Ayah 66:11۔ ابن سعد وعبد بن حمید والبخاری وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ زینب بنت جحش ؓ کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ اور اس کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ میں نے اور حفصہ ؓ نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں تو اس کو چاہیے کہ یوں کہے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے جب ان میں سے کسی ایک کے پاس آپ ﷺ تشریف لائے تو اس نے ایسے ہی کہہ دیا آپ نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو آئندہ ہرگز شہد نہیں پیوں گا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک سے لے کر آیت ان تتوبا الی اللہ۔ اگر توبہ نہیں کریں گی۔ یہ آیت عائشہ اور حفصہ ؓ دونوں کے لیے ہے اور فرمایا آیت واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا۔ اور جب پیغمبر نے اپنی کسی بیوی سے ایک بات چپکے سے کہی۔ یہ آپ کے اس قول کے متعلق ہے کہ میں نے تو شہد پیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ کی قسم کا ذکر
2۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم والطبرانی وابن مردویہ سند صحیح کے ساتھ ابن عباس رضی عنہما سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ سودہ ؓ کے پاس شہد پیا کرتے تھے جب آپ عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو اس نے کہا میں آپ سے کوئی بو پارہی ہوں۔ پھر آپ حفصہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو اس نے بھی یہی کہا کہ میں آپ سے کوئی بو پارہی ہوں آپ نے فرمایا میرا خیال یہ ہے کہ یہ اس شربت کی وجہ سے ہے جو میں نے سودہ ؓ کے پاس پیا۔ اللہ کی قسم میں اس کو نہ پیوں گا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اس کو آپ کیوں حرام کرتے ہیں۔
3۔ ابن سعد نے عبداللہ بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ام سلمہ ؓ سے اس آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ میرے پاس سفید شہد کا ایک مشکیزہ تھا۔ نبی ﷺ اس میں سے چاٹتے تھے۔ اور وہ آپ کو روکے رکھتا تھا۔ عائشہ ؓ نے آپ سے کہا کہ شہد کی مکھیاں شاید عرفطہ گوند چوستی ہیں اس لیے آپ کے منہ سے مغافیر کی بو آرہی ہے۔ تو آپ نے اس شہد کو اپنے اوپر حرام کرلیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
4۔ ابن سعد وعبد بن حمید نے عبداللہ بن عتیبہ (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ نبی ﷺ نے کس چیز کو حرام کرلیا تھا تو انہوں نے فرمایا شہد کے ایک مشکیزے کو۔
5۔ النسائی والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ کی ایک باندی تھی جس سے آپ مباشرت کیا کرتے تھے۔ عائشہ اور حفصہ ؓ اسے برداشت کرتی رہیں یہاں تک کہ آپ نے اس کو اپنے اوپر حرام کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک آیت کے آخر تک۔
6۔ الترمذی والطبرانی نے حسن صحیح سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت یا ایہا النبی لم تحرم آپ کی ایک خفیہ بات کے بارے میں نازل ہوئی۔
7۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے عمر بن خطاب ؓ سے پوچھا کہ وہ دو عورتیں کون سی ہیں جنہوں نے آپس میں مدد کی فرمایا عائشہ اور حفصہ ؓ اور بات شروع ہوئی تھی۔ ماریہ قبطیہ ام ابراہیم کے بارے میں کہ نبی ﷺ نے ان سے مباشرت کی تھی۔ حفصہ ؓ کے گھر میں ان کی باری کے دن میں۔ حفصہ ؓ کو معلوم ہوگیا تو عرض کیا : اے اللہ کے نبی ! آپ میرے پاس ایسی چیز لائے ہیں جو آپ اپنی بیویوں میں کسی کے پاس نہیں لائے میرے گھر میں اور میرے دن میں۔ اور میرے بستر پر۔ آپ نے فرمایا کیا تو اس بات سے راضی نہیں ہوگی کہ میں نے اس کو حرام کردیا ہے اور میں اس کے قریب نہیں جاؤں گا ؟ حفصہ ؓ نے کہا کیوں نہیں۔ تو آپ نے اس کو حرام کردیا۔ اور فرمایا کسی ایک کو اس بارے میں نہ بتانا۔ لیکن انہوں نے عائشہ ؓ کو بتادیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر اس کو ظاہر فرمادیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ ساری آیات اور ہم کو یہ بات پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ نے اس قسم کا کفارہ ادا کیا اور اللہ تعالیٰ نے آپ کی قسم کو کھول دیا اور آپ نے اپنی باندی کے ساتھ مباشرت فرمائی۔
8۔ ابن المنذر والطبرانی نے وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے اپنی باندی کو حرام فرمالیا تھا۔
9۔ ابن سعد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عائشہ اور حفصہ ؓ آپس میں محبت کرنے والیاں تھیں۔ ایک دن حفصہ ؓ اپنے والد کے گھر گئیں اور وہاں باتیں کرتی رہیں نبی ﷺ نے اپنی باندی کو بلوایا اور وہ دن کے وقت حفصہ کے گھر میں آپ ﷺ کے ساتھ رہیں اور یہ وہ دن تھا جس میں آپ حفصہ ؓ کے پاس تشریف لاتے تھے۔ حفصہ واپس آئیں تو دونوں کو اپنے گھر میں پایا اور اس باندی کے نکلنے کا انتظار کرنے لگیں اور اس باندی پر ان کو سخت غیرت آئی نبی ﷺ نے اپنی باندی کو حفصہ کے گھر سے نکالا اور حضرت حفصہ داخل ہوئیں۔ اور کہا میں نے دیکھ لیا ہے جو آپ کے پاس تھی۔ اللہ کی قسم ! آپ نے اچھا سلوک نہیں کیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا اللہ کی قسم ! میں ضرور تجھ کو راضی کرلوں گا۔ میں تجھ کو ایک راز کی بات کہنے والا ہوں۔ تم اس کی حفاظت کرنا میں نے کہا وہ کیا ہے ؟ فرمایا میں تجھ کو گواہ بناتا ہوں کہ میری یہ باندی مجھ پر حرام ہے کیا تو راضی ہے ؟ حفصہ ؓ حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئیں اور اس کو راز کی بات بتائی۔ کہ تو خوش ہوجا کہ نبی ﷺ نے اپنی باندی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے پس جونہی انہوں نے نبی ﷺ کے راز کے بارے میں بتایا تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کو نبی ﷺ پر ظاہر فرمادیا ہے۔ اور یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔
10۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ کے پاس اس آیت کا ذکر کیا گیا آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک تو انہوں نے فرمایا کہ یہ حفصہ ؓ کے بارے میں ہے۔
11۔ ابن مردویہ نے انس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنے بیٹے ابراہیم کی والدہ کو ابو ایوب کے گھر میں ٹھہرایا۔ عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ ایک دن اس کے گھر میں داخل ہوئے۔ گھر کو خالی پایا تو اس باندی کے ساتھ مباشرت کی۔ تو وہ ابراہیم کے ساتھ حاملہ ہوگئیں۔ عائشہ ؓ نے فرمایا جب اس کا حمل ظاہر ہوگیا تو وہ اس سے گھبرائیں تو رسول اللہ ﷺ ان کے ساتھ ٹھہرے رہے۔ یہاں تک کہ اس سے بچہ پیدا ہوگیا اس کی ماں کا دودھ نہ تھا تو ایک بھیڑ اس کے لیے خریدی گئی۔ جس سے بچے کو غذا دی جاتی تھی جس سے بچے کا جسم صحت مند ہوگیا گوشت و پوست حسین ہوگیا اور اس کا رنگ بہت اجلا اور شفاف ہوگیا۔ آپ ایک دن بچے کو اپنی گردن پر اٹھا کر آئے۔ اے عائشہ تو کیسی صورت دیکھ رہی ہے ؟ میں نے کہا میں اپنے علاوہ کسی کی صورت کو نہیں جانتی آپ نے فرمایا کیا گوشت کے سبب بھی نہیں ؟ میں نے کہا مجھے اپنی عمر کی قسم ! جس کی غذا بھیڑ کا دودھ ہو تو یقیناً اس کا گوشت حسین اور خوبصورت ہوگا۔ راوی نے کہا کہ اس کے سبب حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ گھبرا گئیں۔ اور حضرت حفصہ ؓ نے آپ سے سخت لہجہ میں بات کی۔ تو آپ نے اس باندی کو اپنے لیے حرام کردیا اور ان سے یعنی حفصہ ؓ سے راز کی بات کہی۔ مگر اس نے عائشہ پر اس راز کو فاش کردیا۔ تو اس پر آیت تحریم نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے ایک غلام کو آزاد فرمایا۔ اس کے کفارہ میں۔
شہد حرام کرنے کا واقعہ
12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حفصہ ؓ نے نبی ﷺ کے ساتھ حضرت ابراہیم کی والدہ ماریہ قبطیہ ؓ کو پایا۔ تو آپ نے اپنی ام ولد ماریہ ؓ کو حفصہ ؓ کے خوش کرنے کے لیے حرام کرلیا۔ اور ان کو حکم فرمایا کہ اس بات کو چھپائے رکھے مگر انہوں نے یہ بات عائشہ ؓ کو بتادی اس کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واذاسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا اور جب پیغمبر نے اپنی کسی بیوی سے ایک بات چپکے سے کہہ دی۔ تو پھر اللہ تعالیٰ نے آپ اپنی قسم کے کفارے کا حکم فرمایا۔
13۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے اپنی باندی ماریہ قبطیہ ام ابراہیم (علیہ السلام) کو حفصہ ؓ کے دن میں حرام کرلیا تھا اور حضرت حفصہ کو اسے چھپانے کا حکم فرمایا لیکن انہوں نے عائشہ ؓ کو اس بات کی اطلاع کردی۔ اور وہ دنوں نبی ﷺ کی عورتوں کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کرتی تھیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے اسے حلال کردیا جسے آپ نے اپنی ذات پر حرام کرلیا تھا۔ اور آپ کو اپنی قسم کے کفارہ کا حکم کرتے ہوئے فرمایا آیت قد فرض اللہ لکم تحلہ ایمانکم اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تمہاری قسموں کا کھولنا مقرر کردیا ہے۔
14۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے شعبی و قتادہ رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ یہ آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک اس لیے نازل ہوئی کیونکہ اپنی باندی کو حرام کرلیا تھا۔ شعبی (رح) نے فرمایا کہ آپ نے حرام کرنے کے ساتھ قسم بھی کھائی۔ تو اللہ تعالیٰ نے حرام کرنے میں آپ کو عتاب فرمایا۔ اور آپ کے لیے قسم کے کفارہ کا حکم فرمایا۔ اور قتادہ ؓ نے فرمایا کہ آپ نے اس کو حرام کرلیا اور یہی قسم ہوگئی۔
Ayah 66:215۔ ابن سعد نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ام ابراہیم کو حرام کرلیا۔ اور فرمایا وہ مجھ پر حرام ہے اور مزید فرمایا اللہ کی قسم میں اس کے قریب نہیں جاؤں گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔
16۔ ابن سعد نے مسروق اور شعبی رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی سے ایلا کیا اور اس کو حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ قد فرض اللہ لکم تحلہ ایمانکم۔ اور یہ حکم بھی نازل فرمایا آیت لم تحرم ما احل اللہ لک۔
حلال کو حرام کرنے کی قسم کھائے تو توڑنا واجب ہے
17۔ الہیثم بن کلیب فی مسندہ اور الضیاء المقدسی نئے المختارہ میں نافع کے طریق ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ ؓ سے فرمایا کسی کو نہ بتانا کہ ام ابراہیم مجھ پر حرام ہے۔ تو انہوں نے کہا کیا آپ ایسی چیز کو حرام کرتے ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے، آپ نے فرمایا اللہ کی قسم میں اس کے قریب نہیں جاؤں گا۔ پھر آپ نے اپنی ذات کو اس کے قریب نہیں کیا۔ یہاں تک کہ حضرت حفصہ نے اس کی خبر حضرت عائشہ ؓ کو دے دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔
18۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ کے لیے قسم کھائی کہ میں اپنی باندی کے قریب نہیں جاؤں گا۔ اور فرمایا کہ وہ مجھ پر حرام ہے تو آپ کی قسم کے سبب کفارہ کا حکم نازل ہوا اور یہ حکم فرمایا گیا کہ آپ اس چیز کو حرام نہ کریں جس کو اللہ نے حلال کیا ہے۔
19۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ حفصہ ؓ ایک دن اپنے باپ کی زیارت کے لیے گئیں اور وہ آپ کی باری کا دن تھا۔ نبی ﷺ تشریف لائے اور گھر میں کسی کو نہ پایا تو انہوں نے اپنی باندی ماریہ کو بلوایا اور آپ نے حفصہ ؓ کے گھر میں اس سے جماع کیا اس دوران حفصہ ؓ آگئیں۔ اور کہا یارسول اللہ ! کیا آپ میرے گھر میں اور میرے دن میں یہ کر رہے ہیں۔ آپ نے ان کو خوش کرنے کے لیے فرمایا وہ میرے اوپر حرام ہے اور یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ مگر حفصہ ؓ عائشہ ؓ کے پاس گئیں اور ان کو یہ بات بتادی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا النبی لم تحم ما احل اللہ لک۔ سے لے کر آیت و صالح المومنین تک۔ اور آپ کو اپنی قسم کے کفارے کا اور اپنی باندی سے رجوع کرنے کا حکم فرمایا۔
20۔ الطبرانی فی الاوسط اور ابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی ماریہ قبطیہ ؓ سے مباشرت کی حفصہ ؓ کے گھر میں۔ انہوں نے آپ کو ان کے ساتھ پایا۔ اور کہا یارسول اللہ اپنی عورتوں کے گھروں میں سے میرے گھر میں آپ نے ایسا کام کیا آپ نے ان کو خوش کرنے کے لیے فرمایا وہ میرے اوپر حرام ہے اگر میں اس کو چھوؤں اور تو میری اس بات کو چھپائے رکھنا وہ گھر سے نکلیں اور عائشہ ؓ کے پاس آکر کہا کیا میں تجھ کو خوشخبری نہ دوں ؟ انہوں نے پوچھا کس چیز کی ؟ حفصہ نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو ماریہ کے ساتھ اپنے گھر میں پایا تو میں نے کہا یارسول اللہ اپنی عورتوں کے گھروں میں سے میرے گھر میں آپ نے ایسا کام کیا اور یہ پہلا راز تھا کہ آپ نے اس کو اپنی ذات پر حرام کرلیا۔ پھر مجھ سے فرمایا اے حفصہ کیا میں تجھ کو خوشخبری نہ دوں اور یہ بات عائشہ ؓ کو بتادے کہ تیرا باپ میرے بعد خلیفہ بنایا جائے گا اور میرا باپ تیرے باپ کے بعد خلیفہ بنایا جائے گا۔ پس تو مجھے بھی چھپانا اور اس واقعہ کو چھپائے رکھنا کسی کو نہ بتانا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی لم تحرم سے لے کر آیت غفور رحیم تک۔ یعنی جو کچھ آپ ﷺ سے ہوا تو اللہ تعالیٰ بخشنے والے مہربان ہیں اور فرمایا آیت واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ یعنی حفصہ ؓ سے آیت فلما نبأت بہ یعنی عائشہ ؓ کو آیت واظہرہ اللہ علیہ یعنی قرآن کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر ظاہر کردیا آیت عرف بعضہ۔ یعنی حفصہ کو وہ بتادیا جو کچھ ماریہ کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمادیا آیت واعرض عن بعض اور بعض سے اعرض کیا جو انہوں نے ابوبکر اور عمر ؓ کے بارے میں خبردی تھی۔ پس اسے ظاہرہ کیا آیت فلما نبأہا بہ سے لے کر آیت العلیم الخبیر تک پھر ان دونوں یعنی عائشہ اور حفصہ ؓ پر متوجہ ہوئے اور ان دونوں کو عتاب کرتے ہوئے فرمایا آیت ان تتوبا الی اللہ۔ اگر انہوں نے اللہ کی طرف توبہ نہ کی۔ سے لے کر آیت ثیبت وابکارا۔ بیوہ عورتیں اور کنواری۔ یعنی آپ سے بیوہ عورتوں میں سے آسیہ بنت مزاحم اور نوح (علیہ السلام) کی بہن اور کنواری عورتوں میں سے مریم بنمت عمران اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کا وعدہ فرمایا۔
21۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ضعیف سند کے ساتھ ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک ایسی عورت کے بارے میں نازل ہوئی جس نے اپنی ذات کو نبی ﷺ کے لیے ہبہ کردیا تھا۔
Ayah 66:31۔ عبدالرزاق والبخاری وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حرام کاموں میں کفارہ ادا کیا جاتا ہے اور فرمایا آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ البتہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں اچھا نمونہ ہے۔
2۔ ابن المنذر والطبرانی والحاکم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت لم تحرم ما احل اللہ لک۔ یعنی تو نے اس چیز کو کیوں حرام کیا جس کو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا۔ پھر فرمایا تیرے اوپر کفارات میں سے سخت ترین کفارہ یعنی غلام آزاد کرنا لازم ہے۔
3۔ الحارث بن ابی اسامہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ جب ابوبکر ؓ نے قسم کھالی کہ وہ مسطح پر خرچ نہیں کریں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کو توڑدینا فرض کردیا ہے۔ نازل فرمائی پس آپ نے اپنی قسم کو کھول دیا اور اس پر خرچ فرمایا۔
4۔ ابن المنذر وابن مردویہ نے علی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے آیت قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور ایمان والوں کو حکم فرمایا کہ جب وہ کسی چیز کو حرام کرلیں ان چیزوں میں سے جن کو اللہ نے ان کے لیے حلال کیا ہے تو وہ اپنی قسموں کا کفارہ دیں دس مسکینوں کو کھانا کھلائیں یا ان کو کپڑا پہنائیں یا ایک غلام آزاد کریں اور اس حکم میں طلاق داخل نہیں۔
5۔ عبد بن حمد نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ آیت تحلۃ ایمانکم سے مراد ہے کہ آپ کے لیے باندیاں حلال کی گئیں ہیں اور آپ نے کیوں اس کو حرام کیا۔ اور اب میں نے آپ کے لیے قسم کا حلال کرنا فرض کردیا ہے کہ آپ اپنی قسم کے بدلے کفارہ ادا کریں۔ وہ سب اسی کے ضمن میں ہیں۔
6۔ طبرانی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا۔ اور جب نبی ﷺ نے چھپا کر اپنی کسی بیوی سے ایک بات کہہ دی کے بارے میں روایت کیا کہ حفصہ ؓ اپنے گھر آئیں تو دیکھا کہ نبی ﷺ حضرت ماریہ سے مباشرت کر رہے ہیں۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عاشۂ ؓ کو نہ بتلانا یہاں تک کہ میں تجھ کو ایک بشارت دیتا ہوں کہ تیرا باپ ابوبکر ؓ کے بعد والی (یعنی امیر المومنین) بنے گا جب میرا وصال ہوجائے گا۔ یہ سن کر حفصہ گئیں اور عائشہ کو بتایا۔ عائشہ ؓ نے نبی ﷺ سے پوچھا یہ خبر آپ کو کس نے دی فرمایا کہ مجھ کو علیم اور خبیر ذات نے خبر دی ہے۔ عائشہ ؓ نے کہا میں آپ کی طرف نہیں دیکھوں گی۔ یہاں تک کہ آپ ماریہ کو حرام کردیں تو آپ نے اس کو حرام کردیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت یا ایہا النبی لم تحرم۔۔ الخ۔
7۔ ابن عدی وابن عساکر نے عائشہ ؓ سے آیت واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا کے بارے میں روایت کیا کہ آپ ﷺ نے اپنی ایک بیوی کو رازداری سے بات بتائی کہ ابوبکر ؓ میرے بعد میرے خلیفہ ہوں گے۔
8۔ ابن عدی و ابونعیم فی فضائل الصحابۃ والعشاری فی فضائل الصدیق وابن مردویہ وابن عساکر نے من طریق علی اور ابن عباس ؓ دونوں سے روایت کیا کہ اللہ کی قسم ! بیشک ابوبکر وعمر کی خلافت کا ذکر کتاب اللہ میں ہے۔ یعنی یہ آیت واذ اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا۔ ہے کہ آپ نے حفصہ ؓ سے فرمایا کہ تیرا باپ اور عائشہ کا باپ میرے بعد دونوں لوگوں کے والی یعنی خلیفہ ہوں گے اور اس کے بارے میں تو کسی کو خبر نہ دینا۔
9۔ ابن عساکر نے میمون بن مہران (رح) سے آیت واذ اسرا لنبی الی بعض ازواجہ حدیثا کے بارے میں روایت کیا کہ آپ نے اپنی بیوی سے راز داری کی بات کہی کہ ابوبکر میرے بعد میرے خلیفہ ہوں گے۔
10۔ ابن عساکر نے میمون بن مہران (رح) سے آیت واذ اسرا النبی الی بعض ازواجہ حدیثا کے بارے میں روایت کیا کہ عائشہ کو خبر دی گئی کہ ان کے والد آپ کے بعد خلیفہ ہوگا اور حفصہ کے والد تیرے باپ کے بعد خلیفہ ہوگا۔
11۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کے دن میں اپنی باندی ماریہ قبطیہ کے ساتھ مباشرت کی اور عائشہ اور حفصہ ؓ آپس میں محبت کرنے والیں تھیں۔ حفصہ اس کام پر مطلع ہوگئیں تو آپ ﷺ نے ان سے فرمایا کہ عائشہ ؓ کو اس کی خبر نہ دینا۔ جو کچھ مجھ سے ہوا اور اس باندی کو میں نے اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ لیکن حفصہ ؓ نے نبی ﷺ کے راز کو فاش کردیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت یا ایہا النبی لم تحرم الایۃ۔
12۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے آیت واذا اسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا کے بارے میں روایت کیا کہ خلافت کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے عائشہ ؓ سے رازداری سے گفتگو فرمائی اور آپ نے اس کے بارے میں حفصہ سے بھی بات کی۔
13۔ ابونعیم نے فضائل الصحابہ میں ضحاک (رح) سے آیت واذاسر النبی الی بعض ازواجہ حدیثا کے بارے میں روایت کیا کہ حفصہ بنت عمر ؓ سے نبی کریم ﷺ نے رازداری کے ساتھ یہ بات کی کہ آپ کے بعد ابوبکر ؓ خلیفہ ہوں گے اور ابوبکر ؓ کے بعد عمر ؓ خلیفہ ہوں گے۔
14۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت عرف بعضہ واعرض عن بعض اور اعراض کیا بعض سے اور جس سے آپ نے چشم پوشی فرمائی وہ یہ ہے کہ بلاشبہ تیرا باپ اور اس کا باپ دونوں لوگوں کے والی بنیں گے یعنی خلیفہ بنیں گے اور آپ نے اس کے افشاء ہونے کے خوف سے اس سے چشم پوشی فرمائی۔
15۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
16۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ کریم کبھی بھی انتہا کو نہیں پہنچتا کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت عرف بعضہ واعرض عن بعض۔
50۔ بیہقی نے شعب الایمان میں عطا خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ حلیم کبھی بھی انتہاکو نہیں پہنچتا کیا تو نے اللہ تعالیٰ کا یہ قول نہیں سنا آیت عرف بعضہ واعرض عن بعض۔
Ayah 66:418۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فقد صغت قلوبکما سے مراد ہے کہ تم دونوں کے دل مائل ہیں اور انہوں نے گناہ کیا۔
19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” صغت “ سے مراد ہے کہ وہ مائل ہیں۔
20۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” صغت “ سے مراد ہے کہ وہ مائل ہیں۔
21۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ خیال کرتے تھے کہ آیت صغت قلوبکما آسان چیز ہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو سنا عبداللہ ؓ کی قراءت کے ساتھ آیت ان تتوبا الی اللہ فقدصغت قلوبکما۔
22۔ عبدالرزاق وابن سعد واحمد والمدنی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن حبان وابن المنذر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں ہمیشہ ایسے موقع کی تلاش میں رہا کہ میں حضرت عمر رضی الہ عنہ سے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے ان دو عورتوں کے بارے میں سوال کروں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما۔ اگر تم اللہ کی جانب میں تو بہ کرو تو بہتر ورنہ تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں۔ یہاں تک کہ عمر ؓ نے حج کیا اور میں نے بھی ان کے ساتھ حج کیا ابھی آپ راستے میں تھے تو عمر ؓ ایک طرف کو گئے میں بھی آپ کے ساتھ گیا جب آپ قضائے حاجت سے فارغ ہو کر آئے تو میں نے ان کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور انہوں نے وضو کیا۔ میں نے کہا اے امیر المومنین نبی اکرم ﷺ کی بیویوں میں سے وہ کونسی عورتیں ہیں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما۔ تو انہوں نے فرمایا اے ابن عباس ؓ تجھ پر بڑا تعجب ہے وہ عائشہ اور حفصہ ؓ ہیں۔ پھر انہوں نے مجھ کو بات بتانی شروع کی۔ اور فرمایا ہم قریش کی جماعت ہیں اور ہم عورتوں پر غلبہ رکھتے ہیں جب ہم مدینہ منورہ آئے اور ہم نے ایسی قوم یعنی انصار صحابہ ؓ کو پایا کہ ان پر ان کی عورتیں غالب ہیں تو ہماری عورتوں نے ان عورتوں سے سیکھنا شروع کیا میں ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا اچانک وہ جواب دینے لگی۔ میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ وہ مجھ کو جواب دے۔ اس نے کہ آپ کیوں اس بات کو ناپسند کرتے ہیں اللہ کی قسم ! نبی ﷺ کی بیویاں البتہ ان کو جواب دیتی ہیں اور ان میں سے کوئی دن سے لے کر رات تک آپ کو چھوڑے رکھتی تھی۔ یعنی ان سے قطع کلامی کرتی ہیں میں نے کہا ان میں سے جس نے ایسا کیا وہ خائب و خاسر ہو۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ میر اگھر عوالی میں تھا۔ اور انصار میں سے میرا ایک پڑوسی تھا ہم باری باری رسول اللہ ﷺ کے پاس آتے تھے۔ ایک دن وہ آیا اور میرے پاس وحی کی خبریں اور اس کے علاوہ دوسری خبریں لے آتا۔ اور ایک دن میں آتا اور اس کے پاس اس طرح کی خبریں لے آتا۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا اور ہم باتیں کر رہے تھے۔ کہ غسان نے اپنے گھوڑے کو نعل لگوائے ہیں تاکہ وہ ہم سے جنگ کرے۔ پھر ایک دن وہ انصاری آیا اور دروازہ پر زور سے دستک دی میں اس کی طرف نکلا۔ اس نے کہا بڑا معاملہ پیش آگیا۔ میں نے کہا کیا غسان آگیا اس نے کہا اس سے بھی بڑا معاملہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے۔ میں نے اپنے دل میں کہا حفصہ خائب و خاسر ہوگئی۔ میں ایسا ہونے والا دیکھ رہا تھا جب ہم صبح کی نماز پڑھ چکے میں نے اپنے کپڑے پہنے پھر میں چلا یہاں تک کہ حفصہ پر داخل ہوگیا۔ اچانک وہ رو رہی تھی میں نے اس سے پوچھا کیا تم کو رسول اللہ ﷺ نے طلاق دیدی ؟ کہنے لگی میں نہیں جانتی آپ تو بالاخانے میں علیحدہ ہوگئے ہیں۔ میں چل اور ایک سیاہ رنگ والے غلام کے پاس آیا میں نے کہا عمر اجازت طلب کرتا ہے وہ اندر گیا پھر میری طرف نکلا اور کہا میں نے آپ کا ذکر کیا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا پھر میں مسجد کی طرف چلا۔ اچانک مسجد کے اردگرد بہت سے لوگ رو رہے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ پھر وہ اضطراب جو میرے دل میں تھا وہ مجھ پر غالب آگیا۔ پھر میں چلا اور اس غلام کے پاس آیا میں نے کہا عمر ؓ کے لیے اجازت لو پھر وہ اندر گیا اور باہر نکل آیا اور کہا میں نے آپ کا ذکر کیا آپ نے کچھ نہیں فرمایا۔ پھر میں واپس چلنے لگا تو اس غلام نے مجھے آواز دی اور کہا آپ اندر آجاؤ۔ آپ نے تمہارے لیے اجازت عطا فرمادی ہے میں اندر داخل ہوا۔ اچانک نبی اکرم ﷺ ایک چٹائی پر تکیہ لگائے ہوئے تھے۔ اور میں نے آپ کے پہلو مبارک میں اس کے نشانات دیکھے۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا آپ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے ؟ آپ نے فرمایا نہیں۔ میں نے کہا اللہ اکبر۔ یا رسول اللہ اگر آپ ہم کو دیکھیں کہ ہم قریش کی جماعت عورتوں پر غالب تھی۔ جب ہم مدینہ منورہ آئے تو ہم نے ایسی قوم کو پایا کہ ان کی عورتیں ان پر غالب ہیں تو ہماری عورتوں نے بھی ان کی عورتوں سے سیکھنا شروع کیا۔ میں ایک دن اپنی بیوی پر غصہ ہوا۔ اچانک مجھ کو جواب دینے لگی میں نے اسے اس سے منع کردیا تو وہ کہنے لگی کیا تم منع کررہے ہو اللہ کی قسم ! نبی ﷺ کی بیویاں البتہ ان کو جواب دیتی ہیں اور دن سے لے کر رات تک آپ سے قطع تعلق کیے رکھتی ہے تو میں نے کہا تم میں سے جس نے بھی ایسا کیا وہ خائب و خاسر ہو پھر میں حفصہ کے پاس آیا میں نے کہا کیا تم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہے۔ وہ دن سے لے کر رات کو چھوڑے رکھتی ہے ؟ تو انہوں نے بتایا۔ میں نے کہا نامراد ہو اور نقصان والی ہو جو تم میں سے ایسا کرتی ہے کیا تم میں سے کوئی امن میں رہ سکتی ہے جب کہ اللہ تعالیٰ اس پر غصہ ہو اس کے رسول کے غصہ کی وجہ سے پھر تو یقینی بات ہے کہ وہ ہلاک ہوجائے گی۔ تو رسول اللہ ﷺ ہنس پڑے۔ میں نے حفصہ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کو جواب نہ دینا۔ اور نہ ان سے کسی چیز کا سوال کرنا۔ اور مجھ سے سوال کرنا جو تو چاہے اور تجھ کو دھوکہ نہ دے کیو کہ تیری پڑوسن حضرت عائشہ ؓ تجھ سے زیادہ خوبصورت ہے اور رسول اللہ ﷺ کے نزدیک زیادہ محبوب ہے آپ دوسری مرتبہ ہنس پڑے۔ میں نے کہا یا رسول اللہ میں وحشت دور کر رہا ہوں۔ آپ نے فرمایا ہاں پھر میں نے اپنا سر اٹھایا میں نے گھر میں نہیں دیکھا جن چیزوں کے سوا میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ آپ کی امت کو خوشحالی اور وسعت فرمائے۔ اسی ذات نے فارس اور روم والوں کو وسعت اور حوشحالی عطا کی ہے حالانکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ یہ سن کر آپ سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور فرمایا اے خطاب کے بیٹے تو شک میں ہے۔ یہ وہ قوم ہے کہ ان کے لیے دنیا کی زندگی میں ان کو عمدہ چیزیں دے دی گئیں۔ اور آپ نے قسم کھائی تھی کہ آپ اپنی بیویوں کے پاس ایک ماہ تک نہیں جائیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں عتاب فرمایا۔ اور آپ کے لیے قسم کا کفارہ مقرر فرمایا۔
23۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں سے ایلا کیا اور حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے حرام کو حلال بنادیا اور قسم کا کفارہ ادا فرمادیا۔
24۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے اپنی عورتوں سے ایلاء کیا اور ان کو حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس حرام کو آپ کے لیے حلال قرار دیا اور ایلا میں قسم کے کفارے کا حکم فرمایا۔
25۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت وان تظہرا علیہ ظاء کو تخفیف کے ساتھ عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں گے تو ان کا رب بہت جلد تمہارے بلدے ان کو تم سے اچھی بیویاں دے دے گا۔ میں یاء کو مرفوع اور یاء تخفیف کے ساتھ ” سائحات “ روزہ رکھنے والیاں الف کو تخفیف کے ساتھ پڑھا۔
رسول اللہ ﷺ کا ایلاء
26۔ عبد بن حمید ومسلم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ نے مجھ سے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ اپنی عورتوں سے علیحدہ ہوگئے تو میں مسجد میں داخل ہوا تو لوگ کنکریاں پھینکنے لگے۔ اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیویوں کو طلاق دیدی ہے۔ اور یہ پردہ کے حکم کے نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ میں نے دل میں کہا میں آج کے دن میں ضرور جانوں گا کہ کس لیے آپ عورتوں سے علیحدہ ہوئے۔ چناچہ میں عائشہ ؓ کے پاس آیا اور میں نے کہا اے ابوبکر کی بیٹی ! کیا تیرے بارے میں یہ خبر پہنچی ہے کہ تو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتی ہے۔ عائشہ ؓ نے فرمایا کیا ہے مجھے اور تجھے اے خطاب کے بیٹے پھر میں حفصہ ؓ کے پاس آیا۔ اور میں نے اس سے کہا اے حفصہ ؓ کیا تیرے بارے میں یہ خبر پہنچی ہے کہ تو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتی ہے اللہ کی قسم ! میں نے جان لیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ تجھ کو پسند نہیں فرماتے۔ اگر میں نہ ہوتا تو تجھ کو رسول اللہ ﷺ طلاق دے دیتے۔ یہ سن کر وہ سخت رونے لگیں۔ میں نے اس سے پوچھا رسول اللہ ﷺ کہاں ہیں ؟ اس نے کہا کہ آپ ﷺ شربہ یعنی پینے پلانے کا کمرہ میں ہیں، میں داخل ہوا۔ میں نے دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام رباح۔ آپ کے اس کمرے کی چوکھٹ پر لکڑی کے ایک کھوکھلے تنے پر سے اپنے پاؤں لٹکائے ہوئے بیٹھا ہوا ہے یہ ایک تنا تھا جس پر رسول اللہ ﷺ اوپر چڑھتے اور اترتے تھے تو میں نے آواز دی اے رباح ! میرے لیے اندر آنے کی اجازت لو رسول اللہ ﷺ سے۔ رباح نے کمرے کی طرف دیکھا۔ پھر میری طرف دیکھا اور کچھ نہیں کہا۔ پھر میں نے اپنی آواز کو اونچا کیا اور کہا اے رباح ! میرے لیے رسول اللہ ﷺ سے آپ کے پاس آنے کی اجازت لے میں نے یہ خیال کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ خیال فرمایا کہ میں حفصہ کی وجہ سے آیا ہوں۔ اللہ کی قسم ! اگر مجھ کو رسول اللہ ﷺ حکم فرمائیں کہ اس کی گردن ماردو تو میں ضرور اس کی گردن مار دوں گا۔ اور میں نے یہ اپنی بلند آواز سے کہا تو اس نے میری طرف اپنے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ میں اس سے نرمی کروں۔ چناچہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس داخل ہوا اور آپ ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ میں بیٹھ گیا آپ ایک چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی اور چادر نہ تھی۔ اور اس چٹائی کے نشانات آپ کے پہلوؤں میں تھے اور میں نے آپ کے سامان پر نظر ڈالی تو وہ مٹھی بھر جو تھے ایک صاع کے برابر۔ اور اتنے ہی قزط یعنی کیکر کے پتے کمرے کے ایک کونے میں پڑے ہوئے تھے۔ جبکہ دول لٹکا ہوا تھا ان چیزوں کو دیکھ کر میری آنکھیں بھر گئیں۔ آپ نے پوچھا اے خطاب کے بیٹے ! کس چیز نے تجھ کو رلایا ؟ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! میرے لیے کیا ہے کہ میں نہ روؤں۔ اور اس چٹائی نے آپ کے پہلو میں نشانات ڈال دئیے ہیں اور یہ آپ کا جمع شدہ سامان ہے۔ جو میں دیکھ رہا ہوں۔ اور وہ کسریٰ اور قیصر پھلوں میں اور نہروں میں ہیں۔ اور آپ اللہ کے رسول اور اس کے محبوب ہیں اور یہ آپ کا سامان ہے آپ نے فرمایا اے خطاب کے بیٹے ! کیا تو راضی نہیں ہے اس بات سے کہ ہمارے لیے آخرت ہو اور ان کے لیے دنیا ہو۔ میں نے کہا کیوں نہیں اس کے بعد جب بھی میں آپ کے پاس داخل ہوا تو میں نے آپ کے چہرہ مبارک میں غصہ کو دیکھا تھا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ کی ازواج کی کوئی حرکت آپ پر بھاری ہوگئی۔ اگر آپ نے ان کو طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہیں اور اس کے فرشتے اور جبرئیل اور میکائیل اور میں اور ابوبکر اور ایمان والے بھی آپ کے ساتھ ہیں۔ اور بہت کم ایسا ہوا کہ میں نے کوئی بات کی اور کوئی کلام کرتے ہوئے اللہ کی حمد بیان کی مگر میں نے یہ امید رکھی کہ اللہ تعالیٰ میری بات کی تصدیق فرمائیں گے جو میں نے کہی۔ اور یہ آیت نازل ہوگئی آیت وان تظہرا علیہ فان اللہ ہو مولاہ وجبریل و صالح المومنین والملئکۃ بعد ذلک ظہیر عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیر امنکن۔ اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں گے تو ان کا رب بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیویاں دے دے گا۔ اور اگر تم پیغمبر کی مرضی کے خلاف باہم تعان کرتی رہی تو یاد رکھو پیغمبر کا رفیق اللہ ہے اور جبریل ہے اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے مددگار ہیں۔ اور عائشہ بنت ابوبکر اور حفصہ ؓ آپس میں گٹھ جوڑ کرتی تھیں نبی ﷺ کی ساری بیویوں کے خلاف۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! کیا آپ نے ان کو طلاق دیدی ؟ فرمایا نہیں۔ میں نے کہا یارسول اللہ ! میں مسجد میں داخل ہو اور مومنین کنکریاں پھینک رہے اور کہہ رہے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کو طلاق دے دی ہے۔ کیا میں نیچے اترجاؤں اور ان کو بتادوں کہ آپ نے ان کو طلاق نہیں دی۔ آپ ﷺ نے فرمایا ہاں اگر تو چاہے پھر میں مسلسل ان سے باتیں کرتا رہا۔ یہاں تک کہ آپ کے چہرہ مبارک سے غصہ کے آثار ختم ہوگئے۔ بلکہ آپ مسکرائے اور ہنس دئیے اور آپ کے دندان مبارک ظاہر ہونے لگے اور آپ کے دندان مبارک تمام لوگوں سے بڑھ کر حسین اور خوبصورت تھے پھر رسول اللہ ﷺ نیچے اترے اور میں بھی اترا۔ میں نے اس تنے کو مضبوطی سے پکڑے رکھا۔ اور اللہ کے نبی ﷺ نیچے اترے اور آپ زمین پر اس طرح چلنے لگے گویا کہ آپ اسے اپنے ہاتھ مبارک سے چھو رہے ہیں۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ کمرے میں انتیس دن رہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مہینہ انتیس کا بھی ہوتا ہے پھر میں مسجد کے دروازے پر کھڑا ہوا اور میں نے اونچی آواز سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی عورتوں کو طلاق نہیں دی۔ پھر یہ آیت نازل ہوئی آیت واذا جاء ہم امر من الامن او الخوف اذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی اولی الامر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم۔ اور جب ان کے پاس کوئی خبر امن یا خوف کی پہنچی ہے تو اسے مشہور کردیتے ہیں اور اگر اسے رسول اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچاتے تو اس کی تحقیق کرتے جو ان میں تحقیق کرنے والے ہیں۔ اور میں نے اس معاملہ کی تحقیق کی اور اللہ تعالیٰ نے آیت تخییر نازل فرمائی۔
27۔ ابن عسکر نے کلبی کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میرے والد محترم اس آیت کو پڑھتے تھے آیت و صالح المومنین اور فرماتے تھے کہ اس سے ابوبکر اور عمر ؓ مراد ہیں۔
29۔ ابن عساکر نے عکرمہ اور میمون بن مہران رحمہما اللہ سے ایسے ہی روایت کیا۔
30۔ ابن عساکر نے حسن بصری (رح) سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین سے عمر بن خطاب ؓ مراد ہیں۔
31۔ ابن عساکر نے مقاتل بن سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین سے ابوبکر وعمر ؓ مراد ہیں۔
32۔ ابن عساکر من طریق مالک بن انس ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت فقد صغت قلوبکما بلاشبہ تم دونوں کے دل مائل ہوگئے تھے یعنی مائل ہوگئے اور آیت و صالح المومنین سے مراد ہے انبیاء علیہم السلام۔
33۔ ابن عساکر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے و صالح المومنین کے بارے میں فرمایا کہ آیت و صالح المومنین سے ابوبکر وعمر ؓ مراد ہیں۔
34۔ الطبرانی وابن مردویہ اور ابو نعیم فی فضائل صحابہ میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت و صالح المومنین کے بارے میں فرمایا کہ صالح المومنین ابوبکر اور عمر ؓ ہیں۔
35۔ طبرانی نے اوسط میں اور ابن مردویہ نے ابن عمر اور ابن عباس ؓ سے آیت و صالح المومنین کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت ابوبکر اور عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
36۔ سعید بن منصور وابن سعد وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن عسکر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت و صالح المومنین۔ عمر بن خطاب ؓ کے بارے میں خاص طور پر نازل ہوئی۔
37۔ ابن مسعود ؓ نے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت و صالح المومنین کے بارے میں فرمایا کہ صالح المومنین سے ابوبکر وعمر ؓ مراد ہیں۔
38۔ طبرانی فی الاوسط وابن مردویہ نے ابن عمرو وابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین ابوبکر وعمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
39۔ سعید بن منصور وابن سعد وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن عساکر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین خاص طور پر عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔
40۔ الحاکم نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ آیت و صالح المومنین سے ابوبکر وعمر ؓ مراد ہیں۔
41۔ ابن ابی حاتم نے ضعیف سند کے ساتھ علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ آیت و صالح المومنین علی بن ابی طالب ؓ ہیں۔
42۔ ابن مردویہ نے اسماء بنت عمیس ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ آیت و صالح المومنین سے علی بن ابی طالب ؓ مراد ہیں۔
43۔ ابن مردویہ وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین سے علی بن ابی طالب مراد ہیں۔
44۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے علاء بن زیاد (رح) سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔
45۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت و صالح المومنین سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔
Ayah 66:51۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ، ابو مالک اور قتادہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ آیت قنتت سے مراد ہے اطاعت کرنے والیاں۔ سائحات یعنی روزہ رکھنے والیاں۔
2۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا ” سائحات “ مشدد بغیر الف کے۔
3۔ الطبرانی وابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثیبت وابکارا (بیوہ اور کنواریاں) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی اکرم ﷺ سے وعدہ فرمایا کہ بیوہ عورت فرعون کی بیوی آسیہ اور کنواری مریم بنت عمران سے آپ کی شادی کریں گے۔
Ayahs 66:6–74۔ عبدالرزاق والفریابی سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے المدخل میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا۔ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔ سے مراد ہے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو خیر اور نیکی کی تعلیم دو اور ان کو ادب بھی سکھاؤ۔
5۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ تم اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو اور اپنے گھروالوں کو ذکر کا حکم کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو آگ سے نجات دے گا۔
6۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے گھروالوں کو حکم دو کہ وہ اپنے آپ کو آگ سے بچائیں۔
7۔ ابن مردویہ نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا۔ تلاوت فرمائی۔ تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! ہم اپنے گھروالوں کو کیسے آگ سے بچائیں ؟ آپ نے فرمایا کہ ان کو ان کاموں کا حکم دیتے رہو جن کو اللہ تعالیٰ پسند فرماتے ہیں اور ان کو ان کاموں سے روکتے رہو جن کو اللہ تعالیٰ ناپسند فرماتے ہیں۔
8۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ اپنے گھر والوں کو ادب سکھاؤ۔
گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچانا۔
9۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا سے مراد ہے کہ اپنے گھروالوں کو تقویٰ کا حکم کرو۔
10۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت قو انفسکم واہلیکم نارا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ ان کو اللہ کی اطاعت کا حکم کرو۔ اور ان کو اللہ کی نافرمانی سے روکو۔
11۔ ابن المنذر نے عبدالعزیز بن ابی داوٗد (رح) سے روایت کیا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) ایک پہاڑ کے پاس سے گذرے جو آسمان اور زمین کے درمیان معلق تھا۔ آپ اس میں داخل ہوئے اور رونے لگے اور اس پر تعجب کیا۔ پھر وہاں سے اس کے اردگرد کے رہنے والوں کی طرف نکلے اور پوچھا اس پہاڑ کا کیا قصہ ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں کوئی علم نہیں۔ اسی طرح ہم نے اپنے آباء و اجداد کو پایا ہے۔ پھر فرمایا اے میرے رب اس پہاڑ کو جازت دیجیے کہ وہ مجھے اپنا قصہ بتائے اس کو اجازت دے دی گئی۔ تو اس نے کہا جب اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت نارا وقودہا الناس والحجارۃ۔ ایسی آگ ہے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ تو میں کانپنے لگا اور ڈر گیا کہ میں بھی اس کا ایندھن ہوں گا تو میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگی کہ وہی مجھے امن دے دے۔ تو اللہ تعالیٰ نے دعا کو قبول فرمایا اور اسے امن دے دیا اور فرمایا اب تو قرار پذیر ہوجا تو وہ زمین پر قرار پذیر ہوگیا (یعنی ٹھہر گیا) ۔
12۔ ابن ابی الدنیا اور ابن قدامہ نے کتاب البکاء والرقۃ میں محمد بن ہاشم (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت وقودہا الناس والحجارۃ اور اس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہیں۔ نازل ہوئی تو نبی ﷺ نے اس کو پڑھا تو آپ کے پہلو کی طرف ایک نوجوان نے جب اس کو سنا تو بےہوش ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کے سر کو اپنی گود مبارک میں رکھا اور رحمت اور شفقت کا اظہار فرمایا۔ جب تک اللہ تعالیٰ نے چاہا وہ بےہوش رہا پھر اس نے اپنی آنکھوں کو کھولا۔ تو دیکھا کہ اس کا سر رسول اللہ ﷺ کی گود میں تھا اس نے کہا میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کونسی چیز کی مثل وہ پتھر ہے۔ آپ نے فرمایا کہ تجھ کو یہ کافی نہیں ہے جو کچھ تجھے پہنچا ہے اگر اس آگ میں سے ایک پتھر دنیا کے پہاڑوں پر رکھ دیا جائے تو اس سے پگھل جائیں اور بلاشبہ ان میں سے ہر ایک انسان کے ساتھ پتھر ہے یا شیطان ہے۔
13۔ عبد اللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں ابو عمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ دوزخ کے داروغے انیس ہیں ان میں سے ایک کے کندھوں کے درمیان دو سو سال کا فاصلہ ہے ان کے دلوں میں رحم قطعا نہیں ہے۔ بیشک وہ عذاب دینے کے لیے پیدا کیے گئے۔ ان میں سے ایک فرشتہ دوزخ والوں میں سے ایک آدمی کو ایک ضرب مارے گا تو اس کو سر سے پاؤں تک پیس دے گا۔
14۔ ابن جریر نے کعب ؓ سے روایت کیا کہ اس کے داروغوں میں سے ایک داروغہ کے کندھوں کے درمیان سال کے برابر کی مسافت ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے پاس ایک لوہے کا گرز اور دو سلاخیں ہوں گی۔ جن کے ساتھ وہ ایک مرتبہ دھکا دے گا تو سات لاکھ لوگوں میں تفریق ڈال دے گا۔
Ayahs 66:8–91۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وہناد وابن منیع وعبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے شعب الایامن میں نعمان بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے آیت توبۃ نصوحا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ آدمی برے کام سے اس طرح توبہ کرے پھر کبھی اس کی طرف نہ لوٹے۔
2۔ احمد وابن مردویہ والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی گناہ سے ایسی توبہ کرنا پھر کبھی اس کی طرف رجوع نہ کرے۔
3۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ” توبۃ نصوحا “ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ بندہ اپنے گناہ پر نادم ہو جو اس سے صادر ہو اور اللہ سے استغفار کرے اپنی ندامت کے ساتھ پھر کبھی اس گناہ کی طرف نہ لوٹے۔
4۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ معاذ بن جبل ؓ نے پوچھا یارسول اللہ ! ” توبۃ نصوحا “ کیا ہے آپ نے فرمایا کہ بندہ اپنے گناہ پر نادم ہو جس گاہ کو وہ پہنچا اور اللہ تعالیٰ سے معذرت کرے پھر اس کی طرف نہ لوٹے جیسے دودھ تھن کی طرف نہیں لوٹتا۔
توبہ نصوح کی تعریف
5۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر اور بیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ” توبۃ نصوحا “ سے مراد ہے کہ بندہ گناہ سے ایسی توبہ کرے کہ پھر اس کی طرف کبھی نہ لوٹے۔
6۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” توبۃ نصوحا “ سے مراد ہے کہ ایسی توبہ کرے کہ پھر نہ لوٹے۔
7۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ” توبۃ نصوحا “ سے مراد ہے وہ ایسی توبہ کرے کہ پھر نہ لوٹے۔
8۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔
9۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” توبۃ نصوحا “ میں نصوح سے مراد ہے سچی اور خالص توبہ۔
10۔ الحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ پکی توبہ ہر گناہ کو مٹادیتی ہے اور وہ قرآن میں ہے پھر یہ آیت پڑھی آیت یا ایہا الذین اٰمنوا تو بوا الی اللہ توبۃ نصوحاعسی ربکم ان یکفر عنکم سیاتکم۔ اے ایمان والو ! اللہ کی طرف سچی توبہ کرو۔ قریب ہے کہ تمہارا رب تم سے برائیوں کو مٹادے گا۔
11۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے ” نصوحا “ (نون کو رفع کے ساتھ پڑھا) ۔
12۔ الحاکم والبیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یوم لا یخزی اللہ النبی والذین اٰمنوا معہ نورہم یسعی۔ جس دن کہ اللہ نبی ﷺ کو اور جو مسلمان ان کے ساتھ ہیں ان کو رسوا نہیں کرے گا۔ ان کا نور ان کے سامنے دوڑتا ہوگا۔ سے مراد ہے کہ موحدین میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو قیامت کے دن نور عطا فرمائے گا۔ لیکن منافق کا نور بجھ جائے گا اور مومن ڈرے گا جب وہ منافق کے نور کو بجھتا ہوا دیکھے گا اور وہ کہے گا ربنا اتمم لنا نورنا اے ہمارے رب ہمارے لیے ہمارے نور کو پورا کردیجیے۔
13۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ربنا اتمم لنا نورنا سے مراد ہے کہ یہ ایمان والوں کا قول ہوگا جب منافقین کا نور بجھ جائے گا۔
Ayah 66:1014۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن ابی الدنیاوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فخانتاہما کہ ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندون کا حق ادا نہیں کیا۔ یعنی ان دونوں نے زنا نہیں کیا تھا لیکن نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے کہتی تھی کہ یہ اللہ کا نبی مجنون ہے اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ اس نے مہمانوں کو بتادیا تھا کہ خوبصورت مہمان آئے ہوئے ہیں جلدی سے آجاؤ یہ اس کی خیانت تھی۔
15۔ ابن عساکر نے اشرس خراسانی (رح) سے روایت کیا کہ جو نبی ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ نبی کی بیوی نے کبھی بدکاری نہیں کی۔
16۔ ابن عدی والبیہقی فی شعب الایمان وابن عسکر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ” فخانتاہما “ سے مراد ہے کہ دونوں عورتیں کفر کرنے والیاں اور مخالفت کرنے والیاں تھیں اور کسی عورت کے لیے یہ لائق نہیں کہ یہ نبی کے نکاح میں ہو اور بدکاری کرے۔
17۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کسی نبی کی بیوی نے کبھی بدکاری نہیں کی۔
18۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فخانتاہما سے مراد ہے کہ ان دونوں نے دین کے معاملے میں خیانت کی۔
19۔ عبد بن حمید نے حسن ؓ سے روایت کیا کہ نبی کی بیوی جب زنا کرے گی تو اس کی مغفرت نہیں ہوگی۔
20۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وضرب اللہ مثلا الایۃ (کہ اللہ تعالیٰ نے مثال بیان فرمائی) اور اس سے مراد ہے کہ ہرگز ان دونوں نبیوں کا صالح اور نیک ہونا ان دونوں بیویوں کے ذرا بھی کام نہیں آئے گا اور فرعون کے کفر نے فرعون کی بیوی کو ذرا بھی نقصان نہیں دیا۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
Ayah 66:111۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں سلیمان ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کی بیوی سورج کی دھوپ میں عذاب دی جاتی تھی جب وہ اس سے ہٹ جاتے تو فرشتے اپنے پروں کے ساتھ اس پر سایہ کرتے تھے اور وہ جنت میں اپنا گھر دیکھتی تھی۔
2۔ ابو یعلی والبیہقی نے سند صحیح کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون اپنی بیوی کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر چار کیلیں گاڑ دیتا تھا۔ جب وہ اس سے جدا ہوتے تو فرشتے اس پر سایہ کرتے تھے۔ اور اس نے کہا آیت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ اے میرے رب کہ میرے لیے جنت میں ایک گھر اپنے پاس بنادیجیے تو اس کے لیے اس کا گھر جنت میں دنیا ہی میں ظاہر کردیا گیا۔
3۔ عبد بن حمید نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون نے اپنی بیوی کو چار کیلیں گاڑ دیں۔ اور اس کو لٹا کر اس کے سینے پر چکی کا پاٹ رکھ دیا۔ اور اس کا منہ عین سورج کی طرف کردیا تو اس نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور کہا آیت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ۔ اے میرے رب اپنے نزدیک میرے لیے جنت میں گھر بنادیجیے۔ آیت من القوم الظلمین تک۔ تو اللہ تعالیٰ نے جنت میں اس کے گھر سے حجاب کو ہٹا دیا۔ اور اس نے اسے دیکھ یلا۔
4۔ احمد والطبرانی والحاکم وصححہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ اہل جنت میں سے سب سے افضل عورتیں خدیجہ بنت خویلد، فاطمہ بنت محمد، مریم بنت عمران اور آسیہ بنت مزاحم فرعون کی بیوی ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے ہم سے ان دونوں کے بارے میں قرآن مجید میں بیان فرمایا۔ آیت قالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ۔
5۔ وکیع نے الغرر میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ونجنی من فرعون وعملہ (اور نجات دے مجھ کو فرعون سے اور اس کے کام سے) یعنی مجھے فرعون سے اور اس کے جماع سے نجات عطا فرما۔
Ayah 66:126۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت فنفخنا فیہ من روحنا اور ہم نے پھونک دیا اس میں سے اپنی روح میں سے۔ یعنی اس کے گریبان میں پھونک دیا آیت وکانت من القنتین۔ یعنی فرمانبرداری کرنے والوں میں سے۔
7۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے آیت وصدقت بکلمت ربہا کو الف کے ساتھ پڑھا۔ ” وکتابہ واحد “ اور اس کی کتابت ایک ہے۔
8۔ طبرانی نے سعد بن جنادہ (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے جنت میں میری شادی مریم بنت عمران، فرعون کی بیوی اور موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کے ساتھ کردی ہے۔