66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیر انوار البیان

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی آپ اس چیز کو کیوں حرام کرتے ہو جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا، آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں، اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے،

حلال کو حرام قرار دینے کی ممانعت یہاں سے سورة التحریم شروع ہو رہی ہے۔ اس کی ابتدائی آیات کا سبب نزول ایک واقعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز عصر کے بعد تھوڑی دیر کو ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ تھوڑا تھوڑا وقت ہر ایک کے پاس گزارتے تھے۔ ایک دن جو حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس تشریف لے گئے ان کے پاس شہد پی لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی تشریف لائیں تو ہم کہہ دیں گے کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے (یہ ایک قسم کا گوند ہوتا تھا) چناچہ آپ دونوں میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لائے تو یہی بات عرض کردی، آپ نے فرمایا کہ میں نے مغافیر تو نہیں کھایا بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے اور میں نے قسم کھالی ہے کہ اس کے بعد ہرگز نہیں پیوں گا۔ اس پر آیت کریمہ ﴿ يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ﴾ نازل ہوئی۔ (صحیح البخاری صفحہ 729: ج 2) یہ قصہ ذرا تفصیل سے صحیح بخاری صفحہ 793 میں بھی ہے اس میں کچھ اختلاف روایت بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے رسول اللہ ﷺ کو اسوہ اور مقتداء بنا کر بھیجا تھا اس لیے طرح طرح کے واقعات ظہور پذیر ہوئے تاکہ امت کو اپنے حالات اور معاملات میں ان سے سبق ملے۔ آپ کی بعض بیویوں نے جو ایسا مشورہ کیا تھا کہ آپ تشریف لائیں گے تو ہم ایسا ایسا کہیں گے یہ شوہر اور بیوی کی آپس کی دل لگی کی بات ہے اس میں یہ اشکال پیدا نہیں ہوتا کہ ان عورتوں نے رسول اللہ ﷺ کو کیوں ایذا پہنچائی، جب یہ عرض کیا گیا کہ آپ نے گوند کھایا ہے تو آپ نے فرمایا میں نے گوند نہیں کھایا، میں زینب کے پاس سے شہد پی کر آیا ہوں اور ساتھ ہی قسم بھی کھالی کہ اب میں نہیں کھاؤں گا اور سوال کرنے والی بیوی سے یہ ارشاد فرمایا کہ کسی کو نہیں بتانا، اللہ تعالیٰ نے آپ کو خطاب کر کے فرمایا کہ اے نبی جو چیزیں اللہ نے آپ کے لیے حلال قرار دی ہیں آپ ان کو اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں، آپ اپنی بیویوں کی خوشنودی چاہتے ہیں، یہ حرام قرار دینا ان کی خوشنودی کے لیے ہے حلال کو حرام قرار کرلینا اور پھر اس پر قسم کھانا آپ کے شایان شان نہیں ہے۔ ﴿وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ001﴾ (اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے) ۔ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات گرامی کی عظمت بتائی ہے کہ ترک اولیٰ بھی آپ کے مقام رفیع کے خلاف ہے۔ یہ بھی توقع نہیں ہونا چاہیے تھا اور جو کچھ ہوگیا اللہ تعالیٰ نے اسے بھی معاف فرما دیا (آپ نے اعتقا داً حلال کو حرام قرار نہیں دیا تھا البتہ ترک مباح پر قسم کھالی تھی) ۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کھولنا مقرر فرما دیا ہے اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور وہ جاننے والا ہے حکمت والا ہے۔

قسم کھانے کے بعد کیا طریقہ اختیار کیا جائے : ﴿ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ 1ۚ﴾ (اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کا کھول دینا مشروع فرمایا ہے) اس میں لفظ لکم بڑھا کر یہ بتادیا کہ ساری امت کے لیے یہی حکم ہے کہ جب کسی چیز کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ نے اس سے عہد برآ ہونے کا جو طریقہ مشروع فرمایا ہے اس کے مطابق عمل کرلیں۔ یہ قسم کا کھولنا یعنی قسم کھا کر جو بات اپنے ذمہ کرلی ہے اس سے نکلنا دو طریقہ سے ہے ایک تو یہ ہے کہ قسم کو پورا کر دے (بشرطیکہ معصیت نہ ہو) اور دوسرا یہ کہ اگر قسم ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ دے دیا جائے ان دونوں صورتوں سے قسم ختم ہوجاتی ہے یعنی اس کا حکم باقی نہیں رہتا، پھر معلوم ہونا چاہیے کہ ایک تو یہ قسم ہے کہ اللہ کی قسم ایسا کروں گا یا ایسا نہیں کروں گا (پھر اس میں معلق اور غیر معلق کی تفصیلات ہیں) اور دوسری صورت یہ ہے کہ کسی حلال کو اپنے اوپر حرام کرلے۔ حضرت امام ابوحنیفہ ؓ کے نزدیک یہ بھی یمین ہے اس کا بھی کفارہ واجب ہے جیسا کہ قسم کی خلاف ورزی کرنے پر کفارہ لازم آتا ہے۔ تفسیر قرطبی میں بلاسند نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی قسم کا کفارہ دے دیا تھا پھر زید بن اسلم سے نقل کیا ہے کہ آپ نے کفارہ میں ایک غلام آزاد فرمایا تھا۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب نبی ﷺ نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے آہستہ سے بیان فرما دی پھر جب وہ بات اس بیوی نے بتادی اور اللہ نے وہ بات نبی پر ظاہر فرما دی تو پیغمبر ﷺ نے کچھ بات بتادی اور کچھ بات سے اعراض کیا، پھر جب نبی ﷺ نے وہ بات اس بیوی کو بتادی تو اس نے کہا کہ آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ آپ نے فرمایا مجھے جاننے والے خبر رکھنے والے نے خبر دی۔

رسول اللہ ﷺ کا ایک خصوصی واقعہ جو بعض بیویوں کے ساتھ پیش آیا بعض مفسرین نے اس آیت کا تعلق بھی شہد والے قصہ سے بتایا ہے اور یوں تفسیر کی ہے کہ آپ نے جو یوں فرمایا تھا کہ میں شہد نہیں پیوں گا اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا تھا کہ کسی سے کہنا نہیں لیکن جس اہلیہ سے یہ فرمایا تھا اس نے آپ کی دوسری اہلیہ کو یہ بات بتادی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اس سے مطلع فرما دیا تو آپ نے اہلیہ کو تھوڑی سی بات بتادی۔ یعنی یہ جتا دیا کہ تو نے اتنی بات ظاہر کردی ہے کہ فلاں عورت سے کہہ دی اور آپ نے تھوڑی سی بات سے اعراض فرمایا یعنی غایت کرم کی وجہ سے پورے اجزاء کا اظہار نہیں فرمایا تاکہ ظاہر کرنے والی اہلیہ کو یہ بات جان کر شرمندگی نہ ہو کہ میں نے جو کچھ دوسری خاتون سے کہا ہے وہ سب آپ کو معلوم ہوگیا، جب آپ نے بات بتانے والی بیوی کو یہ جتلایا کہ تو نے میری بات کہہ دی ہے تو اس نے سوال کیا کہ آپ کو کس نے خبر دی، آپ نے فرمایا کہ مجھے علیم وخبیر یعنی اللہ تعالیٰ نے خبر دی۔ صاحب بیان القرآن نے ا سی تفسیر کو اختیار کیا ہے لیکن تفسیر کی کتابوں میں یہاں ایک واقعہ بھی لکھا ہے اور آیت بالا کو اسی سے متعلق بتایا ہے وہ واقعہ معالم التنزیل میں یوں لکھا ہے کہ : حضرت حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے گھر سے جانے کی اجازت مانگی، آپ نے اجازت دے دی آپ کی ایک باندی ماریہ قبطیہ تھی جن سے صاحبزادہ ابراہیم پیدا ہوئے تھے (t) وہ وہاں پہنچ گئیں آپ نے ان سے اپنی حاجت پوری کرلی، حفصہ ؓ جو واپس آئیں تو انہوں نے دروازہ بند دیکھا اور صورتحال کو بھانپ لیا، جب آپ تشریف لائے تو شکایت کی کہ آپ نے میرے اکرام کے خلاف اور میری نوبت کے دن اور میرے بستر پر باندی سے استمتاع کرلیا، آپ نے فرمایا اس میں اعتراض والی کون سی بات ہے میری باندی ہے اللہ تعالیٰ نے میرے لیے اس کو حلال قرار دیا ہے چلو خاموشی اختیار کرو میں اسے اپنے اوپر حرام قرار دیتا ہوں تو راضی ہوجا اور کسی کو خبر نہ دینا، جب آپ باہر تشریف لے گئے تو حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ کا دروازہ کھٹکھٹایا اور انہیں خوشخبری سنائی کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی کو اپنے اوپر حرام قرار دے دیا ہے، اس کے بعد صاحب معالم التنزیل نے لکھا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جو اپنی باندی کو اپنے اوپر حرام فرما لیا تھا۔﴿ وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ ﴾ سے یہ بات مراد ہے جس میں یہ ہے کہ آپ نے حفصہ ؓ سے فرمایا تھا کہ کسی کو خبر نہ دینا، پھر حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ آپ نے اسی وقت یہ بتادیا تھا کہ میرے بعد ابوبکر و عمر ؓ خلیفہ ہوں گے۔ سیّدہ حفصہ ؓ نے یہ باتیں اپنی سہیلی سیّدہ عائشہ ؓ کو بتادی، آپ نے فرمایا کہ تو نے عائشہ کو یہ بات بتائی ہے، انہوں نے عرض کیا کہ آپ کو کس نے بتایا ؟ آپ نے فرمایا مجھے علیم وخبیر نے بتادیا، سیّدہ حفصہ ؓ نے سیّدہ عائشہ ؓ کو باندی حرام کرنے والی بات بھی بتادی تھی اور خلافت والی بھی، لیکن رسول اللہ ﷺ نے ان سے ایک بات کا ذکر فرمایا اور ایک بات چھوڑ دی یعنی یوں نہیں فرمایا کہ تو نے عائشہ کو خلافت والی بات بھی بتائی ہے، آپ چاہتے تھے کہ خلافت والی بات لوگوں میں نہ پھیلے۔ مفسر قرطبی نے بھی سیّدہ ماریہ ؓ کو حرام قرار دینے والی بات لکھی ہے اور یہ بھی لکھا ہے کہ سند کے اعتبار سے یہ زیادہ ٹھیک ہے، لیکن صحیح احادیث میں مذکور نہیں ہے اگر اس روایت کو سامنے رکھا جائے تو ﴿ عَرَّفَ بَعْضَهٗ ﴾ کا مطلب یہ ہوگا کہ سیّدہ حفصہ ؓ نے سیّدہ عائشہ ؓ کو جو باتیں بتائی تھیں ان میں سے آپ نے کچھ بات بتادی اور کچھ بات سے خاموشی اختیار فرما لی۔ آیت بالا کو شہد والے قصہ سے متعلق مانا جائے تو اس میں چونکہ سیّدہ حفصہ اور سیّدہ عائشہ ؓ دونوں نے یہ مشورہ کیا تھا کہ آپ تشریف لائیں گے تو ہم یوں کہیں گے کہ آپ نے شہد پیا ہے۔ لہٰذا دونوں کی ذات پر حرف آتا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دینے والا مشورہ کیوں کیا، ارادہ خواہ ایذا دینے کا نہ ہو صرف دل لگی مقصود ہو لیکن صورت حال ایسی بن گئی کہ آپ کو اس سے تکلیف پہنچی لہٰذا توبہ کا حکم دیا گیا۔ دوسرے قصہ میں بظاہر سیّدہ عائشہ ؓ پر کوئی بات نہیں آتی کیونکہ انہوں نے صرف بات سنی تھی اور آگے بڑھانے کا ذکر بھی نہیں ملتا، ہاں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ممکن ہے سیّدہ حفصہ ؓ نے ان سے یوں کہا ہو کہ تمہیں ایک راز کی بات بتاتی ہوں مجھے منع تو کیا ہے کہ کسی کو نہ بتاؤں لیکن تم سے جو سہیلے پن کا تعلق ہے اس لیے بیان کردیتی ہوں اگر انہوں نے یوں کہا اور انہوں نے سن لیا تو ایذاء دینے والی بات بن سکتی ہے ان کو چاہیے تھا کہ یوں کہہ دیتیں کہ جب آپ نے بیان کرنے سے منع فرما دیا ہے تو میں نہیں سنتی۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayahs 66:4–5

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اے دونوں بیویو ! اگر تم اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو تمہارے دل مائل ہوگئے، اور اگر پیغمبر کے مقابلہ میں تم دونوں آپس میں کارروائیاں کرتی رہو تو اللہ ان کا مولیٰ ہے اور جبرائیل بھی اور نیک مسلمان بھی، اور ان کے علاوہ فرشتے مددگار ہیں،

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلہ ان کو تم سے اچھی بیویاں عطا فرما دے گا جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، فرمانبرداری کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزے رکھنے والیاں ہوں گی کچھ بیوہ اور کچھ کنواریاں۔

رسول اللہ ﷺ کی بعض ازواج سے خطاب یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں سیّدہ حفصہ اور سیّدہ عائشہ ؓ کو توبہ کی طرف متوجہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرلو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل صحیح راہ سے ہٹ گئے تھے تمہاری باتوں سے متاثر ہو کر رسول اللہ ﷺ نے شہد پینے اور اپنی جاریہ سے متمتع ہونے سے اجتناب کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا اور اس کے بارے میں قسم کھالی تھی حالانکہ آپ کو یہ چیزیں پسند تھیں ان باتوں سے جو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچی اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔ دوسری آیت میں آپ کی ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نبی کریم ﷺ تم کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار عنقریب تمہارے بدلہ تم سے اچھی عورتیں عطا فرما دے گا یہ عورتیں اسلام والی، ایمان والی، فرمانبرداری کرنے والی، توبہ کرنے والی، عبادت کرنے والی، روزہ رکھنے والی ہوں گی، جن میں بیوہ بھی ہوں گی اور کنواری بھی، پھر ایسا واقعہ پیش نہیں آیا، نہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں طلاق دی اور نہ ان کے بدلہ دوسری بیویاں عطا کی گئیں۔ مزید فرمایا کہ اگر تم دونوں آپس میں کسی ایسے امر پر ایک دوسرے کی مدد کرتی رہو گی جس سے رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچ سکتی ہو تو رسول اللہ ﷺ کو اس سے ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ اللہ ان کا مولیٰ ہے اور جبرائیل بھی اور مومنین بھی، اور اس کے بعد فرشتے بھی مددگار ہیں، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد ہو اور فرشتوں کی خاص کر جبرائیل اور صالح مومنین کی مدد ہو، اسے تمہارے مشورے کیا نقصان دے سکتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ میں نے حضرت عمر ؓ سے دریافت کیا وہ دونوں کون سی عورتیں ہیں جن کے بارے میں ﴿ وَ اِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ ﴾ فرمایا ہے ابھی میری بات پوری نہ ہوئی تھی حضرت عمر ؓ نے جواب دیا کہ اس سے عائشہ اور حفصہ ؓ مراد ہیں۔ (صحیح بخاری صفحہ 731: ج 2) رسول اللہ ﷺ کے ایلاء فرمانے کا ذکر : رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ ناراض ہو کر ایک ماہ کا ایلاء کرلیا تھا یعنی یہ قسم کھالی تھی کہ بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے اس زمانہ میں آپ نے ایک بالاخانہ میں رہائش اختیار فرما لی۔ صحابہ ؓ میں یہ مشہور ہوگیا کہ آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی۔ حضرت عمر ؓ اس بات کا پتہ چلانے کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اس سے پہلے سمجھانے کے طور پر حضرت عائشہ اور اپنی بیٹی حفصہ ؓ اور حضرت ام سلمہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے۔ حضرت ابوبکر ؓ پہلے سے حاضر خدمت ہوچکے تھے۔ حضرت عمر ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! عورتوں کے بارے میں آپ کو کیا پریشانی ہے اگر آپ نے ان کو طلاق دے دی ہے تو آپ کے ساتھ اللہ اور جبریل اور میکائل اور میں اور ابوبکر اور دوسرے مومنین ہیں اللہ تعالیٰ نے میری تصدیق فرمائی اور آیت کریمہ ﴿ عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا ﴾ اور آیت کریمہ ﴿ وَ اِنْ تَظَاهَرَا عَلَيْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِيْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ 1ۚ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِيْرٌ004﴾ نازل فرمائی۔ حضرت عمر ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ میں مسجد میں داخل ہوا تو دیکھا مومنین بیٹھے ہیں اور یوں کہہ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے آپ نے فرمایا نہیں، میں نے عرض کیا آپ کی اجازت ہو تو میں انہیں بتادوں کہ طلاق نہیں دی آپ نے فرمایا اگر چاہو تو بتادو۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ بالا خانے سے نیچے اتر آئے، ابھی آپ کو انتیس دن ہوئے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے عرض کیا کہ ابھی 29 دن ہوئے ہیں آپ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک ماہ بیویوں کے پاس نہیں جائیں گے، آپ نے فرمایا یہ انتیس کا مہینہ ہے۔ (راجع صحیح مسلم صفحہ 178 الی 482)
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! بچاؤ اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں، اس پر فرشتے مقرر ہیں جو سخت مزاج ہیں مضبوط ہیں وہ اس کام میں اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے جس کا وہ انہیں حکم دیتا ہے، اور وہ وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

اپنی جانوں کو اور اہل و عیال کو دوزخ سے بچانے کا اور سچی توبہ کرنے کا حكم یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ایمان والوں سے خطاب فرمایا کہ تم اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو ایسی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ہیں دنیا میں جو آگ ہے وہ لکڑی یا تیل یا گیس سے جلتی ہے اور ہے بھی کم گرم اور دوزخ کی آگ کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ہیں اور وہ آگ بہت زیادہ گرم بھی ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ دوزخ کی آگ دنیا سے انہتر درجہ زیادہ گرم ہے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 242) ایسی آگ سے بچنا اور اپنے گھر والوں کو بچانا عقل کے اعتبار سے بھی ضروری ہے اور یہ بچنا اسی طرح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے خود بھی بچیں اور اپنے گھر والوں کو بھی بچائیں، انہیں دینی احکام سکھائیں اور ان پر عمل کرائیں، دنیا میں کھلانے پہنانے کے لیے اپنے اہل و عیال کے لیے انتظام تو کرتے ہیں لیکن دوزخ کی آگ سے بچانے کا اہتمام نہیں کیا جاتا اس میں عموماً غفلت برتی جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو حکم دیا کہ تم اپنی جانوں کو بھی اس آگ سے بچاؤ اور اپنے اہل و عیال کو بھی اس میں فرائض و واجبات کا خود اہتمام کرنے اور اہل و عیال سے عمل کرانے کا حکم آگیا اور گناہوں سے بچنے اور بچانے کا بھی بلکہ حلال کھانے اور کھلانے کا حکم بھی آگیا، حرام کھانا اور اولاد کو حرام کھلانا دوزخ میں لے جانے کا ذریعہ ہے۔ حضرت جابر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو گوشت حرام سے پلا بڑھا ہوگا جنت میں داخل نہ ہوگا اور جو گوشت حرام سے پلا بڑھا ہوگا، دوزخ اس کی زیادہ مستحق ہوگی۔ (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 242) حلال کمائے، حلال کھائے اور بیوی بچوں کو بھی حلال کھلائے حرام سے بچے اور حرام سے بچائے حرام سے پیٹ بھر دینا ان کے ساتھ ہمدردی نہیں ہے بلکہ ان کے ساتھ ظلم ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اپنے گھر والوں کو دین سکھانا بھی ضروری ہے کیونکہ عمل بغیر علم کے نہیں ہوسکتا علم کے بغیر جو عمل ہوگا وہ غلط ہوگا وہ بھی عذاب دوزخ کا سبب بنے گا۔ تفسیر در منثور میں صفحہ 36: ج 1 بحوالہ طبرانی، حاکم اور بیہقی حضرت عبداللہ ؓ نقل کیا ہے کہ یہ پتھر جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے ﴿ وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ ﴾ میں فرمایا ہے کبریت (گندھک) کے پتھر ہیں اللہ تعالیٰ نے جیسا چاہا پیدا فرما دیا (اس آگ کی تیزی پھر گندھک کے پتھروں کو ایندھن ہونا اس سب کا تصور کرے، خود بھی سوچے اور اہل و عیال کو بھی سمجھائے تاکہ گناہوں کے چھوڑنے پر نفس آمادہ ہوجائے، دوزخ پر جو فرشتے مقر رہیں ان کے بارے میں فرمایا ہے کہ وہ سخت مزاج ہیں اور بہت زیادہ مضبوط ہیں اور فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو حکم ملتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے جو کچھ انہیں حکم ہوتا ہے وہی کرتے ہیں، اس میں یہ بتادیا کہ کوئی بھی دوزخی ان فرشتوں سے جان چھڑا کر دوزخ کا دروازہ کھول کر یا دیواروں کو پھاند کر نہیں جاسکتا، انہیں جو بھی حکم ہوتا ہے مضبوطی کے ساتھ اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے کافرو ! آج عذر بیان نہ کرو تمہیں اسی چیز کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔

دوسری آیت میں اس خطاب کا تذکرہ فرمایا جو کافروں کے ساتھ قیامت کے دن ہوگا۔ کافر عذاب سے چھوٹنے کے لیے عذر پیش کریں گے ان سے کہا جائے گا اے کافرو ! آج تم عذر پیش نہ کرو، دنیا میں پہلے ہی سب کچھ بتادیا تھا تم نے اللہ کو نہیں مانا اس کی باتوں کو جھٹلایا قیامت کے دن کا انکار کردیا جو کچھ تم نے دنیا میں کیا آج یہاں پر اسی کا بدلہ دیا جاتا ہے۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ کے حضور میں سچی توبہ کرو قریب ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور تمہیں ایسے باغوں میں داخل فرمائے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، جس دن اللہ نبی ﷺ کو اور ان کو رسوا نہ فرمائے گا جو اہل ایمان ان کے ساتھ ہیں ان کا نور ان کے سامنے اور ان کی داہنی طرف دوڑتا ہوگا وہ عرض کرتے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے نور کو پورا فرما دے اور ہماری مغفرت فرما دے، بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں،

تیسری آیت میں اہل ایمان کو توبہ کرنے کا حکم دیا اور فائدہ بتایا، ارشاد فرمایا کہ اللہ کے حضور میں توبہ کرو۔ یہ توبہ پکی اور مضبوط ہو۔ توبہ کرنے سے تمہارا رب تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ایسے باغات میں داخل فرما دے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ معالم التنزیل میں توبۃ النصوح کی تشریح میں حضرت معاذ ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایسی توبہ ہو جس کے بعد گناہ کرنے کے لیے واپس نہ لوٹے جیسے کہ دودھ تھنوں میں واپس نہیں آتا۔ اور حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ بندہ گزشتہ اعمال پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ یہ طے کرلے کہ اب گناہ نہیں کروں گا، یہ توبۃ النصوح ہے۔ اس کے بعد بہت بڑی بشارت دی کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ نبی ﷺ کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ اہل ایمان ہیں رسوا نہیں کرے گا کیونکہ اس دن کی رسوائی کافروں کے لیے مخصوص ہے جو کفر کی وجہ سے ہوگی۔ سورة ٴ النحل میں فرمایا : ﴿اِنَّ الْخِزْيَ الْيَوْمَ وَ السُّوْٓءَ عَلَى الْكٰفِرِيْنَۙ0027﴾ (کہ بلاشبہ آج پوری رسوائی اور عذاب کافروں پر ہے) ۔ چونکہ ﴿وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ 1ۚ﴾ سے کاملین فی الایمان مراد ہیں جو عذاب سے محفوظ رہیں گے اس لیے یہ اشکال نہیں ہوتا کہ جو اہل ایمان اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے دوزخ میں جائیں گے ان کا یہ داخلہ بھی تو ذلت کی بات ہے۔ اہل ایمان کی خوبی اور خوشی کا حال بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا یعنی پل صراط پر انہیں عطا کیا جائے گا اس نور کی وجہ سے وہ پل صراط سے بغیر کسی خراش اور چھلن کے پار ہوجائیں گے۔ قیامت کے دن اہل ایمان کا نور : یہ حضرات بارگاہِ الٰہی میں دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارا نور پورا فرما دیجئے یعنی جو نور کامل ہمیں عطا فرمایا ہے اسے باقی رکھیے۔ حضرت ابن عباس ؓ سے صاحب روح المعانی نے نقل کیا ہے جب منافقین کا نور بجھ جائے گا یعنی اہل ایمان کی روشنی میں ان کے پیچھے پیچھے آ کر جو ان کی روشنی سے فائدہ اٹھا رہے ہوں گے اور مومنین کے آگے بڑھ جانے کی وجہ سے پیچھے رہ جائیں گے اس وقت اہل ایمان اپنا نور باقی رکھنے کی دعا کریں گے اور نور باقی رہنے کی دعا کے ساتھ مغفرت کی درخواست بھی کریں گے اور گناہوں کی بخشش کروانے کے لیے یوں عرض کریں گے ﴿وَ اغْفِرْ لَنَا﴾ (اور ہمیں بخش دیجئے) ۔ ﴿اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ008﴾ بیشک آپ ہر چیز پر قادر ہیں۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی ! جہاد کیجئے کافروں سے اور منافقوں سے، اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔

کافروں اور منافقوں سے جہاد کرنے کا حکم : چوتھی آیت میں رسول اللہ ﷺ کو خطاب فرمایا کہ اے نبی آپ کافروں سے اور منافقوں سے جہاد کریں اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیں اور یہ بھی فرمایا کہ ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔ علامہ قرطبی (رح) لکھتے ہیں کہ اس آیت میں کافروں سے جہاد بالسیف کا اور منافقوں پر حجت قائم کرنے کا حکم فرمایا ہے انہیں یہ بتانا کہ آخرت میں تمہاری بدحالی ہوگی اور تمہارے ساتھ نور نہ ہوگا اور مومنین کے ساتھ پل صراط پر نہ گزر سکو گے یہ سب ان کے ساتھ جہاد کرنے اور سختی کا معاملہ کرنے کو شامل ہے پھر حضرت حسن سے نقل کیا ہے کہ سختی کا معاملہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر حدود قائم كیجئے کیونکہ وہ ایسے کام کرتے رہتے تھے جس کی وجہ سے ان پر حد جاری کی جاتی تھی۔ صاحب روح المعانی نے بھی حضرت حسن (رح) سے یہ بات نقل کی ہے۔ ان حضرات نے جو کچھ فرمایا وہ بھی ٹھیک ہے، احقر کے خیال میں ﴿ وَ اغْلُظْ عَلَيْهِمْ﴾ کا مصداق یہ بھی ہے کہ منافقوں کی حرکتیں ایک عرصہ تک برداشت کرنے کے بعد انہیں ذلت کے ساتھ نام لے لے کر پکڑ پکڑ کر مسجد نبوی سے نکال دیا گیا تھا۔ كما ذکرناہ فی تفسیر سورة البقرة۔
Ayahs 66:10–12

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے کافروں کے لیے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کا حال بیان فرمایا یہ دونوں ہمارے خاص بندوں میں سے دو صالح بندوں کے نکاح میں تھیں۔ سو ان دونوں کی خیانت کی پھر وہ اللہ کے مقابلہ میں ان عورتوں کے ذرا بھی کام نہ آسکے، اور حکم دیا گیا کہ تم دونوں دوسرے داخل ہونے والوں کے ساتھ دوزخ میں داخل ہوجاؤ۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ نے اہل ایمان کے لیے فرعون کی بیوی کا حال بیان فرمایا ہے جبکہ اس نے عرض کیا کہ اے میرے رب میرے لیے اپنے قرب میں جنت میں گھر بنا دیجئے اور مجھے فرعون سے اور ظالم قوم سے نجات دیجئے

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور عمران کی بیٹی مریم کا حال بیان فرمایا جس نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا سو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کے کلمات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی۔

حضرت نوح و لوط ( علیہ السلام) کی بیویاں کافر تھیں اور فرعون کی بیوی اور سیّدہ مریم مومنات میں سے تھیں ان آیات میں دو ایسی عورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے جو نبیوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے کافرہ تھیں اور کفر پر جمی رہیں اور دو ایمان والی عورتوں کا تذکرہ فرمایا۔ جن کافر عورتوں کا تذکرہ ان میں سے ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کی اور دوسری حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہے (یہ شرائع سابقہ کی بات ہے ان کی شریعتوں میں کافر عورت سے نکاح جائز تھا ہماری شریعت میں صرف مسلمہ اور کتابی عورت سے نکاح جائز ہے کافر غیر کتابیہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے) ۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا جیسے ایک بیٹا کافر تھا سمجھانے بجھانے اور طوفان کا عذاب نظروں سے دیکھنے کے باوجود ایمان نہ لایا اسی طرح سے آپ کی بیوی نے بھی ایمان قبول نہ کیا۔ اللہ کے ایک نبی کے ساتھ رہتی رہی لیکن مومن ہونا گوارہ نہ کیا۔ معالم التنزیل میں حضڑت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ یہ عورت یوں کہا کرتی تھی کہ یہ شخص دیوانہ ہے۔ دوسری کافر عورت جس کا ذکر فرمایا حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی تھی قرآن مجید میں کئی جگہ یہ بتایا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ غیر فطری عمل کرتے تھے اور مردوں سے شہوت پوری کرتے تھے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) نے بار ہا انہیں سمجھایا لیکن وہ لوگ نہ مانے۔ معالم التنزیل میں یہ لکھا ہے کہ ان کی بیوی قوم کے لوگوں کی مدد کرتی تھی اور جب کوئی مہمان حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس آتا تو لوگوں کو گھر میں آگ جلا کر بتا دیتی تھی کہ اس وقت تمہارا مقصد پور اہو سکتا ہے (آگ جلانے کو اس نے مہمانوں کی آمد کا نشان بنا رکھا تھا قوم کے لوگ دھواں یا روشنی دیکھ کر سمجھ جاتے تھے کہ مہمان آئے ہیں اور پھر ان سے خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے تھے) روح المعانی میں بھی ﴿ فَخَانَتٰهُمَا ﴾ کی تفسیر کرتے ہوئے ان دونوں باتوں کو لکھا ہے یعنی یہ کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی آپ کو دیوانہ بتاتی تھی اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی مہمانوں کی خبر دے دیتی تھی۔ (ثم قال رواہ جمع و صححہ الحاکم عن ابن عباس) ان دونوں میں سے ہر عورت، اللہ کے نبی کی بیوی تھی لیکن دونوں کفر پر قائم رہیں اور اسی پر موت آئی، لہٰذا اس کی سزا میں ان کو دوسرے دوزخیوں کے ساتھ دوزخ میں جانا پڑا، ان کے شوہروں کا نبی ہونا ان کے کچھ کام نہ آیا۔ صاحب معالم التنزیل لکھتے ہیں کہ آیت مذکورہ میں اللہ تعالیٰ شانہ نے ہر ایسے شخص کی امید کو قطع کردیا جو خود گناہگار ہو (کفر کی معصیت ہو یا فسق کی) اور امید یہ رکھتا ہو کہ جن نیک بندوں سے میرا تعلق ہے ان کی نیکی اور خوبی میرے تعلق کی وجہ سے مجھے نفع دے گی، خود گناہگار ہوتے ہوئے اپنے متعلقین کا نیک ہونا کام نہیں آسکتا، اپنی نجات کی خود فکر کریں، جو لوگ نسبتوں پر بھروسہ کر کے ایمان سے اور اعمال صالحہ سے دور رہتے ہیں اور یوں سمجھتے ہیں کہ کسی کی بیوی یا بیٹا یا پوتا یا نواسہ ہونے سے ہماری نجات ہوجائے گی یہ ان کی غلطی ہے۔ قطع اللہ بھذہ الآیة طمع کل من یرکب المعصیة ان ینفعہ صلاح عیرہ۔ (صفحہ 2368: ج 4) جن دو مومن عورتوں کا تذکرہ فرمایا ان میں ایک فرعون کی بیوی تھی وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی تھی۔ جو لوگ ایمان لے آئے تھے فرعون انہیں بڑی تکلیفیں پہنچاتا تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ اہل ایمان کو زمین پر لٹا کر ہاتھوں میں کیلیں گاڑ دیتا تھا اور اس وجہ سے اس سے سورة ٴ ص اور سورة ٴ والفجر میں ذوالاوتاد (کیلوں والا) بتایا ہے۔ تفسیر روح المعانی میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے نقل کیا ہے کہ فرعون نے اپنی بیوی کے ہاتھوں اور پاؤں میں کیلیں گاڑ دی تھیں جب کیلیں گاڑنے والے جدا ہوگئے تو فرشتوں نے اس پر سایہ کردیا اس وقت اس نے یہ دعا کی ﴿ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ ﴾ (اے میرے رب میرے لیے اپنے پاس جنت میں گھر بنا دیجئے) یعنی مقرب بندوں کے مقامات عالیہ میں جگہ نصیب فرمایئے۔ دعا کی تو ان کا جنت والا گھر اسی وقت منکشف ہوگیا۔ جنت میں بلند مرتبوں کی درخواست کرنے کے بعد یوں دعا کی کہ ﴿ وَ نَجِّنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ ﴾ (کہ یا رب مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے نجات دیدے) اور ساتھ ہی یوں بھی دعا کی ﴿ وَ نَجِّنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَۙ0011﴾ (کہ مجھے ظالم قوم سے نجات دے دیجئے) ان ظالموں سے فرعون کے کارندے انصار و اعوان مراد ہیں جو فرعون کے حکم سے اہل ایمان کو تکلیفیں پہنچایا کرتے تھے۔ (روح المعانی صفحہ 163، 164: ج 28) معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب فرعون نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اس کے سینے پر بھاری پتھر رکھ دیا جائے۔ جب پتھر لے کر آئے تو انہوں نے مذکورہ بالا دعا کی، انہوں نے اپنا گھر جنت میں دیکھ لیا جو موتیوں کا گھر تھا اور اسی وقت روح پرواز کرگئی جب لوگوں نے پتھر رکھا تو بلا روح کا جسم تھا انہیں اس پتھر سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی اور حضرت حسن اور ابن کیسان (رح) سے نقل کیا ہے کہ اللہ نے فرعون کی بیوی کو جنت میں اوپر اٹھا لیا وہ وہاں کھاتی پیتی ہیں۔ (واللہ اعلم بالصواب) رسول اللہ ﷺ نے جن عورتوں کی فضیلت بیان فرمائی ہے ان میں حضرت خدیجہ ؓ ، حضرت مریم (علیہ السلام) ، سیدہ فاطمہ، سیّدہ عائشہ صدیقہ اور حضرت آسیہ ؓ کی فضیلت کا ذکر ملتا ہے (روح المعانی) ۔ آسیہ فرعون کی بیوی کا نام تھا۔ صحیح بخاری صفحہ 532: ج 1 میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مردوں میں بہت کامل ہوئے اور عورتوں میں سے کامل نہیں ہیں مگر مریم (علیہ السلام) (حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ) اور آسیہ ؓ (فرعون کی بیوی) اور عائشہ ؓ کی فضیلت لوگوں پر ایسی ہے جیسی فضیلت ہے ثرید کی باقی کھانوں پر۔ اہل ایمان کو سیّدہ مریم بنت عمران (علیہ السلام) کا حال بھی بتایا ان کا تذکرہ سورة آل عمران رکوع 4، 5 میں اور سورة مریم رکوع 2 اور سورة الانبیاء رکوع 6 میں پہلے گزر چکا ہے۔ یہ حضرت عیسیٰ ( علیہ السلام) کی والدہ تھیں چونکہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے اس لیے بنی اسرائیل نے حضرت مریم پر تہمت دھری تھی۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی برات اور پاکبازی بیان فرمائی۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ مَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِيْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا ﴾ (اور اللہ نے اہل ایمان کے لیے مریم بنت عمران کی مثال بیان فرمائی جس نے اپنی ناموس کو محفوظ رکھا) ۔ ﴿ فَنَفَخْنَا فِيْهِ مِنْ رُّوْحِنَا ﴾ (سو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی) ۔ اللہ تعالیٰ شانہ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو بھیجا جنہوں نے سیّدہ مریم (علیہ السلام) کے گریبان میں پھونک دیا اسی سے حمل قرار پا گیا اور کچھ وقت گزرنے کے بعد حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوگئے۔ جس کی تفصیل سورة مریم میں گزر چکی ہے۔ حضرت مریم (علیہ السلام) کی پاکدامنی بیان فرمانے کے بعد ان کی دو صفات بیان فرمائیں۔ ارشاد فرمایا ﴿ وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ﴾ (اور اس نے اپنے رب کے کلمات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی) یہ مضمون تمام ایمانیات کو شامل ہے۔ نیز فرمایا ﴿وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ (رح) 0012﴾ (اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھی) یعنی اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں لگی رہتی تھی، عربی قواعد کے اعتبار سے بظاہر وکانت من القانتات ہونا چاہیے (جو صیغہ تانیث ہے) ﴿ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ (رح) 0012﴾ جو فرمایا اس کے بارے میں بعض مفسرین نے یوں کہا ہے کہ یہاں لفظ القوم محذوف ہے یعنی ﴿ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِيْنَ (رح) 0012﴾۔ بعض علماء نے فرمایا کہ یہ بتانا مقصود ہے کہ وہ ایسے کنبہ اور قبیلہ سے تھیں جو اہل اصلاح تھے اور اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار تھے اور بعض علماء نے یہ نکتہ بیان کیا ہے کہ صیغہ تذکیر تغلیب کے لیے ہے اور مطلب یہ ہے کہ وہ عبادت کرنے میں ان مردوں کے شمار میں آگئیں جو عبادت وطاعت میں ہی لگے رہتے تھے چونکہ عموماً عبادات میں مرد ہی پیش پیش ہوتے ہیں اس لیے حضرت مریم (علیہ السلام) کو عبادت میں مشغول رہنے والے مردوں میں شمار فرما دیا۔ حدیث شریف میں جو : كمل من الرجال کثیر ولم یکمل من النساء الا مریم بنت عمران وآسیة امراة فرعون فرمایا ہے اس سے اس طرف اشارہ ملتا ہے۔ وھذ آخر تفسیر سورة التحریم والحمدللہ العلی الکریم العظیم والصلٰوة علی نبی محمد المصطفی الذی ھدیٰ الی الطریق المستقیم وعلی الہ وصحبہ الذین امنو بہ بقلب سلیم ودعوا الی الدین القویم