Ayah 66:1آیت کریمہ کے نزول کا سبب
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت زینب بنت حجش کے ہاں رکتے وہاں آپ ﷺ شہد نوش فرماتے (1) ۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں اور حضرت حفصہ نے آپس میں اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں تو وہ کہے : میں آپ ﷺ سے مغافیر کی بو پاتی ہوں۔ آپ ﷺ نے مغافیر کھاتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو اس زوجہ نے آپ ﷺ سے یہ بات کی۔ فرمایا : ” میں نے تو حضرت زینب بنت حجش کے پاس شہد پیا ہے، میں دوبارہ ایسے نہ کروں گا “ تو یہ آیات ان تتوبا تک نازل ہوئیں۔ ان تتوبا میں مراد حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ہیں۔ واذا اسرالنبی الی بعض ازواجہ سے مراد ہے : میں نے شہد پیا۔
حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے یہ مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ حلوہ اور شہد پسند فرمایا کرتے تھے (2) ۔ جب آپ ﷺ عصر کی نماز ادا فرما لیتے تو اپنی ازواج مطہرات کے ہاں تشریف لے جاتے۔ ان کے قریب ہوتے۔ آپ حضرت حفصہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو آپ اس سے زیادہ رک گئے جتنا آپ رکا کرتے تھے۔ میں نے آپ سے اس بارے میں پوچھا تو مجھے بتایا گیا : ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کی ایک کپی پیش کی ہے۔ حضرت حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو شہد پلایا ہے۔ میں نے کہا : اللہ کی قسم ! ہم ضرور حیلہ کریں گی۔ میں نے اس کا ذکر حضرت سودہ سے کیا اور میں نے کہا : جب حضور ﷺ تیرے پاس تشریف لائیں۔ آپ ﷺ ضرور تیرے قریب تشریف لائیں گے تو آپ ﷺ سے عرض کرنا یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے مغافیر کھائے ہیں ؟ آپ ﷺ فرمائیں گے : نہیں۔ تو عرض کرنا : یہ بوسی کیسی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ بو سے سخت نفرت کرتے۔ آپ ﷺ فرمائیں گے : حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے۔ تو عرض کرنا : شہد کی مکھی نے عرفط کو چوسا ہوگا۔ میں بھی یہی بات عرض کروں گی، اے صفیہ ! تو بھی یہ بات کرنا۔ جب رسول اللہ ﷺ حضرت سودہ کے ہاں تشریف لے گئے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : حضرت سودہ ؓ کہتی تھیں : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! جو بات تو نے مجھے کہی تھی میں اسے اس وقت ہی کرنے والی تھی جبکہ آپ ﷺ دروازے پر تھے۔ یہ صرف تیری ملامت کے ڈر کی وجہ سے تھا (مگر میں نے نہ کی) جب رسول اللہ ﷺ قریب تشریف لائے پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے مغافیر کھائے ہیں ؟ فرمایا، ” نہیں “۔ عرض کی : یہ بوسی کیسی ہے ؟ فرمایا : ” حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا ہے “۔ عرض کی : اس کی مکھی نے عرفط کو چوسا ہوگا۔ جب آپ ﷺ میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے بھی اسی کی مثل عرض کی۔ پھر آپ ﷺ حضرت صفیہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی اسی کی مثل بات کی۔ جب رسول اللہ ﷺ حضرت حفصہ ؓ کے ہاں تشریف لے گئے۔ عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں آپ ﷺ کو شہد نہ پلائوں ؟ فرمایا : ” مجھے حاجت نہیں “۔ کہا : حضرت سودہ ؓ کہا کرتیں : سبحان اللہ ! ہم نے آپ ﷺ کو اس سے روک دیا ہے۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں نے حضرت سودہ کو کہا : چپ رہ۔ اس روایت میں ہے جس کے ہاں شہد پیا گیا وہ حضرت حفصہ ؓ تھیں۔ پہلی روایت میں ہے وہ حضرت زینب ؓ تھیں۔ ابن ابی ملیکہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے۔ وہ حضرت سودہ ؓ تھیں (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ حضرت سلمہ ؓ تھیں، اسے اسباط نے سدی سے روایت نقل کی ہے۔ یہ عطا بن ابی مسلم نے روایت کی ہے۔ ابن عربی نے کہا : یہ سب جہالت ہے اور علم کے بغیر تصورات ہیں (2) ۔ باقی عورتوں نے اس زوجہ سے حسد اور غیرت کی بنا پر کہا : ہم آپ ﷺ سے مغافیر کی بوسی پاتے ہیں۔ مغافیر سبزی ہے یا گوند ہے جس کی خوشبو بدل چکی ہو، اس میں مٹھاس ہوتی ہے۔ اس کی واحد مغفور ہے جرست یعنی اس نے کھایا۔ عرفط یہ ایک ایسی بوٹی ہے جس کی بو شراب کی بو جیسی ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ یہ پسند کرتے تھے کہ آپ سے عمدہ خوشبو پائی جائے یا آپ ﷺ اسے پائیں اور فرشتہ سے کلام کرنے کی وجہ سے بو کو ناپسند کرتے تھے، یہ ایک قول ہے۔
ایک دوسرا قول بھی ہے : مراد وہ عورت ہے جس نے اپنے آپ کو نبی کریم ﷺ پر پیش کیا (3) ۔ حضور ﷺ نے ازواج مطہرات کی وجہ سے اسے قبول نہ کیا، یہ حضرت ابن عباس اور عکرمہ کا قول ہے۔
تیسرا قول ہے : حضور ﷺ نے حضرت ماریہ قبطیہ کو اپنے اوپر حرام کیا تھا جو مقوقس، شاہ سکندریہ نے آپ ﷺ کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجی تھی۔ ابن اسحاق نے کہا : یہ انصنا ضلع کے ایک ایسے شہر سے تھی جسے حفن کہتے۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے حجرہ میں ان کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کئے تھے۔ دارقطنی نے حضرت ابن عباس سے انہوں نے حضرت عمر ؓ سے روایت نقل کی ہے (1) کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ام ولد حضرت ماریہ ؓ کو حضرت حفصہ ؓ کے گھر میں داخل کیا۔ حضرت حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کو ان کے پاس پایا جبکہ حضرت حفصہ ؓ اپنے والد کے گھر جانے کی وجہ سے اپنے گھر میں موجود نہ تھیں۔ حضرت حفصہ ؓ نے عرض کی : آپ ﷺ ام ولد کو میرے گھر میں داخل کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے صرف میرے ساتھ یہ سلوک اس لئے کیا ہے کیونکہ میں آپ پر کم مرتبہ محسوس ہوتی ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ سے فرمایا : ” یہ واقعہ حضرت عائشہ ؓ سے ذکر نہ کرنا اگر میں اس حضرت ماریہ کے قریب جائوں تو وہ مجھ پر حرام ہے “۔ حضرت حفصہ ؓ نے کہا : آپ ﷺ اسے اپنے اوپر کیسے حرام کرتے ہیں جبکہ وہ تو آپ ﷺ کی لونڈی ہے رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے سامنے قسم اٹھائی کہ وہ حضرت ماریہ کے قریب نہ جائیں گے۔ نبی کریم ﷺ نے اسے ارشاد فرمایا۔ ” اس کا ذکر کسی سے بھی نہ کرنا “۔ حضرت حفصہ ؓ نے اس کا ذکر حضرت عائشہ ؓ سے کردیا۔ حضور ﷺ نے قسم اٹھا دی کہ آپ ﷺ ایک ماہ تک اپنی ازواج کے ہاں تشریف نہیں لے جائیں گے۔ آپ ﷺ ازواج مطہرات سے انتیس دن تک الگ تھلگ رہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
آیت کریم کے نزول کے اسباب میں سے قوی اور صحیح سبب
مسئلہ نمبر 2 ۔ ان اقوال میں سے زیادہ صحیح پہلا قول ہے۔ سب سے کمزدوردرمیانا ہے۔ ابن عربی نے کہا : سند میں ضعف اس لئے ہے کیونکہ اس کے راوی عادل نہیں (2) ۔ معنی میں ضعف اس لئے ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ کا موہوبہ چیز کا رد کرنا یہ اسے حرام قرار دینا نہیں کیونکہ جو چیز کسی کو ہبہ کی جائے اس کو رد کرنے سے وہ چیز اس پر حرام نہیں ہوجاتی۔ بیشک حقیقی حرمت تو حلت کے بعد ہوتی ہے۔ جہاں تک جو یہ روایت کی گئی ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت ماریہ قبطیہ کو اپنے اوپر حرام کیا تو یہ روایت سند کے اعتبار سے سب سے اچھی ہے اور معنی کے اعتبار سے واقعہ کے زیادہ قریب ہے لیکن صحیح میں مذکور نہیں۔ اسے مرسل روایت کیا گیا ہے۔
ابن وہب نے روایت کی ہے (3) ، وہ امام مالک سے وہ حضرت زید بن اسلم سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابراہیم کی والدہ حضرت ماریہ کو اپنے اوپر حرام قرار دیا۔ فرمایا : ” تو مجھ پر حرام ہے۔ اللہ کی قسم ! میں تیرے پاس نہیں آئوں گا “ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی۔ اس کی مثل ابن قاسم نے روایت نقل کی ہے۔ اشہب نے امام مالک سے روایت کی ہے کہ انصار سے تعلق رکھنے والی حضرت عمر ؓ کی بیوی نے آپ سے تکرار کیا تو حضرت عمر اس سے کا نپ گئے (4) ۔ فرمایا : بیویاں تو اس طرح نہیں ہوتی تھیں۔ بیوی نے کہا : کیوں نہیں جبکہ نبی کریم ﷺ کی ازواج آپ ﷺ سے تکرار کرتی ہیں آپ نے اپنا کپڑا لیا اور حضرت حفصہ کی طرف نکلے پوچھا : کیا تو رسول اللہ ﷺ سے تکرار کرتی ہے ؟ عرض کی : ہاں اگر میں جانتی کہ آپ اسے ناپسند کرتے ہیں تو میں ایسا نہ کرتی۔ جب حضرت عمر ؓ کو یہ خبر پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں سے علیحدگی اختیار کرلی ہے۔ فرمایا : حفصہ کی ناک خاک آلود ہو۔ صحیح یہ ہے کہ یہ واقعہ شہد کے بارے میں ہے جسے رسول اللہ ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے ہاں پیا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے اس مسئلہ میں ایک دوسرے کی مدد کی تو واقعہ ہوا جو ہوا رسول اللہ ﷺ نے قسم اٹھا دی کہ اسے نہ پئیں گے اور اسے مخفی رکھا۔ یہ آیت ان تمام کے بارے میں نازل ہوئی۔
مرد مطلقاً حرمت کا قول کرے تو اس کا اطلاق کس پر ہوگا ؟
مسئلہ نمبر 3 ۔ لم تحرم اگر نبی کریم ﷺ نیحرام کیا اور قسم نہ اٹھائی تو ہمارے نزدیک یہ قسم نہیں (1) مرد کا یہ قول : ھذا علی حرام بیوی کے سوا کسی چیز کو حرام نہیں کرتا۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : جب اس نے اسے مطلق ذکر کیا تو اس کا اطلاق کھانے اور پینے والی چیزوں پر ہوگا، لباس پر نہیں ہوگا۔ یہ قسم ہوئی اور کفارہ کو واجب کرے گی۔ امام زفر نے کہا : یہ تمام چیزوں میں قسم ہوگی یہاں تک کہ حرکت وغیرہ میں بھی قسم ہوگی (2) ۔
مخالف نے یہ استدلال کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے شہد کو حرام کیا تو آپ ﷺ پر کفارہ لازم ہوا۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم (التحریم : 2) اللہ تعالیٰ نے اسے قسم قرار دیا ہے، ہماری دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : یایھا الذین امنوا لاتحرموا طیبت ما احل اللہ لکم ولا تعتدوا (المائدہ : 87) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : قل ارئیتم ما انزل اللہ لکم من رزق فجعلتم منہ حراما و حللا ط قل اللہ اذن لکم ام علی اللہ تفترون (یونس) اللہ تعالیٰ نے حلال چیز کو حرام قرار دینے پر مذمت کی ہے اس پر کفارہ کو واجب قرار نہیں دیا۔ زجاج نے کہا : کسی کے لئے یہ جائز نہیں کہ اس چیز کو حرام قرار دے جسے اللہ تعالیٰ نے حلال قرار دیا ہو اور نبی کریم ﷺ کی یہ شان نہیں کہ کسی چیزکو حرام قرار دیں مگر اسے ہی حرام قرار دے سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حرام کی ہے جس نے اپنی بیوی یا لونڈی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے اور طلاق و ظہار کی نیت نہ کی۔ یہ لفظ کفارہ یمین کو واجب کرے گا۔ اگر اس نے اس لفظ کیساتھ بیویوں اور لونڈیوں کی ایک جماعت کو خطاب کیا تو اس پر ایک کفارہ ہوگا۔ اگر اس نے اپنی ذات پر کھانا یا کوئی اور چیز حرام کی تو امام شافعی اور امام مالک کے نزدیک اس پر کفارہ لازم نہیں ہوگا۔ حضرت ابن مسعود ؓ ، امام ثوری اور امام ابوحنیفہ کے نزدیک کفارہ واجب ہوگا۔
مرد کا اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام قرار دینا
مسئلہ نمبر 4 ۔ علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا ہے کہ ایک مرد اپنی بیوی کو کہتا ہے : تو مجھ پر حرام ہے۔ اس بارے میں اٹھارہ اقوال ہیں۔
اس پر کچھ بھی لازم نہیں
(1) اس پر کچھ بھی لازم نہیں ہوگا (3) : امام شعبی، مسروق، ربیعہ، ابو مسلم اور اصبغ نے یہی کہا ہے۔ یہ ان کے نزدیک پانی اور کھانے کو حرام کرنے کی طرف ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : یایھا الذین امنوا لا تحرموا طیبت ما احل اللہ لکم (المائدہ : 87) بیوی پاکیزہ چیزوں میں سے ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے حلال کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا تقولوا لما تصف السنتکم الکذب ھذا حلل وھذا حرام (النحل : 116) جسے اللہ تعالیٰ حرام قرار نہ دے کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ اسے حرام قرار دے، نہ اس بندے کے حرام قرار دینے سے وہ حرام ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ سے یہ ثابت نہیں کہ آپ نے فرمایا ہو ما احلہ اللہ ھو علی حراما اللہ تعالیٰ نے جو چیز مجھ پر حلال کی ہے وہ مجھ پر حرام ہے۔ نبی کریم ﷺ حضرت ماریہ سے رک گئے اس قسم کیوجہ سے جو آپ سے واقع ہوئی۔ وہ یہ تھی واللہ لا اقربھا بعد البوم آج کے بعد میں اس کے قریب نہیں جائوں گا۔ آپ ﷺ سے فرمایا گیا : اللہ تعالیٰ نے جو چیز آپ کے لئے حلال کی ہے اس سے قسم کی وجہ سے کیوں رکتے ہیں۔ یعنی اس کے پاس جائیے اور کفارہ ادا کیجئے۔
(2) یہ قسم ہے وہ کفارہ ادا کرے، یہ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت ابن عباس، حضرت عائشہ صدیقہ ؓ اور امام اوزاعی کا نقطہ نظر ہے۔ آیت کا مقتضا بھی یہی ہے۔ سعید بنی جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے کہا : جب کوئی آدمی اپنی بیوی اپنے اوپر حرام کرے تو یہ قسم ہوگی وہ کفارہ ادا کرے (1) ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ (الاحزاب : 21) نبی کریم ﷺ نے اپنی لونڈی کو اپنے اوپر حرام کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم آپ نے اپنی قسم کا کفارہ دیا اور حرام کو قسم بنا دیا۔ دارقطنی نے اس کی تخریج کی ہے۔
اس میں کفارہ واجب ہوگا، یہ قسم نہیں
(3) اس میں کفارہ واجب ہوگا (2) ، یہ قسم نہ ہوگی، یہ حضرت ابن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ دو روایتوں میں سے ایک یہ بھی ہے۔ امام شافعی کے دو قولوں میں سے ایک یہ ہے۔ اس قول میں نظر و فکر کی گنجائش ہے۔ آیت اس کا رد کرتی ہے۔
یہ ظہار ہے اس میں کفارہ نہیں
(4) یہ ظہار ہے اس میں کفار ظہار ہے (3): یہ حضرت عثمان غنی، امام احمد بن حنبل اور اسحاق کا نقطہ نظر ہے۔
مرد کی نیت کو دیکھا جائے گا
(5) اگر اس نے یہ قول کر کے ظہار کی نیت کی (4) ، وہ یہ نیت کرتا ہے وہ حرام ہے جس طرح اس کی ماں کی پیٹھ حرام ہے تو یہ ظہار ہوگا۔ اگر طلاق کے بغیر اس کی ذات کو اپنے اوپر حرام مطلق کیا تو کفارہ یمین واجب ہوگا۔ اگر کسی چیز کی نیت نہ کی تو اس پر کفارہ یمین ہوگا، یہ امام شافعی کا قول ہے۔
یہ طلاق رجعی ہے
(6) یہ طلاق رجعی ہے ( 1): یہ حضرت عمر بن خطاب ؓ ، زہری، عبد العزیز بن ابی سلمہ اور ابن ماجشون کا قول ہے۔
یہ طلاق بائنہ ہے
(7) یہ طلاق بائنہ ہے (2): یہ حماد بن ابی سلیمان اور حضرت زید بن ثابت کا قول ہے۔ اسے ابن خویز منداد نے امام مالک سے نقل کیا ہے۔
یہ طلاق مغلظہ ہے
(8) یہ تین طلاقیں ہیں (3) ، یہ حضرت علی بن ابی طالب، حضرت زید بن ثابت اور حضرت ابوہریرہ ؓ کا قول ہے۔
مدخول بہا اور غیر مدخول بہا کے بارے میں حکم مختلف ہے
(9) جس بیوی کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کئے ہوتے ہوں اس کو تین طلاقیں ہوجائیں گی (4) اور جس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہیں کئے۔ اس میں نیت کرے گا : یہ حضرت حسن بصری، علی بن زید اور حکم کا قول ہے۔ یہ امام مالک کا مشہور مذہب ہے۔
ہر حال میں یہ طلاق مغلظہ ہے
(10) یہ تین طلاقیں ہوں گی کسی حال میں بھی نیت نہ کرے اور کسی محل میں نیت نہ کرے (5) ۔ اگرچہ اس نے حقوق زوجیت ادا نہ کئے ہوں، یہ عبد المالک کا قول ہے جو مبسوط میں ہے۔ ابن ابی لیلی نے یہی کہا ہے۔
مدخول بہا کو تین جب کہ غیر مدخول بہا کو ایک طلاق ہو گی
(11) جس سے دخول نہیں کیا اس میں ایک طلاق ہے (6) اور جس کے ساتھ دخول کیا ہوا ہے اس کو تین طلاقیں ہیں، یہ ابو مصعب اور محمد بن عبد الحکم کا قول ہے۔
احناف کا نقطہ نظر
(12) اگر اس نے طلاق کی نیت کی یا ظہار کی نیت کی تو وہ واقع ہوگا جو اس نے نیت کی (7) ۔ اگر طلاق کی نیت کی تو ایک بائنہ ہوگی مگر اس صورت میں تین واقع ہوجائیں گی جب وہ تین کی نیت کرے۔ اگر دو کی نیت کرے تو ایک واقع ہوگی۔ اگر کوئی نیت نہ کی تو وہ قسم ہوگی۔ مرد اپنی بیوی سے ایلاء کرنے والا ہوگا۔ یہ امام ابوحنیفہ اور اس کے اصحاب کا نقطہ نظر ہے۔ اس کی مثل امام زفر کا قول ہے مگر فرمایا : جب وہ دو کی نیت کرے تو ہم اسے لازم کردیں گے۔
ابن قاسم کا نقطہ نظر
(13) ظہار کی نیت اسے کوئی نفع نہ دے گی (8) ۔ یہ طلاق ہوگی، یہ ابن قاسم کا قول ہے۔
یحییٰ بن عمر کا نقطہ نظر
(14) یحییٰ بن عمر نے کہا : یہ طلاق ہوگی (1) ۔ اگر اس نے بیوی کی طرف رجوع کیا تو اس کے لئے وطی کرنا جائز نہ ہوگا۔ یہاں تک کہ کفارہ ظہار ادا کرے۔
امام شافعی کا نقطہ نظر
(15) اگر طلاق کی نیت کرے تو جو جتنی تعداد کا ارادہ کیا (2) ، اگر ایک کی نیت کی تو ایک طلاق رجعی ہوگی، یہ امام شافعی ؓ کا قول ہے۔ اس کی مثل حضرت ابوبکر صدیق ؓ ، حضرت عمر ؓ اور دوسرے صحابہ وتابعین کا قول ہے۔
سفیان ثوری کا نقطہ نظر
(16) اگر یہ لفظ بول کر تین کی نیت کی تو تین ہوجائیں گی، اگر ایک کی نیت کی تو ایک ہوجائے گی، اگر قسم کی نیت کی تو یہ قسم ہوگی، اگر کسی چیز کی نیت نہ کی تو کوئی چیز لازم نہ ہوگی، یہ سفیان کا قول ہے۔ اسی کی مثل امام اوزاعی اور ابو ثور کا قول ہے مگر دونوں نے کہا : اگر کچھ بھی نیت نہ کی تو ایک طلاق ہوگی۔
ابن شہاب اور ابن عربی کا نقطہ نظر
(17) اس کی نیت کا اعتبار ہوگا (3) ۔ ایک سے کم نہیں ہو سکتی : یہ ابن شہاب کا قول ہے۔ اگر کچھ بھی نیت نہ کی تو کوئی چیز لازم نہ ہوگی، یہ ابن عربی کا قول ہے۔ میں نے سعید بن جبیر کا بھی یہی قول دیکھا ہے۔
اس پر غلام کو آزاد کرنا لازم ہے
(18) اس پر ایک غلام آزاد کرنا لازم ہے اگرچہ وہ اسے ظہار نہ بنائے۔ میں اس کی کوئی توجیہ نہیں جانتا۔ میرے پاس جو مقالات ہیں ان میں یہ متعدد نہ ہوں گے۔
میں کہا ہوں : دارقطنی نے اپنی سنن میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی (4) م کہ حسین بن اسماعیل، محمد بن منصور سے وہ روح سے وہ سفیان ثوری سے وہ سالم افطس سے وہ سعید بن جبیر سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آپ کے پاس ایک آدمی آیا۔ عرض کی : میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ فرمایا : تو نے جھوٹ بولا ہے۔ وہ تجھ پر حرام نہیں۔ پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ تجھ پر سب سے بھاری کفارہ ہے، وہ غلام آزاد کرنا ہے۔ مفسرین میں سے ایک جماعت نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی تو آپ ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ایک غلام کو آزاد کرکے ادا کیا اور حضرت ماریہ کی طرف لوٹے ! یہ زید بن اسلم اور دوسرے لوگوں کا قول ہے۔
اس مسئلہ میں پائے جانے والے اختلاف کی وجہ
مسئلہ نمبر 5 ۔ ہمارے علماء نے کہا : اس باب میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ نہ کتاب اللہ میں اور نہ سنت رسول اللہ میں کوئی نص یا ظاہر، صحیح ہے جس پر اس مسئلہ میں اعتماد کیا جاسکے۔ اس وجہ سے علماء نے اس بارے میں اپنی اپنی رائے قائم کی۔ جس نے برأت اصلیہ سے تمسک کیا، اس نے کہا : کوئی حکم نہیں، اس سے کوئی چیز لازم نہیں ہوگی۔ جس نے کہا : یہ قسم ہے ! اس نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے قسم کا نام دیا ہے۔ جس نے کہا : اس میں کفارہ واجب ہوگا اور یہ قسم نہیں اس کی بنیاد دو امروں میں سے ایک امر ہے۔ (1) اس نے گمان کیا : اللہ تعالیٰ نے اس میں کفارہ واجب کیا ہے، اگرچہ یہ قسم نہیں۔ (2) ان کے نزدیک یمین کا معنی حرام کرنا ہے تو کفارہ معنی کے اعتبار سے واقع ہوا۔ جس نے کہا : یہ طلاق رجعی ہے اس نے لفظ کو اقل وجوہ پر محمول کیا ہے۔ طلاق رجعی بھی وطی کو حرام کرتی ہے تو لفظ کو اسی پر محمول کیا جائے گا۔ یہ امام مالک کو لازم ہوگا کیونکہ آپ فرماتے ہیں : طلاق رجعی وطی کو حرام کردیتی ہے۔ اسی طرح جس نے کہا : یہ تین طلاقیں ہیں اس کی توجیہ یہ ہے کہ اس نے اسے سب سے غلیظ صورت پر محمول کیا۔ وہ تین طلاقیں ہیں۔ جس نے کہا : یہ ظہار ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تحریم کے درجات میں سے سب سے کم درجہ کی تحریم ہے کیونکہ یہ ایسی تحریم ہے جو نکاح کو ختم نہیں کرتی۔ جس نے کہا : یہ طلاق بائنہ ہے، اس نے اس پر اعتماد کیا کہ طلاق رجعی مطلقہ کو حرام نہیں کرتی اور طلاق بائنہ اسے حرام کرتی ہے۔ جہاں تک یحییٰ بن عمر کے قول کا تعلق ہے انہوں نے اس میں احتیاط کی ہے کہ اسے طلاق بنائیں جب وہ اس سے رجوع کرے تو اس میں احتیاط کی کہ کفارہ لازم کریں۔ ابن عربی نے کہا : یہ صحیح نہیں کیونکہ یہ تو دو متضاد چیزوں کو جمع کرنا ہے کیونکہ ایک لفظ کے معنی میں ظہار اور طلاق جمع نہیں ہوسکتے تو جس کا اجتماع دلیل میں صحیح نہیں اس میں احتیاط کی کوئی وجہ نہیں۔
جس نے کہا : جس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہیں کئے گئے اس میں نیت کا اعتبار کیا جائے گا کیونکہ ایک طلاق اسے جدا کردیتی ہے اور شرعا اسے حرام کردیتی ہے، یہی اجماع ہے۔ اسی طرح کہا : جس نے نیت کا اعتبار کرتے ہوئے کوئی حکم نہ لگایا۔ دخول سے پہلے ایک طلاق بھی حرمت ثابت کرتی ہے یہی اجماع ہے کہ قل، جس پر سب کا اتفاق ہے اس کو اپنا لینا کافی ہے۔ جس نے کہا : دونوں میں یہ تین طلاقیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے حکم اعظم کو لیا ہے کیونکہ اگر وہ تین کی تصریح کردیتا تو جس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہیں کئے گئے اس میں بھی یہ تینوں نافذ ہوجاتیں جس طرح اس میں نافذ ہوجاتی ہیں جس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کئے ہیں۔ ضروری ہے کہ معنی اسی کی مثل ہو، وہ تحریم ہے۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ یہ سب بیوی کے بارے میں ہے۔ جہاں تک لونڈی کا تعلق ہے تو ان میں سے کوئی چیز لازم نہ ہوگی مگر امام مالک کے نزدیک جب وہ آزادی کی نیت کرے۔ عام علماء اس طرف گئے ہیں کہ اس پر کفارہ یمین ہوگا۔ ابن عربی نے کہا : صحیح یہ ہے کہ یہ ایک طلاق ہے کیونکہ اگر وہ طلاق کا ذکر کرتا تو یہ کم سے کم ہی واقع ہوتی وہ ایک ہی ہے مگر اس صورت میں کہ اسے متعدد ذکر کرے (1) ۔ اسی طرح جب تحریم کا ذکر کیا تو کم سے کم واقع ہوگی مگر جب وہ اکثر کا ذکر کرے، جس طرح وہ کہے : انت علی حرام الا بعد زوج یہ مراد پر نص ہے۔
میں کہتا ہوں : اکثر مفسرین کی رائے یہ ہے کہ یہ آیت حضرت حفصہ کے بارے میں نازل ہوئی جب نبی کریم ﷺ نے اپنی لونڈی کے ساتھ خلوت کی : ثعلبی نے اس کا ذکر کیا۔ اس تعبیر کی بنا پر گویا فرمایا : جو آپ نے اپنی ذات پر حرام کیا ہے وہ آپ پر حرام نہیں بلکہ آپ پر اس کا کفارہ ہے اگرچہ یہ شہد اور لونڈی کی حرمت کے بارے میں بھی ہے۔ گویا فرمایا : جو آپ ﷺ نے حرام کیا ہے وہ آپ پر حرام نہیں بلکہ آپ نے تحریم کو یمین کے ساتھ ملا دیا ہے تو اپنی قسم کا کفارہ ادا کیجئے، یہ قول صحیح ہے کیونکہ نبی کریم ﷺ نے پہلے حرام کیا، پھر قسم اٹھائی۔ جس طرح دارقطنی نے ذکر کیا (1) ۔ امام بخاری نے اس کا معنی شہد کے قصہ میں بیان کیا (2) جو عبید بن عمیر سے مروی ہے وہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حضرت زینب بنت حجش کے ہاں شہد نوش فرماتے اور ان کے ہاں ٹھہرتے۔ میں نے اور حضرت حفصہ نے آپس میں مشاورت کی کہ ہم میں سے جس کے ہاں ب ھی رسول اللہ تشریف لائیں تو وہ کہے : آپ نے مغافیر کھائے ہیں ؟ میں آپ سے مغافیر کی بوسی محسوس کرتی ہوں۔ فرمایا : ” نہیں میں نے تو شہد پیا ہے میں دوبارہ ایسا نہ کروں گا۔ میں نے قسم اٹھا دی ہے اس بارے میں کسی کو بھی نہ بتانا “۔ مقصد اپنی ازواج کی خوشنودی تھی۔ ولن اعودلہ یہ تحریم کی صورت میں تھا اور حلفت مراد باللہ ہے اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس موقع پر عتاب کا حکم نازل کیا اور اپنے ارشاد : یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک سے کفارہ یمین لازم کیا۔
تبتغی مرضات ازواجک آپ یہ اس لئے کرتے ہیں تاکہ ازواج کی رضا حاصل کریں۔ واللہ غفور رحیم۔ جس امر نے معاتبہ کو واجب کیا اس کو بخشنے والا ہے اور مواخذہ کو ختم کر کے رحم فرمانے والا ہے۔ ایک قول یہ کیا جاتا ہے : یہ گناہ صغیرہ ہے۔ صحیح یہ ہے یہ ترک اولیٰ پر معاتبہ ہے اور آپ کا صغیرہ اور کبیرہ گناہ نہیں۔
Ayah 66:2اس میں تین مسائل ہیں :
قسم کی تحلیل کفارہ ہے
مسئلہ نمبر 1 ۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم یمین کی تحلیل کفارہ ہے یعنی جب تم نے جس امر کے بارے میں قسم اٹھائی ہے اس کو مباح کرنے کو پسند کرو تو کفارہ ہی اس کی تحلیل (ختم کرنے والا) بن سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین (المائدہ : 89) اس سے یہ چیز حاصل ہوتی ہے جس نے ماکول یا مشروب میں سے کسی چیز کو حرام کیا۔ ہمارے نزدیک وہ چیز اس پر حرام نہ ہوگی کیونکہ کفارہ، قسم کے لئے ہوتا ہے تحریم کے لئے نہیں ہوتا جیسے ہم بیان کرچکے ہیں۔ امام ابوحنیفہ ہر حال میں اسے قسم خیال کرتے ہیں اور اس میں مقصود، انتقاع کا اعتبار کرتے ہیں جس کو وہ حرام قرار دیتے ہیں۔ جب اس نے کھانے کو حرام قرار دیا تو اس نے اس کے کھانے کے بارے میں قسم اٹھائی۔ جب لونڈی کو حرام کیا تو اس نے اس کے ساتھ وطی کے بارے میں قسم اٹھائی، بیوی کو حرام کیا تو اس سے ایلاء کیا جب اس کی کوئی نیت نہ ہو۔ اگر ظہار کی نیت کی تو ظہار ہوگا۔ اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق بائنہ ہوگی۔ اس طرح اگر اس نے دو یا تین طلاقوں کی نیت کی۔ اگر اس نے کہا : میں نے جھوٹ کی نیت کی ہے، تو دیانۃً اس کی تصدیق کی جائے گی۔ قضائً اس کی تصدیق نہ کی جائے گی کہ ایلاء کو باطل کیا جائے۔ اگر اس نے کہا : ہر حلال چیز اس پر حرام ہے تو مراد کھانا اور مشروب ہوگا جب وہ نیت نہ کرے بصورت دیگر جس کی وہ نیت کرے۔ امام شافعی اسے قسم شمار نہیں کرتے لیکن عورتوں میں صرف ایک کفارہ کا سبب مانتے ہیں۔ اگر طلاق کی نیت کی تو یہ ان کے نزدیک طلاق رجعی ہوگی جس طرح پہلے وضاحت گزر چکی ہے۔ اگر قسم اٹھائی کہ وہ اسے نہیں کھائے گا، وہ حانث ہوجائے گا اور کفارہ ادا کرنے سے قسم سے فارغ ہوجائے گا۔
لونڈی یا بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنے کی صورت میں کفارہ کالزوم
مسئلہ نمبر 2 ۔ اگر اس نے اپنی لونڈی یا اپنی بیوی کو حرام کیا تو اس پر کفارہ یمین لازم ہوگا جس طرح صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے جب ایک آدمی نے اپنے اوپر اپنی بیوی کو حرام کرلیا تو یہ قسم ہے اس کا کفارہ ادا کرے (1) ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ (الاحزاب :21)
نبی کریم ﷺ کے بارے میں کفارہ کی ادائیگی میں پایا جانے والا اختلاف
مسئلہ نمبر 3 ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا۔ حضرت حسن بصری سے مروی ہے : آپ ﷺ نے کفارہ ادا نہیں کیا (2) کیونکہ آپ کی شان ہے : قد غفرلہ ماتقدم من ذنبہ وماتاخر اس سورت میں کفارہ یمین کا حکم امت کو دیا گیا ہے جبکہ پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ مراد نبی کریم ﷺ کی ذات ہے پھر امت آپ ﷺ کی اقتدا کرتی ہے۔ ہم پہلے حضرت زید بن اسلم سے روایت نقل کرچکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غلام آزاد کر کے کفارہ ادا کیا۔ مقاتل سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت ماریہ کو جو اپنے اوپر حرام کیا تھا، اس سلسلہ میں ایک غلام کو آزاد کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔
ایک قول یہ کیا گیا ہے : اللہ تعالیٰ نے لونڈی کو تم پر حلال کیا ہے اس کی وضاحت اس ارشاد میں ہے : ما کان علی النبی من حرج فیما فرض اللہ لہ (الاحزاب :38) یعنی حلال عورتوں میں سے جو آپ ﷺ کے لئے مشروع کیں یعنی تمہارے لئے ملک یمین (لونڈی) کو حلال کیا تو تم ماریہ کو اپنی ذات پر کیوں حرام کرتے ہو جبکہ اللہ تعالیٰ نے اسے تم پر حلال کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تحلۃ الیمین سے مراد استثناء کرنا ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے استثناء کو مقدر کیا ہے جس کو یمین سے خارج کردیا گیا ہے۔ پھر ایک قوم کے نزدیک قسم سے استثناء جائز ہے جب وہ چاہے اگرچہ ایک عدت درمیان میں حائل ہوچکی ہو۔ اکثر علماء کے نزدیک متصل ہی جائز ہے۔ گویا فرمایا : جن امور کے بارے میں قسم اٹھائی ہے اس میں استثناء کرلو۔ قسم کو کفارہ کے ساتھ ہی ختم کیا جاسکتا ہے۔ یہ لفظ اصل میں تحللۃ ہے اس میں ادغام کردیا گیا ہے۔ تفعلۃ یہ باب تفعیل کا مصدر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تحلۃ یہ کفارہ ہے۔ قسم اٹھانے والے نے جسے اپنے اوپر حرام کیا تھا کفارہ اسے قسم اٹھانے والے پر حلال کر دے گا۔ جب اس نے کفارہ ادا کردیا تو وہ اس طرح ہوجائے گا گویا اس نے قسم اٹھائی ہی نہیں تھی۔ واللہ مولکم اللہ تعالیٰ تمہارا مددگار ہے جس چیز کو تم اپنے اوپر حرام کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس سے ممنوعیت کو زائل فرماتا ہے اور کفارہ کے ذریعے قسموں کو ختم کر کے تمہارے لئے رخصت پیدا فرماتا ہے اور جو تم کفارہ ادا کرتے ہو اس پر تمہیں ثواب عطا فرماتا ہے۔
Ayah 66:3واذا سرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا یاد کیجئے جب نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ کو راز کی ایک بات بتائی یعنی یہ کہ آپ ﷺ نے حضرت ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیا اور حضرت حفصہ سے مطالبہ کیا کہ اس بات کو راز میں رکھے۔ کلبی نے کہا : نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ سے یہ سرگوشی کی تھی (1) کہ ” تیرا والد اور عائشہ کا والد میرے بعد میری امت پر میرے خلیفہ ہوں گے “۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کہا : نبی کریم ﷺ نے اپنے بعد خلافت کا ذکر حضرت حفصہ سے کیا تو حضرت حفصہ نے اس کا ذکر کیا (2) ۔ دارقطنی اپنی سنن میں کلبی سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے واذا سرا النبی الی بعض ازواجہ کی تفسیر میں روایت نقل کرتے ہیں، حضرت حفصہ اچانک نبی کریم ﷺ کے پاس آگئیں جبکہ نبی کریم ﷺ ام ابراہیم حضرت ماریہ کے پاس موجود تھے۔ فرمایا : ” عائشہ کو نہ بتانا “۔ اسے فرمایا : ” تیرا والد اور اس کا والد عنقریب میرے بعد حاکم بنیں گے یا والی بنیں گے۔ عائشہ کو یہ نہ بتانا “۔ حضرت حفصہ گئیں اور حضرت عائشہ کو بتا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر سے آپ ﷺ کو آگاہ کردیا۔ بعض باتوں کو واضح کردیا اور بعض سے اعراض کیا : اس قول سے اعراض کیا : ” تیرا باپ اور اس کا باپ میرے بعد والی ہوں گے “۔ لوگوں میں اس بات کے عام ہونے کو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند کیا۔ فلما نبات بہ جب حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو بتایا کیونکہ ان میں دوستی تھی اور دوسری ازواج مطہرات کے خلاف ایک دوسری کی مددگار تھیں۔ واظھرہ اللہ علیہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اطلاع فرما دی (3) کہ حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو بتا دیا ہے۔ طلحہ بن مصرف نے پڑھا ہے فلما نبات یہ دونوں لغتیں ہیں۔ انبا، نبا۔ عرف بعضہ و اعرض عن بعض کا معنی ہے حضرت حفصہ کو کچھ وہ باتیں بتا دیں جو آپ کی طرف وحی کی گئی تھیں اور کچھ سے چشم پوشی کی، مقصد اپنی کرامت و شرافت کا اظہار تھا، یہ سدی کا قول ہے۔ حضرت حسن بصری نے کہا : کریم آدمی کبھی بھی انتہا کو نہیں پہنچتا (1) ۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : عرف بعضہ واعرض عن بعض۔ مقاتل نے کہا : حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ سے جو باتیں کیں ان میں سے بعض کا ذکر کیا۔ وہ ام ولد کی بات تھی اور بعض کے بارے میں نہ بتایا۔ وہ حضرت حفصہ کا حضرت عائشہ کے لئے یہ قول تھا : حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق آپ ﷺ کے بعد والی بنیں گے۔ عام قرأت عرف ہے۔ اس کا معنی وہی ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے۔ ابو عبید اور ابو حاتم نے اسے ہی پسند کیا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان دلالت کرتا ہے، واعرض عن بعض یعنی اسے بعض چیزوں کے بارے میں آگاہ نہ کیا۔ اگر یہ مخففہ ہوتا تو اس کے ضد میں فرماتا وانکر بعضا حضرت علی، حضرت طلحہ بن مصرف، حضرت ابوعبد الرحمن سلمی، حضرت حسن بصری، قتادہ، کلبی، کسائی اور اعمش نے ابوبکر سے یہ قول نقل کیا ہے عرف بعض جب تخفیف کے ساتھ ہو تو اس کا معنی ہوگا اس بارے میں ناراض ہوئے اور اس کو سزا دی۔ یہ تیرے اس قول کی طرح ہے جو تو اس آدمی کو کہتا ہے جو تیرے ساتھ بدمعاملگی کرتا ہے : لاعرفن لک ما فعلت یعنی جو تو نے کیا ہے میں اس پر تجھے سزا دوں گا۔ نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ کو یہ سزا دی کہ اسے ایک طلاق دے دی۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : اگر آل خطاب میں کوئی بھلائی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ تجھے طلاق نہ دیتے۔ حضرت جبرئیل امین نے رسول اللہ ﷺ کو حضرت حفصہ سے رجوع کرنے کو کہا اور سفارش بھی کی۔ نبی کریم ﷺ ایک ماہ تک ازواج سے الگ تھلگ رہے اور حضرت ماریہ جو حضرت ابراہیم کی والدہ تھیں ان کے بالا خانے میں مقیم رہے یہاں تک کہ آیت تحریم نازل ہوئی جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : نبی کریم ﷺ نے اسے طلاق دینے کا ارادہ کیا تو جبرئیل امین نے عرض کی : اسے طلاق نہ دیجئے کیونکہ وہ بہت زیادہ روزے رکھنے والی اور قیام کرنے والی ہے۔ جنت میں یہ آپ کی بیویوں میں سے ہے تو حضور ﷺ نے اسے طلاق نہ دی۔
فلما نبا ھائہ جب نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ کو اس چیز سے آگاہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کیا تھا۔ قالت من انباک ھذا یا رسول اللہ ! کس نے آپ کو اس بارے میں آگاہ کیا ؟ حضرت حفصہ نے گمان کیا تھا کہ حضرت عائشہ صدیقہ نے آپ کو خبر دی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا نبانی العلیم الخبیر مجھے اس علیم وخبیر نے بتایا ہے جس پر کوئی چیز مخفی نہیں۔ ھذا، انبا کے دو مفعولوں کے قائم مقام ہے۔ پہلا نبا یہ ایک مفعول کی طرف متعدمی ہے اور دوسرا نبا ایک مفعول کی طرف متعدی ہے کیونکہ نبا اور انبا جب مبتدا اور خبر پر داخل نہ ہوں تو یہ جائز ہوگا کہ ایک مفعول اور دو مفعول کافی ہوں۔ جب یہ مبتدا اور خبر پر داخل ہوں تو ان میں سے ہر ایک تین مفعولوں کی طرف متعدی ہوگا۔ دو مفعولوں پر اکتفا تیسرے کو چھوڑ کر کافی نہ ہوگا کیونکہ تیسرا مفعول حقیقت میں مبتدا کی خبر ہوتا ہے اس کے بغیر اقتصار درست نہیں جس طرح خبر کے بغیر مبتدا پر اقتصار کرنا درست نہیں۔
Ayah 66:4ان تتوبا الی اللہ مراد حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ ہیں۔ ان دونوں کو توبہ پر برانگیختہ کیا کیونکہ ان سے ایسا امر واقع ہوا جو رسول اللہ ﷺ کی محبت کے خلاف میلان رکھتا تھا۔ فقد صغت قلوبکما یعنی تمہارے دل حق سے پھرگئے (1) ۔ یہ امر تھا کہ دونوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ چیز پسند کریں جسے نبی کریم ﷺ نے ناپسند کیا تھا جیسے لونڈی سے اجتناب کرنا اور شہد سے اجتناب کرنا جبکہ نبی کریم ﷺ شہد اور عورتوں سے محبت رکھتے تھے۔ ابن زید نے کہا : دونوں کے دل اس طرف مائل ہوئے کہ انہیں اس چیز نے خوش کیا کہ آپ ﷺ ام ولد سے رک جائیں تو انہیں اس چیز نے خوش کیا جسے نبی کریم ﷺ نے پسند کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان دونوں کے دل توبہ کی طرف مائل ہوئے۔ فرمایا : فقد صغت قلوبکما یہ نہیں فرمایا فقد صغی قلباکما۔ عربوں کا معمول ہے جب وہ تثنیہ ذکر کرتے ہیں تو ایک کو جمع لاتے ہیں کیونکہ یہ اشکا کا باعث نہیں ہوتا۔ یہ بحث سورة مائدہ آیت 38 میں اللہ تعالیٰ کے فرمان فاقطعوا ایدھما میں گزر چکی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب بھی تثنیہ کے ساتھ اضافت واقع ہو تو وہاں جمع کے ساتھ وضاحت کرنا زیادہ مناسب ہے کیونکہ یہ زیادہ باوقار اور تخفیف کا باعث ہے۔ فقد صغت قلوبکما یہ جزا کی شرط نہیں کیونکہ صغو (میلان) پہلے ہوچکا تھا۔ جو اب شرط مخدوف ہے۔ حذف کی وجہ یہ ہے کہ یہ ہر کسی کو معلوم ہے یعنی اگر تم توبہ کرو تو تمہارے لئے یہ بہتر ہوتا ہے کیونکہ تمہارے دل حق سے مائل ہوچکے تھے۔
وان تظھرا علیہ یعنی تم معصیت اور ایذا کے ساتھ نبی کریم ﷺ کے خلاف باہم معاونت کرو۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے (2): میں ایک سال تک رکا رہا جبکہ میں ارادہ رکھتا تھا کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے ایک آیت کے بارے میں پوچھوں۔ آپ کی ہیبت کی وجہ سے نہ پوچھ سکا یہاں تک کہ آپ حج کے لئے روانہ ہوئے تو میں بھی حج کے لئے روانہ ہوا۔ جب آپ واپس لوٹے تو ہم ایک راستہ پر تھے آپ اپنی ضرورت کے لئے ایک درخت کی طرف ہو لئے۔ میں رک گیا یہاں تک کہ آپ فارغ ہوگئے۔ پھر میں آپ کے ساتھ چل پڑا۔ میں نے عرض کی : اے امیر المومنین ! وہ دو بیویاں کون سی تھیں جنہوں نے رسول اللہ کے معاملہ میں باہم ایک دوسرے کی مدد کی تھی ؟ فرمایا : وہ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ تھیں۔ میں نے عرض کی : اللہ کی قسم ! میں ایک سال سے آپ سے یہ پوچھنا چاہتا تھا آپ کی ہیبت کی وجہ سے پوچھ نہ سکا۔ فرمایا : ایسا نہ کیا کر، تجھے جو گمان ہو کہ میرے پاس علم ہے تو مجھ سے پوچھ لے۔ اگر مجھے علم ہوا تو میں تجھے بتا دوں گا۔
فان اللہ ھو مولٰہ اللہ آپ کا ولی اور مددگار ہے ان کا باہمی تعاون آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ وجبرئیل و صالح المومنین عکرمہ اور سعید بن جبیریل نے کہا : صالح المومنین سے مراد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق تھے کیونکہ حضرت ابوبکر حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت عمر حضرت حفصہ کے والد تھے۔ دونوں ان دونوں کے خلاف رسول اللہ ﷺ کے مددگار تھے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد نیک مومن ہیں۔ صالح اسم جنس ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : والعصر۔ ان الانسان لفی خسر۔ (العصر) یہ طبری کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صالح المومنین سے مراد انبیاء ہیں، یہ علاء بن زید، قتادہ اور سفیان کا قول ہے۔ ابن زید نے کہا : مراد ملائکہ ہیں۔ سدی نے کہا : مراد حضرت محمد ﷺ کے صحابہ ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : صالح المومنین اصل میں واحد کا صیغہ نہیں۔ اصل میں صالحوا المومنین تھا۔ صالحین کو مومنین کی طرف مضاف کیا اسے وائو جمع کے بغیر لکھا گیا کیونکہ اس صورت میں واحد اور جمع کا صیغہ ایک ہے جس طرح مصحف میں ایسی اشیاء آتی ہیں جن میں لفظ کا حکم متنوع ہوتا ہے، خط کی وضع متنوع نہیں ہوتی۔ صحیح مسلم میں حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب ؓ نے مجھے بیان کیا جب نبی کریم ﷺ نے اپنی عورتوں سے علیحدگی اختیار کی (1) ۔ حضرت عمر نے کہا : میں مسجد میں داخل ہوگیا تو لوگ زمین پر کنکریاں مار رہے تھے۔ وہ کہہ رہے تھے : رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ یہ حکم حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہے۔ میں نے کہا : آج میں ضرور جانوں گا۔ میں حضرت عائشہ صدیقہ کے پاس گیا، میں نے کہا : اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تجھے اپنے عمل کے بارے میں یہ خبر پہنچی ہے کہ تو رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتی ہے۔ حضرت عائشہ نے کہا : اے ابن خطاب ! تیرا مجھ سے کیا واسطہ ! تجھے اپنی بیٹی کی خبر لینی چاہئے۔ حضرت عمر نے کہا : میں حضرت حفصہ کے پاس گیا۔ میں نے اس سے کہا : اے حفصہ ! کیا تجھے اپنے عمل کے بارے میں یہ خبر پہنچی ہے کہ تو رسول اللہ ﷺ کو اذیت دیتی ہے۔ اللہ کی قسم ! تو خوب جانتی ہے کہ رسول اللہ تجھ سے محبت نہیں کرتے۔ اگر میں نہ ہوتا تو آپ ﷺ تجھے طلاق دے دیتے۔ حضرت حفصہ بڑی شدت سے روئیں۔ میں نے اس سے پوچھا : رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں ؟ حضرت حفصہ نے کہا : وہ اپنے چوبارہ میں ہیں۔ میں داخل ہوا تو میں رسول اللہ ﷺ کے غلام رباح کے پاس تھا جو چوبارہ کی دہلیز پر بیٹھا ہوا تھا۔ وہ اپنی دونوں ٹانگیں اس لکڑی پر لٹکائے ہوئے تھا جس میں سوراخ کیا گیا تھا۔ یہ ایسی لکڑی تھی جس کے سہارے سے رسول اللہ ﷺ اوپر چڑھتے اور نیچے اترتے تھے۔ میں نے آواز دی : اے رباح ! رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کی مجھے اجازت لے دو ۔ رباح نے کمرہ کی طرف دیکھا، پھر میری طرف دیکھا اور کچھ بھی نہ کہا۔ پھر میں نے کہا : اے رباح ! میرے لئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت طلب کرو۔ رباح نے کمرے کی طرف دیکھا، پھر میری طرف دیکھا اور کچھ بھی نہ کہا۔ پھر میں نے بلند آواز سے کہا : اے رباح ! میرے لئے رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت طلب کرو۔ میں گمان کرتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ نے خیال فرمایا : میں حضرت حفصہ کے مسئلہ میں بات کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ اللہ کی قسم ! اگر رسول اللہ مجھے حفصہ کی گردن اڑانے کا حکم دیتے تو میں اس کی گردن اڑا دیتا۔ میں نے اپنی آواز کو بلند کیا۔ رباح نے مجھے اشارہ کیا کہ میں اوپر آ جائوں۔ میں رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوا جبکہ آپ چٹائی پر پہلو کے بل لیٹے ہوئے تھے۔ میں بیٹھ گیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے تہبند کو درست کیا جبکہ آپ کے جسم پر کوئی اور کپڑا نہ تھا جبکہ چٹائی آپ کے پہلو پر نشان چھوڑ گئی تھی۔ میں نے رسول اللہ کے کمرے میں نظر دوڑائی تو وہاں صاع بھر جو پڑے تھے اور کمرہ کی ایک جانب اتنے ہی قرظ درخت کے پتے تھے اور ایسا چمڑہ لٹکا ہوا تھا جس کی دباغت مکمل نہ ہو۔ حضرت عمر نے کہا : میری آنکھوں سے جلدی آنسو رواں ہوگئے۔ فرمایا : ” اے ابن خطاب ! تجھے کیا چیز رلاتی ہے ؟ “ میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! میں کیوں نہ روئوں ؟ اس چٹائی نے آپ ﷺ کے پہلو میں نشان چھوڑے ہیں اور یہ کمرہ، میں اس میں دیکھتا ہوں جو کچھ دیکھتا ہوں وہ قیصر و کسریٰ پھلوں اور نہروں میں رہتے ہیں جبکہ آپ ﷺ اللہ کے رسول ہیں، اس کے چنے ہوئے ہیں اور یہ آپ ﷺ کی کل جمع پونجی ہے۔ فرمایا : ” اے ابن خطاب ! کیا تو اس پر راضی نہیں کہ ہمارے لئے آخرت ہو اور ان کے لئے دنیا ہو “۔ میں نے عرض کی : کیوں نہیں۔ کہا : جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا تو میں نے آپ ﷺ کے چہرہ میں غصہ و غضب کے آثار دیکھے تھے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عورتوں کے معاملہ میں کیا چیز آپ کو پریشان کرتی ہے، اگر آپ ﷺ نے انہیں طلاق دے دی ہے تو اللہ تعالیٰ ، فرشتے، جبریل، میکائیل، میں، ابوبکر اور مومنین آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتا ہوں میں نے بہت ہی کم گفتگو کی مگر میں امید رکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ میرے قول کی تصدیق فرمائے گا تو یہ آیت اور آیت تخییر نازل ہوئی : عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن (التحریم : 5) وان تظھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ و جبریل و صالح المومنین والمئکۃ بعد ذلک ظہیر۔ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ دوسری ازواج مطہرات کے خلاف باہم تعاون کیا کرتی تھیں۔ میں نے عرض کی : یارسول اللہ ! کیا آپ ﷺ نے بیویوں کو طلاق دے دی ہے ؟ فرمایا : ” نہیں “۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں مسجد میں داخل ہوا جبکہ لوگ کنکریاں زمین پر مار رہے تھے۔ وہ کہہ تھے : رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے۔ کیا میں نیچے اتروں اور انہیں خبر دوں کہ آپ ﷺ نے انہیں طلاق نہیں دی ؟ فرمایا : ” ہاں اگر تو چاہے “۔ میں لگاتار آپ ﷺ سے باتیں کرتا رہا یہاں تک کہ غصہ آپ ﷺ کے چہرے سے دور ہوگیا۔ آپ ﷺ کے دندان مبارک ظاہر ہوئے اور آپ ﷺ ہنس پڑے۔ آپ ﷺ کے دندان مبارک سب سے حسین تھے۔ پھر نبی کریم ﷺ نیچے اترے اور میں بھی نیچے اترا۔ میں نیچے اتراجب کہ اس لکڑی کا سہارا لے رہا تھا اور رسول اللہ ﷺ اترے گویا آپ زمین پر چل رہے ہوں۔ آپ اس کے ساتھ ہاتھ کا سہارا نہیں لے رہے تھے۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ ﷺ کمرہ میں انتیس دن رہے۔ فرمایا : مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے۔ میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوگیا تو میں نے بلند آواز سے ندا دی : رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دی اور یہ آیت نازل ہوئی : واذا جائھم امر من الامن او الخوف اذا عوابہ و لو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منھم لعلمہ الذین یستنبطونہ منھم (النسائ : 83) میں وہ شخص تھا جس نے سب سے پہلے اس امر کا استنبطاط کیا تھا اور اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر کو نازل فرمایا۔
وجبریل اس میں کئی لغتیں ہیں جس کا ذکر سورة بقرہ میں ہوچکا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ اس کا عطف مولہ پر ہو معنی ہوگا اللہ تعالیٰ اس کا ولی ہے اور جبریل اس کا ولی ہے۔ مولہ پر وقف نہیں کیا جائے گا جبریل پر وقف ہوگا۔ صالح المومنین مبتدا ہے اور الملئکۃ کا اس پر عطف ہے اور ظھیر اس کی خبر ہے اور جمع کے معنی میں ہے۔ صالح المومنین سے مراد حضرت ابوبکر صدیق ہیں، یہ مسیب بن شریک کا قول ہے۔ سعید بن جبیر نے کہا : مراد حضرت عمر ہیں۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ہیں۔ شقیق نے حضرت عبد اللہ سے دو نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ آیت میں صالح المومنین سے مراد حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے۔ مراد حضرت علی شیر خدا ہیں۔ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ارشاد فرماتے ہوئے سنا کہ ” صالح المومنین سے مراد حضرت علی شیر خدا ہیں “۔ اس کے علاوہ بھی اقوال ہیں جن کا ذکر ہوچکا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ جبریل مبتدا ہو ما بعد اس کا معطوف ہو اور خبر ظہیر ہو۔ یہ جمع کے معنی میں ہو۔ اس تعبیر کی بنا پر مولہ پر وقف ہوگا اور والمئکۃ بعد ذلک ظہیر مبتدا اور خبر ہو اور ظہیر کا معنی مددگار ہو، یہ ظہراء کے معنی میں ہو جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وحسن اولئک رفیقا (النسائ) ابو علی نے کہا : فعیل کا وزن کثرت کے لئے استعمال ہوا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ولا یسئل حمیم حمیما۔ یبصرونھم (المعارج) ایک قول یہ کیا گیا ہے، دونوں ازواج کا باہمی تعاون نبی کریم ﷺ سے نفقہ کے مطالبہ میں تھا، اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے ایک ماہ تک الگ رہنے کی قسم اٹھائی اور آپ ﷺ الگ رہے۔ صحیح مسلم میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے (1) ۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ آئے۔ آپ رسول اللہ کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت چاہتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو پایا کہ وہ دروازے پر بیٹھے ہوئے ہیں کسی کو اندر جانے کی اجازت نہیں مل رہی۔ حضرت ابوبکر صدیق کو اجازت ملی تو وہ داخل ہوگئے، پھر حضرت عمر حاضر ہوئے۔ انہوں نے اجازت لی تو آپ کو بھی اجازت دے دی گئی۔ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو پایا کہ آپ کی ازواج آپ ﷺ کے گرد خاموش بیٹھی تھیں۔ حضرت عمر ؓ نے کہا : میں ضرور ایسی بات کروں گا جس کے ذریعے حضور ﷺ کو ہنسا دوں گا۔ عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر بنت خارجہ مجھ سے نفقہ کا مطالبہ کرتی تو میں اس کی طرف اٹھتا تو میں اس کی گردن دبوچ لیتا۔ رسول اللہ ﷺ ہنس دیئے۔ فرمایا : ” یہ میرے اردگرد جمع ہیں جس طرح تم دیکھتے ہو یہ مجھ سے نفقہ کا سوال کرتی ہیں ‘۔ حضرت ابوبکر صدیق حضرت عائشہ کی طرف اٹھے تاکہ اس کی گردن دبا دیں۔ حضرت عمر حضرت حفصہ کی گردن دبانے کے لئے اٹھے۔ دونوں کہہ رہے تھے : تم رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کا مطالبہ کرتی ہو جو ان کے پاس نہیں۔ سب نے عرض کی : اللہ کی قسم ! ہم رسول اللہ ﷺ سے کبھی بھی کسی ایسی چیز کا سوال نہیں کریں گی جو ان کے پاس نہ ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ انتیس دن تک ان سے الگ تھلگ رہے، پھر یہ آیت نازل ہوئی یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن تردن الحیوۃ الدنیا و زینتھا فتعالین امتعکن واسر حکن سراحا جمیلا۔ وان کنتن تردن اللہ و رسولہ والدار الاخرۃ فان اللہ اعد للمحسنت منکن اجرا عظیما۔ (الاحزاب) میں اس کا ذکر ہے۔
Ayah 66:5عسی ربہ ان طلقکن یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی جیسی گزارش حضرت عمر ضری اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کی تھی۔ پھر یہ کہا گیا : عسی کا لفظ قرآن حکیم میں جہاں بھی واقع ہوا ہے اس کا معنی ہے واجب ہے۔ مگر ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی بھی واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے شرط کے ساتھ معلق کیا ہے جو طلاق دینا ہے جبکہ حضور ﷺ نے انہیں طلاق نہ دی۔
ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن کیونکہ اگر تم ان سے بہتر ہوتیں رسول اللہ ﷺ تمہیں طلاق نہ دیتے، یہ سدی نے معنی کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ کے لئے وعدہ ہے۔ اگر آپ انہیں دنیا میں طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ دنیا میں اپنے رسول کی شادی ان سے بہتر عورتوں سے کر دے گا۔ ان یبدلہ کو تشدید اور تخفیف کے ساتھ بھی پڑھا گیا ہے۔ تبدیل اور ابدالی کا معنی ایک ہے جس طرح تنزیل اور انزال کا معنی ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیویوں کو طلاق نہیں دیں گے لیکن اپنی قدرت کے بارے میں خبر دی کہ رسول اللہ نے طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے بہتر بیویاں دے دے گا۔ مقصد انہیں ڈرانا تھا۔ یہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف اشارہ ہے : و ان تتولوا یبتبدل قوما غیرکم (محمد :38) اس آیت میں بھی قدرت کے بارے میں خبر دی اور انہیں ڈرایا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسے افراد بھی موجود ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے افضل ہیں۔
مسلمت یعنی مخلص، یہ سعید بن جبیر نے کہا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے امر کو تسلیم کرنے والیاں ہیں ( 2) ۔ مومنت انہیں جو حکم دیا جائے یا جس امر سے نہی کی جائے اس کی تصدیق کرنے والیاں ہیں۔ قنتت اطاعت کرنے والیاں ہیں۔ قنوت کا معنی اطاعت ہے۔ یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ تئبت وہ اپنے گناہوں سے توبہ کرنے والیاں ہیں، یہ سدی کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رسول اللہ ﷺ کے امر کی طرف رجوع کرنے والیاں اور اپنی پسند کی چیزوں کو چھوڑنے والیاں۔ عبدت اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت کرنے والیاں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : قرآن میں جہاں بھی لفظ عبادت کا ذکر ہے اس سے مراد توحید ہے۔ سبحت روزے دار، یہ حضرت ابن عباس ؓ، حضرت حسن بصری اور ابن جبیر کا قول ہے۔ زید بن اسلم، ان کے بیٹے عبد الرحمن اور یمان نے کہا : مراد ہے ہجرت کرنے والیاں۔ زید نے کہا : حضرت محمد ﷺ کی امت میں سیاحت ہجرت ہی ہے۔ سیاحۃ سے مراد زمین میں گھومنا پھرنا ہے۔ فراء، قتبی اور دوسرے علماء نے کہا : روزے دار کو سائح کہتے کیونکہ سائح کا زادراہ نہیں ہوتا جہاں سے وہ کھانا پاتا ہے کھا لیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ اللہ تعالیٰ کی طاعت میں دور تک جانے والیاں ہیں۔ یہ ساح الماء سے مشتق ہے جس کا معنی ہے پانی چلا گیا۔ سورة برأت میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔
ثیبت وابکارا۔ ان میں سے کچھ ثیبہ ہوں گی اور کچھ باکرہ ہوں گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : شادی شدہ کو ثیبہ کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ اپنے خاوند کی طرف لوٹنے والی ہے (1) ۔ اگر وہ اس کے پاس رہتی یا دوسرے خاوند کی طرف لوٹنے والی ہے اگر وہ اس سے جدا ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کیونکہ وہ اپنے والدین کے گھر کی طرف لوٹنے والی ہے یہ قول زیادہ صحیح کیونکہ ہر شادی شدہ خاوند کی طرف لوٹنے والی نہیں ہوتی۔ جہاں تک بکر کا تعلق ہے وہ کنواری ہے۔ اسے بکر کا نام دیا گیا ہے کیونکہ وہ پہلی والی حالت پر ہوتی ہے جس پر اسے پیدا کیا گیا ہوتا ہے۔ کلبی نے کہا : ثیب سے مراد حضرت آسیہ ہے جو فرعون کی بیوی تھی اور بکر سے مراد حضرت مریم ہے جو عمران کی بیٹی تھی (2) ۔
میں کہتا ہوں : یہ اس آدمی کے قول پر تعبیر ہوگی جو یہ کہتا ہے : بیشک تبدیلی اللہ تعالیٰ کا اپنے نبی کے لئے وعدہ ہے۔ اگر نبی کریم ﷺ ان بیویوں کو دنیا میں طلاق دے دیتے تو اللہ تعالیٰ آخرت میں آپ کی زوجیت میں ان سے بہتر عورتیں دے دے گا۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔