Ayah 66:6انسان کا اپنی ذات اور اپنے اہل کو آگ سے بچانا
اس میں ایک ہی مسئلہ ہے۔ وہ انسان کا اپنی ذات اور اپنے اہل کو آگ سے بچانا۔ ضحاک نے کہا : اس کا معنی ہے اپنے نفسوں کو بچائو جبکہ تمہارے اہل اپنے نفسو کو آگ سے بچائیں (3) ۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے، اپنے نفسوں کو بچائو اور اپنے گھر والوں کو ذکر اور دعا کا حکم دو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے انہیں بچائے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا اور مجاہد اور قتادہ نے کہا : اپنے نفوس کو اپنے افعال اور اپنے اہل کو وصیت کے ذریعے بچائو۔ ابن عربی نے کہا، یہی قول صحیح ہے (1) ۔ وہ معنی جو عطف عطا کرتا ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان اشتراک کا تقاضا کرتا ہے وہ فعل کے معنی میں ہے جس طرح یہ قول ہے : علفتھا تبنا وماء با ردا یہ اصل میں علفتھا تبنا واشرب تھا ماء باردا جس طرح یہ قول ہے : ورأیت زوجک فی الوغی متقلدا سیفا و رمحا (٭) آدمی پر ضروری ہے کہ وہ اپنے نفس کی اصلاح طاعت کے ساتھ کرے اور اپنے اہل کی اصلاح اس طرح کرے جس طرح حاکم اپنی رعیت کی اصلاح کرتا ہے۔ حدیث صحیح میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : کلم راع کلم مسئول عن رعیتہ فالامام الذی علی الناس راع و ھو مسئول عنھم و الرجل راع علی اھل بیتہ و ھو مسئول عنھم تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائے گا حاکم جو لوگوں پر امیر ہے وہ ان کا نگہبان ہے اس سے لوگوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ آدمی اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اس سے گھر والوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ حضرت حسن بصری نے اس آیت کی تعبیر یوں کی ہوہ انہیں اچھائی کا حکم دیتا ہے اور برائی سے منع کرتا ہے۔ بعض علماء نے کہا : جب اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : قوا انفسکم اس میں اولاد بھی داخل ہے کیونکہ اولاد اس کا بعض ہوا کرتی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کے اس فرمان میں داخل ہے، ولا علی انفسکم ان تاکلوا من بیوتکم (النور : 61) باقی رشتہ داروں کی طرح ان کا الگ ذکر نہیں کیا۔ وہ انہیں حلال و حرام کی تعلیم دے، معاصی اور گناہوں سے بچائے، اس کے علاوہ جو دوسرے احکام ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” بچے کا باپ پر یہ حق ہے کہ اس کا اچھا نام رکھے، اسے لکھنا سکھائے اور جب بالغ ہوجائے تو اس کی شادی کر دے “۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” والد اپنی اولاد کو اچھے آداب سے بہتر کوئی چیز نہیں دیتا “ ( 2) ۔
عمرو بن شعیب اپنے باپ سے وہ دادا سے وہ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں، فرمایا : ” اپنے بچوں کو نماز کا حکم وہ جب ان کی عمر سات سال کی ہوجائے، انہیں مارو جب ان کی عمر دس سال کی ہوجائے ان کے بستر الگ کر دو “۔ اس روایت کو محدثین کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔ یہ ابو دائود کے الفاظ ہیں۔ حضرت سمرہ بن جندب سے بھی یہ روایت مروی ہے نبی کریم ﷺ سے مروی ہے : ” بچے کو نماز کا حکم دو جب وہ سات سال کا ہوجائے، جب دس سال کا ہوجائے تو نماز میں کوتاہی کرنے پر اسے مارو “۔ اسی طرح وہ اپنے گھر والوں کو نماز کے وقت، روزوں کے واجب ہونے اور روزہ کے افطار کے وجوب کے بارے میں بتائے جب وہ امر ثابت ہوجائے جبکہ یہ رؤیت ہلال کی طرف منسوب ہے۔
امام مسلم نے روایت کی ہے نبی کریم ﷺ جب تہجد کی نماز ادا فرماتے تو ارشاد فرماتے : ” یا عائشہ ! تم نماز پڑھو “ (3) ۔ روایت بیان کی گئی ہے نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ اس آدمی پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھا، اس نے نماز پڑھی اور اس نے اپنے اہل کو جگایا اگر وہ نہ جاگے تو اس نے اس کے چہرے پر پانی کا چھینٹا مارا۔ اللہ تعالیٰ اس عورت پر رحم فرمائے جو رات کو اٹھی، نماز پڑھی اور اپنے خاوند کو جگایا جب وہ نہ اٹھے تو اس نے خاوند کے منہ پر پانی کا چھینٹا مارا “۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : کمرے والوں کو بیدار کرو “ (1) ۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان : وتعاونوا علی البر والتقوی (المائدہ : 2) کے عموم کے تحت یہ داخل ہے۔ قشیری نے ذکر کیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت عمر ؓ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم اپنے نفوس کو بچاتے ہیں تو ہم اپنے گھر والوں کو کیسے بچائیں ؟ فرمایا : ” تم انہیں ایسی چیزوں سے منع کرو جن سے اللہ تعالیٰ نے تمہیں منع کیا ہے اور تم انہیں ایسی باتوں کا حکم دو جن کا اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے “۔ مقاتل نے کہا : یہ اس پر اس کی ذات، اولاد، اہل، غلاموں اور باندیوں کے بارے میں اس کا حق ہے۔ ال کیا نے کہا : ہم پر یہ فرض ہے کہ ہم اپنی اولادوں اور اپنے اہل کو دینی اور خیر کی تعلیم دیں اور ایسے آداب کی تعلیم دیں جس سے اعراض کی کوئی صورت نہ ہو، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : و امر اھلک بالصولۃ واصطبر علیھا (طہ : 132) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا : وانذر عشیر تک الاقربین۔ (الشعرائ) حدیث طیبہ میں ہے : مروھم بالصلوۃ وھم ابناء سبع بچوں کو نماز کا حکم دو جبکہ وہ سات سال کے ہوں۔ وقودھا الناس والحجارۃ اس بارے میں گفتگو سورة البقرہ میں گزر چکی ہے۔ علیھا ملئکۃ غلاظ شداد یعنی فرشتے جو زبانیہ ہیں وہ سخت دل ہیں جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو وہ رحم نہیں کرتے۔ وہ غضب سے پیدا کئے گئے ہیں۔ مخلوق کو عذاب دینا ان کو محبوب ہے جس طرح انسانوں کے لئے کھانا، کھانا اور مشروب پینا محبوب ہے۔ شداد وہ بدن کے سخت ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : گفتگو میں سخت اور افعال میں شدید ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب وہ جہنمیوں کو پکڑتے ہیں تو اس وقت سخت اور ان پر شدید ہوتے ہیں، یہ جملہ بولا جاتا ہے : فلان شدید علی فلان وہ اس پر قوی ہے۔ مختلف قسم کے عذاب میں انہیں عذاب دیتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : غلاظ سے مراد جسموں کا بھاری بھرکم ہونا ہے اور شدۃ سے مراد قوت ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ان میں سے ایک کے دو کندھوں کے درمیان ایک سال کی مسافت ہوتی ہے۔ ان میں سے ایک کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ وہ ایک ہنٹر مارے گا تو اس ایک ضرب سے ستر ہزار انسانوں کو جہنم کی گہرائی میں پھینک دے گا۔ ابن وہب نے ذکر کیا ہے ہمیں عبد الرحمان بن زید نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جہنم کے دارغوں کے بارے میں کہا : ان میں سے ایک کے دو کندھوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا فاصلہ مشرق و مغرب کے درمیان ہے (2) ۔ لا یعصون اللہ ما امرھم وہ اللہ تعالیٰ کے امر کی مخالفت نہیں کرتے نہ اس میں زیادتی کرتی ہیں اور نہ کمی کرتے ہیں ویفعلون ما یومرون۔ وہ اسی وقت اس کو بجا لاتے ہیں جس میں انہیں حکم دیا جاتا ہے نہ اس میں تاخیر کرتے ہیں اور نہ ہی اس میں تقدیم کرتے ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، اللہ تعالیٰ کا حکم بجا لانے میں انہیں لذت حاصل ہوتی ہے جس طرح جنتی کو سرور جنت میں رہنے کی وجہ سے ہوتا ہے۔ بعض معتزلہ نے اس کا ذکر کیا ہے ان کے نزدیک یہ ہے کہ قیامت میں کسی امر کا مکلف بنانا محال ہے اہل حق کا اعتقاد مخفی نہیں کہ اللہ تعالیٰ آج (دنیا) اور کل (آخرت) میں مکلف بنا سکتا ہے اور فرشتوں کے حق میں مکلف بنانے کا انکار نہیں کیا جاتا۔ اللہ تعالیٰ کو حق حاصل ہے کہ جو چاہے کرے۔
Ayah 66:7یایھا الذین کفروا لاتعتذر وا الیوم تمہاری معذرت کوئی نفع نہیں دیتی۔ یہ نہی مایوسی کو ثابت کرنے کیلئے ہے۔ انما تجزون ما کنتم تعملون۔ تم دنیا میں جو کچھ عمل کرتے رہے ہو اس کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا، اس کی مثل فیومئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعتبون۔ (الروم)
Ayah 66:8اس میں دو مسائل ہیں :
توبۃ نصوحاً سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا توبوا الی اللہ توبہ کا حکم ہے یہ ہر حال اور ہر زمانہ میں اہل ایمان پر فرض ہے اس کا بیان اور اس کے بارے میں گفتگو سورة نساء میں گزر چکی ہے۔
توبۃ نصوحا علماء اور اصحاب قلوب نے توبہ نصوح میں اختلاف کیا ہے۔ اس کے بارے میں تئیس قول ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایسی توبہ ہے (1) جس کے بعد گناہ کی طرف رجوع نہیں ہوتا جس طرح دودھ کھیری میں دوبارہ نہیں لوٹتا۔ حضرت عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت ابی بن کعب اور حضرت معاذ بن جبل ؓ نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : نصوح سے مراد سچی اور خالص توبہ ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس سے مراد خالص توبہ ہے۔ یہ جملہ بولا جاتا ہے : نصح یعنی اس کے لئے قول کو خالص کیا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : نصوح یہ ہے وہ گناہ جسے وہ پسند کرتا تھا اس سے بغض کرے اور جب اسے یاد آجائے تو اللہ تعالیٰ سے استغفار کرے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایسی توبہ ہے جس کے قبول ہونے کا اسے اعتماد نہ ہو اور وہ ڈرتا ہی رہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایسی توبہ ہے جس کے ساتھ وہ توبہ کا محتاج نہیں رہتا۔ کلبی نے کہا : توبہ نصوح یہ ہے وہ دل سے شرمندگی کا اظہار کرے، وہ زبان سے استغفار کرے اور گناہ کا قلع قمع کرے اور اسے اطمینان ہو کہ وہ دوبارہ اس طرح نہیں کرے گا۔ سعید بن جبیر نے کہا : اس سے مراد مقبول توبہ ہے اور توبہ اس وقت تک مقبول نہیں ہوتی جب تک اس میں تین شرطیں نہ ہوں۔ (1) یہ خوف کہ توبہ قبول نہ ہوگی۔ (2) یہ امید کہ توبہ قبول ہوجائے گی۔ (3) طاعات پر مواظبت اختیار کرنا۔ حضرت سعید بن مسیب نے کہا : ایسی توبہ جس کے ساتھ تم اپنے نفوس کو نصیحت کرتے ہو (2) ۔ قرظی نے کہا : چار چیزیں ان کو جامع ہیں۔ (1) زبان سے استغفار، (2) یہ امید کہ توبہ قبول ہوجائے گی۔ (3) طاعات پر مواظبت اختیار کرنا۔ حضرت سعید بن مسیب نے کہا : ایسی توبہ جس کے ساتھ تم اپنے نفوس کو نصیحت کرتے ہو (2) ۔ قرظی نے کہا : چار چیزیں ان کو جامع ہیں۔ (1) زبان سے استغفار، (2) بدن کے ساتھ قلع قمع کرنا۔ (3) دل میں یہ چیز رکھنا کہ دوبارہ ایسی غلطی نہیں کرے گا۔ (4) برے دوستوں کو چھوڑنا۔ سفیان ثوری نے کہا : توبتہ نصوح کی علامتیں چار ہیں۔ قلت، علت، ذلت اور غربت۔ فضیل بن عیاض نے کہا : یہ توبہ ایسی ہے کہ گناہ آنکھوں کے سامنے ہو تو ہمیشہ اسے دیکھتا ہی رہے، اسی کی مثل ابن مساک سے مروی ہے توبہ نصوح یہ ہے کہ تو اس گناہ کو اپنے سامنے رکھے جس میں تو نے حیاء میں کمی کی اور اپنی آخرت کے لئے تیا ری کرے۔ ابوبکر وراق نے کہا : اس سے مراد ہے وہ زمین جو وسیع و عریض ہے وہ تجھ پر تنگ ہوجائے اور تیرا نفس بھی تجھ پر تنگ ہوجائے جس طرح وہ تین صحابہ کرام جو غزوہ تبوک میں پیچھے رہ گئے تھے۔ ابوبکر واسطی نے کہا : یہ ایسی توبہ ہے۔ جو کسی عرض کے فوت ہونے کی وجہ سے نہیں کیونکہ جو دنیا میں اپنی ذاتی مفعت کے لئے گناہ کرتا ہے پھر آخرت میں ذاتی منفعت کے لئے توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ اپنی ذات کے لئے ہے، اللہ تعالیٰ کے لئے تو نہیں۔ ابوبکر دقاق مصری نے کہا : توبہ نصوح سے مراد جو حق کسی کا دینا ہو اسے واپس کرنا، کسی کا دعویٰ ہو اسے معاف کرنا اور ہمیشہ طاعات کرنا۔ رویم نے کہا : وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے روبرو رہے، اس کی طرف پشت نہ کرے جس طرح معصیت کے وقت تو اس کی طرف پشت کئے ہوئے تھا اس کی طرف منہ کرنے والا نہیں تھا۔ ذوالنون مصری نے کہا : توبتہ نصوح کی علامتیں تین ہیں۔ کم گفتگو، کم کھانا اور کم سونا۔ شقیق نے کہا : وہ اپنے نفس کو بہت زیادہ ملامت کرے اور شرمندگی سے جدا نہ ہوتا کہ آفات سے سلامتی کے ساتھ نجات پا جائے۔ سری سقطی نے کہا : توبہ نصوح اس وقت تک درست نہیں ہوتی جب تک وہ نفس اور مومنوں کے لئے مخلص نہیں ہوتا کیونکہ جو توبہ کو اپنا ساتھی بناتا ہے وہ پسند کرتا ہے کہ لوگ اس کی مثل ہوجائیں۔ جنید نے کہا : توبہ نصوح یہ ہے کہ وہ گناہ بھول جائے وہ اسے کبھی بھی یاد نہ کرے کیونکہ جس کی توبہ صحیح ہوجاتی ہے وہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرنے والا ہوجاتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ سے محبت کرتا ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کو بھول جاتا ہے۔ ذوالاذنین نے کہا : جس کے آنسو لگاتار بہتے رہیں اور سرکشیوں سے اس کا دل دور بھاگتا ہو۔ فتح موصلی نے کہا : اس کی علامتیں تین ہیں۔ خواہش نفس کی مخالفت، زیادہ رونا، بھوک اور پیاس برداشت کرنا۔ سہل بن عبد اللہ تستری نے کہا : یہ اہل سنت و جماعت کی توبہ ہے کیونکہ بدعتی کی کوئی توبہ نہیں۔ اس کی دلیل حضور ﷺ کا یہ فرمان ہے : ” اللہ تعالیٰ نے ہر بدعتی پر پردہ ڈال دیا ہے کہ وہ توبہ کرے “۔ حذیفہ سے مروی ہے : کسی بندے کے لئے یہی برائی کافی ہے کہ وہ گناہ سے توبہ کرے پھر اس میں جاواقع ہو۔ توبہ نصوح کا اصل معنی خالص ہونا ہے۔ یہ جملہ کہا جاتا ہے : ھذا عسل ناصح جب شہد گوند سے خالص ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ نصاحہ سے ماخوذ ہے (1) جس کا معنی سینا ہے۔ اس سے اخذ کرنے کی دو وجہیں ہیں۔ 1۔ یہ ایسی توبہ ہے جو توبہ کرنے والی کی طاعت کو پختہ کردیتی ہے جس طرح درزی سینے کے ساتھ کپڑے کو پختہ کرتا ہے اور مضبوط بناتا ہے۔ (2) اس توبہ نے اللہ تعالیٰ اور اس کے اولیاء کو جمع کردیا اور ان کو باہم وابستہ کردیا ہے جس طرح درزی کپڑے کو جمع کرتا ہے اور بعض کو بعض سے جوڑ دیتا ہے۔ عام قرأت نصوحا ہے کہ یہ توبہ کی صفت ہے جس طرح امراۃ صبور ہے بہت زیادہ صبر کرنے والی عورت۔ یہ ایسی توبہ ہے جو خالص ہونے میں انتہا تک پہنچنے والی ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ جائز ہے کہ نصوحا، نصح کی جمع ہے اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ مصدر ہے یہ جملہ کہا جاتا ہے : نصح نصاحۃ و نصوحا بعض اوقات فعالۃ اور فعول ایک ہی فعل کے مصدر میں جمع ہوجاتے ہیں جس طرح ذھاب اور ذھوب ہے۔ مبرد نے کہا : ایسی توبہ مراد ہے جو نصح والی ہے یہ جملہ بولا جاتا ہے : نصحت نصحاً و نصاحۃً و نصوحاً ۔
گناہوں سے توبہ کیسے ہوگی ؟
مسئلہ نمبر 2 ۔ وہ اشیاء جن سے توبہ کی جاتی ہے اور ان سے کیسے توبہ کی جاتی ہے ؟ علماء نے کہا : وہ عمل جس سے توبہ ہوتی ہے وہ اس حالت سے خالی نہ ہوگی یا تو وہ اللہ تعالیٰ کا حق ہوگا یا بندوں کا حق ہوگا۔ اگر اللہ تعالیٰ کا حق ہو جس طرح نماز کو ترک کرنا اس سے توبہ اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک شرمندگی کے ساتھ اس شے کی قضا ملی ہوئی نہ ہو جو عمل فوت ہوا۔ یہی صورتحال ہوگی جب روزہ ترک کیا جائے یا زکوٰۃ کی ادائیگی میں کوتاہی کی جائے۔ اگر وہ ناحق کسی انسان کا قتل ہو۔ اگر قصاص اس پر لازم آتا ہے اور وہ قصاص میں مطلوب ہے تو وہ قصاص لینے کا موقع دے۔ اگر وہ جھوٹی تہمت ہے جو حد کو واجب کرتی ہے تو وہ اپنی پیٹھ کوڑوں کے لئے پیش کرے، اگر وہ مطلوب ہو۔ اگر اسے معاف کرا لیا جائے تو شرمندگی اور اخلاص کے ساتھ دوبارہ ایسا کام نہ کرنے کا پختہ عزم کافی ہوگا، اسی طرح اگر قتل کی صورت میں مال کے ذریعے معاف کیا جائے تو اس پر مال لازم ہوگا۔ اگر وہ مال پاتا ہے تو مال ادا کر دے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فمن عفی لہ من اخیہ شی فاتباع بالمعروف واداء الیہ باحسان (البقرۃ : 178) اگر وہ اللہ تعالیٰ کی حدود میں سے ہو، کوئی بھی ہو جب وہ صحیح شرمندگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں توبہ کرے گا تو وہ اس بندے کے ذمہ سے ساقط ہوجائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس امر کے بارے میں واضح حکم دیا کہ ڈاکو جب پکڑے جانے سے قبل توبہ کرلیں تو ان سے حد ساقط ہوجائے گی۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ اگر وہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کریں تو ان سے حد ساقط نہ ہوگی، جس طرح اس کی وضاحت پہلے گزر چکی ہے۔ اسی طرح شراب نوشی کرنے والے، چور اور زانی ہیں جب وہ اپنی اصلاح کرلیں، توبہ کریں اور ان سے یہ معروف بھی ہو، پھر انہیں امام کے سامنے پیش کیا جائے تو امام کے لئے مناسب نہیں کہ وہ ان پر حد جاری کرے۔ اگر انہیں امام کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ کہیں : ہم نے توبہ کرلی ہے۔ تو انہیں چھوڑا جائے گا۔ اس وقت ان کی حالت ڈاکوئوں جیسی ہوگی جن پر غلبہ پائے گا، یہ امام شافعی کا مذہب ہے۔
اگر گناہ ایسا ہے جو بندوں پر ظلم کرنے سے تعلق رکھتا ہے تو اس سے توبہ اس وقت تک درست نہ ہوگی جب تک وہ چیز مالک کو نہ لوٹا دے اور خود اس سے الگ تھلگ ہوجائے، وہ عینی چیز ہو یا کوئی اور چیز ہو اگر وہ اس کو واپس کرنے پر قادر ہو۔ اگر وہ اس پر قادر نہ ہو تو اس کا پختہ عزم ہو کہ جب وہ قادر ہوگا تو قریب ترین وقت میں اسے واپس کر دے گا۔ اگر وہ کسی مسلمان کو نقصان پہنچاتا ہے اور اس آدمی کو شعور نہیں یا نہیں جانتا کہ یہ مصیبت کہاں سے اس کے پاس آتی ہے تو اس آدمی سے اس ضرر کو دور کرے۔ پھر اس سے معافی کا سوال کرے اور یہ مطالبہ کرے کہ وہ آدمی اس کے حق میں بخشش کا طالب ہو۔ جب وہ آدمی اس کو معاف کر دے گا تو اس سے گناہ ساقط ہوجائے گا۔ اگر وہ ایسے آدمی کو بھیجے جو اس آدمی سے اس امر کا سوال کرے وہ مظلوم اس ظالم کو معاف کر دے وہ اسے ذاتی طور پر جانتا ہو یا نہ جانتا ہو تو پھر صحیح ہے۔ اگر ایک آدمی دوسرے آدمی کے ساتھ زیادتی کرے اس طرح کہ ناحق اسے ڈرائے، تکلیف دے، اسے طمانچہ مارے، ناحق تھپڑ مارے، چھری مارے اور اسے درد پہنچائے پھر جو اس سے غلطی ہوئی تھی اس پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے معافی کا طلب گار ہو اور یہ پختہ عزم ہو کہ وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا۔ وہ لگاتار اس کے سامنے عاجزی کا اظہار کرے یہاں تک اس مظلوم کا دل خوش ہوجائے کہ وہ اسے معاف کر دے تو اس سے یہ گناہ ساقط ہوجائے گا۔ یہی صورتحال ہوگی جب وہ ایسی گالی گلوچ نکالے جس پر کوئی حد نہ ہو۔
عسی ربکم ان یکفر عنکم سیاتکم، عسی فعل کی نسبت جب اللہ تعالیٰ کی ذات کی طرف ہو تو یہ وجوب کے معنی میں ہوتا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد کا بھی یہی معنی ہے : التائب من الذنب کمن لا ذنب لہ (1) گناہ سے توبہ کرنے والا اس آدمی کی طرح ہے جس نے گناہ ہی نہ کیا ہو۔
ویدخلکم اس کا عطف یکفر پر ہے۔ ابن ابی عبلہ نے ویدخلکم مجزوم پڑھا ہے یہ عسی ان یکفر کے محل پر معطوف ہے، گویا کلام یوں فرمائی : تم توبہ کرو یہ تمہاری سیئات کو مٹانے کا باعث ہوگی اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گی جن کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔
یوم لا یخزی اللہ النبی یوم میں عامل یدخلکم ہے یا فعل مضمر ہے۔ یہاں یخزی کا معنی یعذب ہے یعنی نہ نبی کو عذاب دے گا اور نہ ہی انہیں عذاب دے گا جو اس پر ایمان لائے۔
نورھم یسعی بین ایدیھم و بایمانھم سورة الحدید میں یہ بحث پہلے گزر چکی ہے۔ یقولون ربنا اتمم لنا نورنا و اغفرلنا انک علی کل شی قدیر۔ حضرت ابن عباس، مجاہد اور دوسرے علماء نے کہا : یہ مومنوں کی اس وقت دعا ہوگی جب اللہ تعالیٰ منافقوں کے نور کو بجھا دے گا جس کی وضاحت سورة حدید میں گزر چکی ہے۔
Ayah 66:9اس میں ایک ہی مسئلہ ہے :
وہ یہ کہ اللہ کے دین کے معاملہ میں سختی کی جائے
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ وہ کفار کے ساتھ تلوار، وعظ و نصیحت اور اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے میں جہاد کریں اور منافقین کے ساتھ سختی کرنے اور حجت قائم کرنے میں جہاد کریں، ان پر آخرت کے احوال واضح کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ ان کے لئے کوئی نور نہیں ہوگا جس کے ساتھ وہ پل صراط کو عبور کریں گے جبکہ مومنوں کے پاس نور ہوگا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : ان پر حدود قائم کرنے میں جہاد کریں کیونکہ وہ ایسے کام کرتے تھے جو ان پر حدود کو واجب کرتے تھے اور حدود ان پر قائم کی جاتی تھیں (1) ۔ وما ولھم جھنم ضمیر دونوں قسموں یعنی کفار اور منافقین کی طرف لوٹ رہی ہے۔
وبئس المصیر۔ مصیر کا معنی لوٹنے کی جگہ ہے۔
Ayah 66:10اللہ تعالیٰ نے یہ مثال بیان فرمائی ہے اس امر پر آگاہ کرنے کے لئے کہ جب دو افراد دین میں مختلف ہوں گے تو کوئی قریبی رشتہ دار اپنے قریبی رشتہ دار کو کوئی نفع نہیں پہنچا سکے گا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والہہ تھا (2) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والعہ تھا، یہ مقاتل کا قول ہے۔ ضحاک نے حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت جبرائیل امین نبی کریم ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو بتایا کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا نام واغلہ تھا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا نام والہہ تھا۔
فخانتھما عکرمہ اور ضحاک نے کہا : یہاں خیانت سے مراد کفر ہے۔ سلیمان بن رقیہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کہا کرتی تھیں کہ حضرت نوح مجنون ہیں (3) ۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی لوگوں کو آپ (علیہ السلام) کے مہمانوں کے بارے میں بتاتی تھی۔ ان سے یہ بھی مروی ہے : کسی نبی کی بیوی نے کبھی بھی بدکاری نہیں کی۔ قشیری نے ذکر کیا ہے : اس پر مفسرین کا اجماع ہے، ان کی خیانت دین کے معاملہ میں تھی۔ وہ دونوں مشرک تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا : وہ دونوں منافق تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : ان دونوں کی خیانت چغل خوری تھی۔ جب اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان دونوں انبیاء کی طرف وحی کی جاتی تو یہ دونوں مشرکوں پر اسے ظاہر کر دیتیں، یہ ضحاک کا قول ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کا طریقہ یہ تھا جب کوئی مہمان آتا تو وہ دھواں دکھاتی تاکہ اس کی قوم کو معلوم ہوجائے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ہاں مہمان آیا ہے کیونکہ مرد آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے۔
فلم یغنیا عنھما من اللہ شیا حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) جو اللہ تعالیٰ کے حضور بڑے محترم تھے اس کے باوجود ان کی بیویوں نے جب اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی تو یہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانے کے لئے کچھ بھی فائدہ نہ دے سکے (1) ۔ یہاں اس بات پر آگاہ کرنا مقصود ہے کہ عذاب کو طاقت کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے کسی اور ذریعہ سے دور نہیں کیا جاسکتا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کفار مکہ نے استہزاد کیا اور کہا : (حضرت) محمد ﷺ ہماری سفارش کریں گے تو اللہ تعالیٰ نے اس امر کو واضح کردیا کہ آپ ﷺ کی شفاعت کفار مکہ کو کچھ نفع نہ دے گی اگرچہ وہ آپ ﷺ کے نسبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں، جس طرح حضرت نوح (علیہ السلام) کی شفاعت ان کی بیوی کو کوئی نفع نہ دے گی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی شفاعت ان کی بیوی کو کوئی نفع نہ دے گی جبکہ وہ دونوں ان انبیاء کے قریبی تھیں۔ وہ ان دونوں کا کفر ہوگا۔ ان دونوں بیویوں کو کہا جائے گا کہ جہنم میں داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی جہنم میں داخل ہو جائو جس طرح کفار مکہ مکرمہ اور دوسرے کفار کو کہا جائے گا۔ پھر کہا جائے گا : یہ بھی جائز ہے کہ امرأت نوح یہ مثلا سے بدل ہو اور مضاف محذوف ہو، تقدیر کلام یہ ہوگی، ضرباللہ مثلا مثل امراءۃ نوح یہ بھی جائز ہے کہ دونوں مفعول ہوں۔
Ayah 66:11وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرات فرعون فرعون کی بیوی کا نام حضرت آسیہ بنت مزاحم تھا (2) ۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، یہ ارشاد ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان فرمائی جس کے ساتھ وہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ کو خبردار کرنا چاہتا ہے جب انہوں نے ایک معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی رضا کے خلاف باہم تعاون کیا تھا۔ پھر ان دونوں کے لئے فرعون کی بیوی اور حضرت مریم بنت عمران کی مثال بیان فرمائی۔ مقصود یہ تھا کہ دونوں ازواج مطہرات کو طاعت میں تمسک اور دین پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں مومنوں کو سختی میں صبر کرنے پر برانگیختہ کیا جا رہا ہے یعنی تم شدت کے وقت صبر میں فرعون کی بیوی سے کمزور نہ ہو جائو جب اس نے فرعون کی اذیت پر صبر کیا تھا۔ حضرت آسیہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پھوپھی تھی جو آپ پر ایمان لے آئی تھی۔ ابو العالیہ نے کہا : فرعون اپنی بیوی کے ایمان پر مطلع ہوا تو وہ اپنے سرداروں کے پاس آیا (1) ۔ اس نے ان سے کہا : تم آسیہ بنت مزاحم کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو ؟ سب نے اس کی تعریف کی۔ فرعون نے ان سے کہا : وہ تو میرے علاوہ کسی اور کی عبادت کرتی ہے۔ سب نے فرعون کو رائے دی : اسے قتل کر دو ۔ فرعون نے اس کے لئے میخیں گاڑھیں اور اس کے ہاتھ پائوں باندھ دیئے تو حضرت آسیہ نے یہ دعا کی : رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ اسی وقت فرعون آیا۔ جب حضرت آسیہ نے جنت میں اپنے گھر کو دیکھا تو وہ ہنس پڑیں تو فرعون نے کہا : کیا تم اس کے جنون سے متعجب نہیں ہوتے۔ ہم اسے سزا دے رہے ہیں جبکہ یہ ہنس رہی ہے تو اسی حالت میں اس کی روح قبض کرلی گئی۔ عثمان نہدی نے حضرت سلمان فارسی سے روایت نقل کی ہے، حضرت آسیہ کو سورج کی دھوپ میں اذیت دی جاتی تھی جب سورج کی دھوپ حضرت آسیہ کو اذت دیتی تو فرشتے انہیں اپنے پروں سے سایہ کرلیتے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : دھوپ میں اس نے حضرت آسیہ کے ہاتھوں اور پائوں میں میخیں گاڑھ دیں اور ان کی پشت پر چکی رکھ دی۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اوپر اٹھایا یہاں تک کہ حضرت آسیہ نے جنت میں اپنے مکان کو دیکھ لیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جب حضرت آسیہ نے یہ دعا کی تو حضرت آسیہ کو وہ گھر دکھایا گیا جو جنت میں ان کے لئے بنایا گیا تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ موتی کا بنا ہوا ہے، یہ قول حضرت حسن بصری کا ہے۔ جب حضرت آسیہ نے التجا کی ونحنی تو اللہ تعالیٰ نے اسے عمدہ نجات عطا فرمائی (2) ، اللہ تعالیٰ نے اسے جنت کی طرف اٹھا لیا۔ وہ کھاتی ہے، پیتی ہے اور نعمتوں سے لطف اندوز ہوتی ہے۔ من فرعون و عملہ عمل سے مراد کفر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، عمل سے مراد عذاب، ظلم اور اس کی تکلیف پر خوش ہونا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : عمل سے مراد جماع ہے (3) ۔ ونجنی من القوم الظلمین۔ کلبی نے کہا : قوم سے مراد اہل مصر ہیں۔ مقاتل نے کہا : مراد قبطی ہیں۔ حضرت حسن بصری اور کیسان نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اسے عزت والی نجات دی، اسے جنت کی طرف اٹھا لیا، وہ وہاں کھاتی ہے اور پیتی ہے۔
Ayah 66:12ومریم ابنت عمران اذکر فعل محذوف ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا عطف امراۃ فرعون پر ہے معنی ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت مریم بنت عمران کی مثال بیان کی اور یہودیوں کی اذیتوں پر انہیں صبر عطا کیا۔ التی احصنت فرجھا یعنی جنہیں فحش اعمال سے محفوظ رکھا۔ مفسرین نے کہا : یہاں فرج سے مراد گریبان ہے (1) کیونکہ ارشاد فرمایا : فنفحنا فیہ من روحنا حضرت جبریل امین نے ان کے گریبان میں پھونک ماری ان کی شرمگاہ میں پھونک نہیں ماری۔ یہ حضرت ابی کی قرأت ہے فنفخنا فی جیبھا من روحنا کپڑے میں جو بھی پھٹن ہو اس کو جیب کا نام دیا جاتا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ومالھا من فروج۔ (ق) ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ حضرت مریم نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا اور حضرت مریم کے گریبان میں حضرت جبریل نے پھونک ماری۔ فنفخنا کا معنی ہے ہم نے جبریل امین کو بھیجا تو حضرت جبریل امین نے ان کے گریبان میں پھونک ماری۔ من روحنا یعنی اپنی ارواح میں سے ایک روح۔ یہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی روح ہے اس کی وضاحت سورة نساء کے آخر میں گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔
وصدقت بکلمت ربھا عام قرات صدقت تشدید کے ساتھ ہے حمید اور اموی نے وصدقت تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے۔ بکلمت ربھا سے مراد ہے کہ حضرت جبریل امین نے حضرت مریم سے کہا : انما انا رسول ربک (مریم : 19) میں تیرے رب کا رسول ہوں۔ مقاتل نے کہا : کلمات سے مراد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) ، یہ کہ وہ نبی ہیں اور اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہیں یہ بحث بھی پہلے گزر چکی ہے۔ حضرت حسن بصری اور ابو العالیہ نے کہا : بکلمت ربھا و کتبہ ابو عمرو اور حفص نے عاصم سے و کتبہ جمع کا صیغہ پڑھا ہے۔ ابو رجاء سے وکتبہ تاء کی تخفیف کے ساتھ پڑھا ہے (2) باقی قراء نے اسے واحد کتابہ پڑھا ہے مراد جنس ہے معنی ہوگا یہ کتاب جسے اللہ تعالیٰ نے نازل کیا۔
وکانت من القنتین۔ یہ اطاعت گزاروں میں سے تھیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : وہ ان نمازیوں میں سے تھی جو مغرب اور عشاء کے درمیان نماز پڑھتے ہیں۔ قانتات نہیں فرمایا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ارادہ فرمایا کہ وہ قوم تانتین میں سے تھی۔ یہ جائز ہے کہ القنتین سے مراد ان کے ” اہل بیت “ ہوں کیونکہ وہ سب اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والے تھے۔
حضرت معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت خدیجہ سے فرمایا جبکہ ان کی روح پر از کر رہی تھی ” کیا تو اس بات کو ناپسند کرتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے بارے میں نازل فرمایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ناپسندیدگی میں خیر رکھ دی ہے جب تو اپنی سوکنوں کے پاس جائے تو میری طرف سے انہیں سلام کہنا وہ حضرت مریم بنت عمران، حضرت آسیہ بنت مزاحم، حضرت کلیمہ یا حضرت حکیمہ بنت عمران جو حضرت موسیٰ بن عمران کی بہن ہیں “۔ حضرت خدیجہ ؓ نے جواب دیا : یا رسول اللہ ! تمہارا جوڑا ملا رہے بیٹے پیدا ہوں۔ قتادہ نے حضرت انس ؓ سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تیرے لئے جہاں بھر کی عورتوں میں سے چار کافی ہیں حضرت مریم بنت عمران، حضرت خدیجہ بنت خویلد، حضرت فاطمہ بنت محمد ﷺ اور حضرت آسیہ بنت مزاحم ؓ “ (3) ۔ اس بارے میں مفصل گفتگو سورة آل عمران میں گزر چکی ہے۔