66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsتفسیرِ عثمانی

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی تو کیوں حرام کرتا ہے جو حلال کیا اللہ نے تجھ پر چاہتا ہے تو رضامندی اپنی عورتوں کی7 اور اللہ بخشنے والا ہے مہربان8

7 حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کو عقیدۃً حلال و مباح سمجھتے ہوئے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ اس کو استعمال نہ کروں گا۔ ایسا کرنا اگر کسی مصلحت صحیحہ کی بناء پر ہو تو شرعاً جائز ہے۔ مگر حضور ﷺ کی شان رفیع کے مناسب نہ تھا کہ بعض ازواج کی خوشنودی کے لیے اس طرح کا اسوہ قائم کریں جو آئندہ امت کے حق میں تنگی کا موجب ہو۔ اس لیے حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ ازواج کے ساتھ بیشک خوش اخلاقی برتنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس حد تک ضرورت نہیں کہ ان کی وجہ سے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر کے تکلیف اٹھائیں۔ 8 کہ گناہ کو معاف کردیتا ہے۔ اور آپ ﷺ سے تو کوئی گناہ بھی نہیں ہوا۔ محض اپنے درجہ میں ایک خلاف اولیٰ بات ہوئی۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

مقرر کردیا اللہ نے تمہارے لیے کھول ڈالنا تمہاری قسموں کا اور اللہ مالک ہے تمہارا اور وہی ہے سب کچھ جانتا حکمت والاف 9

9 یعنی اس مالک نے اپنے علم و حکمت سے تمہارے لیے مناسب احکام و ہدایات بھیجے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نامناسب چیز پر قسم کھالے تو کفر دے کر (جس کا ذکر سورة " مائدہ " میں آچکا۔ ) اپنی قسم کھول سکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اب جو کوئی اپنے مال کو کہے یہ مجھ پر حرام ہے تو قسم ہوگئی۔ کفارہ دے، تو اس کو کام میں لائے کھانا ہو یا کپڑا یا لونڈی۔ "
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب چھپا کر کہی نبی نے اپنی کسی عورت سے ایک بات پھر جب اس نے خبر کردی اس کی اور اللہ نے جتلا دی نبی کو وہ بات تو جتلائی نبی نے اس میں سے کچھ اور ٹلا دی کچھ پھر جب وہ جتلائی عورت کو بولی تجھ کو کس نے بتلا دی یہ کہا مجھ کو بتایا اس خبر والے واقف نے1

1 شروع سورت میں ہم شہد کا اور ماریہ قبطیہ کا قصہ لکھ چکے ہیں۔ اس آیت میں بتلا دیا کہ بندے ایک بات کو چھپانے کی کتنی ہی کوشش کریں، اللہ جب ظاہر کرنا چاہے تو ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔ نیز نبی کریم ﷺ کے حسن معاشرت اور وسعت اخلاق کا اس سے ثبوت ملتا ہے کہ آپ خلاف طبع کارروائیوں پر کس قدر تساہل اور اغماض برتتے اور کس طرح ازراہ عفو و کرم بعض باتوں کو ٹلا جاتے تھے۔ گویا شکایت کے موقع پر بھی پورا الزام نہ دیتے تھے۔ " موضح القرآن " میں ہے کہ بعض کہتے ہیں۔ " اس حرم (ماریہ قبطیہ) کا موقوف کرنا آپ ﷺ نے حضرت حفصہ سے کہا اور کسی کو خبر کرنے سے منع کیا۔ اور اس کے ساتھ کچھ اور بات بھی کہی تھی انہوں نے حضرت عائشہ کو سب خبر کردی۔ کیونکہ دونوں باتوں میں دونوں کا مطلب تھا۔ پھر وحی سے معلوم کر کے حضرت ﷺ نے بی بی حفصہ کو حرم کی بات کا الزام دیا اور دوسری بات ذکر میں نہ لائے۔ وہ دوسری بات کیا تھی ؟ شاید یہ تھی کہ تیرا باپ عائشہ کے باپ کے بعد خلیفہ ہوگا۔ الغیب عنداللہ۔ جو بات اللہ اور رسول نے ٹلا دی ہم کیا جانیں۔ اسی واسطے ٹلا دی کہ بےضرورت چرچا نہ ہو تاکہ اور لوگ برا نہ مانیں۔ " یہ مضمون خلافت کا بعض ضعیف روایات میں آیا ہے جسے بعض علماء شیعہ نے بھی تسلیم کیا۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں توبہ کرتی ہو تو جھک پڑے ہیں دل تمہارے2 اور اگر تم دونوں چڑھائی کرو گی اس پر تو اللہ ہے اس کا رفیق اور جبرائیل اور نیک بخت ایمان والے اور فرشتے اس کے پیچھے مددگار ہیں3

2 یہ عائشہ و حفصہ کو خطاب ہے کہ اگر تم توبہ کرتی ہو تو بیشک توبہ کا موقع ہے کیونکہ تمہارے دل جادہ اعتدال سے ہٹ کر ایک طرف کو جھک گئے ہیں۔ لہذا آئندہ ایسی بےاعتدالیوں سے پرہیز رکھا جائے۔ 3 زوجین کے خانگی معاملات بعض اوقات ابتداءً بہت معمولی اور حقیر نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ذرا باگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو آخرکار نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ خصوصاً عورت اگر کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو اس کو طبعاً اپنے باپ بھائی اور خاندان پر بھی گھمنڈ ہوسکتا ہے۔ اس لیے متنبہ فرما دیا کہ دیکھو اگر تم دونوں اسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں تو یاد رکھو ان سے پیغمبر کو کچھ ضرر نہیں پہنچے گا کیونکہ اللہ اور فرشتے اور نیک بخت ایماندار درجہ بدرجہ جس کے رفیق و مددگار ہوں اس کے سامنے کوئی انسانی تدبیر کامیاب نہیں ہوسکتی ہاں تم کو نقصان پہنچ جانے کا امکان ہے۔ (تنبیہ) بعض سلف نے " صالح المومنین " کی تفسیر میں ابوبکر و عمر کا نام لیا ہے۔ شاید یہ عائشہ اور حفصہ کی مناسبت سے ہوگا وا اللہ اعلم۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اور اگر نبی چھوڑ دے تم سب کو ابھی اس کا رب بدلے میں دے دے اس کو عورتیں تم سے بہتر حکم بردار یقین رکھنے والیاں نماز میں کھڑی ہونے والیاں توبہ کرنے والیاں بندگی بجا لانے والیاں روزہ رکھنے والیاں بیاہیاں اور کنواریاں4

4 وسوسہ دل میں نہ لانا کہ آخر تو مرد کو بیبیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لیے ناگزیر ہماری سب باتیں سہی جائیں گی۔ یاد رکھو ! اللہ چاہے تو تم سے بھی بہتر بیبیاں اپنے نبی کے لیے پیدا کر دے۔ اس کے ہاں کس چیز کی کمی ہے۔ (تنبیہ) ثیبات (بیواؤں) کا ذکر شاید اسی لیے کیا کہ بعض حیثیات سے آدمی ان کو ابکار پر ترجیح دیتا ہے۔
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو بچاؤ اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے جس کی چھپٹیاں ہیں آدمی اور پتھر5 اس پر مقرر ہیں فرشتے تند خود زبردست6 نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی جو بات فرمائے ان کو اور وہی کام کرتے ہیں جو ان کو حکم ہو7

5 ہر مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر لائے سمجھا کر، ڈرا کر، پیار سے، مار سے جس طرح ہو سکے دیندار بنانے کی کوشش کرے۔ اس پر بھی اگر وہ راہ راست پر نہ آئیں تو ان کی کم بختی، یہ بےقصور ہے۔ (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) 66 ۔ التحریم :6) کی تفسیر پارہ " الم " کے شروع میں گزر چکی۔ 6 یعنی مجرموں کو نہ رحم کھا کر چھوڑیں نہ ان کی زبردست گرفت سے کوئی چھوٹ کر بھاگ سکے۔ 7 یعنی نہ حکم الٰہی کی خلاف ورزی کرتے ہیں نہ اس کے احکام بجا لانے میں سستی اور دیر ہوتی ہے نہ امتثال حکم سے عاجز ہیں۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

اے منکر ہونے والومت بہانے بتلاؤ آج کے دن وہی بدلہ پاؤ گے جو تم کرتے تھے8

8 یعنی قیامت کے دن جب جہنم کا عذاب سامنے ہوگا، اس وقت منکروں سے کہا جائے گا کہ حیلے بہانے مت بتلاؤ۔ آج کوئی بہانہ چلنے والا نہیں بلکہ جو کچھ کرتے تھے اس کی پوری پوری سزا بھگتنے کا دن ہے۔ ہماری طرف سے کوئی ظلم زیادتی نہیں۔ تمہارے ہی اعمال ہیں جو عذاب کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو توبہ کرو اللہ کی طرف صاف دل کی توبہ9 امید ہے تمہارا رب اتار دے تم پر سے تمہاری برائیاں اور داخل کرے تم کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں جس دن کہ اللہ ذلیل نہ کرے گا نبی کو اور ان لوگوں کو جو یقین لائے ہیں اس کے ساتھ1 ان کی روشنی دوڑتی ہے ان کے آگے اور ان کے داہنے2 کہتے ہیں اے رب ہمارے پوری کردی ہم کو ہماری روشنی اور معاف کر ہم کو بیشک تو سب کچھ کرسکتا ہے3

9 صاف دل کی توبہ یہ کہ دل میں پھر اس گناہ کا خیال نہ رہے۔ اگر توبہ کے بعد ان ہی خرافات کا خیال پھر آیا تو سمجھو کہ توبہ میں کچھ کسر رہ گئی ہے۔ اور گناہ کی جڑ دل سے نہیں نکلی۔ " رزقنا اللہ منہا حظا وافرًا بفضلہ وعونہ وہو علٰی کل شئیٍ قدیر۔ " 1 یعنی نبی کا تو کہنا کیا اس کے ساتھیوں کو بھی ذلیل نہ کرے گا بلکہ نہایت اعزازو اکرام سے فضل و شرف کی بلند مناصب پر سرفراز فرمائے گا۔ 2 اس کا بیان سورة " حدید " میں ہوچکا۔ 3 یعنی سورة حدید میں بیان ہوچکا کہ روشنی بجھ جائے گی اور اندھیرے میں کھڑے رہ جائیں گے مفسرین نے عموما یہ ہی لکھا ہے۔ لیکن حضرت شاہ صاحب اتمم لنا نورنا کی مراد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ " روشنی ایمان کی دل میں ہے، دل سے بڑھے تو سارے بدن میں پھر گوشت پوست میں " (سرایت کرے)
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی لڑائی کر منکروں سے دغابازوں سے اور سختی کر ان پر4 اور ان کا گھر دوزخ ہے اور بری جگہ جا پہنچے5

4 حضرت کا خلق اور نرم خوئی یہاں تک بڑھی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ اوروں کو فرماتا ہے تحمل کرو۔ اور آپ کو فرماتا ہے کہ سختی کرو۔ 5 پہلے مومنین کا ٹھکانا بتلایا تھا۔ یہاں اس کے بالمقابل کفار و منافقین کا گھر بتلا دیا۔
Ayahs 66:10–11

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے بتلائی ایک مثل منکروں کے واسطے عورت نوح کی اور عورت لوط کی گھر میں تھیں دونوں دو نیک بندوں کے ہمارے نیک بندوں میں سے پھر انہوں نے ان سے چوری کی پھر وہ کام نہ آئے ان کے اللہ کے ہاتھ سے کچھ بھی اور حکم ہوا کہ چلی جاؤ دوزخ میں جانے والوں کے ساتھ

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ نے بتلائی ایک مثل ایمان والوں کے لیے عورت فرعون کی6 جب بولی اے رب بنا میرے واسطے اپنے پاس ایک گھر بہشت میں7 اور بچا نکال مجھ کو فرعون سے اور اس کے کام سے اور بچا نکال مجھ کو ظالم لوگوں سے8

6 یعنی حضرت نوح اور حضرت لوط کیسے نیک بندے، مگر دونوں کے گھر میں ان کی بیویاں منافق تھیں۔ بظاہر ان کے ساتھ تعلق تھا لیکن دل سے کافروں کے شریک حال تھیں۔ پھر کیا ہوا ؟ عام دوزخیوں کے ساتھ ان کو بھی اللہ نے دوزخ میں دھکیل دیا پیغمبروں کا رشتہ، زوجیت ذرا بھی عذاب الٰہی سے نہ بچا سکا۔ ان کے برعکس فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم، پکی ایماندار، ولی کامل، اور اس کا شوہر خدا کا سب سے بڑا باغی۔ وہ نیک بیوی میاں کو خدا کے عذاب سے نہ چھڑا سکی۔ نہ میاں کی شرارت و بغاوت کے جرم میں بیوی کو کچھ آنچ پہنچی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنا ایمان درست کرو۔ نہ خاوند بچا سکے نہ جورو، یہ (قانون عام طور پر) سب کو سنا دیا ہے۔ یہ وہم نہ کیا جائے کہ (معاذ اللہ) حضرت کی بیبیوں پر کہا۔ ان کے لیے تو وہ کہا ہے (جو سورة " نور " میں ہے) " الطیبات لطیبین " اور اگر بفرض محال ایسا وہم کیا جائے تو امرأۃ فرعون کی مثال کس پر چسپاں کرو گے۔ " لا حول ولا قوۃ الا باللہ۔ " 7 یعنی اپنا قرب عنایت فرما۔ اور بہشت میں میرے لیے مکان تیار کر۔ 8 یعنی فرعون کے پنجہ سے چھڑا اور اس کے ظلم سے نجات دے۔ حضرت موسیٰ کو انہوں نے پرورش کیا تھا اور ان کی مددگار تھیں۔ کہتے ہیں کہ فرعون کو جب حال کھلا تو ان کو چومیخا کر کے طرح طرح کی ایذائیں دیتا تھا۔ اس حالت میں اللہ کی طرف سے جنت کا محل ان کو دکھلایا جاتا۔ جس سے سب سختیاں آسان ہوجاتی تھیں۔ آخر فرعون نے ان کو سیاسۃً قتل کردیا۔ اور جام شہادت نوش کر کے مالک حقیقی کے پاس پہنچ گئیں۔ حدیث صحیح میں نبی کریم ﷺ نے ان کے کامل ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ اور حضرت مریم کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے۔ ہزاروں ہزار رحمتیں ہوں اس پاک روح پر۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور مریم بیٹی عمران کی جس نے روکے رکھا اپنی شہوت کی جگہ کو9 پھر ہم نے پھونک دی اس میں ایک اپنی طرف سے جان10 اور سچا جانا اپنے رب کی باتوں کو اور اس کی کتابوں کو11 اور وہ تھی بندگی کرنے والوں میں12

9 یعنی حلال و حرام سب سے محفوظ رکھا۔ 10 یعنی فرشتہ کے ذریعہ سے ایک روح پھونک دی۔ حضرت جبرائیل نے گریبان میں پھونک ماری جس کا نتیجہ استقرار حمل ہوا، اور حضرت مسیح (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ (تنبیہ) نفخ کی نسبت اپنی طرف اس لیے کی کہ فاعل حقیقی اور موثر علی الاطلاق وہی ہے۔ آخر ہر عورت کے رحم میں جو بچہ بنتا ہے اس کا بنانے والا اس کے سوا کون ہے۔ بعض محققین نے یہاں " فرج " کے معنی چاک گریبان کے لیے ہیں۔ اس وقت " اَحْصَنَتْ فَرَجَہَا " کے معنی یہ ہوں گے کہ کسی کا ہاتھ اپنے گریبان تک نہیں پہنچنے دیا۔ اور یہ نہایت بلیغ کنایہ ان کی عصمت و عفت سے ہوگا۔ جیسے ہمارے محاورات میں کہتے ہیں کہ فلاں عورت بہت پاک دامن ہے اور عرب میں کہا جاتا ہے " نقی الحبیب طاہر الذیل " اس سے عفیف النفس ہونا مراد ہوتا ہے۔ کپڑے کا دامن مراد نہیں ہوتا۔ اس تقدیر پر " فنفخنا فیہ " میں ضمیر لفظ " فرج " کی طرف اس کے لغوی معنی کے اعتبار سے راجع ہوگی۔ واللہ اعلم بالصواب۔ 11 رب کی باتیں وہ ہوں گی جو فرشتوں کی زبانی سورة آل عمران میں بیان ہوئی ہیں۔ (وَاِذْ قَالَتِ الْمَلٰۗىِٕكَةُ يٰمَرْيَمُ اِنَّ اللّٰهَ اصْطَفٰىكِ وَطَهَّرَكِ وَاصْطَفٰىكِ عَلٰي نِسَاۗءِ الْعٰلَمِيْنَ ) 3 ۔ آل عمران :42) اور کتابوں سے عام کتب سماویہ مراد لی جائیں۔ تخصیص کی ضرورت نہیں۔ 12 یعنی کامل مردوں کی طرح بندگی وطاعت پر ثابت قدم تھی۔ یا یوں کہو کہ قانتین کے خاندان سے تھی۔ تم سورة التحریم وللہ الحمد والمنۃ وبہ التوفیق والعصمۃ۔