65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیر القرطبی

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو ان کی عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) انکو (ایام عدت میں) انکے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کریگا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے

اس میں چودہ مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا النبی اذا طلقتم النساء خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے جمع کے لفظ کے ساتھ خطاب تعظیم اور تفحیم کے لئے ہے۔ سنن ابن ماجہ میں سعید بن جبیر نے حضرت ابن عباس ؓ سے وہ حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ کو طلاق دی تو وہ اپنے اہل میں آگئیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کو نازل فرمایا۔ آپ ﷺ سے کہا گیا : اس سے رجوع کرلیں کیونکہ وہ بڑی عبادت گزار اور روزے رکھنے والی ہے جنت میں بھی یہ آپ کی بیویوں میں سے ہے (1) ، ماوردی، قشیری اور ثعلبی نے اسے ذکر کیا ہے (2) ۔ قشیری نے یہ زائد ذکر کیا ہے ان کے اپنے گھر والوں کی طرف جانے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان : لاتخرجو ھن من بیوتھن نازل ہوا۔ کلبی نے کہا : اس آیت کے نزول کا سبب رسول اللہ ﷺ کا حضرت حفصہ پر ناراض ہونا تھا۔ جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے راز داری کی بات کی تھی تو حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ ؓ سے بات کی تو رسول اللہ ﷺ نے حصرف حفصہ کو طلاق دے دی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ سدی نے کہا : یہ آیت حضرت عبد اللہ بن عمر کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں ایک طلاق دی، رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ اس سے رجوع کرے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر حائضہ ہو اور پھر پاک ہوجائے جب وہ اسے طلاق دینے کا ارادہ کرے تو جب وہ پاک ہو تو جماع سے پہلے اسے طلاق دے دے یہ وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورتوں کو طلاق دی جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : کچھ لوگوں نے اسی طرح کا عمل کیا جیسا عمل حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ نے کیا ان میں سے حضرت عبد اللہ بن عمرو بن عاص، حضرت عمرو بن سعید بن عاص ؓ اور عتبہ بن غزوان تھے (1) یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابن عربی نے کہا : یہ سب اقوال اگرچہ صحیح نہیں تاہم پہلا ول زیادہ اچھا ہے۔ زیادہ صحیح یہ ہے کہ یہ ایک نیا حکم شرعی بیان کرنے کے لئے ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے کہ خطاب نبی کریم ﷺ کو ہے مراد آپ کی امت ہے یہ کلام دو لفظوں حاضر اور غائب میں تبدیل ہونے والی ہے۔ یہ فصیح لغت ہے جس طرح فرمایا : حتی اذا کنتم فی الغلک وجرین بھم بریح طیبۃ (یونس :22) تقدیر کلام یہ ہے : یایھا النبی قل لھم اذا طلقتم النساء فطلقوھن لعدتھن۔ یہ ان کا قول ہے کہ خطاب تو صرف آپ ﷺ کو ہے اور معنی آپ کو اور مومنین سب کو شامل ہے جب اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو خطاب کیا تو اس قول کے ساتھ ملاطفت فرمائی یایھا النبی جب خطاب لفظ اور معنی دونوں کے اعتبار سے آپ ﷺ کو تھا تو فرمایا : یایھا الرسول (المائدہ : 41) میں کہتا ہوں : اس قول کی صحت پر حضرت اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ کے بارے میں عدت کا حکم بھی دلالت کرتا ہے۔ اس کے متعلق ابو دائود کی کتاب میں ہے (2) کہ انہیں نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں طلاق دی گئی جبکہ مطلقہ کے لئے کوئی عدت نہ تھی جب حضرت اسماء کو طلاق دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل فرمایا۔ یہ وہ پہلی عورت ہیں جن کے بارے میں طلاق کی عدت کا حکم نازل ہوا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مراد یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت شان کی خاطر ندا کی گئی پھر نئے سرے سے کلام کی گئی۔ فرمایا : اذا طلقتم النساء جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے یایھا الذین امنوا انما الخمرو المیسر والانصاب والازلام (المائدہ : 90) مومنین کا ذکر تکریم کے لئے ہے۔ پھر نئے سرے سے کلام کو شروع کیا : انما الخمرو والمیسر والانصاب والازلام (المائدہ : 90) مسئلہ نمبر 2 ۔ ثعلبی نے حضرت ابن عمر ؓ سے حدیث نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان من ابغض الحلال الی اللہ الطلاق۔ (3) اللہ تعالیٰ کے ہاں حلال چیز میں سب سے مغوض طلاق ہے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت نقل کرتے ہیں : تزوجواء لا تطلقوا فان الطلاق یھتزمنہ العرش تم شادیاں کرو، طلاق نہ دو کیونکہ طلاق سے عرش لرز جاتا ہے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تم عورتوں کو طلاق نہ دو مگر تہمت کی وجہ سے بیشک اللہ تعالیٰ مزا چکھنے کے لئے نکاح کرنے والے مردوں اور عورتوں کو پسند نہیں فرمایا “۔ حضرت انس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” طلاق کی قسم یا اس کا مطالبہ منافق ہی کرتا ہے “ (1) ۔ ثعلبی (رح) نے تمام کی اسناد اپنی کتاب میں ذکر کردی ہیں۔ دارقطنی نے روایت کی ہے ابو عباس، محمد بن موسیٰ بن علی دولابی اور یعقوب بن ابراہیم دونوں حسن بن عرفہ سے وہ اسماعیل بن عیاش سے وہ حمید بن مالک لخمی سے وہ مکحول سے وہ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ارشاد فرمایا : ” اے معاذ ! اللہ تعالیٰ نے روئے زمین پر غلام آزاد کرنے سے بہتر کوئی چیز پیدا نہیں کی اور روئے زمین پر طلاق سے بڑھ کر کوئی ناپسندیدہ چیز پیدا نہیں کی۔ جب کوئی آقا اپنے مملوک کو کہے : انت حر انشاء اللہ وہ آزاد ہوگا کوئی استثنا نہ ہوگی جب کوئی آدمی اپنی بیوی کو کہے انت طالق انشاء اللہ تو استثناء درست ہوگی اور اسے کوئی طلاق نہ ہوگی “۔ محمد بن موسیٰ بن علی، حمید بن رسیع سے وہ یزید بن ہارون سے وہ اسماعیل بن عیاش سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں (2) ۔ عثمان بن احمد دقاق، اسحاق بن ابراہیم بن سنین سے وہ عمر بن ابراہیم بن خالد سے وہ حمید بن مالک لخمی سے وہ مکحول سے وہ مالک بن مخامر سے وہ حضرت معاذ بن جبل ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے کسی چیز کو حلال نہیں فرمایا جو طلاق سے بڑھ کر اس کی بارگاہ میں مبغوض ہو جس نے طلاق دی اور استثنا کی تو استثنا کا اعتبار ہوگا “۔ ابن منذر نے کہا : طلاق اور آزادی میں استثنا ذکر کرنے کی صورت میں علماء نے اختلاف کیا ہے ایک طائفہ نے کہا : یہ جائز ہے۔ ہم نے یہ قول طائوس سے روایت کیا ہے۔ حماد کوفی، امام شافعی، ابو ثور اور اصحاب رائے نے یہی کہا ہے۔ امام مالک اور اوزاعی کے قول میں طلاق میں استثناء جائز نہیں، طلاق میں یہ قتادہ کا قول ہے۔ ابن منذر نے کہا : پہلا قول میں کرتا ہوں۔ مسئلہ نمبر 3 ۔ دارقطنی نے عبدالرزاق کی حدیث نقل کرتے ہیں کہ طلاق کی چار صورتیں ہیں دو صورتیں حلال ہیں اور دو صورتیں حرام ہیں (3) ۔ جہاں تک حلال کا تعلق ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دے ایسے طہر میں جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو اور اسے طلاق دے جبکہ وہ حاملہ ہو اور اس کا حمل ظاہر ہو۔ جہاں تک حرام کا تعلق ہے وہ یہ ہے کہ وہ اسے طلاق دے جبکہ وہ حائضہ ہو یا جماع کرنے کے بعد اسے طلاق دے عورت کو یہ علم نہ ہو کہ اس کا رحم بچے پر مشتمل ہے یا نہیں۔ مسئلہ نمبر 4 ۔ فطلقوھن لعدتھن کتاب ابی دائود میں حضرت اسماء بنت یزید بن سکن انصاریہ سے روایت مروی ہے کہ انہیں نبی کریم ﷺ کے زمانہ میں طلاق دی گئی جبکہ اس وقت مطلقہ کے لئے کوئی عدت لازم نہ تھی جب حضرت اسماء کو طلاق دی گئی تو اللہ تعالیٰ نے طلاق کی عدت کا حکم نازل کیا۔ یہ وہ پہلی عورت تھیں جن کے بارے میں طلاق کی عدت کا حکم نازل ہوا (4) ۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ مسئلہ نمبر 5 ۔ لعدتھن یہ ارشاد اس امر کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ وہ عورتیں ہیں جن کے ساتھ خاوندوں نے حقوق زوجیت ادا کئے کیونکہ غیر مدخول بھا عورتیں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے ساتھ اس امر سے خارج ہیں : یایھا الذین امنوا اذا نکحتم المومنت ثم طلقتموھن من قبل ان تمسوھن فما لکم علیھن من عدۃ تعتدونھا (الاحزاب : 49) مسئلہ نمبر 6 ۔ جس نے ایسے طہر میں طلاق دی جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو اس کی طلاق نافذ ہوجائے گی اور اس نے سنت کو پا لیا۔ اگر اس نے حائضہ عورت کو طلاق دی اس کی طلاق نافذ ہوجائے گی اور اس نے سنت کی خلاف ورزی کی۔ سعید بن مسیب نے کہا : حیض کی حالت میں طلاق واقع نہ ہوگی کیونکہ یہ طلاق سنت کے خلاف ہے۔ شیعہ کا بھی یہ نقطہ نظر ہے۔ صحیحین میں ہے جبکہ الفاظ دارقطنی کے ہیں (1) ۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہا : میں نے اپنی بیوی کو طلاق دی جبکہ وہ حالت حیض میں تھی۔ حضرت عمر ؓ نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا۔ رسول اللہ ﷺ سخت ناراض ہوئے۔ فرمایا : ” پس وہ رجوع کرے پھر اسے اپنے پاس روکے رکھے یہاں تک کہ اسے نیا حیض آئے۔ یہ حیض اس حیض کے علاوہ ہو جس میں اس نے پہلے طلاق دی تھی۔ اگر مناسب سمجھے کہ اسے طلاق دے تو حیض سے پاک ہوتے ہی اسے طلاق دے دے جبکہ ابھی اس سے جماع نہ کیا ہو۔ یہی وہ طلاق ہے جس میں عدت کو ملحوظ خاطر رکھا گیا ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا “۔ حضرت عبد اللہ بن عمر نے اسے ایک طلاق دی تھی۔ اس نے اسے طلاق شمار کیا اور حضرت عبد اللہ نے اس سے رجوع کیا جس طرح رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا تھا۔ حضرت ابن عمر ؓ سے ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” یہ ایک ہے “۔ یہ نص ہے اور شیعہ کے قول کو رد کرتی ہے۔ مسئلہ نمبر 7 ۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے کہ طلاق سنت یہ ہے (2) کہ وہ طہر میں ایک طلاق دے جب اس کا آخر ہو تو یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا۔ دارقطنی نے اعمش سے وہ ابو اسحاق سے وہ ابوا حوص سے وہ حضرت عبد اللہ ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ ہمارے علماء نے کہا : طلاق سنت وہ ہے جو سات شرطوں کو جامع ہو (3) ۔ (1) وہ ایک طلاق دے، ایسی عورت ہو جس کو حیض آیا ہو، وہ حالت طہر میں ہو، اس طہر میں خاوند نے اس سے حقوق زوجیت ادا نہ کئے ہوں، اس سے پہلے حیض میں طلاق نہ دی گئی ہو، نہ اس کے پیچھے ایسے طہر میں طلاق دی گئی ہو جو اس حیض کے بعد آئے۔ وہ حیض سے خالی ہو۔ یہ سات شرطیں حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث سے ثابت ہیں جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ امام شافعی نے کہا : طلاق سنت یہ ہے کہ ہر طہر میں طلاق دے۔ اگر اس نے ایک طہر میں تین طلاقیں دیں تو وہ بدعت نہ ہوں گی۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : طلاق سنت یہ ہے کہ ہر طہر میں ایک طلاق دے۔ امام شعبی نے کہا : اس کے لئے جائز ہے کہ وہ ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے اس بیوی سے جماع کیا ہوا ہو۔ ہمارے علماء نے کہا : وہ اپنی بیوی کو ایسے طہر میں ایک طلاق دے جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو اور نہ ہی عدت میں بعد میں طلاق ہو اور طہر اس حیض کے بعد نہ ہو جس میں خاوند نے بیوی کو طلاق دی ہو کیونکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے (1): ” اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے پھر اسے روکے رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے۔ پھر اسے حیض آئے پھر اس کا طہر شروع ہو۔ پھر چاہے تو اسے روکے رکھے اور چاہے تو اسے طلاق دے۔ یہی وہ عدت ہے جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اس کو ملحوظ رکھتے ہوئے عورتوں کو طلاق دی جائے “۔ امام شافعی نے اللہ تعالیٰ کے فرمان : فطلقو ھن لعدتھن کے ظاہر سے استدلال کیا ہے۔ یہ ہر طلاق میں عام ہے۔ وہ ایک ہو، دو ہوں یا زیادہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں زمانہ کی رعایت کی ہے اور عدد کا اعتبار نہیں کیا۔ حضرت ابن عمر ؓ کی حدیث میں اسی طرح ہے اس میں وقت کی تعلیم دی، عدد کا ذکر نہیں کیا۔ ابن عربی نے کہا : یہ حدیث صحیح سے غفلت ہے۔ فرمایا : اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرلے۔ یہ تین طلاقوں کے وقوع کا انکار کرتا ہے۔ حدیث طیبہ میں ہے : عرض کی : بتائیے اگر وہ اسے تین طلاقیں دے دے ؟ فرمایا : ” وہ تجھ پر حرام ہوجائے گی اور تجھ سے معصیت کے ساتھ جدا ہوجائے گی “۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : آیت کا ظاہر اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ تین طلاقیں اور ایک طلاق برابر ہیں۔ یہی امام شافعی کا مذہب ہے۔ اگر اس کے بعد یہ ارشاد نہ ہوتا : لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا یہ تین طلاقوں کے اس آیت کے ضمن میں داخل ہونے کے مانع ہے، اکثر علماء نے یہی کہا ہے۔ جہاں تک امام مالک کا تعلق ہے آپ پر آیت کا مطلق ہونا مخفی نہیں جس طرح علماء نے کہا لیکن حدیث نے اس کی تفسیر بیان کی جس طرح ہم نے کہا۔ جہاں تک امام شعبی کے قول کا تعلق ہے آپ ایسے طہر میں طلاق کو جائز قرار دیتے ہیں جس میں اس نے جماع کیا ہو۔ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓ کی حدیث اپنی نص اور معنی کے ساتھ اس کا رد کرتی ہے جہاں تک نص کا تعلق ہے ہم اس کا پہلے ذکر کرچکے ہیں جہاں تک معنی کا تعلق ہے کیونکہ جب یہ حیض کی حالت میں طلاق کے مانع ہے کیونکہ اس حیض کو عدت میں شمار نہیں کیا جاتا تو وہ طہر جس میں جماع کیا گیا ہو وہ طلاق کے بدرجہ اولیٰ مانع ہوگا کیونکہ اس کو شمار کرنے کا اعتبار ساقط ہوجاتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ رحم کے مشغول ہونے کا خوف ہوتا ہے اس طرح وہ حیض جو اس کے بعد آتا ہے۔ میں کہتا ہوں : امام شافعی نے تین طلاقوں کو ایک ہی کلمہ سے واقع کرنے کا جو استدلال کیا ہے وہ اس حدیث سے ہے جسے امام دارقطنی نے سلمہ بن ابی سلمہ بن عبد الرحمان سے اور وہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں (2) کہ حضرت عبد الرحمان بن عوف نے اپنی بیوی کو طلاق دی جس کا نام تماضر بنت اصبغ کلبیہ تھا۔ یہی ام ابی سلمہ تھی۔ آپ نے ایک کلمہ کے ساتھ اسے تین طلاقیں دیں ہمیں ایسی خبر نہیں پہنچی جس میں یہ تذکرہ ہو کہ صحابہ نے ان پر عیب لگایا ہو۔ سلمہ بن ابی سلمہ اپنے باپ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی حضرت فاطمہ بنت قیس کو رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک کلمہ کے ساتھ تین طلاقیں دیں۔ نبی کریم ﷺ نے اسے حضرت حفص سے جدا کردیا۔ ہمیں یہ خبر نہیں پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس پر عیب لگایا ہو۔ اور حضرت عویمر عجلانی کی حدیث سے استدلال کیا جب انہوں نے اپنی بیوی سے لعان کیا۔ انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! اسے تین طلاقیں ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے اس پر ناراضگی کا اظہار نہیں کیا۔ ہمارے علماء نے اس سے الگ رائے قائم کی ہے اور بہت اچھے انداز میں رائے قائم کی ہے، اس کی وضاحت کسی اور جگہ ہے۔ ہم نے اس کا ذکر المقتبس من شرح موطا مالک بن انس میں کیا ہے۔ سعید بن مسیب اور تابعین کی ایک جماعت کا نقطہ نظر ہے جس نے طلاق میں سنت کی خلاف ورزی کی اور اسے حیض میں واقع کیا یا تین طلاقیں اکٹھی دیں تو وہ واقع (1) نہ ہوں گی اور انہوں نے اسے اس آدمی کے ساتھ تشبیہ دی ہے جس کو طلاق سنت کا وکیل بنایا گیا اور اس نے مخالفت کی۔ مسئلہ نمبر 8 جرجانی نے کہا : لعدتھن میں لام، نی کے معنی میں ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : ھو الذی اخرج الذین کفروا من اھل الکتب من دیارھم لاول الحشر (الحشر :2) لاول الحشر یعنی فی اول الحشر ہے۔ لعدتھن کا قول فی عدتھن کے معنی میں ہے۔ یعنی ایسے زمانہ میں جو ان کی عدت کے شمار کرنے کے مناسب ہو۔ اس پر اجماع ہے کہ حیض میں طلاق ممنوع ہے اور طہر میں اس کی اجازت ہے اس میں یہ دلیل ہے کہ قرء سے مراد طہر ہے۔ سورة بقرہ میں یہ بحث گزر چکی ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے : فطلقوھن لعدتھن کا معنی ہے فی قبل عدتھن یالقبل عدتھن یعنی اس کے ابتدائی حصہ میں اور یہ حالت طہر میں ہوگا۔ یہ نبی کریم ﷺ کی قرأت ہے جس طرح صحیح مسلم وغیرہ میں حضرت ابن عمر ؓ کا قول ہے : قبل العدۃ سے مراد طہر کا آخری حصہ ہے یہاں تک کہ قرء سے مراد حیض ہوگا۔ اسے کہا جائے گا : امام مالک کی یہ واضح دلیل ہے اور جس نے بھی آپ جیسا قول کیا کہ اقراء سے مراد طہر ہیں۔ اگر مراد وہ ہوتی جو ائمہ احناف کہتے ہیں اور جو ان کی پیروی کرتے ہیں تو ضروری تھا کہ یہ قول کہا جاتا : جس نے طہر کے شروع میں طلاق دی تو اس عورت کو حیض سے پہلے طلاق نہ ہوگی کیونکہ ابھی حیض کا آغاز ہونے والا نہیں نیز حیض کا آنا حیض کے داخل ہونے کے ساتھ ہوتا ہے اور طہر کے ختم ہونے کے ساتھ حیض کا آنا متحقق نہیں ہوتا۔ اگر کسی شی کا آنا اس کی ضد کے ادبار کے ساتھ ہو تو روزے دار سورج کے غروب ہونے سے پہلے افطار کرنے والا ہو کیونکہ رات دن کے پلٹنے کے ساتھ آنے والی ہوتی ہے ابھی دن ختم نہیں ہوتا پھر جب اس نے طہر کے آخر میں طلاق دی تو باقی ماندہ طہر قرء ہوگا۔ بعض طہر کو بھی قرء کہتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے۔ الحج اشہر معلومت (البقرہ : 197) وہ شوال، ذی قعدہ اور ذی الحجہ کا کچھ حصہ ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ (البقرہ : 203) وہ دوسرے دن کے بعض میں کوچ کر آتا ہے۔ یہ بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ مسئلہ نمبر 9 ۔ واحصو العدۃ یہاں مراد مدخول بھا ہے (2) کیونکہ جس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہ کئے گئے ہوں اس پر عدت لازم نہیں ہوتی۔ اگر اس نے تین طلاقوں سے کم طلاقیں دی ہیں تو عدت کے ختم ہونے سے قبل رجوع کرسکتا ہے بعد میں وہ ایک دعوت نکاح دینے والے کی طرح ہوگا۔ اگر تین طلاقیں دی گئی ہوں تو کسی اور خاوند کے بعد ہی وہ عورت اس سابقہ خاوند پر جلال ہوگی۔ مسئلہ نمبر 10 ۔ واحصوا العدۃ اس کا معنی ہے اسے یاد رکھو (3) یعنی اس وقت کو یاد رکھ جس میں طلاق واقع ہوئی یہاں تک کہ جب یہ جدا ہوجائے اس شرط کی وجہ سے جس کو ذکر کیا گیا وہ تین قرء ہیں جن کا ذکر اللہ تعالیٰ کے اس نافرمان میں ہے : والمطلقت یتر بصن بانفسھن ثلثۃ قروء (البقرۃ : 228) اب وہ ان مردوں کے لئے حلال ہے جو اس سے نکاح کرنا چاہیں۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ عدت تین طہر ہیں، حیض عدت نہیں اس کی تاکید اور تفسیر نبی کریم ﷺ کی قرأت کرتی ہے : لقبل عدتھن کسی شی کا قبل لغت اور حقیقت کے اعتبار سے اس کا جز ہوتا ہے۔ استقبالہ کا معاملہ مختلف ہے کیونکہ یہ اس چیز کا غیر ہوتا ہے۔ مسئلہ نمبر 11 احصاء کے امر کا مخاطب کون ہے (1) ؟ اس میں تین قول ہیں۔ 1۔ وہ خاوند ہیں۔ 2۔ بیویاں ہیں۔ 3۔ مسلمان ہیں۔ ابن عربی نے کہا : صحیح یہ ہے کہ اس لفظ کے مخاطب ازواج ہیں کیونکہ طلقتم، احصوا اور لاتخرجوھن کی ضمیریں ایک ہی نظم میں ہیں۔ ازواج کی طرف لوٹ رہی ہیں لیکن بیویاں خاوند کے ساتھ لاحق ہو کر اس میں داخل ہیں کیونکہ خاوند ہی شمار کرتا ہے تاکہ وہ رجوع کرے، اس کو نان و نفقہ دے یا اسے ختم کرے، وہ اسے رہائش دے یا گھر سے نکالے، اس کے نسب کو لاحق کرے یا اسے قطع کرے۔ یہ تمام امور اس کے اور بیوی کے درمیان مشترک ہیں ان کے علاوہ میں عورت مرد سے منفرد ہے اسی طرح حاکم بھی عدت کو شمار کرنے کا محتاج ہوتا ہے تاکہ وہ فتویٰ دے اور اس میں جھگڑا واقع ہو تو وہ فیصلہ کرے یہ اس احصاء کے فوائد ہیں جس کا حکم دیا گیا۔ مسئلہ نمبر 12 ۔ واتقوا اللہ ربکم لاتخرجوھن من بیوتھن اللہ جو تمہارا رب ہے اس سے ڈرو اس کی نافرمانی نہ کرو۔ خاوند کو یہ حق حاصل نہیں کہ جب تک عورت عدت میں ہو تو اسے اس گھر سے نکالے جس گھر میں وہ حالت نکاح میں رہ رہی تھی۔ وہ خاوند کے حق کی وجہ سے بھی نہیں نکلے گی ہاں ظاہر ضرورت کی بنا پر وہ نکل سکتی ہے۔ اگر وہ اس گھر سے نکلے گی تو وہ گناہگار ہوگی اور عدت ختم نہ ہوگی۔ اس مسئلہ میں وہ عورت جسے طلاق رجعی دی گئی تھی یا جسے طلاق بائنہ دی گئی تھی، برابر ہیں۔ یہ حکم اس لئے دیا جا رہا ہے تاکہ مرد کے پانی کی حفاظت ہو سکے۔ اسی وجہ سے بیوت کی نسبت عورتوں کی طرف کی گئی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذا کرن ما یتلی فی بیوتکن من ایت اللہ والحکمۃ (الاحزاب : 34) اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : وقرن فی بیوتکن (الاحزاب : 33) یہ رہائش رکھنے کی اضافت ہے، تملیک کی اضافت نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان : لا تخرجوھن تقاضا کرتا ہے کہ یہ خاوندوں پر لازم ہے اور ولایخرجن یہ بیویوں پر لازم ہے۔ حدیث صحیح میں حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ میری خالہ کو طلاق ہوگئی اس نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی کھجوروں کو کاٹے (2) ۔ ایک آدمی نے اسے باہر نکلنے پر جھڑکا۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” کیوں نہیں تو اپنے کھجور کے درخت کاٹ ! ممکن ہے تو کوئی صدقہ کرے یا کوئی نیکی کا عمل کرے “۔ اسے امام مسلم نے نقل کیا ہے۔ اس حدیث میں امام مالک، امام شافعی، امام احمد بن حنبل اور لیث کے اقوال کی دلیل ہے کہ معتدہ عورت دن کے وقت اپنے کام کاج کے لئے باہر نکل سکتی ہے۔ رات کے وقت اسے باہر نکلنے کی اجازت نہیں۔ امام مالک کے نزدیک خواہ اسے طلاق رجعی دی گئی ہو یا طلاق بائنہ دی گئی ہو۔ امام شافعی نے اس عورت کے بارے میں کہا : جسے طلاق رجعی دی گئی تھی وہ نہ دن کے وقت نکلے اور نہ رات کے وقت نکلے جسے طلاق بائنہ دی گئی ہو وہ دن کے وقت نکل سکتی ہے۔ امام ابوحنیفہ نے کہا : یہ حکم اس عورت کے لئے ہے جس کا خاوند فوت ہوچکا ہو جہاں تک مطلقہ کا تعلق ہے وہ نہ رات کو اور نہ ہی دن کو نکل سکتی ہے جبکہ حدیث ان کا رد کرتی ہے۔ صحیحین میں ہے کہ حضرت ابوعمر و بن حفص، حضرت علی ؓ کے ساتھ یمن کی طرف نکلے (1) ۔ انہوں نے اپنی بیوی حضرت فاطمہ بنت قیس کو طلاق بھیج دی جو باقی تھی اس کے لئے حضرت حارث بن ہشام اور حضرت عباس بن ربیعہ کو اس کے نفقہ کے بارے میں حکم دیا۔ دونوں نے اس سے کہا : اللہ کی قسم ! تیرے لئے کوئی نفقہ نہیں مگر اس صورت میں کہ تو حاملہ ہو۔ وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور ان کا قول ذکر کیا۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” تیرے لئے کوئی نفقہ نہیں “۔ اس نے نبی کریم ﷺ سے وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت طلب کی تو آپ نے اسے اجازت دے دی۔ عرض کی : یا رسول اللہ کہاں ؟ فرمایا : ” ابن ام مکتوم کے ہاں “۔ وہ نابینا تھے۔ وہ اپنے کپڑے وہاں اتار لیتی اور وہ اسے دیکھ نہ پاتے۔ جب اس کی عدت گزر گئی تو نبی کریم ﷺ نے اس کا نکاح حضرت اسامہ بن زید سے کردیا۔ مروان نے قبیصہ بن زویب کو حضرت فاطمہ کی طرف بھیجا کہ اس سے حدیث پوچھے تو حضرت فاطمہ نے اسے حدیث بیان کی۔ مروان نے کہا : ہم نے یہ حدیث صرف ایک عورت سے سنی ہے۔ ہم اسی میں احتیاط و حفاظت پاتے ہیں جس پر ہم نے لوگوں کو پایا ہے۔ جب مروان کا قول حضرت فاطمہ کو پہنچا تو اس نے کہا : میرے اور تمہارے درمیان قرآن حکم ہے، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے، لاتخرجوھن من بیوتھن کہا : یہ حکم اس عورت کے بارے میں ہے جس کے بارے میں خاوند کو رجوع کا حق ہو۔ تین طلاقوں کے بعد کیا امر وقوع پذیر ہوگا ؟ تم کیسے کہتے ہو : اس کے لئے کوئی نفقہ نہیں ؟ جب وہ حاملہ نہ ہو تو پھر تم اسے کیوں گھروں میں محبوس رکھتے ہو ؟ الفاظ مسلم شریف کے ہیں۔ اس سے واضح ہوگیا کہ آیت گھر سے نکالنے اور گھر سے نکلنے کی حرمت صرف طلاق رجعی کی صورت میں ہے۔ اسی طرح حضرت فاطمہ نے استدلال کیا ہے کہ وہ آیت جو اس کے بعد ہے وہ مطلقہ رجعیہ کی نہی کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے کیونکہ امکان ہے کہ جس نے طلاق دی ہے عدت کے اندر وہ رجوع کے بارے میں رائے بنائے گویا وہ ہر وقت اپنے خاوند کے زیر تصرف ہے جہاں تک اس عورت کا تعلق ہے جس کو طلاق بائنہ دی گئی ہو تو اس کے لئے کوئی امکان موجود نہیں جب اسے کوئی مجبوری ہو کہ وہ اپنے گھر سے باہر نکلے یا اسے اسی گھر میں بےپردگی کا خوف لاحق ہو جس طرح نبی کریم ﷺ نے اسے اجازت دی۔ مسلم شریف میں ہے حضرت فاطمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے خاوند نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں (2) ، مجھے خوف ہے کہ وہ بغیر اجازت مجھ پر داخل ہوجائے گا تو رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا تو حضرت فاطمہ وہاں سے منتقل ہوگئیں۔ بخاری شریف میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ وہ ایک الگ تھلگ مکان میں تھیں تو اس کے ایک طرف ہونے کی وجہ سے ان کے بارے میں خوف لاحق تھا اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے اسے رخصت دی (3) ۔ یہ تمام روایات احناف کے قول کا رد کرتی ہیں۔ حضرت فاطمہ کی حدیث میں ہے : ان کے خاوند نے انہیں ایک طلاق بھیج دی جو ان کی طلاق باقی ماندہ تھی۔ یہ امام مالک کے حق میں دلیل ہے اور امام شافعی کے خلاف دلیل ہے۔ یہ سلمہ بن ابی سلمہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے جو انہوں نے اپنے باپ سے نقل کی ہے کہ حضرت حفص بن مغیرہ نے اپنی بیوی کو ایک ہی لفظ میں تین طلاقیں دیں جس طرح پہلے گزر چکا ہے (1) ۔ مسئلہ نمبر 13 ۔ الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ حضرت ابن عباس، حضرت حسن بصری، حضرت شعبی اور مجاہد نے کہا : بفاحشۃ مبینۃ سے مراد بدکاری ہے۔ اسے گھر سے نکالا جائے گا اور اس پر حد جاری کی جائے گی۔ حضرت ابن عباس اور امام شافعی سے مروی ہے : اس سے مراد سسرالی رشتہ داروں پر بدزبانی کرنا ہے۔ پس ان کے لئے حلال ہے کہ اسے گھر سے نکال دیا جائے۔ سعید بن مسیب سے مروی ہے کہ انہوں نے حضرت فاطمہ کے بارے میں کہا : وہ ایک ایسی عورت تھی جو اپنے سسرالی رشتہ داروں کے ساتھ بدکلامی کیا کرتی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے حکم دیا کہ وہ گھر سے منتقل ہوجائے۔ ابودائود کی کتاب میں ہے سعید نے کہا : وہ ایسی عورت تھی جس نے لوگوں کو فتنہ میں ڈال دیا وہ بڑی باتونی تھی (2) ۔ اسے حضرت عبد اللہ بن ام مکتوم کے ہاں رکھا گیا جو نابینا تھے۔ عکرمہ نے کہا : حضرت ابی کے مصحف میں ہے الا ان یفحشن علیکم اس کی تائید یہ روایت کرتی ہے کہ محمد بن ابراہیم بن حارث نے روایت نقل کی ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے حضرت فاطمہ بنت قیس سے فرمایا : اللہ سے ڈر تو خوب جانتی ہے کہ تجھے کیوں گھر سے نکالا گیا ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ مروی ہے : فاحشہ سے مراد ہر معصیت ہے جس طرح بدکاری، چوری اور گھر والوں کے ساتھ بدکلامی، یہ طبری کا پسندیدہ نقطہ نظر ہے۔ حضرت ابن عمر اور سلامی سے مروی ہے : فاحشہ سے مراد عورت کا گھر سے نکلنا ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ بخروجھن من بیوتھن بغیر حق یعنی اگر وہ نکلے گی تو وہ نافرمانی کرے گی۔ قتادہ نے کہا : فاحشہ سے مراد نشوز و نافرمانی ہے۔ اس کی صورت یہ ہے کہ اس کے نشوز کی وجہ سے خاوند اسے طلاق دے تو وہ اپنے گھر سے نکل جائے۔ ابن عربی نے کہا : جس نے کہا : خروج زنا کی وجہ سے ہے تو اس کی کوئی وجہ و دلیل نہیں کیونکہ اس خروج و نکلنے سے مراد قتل اور اس کو معدوم کرتا ہوتا ہے (3) ۔ یہ حلال و حرام میں مستثنیٰ نہیں۔ جس نے کہا : اس سے مراد بدکلامی ہے تو اس کی وضاحت حضرت فاطمہ بنت قیس کی حدیث میں آچکی ہے۔ جس نے کہا : اس سے مراد معصیت ہے تو یہ وہم ہے کیونکہ غائب ہونا اور اس جیسی معصیت نہ نکالنے کو مباح کرتی ہے اور نہ ہی نکلنے کو مباح کرتی ہے۔ جس نے کہا : مراد بغیر حق کے نکلنا ہے تو یہ صحیح ہے، تقدیر کلام یہ ہے لا تخرجوھن من بیوتھن ولایخرجن شرعاً لا ان یخرجن تعدیا۔ مسئلہ نمبر 14 ۔ وتلک حدود اللہ یہ احکام جن کو واضح کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کے بندوں پر احکام ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان سے تجاوز سے منع کیا ہے۔ جس نے تجاوز کیا اس نے اپنے نفس پر ظلم کیا اور اپنے آپ کو ہلاکت کے گھاٹ پر وارد کیا۔ لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ یعنی وہ امر جو اللہ تعالیٰ پیدا فرما دے گا۔ اس سے مراد ہے اس کے دل میں بغض کی بجائے محبت، اعراض کی بجائے رغبت اور طلاق کے پختہ عزم کی بجائے شرمندگی پیدا فرماوے گا تو وہ اس سے رجوع کرے گا۔ تمام مفسرین نے کہا : یہاں امر سے مراد رجوع میں رغبت پیدا کرنا ہے۔ پہلے یہ قول گزر چکا ہے۔ ایک طلاق پر برانگیختہ کا اور تین طلاقوں سے نہی کرنا مقصود ہے کیونکہ جب وہ تین طلاقیں دے چکے گا تو فراق پر شرمندگی کے وقت اور رجوع میں رغبت کے وقت اپنے آپ کو نقصان پہنچائے گا اور رجوع کی کوئی صورت نہیں پائے گا۔ مقاتل نے کہا : بعد ذلک یعنی ایک طلاق اور دو طلاقوں کے بعد۔ امرا یعنی رجوع کرنا اس قول میں کوئی اختلاف نہیں۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ اپنی معیار (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو انکو اچھی طرح سے (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور گواہوں) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز اخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کیلئے (رنج وسخن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کر دیگا

فاذا بلغن اجلھن جب وہ عدت کے ختم ہونے کے قریب پہنچ جائیں (1) جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واذا طلقتم النساء فبلغن اجلھن فامسکوھن (البقرۃ : 231) یعنی عدت کے ختم ہونے کے قریب پہنچ جائیں فامسکوھن بمعروف، معروف طریقہ سے مراجعت ہے۔ مقصد تکلیف دینے کے لئے رجوع کرنا نہ ہو کہ عدت کو طویل کیا جائے بلکہ مقصود دلچسپی ہو جس طرح سورة بقرہ میں گزر چکا ہے۔ اوفارقوھن بمعروف انہیں چھوڑ دو یہاں تک کہ ان کی عدت ختم ہوجائے تو وہ اپنی ذاتوں کے مالک بن جائیں۔ فاذا بلغن اجلھن میں ایسی دلیل موجود ہے جو اس امر کو ثابت کرتی ہے کہ عدت کے ختم ہونے میں قول عورت کا معتبر ہوگا جب وہ اس کا دعویٰ کرے جیسا کہ ہم نے سورة بقرہ میں آیت 228، ولا یحل لھن ان یکتمن ما خلق اللہ فی ارحامھن کے ضمن میں بیان کردیا ہے۔ واشھدوا ذوی عدل منکم میں چھ مسائل ہیں : طلاق پر گواہ بنانا مسئلہ نمبر 1 ۔ واشھدو اطلاق پر گواہ بنانے کے بارے میں امر ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رجوع میں گواہ بنانے کا حکم ہے (1) ۔ ظاہر یہی ہے کہ یہاں رجوع سے مراد رجعت کی طرف رجوع ہے، طلاق کی طرف رجوع نہیں۔ اگر اس نے گواہ بنائے بغیر رجوع کیا تو رجعت کے صحیح ہونے میں فقہاء کے دو قول ہیں (2) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : رجعت اور جدائی دونوں پر گواہ بنانے کا حکم ہے۔ امام ابوحنیفہ کے نزدیک گواہ بنانا مستحب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : واشھدوا اذا تبایعتم (البقرۃ : 282) امام شافعی کے نزدیک رجعت میں واجب ہے اور فرقت میں مستحب ہے۔ گواہ بنانے کا فائدہ یہ ہے کہ دونوں میں باہم انکار کی صورتحال پیدا نہ ہو اور طلاق کے بعد اپنے پاس رکھنے کی وجہ سے تہمت نہ لگائی جائے اور ایک کے فوت ہوجانے کے بعد دوسرا اس بات کا دعویٰ نہ کرے کہ وہ میت کا وارث ہے کیونکہ عقد نکاح باقی ہے۔ رجوع کے طریقے مسئلہ نمبر 2 ۔ اکثر علماء کے نزدیک رجعت پر گواہ بنانا مستحب ہے جب وہ جماع کرے، بوسہ لے یا مباشرت کرے تو اس سے رجعت مراد ہوگی۔ وہ رجعت کا زبانی اظہار کرے اور رجعت کا ارادہ بھی رکھتا ہو تو امام مالک کے نزدیک رجوع کرنے والا ہوگا۔ اگر وہ اس صورت میں رجوع کا ارادہ نہ کرے تو رجوع کرنے والا نہیں ہوگا۔ امام ابوحنیفہ اور ان کے اصحاب نے فرمایا : جب اس نے شہوت کے ساتھ بوسہ لیا، مباشرت کی یا چھوا تو یہ رجعت ہوگی۔ علماء نے کہا : فرج کو دیکھنا یہ بھی رجعت ہے۔ امام شافعی اور ابوثور نے کہا : جب اس نے زبانی رجوع کیا تو یہ رجعت ہوگی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا وطی کرنا ہر حال میں رجوع ہے۔ اس نے رجعت کی نیت کی یا نہ کی۔ امام مالک کے ایک طائفہ سے بھی یہی مروی ہے۔ امام لیث بھی اسی طرح گئے ہیں۔ امام مالک کہا کرتے تھے : جب اس نے وطی کی اور رجعت کی نیت نہ کی تو یہ وطی فاسد ہوگی، دوبارہ اس وقت تک وطی نہ کرے جب تک ماء فاسد سے رحم پاک نہ ہوجائے۔ پہلی رجعت کے باقی ماندہ حصہ میں اسے رجوع کا حق ہے، اس استبراء میں اس کو رجعت کا حق نہیں۔ رجعت میں گواہی کی حیثیت مسئلہ نمبر 3 ۔ امام احمد کے دو قولوں میں سے ایک میں رجعت میں گواہ بنانا واجب ہے۔ امام شافعی بھی کہتے ہیں : کیونکہ امر کا ظاہر اسی بات کا تقاضا کرتا ہے۔ امام مالک، امام ابو حنیفہ، امام احمد اور امام شافعی دوسرے قول میں فرماتے ہیں : رجعت کو قبول کی ضرورت نہیں ہوتی اس لئے گواہ بنانے کی ضرورت نہیں جس طرح دوسرے حقوق ہوتے ہیں خصوصاً جب کفارہ کے ذریعے ظہار کو ختم کیا جائے (3) ۔ ابن عربی نے کہا : امام شافعی کے اصحاب نے رجعت میں گواہ بنانے کے وجوب کا ذکر کرتے ہوئے کہا : خاوند کا یہ کہنا صحیح نہ ہوگا جس نے کل رجوع کیا تھا اور آج رجعت کے اقرار پر گواہ بناتا ہوں جس نے رجعت کے لئے گواہ بنانا شرط قرار دیا ہے اس کے نزدیک اس کے بغیر رجعت صحیح نہ ہوگی (1) ۔ یہ قول فاسد ہے اور اس امر پر مبنی ہے کہ رجعت میں گواہ بنانا امر تعبدی ہے۔ ہم اس میں اور نکاح میں تسلیم نہیں کرتے کہ ہم یہ کہیں یہ باہم مضبوطی کا محل وقوع ہے یہ اقرار میں موجود ہے جس طرح انشاء میں موجود ہے۔ عدت گزرنے کے بعد دوران عدت رجوع کے بارے میں بتانا مسئلہ نمبر 4 ۔ جس نے عدت گزرنے کے بعد یہ دعویٰ کیا کہ اس نے عدت میں رجوع کرلیا تھا اگر عورت نے اس کی تصدیق کردی تو رجوع جائز ہوجائے گا اور اگر وہ انکار کر دے تو وہ قسم اٹھائے گی۔ اگر مرد نے گواہ پیش کردیئے کہ خاوند نے عدت میں رجوع کرلیا تھا اور عورت کو علم نہ ہوا تو عورت کی جہالت اس میں کوئی نقصان نہ پہنچا سکے گی۔ وہ اس خاوند کی بیوی ہی رہے گی۔ اگر اس عورت نے کسی اور مرد سے شادی کرلی اور ابھی تک نئے خاوند نے اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا نہ کئے تھے تو پہلا خاوند رجوع پر گواہیاں پیش کر دے تو اس بارے میں امام مالک سے دو روایتیں ہیں۔ 1۔ پہلا خاوند اس کا زیادہ حقدار ہے۔ 2۔ دوسرا خاوند اس عورت کا زیادہ حقدار ہے۔ اگر دوسرے خاوند نے اس کے ساتھ حقوق زوجیت ادا کر لئے تھے تو پہلے خاوند کے لئے کوئی صورت نہ رہے گی۔ گواہ مرد ہوں گے مسئلہ نمبر 5 ۔ ذوی عدل منکم حضرت حسن بصری نے کہا : مراد مسلمان ہیں (2) ۔ قتادہ سے مروی ہے : تم میں سے جو آزاد ہیں یہ اس امر کو واجب کرتی ہے کہ گواہی جو رجوع کے بارے میں ہو وہ مردوں کے ساتھ خاص ہے، عورتیں گواہ نہیں بن سکتیں کیونکہ ذوی کا لفظ مذکر ہے اسی وجہ سے ہمارے علماء نے کہا : اموال کے علاوہ میں عورتوں کی گواہی کا کوئی عمل دخل نہیں۔ یہ بحث سورة بقرہ میں گزر چکی ہے۔ گواہی میں تبدیلی جائز نہیں مسئلہ نمبر 6 ۔ واقیمو الشھادۃ للہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے گواہی صحیح طریقہ سے دو جب گواہی کی ضرورت ہو اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کی جائے۔ سورة بقرہ میں اس کی وضاحت واقوم للشھادۃ کے تحت چکی ہے۔ ذلکم یوعظ بہ یہاں یوعظ، یرضی کے معنی میں ہے من کان یومن باللہ والیوم الاخر جہاں تک غیر مومن کا تعلق ہے تو وہ ان نصیحتوں سے نفع حاصل نہیں کرتا۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا نبی کریم ﷺ سے عرض کی گئی : جو آدمی تین یا ہزار طلاق دیتا ہے کیا اس کے لئے کوئی راہ ہے ؟ تو حضور ﷺ نے اس آیت کی تلاوت کی (3) ۔ حضرت ابن عباس ؓ، امام شعبی اور ضحاک نے کہا : یہ طلاق میں خاص ہے یعنی جس نے اس طریقہ سے طلاق دی جس طرح اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا تھا تو عدت کے اندر اس کے لئے خلاصی کی کوئی صورت ہوگی اور عدت کے بعد اس کی حیثیت ایک دعوت نکاح دینے والے کی حیثیت ہوگی۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے : یجعل لہ مخرجا سے مراد ہے دنیا و آخرت میں اسے وہ کرب سے نجات عطا فرمائے گا (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : مخرج سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے اسے جو رزق دیا ہوگا اس پر اسے قناعت عطا کرے گا : یہ علی بن صالح کا قول ہے۔ کلبی نے کہا : جو مصیبت کے وقت صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے ڈرے۔ یجعل لہ مخرجا آگ سے جنت کی طرف جانے کا کوئی راہ بنا دے گا۔ حضرت حسن بصری نے کہا : اللہ تعالیٰ نے جس سے اسے منع کیا ہے اس سے نکلنے کی کوئی راہ بنا دے گا۔ ابوالعالیہ نے کہا : ہر شدت سے نکلنے کی کوئی راہ بنا دے گا (2) ۔ ربیع بن خثیم نے کہا : یجعل لہ مخرجا ہر ایسی شی سے نکلنے کی راہ بنا دے گا جو لوگوں کے لئے تنگی کا باعث ہو۔ حسین بن فضل نے کہا : جو فرائض کی ادائیگی میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا اللہ تعالیٰ عقوبت سے بچنے کی کوئی راہ بنا دے گا۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دیگا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا خدا اس کو کفایت کرتے گا اللہ تعالیٰ اپنے کام کو جو کرنا چاہتا ہے کردیتا ہے خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے

ویرزقہ من حیث لایحتسب اللہ تعالیٰ اسے ثواب عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان تک نہ تھا یعنی جو اسے دیا ہے اس میں برکت رکھ دے گا۔ سہل بن عبد اللہ نے کہا : جو اتباع سنت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا اللہ تعالیٰ بدعتیوں کی عقوبت سے اسے محفوظ رکھے گا اور ایسے طریقہ سے جنت عطا فرما دے گا جہاں سے اس کا گمان تک نہ تھا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو رزق میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا اللہ تعالیٰ کفایت کے ساتھ اس کے لئے کوئی راہ پیدا فرما دے گا۔ عمر بن عثمان صوفی نے کہا : جو حدود پر رک گیا، معاصی سے اجتناب کرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے حرام سے حلال کی طرف، تنگی سے وسعت کی طرف اور جہنم سے جنت کی طرف نکالے گا اور اسے وہاں سے رزق عطا فرمائے گا جہاں سے اسے امید ہی نہ تھی۔ ابن عینیہ نے کہا : اس سے مراد رزق میں برکت ہے۔ حضرت ابوسعید خدری نے کہا : جو آدمی اپنے اردگرد اور اپنی قوت سے برات کا اظہار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اپنی مدد کے ساتھ اس کے لئے ان چیزوں سے نکلنے کی کوئی راہ پیدا کردیتا ہے جن کا اس نے اسے مکلف بنایا تھا۔ حضرت ابن مسعود اور حضرت مسروق نے آیت کی تاویل عموم کے ساتھ کی ہے۔ حضرت ابوذر نے کہا : نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” میں ایک ایسی آیت جانتا ہوں اگر لوگ اسے پکڑ لیں تو وہ انہیں کافی ہوجائے “ (3) پھر اس آیت کی تلاوت کی۔ آپ لگاتار اسے پڑھتے رہے اور اس کا اعادہ کرتے رہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : نبی کریم ﷺ نے اس آیت کو پڑھا، فرمایا : ” دنیا کے شبہات، موت کی سختیوں اور یوم قیامت کی شدائد سے کوئی راہ پیدا فرما دے گا “۔ اکثر مفسرین نے کہا : جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئی۔ کلبی نے ابوصالح سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کرتے ہیں کہ حضرت عوف بن مالک اشجعی، نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے بیٹے کو دشمنوں نے قید کرلیا ہے اور اس کی ماں جزع فزع کر رہی ہے۔ حضرت جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے : یہ آیت حضرت عوف بن مالک اشجعی کے حق میں نازل ہوئی (1) ۔ مشرکوں نے ان کے بیٹے کو قید کرلیا جسے سلام کہتے، وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور فاقہ کی شکایت کی۔ عرض کی : دشمن نے میرے بیٹے کو قید کرلیا ہے اور اس کی ماں جزع فزع کرتی ہے، آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا، ” اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور صبر کرو۔ میں تجھے اور اسے حکم دیتا ہوں کہ تم دونوں کثرت سے لاحول ولا قوۃ الہ باللہ پڑھا کرو “۔ حضرت عوف اپنیگھر کی طرف لوٹے اور اپنی بیوی سے کہا : رسول اللہ ﷺ نے مجھے اور تجھے یہ حکم دیا ہے کہ کثرت سے لاحول ولا قوۃ الہ باللہ پڑھا کریں۔ ان کی بیوی نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں کتنی اچھی بات کا حکم دیا ہے۔ وہ دونوں پڑھنے لگے۔ دشمن ان کے بیٹے سے غافل ہوا، اس نے ان کے ریوڑ کو ہانکا اور اسے اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ یہ چار ہزار بکریاں تھیں تو یہ آیت نازل ہوئی۔ نبی کریم ﷺ نے وہ تمام بکریاں انہیں دے دیں (2) ۔ ایک روایت میں ہے : وہ آیا اور اس نے دشمنوں کے اونٹ پائے جبکہ وہ فقیر تھا۔ کلبی نے کہا : اس نے پچاس اونٹ پائے تھے۔ ایک روایت میں ہے : اس کا بیٹا قید سے نکل آیا اور قوم کی اونٹنی پر سوار ہوا، راستہ میں ان کے جانوروں کے پاس سے گزرا جو چر رہے تھے تو ان سب کو ہانک لیا۔ مقاتل نے کہا : اس نے ریوڑ اور سامان پایا اور نبی کریم ﷺ سے عرض کی : میرا بیٹا جو مال لایا ہے کیا میں اسے کھا سکتا ہوں۔ فرمایا : ” ہاں “ تو یہ آیت نازل ہوئی۔ حضرت حسن بصری نے عمران بن حصین سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے تمام تعلق توڑ کر اللہ تعالیٰ سے ناطہ جوڑ لیا، اللہ تعالیٰ اس کی ہر حاجت کے لئے کافی ہوجاتا ہے اور اسے وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا اور جو دنیا کی طرف اپنی تمام توجہات کرلیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے دنیا کے سپرد کردیتا ہے “ (3) ۔ زجاج نے کہا : جب وہ تقویٰ اختیار کرتا ہے، حلال کو ترجیح دیتا ہے اور صبر کرتا ہے۔ اگر وہ تنگ دست ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے رزق کے دروازے کھول دیتا ہے اور ایسی جگہ سے رزق بہم پہنچاتا ہے جہاں سے اسے گمان تک نہیں ہوتا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا : ” جس نے کثرت سے استغفار کی۔ اللہ تعالیٰ ہر غم سے اس کے لئے کشادگی پیدا فرما دیتا ہے۔ ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ عطا فرما دیتا ہے اور ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے اسے گمان تک نہ تھا “ ( 4) ۔ ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ جس نے اپنے معاملہ کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا اللہ تعالیٰ اس کی تمام مشکلات کے لئے کافی ہوجاتا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : جو آدمی اللہ تعالیٰ سے ڈرے، معاصی سے اجتناب کرے، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرے، اللہ تعالیٰ آخرت میں اسے ایسا اجر عطا فرمائے گا جو اس کے لئے کافی ہوگا۔ یہاں دنیا کا ارادہ نہیں کیا کیونکہ توکل کرنے والا کبھی دنیا میں پکڑ لیا جاتا ہے اور اسے قتل کردیا جاتا ہے۔ ان اللہ بالغ امرہ مسروق نے کہا : اس کے ہر امر کو پورا کرنے والا ہے جس میں اس نے توکل کیا تھا اور جس میں توکل نہیں کیا تھا مگر جس میں اس نے توکل کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ اس کی خطائوں کو معاف کردیتا ہے اور اس کو اجر عظیم سے نوازتا ہے (1) ۔ عام قرأت بالغ ہے۔ امرہ منصوب ہے عاصم کی قرأت بالغ امرہ ہے یعنی مضاف مضاف الیہ ہے۔ مفضل نے بالغا امرہ قرأت کی ہے، اس طریقہ پر قد جعل اللہ، ان کی خبر ہے اور بالغا حال ہے۔ دائود بن ابی نے بالغ کی وجہ سے امرہ مرفوع پڑھا ہے اور مفعول بہ مخدوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہوگی بالغ امرہ ما اراد۔ قد جعل اللہ لکل شی قدرا تنگی اور خوشحالی میں سے ہر ایک کے لئے وقت مقرر کردیا ہے جہاں پہنچ کر وہ ختم ہوجائے گی۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : قدرا یہ تقدیرا کے معنی میں ہے۔ سدی نے کہا : اجل اور عدت میں حیض کو مقدر کیا ( 2) ۔ عبداللہ بن رافع نے کہا : جب ومن یتوکل علی اللہ فھو حسبہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ کے صحابہ نے فرمایا : ہم جب اس پر توکل کرتے ہیں تو جو کچھ ہمارا ہوتا ہے ہم اسے چھوڑ دیتے ہیں، ہم اس کی حفاظت نہیں کرتے تو یہ آیت نازل ہوتی ان اللہ بالغ امرہ یعنی تمہارے بارے میں اور تم پر۔ ربیع بن خثیم نے کہا : اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر لازم کرلیا ہے کہ جو اس پر بھروسہ کرے گا اللہ تعالیٰ اسے کافی ہوجائے گا جو اس پر ایمان لائے گا اللہ تعالیٰ اسے ہدایت دے گا، جو اسے قرض دے گا اللہ تعالیٰ اسے بدلہ دے گا، جو اس پر اعتماد کرے گا اللہ تعالیٰ اسے نجات عطا فرمائے گا، جو دعا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کی دعا قبول فرمائے گا، اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے : ومن یومن باللہ و یعمل صالحا یدخلہ (التغابن : 11) ومن یتوکل علی اللہ اللہ فھو حسبہ (الطلاق :3) ان تقرضوا اللہ قرضا حسنا یضعفہ لکم (التغابن : 17) ومن یعتصم باللہ فقد ھدی الی صراط مستقیم۔ (آل عمران) واذا سالک عبادی عنی فانی قریب، اجیب دعوۃ الداع اذا دعان (البقرۃ : 186)
Ayahs 65:4–5

وَ الّٰٓئِیْ یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِكُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلٰثَةُ اَشْهُرٍ١ۙ وَّ الّٰٓئِیْ لَمْ یَحِضْنَ١ؕ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُهُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَهُنَّ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مِنْ اَمْرِهٖ یُسْرًا Open ayah 65:4 in the Quran reader

اور تمہاری (مطلقہ) عورتیں جو حیض سے ناامید ہوچکی ہوں اگر تم کو (انکی عدت کے بارے میں) شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے۔ اور جن کو ابھی حیض نہیں آنے لگا (انکی عدت بھی یہی ہے) اور حمل والی عورتوں کی عدت وضع حمل (یعنی بچہ جننے) تک ہے۔ اور جو خدا سے ڈرے گا خدا اس کام میں سہولت کر دے گا

ذٰلِكَ اَمْرُ اللّٰهِ اَنْزَلَهٗۤ اِلَیْكُمْ١ؕ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یُكَفِّرْ عَنْهُ سَیِّاٰتِهٖ وَ یُعْظِمْ لَهٗۤ اَجْرًا Open ayah 65:5 in the Quran reader

یہ خدا کے حکم ہیں جو خدا نے تم پر نازل کئے ہیں اور خدا سے ڈرے گا وہ اس سے اس کے گناہ دور کردے گا اور اسے اجر عظیم بخشے گا۔

اس میں سات مسائل ہیں : جن کو حیض کا خون نہیں آتا ان کی عدت مسئلہ نمبر 1 ۔ واتی یئس من المحیض من نسائکم جب طلاق اور رجعت کا امر ان عورتوں کے بارے میں واضح فرما دیا جن کو حیض آتا ہے تو انہوں نے حیض والی عورتوں کی عدت کو پہچان لیا اس میں ان عورتوں کی عدت کو بیان کیا جو خون نہیں دیکھتیں۔ ابو عثمان عمر بن سالم نے کہا : جب سورة بقرہ میں ان عورتوں کی عدت کا حکم نازل ہوا جن کو طلاق دی گئی اور جن کا خاوند فوت ہوگیا تھا تو حضرت ابی نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کچھ لوگ کہتے ہیں، عورتوں میں سے کچھ ایسی بھی ہیں جن کے بارے میں کچھ ذکر نہیں ہوا، وہ چھوٹی عمر کی اور حاملہ عورتیں ہیں۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : وائی یئس۔ مقاتل نے کہا : جب اللہ تعالیٰ کے فرمان والمطلقت یتربصن بانفسھن ثلثۃ قروء (البقرۃ : 228) کا ذکر ہوا تو خلاد بن نعمان نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس عورت کی عدت کیا ہے جس کو حیض نہیں آتا ؟ اس عورت کی عدت کیا ہے جس کا حیض آنا منقطع ہوچکا ہو اور حاملہ کی عدت کیا ہے ؟ تو یہ آیت واتی یئس من المحیض من نسائکم نازل ہوئی یعنی جو عورتیں حیض کے آنے سے مایوس ہوگئیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : حضرت معاذ بن جبل نے ایسی بوڑھی عورت کی عدت کے بارے میں پوچھا جو حیض سے مایوس ہوچکی تھی تو یہ آیت نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے۔ مجاہد نے کہا : یہ آیت مستحاضہ کے بارے میں وارد ہوئی جو نہیں جانتی کہ یہ حیض کا خون ہے یا بیماری کا خون ہے (1) ۔ ارتیاب کا معنی مسئلہ نمبر 2 ۔ ان ارتبتم یعنی تمہیں شک ہو۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : تمہیں یقین ہو۔ یہ اضداد میں سے ہے۔ وہ (ارتیاب) شک و یقین ہو جس طرح ظن ہوتا ہے۔ طبری کا اختیار ہے کہ معنی یہ ہوا اگر تمہیں شک ہو کہ تم نہیں جانتے کہ ان کے بارے کیا حکم ہے (2) ۔ زجاج نے کہا : اگر تم اس کے حیض میں شک کرو جبکہ اس کا حیض ختم ہوچکا ہے اور وہ ان عورتوں میں سے ہے جن کو حیض آتا ہے۔ قشیری نے کہا : اس میں غوروفکر کی گنجائش ہے کیونکہ جب ہم شک کریں گے کیا اس کی عمر مایوسی کو پہنچ چکی ہے تو ہم یہ نہیں کہیں گے کہ اس کی عدت تین ماہ ہے۔ ایک قول کے مطابق مایوسی کی عمر میں معتبر دنیا میں عورت کی عادت کی سب سے لمبی عدت ہے۔ ایک قول ہے : اس عورت کے خاندان کی عورتوں کا عمومی معمول ہے۔ مجاہد نے کہا : خطاب دعوت نکاح دینے والوں کو ہے یعنی اگر تمہیں علم نہ ہو کہ مایوس عورت اور جسے حیض نہیں آتا اس کی عدت کتنی ہے تو اس کی عدت یہ ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : معنی ہے اگر تمہیں شک ہو کہ یہ خون جو ظاہر ہوا ہے وہ بڑھاپے کی وجہ سے ہے، معروف حیض کا ہے یا استحاضہ کا ہے تو عدت تین ماہ ہوگی۔ عکرمہ اور قتادہ نے کہا : مراد وہ عورت ہے جس کا حیض معین دنوں میں نہیں آتا کبھی مہینے کے شروع میں آتا ہے اور کبھی کئی مہینوں میں ایک دفعہ آتا ہے (1) ۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ سورت کے اول حصہ سے متعلق ہے۔ معنی ہے تم انہیں ان کے گھروں سے نہ نکالو اگر تمہیں عدت کے ختم ہونے میں شک ہو۔ اس بارے میں جو قول کئے گئے ہیں ان میں سے یہ سب سے صحیح ہے۔ شک والی عورت کو کتنا رکنا چاہئے مسئلہ نمبر 3 وہ عورت جس کو شک ہو وہ عقد نکاح نہ کرے یہاں تک کہ وہ اپنے نفس کو شک سے پاک کرلے۔ وہ عورت عدت سے خارج نہ ہوگی مگر اس شک کے ختم ہونے کے بعد ہی خارج ہوگی۔ مرتابہ عورت کے بارے میں ایک قول یہ کیا گیا ہے : جس کا حیض آنا بند ہوگیا ہو وہ نہیں جانتی کہ وہ خون آنا کب ختم ہوا تھا وہ ایک سال اس وقت سے انتظار کرے گی جس وقت سے اس کے خاوند نے اسے طلاق دی تھی۔ سال میں سے نو ماہ استبراء رحم کے ہوں گے اور تین ماہ عدت کے ہوں گے۔ اگر خاوند نے اسے طلاق دی تو اسے ایک حیض آیا یا دو حیض آنے پر ناامیدی کی وجہ سے حیض آنا بند ہوگیا تو وہ نو ماہ انتظار کرے گی پھر تین ماہ اس وقت سے انتظار کرے گی جس دن وہ حیض سے پاک ہوئی تھی۔ پھر وہ نکاح کے خواہش مند افراد کے لئے حلال ہوجائے گی۔ امام شافعی نے یہ قول عراق میں کیا۔ اس قول پر قیاس کرتے ہوئے ایسی عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے تو وہ استبراء رحم کے لئے نو ماہ کے بعد چار ماہ دس دن اور لونڈی نو ماہ کے بعد دو ماہ پانچ دن عدت گزارے گی۔ امام شافعی سے یہ قول بھی مروی ہے : اس کی عدت اقراء ہی ہوں گے یہاں تک کہ سن ایاس کو پہنچ جائے : یہ امام نخعی، ثوری اور دوسرے علماء کا قول ہے۔ ابو عبید نے اہل عراق سے اسے حکایت کیا ہے۔ اگر عورت جو ان ہو تو یہ چوتھا مسئلہ ہے جس کا ذکر آ رہا ہے۔ جو ان عورت کو حیض کا خون نہ آنے کی صورت میں حکم مسئلہ نمبر 4 ۔ اس کے بارے میں انتظار کیا جائے گا۔ یہ حاملہ ہے یا حاملہ نہیں اگر اس کا حمل ظاہر ہوجائے تو اس کی عدت وضع حمل ہوگی۔ اگر حمل ظاہر نہ ہو تو امام مالک نے کہا : وہ عورت جس کو حیض نہ آتا ہو جبکہ وہ جو ان ہو اس کی عدت ایک سال ہے، یہی قول امام احمد اور اسحاق کا ہے۔ انہوں نے یہ حضرت عمر بن خطاب اور دوسروں سے روایت کیا ہے۔ اہل عراق کی رائے ہے : اس کی عدت تین حیض ہے جبکہ زندگی میں اسے ایک دفعہ خون آیا ہو اگرچہ وہ بیس سال رکی رہے مگر جب وہ بڑھاپے میں اس عمر تک جا پہنچے جس میں وہ حیض سے مایوس ہوجائے تو مایوسی کے وقت کے بعد اس کی عدت تین ماہ ہوگی۔ ثعلبی نے کہا : یہ امام شافعی کے مذہب سے زیادہ صحیح ہے۔ اس پر جمہور علماء کا نقطہ نظر ہے۔ یہی قول حضرت ابن مسعود ؓ اور آپ کے اصحاب سے مروی ہے۔ ال کیا نے کہا : یہی حق ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آئسہ کی عدت تین ماہ بنائی ہے جبکہ جس کے بارے میں شک ہو وہ آئسہ نہیں۔ مرض کی وجہ سے حیض نہ آنے کی صورت میں حکم مسئلہ نمبر 5 ۔ جس کا حیض مرض کی وجہ سے متاخر ہوگیا ہو تو امام مالک، ابن قاسم اور عبد اللہ بن اصبغ نے کہا : وہ نو ماہ عدت گزارے گی پھر تین ماہ عدت گزارے گی۔ اشہب نے کہا : وہ دودھ پلانے والی کی طرح ہے۔ وہ دودھ چھڑانے کے بعد حیض کی صورت میں یا سال بھر عدت گزارے گی۔ حبان بن منقذ نے اپنی بیوی کو طلاق دی جبکہ وہ دودھ پلا رہی تھی۔ وہ ایک سال تک رکی رہی۔ اسے دودھ پلانے کی وجہ سے حیض نہ آتا، پھر حضرت حبان بیمار ہوئے تو انہیں خوف ہوا کہ وہ اس کی وارث بن جائے گی تو حضرت حبان نے جھگڑا حضرت عثمان کی خدمت میں پیش کیا جبکہ حضرت عثمان غنی ؓ کے پاس حضرت علی شیر خدا اور حضرت زید موجود تھے۔ دونوں نے کہا : ہماری رائے ہے کہ وہ وارث بنے گی کیونکہ وہ حیض سے مایوس نہیں اور نہ ہی بچی ہے۔ حضرت حبان فوت ہوگئے تو ان کی بیوی ان کی وارث بنی اور پھر وفات کی عدت گزاری۔ مرض و دودھ کے علاوہ حیض نہ آنے کی صورت میں حکم مسئلہ نمبر 6 ۔ اگر مرض یا دودھ پلانے کے علاوہ کسی اور سبب سے متاخر ہوا وہ ایک سال انتظار کرے گی جس میں حیض نہ ہو، پہلے نو ماہ پھر تین ماہ جس طرح ہم نے ذکر کیا ہے۔ اگر اسے حمل کا شک نہ ہو تو وہ حلال ہوجائے گی۔ اگر اسے حمل کا شک ہو تو وہ چار سال، پانچ سال یا سات سال انتظار کرے گی جس طرح ہمارے علماء کی مختلف روایات ہیں۔ ان میں سے مشہور پانچ سال ہیں۔ اگر وہ ان کو گزارے تو وہ عورت حلال ہوجائے گی۔ اشہب نے کہا : وہ کبھی بھی حلال نہ ہوگی یہاں تک کہ اس سے شک منقطع ہوجائے (1) ۔ ابن عربی نے کہا : یہ قول صحیح ہے کیونکہ جب یہ جائز ہے کہ بچہ پانچ سال تک ماں کے پیٹ میں رہے تو یہ بھی جائز ہے کہ وہ دس سال یا اس سے زیادہ عرصہ رہے۔ امام مالک سے اسی کی مثل مروی ہے (٭) ۔ مستحاضہ کی عدت مسئلہ نمبر 7 ۔ وہ عورت جس کا حیض استحاضہ کی وجہ سے مجہول ہوگیا اس کے بارے میں تین قول ہیں۔ ابن مسیب نے کہا : وہ ایک سال عدت گزارے گی، یہ لیث کا قول ہے۔ لیث نے کہا : مطلقہ کی عدت اور جس کا خاوند فوت ہوجائے جب وہ مستحاضہ ہو تو اس عورت کی عدت ایک سال ہے۔ یہ ہمارے علماء کا مشہور قول ہے خواہ اسے اپنے استحاضہ کے خون سے حیض کے خون کا علم ہو، اسے امتیاز ہو یا نہ ہو۔ امام مالک کے نزدیک اس کی عدت تمام صورتوں میں ایک سال ہے۔ نو ماہ رحم کو پاک کرنے کے اور تین ماہ عدت کے۔ امام شافعی کے اقوال میں سے ایک قول یہ ہے : اس کی عدت تین ماہ ہے، یہ تابعین اور متاخرین کی ایک جماعت کا قول ہے۔ ابن عربی نے کہا : میرے نزدیک یہ صحیح ہے۔ ابو عمر نے کہا : مستحاضہ عورت کا خون ختم ہوجاتا ہو، اس کو حیض کے آنے اور اس کے ختم ہونے کا علم ہو تو وہ تین حیض عدت گزارے گی۔ یہ نظر و فکرکے اعتبار سے صحیح ہے اور قیاس و اثر میں سب سے مضبوط ہے۔ واتی لم یحضن مراد چھوٹی عمر کی بیوی ہے۔ ایسی بیویوں کی عدت تین ماہ ہے۔ خبر مضمر ہے کیونکہ انہیں عادۃً حیض نہیں آتا اس لئے ان کی عدت مہینے ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے احکام کو عادات پر جاری کیا ہے (2) ، وہ مہینوں کے اعتبار سے عدت گزارے گی۔ جب وہ خون دیکھے ایسے عرصہ میں جس میں عورتیں حیض کا احتمال رکھتی ہیں تو اصل پائے جانے کی وجہ سے عدت حیض کی طرف منتقل ہوجائے گی۔ جب اصل پایا جائے تو بدل کے لئے حکم باقی نہیں رہے گا جس طرح عمر رسیدہ عورت کو جبض حیض کی صورت میں عدت گزار رہی تھی، پھر اس کا خون ختم ہوگیا تو عدت مہینوں کی طرف لوٹ جائے گی۔ اس پر اجماع ہے۔ واولات الاحمال اجلھن ان یضعن حملھن اس میں دو مسئلے ہیں : مطلقہ حاملہ اور متوفیٰ عنہازوجہا حاملہ کی عدت مسئلہ نمبر 1 ۔ واولات الاحمال اجلھن ان کی عدت وضع حمل (بچہ کی پیدائش) ہے، اگرچہ یہ حکم مطلقہ میں ظاہر ہے کیونکہ اس کلام کا عطف اسی پر ہے اور کلام اسی طرف راجع ہے تاہم جس کا خاوند فوت ہوجائے اس میں بھی حکم اسی طرح ہے کیونکہ آیت عام ہے اور حضرت سبیعہ کی حدیث بھی اسی کے موافق ہے اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ آیت 174 میں گزر چکی ہے۔ وضع حمل سے مراد کیا ولد ہے یا جما خون اور لوتھڑا بھی مسئلہ نمبر 2 ۔ جب عورت کا وضع حمل ہوجائے وہ جما ہوا خون ہو یا گوشت کا لوتھڑا ہو، وہ عورت حلال ہوجائے گی (یعنی وہ عقد نکاح کرسکتی ہے) امام شافعی اور امام ابوحنیفہ نے کہا : وہ حلال نہیں ہوگی مگر جب وہ رحم سے نکلنے والی چیز ولد ہو (1) ۔ اس بارے میں گفتگو سورة بقرہ اور سورة رعد میں گزر چکی ہے۔ الحمد للہ۔ ومن یتق اللہ یجعل لہ من امرہ یسرا۔ ضحاک نے کہا : جو طلاق سنت میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہا، اللہ تعالیٰ رجوع میں اس کے لئے آسانی پیدا فرما دے گا ( 2) ۔ مقاتل نے کہا : جو اللہ تعالیٰ کی نافرمانیوں کے اجتناب میں ڈرتا رہا، اللہ تعالیٰ اسے اپنی طاعت کی توفیق دے کر معاملہ کو آسان کر دے گا۔ ذلک امر اللہ یعنی جو احکام ذکر کئے گئے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا امر ہیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف نازل کئے ہیں اور تمہارے لئے واضح کئے ہیں۔ ومن یتق اللہ جو اس کی طاعت بجالاتا ہے یکفر عنہ سیاتہ وہ ایک نماز سے دوسری نماز اور ایک جمعہ سے دوسرے جمعہ تک کی غلطیوں کو معاف فرما دیتا ہے۔ ویعظم لہ اجرا۔ اور آخرت میں اس کو عظیم اجر سے نوازے گا۔