66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیر ابن عباس

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو ؟ کیا اس سے اپنی بیبیوں کی خوشنودی چاہتے ہو اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

محمد آپ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حضرت ماریہ قبطیہ کے نکاح کو اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس قسم کو بخشنے والا اور مہربان ہے۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کرد یا ہے اور خدا ہی تمہارا کا رساز ہے اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی قسموں کا کفارہ بیان کردیا ہے۔ چناچہ حضور اکرم نے اپنی اس قسم کا کفارہ ادا کیا اور ماریہ قبطیہ کے ساتھ تعلق کو باقی رکھا وہ تمہارا محافظ و مددگار ہے اور وہ ان واقعات سے واقف اور حکمت والا ہے کہ کفارہ کا حکم دیا۔ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) اور امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم اپنی باندی حضرت ماریہ کے پاس حضرت حفصہ کے گھر میں تشریف لے گئے، حضرت حفصہ آئیں تو حضور کو ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا اس پر حضرت حفصہ رنجیدہ ہوئیں اس پر آپ نے فرمایا اے حفصہ اگر میں ان (ماریہ قبطیہ) کو ہاتھ لگاؤں تو یہ مجھ پر حرام ہیں اور اس بات کو تم راز رکھنا، حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس آئی اور ان کو اس سے مطلع کردیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور بزاز نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت آپ کی باندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے راویت کیا ہے کہ رسول اکرم حضرت سودہ کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ چناچہ آپ وہاں سے حضرت عائشہ کے پاس گئے تو حضرت عائشہ بولیں کہ میں آپ کے منہ سے بو پاتی ہوں، پھر آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے بھی یہی فرمایا اس پر آپ بولے یہ لو میں اس شہد کی محسوس کرتا ہوں جو میں نے سودہ کے پاس پیا ہے اللہ کی قسم میں اس کو نہیں پیوں گا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) اور امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم اپنی باندی حضرت ماریہ کے پاس حضرت حفصہ کے گھر میں تشریف لے گئے، حضرت حفصہ آئیں تو حضور کو ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا اس پر حضرت حفصہ رنجیدہ ہوئیں اس پر آپ نے فرمایا اے حفصہ اگر میں ان (ماریہ قبطیہ (کو ہاتھ لگاؤں تو یہ مجھ پر حرام ہیں اور اس بات کو تم راز رکھنا، حضرت حفصہ فرماتی ہیں کہ میں حضرت عائشہ کے پاس آئی اور ان کو اس سے مطلع کردیا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ اور بزاز نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت آپ کی باندی کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ اور طبرانی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم حضرت سودہ کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ چناچہ آپ وہاں سے حضرت عائشہ کے پاس گئے تو حضرت عائشہ بولیں کہ میں آپ کے منہ سے بو پاتی ہوں پھر آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے، انہوں نے بھی یہی فرمایا اس پر آپ بولے یہ لو میں اس شہد کی محسوس کرتا ہوں جو میں نے سودہ کے پاس پیا ہے اللہ کی قسم میں اس کو نہیں پیوں گا، تب یہ آیت نازل ہوئی۔ حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں ممکن ہے کہ یہ آیت دونوں واقعات کے بارے میں نازل ہوئی ہو۔ اور ابن سعد نے عبداللہ بن رافع سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت ام سلمہ سے آیت یا ایھا النبی لم تحرم (الخ) کے بارے میں دریافت کیا انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس ایک سفید شہد کی کپی تھی۔ رسول اکرم اس میں سے چاٹ لیا کرتے تھے اور وہ آپ کو اچھا معلوم ہوتا تھا تو آپ سے حضرت عائشہ نے فرامیا مکھی نے گوند پر بیٹھ کر اس کا عرق چوس لیا ہے۔ چناچہ آپ نے اپنے اوپر حرام کردیا تب یہ آیت نازل ہوئی۔ اور حارث بن اسامہ نے اپنی مسند میں حضرت عائشہ سے روایت کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر نے قسم کھائی کہ مسطح پر کچھ خرچ نہیں کروں گا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) آپ کی اس زوجہ مطہرہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جنہوں نے اپنے آپ کو ہبہ کردیا تھا باقی یہ روایت بھی غریب اور اس کی سند بھی ضعیف ہے۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی) جب اس نے اسکو افشا کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے (ان بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے .

اور وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ رسول اکرم نے حضرت حفصہ سے ایک بات چپکے سے فرمائی، پھر جب حضرت حفصہ نے حضور کے اس راز سے حضرت عائشہ کو مطلع کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس چیز سے مطلع کردیا تو رسول اکرم نے حضرت حفصہ سے ان کی کہی ہوئی تھوڑی سی تو بات بتلا دی یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے بارے میں یا یہ کہ حضرت ماریہ قبطیہ سے خلوت کے بارے میں اور تھوڑی سی بات ٹال گئے اور اس پر ان کی کچھ شکایت نہیں کی، چناچہ جب نبی اکرم نے حضرت حفصہ کو وہ بات جتلا دی جس سے انہوں نے حضرت عائشہ سے کہا تھا آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ (الخ) امام حاکم اور نسائی نے سند صحیح کے ساتھ حضرت انس سے روایت نقل کی ہے کہ رسول اکرم کی ایک باندی تھیں جس کے ساتھ آپ خلوت کیا کرتے تھے، حضرت حفصہ آپ کے برابر پیچھے لگی رہیں یہاں تک کہ آپ نے ان کو اپنے اوپر حرام کرلیا اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اور ضیاء نے مختارہ میں حضرت ابن عمر کی روایت سے حضرت عمر سے روایت کیا ہے کہ حضور نے حضرت حفصہ سے فرمایا کہ کسی کو اس چیز کی اطلاع مت دینا کہ ابراہیم کی والدہ مجھ پر حرام ہیں، چناچہ جب تک حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو اس بات سے مطلع نہیں کردیا آپ ان کے قریب نہیں گئے اس واقعہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی ہے۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبرئیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں اور (انکے علاوہ اور) فرشتے بھی مددگار ہیں

اے حفصہ اور عائشہ تم نے جو رسول اکرم کو ایذا پہنچائی ہے اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس سے تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل حق کی طرف سے مائل ہو رہے ہیں۔ اور اگر اسی ایذا رسانی اور نافرمانی پر تم دونوں جمی رہیں تو سمجھ لو کہ پیغمبر کا تمہارے مقابلہ میں معین و مددگار اور محافظ اللہ ہے اور جبریل ہیں اور خلفائے راشدین اور تمام مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے آپ کے مددگار ہیں۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدیں تو عجب نہیں ان کا بروردگا رتمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دیدے مسلمان صاحب ایمان فرنبردار توبہ کرنے والیاں عبادت گزار روزہ رکھنے والیاں بن شوہر اور کنواریاں۔

اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے اچھی بیبیاں دے دے گا جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، فرمانبرداری کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزے رکھنے والیاں ہوں گی کچھ بیوہ جیسا کہ حضرت آسیہ اور کچھ کنواریاں جیسا کہ حضرت مریم بنت عمران۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر ہیں) جو ارشاد خدا انکو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنی قوم اور اپنے گھر والوں کو اس دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور کبریت کے پتھر ہیں۔ یعنی ان کو نیکیوں کی تعلیم کرو جس سے وہ دوزخ سے بچ سکیں اس دوزخ پر مضبوط فرشتے متعین ہیں وہ اہل دوزخ کو عذاب دینے میں حکم خداوندی کی نافرمانی نہیں کرتے۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

کافرو ! آج بہانے مت بناؤ جو عمل تم کیا کرتے تھے انہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا

اے کافرو آج عذر مت کرو تمہارا عذر قبول نہیں کیا جائے گا تمہیں اسی کی سزا مل رہی ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے اور کہا کرتے تھے۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن خدا پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کریگا۔ بلکہ ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا اور وہ خدا سے التجا کرینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

اے ایمان والو تم اپنے گناہوں سے اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو یعنی دل میں ندامت زبان پر استغفار اور بدن پر تواضع و انکسار ہو امید ہے توبہ کی وجہ سے تمہارا رب تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تمہیں جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔ اور قیامت کا دن ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ نبی کریم کو اور ان ایمان والوں کو جو کہ آپ کے ساتھ ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کفار کی طرح رسوا نہیں کرے گا۔ یا یہ کہ ان کو عذاب نہیں دے گا ان کا نور پل صراط پر ان کے سامنے اور دائیں طرف روشن ہوگا اور منافقین کے نور بجھ جانے کے بعد یوں دعا کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمارے نور کو پل صراط پر ہمارے لیے اخیر تک رکھیے اور ہمارے گناہوں کو معاف کردیجیے آپ نور کو اخیر تک رکھنے اور گناہوں کے معاف کرنے پر قادر ہیں۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے پیغمبر کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

اے نبی کریم کفار مکہ سے تلوار کے ساتھ اور منافقین مدینہ سے جہاد باللسان کیجیے تاکہ یہ لوگ مسلمان ہوجائیں اور ان پر قول و فعل کے ساتھ سختی کیجیے ان سب کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

خدا نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے انکی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونیوالوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ

حضرت لوط اور حضرت نوح کی بیوی کے بارے میں جو حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ نے رسول اکرم کو ایذا پہنچائی تھی اب اللہ تعالیٰ اس سے متنبہ کرتا ہے، اللہ تعالیٰ کافروں کی عبرت کے لیے دو کافر عورتوں کا یعنی حضرت نوح کی بی بی اور لوط کی بی بی کا واقعہ بیان کرتا ہے یہ دونوں ہمارے دو رسولوں کے نکاح میں تھی اور اس کے علاوہ ان سے اور کسی خیانت کا اظہار نہیں ہوا کیونکہ نبی کی بیوی ہرگز اور کوئی خیانت نہیں کرسکتی تو عذاب خداوندی کے مقابلہ میں وہ دونوں نیک بندے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور دونوں عورتوں کو حکم ہوگیا کہ تم دوزخ میں داخل ہوجاؤ۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما۔

اب اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو حضرت آسیہ اور حضرت مریم کا تذکرہ کر کے توبہ اور احسان کی ترغیب دیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ دو مومنہ عورتوں کا واقعہ فرماتا ہے جن میں ایک حضرت آسیہ فرعون کی بیوی انہوں نے فرعون کے عذاب میں دعا کی اے پیروردگار میرے لیے اپنے قریب میں مکان بنایئے تاکہ اس خوشی میں مجھ پر فرعون کا یہ عذاب آسان ہوجائے اور مجھے فرعون کے دین اور اس کے عذاب سے اور کافر لوگوں سے محفوظ رکھیے، چناچہ ان کے اس ایمان و اخلاص کی وجہ سے فرعون کا کفر ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکا۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرماں برداروں میں سے تھیں۔

اور دوسری حضرت مریم (علیہا السلام) ہیں جنہوں نے اپنی ناموس کو حلال و حرام سے محفوظ رکھا تو ہم نے بواسطہ جبریل امین ان کے گریبان میں اپنی روح پھونک دی جس سے وہ حاملہ ہوگئیں اور جبریل امین نے ان سے جو فرمایا تھا انما انا رسول ربک الخ۔ انہوں نے اس کی اور تمام آسمانی کتب مثلا توریت و انجیل کی تصدیق کی یا یہ مطلب ہے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ کی تصدیق کی کیونکہ وہ بھی اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے کن فرمانے سے وہ پیدا ہوگئے اور انجیل کی تصدیق کی اور وہ خوش حال اطاعت والوں میں سے تھیں۔ یا یہ کہ وہ اس ذات کی جو کہ عظمت و بزرگیوں والا ہے اطاعت گزاروں میں سے تھے۔