66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیرِ ماجدی

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے اسے آپ کیوں حرام کررہے، اپنی بیویوں کی خوشی حاصل کرنے لئے،1۔ اور اللہ بڑا مغفرت والا ہے بڑا رحیم ہے،2۔

1۔ شان نزول کی دو مختلف روایتیں ہیں، دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی بیوی صاحبہ کی دلجوئی کے لیے عہد کرلیا تھا کہ فلاں نعمت سے آئندہ تمتع نہ کریں گے۔ یہ عمل اگرچہ بجائے خود بالکل جائز تھا۔ ہر مسلمان کو اختیار ہے کہ جس حلال چیز سے چاہے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہوجائے اور دستبرداری کا اعلان بھی کردے۔ لیکن یہ پیغمبر کی شایان شان نہ تھا، اور وہ بھی ایک داعی ضعیف کی بناء پر۔ اسی لیے آپ ﷺ سے خطاب ہمرنگ عتاب ہوا۔ آپ ﷺ ظاہر ہے کہ کسی حلال چیز کو حرام نہیں فرما رہے تھے۔ بلکہ آپ ﷺ کے عہد کے بعد صرف وجوب امتناع میں وہ چیز مثل حرام کے ٹھہر رہی تھی، اس لیے تنبیہا اسے تحریم سے تعبیر کیا گیا۔ 2۔ (جو معصیت تک کو معاف کردیتا ہے اور پھر یہ عمل تو معصیت کے درجہ کا ہے بھی نہیں، صرف خلاف عزیمت اور خلاف شان پیغمبری ہے)
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا کھولنا مقرر کردیا ہے،3۔ اور اللہ تمہارا کارساز ہے وہ بڑی علم والا ہے، بڑا حکمت والا ہے،4۔

3۔ (تو آپ اگر قسم بھی کھاچکے ہیں، تو کفارۂ حلف دے کر اس سے آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔ ) روایتوں میں حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے آتا ہے کہ آپ ﷺ نے کفارہ میں ایک غلام آزاد فرمایا۔ (آیت) ” لکم .... ایمانکم “۔ ابھی خطاب نبی ﷺ سے انفرادا تھا۔ معا اب امت سے بصیغہ جمع مخاطب ہونے لگا۔ 4۔ (جس نے اپنے علم و حکمت سے کام لے کر تمہاری ضرورتوں اور مصلحتوں کا خیال کرکے دشواریوں کو تمہارے لیے آسان کردیا ہے)
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب پیغمبر نے ایک بات اپنی کسی بیوی سے چپکے سے فرمائی پھر جب ان بیوی نے وہ بات (کسی اور کو) بتلا دی اور اللہ نے پیغمبر کو اس کی خبر کردی تو پیغمبر نے اس کا کچھ حصہ بتلا دیا، اور کچھ کو ٹال گئے،5۔ پیغمبر نے ان بیوی کو وہ بات بتلا دی تو وہ بولیں کہ آپ کو کس نے اس کی خبر دی ؟ آپ نے کہا مجھے خبر دی ہر علم رکھنے والے اور ہر خبر رکھنے والے نے،6۔

5۔ یعنی جب آنحضرت ﷺ نے اپنی کسی زوج مبارک سے کوئی بات مصلحتا راز دارانہ ارشاد فرمائی تھی، اور منشائے مبارک یہ تھا کہ پھیلنے نہ پائے۔ لیکن ان بیوی صاحبہ نے وہ بات ایک دوسری بیوی صاحبہ تک پہنچا دی، اور ادھر بذریعہ وحی آنحضرت ﷺ کو اس کل واقعہ کی اطلاع کردی گئی، تو پھر بھی آپ ﷺ نے ان پہلی بیوی صاحبہ سے اس شکایت کے وقت بھی پوری بات نہ دہرائی کہ انہیں شرمندگی اور زیادہ ہوتی، بلکہ صرف اتنا ہی جزو فرمایا کہ تم نے ہماری آپس کی بات کو دوسری تک بلااجازت کیوں پہنچا دیا۔ کیا ٹھکانہ ہے رسول کے حلم اور کرم و شفقت کا، کہ عین ناگواری کے وقت بھی دوسروں کے جذبات کا اس درجہ خیال ! (آیت) ” نبات بہ “۔ یعنی ان بیوی صاحبہ نے اس بات کو ایک دوسری بیوی صاحبہ تک پہنچا دیا۔ (آیت) ” واظہرہ اللہ علیہ “۔ یعنی حق تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس ساری کارروائی کو اپنے رسول پر کھول دیا۔ 6۔ (یعنی حق تعالیٰ نے) قرآن مجید ہی کی طرح رسول اللہ ﷺ کی بات بات میں تعلیم، تربیت واصلاح کے پہلو موجود ہوتے ہیں۔ آپ ﷺ بیوی کے پوچھنے پر جھٹ سے یہ نہیں فرمادیتے کہ ” خبر دیتا کون “۔ کیا خود مجھے کشف سے، الہام سے، وحی سے، فرشتوں کے ذریعہ سے نہیں معلوم ہوسکتا “۔ بلکہ اپنے کسی کمال کی طرف اشارہ کیے بغیر اس علم کو منسوب تمامتر حق تعالیٰ کی جانب کردیتے ہیں ! مفسر تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اس علم کو تمامتر حق تعالیٰ کی جانب منسوب کردینے میں ایک مصلحت یہ بھی تھی کہ بیوی صاحبان توبہ و رجوع کی طرف متوجہ اور زیادہ ہوں۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اے دونوں (بیویو) اگر تم اللہ کے سامنے توبہ کرلو تو تمہارے دل (اسی طرف) مائل ہورہے ہیں،7۔ اور اگر پیغمبر کے مقابلہ میں تم کاروا ائیاں کرتی رہیں، تو پیغمبر کارفیق تو اللہ ہے اور جبریل ہیں اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے مددگار ہیں،8۔

7۔ (کہ آپ ﷺ کا دل دوسری بیوی صاحبوں کی طرف سے ہٹا کر بالکل اپنا بنالیں) یہ امر باعتبار اس کے کہ اس کا اصل مقتضی حب رسول وحب شوہر ہے قبیح نہیں، لیکن چونکہ اس کا ایک دوسرا پہلو دوسروں کے حقوق کا اتلاف بھی ہے، اس لیے اس سے توبہ کرانا ضروری قرار پایا۔ (تھانوی (رح)) 8۔ (تو ایسے شخص کو کسی کی سازشوں سے گزند کیا پہنچ سکتا ہے، نقصان جو کچھ ہوگا خود سازش کرنے والوں کا ہوگا) (آیت) ” فان اللہ ھو مولہ “۔ یہ حق تعالیٰ کی رفاقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تو حقیقی واصلی ہے (آیت) ” وجبریل “۔ یہ جبریل (علیہ السلام) کی رفاقت رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہیں۔ (آیت) ” و صالح ال مومنین “۔ مومنین صالحین کی رفاقت اس معنی میں ہے کہ وہ سب رسول ہی کے تو مطیع ومخلص وتابع ہیں۔ (آیت) ” والملئکۃ بعد ذلک ظھیر “۔ عام فرشتوں کی رفاقت اس معنی میں ہے کہ تصرفات تکوینی سب انہیں کے واسطہ سے تو ہوتے ہیں۔ (آیت) ” بعد ذلک “۔ جیسے اردو محاورہ میں کہتے ہیں کہ ” اس کے علاوہ “۔ یعنی حضرت حق اور جبرئیل (علیہ السلام) اور مومنین صالحین تو ان رسول کے رفیق وشریک ہی ہیں، ان کے علاوہ عام فرشتے بھی ان کی رفاقت ونصرت پر رہتے ہیں۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

) اور) اگر پیغمبر تمہیں طلاق دے دیں تو ان کا پر ورردگار تمہارے عوض انہیں تم سے بہتر بیویاں دے دے گا، اسلام والیاں، روزہ رکھنے والیاں، شوہر دیدہ بھی اور کنوریاں بھی،9۔

9۔ (غرض سیرت کے اعتبار سے ہر طرح کامل ومکمل) تو ایسے مرد کو کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ وچار وناچار موجودہ ہی بیویوں کو غنیمت سمجھتا رہے۔ (آیت) ” خیرا منکن “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس وقت بھی ان بیویوں سے کوئی بہتر بیوی موجود تھی، بلکہ صرف اتنا ہے کہ اگر تبدیلی واقع ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان نئی بیویوں کو ان موجودہ بیویوں سے بہتر بنانے پر قادر تھا (آیت) ” سئحت “۔ محققین نے یہاں بھی ان کے معنی السائحون ہی کی طرح روزہ داروں کے لیے ہیں۔ اے صائمات (راغب) (آیت) ” ثیبت وابکارا “۔ شوہر کو مرغوب وپسندیدہ ہر حال اور ہر صورت میں کنواریاں اور کم سنیں ہی نہیں ہوتیں، بلکہ بعض صورتوں میں اور بعض اعتبارات سے بیوہ یا مطلقہ ہی محل رغبت وپسند ہوسکتی ہیں اس لیے موقع رغبت پر ان کا ذکر بھی فطرت بشری کے خالق وراز دار نے نظر انداز نہیں کیا۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں،10۔ اس پر تند خو بڑے مضبوط فرشتے (مقرر) ہیں وہ اللہ کی نافرمانی نہیں کرتے کسی بات میں جو وہ ان کو حکم دیتا ہے اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسے (فورا) بجا لاتے ہیں،11۔

10۔ احکام الہی کی تعمیل خود کرنا، اور گھروالوں میں بقدر امکان ان احکام کو تبلیغ کرنا اور ان کی تعمیل، یہی دوزخ سے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے۔ (آیت) ” اھلیکم “۔ اھل۔ کے تحت میں انسان کے سارے ہی متعلقین، متوسلین آگئے، بیوی، بچے، ملازم، رعایا، شاگرد، مرید وغیرہ۔ ان سب تک بقدر وسعت وامکان احکام الہی پہنچانا واجب ہے۔ یدن علی ان علینا تعلیم اولادنا واھلینا الدین والخیر وما لایستغنی عنہ من الاداب ویدل علی ان الاقرب فالاقرب منا مزیدۃ فی لزومنا تعلیمھم وامرھم بطاعۃ اللہ (جصاص) اہل فہم یہاں خوب سمجھ لیں کہ احکام کے اتباع و اطاعت سے جب پیغمبر معصوم تک کے گھر والوں کو مفر نہیں، تو پھر کسی بزرگ کسی شیخ کی اولاد یا اعزہ کا اپنے کو اس پابندی سے مسثنی سمجھے رہنا کتنا بڑا احمق ونادانی ہے۔ (آیت) ” الحجارۃ “۔ اس پر حاشیہ سورة البقرۃ (پ 1) رکوع 3 میں گزر چکا ہے۔ 11۔ عمل یا زبان سے نافرمانی تو کیا کرتے، دل تک میں اس کا خیال نہیں لاتے ہیں۔ (آیت) ” لا ..... یؤمرون “۔ آیت کے اس جزو سے دہری دہری گمراہیوں کی تردید ہورہی ہے۔ ایک طرف تو ان جاہلی مشرک قوموں کی جنہوں نے ملائکہ کو (دیوتاؤں کالقب دے کر) معبود سمجھا ہے۔ انہیں بتادیا گیا کہ فرشتے بھی تمام دوسری مخلوقات کی طرح اللہ کے مخلوق ہی ہیں۔ اور مخلوق بھی کیسے، نہایت درجہ مطیع اور دوسری طرف یہود اور نصاری کے اس باطل عقیدہ کی کہ بعض فرشتے نافرمان و سرکش بھی ہوئے ہیں جن کا سرغنہ وسرخیل ابلیس ہوا ہے۔ (آیت) ” غلاظ شداد “۔ ایسے سخت ودرشت کہ نافرمانوں اور مجرموں پر رحم کرنا جانتے ہی نہیں، اور ایسے زبردست وپرقوت کہ کوئی ان سے مزاحمت پر قادر نہیں۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے کافرو آج کچھ عذر معذرت مت کرو تمہیں سزا بس اسی کی مل رہی ہے جو تم کرتے رہے ہو،12۔

12۔ (دارالعمل یعنی دنیا میں) (آیت) ” لاتعتذروا “۔ اب عذر ومعذرت نہ کرو، دارالجزاء میں یہ سب بیکار ہے۔ یہ اس وقت کہا جائے گا، جب منکرین دوزخ میں ڈالے جارہے ہوں گے۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی توبہ کرو عجب کیا کہ تمہارا پروردگار (اسی سے) تمہارے گناہ تم سے دور کردے اور تمہیں باغوں میں داخل کردے جن کے نیچے نہری بہ رہی ہیں (اس دن) جس دن اللہ نہ نبی کو رسوا کرے گا اور ان ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں،13۔ ان کا نور دوڑ رہا ہوگا ان کے سامنے اور ان کے داہنے (اور) وہ کہتے جاتے ہوں گے اے ہمارے پروردگار ہمارے لیے اس نور کو اخیر تک رکھیو اور ہماری مغفرت کرئیو، بیشک تو تو ہر چیز پر قادر ہے،14۔

13۔ محققین نے لکھا ہے کہ مقصود صرف مومنین کو اطمینان دلانا اور مژدۂ امن سنانا ہے، پیغمبر ﷺ کا ذکر اس سیاق میں تو محض تقویت اثبات کے لیے ہے۔ یعنی جس طرح پیغمبر ﷺ کا محفوظ رہنا یقینی ہے، مومنین امت بھی اپنی محفوظیت یقینی سمجھیں۔ (آیت) ” توبۃ نصوحا “۔ سچی اور مخلصانہ توبہ کی علامت یہ ہے کہ ماضی پر دل سے اور کامل ندامت ہو، اور مستقبل میں بقدر امکان پورا عزم ترک معصیت کا ہو۔ اے توبۃ بالغۃ فی النصح (کبیر) (آیت) ” لایخزی اللہ۔ خزی سے یہاں مراد وہ رسوائی ہے جو کفر ہی کی جزاء ہے۔ 14۔ (تیرے لیے ہماری آرزوؤں کو پورا کرنا اب کیا مشکل ہے) (آیت) ” نورھم ..... بایمانھم “۔ یہ اس وقت ہوگا جب اہل ایمان پل صراط سے گزر رہے ہوں گے۔ (آیت) ” اتمم لنا نورنا “۔ نہ ہو کہ ہمارا نور منافقین کی طرح راستہ ہی میں بجھ کر رہ جائے (آیت) ” یقولون ..... قدیر “۔ بعض علماء محققین نے عالم آخرت کی اس دعاء سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ بندہ کی حاجتمندی اور عبودیت کسی حال اور کسی عالم میں بھی اس سے زائل نہ ہوگی ،
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی آپ جہاد کیجئے کافروں سے اور منافقوں سے اور ان پر سختی کیجئے ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے،15۔

15۔ بلحاظ انجام آخرت دونوں کاٹھکانہ ایک ہی ہے۔ جہنم دونوں کے لیے مشترک ہے۔ (آیت) ” جاھد الکفار والمنفقین “۔ نفس جہاد یا جہد شدید تو کافروں اور منافقوں دونوں کے حق میں عام ہے، البتہ یہ حسب موقع ومصلحت ہونا چاہیے، کافروں کے مقابلہ میں تو یہ جہاد، قتال وعزاء کے معنی میں ہتھیاروں سے ہوگا۔ اور منافقین کے مقابلہ میں زبان سے۔ (آیت) ” واغلظ علیھم “۔ سختی، مضبوطی، ثابت قدمی، کافروں اور منافقوں دونوں کے مقابلہ میں لازمی ہے۔ فیہ الدلالۃ علی وجوب الغلظۃ علی الفریقین من الکفار والمنافقین ونھی عن مفازتھم ومعاشرتھم (جصاص) کہاں ہماری شریعت کے یہ احکام، اور کہاں ہمارا یہ عمل کہ ہر ” ترقی یافتہ “ و ” مہذب “ غیر مسلم کی وضع لباس، زبان، معاشرت کی تقلید پر ٹوٹے پڑتے ہیں، اور اس کو اپنے لیے باعث فخر و کمال خیال کررہے ہیں !
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ ان لوگوں کے لئے جو کافر ہیں مثال بیان کرتا ہے،16۔ نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی وہ دونوں ہمارے (خاص) صالح بندوں میں سے دو بندوں کے نکاح میں تھیں، لیکن انہوں نے ان کے حق ضائع کئے، تو وہ دونوں نیک بندے اللہ کے مقابلہ میں ان کے ذرا کام نہ آسکے، اور دونوں عورتوں کو حکم ملا کہ تم بھی دوزخ میں داخل ہو اور داخل ہونے والوں کے ساتھ،17۔

16۔ (یہ بظاہر کرنے کو کہ کسی صالح یہاں تک کہ پیغمبر سے محض مادی و طبعی تعلق و انتساب بلاایمان اور اپنی سعی اصلاح کے ہرگز کافی ومفید نہیں) 17۔ (اپنے کفر کی پاداش میں) (آیت) ” امرات نوح “۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر تو بار بار اور آپ (علیہ السلام) کے نافرمان لڑکے کا ذکر ایک بار پہلے گزر چکا ہے۔ اب یہ معلوم ہوا کہ آپ (علیہ السلام) کی رفیق حیات بھی مومن نہیں بلکہ کافرہ تھی۔ (آیت) ” امرات لوط “۔ حضرت لوط (علیہ السلام) پر حاشیے کئی بار گزر چکے۔ آپ (علیہ السلام) کی ان کافر بیوی کا ذکر بھی دو بار سورة الاعراف (پ 8) اور سورة ہود (پ 12) میں آچکا ہے۔ (آیت) ” عبدین من عبادنا صالحین “۔ یعنی وہی حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) پیغمبر تک حق تعالیٰ کی نظر میں صرف ” عبد صالح “ ! نہ اوتار، نہ مظہر خدا، نہ سایہ خدا ! (آیت) ” تحت عبدین “۔ لفظ تحت سے صاف اشارہ اس طرف ہوگیا کہ بیوی شوہر کی ماتحت ہی ہوتی ہے۔ (آیت) ” فخانتھما “۔ سب سے بڑا حق یہی ضائع کیا کہ اپنے اپنے شوہروں کی نہ نبوت کی تصدیق کی، نہ ان پر ایمان لائیں۔ (آیت) ” قیل ..... الدخلین “۔ یعنی جس طرح اور سارے کافر دوزخ میں جھونکے جاتے ہیں، تم بھی وہیں جلومرو، تم میں اور عام کافروں میں کوئی امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ ان لوگوں کے لئے جو مومن ہیں مثال بیان کرتا ہے،18۔ فرعون کی بیوی کی، جبکہ انہوں نے دعا کی کہ اے پروردگار میرے واسطے جنت میں اپنے قرب میں مکان بنادے، اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل (کے اثر) سے بچا دے اور مجھے ظالم لوگوں سے بھی بچا دے،19۔

18۔ (یہ ظاہر کرنے کو کہ اپنا ایمان اور اپنی صالحیت بالکل کافی ہیں۔ اور جب یہ موجود ہوں، تو پھر کسی غیر مومن سے مادی تلبث یا انتساب راہ فلاح میں ہرگز حائل نہیں ہوسکتا) 19۔ یعنی ان کافروں کے شر سے، اور ان کے ضرر حسی اور معنوی ہے۔ (آیت) ” امرات فرعون “۔ فرعون موسوی پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ زوجہ فرعون سے مراد حضرت بی بی آسیہ (علیہ السلام) ہیں، جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شیر خوارگی کے زمانہ میں دریائے نیل سے نکال کر ان کی پرورش کی تھی۔ حاشیہ ان پر بھی گزر چکا۔ (آیت) ” ونجنی من فرعون وعملہ “۔ یعنی اے پروردگار، کہیں فرعون اور اس کے اعمال کفر کا وبال میرے اوپر نہ پڑنے لگے ! آیت سے معلوم ہوا کہ ہر بلاومصیبت سے اپنی نجات دنیوی واخروی کے لئے حق تعالیٰ سے دعا ومناجات کرتے رہنا سیرت صالحین میں سے ہے۔ وفیہ دلیل علی ان الاستعاذۃ باللہ والالتجاء الیہ ومسئلۃ الخلاص منہ عند المحن والنوازل من سیرالصالحین (مدارک) (آیت) ” من القوم الظلمین “۔ ظالمین یہاں بھی کافرین کے مرادف ہے۔ اے الکافرین (معالم)
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری مثال بیان کرتا ہے) مریم بنت عمران کی جنہوں نے اپنے ناموس کو محفوظ رکھا، تو ہم نے ان (کے چاک گریبان) میں اپنی روح پھونک دی، اور انہوں نے اپنے پروردگار کے پیاموں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی،20۔ اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھیں،21۔

20۔ (یہ ظاہر کرنے کو، کہ جب اپنے میں ایمان وصالحیت موجود ہوں، تو پھر کسی صالح سے عدم تعلق و انتساب مضر نہیں) (آیت) ” مریم ابنت عمرن “۔ حاشیے سورة آل عمران (پ 3) اور سورة مریم (پ 16) میں گزر چکے (آیت) ” فنفخنا فیہ من روحنا “۔ یہ نفخ روح بواسطہ فرشتہ جبرئیل (علیہ السلام) کے ہوا تھا۔ اس نفخ روح پر حاشیے سورة آل عمران (پ 3) وغیرہ میں گزر چکے۔ (آیت) ” فیہ “۔ ضمیرہ جسم مریم (علیہ السلام) کی جانب بھی ہوسکتی ہے، اور گریبان مریم (علیہ السلام) کی جانب بھی، اور خود حمل مریم (علیہ السلام) کی جانب بھی۔ وضمیر فیہ للفرج وجوز فی ضمیر فیہ رجوعہ الی الحمل (روح) (آیت) ” روحنا “۔ روح کی اضافت حق تعالیٰ نے اپنی جانب اس کے اظہار عظمت کے لیے کی ہے۔ والاضافۃ للتشریف والمراد من روح خلقناہ بلاتوسط اصل (روح) (آیت) ” صدقت بکلمت ربھا وکتبہ “۔ یہ تصریح آپ (علیہ السلام) کے ایمان اور عقائد کی ہوئی۔ آپ (علیہ السلام) مومنہ وعارفہ اور اس وقت تک کی کتب آسمانی (توریت وغیرہ) کی تصدیق کرنے والی تھیں۔ نعوذ باللہ خود کسی معنی میں مدعی الوہیت یا شریک الوہیت نہ تھیں۔ پوری تردید مسیحیوں کے غلو کی ہوگئی۔ 21۔ (آیت) ” وکانت من القنتین “۔ یہ تصریح آپ (علیہ السلام) کے حسن اعمال کی ہوئی۔ آپ نعوذ باللہ کسی طرح کی بدکار نہ تھیں۔ یہ پوری تردید یہود کے ناپاک افتراؤں اور گندے الزاموں کی ہوگئی۔ (آیت) ” صدقت بکلمت ربھا “۔ کلمات رب سے مراد شرائع الہی بھی لی گئی ہیں۔ یعنی مریم صدیقہ (علیہا السلام) نے عملا بھی تمام حقائق دین کی تصدیق کی۔ وقال ابو علی القاری الکمات الشرائع التی شرع لھادون القول فکان المعنی صدقت الشرائع واخذت بھا (کبیر) الحمد اللہ آج جمعہ 23 جنوری 1948 ء ؁(مطابق 10 ربیع الاول 1367 ؁ھ) کو بعد نماز جمعہ اٹھائیسویں پارہ کی نظر ثانی سے فراغت پائی۔ نظر ثالث یوم شنبہ 28 اکتوبر 1950 ء ؁(مطابق 14 محرم الحرام 1370 ؁ھ) کو ختم ہوئی۔