا نہیں کیا تھا لیکن نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے کہتی تھی کہ یہ اللہ کا نبی مجنون ہے اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ اس نے مہمانوں کو بتادیا تھا کہ خوبصورت مہمان آئے ہوئے ہیں جلدی سے آجاؤ یہ اس کی خیانت تھی۔
15۔ ابن عساکر نے اشرس خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ جو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ…
Read the full tafseer →[ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا : بیان کرتا ہے اللہ ایک مثال ] [لِلَّذِيْنَ كَفَرُوا : ان کے لیے جنھوں نے کفر کیا ] [امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ : نوح کی عورت (بیوی) اور لوط کی عورت (بیوی) کی ] [كَانتَا : وہ دونوں تھیں ] [تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ : ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے تحت ] [فَخَانتٰهُمَا : پھر ان دونوں (خواتین) نے خیانت کی ان دونوں (بندوں) سے ] [فَلَمْ يُغْنِيَا : تو وہ دونوں (بندے) کام نہ آئے ] [عَنْهُمَا : ان دونوں (خواتین) کے ] [مِنَ اللّٰهِ : اللہ سے (چھڑانے میں)] [شَيْــــًٔا : کچھ بھی ] [وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَارَ : اور کہا گیا تم دونوں داخل ہو آگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
حضرت نوح و لوط ( علیہ السلام) کی بیویاں کافر تھیں اور فرعون کی بیوی اور سیّدہ مریم مومنات میں سے تھیں
ان آیات میں دو ایسی عورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے جو نبیوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے کافرہ تھیں اور کفر پر جمی رہیں اور دو ایمان والی عورتوں کا تذکرہ فرمایا۔ جن کافر عورتوں کا تذکرہ ان میں سے ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کی اور دوسری حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہے (یہ شرائع سابقہ کی بات ہے ان کی شریعتوں میں کافر عورت سے نکاح جائز تھا ہماری شریعت میں صرف مسلمہ اور کتابی عورت سے نکاح جائز ہے کافر غیر کتابیہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے) ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا جیسے ایک بیٹا کافر تھا سمجھانے بجھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
نمونہ ایمان وکفر وہدایت وشقاوت برائے خواتین عالم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ضرب اللہ مثلا ......... الی ........... وکانت من القنتین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں تو بہ کا حکم اور قلب کی تطہیر و پاکی کا بیان تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت اپنے پیغمبر اور ان کے ساتھ ہوجانے والوں کو قیامت کے روز ذلت اور شرمندگی سے بچائے گا، اب ان آیات میں یہ ظاہر فرمایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا کے ساتھ وہ نسبت جو آخرت میں کام آتی ہے وہ اس کے ساتھ ایمانی رشتہ ہے، اسی رشتہ پر نجات آخرت کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے اگر اللہ کے پیغمبر پر ایمان نہ ہو تو کوئی بھی قرابت اور رشتہ کام نہیں آتا، اس مضمون کو ثابت کرنے کے لئے ایک طرف حضرت…
Read the full tafseer →13:۔ ” ضرب اللہ مثلاً “ یہ کافروں کے لیے تمثیل ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ حضرت نوح اور لوط (علیہما السلام) دونوں جلیل القدر پیغمبر تھے اور ان کی بیویاں کافرہ اور مشرکہ تھیں اور اپنے خاوندوں کی مخالفت میں در پردہ کافروں کی ہمنوا تھیں تو پیغمبروں کی پیغمبر اور ان کے اعمال صالحہ ان کی کافرہ بیویوں کو کوئی فائدہ نہ ہنچا سکے۔ اور آخر کار ان کو دوزخیوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہونے کا حکم دیدیا گیا خیانت سے مخالفت میں کافروں کی ہمنوائی اور اپنے خاوندوں کے رازوں کا کافروں پر افشاء مراد ہے خیانت سے بدکاری مراد نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء (علیہما السلام) کی بیویوں کو اس فعل سے محفوط رکھا ہے۔ ولیس…
Read the full tafseer →ربط آیات : پہلے اللہ نے اپنے نبی کی بیویوں کو ادب سکھایا اور حکم دیا کہ وہ کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے اللہ کے پیغمبر کو تکلیف ہو۔ پھر تمام اہل ایمان سے خطاب کرکے فرمایا کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچائو۔ پھر کفر کرنے والوں کو خطاب کیا کہ آج دنیا میں موقع ہے کہ آخرت کی تیاری کرلو۔ ورہ کل قیامت کو کوئی عذر اور بہانا نہیں سناجائے گا۔
پھر اللہ نے ایمان والوں کو کامیابی کا اصول بتلایا کہ وہ اللہ کے سامنے صاف دل سے توبہ کرلیں۔ تاکہ اللہ ان کی غلطیوں کو معاف کردے۔ پھر اہل ایمان کا کامیاب انجام اور نبی (علیہ السلام) کے احترام کا ذکر کیا اور حکم دیا کہ کافروں اور منافقوں کے…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللہُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ 0 ۭ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَيْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَيْنِ فَخَانَتٰہُمَا فَلَمْ يُغْنِيَا عَنْہُمَا مِنَ اللہِ شَيْــــًٔا وَّقِيْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِيْنَ 10
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ترکیب : امرات نوح معطوف علیہ وامرات لوط معطوف وکلاھما مفعول اول لضرب ومثلا مفعول ثان وانما اخرالمفعول الاول لیتصل بہ ماھو تفسیر لہ وایضاح لمعناہ۔ ویمکن ان یکون امرات نوح ومابعد ھابدلا عن مثلا اوبیان لہ کانتا ھذہ جملۃ مستانفہ مفسرۃ لضرب المثل امرات فرعون مراغرابھا اذظرف لمثلا اولضرب عندک حال من ضمیر المتکلم اومن بیتا لتقدمہ علیہ فی الجنۃ بدل اوعطف بیان لقولہ عندک اومتعلق بقولہ ابن۔ ومریم ای اذکر مریم اومثل مریم من القانتین من للتبعیض ویجوزان یکون لابتداء الغایۃ۔
تفسیر : پہلے ذکر ہوا تھا کہ اے ایماندارو توبہ خالص کرو تاکہ تمہارا عاقبت میں بھلا ہو اور منافقوں کی بھی اصلاح مقصود تھی جس کا ذریعہ…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاَّ لِّـلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ط کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰـھُمَا فَلَمْ یُغْنِیَاعَنْھُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَّقِیْلَ ادْخُلاَ النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ ۔ (التحریم : 10)
(اللہ تعالیٰ مثال بیان فرماتا ہے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی، وہ ہمارے بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں انھوں نے ان کے ساتھ خیانت کی، تو وہ اللہ کے مقابلہ میں ان کے کچھ کام نہ آسکے، اور دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ جاؤ تم بھی آگ میں جانے والوں کے ساتھ آگ میں چلی جاؤ۔ )
آدمی کو نجات دینے والا عمل ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : کفار، مشرکین اور منافقین کو ان کے انجام سے ڈرانے کے لیے دو عظیم انبیاء کی بیویوں کی مثال دی گئی ہے۔
مشرک اپنے شرک، کفار، اپنے کفر اور منافق اپنی منافقت کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمیں کوئی گرفت نہیں ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کا زعم ختم کرنے کے لیے دو عظیم انبیاء کی بیویوں کی مثال بیان فرمائی ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی نے برادری کو مقدم جانا اور اپنے کفر پر قائم رہی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی نے رشتہ داری کو عزیز سمجھا اور اپنے خاوند حضرت لوط (علیہ السلام) کے بارے میں منافقت اپنائے رکھی۔ رب ذوالجلال نے نوح اور لوط (علیہ السلام) کی قوم پر عذاب نازل…
Read the full tafseer →کافروں کے لئے مثال ‘ زوجہ نوح و لوط کو نیکوں کے نکاح میں ہونا کام نہ آئے گا :
10 : ضَرَبَ اللّٰہُ مَثلَاً لِّلَّذِیْنَ کَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ کَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰھُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْھُمَا مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ معَ الدَّاخِلِیْنَ (اللہ تعالیٰ نے کافروں کیلئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا حال بیان فرمایا ہے۔ وہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں۔ پس ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ادا نہیں کیا۔ تو یہ نیک بندے اللہ تعالیٰ کے مقابلہ…
Read the full tafseer →9 ۔” یایھا النبی…………………المصیر “ پھر اللہ تعالیٰ نے نیک لوگوں اور نیک عورتوں کی مثال بیان کی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
10۔ 12۔ اوپر آنحضرت ﷺ کی اہل و عیال کا اور عام مسلمانوں کے اہل و عیال کا جدا جدا ذکر تھا اس ذکر کے پورا ہوجانے کے لئے ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط دو پیغمبروں کی بیبیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ دار ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبیٰ برباد ہوگئی۔ تفسیر ابن 1 ؎ جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بی بی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا۔ کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیبیوں کی…
Read the full tafseer →یہ دو مثالیں ہیں جو اللہ نے مومنوں اور کافروں کے لیے بیان کی ہیں تاکہ ان پر واضح ہوجائے کہ کافر کا مومن کے ساتھ اتصال اور مومن کا قرب کافر کو کوئی فائدہ نہیں دے گا اور مومن کا کافر کے ساتھ اتصال مومن کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکت اگر مومن فرائض کو پورا کرتا ہے گویا اس میں ازواج مطہرات کے لیے معصیت سے بچنے کی تنبیہ ہے نیز رسول اللہ کے ساتھ اتصال ان کو کوئی فائدہ نہیں دیتا اگر انہوں نے برائی کی ہے چناچہ فرمایا (ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّامْرَاَتَ لُوْطٍ ۭ كَانَتَا) اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثالیں بیان فرمائی ہیں یہ دونوں تھیں۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
قول باری ہے (فخانتا ھما مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ دونوں عورتیں منافق تھیں، خیانت کا یہ مفہوم نہیں کہ انہوں نے بدکاری کی تھی کیونکہ کسی نبی کی بیوی نے بدکاری نہیں کی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ نوح دیوانے ہیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت تھی کہ وہ لوگوں کو گھر آنے والے مہمان کی اطلاع دے دیتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[ 20] کافروں کی عبرت کے لیے ایک مثال ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی مثال بیان فرمائی کہ جس طرح ان دونوں کو اپنے کفر و عقیدہ بد کی بناء پر اتنے عظیم الشان پیغمبر کی زوجیت کا رشتہ جو کہ ایک نہایت ہی عظیم الشان رشتہ ہوتا ہے کچھ بھی کام نہ آسکا اسی طرح دور حاضر کے ان کفار و مشرکین کو بھی اپنے کفر و شرک اور عقائد باطلہ کی بناء پر اہل ایمان کی قرابت ورشتہ داری کچھ کام نہ آسکے گی والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آدمی کو کام آنے والی چیزیں اس کا اپنا ایمان اور عمل ہے جن کے پاس یہ پونجی نہیں ہوں گی والعیاذ باللہ تو ان کو کسی بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
چار عورتوں کا تذکرہ (دو کافرہ اور دو مومنہ)
تشریح : ان آیات میں بڑے ہی صاف الفاظ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کو ہر طرح سے ختم کرتے جاؤ تاکہ دنیا شر و فساد اور بےسکونی سے پاک ہوجائے۔ دنیا میں انسان کو آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس میں پیغمبر ان کی بیویاں اور عام انسان مرد ہوں یا عورتیں سب کو اللہ تعالیٰ آزمائش میں ڈالتا ہے۔ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنامحمدالرسول اللہ ﷺ تک سب آزمائش سے گزرے ہیں اسی لیے سب کو نصیحت کی گئی کہ اپنی اپنی ذمہ داریاں خلوص، نیک نیتی، صبر اور اللہ سے دعا کرتے ہوئے پوری کرو۔ آدمیوں کا فرض ہے مقررہ حدود میں رہ کر بیویوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
آیات 8 تا 12۔
اسرار ومعارف۔
توبہ۔
اے ایمان والو ! اللہ کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو خلوص دل سے ہو اور عمل کی اصلاح پر محیط ہو۔ مفسرین کرام کے مطابق توبہ یہ ہے کہ جن کے حقوق غصب کیے ہوں ادا کرے یا معاف کرائے کسی کی توہین کی ہوتومعافی حاصل کرے اور قضا نمازیں روزے لوٹائے حتی المقدور جس قدر ہوسکے اور آئندہ شریعت مطہرہ پر پورا پورا عمل کرے یعنی محض زبانی بات نہ ہو عملا ہر ممکن اصلاح کرے تو اللہ کریم ہے وہ ضرور اس کی خطائیں بخش دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا جہاں ہمیشہ نہریں جاری ہیں۔
معیت رسول۔
اس دن جب ساری انسانیت جمع ہوگی اللہ اپنے نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے…
Read the full tafseer →ف 3 خیانت (چوری) سے مراد دینی خیانت ہے نہ کہ اخلاقی خیانت عکرمہ اور ضحاک کہتے ہیں کہ وہ کافر ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت نوح کی بیوی لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ یہ (حضرت نوح) دیوانہ ہیں اور حضرت لوط کی بیوی قوم کو اپنے گھر آنے والے مہمانوں کی خبر دیا کرتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ منافق تھیں الغرض اس پر اجماع ہے کہ کسی نبی کی بیوی نے بدکاری کا ارتکاب نہیں کیا۔ یہی چیز ان عاسکر کی ایک مرفوع روایت میں بھی آئی ہے۔ (شوکانی)4 اس مثال سے مقوصد کافروں کو یہ بتانا ہے کہ کفر کے ساتھ کوئی نیک کام نہیں آتی حتی کہ پیغمبر کی رشتہ داری بھی فاء نہیں دیتی۔ اس سے امہات المومنین (حضرت عائضہ و حفصہ) کو تنبیہ کرنا ہے۔…
Read the full tafseer →(66:10) ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امرأت نوح وامرأت لوط : ضرب فعل اللہ فاعل۔ مثلا مفعول اول ۔ امرأت نوح مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف علیہ واؤ عاطفہ امرأت لوط مضاف مجاف الیہ مل کر معطوف ، ہر دو مفعول اول فعل ضرب کے، مفعول اول کو مؤخر اس لئے کیا گیا کہ وہ اور اس کی تفسیر متصل رہیں اور ان کے معنی کی وضاحت بھی ساتھ ہی رہے۔
یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امرأت نوح وامرأت لوط بدل ہے مثلا سے۔
ضرب کا معنی ایک چیز کو دوسری پر مارنا ہے۔ مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً
(1) فضرب الرقاب (47:4) ان کی گردنیں اڑا دو ۔
(2) واذا ضربتجم فی الارض (4:101) اور جب تم سفر کو جاؤ۔ اور ضربت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
لغات القرآن۔
قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔
تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
چار عورتوں کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہما السلام) دوپیغمبروں کی بی بیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ داری ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبی برباد ہوگئی تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بیوی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا تھا کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو۔ اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی دغا کے معنی ، بےدینی ، کے ہیں بدکاری کے معنی نہیں ہیں اب آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حدید حاشیہ 19 صفحہ 1330۔
[12] یعنی راستے میں بجھ نہ جائے بلکہ دخول جنت تک باقی رکھ۔ یہ وہ اس وقت کہیں گے جب وہ پل صراط پر سے گزر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →ف 1: اس آیت میں کفار مکہ کو متنبہ فرمایا ہے ۔ کہ تمہیں یہ نہ سمجھنا چاہیے ۔ کہ چونکہ تمہارا تعلق حضرت ابرہیم سے ہے ۔ اس لئے تم اس تعلق کی بزرگی اور شرافت کی وجہ سے نجات پاجاؤ گے ۔ چاہے حق وصداقت کا کھلے بندوں انکار کرو ۔ کیا تمہارا تعلق حضرت نوح کی بیوی یا حضرت لوط کی بیوی سے بھی زیادہ ہے ۔ جتنا کہ ان کو اپنے خاوندوں سے تھا ۔ لیکن ان دونوں کو ان کے خاوندوں کا جلیل القدر پیغمبر ہونا قطعاً عذاب الٰہی سے نہیں بچا سکا ۔ پھر کیا تم توقع رکھتے ہو ۔ کہ باوجو معصیت اور انکار کے محض قرابت کی وجہ سے اللہ کے ہاں مقبول ہوجاؤ گے ۔ ع
ایں خیال است ومحال است وجنوں
Read the full tafseer →(10) اللہ تعالیٰ کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی حالت بیان فرماتا ہے وہ دونوں عورتیں ہمارے بندوں میں سے دو خاص بندوں کے نکاح میں تھیں یعنی حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) پھر ان عورتوں نے ان دونوں بندوں کے حق میں خیانت کی لہٰذا وہ دونوں نیک بندے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ کام نہ آسکے اور ان دونوں عورتوں کو حکم دیا گیا کہ تم دونوں بھی اور جانے والوں کے ہمراہ آگ میں داخل ہوجائو۔
یعنی حضرت لوط اور حضرت نوح (علیہ السلام) (علیہما السلام) اللہ تعالیٰ کے پیغمبر شائستہ اور مخصوص بندے تھے مگر دونوں کی گھر والیاں منافق جو کافروں…
Read the full tafseer →ف 6۔ یہ دعوی کرنا کہ یہ قصہ ازواج مطہرات کو سنایا گیا ہے محض دعوائے بلا دلیل ہے کیونکہ یہ قصہ مضمون ازواج کے متعلق نہیں، بلکہ مضمون آیت قوا انفسکم واھلیکم کے متعلق ہے۔
Read the full tafseer →کافروں کی تفہیم کے لیے دو نبیوں کی بیویوں کی مثال پیش کی جا رہی ہے ، سنو اور سمجھو
10 ؎ موسوم خواہشات آج سے نہیں جب سے انسان نے اس دنیا میں قدم رکھا ہے اس وقت سے اس کے ساتھ چلی آرہی ہیں کہ آدمی کو کرنا کرانا بھی کچھ نہ پڑے اور نتیجہ بھی اس کے حق میں رہے۔ وہ کافر بھی رہے اور جنت کا مالک بھی ہو ۔ دنیا میں بھی وہ اقتدار میں رہے اور آخرت کا سہرا بھی اس کے سر بندھے ۔ اس بات کی وضاحت بار بار کی جا چکی ہے کہ ہر قوم کے مترفین نے وقت کے نبی کو مخاطب کیا اور یہ بات کہی کہ وہ خواہ مخواہ کے ڈر اوے ہم کو مت دو اگر ہم اتنے ہی برے ہوتے جتنا کہ تو ہم کو سمجھتا ہے تو پھر یہ مال و دولت کی ریل پیل ہمارے ہاں…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ كَفَرُوا امْرَأَتَ نُوحٍ ( Allah has cited for the disbelievers the example of the wife of Nuh (علیہ السلام) and the wife of Lut (علیہ السلام) ...66:10). Towards the end of this Surah, Allah has set forth examples of four women. The first example comprises two women who were the wives of two Holy Prophets (علیہما السلام) .
They, in matters of religion, opposed their husbands and secretly sided with the unbelievers and pagans. As a result, they ended up in the abyss of Hell, and their marital relation with the prophets could not save them from the…
Read the full tafseer →24 This betrayal" was not in the sense that they had committed an indecency but in the sense that they did not follow the Prophets Noah and Lot on the way of faith but sided with their enemies against them. Ibn 'Abbas say: °No Prophet's wife has ever been wicked and immoral The betrayal of these two women in fact was in the matter of faith and religion: they did not acknowledge the religion of the Prophets Noah and Lot. The Prophet Noah's wife used to convey news about the believers to the wicked of her people, and the Prophet Lot's wife used to inform the immoral people about those who…
Read the full tafseer →