66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsانوار البیان

Ayah 66:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے پیغمبر جو چیز خدا نے تمہارے لئے جائز کی ہے تم اس سے کنارہ کشی کیوں کرتے ہو ؟ کیا اس سے اپنی بیبیوں کی خوشنودی چاہتے ہو اور خدا بخشنے والا مہربان ہے

(66:1) یایھا النبی : یا حرف ندا۔ النبی منادی : منادی اگر معرف باللام ہو تو ایھا کو حرف نداء اور منادی کے درمیان لاتے ہیں۔ جیسے یایھا الرسول ، یایھا المراۃ سے نبی ﷺ لم : یہ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ سے ما کے الف کو تخفیفا ساقط کردیا گیا ہے۔ کیوں ۔ کس لئے، کس وجہ سے۔ تحرم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تحریم (تفعیل) مصدر۔ تو حرام کرتا ہے۔ ما احل اللہ لک : ما موصولہ احل ماضی واحد مذکر غائب احلال (افعال) مصدر۔ اس نے حلال کیا۔ ترجمہ :۔ اے نبی ﷺ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کردیا ہے آپ ان کو کیوں حرام کرتے ہیں ؟ تبتغی مرضات ازواجک : واللہ غفور رحیم : تبتغی مضارع کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ ابتغاء (افتعال) مصدر۔ تو تلاش کرتا ہے۔ تو ڈھونڈھتا ہے ۔ تو چاہتا ہے۔ مرضات ازواجک : ازواجک مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ مرضات مضاف کا۔ مرضاۃ مصدر میمی واسم مصدر۔ پسند کرنا۔ رضا مند ہونا۔ پسندیدگی ، خوشنودی ۔ رضا مندی۔ ترکیب آیت کی مندرجہ ذیل صورتیں ہیں :۔ (1) تحرم میں ضمیر فاعل سے حال ہے۔ یعنی اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم ) اپنی بیویوں کی خوشنودی کی تلاش میں آپ اس چیز کو جو اللہ نے آپ کے لئے حلال کر رکھی ہے (اپنے اوپر) حرام کیوں کرتے ہیں۔ (2) یہ جملہ مستانفہ ہے ۔” آپ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی خوشنودی اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :۔ یا یہ جملہ مستانفہ ہے جس میں تحریم کا سبب بیان کیا گیا ہے۔ واللہ غفور : یعنی آپ سے یہ بات ہوگئی کہ اللہ نے جس چیز کو آپ کے لئے حلال کردیا تھا آپ نے اس کو قسم کھا کر اپنے لئے حرام کرلیا۔ اللہ آپ کی اس بات کو معاف کرنے والا ہے۔ رحیم : یعنی اللہ نے آپ پر رحمت کی کہ خود ساختہ تحریم سے نکلنے کا راستہ اس نے آپ کو بتادیا اور آپ سے مؤاخذہ نہیں کیا اور آپ کو ناجائز امر سے بچانے کے لئے اظہار ناگواری کردیا “۔ (تفسیر مظہری) (3) یا یہ جملہ تبتغی مرضات ازواجک جملہ مفسرہ ہے اور یہ تحرم کی تفسیر ہے اور ازواج کی خوشنودی مقصود تحریم ہو۔ (4) یہ استفہام انکاری ہے اور اس سے قبل ہمزہ استفہامیہ محذوف ہے ای اتبتغی مرضات ازواجک کیا آپ اپنی بیویوں کی رضا مندی ڈھونڈھتے ہیں ؟ یعنی کیا اس حرام کرنے میں اپنی بیویوں کی رضا مندی چاہتے ہو ؟ یعنی ایسا نہ کرو یہ ایک قسم کی ناپسندیدہ بات ہے ۔ (تفسیر حقانی) فائدہ : اکثر مفسرین کے مطابق علامہ آلوسی رحمۃ اللہ تعالیٰ بھی تحریم کا مفہوم امتناع ہی بیان کرتے ہیں۔ والمراد بالتحریم الامتناع (روح المعانی) مطلب یہ کہ آپ ایک حلال چیز کا استعمال کرنے سے کیوں اجتناب کرتے ہیں۔ واللہ غفور رحیم : اور اللہ تعالیٰ غفور اور رحیم ہے۔ علامہ آلوسی رحمۃ اللہ تعالیٰ لکھتے ہیں :۔ فیہ تعظیم شانہ ﷺ لان ترک الاولی بالنسبۃ الی مقامہ السامی الکریم یعد کالذنب وان لم یکن فی نفسہ کذلک وان عتابہ ﷺ لیس الالمذید الاعتناء بہ۔ یعنی آپ ﷺ کی اس میں تعظیم شان ہے کہ آپ کے مقام عالی و مقام کریم کی نسبت سے ترک اولیٰ کو بھی گناہ کی مانند لیا گیا اگرچہ فی نفسہ ایسا نہ تھا۔ اور آپ پر عتاب نہیں تھا۔ بجز اس کے کہ مزید اعتناء کی وجہ سے تھا۔
Ayah 66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کرد یا ہے اور خدا ہی تمہارا کا رساز ہے اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

(66:2) قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے قسموں کا کھول دینا بھی فرض کردیا ہے۔ (ترجمہ حقانی) قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو زمانہ حال کی طرف قریب کردیتا ہے۔ فرض لکم تم پر فرض کردیا ہے۔ فرض کرنا عموما علی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے نہ کہ لام کے ساتھ ۔ اس کی تشریح علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ یوں کرتے ہیں :۔ لام انتقاع کے لئے آتا ہے (اور علی ضرر کے لئے) اور اس جگہ نفع کا مفہوم مقصود ہے کیونکہ کفارہ واجب کرنے سے یہ فائدہ ہوجاتا ہے کہ خود ساختہ تحریم حلت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور قسم شکنی کا گناہ دور ہوجاتا ہے۔ کفارہ وہی ہے جس کا ذکر سورة مائدہ میں کردیا گیا ہے۔ سورة مائدہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ لایؤاخذکم اللہ باللغو فی ایمانکم ولکن یؤاخذکم بما عقدتم الایمان فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین من اوسط ما تطعمو اہلیکم او کسوتھم او تحریر رقبۃ فمن لم یجد فصیام ثلثۃ ایام ذلک کفارۃ ایمانکم اذا حلفتم واحفظوا ایمانکم (5:89) ۔ ” خدا تمہاری بےارادہ قسموں پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا لیکن پختہ قسموں پر (جن کے خلاف کروگے) مؤاخذہ کرے گا۔ تو اس کا کافرہ دس محتاجوں کو اوسط درجے کا کھانا کھلانا ہے جو تم اپنے اہل و عیال کو کھلاتے ہو۔ یا ان کو کپڑے دینا۔ یا ایک غلام آزاد کرنا۔ اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ تین روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفارہ ہے جب تم قسم کھالو (اور اسے توڑدو) اور تم کو چاہیے کہ اپنی قسموں کی حفاظت کرو “۔ تحلۃ مصدر ہے حلل کا۔ یہاں فرض لکم کے بطور مفعول مستعمل ہے لہٰذا منصوب ہے۔ تحلۃ کا وزن تفعلۃ ہے جو باب تفعیل کا دوسرا وزن ہے جیسے کرم سے تکریم وتکرمۃ اور کمل سے تکمیل و تکملۃ دونوں وزن آتے ہیں۔ یہ بھی حلل تحلیل کا دوسرا مصدر ہے بمعنی گرہ کھولنا۔ کھول ڈالنا۔ حلال کرنا۔ جملہ قد فرض اللہ ۔۔ ایمانکم کا مطلب ہوا کہ خدا تعالیٰ نے تم لوگوں کی قسموں کی گرہ کشائی کا کفارہ بیان کردیا ہے جس کو ادا کرکے گرہ کشائی فرض کردی گئی ہے ۔ پس قسم کھا کر جو گرہ تم نے ڈال لی تھی اس کو کھولنے کا طریقہ یہ ہے کہ کفارہ ادا کرو اور پابندی سے آزادی حاصل کرو۔ ایمانکم : مضاف مضاف الیہ مل کر تحلۃ (مضاف) کا مضاف الیہ۔ اپنی قسموں کی گرہ کشائی ۔ واللہ مولکم اللہ تمہارا رفیق و کارساز ہے۔ ولی یلی ولی (باب حسب یحسب) سے اسم فاعل کا صیغہ وال، ولی ہے۔ الولی والولاء والتوالی کے اصل معنی دو یا دو سے زیادہ چیزوں کا اس طرح یکے بعد دیگرے آنا کہ ان کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ آئے جو کہ ان میں سے نہ ہو۔ پھر استعارہ کے طور پر قرب کے معنی میں استعمال ہونے لگا ہے خواہ وہ قرب بلحاظ مکان یا نسب یا بلحاظ دین ۔ دوستی یا نصرت کے ہو یا بلحاظ اعتقاد کے۔ الولی والمولی دونوں کبھی اسم فاعل یعنی موال کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں اور کبھی اسم مفعول یعنی موالی کے معنی میں آتے ہیں۔ ولی (جمع اولیائ) کے معنی محبت کرنے والا دوست۔ مددگار۔ کارساز، حلیف، تابع، کام کا منتظر وغیرہ ہیں۔ اسم فاعل کے معنی کے استعمال کی صورت میں کہیں گے اللہ ولیک اللہ تیرا حافظ و نگران ہے اور اسم مفعول کی صورت میں کہیں گے المؤمن ولی اللہ مومن اللہ کا فرمانبردار ہے۔ یا جیسے کہ قرآن مجید میں ہے :۔ واللہ ولی المؤمنین (3:68) اور اللہ مومنوں کا کارساز ہے۔ اور اسم مفعول کی صورت میں فان اللہ ھو مولہ (66:4) اور اگر پیغمبر (کی ایذائ) پر باہم اعانت کروگے تو خدا ان کا حامی اور دوست دار ہے۔ وھو العلیم الحکیم : اور وہ دانا اور حکیم ہے۔ العلیم : علم سے بروزن فعیل مبالغہ کا صیغہ ہے۔ اسماء الٰہی میں سے ہے۔ قرآن مجید میں اس کا استعمال اکثر اللہ تعالیٰ کی صفت ہی میں ہوا ہے۔ الحکیم : حکمت والا۔ بروزن فعیل صفت مشبہ کا صیغہ ہے حکمۃ مصدر۔ صاحب تفسیر حقانی تحریر فرماتے ہیں :۔ اللہ تعالیٰ تمہارا رفیق و کارساز ہے وہ جانتا ہے کہ اس میں تمہیں دقت اور تنگی پیش آئیگی اور ہمیشہ کے لئے ایک مباح چیز امت میں حرام سمجھی جائے گی۔ اور یہ اصول شریعت محمدیہ کے خلاف ہے اللہ تعالیٰ حکیم وعلیم ہے کسی چیز کو ممنوع اور حرام قرار دینا اس کے عواقب امور پر نظر کرکے اسی کا کام ہے پھر جس کو وہ حرام نہ بنائے تم بھی حرام نہ بناؤ۔
Ayah 66:3

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتادی) جب اس نے اسکو افشا کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے (ان بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے .

(66:3) واذ واؤ عاطفہ ہے اذ فعل اذکر (محذوف) سے موضع نصب میں ہے۔ اور یاد کر جب ۔۔ اسر الی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اسرار (افعال) مصدر۔ اس نے چھپا کر کہا۔ اس نے آہستہ بات کی۔ اس نے راز دارانہ بات کی۔ ازواجہ مضاف مضاف الیہ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع النبی ہے اپنی بیویوں (میں سے) ایک سے۔ حدیثا۔ بات، احادیث جمع۔ فلما شرط۔ نبات بہ : نبات ماضی واحد مؤنث غائب۔ تنبئۃ (تفعیل) مصدر۔ اس عورت نے خبر دیدی۔ بات بتادی۔ اطلاع دی۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مؤنث غائب حدیثا کے لئے ہے۔ یعنی جب اس بیوی نے وہ بات جو اس سے رازدارانہ کہی گئی تھی آگے بیان کردی یعنی کسی دوسری کو بات بتادی۔ واظھرہ اللہ علیہ واؤ عاطفہ اظھر ماضی واحد مذکر غائب اظہار (افعال) مصدر بمعنی ظاہر کرنا۔ ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب کا مرجع یا تو حدیث ہے (یعنی وہ بات جو کہ رازدارانہ بتائی گئی تھی) یا اس رازدانہ بات کو آگے کسی کو بتادینے کا فعل ہے۔ علیہ میں ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع النبی ہے۔ اور اللہ نے اس کو نبی پر ظاہر کردیا۔ عرف بعضہ واعرض عن بعض۔ جملہ جواب شرط ہے۔ عرف ماضی واحد مذکر غائب ۔ ضمیر فاعل کا مرجع النبی ہے تعریف (تفعیل) مصدر۔ اس نے جتلایا۔ آپ (رسول کریم ﷺ ) نے (اس بیوی کو) کچھ بتلا دیا۔ یعنی اس میں سے جو اللہ نے آپ پر ظاہر کیا ۔ کچھ اس بیوی کو جتلا دیا۔ واعرض عن بعض اور (اس میں سے) کچھ سے اعراض کیا یعنی کچھ نہ بتایا۔ فلما : شرط۔ پس جب ۔۔ نباھا : نبا ماضی واحد مذکر غائب تنبئۃ (تفعیل) مصدر ھا ضمیر مفعول واحد مؤنث غائب جس کا مرجع وہ بیوی جس نے رازدارانہ بات آگے بتادی تھی اور جس کو رسول کریم ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی ظاہر کردہ بات میں سے کچھ جتلائی تھی۔ بہ ضمیر واحد مذکر راذدارنہ بات کے لئے ہے۔ قالت جواب شرط : تو اس (بیوی) نے کہا۔ من انباک : من استفہامیہ ۔ انبأ ماضی واحد مذکر غائب۔ انباء (افعال) مصدر۔ بمعنی خبر دینا۔ بتلانا۔ ک ضمیر مفعول واحد مذکر حاضر جس کا مرجع نبی کریم ﷺ ہیں۔ ھذا یہ بات ۔ آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی ہے۔ قال : ای قال النبی ﷺ ۔ نبأنی۔ اس نے مجھے بتایا۔ اس نے مجھے آگاہ کیا۔ نبأ ماضی واحد مذکر غائب تنبئۃ (تفعیل) مصدر۔ ن وقایہ ی ضمیر واحد متکلم۔ العلیم : علم سے مبالغہ کا صیغہ ہے۔ خوب جاننے والا۔ بڑے علم والا۔ الخبیر : خبر سے صفت مشبہ کا صیغہ۔ خبردار۔ دانا۔
Ayah 66:4

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں خدا کے آگے توبہ کرو (تو بہتر ہے کیونکہ) تمہارے دل کج ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی ایذا) پر باہم اعانت کرو گی تو خدا اور جبرئیل اور نیک کردار مسلمان ان کے حامی (اور دوستدار) ہیں اور (انکے علاوہ اور) فرشتے بھی مددگار ہیں

(66:4) ان تتوبا الی اللہ جملہ شرط ہے۔ جس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ان تتوبا الی اللہ فھو الواجب۔ اگر تم دونوں بیبیاں اللہ کے حضور توبہ کرلو تو یہ تمہارے لئے واجب ہے۔ فقد صغت قلوبکما :تعلیلیہ ہے۔ دک کی کجی موجب ہے گناہ کی اور گناہ کے بعد توبہ واجب ہے۔ قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو حال کے قریب تر لے آتا ہے۔ صغت : ماضی واحد مؤنث غائب صغو، صغی (باب نصر۔ و فتح) جھک جانا ، جھک پڑنا۔ مائل ہوجانا۔ کیونکہ تمہارے دل (سیدھی راہ سے) ہٹ ہی گئے ہیں۔ صاحب تفہیم القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ اصل الفاظ ہیں فقد صغت قلوبکما صغو عربی زبان میں مڑجانے اور ٹیڑھا ہوجانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ صاحب نے اس جملہ کا ترجمہ کیا ہے : ” ہر آئینہ کج شدہ است دل شما “۔ حضرت شاہ رفیع الدین (رح) تعالیٰ صاحب کا ترجمہ ہے ” کج ہوگئے ہیں دل تمہارے۔ حضرات عبد اللہ بن مسعود ؓ ، عبد اللہ بن عباس ؓ سفیان ثوری رحمۃ اللہ تعالیٰ اور ضحاک نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے۔ زاغت قلوبکما تمہارے دل راہ راست سے ہٹ گئے ہیں۔ امام رازی (رح) اس کی تشریح میں کہتے ہیں ۔ عدلت ومالت عن الحق وھو حق الرسول ﷺ حق سے ہٹ گئے ہیں اور حق سے مراد رسول اللہ ﷺ کا حق ہے۔ اور علامہ آلوسی (رح) کی تشریح یہ ہے :۔ مالت عن الواجب من موافقۃ ﷺ یحب ما یحبہ ، کراھۃ مایکرہہ الی مخالفۃ یعنی تم پر واجب تو یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو کچھ پسند کریں اسے پسند کرنے میں اور جو کچھ ناپسند کریں اسے ناپسند کرنے میں آپ ﷺ کی موافقت کریں۔ مگر تمہار دل اس معاملہ میں آپ کی موافقت سے ہٹ کر آپ کی مخالفت کی طرف مڑ گئے ہیں۔ (تفہیم القرآن جلد ششم) وان تظاھرا علیہ۔ جملہ شرطیہ۔ تظاہرا۔ مضارع کا صیغہ تثنیہ مؤنث حاضر۔ اصل میں تتظاھران تھا۔ ایک تاء حذف ہوگئی اور نون اعرابی ان شرطیہ کے آنے سے ساقط ہوگیا۔ اگر تم دونوں (بیبیاں) آپ کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کروگی۔ آپ کے خلاف ایکا کروگی۔ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کروگی۔ تظاھر (تفاعل) مصدر۔ فان اللہ ھو مولہ۔ جملہ جواب شرط۔ (تو خوب جان لو) کہ اللہ تعالیٰ آپ کا مددگار اور سازگار ہے ۔ (نیز ملاحظہ ہو 66:2 متذکرۃ الصدر) ۔ مولی کا معنی یہاں ناصر ہے اور تمام کے لئے یہی معنی درست ہے۔ لامانع من ان یکون المولی فی الجمیع بمعنی الناصر (روح المعانی) یعنی اللہ تعالیٰ بھی حضور کا مددگار ہے جبریل اور صالح المؤمنین بھی حضور ﷺ کے مددگار ہیں۔ صالح بظاہر واحد ہے لیکن اس سے مراد جنس ہے جس کا قلیل اور کثیر سب پر اطلاق ہوتا ہے۔ بعض کا یہ قول ہے کہ اصل میں صالحون ۔ جمع تھا۔ اضافت کی وجہ سے ن گرگیا۔ صالح المؤمنین ہوگیا۔ لیکن یہاں واؤ کا تلفظ بھی نہیں کیا جاتا اس لئے کاتبان قرآن نے واؤ کی کتابت بھی ترک کردی اور صالح المؤمنین لکھنے پر اکتفاء کیا۔ اس قسم کے شواہد قرآن کریم میں بکثرت موجود ہیں۔ سورة نبی اسرائیل کی آیت نمبر 11 میں ویدع الانسان مکتوب ہے اصل میں ویدعو ہے لیکن چونکہ واؤ کا تلفظ نہیں ہے اس لئے کتابت بھی ترک کردی گئی ۔ صالح نیک ، اچھا۔ بھلا۔ صلاح سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ صالح المؤمنین اضافت عہدی ہے مراد اس سے انبیاء (علیہم السلام) ہیں۔ ذھب غیر واحد الی ان الاضافۃ للعہد فقیل : المراد بہ الانبیاء (علیہم السلام) (روح المعانی) ۔ لیکن بعض کے نزدیک اس سے مراد حضرت علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ بعض کے نزدیک حضرت ابوبکر اور بعض کے نزدیک حضرت عمر اور بعض کے نزدیک اس سے مراد جملہ خلفاء اربعہ ہیں۔ رضوان اللہ علیہم اجمعین۔ اور بعض نے کہا ہے کہ صالح المؤمنین سے مراد رسول کریم ﷺ کے تمام متبعین اور اعوان اور آپ کے اردگرد جمع ہونے والے بھی رسول اللہ ﷺ کے رفیق اور ساتھی ہیں۔ بعض نے اس سے مراد مخلص مومن لئے ہیں جو منافق نہیں ہیں :۔ واللہ اعلم : ظھیرـ پشتیبان ۔ یاور۔ مددگار۔ مظاھرۃ (مفاعلۃ) مصدر سے بروزن فعیل بمعنی فاعل صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ سید مرتضی زبیدی تاج العروس میں لکھتے ہیں :۔ ظھیر : بروزن امیر بمعنی معین و مددگار ہے واحد اور جمع دونوں میں اس کا استعمال یکساں ہے اور ظھر کی جمع اس لئے نہیں بنائی کہ فعیل اور فعول دونوں میں مذکر و مؤنث اور جمع کا استعمال یکساں طور پر ہوتا ہے چناچہ ارشاد ہوتا ہے :۔ انا رسول رب العلمین (26:16) بلاشبہ ہم دونوں رب العالمین کے فرستادہ ہیں۔ اور والملئکۃ بعد ذلک ظھیر (66:4) ۔ اگر فان اللہ ھو مولہ پر وقف کیا جائے تو اگلے جملہ میں جبریل مبتداء اور و صالح المؤمنین والملئکۃ دونوں معطوف جن کا عطف جبریل پر ہوگا ۔ اور ظھیر سب کی خبر۔ اور بعد ذلک متعلق خبر۔
Ayah 66:5

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اگر پیغمبر تم کو طلاق دیدیں تو عجب نہیں ان کا بروردگا رتمہارے بدلے ان کو تم سے بہتر بیبیاں دیدے مسلمان صاحب ایمان ' فرنبردار ' توبہ کرنے والیاں ' عبادت گزار ' روزہ رکھنے والیاں ' بن شوہر اور کنواریاں۔

(66:5) عسی : افعال مقاربہ میں سے ہے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ اس کی خبر ہمیشہ فعل مضارع ہوتی ہے۔ عسی امید کے واسطے آتا ہے اور خبر کے قرب کے لئے وضع کیا گیا ہے اس کی خبر کے ساتھ اکثر ان آتا ہے۔ یہ فعل غیر منصرف ہے اور ماضی کے سوا اس سے کوئی صیغہ نہیں آتا۔ اس کے معنی پسندیدہ بات میں امید کے اور ناپسندیدہ بات میں اندیشہ اور کھٹکے کے ہیں مثلاً قرآن مجید میں ہے :۔ وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم (2:216) اور توقع ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور اندیشہ ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ بری ہو تمہارے حق میں۔ (نیز ملاحظہ ہو 47:22) عسی ربہ۔ عسی فعل مواربہ، ربہ اس کا فاعل (اس کا اسم) ان یبدلہ ۔۔ جملہ اس کی خبر ہے۔ ان طلقکن جملہ شرطیہ ۔ عسی ربہ ان یبدلہ ازواجا خیرا ۔۔ الخ جواب شرط۔ ازواجا مفعول یبدل کا بدیں وجہ منصوب ہے۔ خیر اومسلمات ۔۔ ابکارا صفات ہیں ازواجا کی اور بوجہ صفت ہونے اپنے موصوف کی ازواجا کی مطابقت میں منصوب ہیں۔ ربہ میں ہ ضمیر واحد مذکر غائب رسول کریم ﷺ کی طرف راجع ہے۔ ان شرطیہ طلقکن۔ طلق ماضی واحد مذکر غائب تطلیق (تفعیل) مصدر بمعنی طلاق دینا کن ضمیر مفعول جمع مؤنث حاضر۔ اس نے تم کو طلاق دی۔ وہ تمہیں طلاق دیدے۔ ان مصدریہ۔ یبدلہ : یبدل مضارع واحد مذکر غائب منصوب بوجہ عمل ان ہ ضمیر مفعول واحد مذکر غائب جس کا مرجع رسول کریم ﷺ ہیں۔ ابدال (افعال) مصدر۔ وہ اس کو (تمہارے) بدلہ میں دیگا۔ ازواجا (منصوب بوجہ مفعول) بیبیاں زوج کی جمع۔ اصل میں ازواج جوڑے کو کہتے ہیں۔ حیوانات کے جوڑے میں سے نہ ہو یا مادہ ہر ایک کو زوج کہتے ہیں۔ خیرا : ازواجا کی صفت ہے افعل التفضیل کا صیغہ ہے۔ منکن جار مجرور۔ تم میں سے بہتر۔ مسلمت مسلمۃ کی جمع اسلام سے اسم فاعل کا صیغہ ، فرمانبردار۔ مؤمنت مؤمنۃ کی جمع ایمان (افعال) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث ایمان والیاں۔ ایماندار قنتت قانتۃ واحد۔ قنوت (باب نصر) مصدر سے ق ن ت مادہ سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث، خشوع اور خضوع کرنے والیاں۔ قنوت کے معنی ہیں عاجزی اور خشوع کے ساتھ فرمانبرداری میں لگے رہنا۔ تئبت : توبۃ (باب نصر) سے اسم فاعل کا صیغہ جمع مؤنث، توبہ کرنے والیاں۔ عبدت : عبادۃ (باب نصر) مصدر سے اسم فاعل صیغہ جمع مؤنث، پوجنے والیاں۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت : سیاح مادہ۔ (س ی ح) (باب ضرب) مصدر سے اسم فاعل جمع مؤنث۔ سأئحون کے اصل معنی سیاحت کرنے والے ہیں۔ مفسرین کے اس کی مراد کی تعیین میں مختلف اقوال ہیں :۔ (1) بعض کے نزدیک اس سے مراد روزہ دار ہیں۔ (2) بعض کے نزدیک اس سے مراد طلباء علوم دینیہ ہیں۔ (3) بعض نے اس سے مراد زاہد اور پارسا لئے ہیں جو دنیا کی زندگی مسافرانہ طریقہ سے گزارتے ہیں اور آخرت کی زندگی کو اصل سمجھتے ہیں اور کن فی الدنیا کانک غریب ادعا برسبیل پر عامل ہیں۔ لیکن اکثریت نے اس سے مراد روزہ رکھنے والے ہیں لیا ہے اسی طرح آیت ہذا میں روزہ رکھنے والیاں ہی مراد لیا ہے جیسا کہ (9:112) میں السائحون کا ترجمہ روزہ رکھنے والے ہی کیا ہے۔ تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو المفردات ، قاموس القران از قاضی زین العابدین۔ ثیبت : ثوب (باب نصر) کے اصلی معنی ہیں کسی چیز کا اپنی اصلی ھالت کی طرف لوٹ آنا۔ ثیبۃ بیوہ یا مطلقہ عورت کو کہا جاتا ہے ، کیونکہ وہ بی خاوند سے جدا ہو کر (گویا اپنی پہلی حالت کی طرف) لوٹ آتی ہے۔ ابکارا : بکر کی جمع ہے بکر کنواری لڑکی کو کہتے ہیں۔ کنواریاں۔ الفائدہ : آیات 1-5 میں امہات المؤمنین کی ازدواجی زندگی کے تین واقعات بیان ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ آیات 1-2 میں مذکور ہے حضرت رسول کریم ﷺ نے بعض بیویوں کی خوشنودی کی خاطر کسی ایسی چیز کو اپنے لئے ممنوع قرار دے دیا جو شرعا حلال تھی خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ ایسا کرنا پیغمبر دین کے لئے زیبا نہیں لہٰذا حکم فرمایا کہ کفارہ ادا کرکے قسم توڑ دی جائے۔ دوسرے واقعہ میں حضور اقدس ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے کوئی راز کی بات کہی تھی اور تنبیہ فرمائی کہ آگے کسی کو نہ بتانا۔ لیکن انہوں نے ازواج رسول کریم ﷺ میں سے کسی سے یہ راز افشاء کردیا اس کی بابت اللہ نے آپ کو مطلع فرما دیا کہ آپ کو کیسے علم ہوا آپ نے فرمایا کہ خداوند علیم وخبیر نے مطلع فرمایا ہے۔ دونوں بیویوں کی سرزنش فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ تم دونوں خدا سے اپنے کئے پر توبہ کرو تو تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم نے ایسا نہ کیا اور رسول کریم ﷺ کے خلاف ایکا کرلیا تو تم ان کا کچھ نہ بگاڑ سکوگی۔ ان کی مدد کے لئے خداوند تعالیٰ ، جبریل، صالح المومنین، اور ملائکہ کی نصرت ہر وقت موجود ہے۔ (آیات 3-4) ۔ تیسرے واقعہ کا اشارہ آیت نمبر 5 میں ہے اس کے پس منظر میں کئی عوامل ہیں منجملہ ان کے چند یہ ہیں :۔ (1) پہلا واقعہ جو اوپر مذکر ہوا۔ (2) دوسرا واقعہ جو ابھی اوپر آیا ہے۔ (3) بیبیوں کی طرف سے وسعت نفقہ کی درخواست۔ (4) حضرت زینب کی طرف سے تین بار ہدیہ کا واپس کرنا۔ اور ہر مرتبہ رسول کریم ﷺ کا ہدیہ میں اضافہ کرنا۔ (5) ازواج مطہرات کا قدرتی طور پر نسوانی فطرت کے زیر اثر ایک دوسری سے رشک و رقابت۔ (6) خود نبی کریم ﷺ کی یہ حالت کہ جب آپ نے حالات کے تحت اپنی ازواج مطہرات سے کنارہ کشی کی اور حضرت عمر فاروق ؓ آپ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو دیکھا کہ آپ ننگی چٹائی پر استراحت فرما ہیں جس کی وجہ سے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے ہیں۔ جب ان حالات مذکورہ بالا کے پیش نظر آپ نے اپنی ازواج مطہرات سے ایک ماہ کے لئے کنارہ کشی کی تو ان کی تادیب میں آیت 5 نازل ہوئی۔ 29 دن گزر جانے پر حضرت جبریل (علیہ السلام) نے آکر کہا۔ آپ کی قسم پوری ہوگئی ہے اور مہینہ مکمل ہوگیا ہے۔ اس دوران امہات المومنین نے آیت شریفہ میں مندرجہ تنبیہات کے پیش نظر اپنے کئے پر ندامت کا اظہار کیا اور پھر کبھی ایسی بات کا صدور نہ ہوا۔ (نیز ملاحظہ ہو سورت الاحزاب آیت نمبر 33، 28، 34)
Ayah 66:6

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

مومنو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو آتش (جہنم) سے بچاو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اور جس پر تند خو اور سخت مزاج فرشتے (مقرر ہیں) جو ارشاد خدا انکو فرماتا ہے اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم ان کو ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں

(66:6) یایھا الذین امنوا : یا حرف نداء ہے الذین امنوا موصول و صلہ مل کر منادی ۔ اے ایمان والو۔ اے مومنو ! (نیز ملاحظہ ہو 66:1 ۔ یایھا النبی) ۔ قوا۔ فعل امر معروف جمع مذکر حاضر۔ لفیف مفروق وقایۃ مصدر (باب ضرب) ق امر معروف واحد مذکر حاضر۔ یہ تقی مضارع معروف سے بنایا گیا ہے۔ علامت مضارع کو شروع سے اور ی حرف علت کو آخر سے گرا دیا گیا ہے ق رہ گیا۔ گردان فعل امر حاضر یوں ہوگی :۔ ق، قیا، قوا، قی، قیا، قین۔ اسم فاعل واق ، وقایۃ وقاء کے معنی ہیں کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا۔ و ، ق، ی مادہ تقویٰ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ قوا۔ تم بچاؤ۔ انفسکم (اپنی جانوں کو) مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف علیہ اور اہلیکم (اپنی اہل و عیال کو) مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف، معطوف علیہ اور معطوف مل کر دونوں قوا فعل امر کے مفعول اول۔ نارا مفعول شانی۔ (اپنی جانوں کو اور اپنے اہل و عیال کو آگ سے بچاؤ) ۔ وقودھا الناس والحجارۃ : نارا کی صفت۔ وقودھا مضاف مضاف الیہ۔ وقود ایندھن جس سے آگ جلائی جائے۔ ھا ضمیر واحد مؤنث غائب کا مرجع نارا ہے۔ (جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں) ۔ علیہا ملائکۃ غلاظ شداد۔ یہ بھی صفت ہے نارا کی۔ (اس پر بےرحم اور زبردست فرشتے مقرر ہیں۔ علیہا ملائکۃ : ای انھم مؤکلون علیہا۔ ان کو نار جہنم پر سپردار مقرر کیا گیا ہے ۔ غلاظ : غلیظ کی جمع۔ سخت دل۔ بےرحم ۔ شداد۔ شدید کی جمع، سخت، زبردست ، مضبوط ۔ یہ فرشتوں کی صفت ہے۔ دوزخ کے فرشتوں کو زبانیۃ کہا جاتا ہے چناچہ اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :۔ سندع الزبانیۃ (96:18) ہم بھی اپنے مؤکلان دوزخ کو بلائیں گے۔ لا یعصون اللہ ما امرھم : ملکئۃ کی صفت ہے۔ لا یعصون مضارع منی جمع مذکر غائب۔ عصیان (باب ضرب) مصدر۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ اللہ اسم مفعول فعل لا یعصون کا۔ لہٰذا منصوب ہے ما موصولہ عائد محذوف ای لایعصون اللہ الذی امرھم بہ یعنی اللہ جس کا انہیں حکم دیتا ہے وہ اس کے بجالانے میں نہ نہیں کرتے۔ ویفعلون ما یؤمرون : یہ جملہ ملائکہ کی صفت ثانی ہے۔ واؤ عاطفہ ہے ما موصولہ یؤمرون اس کا صلہ۔ موصول وصلہ مل کر یفعلون کا مفعول۔ مضارع مجہول جمع مذکر غائب ۔ امر (باب نصر) مصدر۔ اور وہ وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔
Ayah 66:7

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

کافرو ! آج بہانے مت بناؤ جو عمل تم کیا کرتے تھے انہی کا تم کو بدلہ دیا جائے گا

(66:7) لاتعتذروا : فعل نہی جمع مذکر حاضر۔۔ اعتزار (افتعال) مصدر ۔ تم بہانے مت بناؤ۔ تم عذمت مت کرو۔ تم معذرت مت کرو۔ عذر کے معنی ہیں انسان کا کسی ایسی بات کو تلاش کرنا جو اس کے گناہوں کو مٹا دے۔ الیوم : اسم ظرف زمان۔ آج کے دن۔ یعنی قیامت کے دن۔ یہ کفار سے اس وقت کہا جائے گا جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ یقال لہم ھذا اعند دخولہم النار۔ تجزون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر جزاء (باب ضرب) مصدر۔ تم بدلہ دیئے جاؤ گے۔ تم جزاء دئیے جاؤ گے۔ ما کنتم تعملون : ما موصولہ کنتم تعملون ۔ ماضی استمراری۔ جو تم کیا کرتے تھے (دنیا میں)
Ayah 66:8

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

مومنو ! خدا کے آگے صاف دل سے توبہ کرو امید ہے کہ وہ تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تم کو باغہائے بہشت میں جن کے تلے نہریں بہہ رہی ہیں داخل کرے گا۔ اس دن خدا پیغمبر کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کریگا۔ بلکہ ان کا نور ایمان ان کے آگے اور داہنی طرف (روشنی کرتا ہوا) چل رہا ہوگا اور وہ خدا سے التجا کرینگے کہ اے ہمارے پروردگار ہمارا نور ہمارے لئے پورا کر اور ہمیں معاف فرما بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

(66:8) توبوا الی اللہ : توبوا فعل امر جمع مذکر حاضر توبۃ (باب نصر) مصدر۔ اللہ کے سامنے توبہ کرو۔ توبۃ نصوحا : توبۃ مفعول مطلق موصوف نصوحا (خالص) اس کی صفت، مفسرین نے نصوحا کے مختلف معانی لکھے ہیں (1) نصوح نصاحۃ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں سینا۔ (کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ دینا) گناہوں کی وجہ سے دین اور تقوی میں شگاف پڑجاتا ہے (یہ اس شگاف کو جوڑ دیتی ہے۔ (2) نصوح مبالغہ کا صیغہ ہے نصح (باب فتح) سے مشتق ہے۔ نصح کا معنی ہے قول و عمل سے اپنے ساتھی کی خیرخواہی ، حقیقت میں ناصح تائب کی صفت ہوتی ہے۔ توبہ کے ساتھ نصوح کا صیغہ کہنا مجازا بطور مبالغہ ہے ۔ یا (3) نصح کا معنی خلوص ہے عسل ناصح۔ خالص شہد۔ خالص توبہ۔ یعنی ریا اور دکھاوے سے اور طلب شہرت سے خالص توبہ۔ (4) بغوی نے لکھا ہے کہ عمرو نے کہا توبہ نصوح یہ ہے کہ گناہ سے توبہ کرلے ۔ پھر گناہ کی طرف دوبارہ نہ لوٹے۔ (5) حسن کے کہا کہ توبہ نصوح یہ ہے کہ آدمی پچھلے گناہوں پر پشیمان ہو اور آئندہ نہ کرنے کا پختہ ارادہ کرلے۔ (6) کلبی نے کہا کہ زبان سے استغفار کرنا۔ دل سے پشیمان ہونا۔ اور اعضاء کو گناہ سے روک دینا توبہ نصوح ہے۔ وغیرہ۔ عسی ربکم امید ہے کہ تمہارا پروردگار (نیز ملاحظہ ہو 66:5) ان مصدریہ۔ یکفر مضارع منصوب (بوجہ عمل ان) واحد مذکر غائب۔ تکفیر (تفعیل) مصدر، وہ دور کر دے۔ وہ ساقط کر دے۔ سیئاتکم مضاف مضاف الیہ، تمہاری برائیاں۔ سیئات جمع ہے سیئۃ کی ۔ برائی۔ ویدخلکم : واؤ عاطفہ۔ اس جملہ کا عطف جملہ سابقہ پر ہے (مضارع منصوب بوجہ عمل ان) ۔ ادخال (افعال) مصدر۔ اور وہ تم کو داخل کر دے۔ یوم یا تو یدخلکم کا مفعول فیہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے یا فعل اذکر محذوف کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ لایجزی۔ مضارع منفی واحد مذکر غائب اخزاء (افعال) مصدر۔ وہ ذلیل نہیں کرے گا وہ رسوا نہیں کرے گا، وہ خوار نہیں کرے گا النبی مفعول فعل لا تجزی کا ۔ ال عہد کا ہے۔ والذین امنوا معہ۔ اس جملہ کا عطف النبی پر ہے (جس روز اللہ بنی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ نورھم یسعی بین ایدیہم وبایمانھم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شیء قدیر۔ ہر دو جملہ موضع حال میں ہیں۔ ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے۔ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کر دے اور ہم سے درگزر فرما۔ تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اس آیت کی تشریح میں مفسرین کے مختلف اقوال ہیں۔ ذیل میں صاحب تفہیم القرآن کی تشریح نقل کی جاتی ہے :۔ ” اس آیت کو سورة الحدید کی آیات 12-13 کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اہل ایمان کے آگے آگے نور کے دوڑنے کی یہ کیفیت اس وقت پیش آئے گی۔ جب وہ سب لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں گے جن کے حق میں دوزخ کا فیصلہ ہوگا۔ اور روشنی صرف اہل ایمان کے ساتھ ہوگی جس کے سہارے وہ اپنا راستہ طے کر رہے ہوں گے اس نازک موقع پر تاریکیوں میں بھٹکنے والے لوگوں کی آپ و فغاں سن سن کر اہل ایمان پر خثیت طاری ہو رہی ہوگی اور اپنے قصوروں اور اپنی کوتاہیوں کا احساس کرکے انہیں اندیشہ لاحق ہوگا کہ کہیں ہمارا نور بھی نہ چھن جائے اور ہم ان بدبختوں کی طرح ٹھوکریں کھاتے نہ رہ جائیں اس لئے وہ دعا کریں گے کہ اے ہمارے رب ہمارے قصور معاف فرما دے اور ہمارے نور کو جنت کے پہنچنے تک ہمارے لئے باقی رکھ۔ ابن جریر (رح) نے حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ :۔ کہ اس کے معنی یہ ہیں کہ ” وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ ان کا نور اس وقت تک باقی رکھا جائے اور اسے بجھنے نہ دیا جائے۔ جب تک وہ پل صراط سے بخیرت نہ گزر جائیں۔ حضرت حسن بصری (رح) اور حضرت مجاہد (رح) اور ضحاک (رح) کی تفسیر بھی قریب قریب یہی ہے۔ ابن کثیر (رح) نے ان کا قول یہ نقل کیا ہے کہ :۔ ” اہل ایمان جب دیکھیں گے کہ منافقین نور سے محروم رہ گئے ہیں تو وہ اپنے حق میں اللہ تعالیٰ سے تکمیل نور کی دعا کریں گے “۔ اتمم : فعل امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ اتمام (افعال) مصدر۔ تو پورا کر دے۔
Ayah 66:9

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے پیغمبر کافروں اور منافقوں سے لڑو اور ان پر سختی کرو ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بہت بری جگہ ہے

(66:9) جاھد الکفار : جاھد امر کا صیغہ مذکر حاضر۔ مجاھدۃ (مفاعلۃ) مصدر تو جہاد کر۔ تو لڑائی کر۔ مجاھدۃ کے معنی دشمن کی مدافعت میں مقدور بھر کوشش و طاقت صرف کرنا۔ جہاد کی تین قسمیں ہیں :۔ (1) ظاہری دشمن سے جہاد۔ (2) شیطان سے جہاد۔ (3) اپنے نفس سے جہاد۔ یہاں جہاد نمبر (1) مراد ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ وتجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم وانفسکم (61:11) اور خدا کی راہ میں اپنے مال اور جان سے جہاد کرو۔ یہاں تینوں قسموں کا جہاد مراد ہے۔ الکفار مفعول بہٖ والمنفقین مفعول ثانی۔ (جہاد کرو کفار اور منافقین سے) ۔ واغلظ علیہم : واؤ عاطفہ اغلظ : امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر۔ غلظۃ (باب نصر) مصدر بمعنی سختی کرنا۔ کسی کے خلاف تندخو ہونا۔ علیہم میں ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الکفار والمنفقین ہیں۔ ماوہم : مضاف مضاف الیہ ماوی اسم ظرف ومصدر۔ قیام کرنا۔ رہنا۔ سکونت پذیر ہونا۔ مقام ۔ سکونت، ٹھکانا، اوی یاوی۔ ماضی و مضارع (باب ضرب) اوی بھی مصدر ہے اگر صلہ میں الی ہو تو پناہ پکڑنے اور فروکش کا معنی ہوگا ۔ لیکن اگر اس کے بعد لام آئے تو مہربانی اور رحم کرنے کے معنی ہوں گے۔ باب افعال سے اوی یؤوی ایوائ۔ متعدی ہے بمعنی کسی کو جگہ دینا۔ ماوھم ان کا ٹھکانہ۔ ہم ضمیر جمع مذکر غائب کا مرجع الکفار والمنفقین ہے۔ بئس المصیر : بئس فعل ذم ہے اس کی گردان نہیں آتی۔ اصل میں بئس تھا۔ بروزن سمع عین کلمہ کے اتباع میں اس کے فا کلمہ کو کسرہ دیا گیا پھر تخفیف کے لئے عین کلمہ کو ساکن کرلیا گیا بئس ہوگیا۔ المصیر باسم ظرف لوٹنے کی جگہ، صار یصیر سے نیز صار یصیر کا مصدر بھی (مصدر میمی) بمعنی لوٹنا۔ بئس المصیر بری جگہ ہے لوٹنے کی۔
Ayah 66:10

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

خدا نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے۔ دونوں ہمارے دو نیک بندوں کے گھر میں تھیں اور دونوں نے انکی خیانت کی تو وہ خدا کے مقابلے میں ان عورتوں کے کچھ بھی کام نہ آئے اور ان کو حکم دیا گیا کہ اور داخل ہونیوالوں کے ساتھ تم بھی دوزخ میں داخل ہوجاؤ

(66:10) ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امرأت نوح وامرأت لوط : ضرب فعل اللہ فاعل۔ مثلا مفعول اول ۔ امرأت نوح مضاف مضاف الیہ مل کر معطوف علیہ واؤ عاطفہ امرأت لوط مضاف مجاف الیہ مل کر معطوف ، ہر دو مفعول اول فعل ضرب کے، مفعول اول کو مؤخر اس لئے کیا گیا کہ وہ اور اس کی تفسیر متصل رہیں اور ان کے معنی کی وضاحت بھی ساتھ ہی رہے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امرأت نوح وامرأت لوط بدل ہے مثلا سے۔ ضرب کا معنی ایک چیز کو دوسری پر مارنا ہے۔ مختلف اعتبارات سے یہ لفظ بہت سے معانی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً (1) فضرب الرقاب (47:4) ان کی گردنیں اڑا دو ۔ (2) واذا ضربتجم فی الارض (4:101) اور جب تم سفر کو جاؤ۔ اور ضربت علیہم الذلۃ اور (آخر کار) ذلت ان سے چمٹا دی گئی۔ وغیرہ ذلک۔ ضرب المثل کا محاورہ ضرب الدراہم (دراہم کو ڈھالنا) سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ ضرب اللہ مثلا : اللہ تعالیٰ ایک مثال بیان فرماتا ہے :۔ للذین کفروا۔ متعلق مثلا۔ آیت کا ترجمہ ہوگا :۔ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لئے نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ہے کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین جملہ مستانفہ ہے اور ضرب المثل (نوح کی بیوی اور لوط کی بیوی کی مثال ) کی تفسیر ہے۔ عبادنا صالحین موصوف وصفت (وہ دونوں عورتیں ہمارے بندوں میں سے دو نیک بندوں کے ماتحت تھیں یعنی ان کی بیویاں تھیں) ۔ فخانتھما : خاتنا ماضی تثنیہ مؤنث غائب خیانۃ (باب نصر) مصدر۔ ان دو عورتوں نے خیانت کی۔ ھما ضمیر مفعول تثنیہ مذکر گا ئب ان دو مردوں کی، یعنی ان ہر دو عورتوں نے اپنے خاوندوں سے بےوفائی کی) دغا کی۔ فلم یغنیا عنھما من اللہ شیئا :تعقیب کا ۔ لم یغنیا مضارع نفی جحد بلم صیغہ تثنیہ مذکر غائب اغناء (افعال) مصدر۔ وہ دونوں (مرد) کام نہ آسکے۔ وہ دونوں (مرد) دفع نہ کرسکے۔ عنھما میں ھما ضمیر تثنیہ مؤنث غائب کے لئے ہے (یعنی وہ دونوں عورتیں) ۔ من اللہ۔ اللہ (کے عذاب) سے۔ اللہ کے مقابلہ میں۔ شیئا کچھ بھی۔ مگر وہ اللہ کے مقابلہ میں ان دونوں عورتوں کے کچھ کام نہ آسکے، (یعنی ان کے عذاب الٰہی سے نہ بچا سکے) ۔ وقیل النار : ای وقیل لہما ادخلا۔ اور ان دونوں عورتوں کو کہا گیا (دونوں کو حکم دیا گیا) تم دونوں عورتیں داخل ہوجاؤ جہنم میں۔ الداخلین۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ داخل ہونے والوں کے ساتھ۔
Ayah 66:11

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور مومنوں کے لئے (ایک) مثال (تو) فرعون کی بیوی کی بیان فرمائی کہ اس نے خدا سے التجا کی کہ اے میرے پروردگار میرے لئے بہشت میں اپنے پاس ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے اعمال سے نجات بخش اور ظالم لوگوں کے ہاتھ سے مجھ کو مخلصی عطا فرما۔

(66:11) وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرات فرعون۔ اس کی ترتیب بھی آیت نمبر 10 ۔ مذکور بالا کی طرح ہے۔ امرأت فرعون۔ مضاف مضاف الیہ۔ فرعون غیر منصرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اذ قالت : ظرف لمحذون ای وضرب اللہ مثلا للذین امنوا حال امرأت فرعون اذ قالت :۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں (کی تسلی) کے لئے مثال کے طور پر فرعون کی بی بی کا حال بیان فرمایا ہے کہ جب اس نے کہا۔ مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے تو اس سے متاثر ہوکر حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی) ایمان لے آئیں ۔ فرعون کو جب اس کی خبر ہوئی تو اس نے اسے طرح طرح کے عذاب دینے شروع کر دئیے۔ یہاں تک کہ اس نے حضرت آسیہ ؓ کو قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ جب ان کو اس کا علم ہوا تو اپنی مناجات میں اپنے رب سے دعا کی :۔ رب ابن لی عندک ۔۔ من القوم الظلمین۔ (تفسیر مظہری و تفسیر التفاسیر) رب : ای یا ربی : اے میرے پروردگار۔ ابن : فعل امر، واحد مذکر حاضر۔ بناء (باب ضرب) مصدر۔ تو بناء تو تعمیر کر دے۔ عندک۔ اپنے پاس۔ قریبا من رحمتک۔ اپنی رحمت کے قریب۔ اللہ کی ذات مکان سے پاک ہے۔ نجنی : نج فعل امر واحد مذکر حاضر۔ تنجئۃ (تفعیل) مصدر ن ج و مادہ۔ نی ضمیر مفعول واحد متکلم ۔ تو مجھے نجات دے۔ وعملہ۔ اور اس کے عمل سے ای وھو الکفرو عبادۃ غیر اللہ تعالیٰ ۔ یعنی فرعون کا عمل اس کا کفر اور غیر اللہ کی عبادت ہے۔ یا فرعون کے عمل سے مراد اس کی آسیہ کو ایذاء رسانی ہے۔ من القوم الظلمین۔ یعنی ان لوگوں سے نجات دے جنہوں نے کفر و معصیت کرکے خود اپنے اوپر ظلم کیا ہے اور اللہ کے بندوں کو عذاب دیتے ہیں اور ان پر ظلم کرتے ہیں ۔ مطلب یہ کہ ان قبطیوں سے نجات دے جو فرعون کے تابع ہیں۔ اس قصہ کے ذیل میں بیان کیا گیا ہے کہ فرعون نے ایک بڑا پتھر حضرت آسیہ کے اوپر ڈال دینے کا حکم دیا۔ حسب الحکم جب ان پر ڈالنے کیلئے ایک عظیم پتھر لایا گیا تو انہوں نے کہا :۔ رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ۔ دعا کرنی تھی کہ انہوں نے اپنا موتی کا گھر جنت میں دیکھ لیا اور روح بدن سے پرواز کرگئی۔ جب پتھر ان پر ڈالا گیا تو نعش بےجان تھی۔ پتھر کے نیچے دبنے کی کوئی اذیت ان کو نہ پہنچی۔
Ayah 66:12

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور (دوسری) عمران کی بیٹی مریم کی جنہوں نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا تو ہم نے اس میں اپنی روح پھونک دی اور وہ اپنے پروردگار کے کلام اور اس کی کتابوں کو برحق سمجھتی تھیں اور فرماں برداروں میں سے تھیں۔

(66:12) ومریم ابنت عمران التی۔ واؤ عاطفہ۔ مریم ابنت عمران معطوف ، جس کا عطف امرات فرعون پر ہے ای وضرب اللہ مثلا للذین امنوا مریم ابنت عمران اور اللہ تیعالیٰ نے بیان فرمائی ہے مومنوں (کی تسلی) کے لئے مثال مریم بنت عمران کی۔ التی : اسم موصول واحد مؤنث : جس نے، احصنت۔ ماضی واحد مؤنث غائب احصان (افعال) مصدر بمعنی عصمت وعزت کی حفاظت۔ اس عورت نے محافظت کی فرحھا : مضاف مضاف الیہ۔ اپنے فرج کی، الفرج والفرجۃ کے معنی دو چیزوں کے درمیان شگاف کے ہیں۔ جیسے دیوار میں شگاف ، یا دونوں ٹانگوں کے درمیان کی کشادگی، اور کنایہ کے طور پر فرج کا لفظ شرم گاہ پر بولا جاتا ہے اور کثرت استعمال کی وجہ سے اسے حقیقی معنی سمجھا جاتا ہے۔ اور جگہ قرآن مجید میں ہے :۔ والذین ھم لفروجھم حفظون (23:5) اور جو اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرتے ہیں۔ شگاف کے معنوں میں قرآن مجید میں ہے وما لہا من فروج (50:6) اور اس میں کوئی شگاف تک نہیں۔ التی احصنت فرجھا : جس نے اپنی شرمگاہ کو محفوظ رکھا۔ فنفخنا فیہ :عاطفہ۔ بمعنی پس، پھر ، تو، نفخنا ماضی جمع متکلم۔ نفخ (باب نصر) مصدر فیہ میں ضمیر ہ واحد مذکر غائب کا مرجع فرج ہے۔ پھر ہم نے اس میں پھونک دیا۔ مطلب یہ ہے ہمارے حکم سے جبریل (علیہ السلام) نے پھونک مار دی۔ بندوں کے تمام افعال کا خالق اللہ ہی ہے اور اللہ کے حکم سے جبریل (علیہ السلام) نے پھونکا تھا ۔ پھونک کا خالق اللہ ہی تھا۔ اس لئے پھونکنے کی نسبت بجائے جبریل کے اپنی طرف کردی۔ من روحنا۔ اخفش کے نزدیک من زائدہ ہے۔ بغیر کسی توسط کے اللہ نے روح کو پیدا کیا پس تخلیق روح کا تعلق براہ راست اللہ سے ہوا۔ مطلب یہ ہوا کہ ہم نے اس کے فرج میں اپنی روح کو پھونک دیا۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ روح فی الواقع فرج میں ہی پھونکا جائے یا گریبان پر پھونکا جائے اور اس کا اثر شرم گاہ تک پہنچ کر حمل پر منیج ہو۔ حضرت عیسیٰ کی پیدائش ایک معجزہ ہے جس میں طبیعاتی جزئیات کو کوئی دخل نہیں پس خدا کی طرف سے اللہ کی خلق کردہ روح جسم میں حضرت مریم کے پھونک دی اور وہ حاملہ ہوگئی ۔ فائدہ : آیت ہذا میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی چند صفات مذکور ہوئی ہیں :۔ (1) احصنت فرحھا۔ اس نے اپنی شرم گاہ کی مخالفت کی۔ (2) وصدقت بکلمات ربھا : اپنے رن کا کلام برحق سمجھتی تھیں۔ (3) وصدقت، بکتبہ اور اس کی کتابوں کی تصدیق کرنے والی تھیں۔ (4) وکانت من القنتین : اور وہ فرمانبرداروں میں سے تھیں۔ صدقت۔ ماضی واحد مؤنث غائب تصدیق (تفعیل) مصدر اس نے تصدیق کی۔ اس نے سچ مانا۔ بکلمات ربھا : کلمت جمع کلمۃ کی بمعنی احکام۔ اس کے دیگر معانی میں قرآن مجید میں آئے ہیں۔ کلمات مضاف ربھا مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ ، اپنے رب کے احکام ۔ من القنتین : من تبعیضیہ ہے۔ القنتین اسم فاعل جمع مذکر۔ معرف باللام قنوت (باب نصر) مصدر بمعنی خضوع اور عاجزی کرنا۔ قانت خضوع اور عاجزی کرنے والا۔ خضوع کے ساتھ اطاعت کرنے والا۔ فرماں بردار۔ اطاعت کے فرائض کو ادا کرنے والا۔ اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھیں۔ حدیث مرفوع میں ہے کہ :۔ کل قنوت فی القران فھو الحالۃ (رواہ احمد فی مسندہ) ۔ قرآن مجید میں ہر قنوت (سے مراد) طاعت ہے۔ اس لئے قانت ہو یا قانتات ہو یا قانتون ہو۔ یا اس کا ماضی بالمضارع اس کے معنی میں اطاعت کا مفہوم ضرور ہوگا۔ خواہ قرینے کو دیکھ کر یا شان نزول کے تحت کوئی بھی ترجمہ کیا جائے۔ اسی لئے امام راغب (رح) نے المفردات میں لکھا ہے کہ :۔ قنوت کے معنی ہیں۔ اطاعت مع الخضوع۔