66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 66:1–7

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر ! جو چیز اللہ نے آپ پر حلال فرمائی ہے اس کو اپنے لئے کیوں حرام فرماتے ہیں (کیا) اپنی بیویوں کی رضامندی کے لئے۔ اور اللہ بخشنے والے مہربان ہیں

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

اللہ نے تم لوگوں پر تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر فرمادیا ہے اور اللہ (ہی) تمہارے کارساز ہیں اور وہ باخبر (اور) حکمت ہیں

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک باپ چپکے سے کہی (تو انہوں نے دوسری کو بتادی) ۔ پھر جب انہوں نے اس کو افشاء کردیا تو اللہ نے اس سے ان (پیغمبر) کو آگاہ فرمادیا۔ انہوں (پیغمبر) نے (اس بی بی کو) کچھ بات تو بتائی اور کچھ نہ بتائی پھر جب انہوں نے ان کو جتائی تو کہنے لگیں آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ فرمایا مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبر رکھنے والا ہے

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرو (تو بہتر ہے) کہ تمہارے دل مائل ہوتے ہیں۔ اور اگر (اسی طرح) تم دونوں ان (پیغمبر) کے مقابلہ میں کاروائیاں کرتی رہیں تو (یاد رکھو ! ) بیشک ان (پیغمبر) کے کار ساز اللہ ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) اور ایمان والے نیک بندے اور فرشتے اس کے بعد (آپ کے) معاون ہیں

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر وہ (پیغمبر) تم کو طلاق دے دیں تو عجب نہیں کہ ان کا پروردگار تمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں عطا کرے ، فرماں بردار ، صاحب ایمان ، اطاعت کرنے والیاں ، توبہ کرنے والیاں ، عبادت کرنے والیاں ، روزہ رکھنے والیاں ، بن شوہر اور کنواریاں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! خود کو اور اپنے گھر والوں کو آگ (دوزخ) سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں۔ جس پر تندخو ، مضبوط فرشتے مقرر ہیں۔ جو اللہ کی کسی بات میں نافرمانی نہیں کرتے جو وہ ان کے حکم دیتا ہے اس کو بجا لاتے ہیں

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے کافرو ! آج کے دن عذر مت کرو ۔ یقینا تم کو اسی کا بدلہ مل رہا ہے جو تم (دنیا میں) کرتے تھے

آیات 1 تا 7 اسرار ومعارف۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی کہیں مگر اللہ نے بذریعہ وحی سب واضح کردیا نیز حلال چیز کو حرام کرنے پر بھی منع فرما کر کفارہ کا حکم دیا کہ آپ تو ایک جہان کے راہ نما تھے ایسا ہوجاتا تو بعد والوں پر بہت تنگی آتی تو ارشاد ہوا کہ اے نبی ایک حلال نعمت کو آپ محض اپنی ازواج مطہرات کو خوش کرنے کے لیے اپنے اوپر کیوں حرام فرماتے ہیں۔ اللہ بہت بڑا بخشنے والا اور درگزر کرنے والا ہے لہذا اس نے قسم تورنے کا کفارہ مقرر کردیا ہے لہذا آپ نے ایک غلام آزاد فرما کر قسم توڑ دی اللہ ہی تم سب کا مالک ہے اور وہ سب کچھ جانتا ہے بڑا حکمت والا ہے۔ کہ جب نبی (علیہ السلام) نے اپنی اہلیہ کو سرگوشی میں بتایا یعنی یہی شہد نہ کھانے کی قسم کے بارے میں تو انہوں نے دوسری اہلیہ مبارکہ کو بتادیا۔ حضرت عائشہ نے حضرت حفصہ کو ، تو اللہ نے آپ پر بذریعہ وحی بیان کردیا تو آپ نے اشارۃ ان سے تذکرہ کردیا۔ حسن خلق کے باعث تمام بات ارشاد نہ فرمائی صرف اشارۃ بتادیا کہ میں نے تو اسے راز رکھنے کو کہاتھانیز حضرت حفصہ کے ایسا عرض کرنے پر کہ آپ نے مغافیر تو نہیں پیا ؟ آپ خفا ہوئے اور بتایا کہ سب راز اللہ رب العزت نے جو ہر بات کی خبر رکھتا ہے مجھے بتادیا ہے اب چونکہ تمہارے دلوں میں جو بات آئی مناسب نہیں اگرچہ عشق رسول میں آئی مگر دوسروں کے حقوق کے خلاف تو سوچا جو ازواج مطہرات کی شان کے خلاف ہے لہذا اللہ سے توبہ کرو لیکن اگر تم اس طرح نبی (علیہ السلام) کو صرف خاوند سمجھ کرمغلوب کرنا چاہو جو اکثر بیویوں کی عادت ہوتی ہے تو ممکن نہیں کہ اللہ آپ کا ساتھی اور جبرائیل امین اور نیک مسلمان سب آپ کے خادم جبکہ اللہ کے سارے فرشتے اس پر مزید ہیں۔ مسئلہ۔ کسی حلال چیز کو بوجہ بیماری یاعذر ترک کرنا جائز ہے مگر اسے عقیدۃ حرام نہ سمجھناچاہیے تفسیر مظہری میں ہے کہ آپ نے حضرت حفصہ ؓ کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو وحی آئی کہ بکثرت روزے رکھنے والی اور نماز ادا کرنے والی ہے نیز جنت میں آپ کی ازواج میں شامل ہے لہذا آپ نے کوئی طلاق نہ دی اور نہ نکاح فرمایا کہ ارشاد ہوتا اگر تم تائب نہ ہوئیں تو قریب ہے کہ اللہ تمہیں طلاق دینے کا حکم دیں اور دوسری بیویاں عطا فرمادیں جو اطاعت گزار ایمان والیاں ، نمازگزار ، توبہ کرنے والیاں ، بندگی کرنے والیاں ، اور روزے رکھنے والیاں جن میں کنواری اور بیاہی شامل ہیں مگر آپ نے اس کے بعد نکاح نہیں فرمایا گویا سب اوصاف انہیں ازواج مطہرات میں موجود ہیں اور جو گرفت آئی وہ ان کی شان کے مطابق تھی نیز انہوں نے محبت رسول میں یہ کیا تھا کہ پھر بھی ارشاد ہوا کہ ایسانہ کرنا چاہیے تھا۔ اے ایمان والو ! اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ سے بچاؤ اور ہر معاملے کو اللہ اور اس کے رسول مقبول کی اطاعت کے مطابق کرو کہ دوزخ بہت سخت جگہ ہے اور اس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ہیں جن کو دنیا میں پوجاجاتا رہا پھر اس پر جو فرشتے مقرر ہیں وہ بڑے سخت مزاج اور تندخو ہیں رعایت نہیں کرتے اور اللہ کے حکم سے ، سرمو ، انحراف نہیں کرتے وہی کچھ کرتے ہیں جس کا حکم دیاجائے۔ مسئلہ۔ بیوی بچوں کو حلال ، حرام اور شریعت پر عمل کرنے کے لیے تعلیم وتربیت ہر آدمی کی ذمہ داری ہے اور اے کفار آج اپنے کفر پر جواز کے لیے بہانے نہ تراشو بلکہ جو کچھ کرتے رہے ہو آج اسی کا بدلہ پاؤ گے اور رسول اللہ کی نافرمانی کے لیے تمہارے پاس کوئی عذر نہیں کہ رسول اللہ کی تعلیمات خود عمل کرنے والے کی بھلائی کے لیے ہوتی ہیں پھر معذرت کیسی۔
Ayahs 66:8–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے سچے دل سے توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمہارے پروردگار تم سے تمہارے گناہ معاف فرمادیں گے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل فرمائیں گے جن کے تابع نہریں جاری ہیں۔ اس دن اللہ پیغمبر کو اور جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں ان کو رسوا نہیں کریں گے۔ (بلکہ) ان کا نور ان کے آگے اور ان کی داہنی طرف چل رہا ہوگا۔ عرض کریں گے کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمارا نور ہمارے لئے پورا فرمائیے اور ہمیں معاف فرمائیے بیشک آپ ہر چیز پہ قادر ہیں

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کافروں اور منافقوں سے لڑیں اور ان پر سختی کریں۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے کافروں کے لئے نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے وہ نیک بندوں کے گھر میں تھیں تو دونوں نے ان سے خیانت کی تو وہ اللہ کے مقابلے میں ان کے کچھ کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ داخل ہونے والوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے لئے اللہ نے فرعون کی بیوی کی مثال ارشاد فرمائی ہے۔ جب انہوں نے عرض کیا اے میرے پروردگار ! میرے لئے جنت میں اپنے قرب میں گھر بنائیے اور مجھے فرعون اور اس کے (برے) کاموں سے نجات بخشیں اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھے نجات فرمائیں

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری مثال) عمران کی بیٹی مریم (علیہا السلام) کی جنہوں نے اپنی آبرو کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی۔ اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو سچ مانتی تھیں اور فرماں برداروں میں سے تھیں

آیات 8 تا 12۔ اسرار ومعارف۔ توبہ۔ اے ایمان والو ! اللہ کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو خلوص دل سے ہو اور عمل کی اصلاح پر محیط ہو۔ مفسرین کرام کے مطابق توبہ یہ ہے کہ جن کے حقوق غصب کیے ہوں ادا کرے یا معاف کرائے کسی کی توہین کی ہوتومعافی حاصل کرے اور قضا نمازیں روزے لوٹائے حتی المقدور جس قدر ہوسکے اور آئندہ شریعت مطہرہ پر پورا پورا عمل کرے یعنی محض زبانی بات نہ ہو عملا ہر ممکن اصلاح کرے تو اللہ کریم ہے وہ ضرور اس کی خطائیں بخش دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا جہاں ہمیشہ نہریں جاری ہیں۔ معیت رسول۔ اس دن جب ساری انسانیت جمع ہوگی اللہ اپنے نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے ایمان لاکر نبی کا ساتھ دیا کہ معیت رسول سے مراد کفر کے لیے ناقابل تسخیر اور مسلمانوں سے محبت اور دنیا سے کفر وظلم کو مٹا کر اسلام کا عدل رائج کرنا ہے ان کے آگے ایک نور ہوگا اور ان کے دائیں بھی نور ہوگایہ نور عقیدے وعمل کا ہوگا کہ عقیدہ شرک سے پاک اور عمل کافرانہ نظام کی آمیزش سے پاک ہو اور وہ دعا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے نور کو پورا کردے اور کمال کو پہنچا دے اور ہم سے جو لغزشیں ہوئیں معاف فرمادیں کہ توہرچیز پر قادر ہے تو اس نور کو حاصل کرنے کے لیے مومنین کو نبی (علیہ السلام) کی وساطت سے حکم دیاجارہا ہے۔ کفار ومنافقین کے ساتھ جہاد کا حکم ۔ کہ اے نبی کافروں اور منافقین کے ساتھ لرائی کیجئے جہاد کیجئے اور اللہ کی زمین سے کفر وشرک کے ساتھ کفر کا ظالمانہ نظام مٹا کر اسلام کا عادلانہ نظام رائج کیجئے اور اس کام میں پوری سختی کیجئے۔ لمحہ فکریہ۔ آج جبکہ دنیا عدل اور سکون کو ترس رہی ہے اگر اسلامی ملکوں میں سے کسی ایک میں بھی اسلام پورے طور پر نافذ ہو اور جان ومال اور آبرو کا تحفظ اور عدل و انصاف ہوتوباقی کافر دنیا از خود اسلام قبول کرتی چلی جائے گی مگر ارباب اختیار جو اس کام کی راہ میں رکاوٹ بن رہے ہیں خود سوچیں کہیں منافقین میں شمار نہ ہو رہے ہوں کہ کفار منافقین کاٹھکانہ جہنم ہے جو بہت بری جگہ ہے اور ہر آدمی کا اپناحساب ہوگا۔ یہ بھی عذر نہیں کہ سب لوگ نہیں کرتے تواکیلاکیاکروں اکیلے پر بھی اپنی طاقت کے مطابق کام کرنا فرض ہے جیسے مثال دی کفار کے لیے اگر وہ کفر کی حمایت پر مصر رہے تو کسی نیک رشتہ دار کی نیکی بچا نہ سکے گی کہ کوئی سمجھے میں نیکوں کا جانشین ہوں مجھے عمل کی ضرورت نہیں ۔ نبی کی بیوی کافر ہوسکتی ہے بدکار نہیں۔ تودوعورتوں کو دیکھ ایک نوح (علیہ السلام) کی زوجہ تھی اور دوسری لوط (علیہ السلام) کی انہوں نے نبی کے گھر رہ کر خفیہ طور پر کفر کی مدد کی اور اس طرح انبیاء (علیہ السلام) سے خیانت کی کہ نبی کی زوجہ کافر ہوسکتی ہے یہ گناہ طاری سے مگر بدکار نہیں ہوسکتی کہ گناہ اس کے بدن میں ساری ہو۔ تو جب عذاب آیا تو انہیں نبی کے ساتھ اس قدر قریبی رشتہ بھی پناہ نہ دے سکا بلکہ کفار کے ساتھ تباہ ہوگئیں اور آخرت میں بھی کفار کے ساتھ جہنم میں دال دی جائیں گی جبکہ ان کے مقابل فرعون کی بیوی ، جو بدترین خلائق تھا ، آسیہ بنت مزاحم وہ ایمان لائی اور فرعون نے اسے ایذادے کر قتل کرنے کا حکم دیاتو اس نے اللہ کو پکارا اے اللہ اپنے قریب جنت میں میراگھر بنا اور مجھے فرعون کے ظلم سے بچالے۔ کشف۔ تفسیرمظہری میں ہے کہ اسے زندگی میں جنت میں اس کا گھر دکھلادیا گیا نیز فرعون کے ظلم ڈھانے سے پیشتر اللہ نے روح قبض فرمالی اور دوسری حضرت مریم بیٹی عمران کی جو پاک دامن تھیں ارجن میں سے اللہ نے اپنے نبی کو بغیر باپ کے پیدا فرمایا اور انہوں نے تصدیق فرمائی اللہ کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی اور وہ بہت عبادت گزار تھیں۔ کمالات رسالت۔ صاحب تفسیر مظہری لکھتے ہیں کہ آیات اللہ کی اور اللہ کی کتابوں کی تصدیق کمالات رسالت میں سے ہے جبکہ باجماع حضرت مریم نبی نہ تھیں گویا رسالت اور شے ہے جو صرف رسول کو نصیب ہوتی ہے اور کمالات رسالت اور شے جو نبی کے کامل اتباع سے امتی کو بھی نصیب ہوسکتے ہیں۔