65. Surah At-Talaaq

الطلاقDivorce · 12 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 65:1

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَطَلِّقُوْهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ وَ اَحْصُوا الْعِدَّةَ١ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ رَبَّكُمْ١ۚ لَا تُخْرِجُوْهُنَّ مِنْۢ بُیُوْتِهِنَّ وَ لَا یَخْرُجْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّاْتِیْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَیِّنَةٍ١ؕ وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَقَدْ ظَلَمَ نَفْسَهٗ١ؕ لَا تَدْرِیْ لَعَلَّ اللّٰهَ یُحْدِثُ بَعْدَ ذٰلِكَ اَمْرًا Open ayah 65:1 in the Quran reader

اے نبی جب تم عورتوں کو طلاق دینا چاہو تو انہیں عدت سے پہلے طلاق دو ، اور عدت کو اچھی طرح شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ان عورتوں کو تم ان کے گھروں سے نہ نکالوں اور نہ وہ خود نکلیں، مگر یہ کہ وہ کوئی کھلی ہوئی بےحیائی کرلیں۔ یہ اللہ کی حدود ہیں اور جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے سو اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اے مخاطب۔ شاید تو نہیں جانتا کہ اللہ اس کے بعد کوئی نئی بات پیدا فرمادے

1۔ ابن ابی حاتم نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ ؓ کو طلاق دی اور وہ اپنے گھروالوں کے پاس آگئیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن۔ اے نبی ﷺ آپ لوگوں سے کہہ دیجیے جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دینے لگو تو زمانہ عدت میں یعنی حیض سے پہلے طہر کی حالت میں طلاق دو ۔ آپ سے کہا گیا کہ ان سے رجوع فرمالیں کیونکہ وہ روزہ رکھنے والی اور راتوں کو قیام کرنے والی ہے اور بلاشبہ وہ جنت میں آپ کی بیویوں میں سے ہے۔ 2۔ ابن المنذر نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ کہ شاید اس طلاق کے بعد اللہ کوئی نئی بات تیرے دل میں پیدا کردے۔ حفصہ بنت عمر ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ کہ نبی ﷺ نے ان کو ایک طلاق دے دی تھی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء سے لے کر آیت یحدث بعد ذلک امرا تک پھر آپ نے ان سے رجوع فرمالیا۔ ابو رکانہ کی طلاق کا واقعہ 3۔ حاکم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عبد بن یزید ابو رکانہ نے ام رکانہ کو طلاق دی پھر قبیلہ مزنیہ کی ایک عورت سے نکاح کرلیا تو وہ عورت رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی یا رسول اللہ ! وہ میرے لیے قطعاً فائدہ مند نہیں ہے مگر اتنا ہی جتنا یہ مال مال فائدہ مند ہے اس نے اپنے سر کے بال پکڑ لیے رسول اللہ ﷺ کو اس وقت غیرت نے پکڑ لیا اور رسول اللہ ﷺ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلایا پھر اپنے پاس بیٹھنے والوں سے فرمایا۔ کیا تم اس طرح اور اس طرح جانتے ہو۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے عبد بن یزید سے سے فرمایا اس کو طلاق دے دی ہے آپ نے فرمایا میں یہ چاہتا ہوں تو اس سے رجوع کرلے تو یہ آیت نازل ہوئی آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن۔ ذہبی (رح) نے فرمایا کہ اس کی اسناد کمزور ہے۔ اور یہ خبر بھی غلط ہے کیونکہ عبد بن یزید نے اسلام نہیں پایا۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی ہے کہ آیت یا ایہالنبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن کہ یہ آیت عبداللہ بن عمرو بن عاص، طفیل بن حارث اور عمرو بن سعید بن عاص ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 5۔ ابن مردویہ نے ابی الزبیر کے طریق سے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دیدی نبی ﷺ کے زمانہ میں۔ حضرت عمر ؓ آپ کے پاس آئے اور آپ کے سامنے اس کا تذکرہ کیا۔ آپ نے فرمایا اس سے حکم کرو کہ وہ اس سے جوع کرے۔ پھر اس کو روک لے یہاں تک کہ وہ حیض سے پاک ہوجائے پھر اگر دل چاہے تو اس کو طلاق دیدے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس وقت یہ آیت نازل فرمائی آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن فی قبل لعدتہن۔ ابو زبیر ؓ نے فرمایا کہ میں نے ابن عمر ؓ کو اسی طرح پڑھتے ہوئے سنا ہے۔ 6۔ مالک والشافی وعبدالرزاق فی المصنف واحمد وعبد بن حمید والبخاری ومسلم وابوداوٗد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن المنذر وابویعلی وابن مردویہ اور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ کو ذکر کی گئی تو رسول اللہ ﷺ نے اس بارے میں غصہ فرمایا پھر فرمایا اس کو چاہیے کہ اس سے رجوع کرلے پھر اس کو روک لے یہاں تک کہ وہ پاک ہوجائے پھر اسے حیض آئے اور جب پھر پاک ہوجائے۔ پھر اگر دل چاہے تو اس کو طلاق دیدے اور اس کو پاک ہونے کی حالت میں جماع کرنے سے پہلے طلاق دے۔ یہی وہ عدت ہے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے کہ وہ اس کے لیے عورت کو طلاق دے۔ اور نبی ﷺ نے یہ آیت پڑھی۔ آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن فی قبل عدتہن۔ 7۔ عبدالرزاق فی المصنف وابن المنذر والحاکم وابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح قراءت فرمائی آیت فطلقوہن قبل عدتہن۔ 8۔ ابن الانباری نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح قراءت کی فطلقوہن لقبل عتہن۔ 9۔ عبدالرزاق وابو عبید فی فضائلہ و سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن مردویہ والبیہقی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس طرح پڑھتے تھے۔ آیت فطلقوہن لقبل عدتہن۔ 10۔ ابن مردویہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے آیت فطلقوہن لعدتہن کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد ہے کہ تم اس کو ایسے طہر میں طلاق دو جس میں جماع نہ ہو۔ 11۔ عبد بن حمید نے ابن عمرو ؓ سے روایت کیا کہ آیت فطلقوہن لعدتہن سے مراد وہ طہر ہے جس میں جماع نہ ہو۔ 12۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والطبرانی والبیہقی ابن مسعود ؓ سے آیت فطلقوہن لعدتہن کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد وہ طہر ہے جس میں جماع نہ ہو۔ طلاق طہر (پاکی) کے زمانے میں دی جائے 13۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والطبرانی والبیہقی وابن مردویہ نے ابن مسعودر ضی اللہ عہ سے روایت کیا کہ جو ارادہ کرے کہ اس طریقے کے مطابق طلاق دے جیسے اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا تو اس کو چاہیے کہ وہ اسے ایسی طہر کی حالت میں طلاق دے جس میں جماع نہ ہو۔ 14۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فطلقوہن لعدتہن سے مراد وہ طہر ہے جس میں جماع نہ ہو۔ 15۔ عبد بن حمید وابن مردویہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی آدمی اپنی بویوی سے یوں نہ کہے کہ قد طلقتک (میں نے تجھ کو طلاق دی) ” قد راجعتک “ میں تجھ سے رجوع کرلیا۔ یہ مسلمانوں کی طلاق نہیں ہے۔ تم اس عورت کو اس کی طہر کی حالت میں طلاق دو ۔ 16۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت فطلقوہن لعدتہن کے بارے میں روایت کیا کہ تم ان کو ان کی طہر کی حالت میں طلاق دو اور دوسرے لفظ میں یوں فرمایا کہ ایسے طہر میں طلاق دو جس میں جماع نہ ہو۔ 17۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے آیت فطلقوہن لعدتہن کے بارے میں روایت کیا کہ عدت سے مراد ہے کہ آدمی عورت کو ایسے طہر کی حالت میں طلاق دے جس میں جماعت نہ ہو پس آدمی اپنی بیوی سے ملتا جلتا ہے یہاں تک کہ جب اس سے جدا ہوتا ہے تو اس وقت اس کو طلاق دے دیتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ وہ حاملہ ہے یا غیر حاملہ ہے بیشک یہ کام درست نہیں ہے (یعنی اسے ایسے نہیں کرنا چاہیے) ۔ 18۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید والطبرانی وابن مردویہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ایک دن ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے پوچھا اور کہا اے ابن عباس ؓ میں نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں۔ تو ابن عباس ؓ نے فرمایا تو نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ اور تیرے اوپر تیری بیوی حرام ہوگئی اور تو اللہ سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ تیرے لیے نکلنے کا راستہ بنادیتے۔ تم میں سے کوئی آدمی طلاق دیتا ہے پھر کہتا ہے اے ابن عباس اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن اور ابن عباس ؓ یہ الفاظ اسی طرح پڑھتے تھے۔ 19۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت فطلقوہن لعدتہن کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو حائضہ ہونے کی حالت میں طلاق نہ دو ۔ اور نہ ہی ایسے طہر میں کہ جس میں تم نے اس سے جماع کیا ہے۔ لیکن اس کو چھوڑ دو یہاں تک کہ جب اس کا حیض ختم ہو کہ وہ پاک ہوجائے تو اس کو ایک طلاق دیدو اگر اس کو حیض آتا ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے اگر اس کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ماہ ہے اور اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اور اگر تو ارادہ کرے اس سے رجوع کرنے کا تو اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے تو اس پر دو گواہ بنالے جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واشہدوا ذوی عدل منکم طلاق کے وقت اور رجوع کرنے کے وقت بھی اگر اس نے اس کی طرف رجوع کرلیا۔ اور اب وہ دو طلاقوں کے اختیار کے ساتھ اس کے پاس رہے گی اور اس نے سا سے رجوع نہ کیا تو جب اس کی عدت گزر جائے گی۔ تو وہ اس سے ایک ہی طلاق کے ساتھ جدا ہوگئی۔ اب وہ اپنے نفس کی زیادہ مالک ہوگی۔ پھر وہ چاہے تو اسی سے شادی کرلے یا اس کے علاوہ کسی اور سے۔ 20۔ عبد بن حمید والطبرانی وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن کے بارے میں روایت کیا کہ عدت کی طلاق یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو اس حال میں طلاق دے کہ وہ پاک ہو۔ پھر اس کو چھوڑدے یہاں تک کہ اس کی عدت گزر جائے یا اس سے رجوع کرے اگر چاہے۔ 21۔ عبدالرزاق والبیہقی وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ان سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا گیا کہ اس نے اپنی بیوی کو سو طلاقیں دی ہیں۔ فرمایا اس نے اپنے رب کی نافرمانی کی۔ جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی آیت یا ایہا النبی اذا طلقتم النساء فطلقوہن فی قبل عدتہن۔ 22۔ عبد بن حمید نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت واحصو العدۃ۔ اور عدت کی گنتی یاد رکھو۔ یعنی طلاق دو ایسے طہر کی حالت میں جس میں جماع نہ ہو۔ عدت کے بعد رجوع نہیں ہوسکتا 23۔ عبد بن حمید نے شعبی (رح) سے روایت کیا کہ شریح (رح) نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی۔ پھر اس سے خاموش رہا یہاں تک کہ عدت گزر گئی پھر وہ اس کے پاس آیا اور اس نے اجازت مانگی وہ گھبراگئی وہ اندر آیا اور کہا میں ارادہ کرتا ہوں کہ میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کروں یعنی آیت لاتخرجوہن من بیوتہن کہ ان کو ان کے گھروں سے نہ نکالو اور نہ وہ خود نکلیں۔ 24۔ عبد بن حمید نے محمد بن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ شریح (رح) نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اس پر گواہ بنائے۔ گواہوں سے کہا میرے بارے میں اس شہادت کو چھپائے رکھنا انہوں نے اسے چھپائے رکھا یہاں تک کہ عدت گذر گئی پھر شریح نے اپنی بیوی کو اس کی خبردی تو اس نے اپنا سامان منتقل کرلیا۔ شریح نے فرمایا میں نے اس بات کو ناپسند کیا کہ تو گناہگار ہو۔ 25۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ مطلقہ عورت اور جس کا خاوند مرگیا وہ دونوں دن کو نکل سکتی ہیں اور پوری رات اپنے گھروں سے باہر نہیں گذار سکتیں۔ 26۔ عبدبن حمید نے عامر ؓ سے روایت کیا کہ مجھے فاطمہ بنت قیس نے بیان کیا کہ ان کے شوہر نے ان کو تین طلاقیں دیں۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں تو آپ نے ان کو اپنے چچا عمرو بن ام مکتوم ؓ کے پاس عدت گزارنے کا حکم فرمایا۔ 27۔ عبد بن حمید نے مسلمہ بن عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ فاطمہ بنت قیس ؓ نے ان کو بتایا کہ وہ ابوعمرو بن حفص بن مغیرہ کے نکاح میں تھیں تو اس نے ان کو تین طلاقیں دیں۔ تو اس نے گمان کیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی ہے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں پوچھنے کے لیے تو آپ نے اسے ام مکتوم ؓ کی طرف منتقل ہونے کا حکم فرمایا جو نابینا تھے لیکن مروان نے فاطمہ کی بات کی تصدیق کرنے سے انکار کردیا۔ مطلقہ عورت کے اپنے گھر سے نکلنے کے بارے میں۔ اور عروہ (رح) نے کہا کہ عائشہ ؓ نے بھی فاطمہ بنت قیس کی بات کا انکار کیا۔ مطلقہ کے لیے عدت کا نفقہ سکنی ہے 28۔ ابن مردویہ نے ابو اسحاق (رح) سے روایت کیا کہ میں اسود بن یزید (رح) کے پاس بڑی مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اور ہمارے ساتھ شعبی (رح) بھی تھے۔ تو انہوں نے فاطمہ بنت قیس ؓ کی حدیث کو بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے لیے سکنی اور نفقہ کو مقرر نہیں فرمایا۔ اسود (رح) نے ہتھیلی میں کنکریاں لیں اور ان کو مار کر کہا آپ اس طرح کی حدیث بیان کرتے ہیں۔ عمر ؓ نے فرمایا کہ ہم اللہ کی کتاب اور اپنے نبی کی سنت کو نہیں چھوڑیں گے ایک عورت کے کہنے پر ہم نہیں جانتے کہ اس نے بات کو یاد رکھا یا بھول گئی کہ اس کے لیے سکنی اور نفقہ تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت لاتخرجوہن من بیوتہن ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ۔ ان عورتوں کو ان کے گھروں سے مت نکالو اور نہ وہ عورتیں باہر نکلیں مگر ہاں کوئی کھلی ہوئی بےحیائی کا کام کریں۔ 29۔ عبدالرزاق نے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ (رح) سے روایت کیا کہ ابو عمرو بن حفص بن مغیرہ حضرت علی ؓ کے ساتھ یمن کی طرف نکلے۔ اور انہوں نے اپنی بیوی فاطمہ بن تقیس ؓ کو ایک طلاق بھیج دی۔ اور وہ اپنی طلاق کے باوجود وہیں رہیں۔ اس کے لیے حارث بن ہشام اور عیاش بن ابی ربیعہ نے اس کے لیے نفقہ کا حکم دیا تو اس نے اسے قلیل قرار دیا تو ان دونوں نے اس سے کہا اللہ کی قسم تیرے لیے نفقہ نہیں مگر یہ کہ تو حاملہ ہوتی۔ وہ نبی ﷺ کے پاس آئی۔ اور اپنا معاملہ آپ کو پیش کردیا تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا تیرے لیے کوئی نفقہ نہیں پس تو وہاں سے منتقل ہونے کی اجازت لے لے تو اس نے اس کو اجازت دیدی۔ مروان نے اس عورت کی طرف پیغام بھیجا تاکہ وہ اس کے بارے میں اس سے سوال کرے تو اس نے یہی بیان کیا۔ تو مروان نے کہا میں نے یہ حدیث نہیں سنی مگر اس عورت سے۔ لہٰذا ہم اسی عصمت اور بچاؤ کو اختیار کریں گے جس پر ہم نے لوگوں کو پایا۔ فاطمہ ؓ نے کہا میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب ہے۔ اللہ عزوجل نے فرمایا آیت ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ۔ حتی کہ یہاں تک کہ پہنچے آیت لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ اور نہ وہ عورتیں باہر نکلیں مگر ہاں کوئی کھلی بےحیائی کریں اور یہ سب خدا کے مقرر کیے ہوئے احکام ہیں اور جو شخص احکام خداوندی سے تجاوز کرے گا وہ خود اپنے اوپر ظلم کرے گا تجھ کو معلوم نہیں کہ شاید اس طلاق کے بعد اللہ کوئی نئی بات تیرے دل میں پیدا کردے۔ فاطمہ بنت قیس ؓ نے کہا یہ حکم اس کے لیے ہے۔ جس عورت کے لیے رجوع کا حق ہے سو کون ساحکم ہوسکتا ہے تین طلاقوں کے بعد اور وہ کیسے کہتے ہیں کہ اس کے لیے نفقہ نہیں ہے جب تک وہ حاملہ نہیں اور تم اسے کیسے روک سکتے ہو البتہ اس کو چھوڑدے یہاں تک کہ جب وہ حائضہ ہو کر پاک ہوجائے تو اس کو ایک طلاق دے دے۔ اگر اس کو حیض آتا ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے اور اگر اس کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت ہوجائے تو اس کو ایک طلاق دے دے۔ اگر اس کو حیض آتا ہے تو اس کی عدت تین حیض ہے اور اگر اس کو حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ماہ ہے۔ اور اگر وہ حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے۔ اور اگر وہ اس کے رجوع کا ارادہ کرے اس کی عدت کے ختم ہونے سے پہلے تو اس پر دو آدمیوں کو گواہ بنالے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واشہدوا ذوی عدل منکم عند الطلاق وعند المراجعۃ۔ اور تم دو انصاف والوں کو اپنے میں سے گواہ بنا لو طلاق کے وقت اور رجوع کے وقت پس اگر اس نے رجوع کرلیا تو وہ عورت اس کے پاس رہے گی دو طلاقوں کے اختیار کے ساتھ اور اگر اس نے رجوع نہ کیا اور جب اس کی عدت گزر گئی تو وہ ایک ہی طلاق کے ساتھ بائن ہوجائے گی۔ اس کی عدت کے گزرنے کے بعد اور اب یہ اپنے نفس کی زیادہ مالک ہوگی پھر وہ جس سے چاہے شادی کرسکتی ہے اس آدمی سے یا اس کے علاوہ کسی اور سے۔ 30۔ عبدالرزاق وابن المنذر والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ چار درجے اور مراتب ہیں ان میں سے دو حلال ہیں اور دو حرام ہیں۔ حرام یہ ہے کہ آدمی اس کو طلاق دے جبکہ وہ اس سے جماع کرتا ہے۔ اور وہ نہیں جانتا کہ اس کا رحم کسی چیز سے مشغول ہے یا نہیں۔ اور دوسرا اس کو حیض کی حالت میں طلاق دے تو یہ بھی حرام ہے لیکن حلال یہ ہے کہ آدمی عورت کو ایسے طہر میں طلاق دے جس میں اس نے جماع نہ کیا ہو اور عورت کو اس حال میں طلاق دے کہ اسکا حمل بالکل ظاہر اور واضح ہو۔ 31۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن المنذر والحاکم وصححہ وابن مردویہ ور بیہقی نے اپنی سنن میں ابن عمر ؓ سے آیت ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ کے بارے میں روایت کیا کہ عدت کے ختم ہونے سے پہلے اس عورت کا اپنے گھر سے نکلنا کھلی ہوئی بےحیائی ہے۔ 32۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ سے مراد ہے زنا۔ 33۔ عبد بن حمید نے حسن اور شعبی رحمہما اللہ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 34۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولایخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ سے مراد ہے مگر یہ کہ وہ زنا کا ارتکاب کریں (تو اس وقت اس کو نکالنا جائز ہے ) ۔ 35۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے عطاء خراسانی (رح) سے آیت ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ حکم حدود کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے کہ عورت جب زنا کا ارتکاب کرتی تھی تو اسے نکال دیا جاتا تھا۔ 36۔ عبد بن حمید نے سعید بن المسیب (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ سے مراد ہے کہ اگر وہ حد کو پہنچ جائے تو نکال دیا جائے اور اس پر حد قائم کی جائے۔ 37۔ عبدالرزاق عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن راہویہ وعبد بن حمید وابن مردویہ وابن مردویہ نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے آیت ولا یخرجن الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ۔ کے بارے میں روایت کیا کہ فاحشہ مبینہ یہ ہے کہ عورت مرد کے گھروالوں پر بد زبانی کرے۔ جب ان پر غلیظ زبان استعمال کرے تو ان کے لیے اس کا نکالنا حلال ہے۔ 38۔ عبد بن حمید نے سعید ؓ سے آیت الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اگر اس سے مراد زنا ہے جیسے تم کہتے ہو تو اس کو نکال کر رجم کیا جائے ابن عباس ؓ فرماتے تھے آیت الا ان یخشی مگر یہ کہ وہ بےحیائی کے کام کرے۔ اور وہ ہے نافرمانی کرنا۔ 39۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الفاحشۃ المبینہ سے مراد ہے بداخلاقی۔ 40۔ ابن المنذر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا ان یاتین بفاحشۃ مبینۃ سے مراد ہے بےحیائی کا کام اگر اس نے زناکر لیا تو اس کو رجم کیا جائے گا 41۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” بفاحشۃ مبینۃ “ سے مراد ہے نافرمانی کرنا۔ اور ابن مسعود ؓ کی روایت میں یوں ہے ” الا ان یفحش “ مگر یہ کہ وہی بےحیائی کا کام کریں۔ 42۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” بفاحشۃ مبینۃ “ سے مراد ہے نافرمانی۔ 43۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا۔ تجھ کو معولم نہیں کہ شاید اس طلاق کے بعداللہ کوئی نئی بات تیرے دل میں پیدا کردے۔ اگر اس کے لیے ناسب ہو کہ اس سے رجوع کرلیا جائے۔ تو اس کے گھر میں اس سے رجوع کرلے۔ تو یہ بداخلاق سے بہت دور ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کے زیادہ قریب یہ ہے کہ وہ اپنے گھر ہی میں رہے۔ 44۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ لوگ اس بات سے شرم کرتے تھے کہ عورت کو ایک طلاق دی جائے پھر اس کو چھوڑدیا جائے یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے۔ اور وہ کہتے تھے آیت لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا یعنی شاید کہ اس میں رغبت کرنے لگے۔ 45۔ ابن ابی حاتم نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کیا آیت لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا سے مراد ہے رجوع کرنا۔ 46۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ لوگ شرم کرتے تھے کہ عورت کو ایک طلاق دی جائے۔ پھر اس کو چھوڑ دے یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے۔ کیونکہ وہ نہیں جانتا شاید کہ اس سے دوبارہ نکاح کرلے۔ اور فرمایا کہ وہ لوگ اس آیت میں آیت لا تدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا کی تاویل کرتے تھے اور کہتے تھے کہ شاید وہ اس میں پھر رغبت کرنے لگے۔ 47۔ ابن ابی حاتم نے فاطمہ بنت قیس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لاتدری لعل اللہ یحدث بعد ذلک امرا سے مراد ہے شاید کہ وہ اس کی طرف رجوع کرنے میں رغبت کرنے لگے۔ 48۔ عبد بن حمید نے ضحاک اور شعبی رحمہما اللہ سے بھی اسی طرح روایت کیا۔
Ayah 65:2

فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ اَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ وَّ اَشْهِدُوْا ذَوَیْ عَدْلٍ مِّنْكُمْ وَ اَقِیْمُوا الشَّهَادَةَ لِلّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمْ یُوْعَظُ بِهٖ مَنْ كَانَ یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ١ؕ۬ وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ Open ayah 65:2 in the Quran reader

پھر جب وہ عورتیں اپنی عدت گزرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انہیں روک لو بھلائی کے ساتھ یا چھوڑ دو بھلائی کے ساتھ اور دل والے دو آدمیوں کو گواہ بنالو اور اللہ کے لیے گواہی کو قائم کرو اور یہ وہ چیز ہے جس کی اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہو وہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہے

نکاح و طلاق میں گواہ بنانا 49۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ نکاح کرنا طلاق دینا اور رجوع کرنا گواہوں کے ساتھ ثابت ہوتے ہیں۔ 50۔ عبدالرزاق نے ابن سیرین (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عمران بن حصین ؓ سے ایک آدمی کے بارے میں پوچھا جس نے طلاق دی اور گواہ نہیں بنائے اور پھر رجوع کیا گواہ نہیں بنائے۔ عمرا ؓ نے فرمایا اس نے بہت برا کیا اس نے طلاق میں بدعت کا ارتکاب کیا اور اس نے سنت کے خلاف رجوع کیا اس کو چاہیے تھا کہ اپنی طلاق پر اور اپنے رجوع پر گواہ بناتا اب اسے چاہیے کہ اللہ سے استغفار کرے۔ 51۔ سعید بن منصور وعبد بن منصور وعبد بن حمید نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ مسلمانوں میں انصاف اس نے کیا کہ جس کے کام میں شک ظاہر نہ ہو۔ 52۔ ابن المنذر نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت واقیموا الشہادۃ للہ۔ اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو۔ سے مراد ہے جب تم کسی چیز پر گواہی دو تو اس کو قائم کرو یعنی سچی گواہی دو ۔ 53۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے نبی اکرم ﷺ سے گواہی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا گواہی نہ دے مگر سورج کی مثل یعنی سورج کی واضح گواہی دے یا اس کو چھوڑدے۔ 54۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ کسی گواہی پر دو ۔ یہاں تک کہ وہ تیرے نزدیک سورج کی روشنی میں سے زیادہ روشن اور واضح ہو۔ بغیر مطالبہ کے گواہی دینا 55۔ ابن مردویہ نے ابوقتادہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ ہے جس کے پاس گواہی اور کوئی اس کو نہ جانتا ہو تو، تو اس کو جلدی ادا کردے پہلے اس سے کہ تجھ سے مطالبہ کیا جائے۔ 56۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں۔ یعنی اس کے نکلنے کا راستہ یہ ہے کہ وہ جان لے کہ یہ اللہ کے حکم سے ہے۔ اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے کہ وہ اس کو عطا بھی کرتا ہے اور وہ اس کو روک بھی لیتا ہے اور وہی آزمائش میں مبتلا کرتا ہے اور وہی اس سے نجات بھی دیتا ہے۔ اور وہی اسے دور بھی کرتا ہے۔ اور فرمایا آیت ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔ اور اس کو اس جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا یعنی اس جگہ سے جس کو وہ جانتا ہی نہیں۔ 57۔ سعید بن منصور اور بیہقی نے شعب الایمان میں مسروق (رح) سے بھی اسی طرح روایت کیا۔ 58۔ عبد بن حمید و ابونعیم نے الحلیہ میں قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا سے مراد ہے کہ جو اللہ سے ڈرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کہ شبہات سے اور موت کے وقت کی تلخی سے۔ اور قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں سو تم اللہ سے ڈرو اور تقویٰ کو لازم پکڑو کیونکہ اس کے سبب رزق ہے اللہ کی طرف سے دنیا میں اور ثواب ہے آخرت میں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت واذتاذن ربکم لئن شکرتم لازیدنکم ولئن کفرتم ان عذابی لشدید۔ اور جب تمہارے رب نے یہ سنا دیا تھا کہ البتہ اگر تم شکر گذاری کرو گے تو اور زیادہ دوں گا اور اگر ناشکری کرو گے تو عذاب بھی سخت ہے۔ اور یہاں فرمایا آیت ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔ اور اس کو رزق دوں گا ایسی جگہ سے جہاں اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔ یعنی ایسی جگہ سے جہاں سے اس کو کسی قسم کی آرزو اور امید نہ تھی۔ 59۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا۔ ویرزقہ من حیث لا یحتسب سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے دنیا اور آخرت کی ہر تکلیف اور کرب سے نجات عطا فرمادیتے ہیں۔ 60۔ ابو یعلی وابو نعیم والدیلمی نے عطا بن یسار کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے لیے دنیا کے شبہات سے، موت کی تلخیوں اور قیامت کے دن کی سختیوں سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں۔ 61۔ ابن مردویہ وابن عساکر نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ میرے بعض آباء و اجداد میں سے کسی نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دی۔ اس کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے باپ نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دی۔ اس کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے باپ نے ہماری ماں کو ایک ہزار طلاق دی۔ اس کے بیٹے رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے۔ اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ہمارے باپ نے ہماری ماں کو ایک ہزار طلاق دی ہے۔ کیا اس کے لیے کوئی نکلنے کا راستہ ہے تو آپ نے فرمایا بلاشبہ تمہارا باپ اللہ سے نہیں ڈرا کہ وہ اس کے لیے اس معاملہ سے کوئی نکلنے کا راستہ بناتا اب وہ سنت طریقے کے خلاف تین طلاقوں کے ساتھ اس سے جدا ہوچکی ہے اور باقی طلاقیں اس کی گردن میں گناہ ہیں۔ 62۔ الحاکم وصححہ وضعفہ الذہبی نے سالم بن ابی جعد کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ یہ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب اشجع قبیلہ کے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی جو فقیر اور تنگ دست تھا اور کثیر العیال تھا۔ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور سوال کیا آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر کر۔ تو اس کا بیٹا جو قید میں تھا وہ واپس لوٹ آیا جس کو ابونعیم کہا جاتا تھا۔ دشمن نے اسے قید کر رکھا تھا پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس واقعہ کی خبر بھی دی اور اس کے سوا کچھ اور بھی سوال کیا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ومن یتق اللہ الایۃ۔ 63۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے سالم بن الجعد (رح) سے روایت کیا کہ یہ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا بنی اشجع میں سے ایک آدمی کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ بہت مشقت اور آزمائش میں مبتلا تھا۔ اور وہ دشمن نے اس کے بیٹے کو قید کرلیا تھا۔ وہ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر اور صبر کر اس کا بیٹا لوٹ آیا جو قید تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کو رہائی دلا دی۔ وہ ان کے پاس آیا اس حال میں کہ بہت ساری بکریاں بھی ہانک کرلے آیا پھر وہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس کا ذکر کیا تو یہ آیت نازل ہوئی، نبی اکرم ﷺ نے فرمایا یہ آیت تیرے ہی لیے ہے۔ 64۔ الخطیب فی تاریخہ جویبر کے طریق سے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ الایۃ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ آیت عوف بن مالک اشجعی ؓ کے بیٹے کے بارے میں نازل ہوئی کہ مشرکوں نے اس کو قید کرلیا تھا۔ اور اس کو بادنھ دیا اور اس کو بھوکا رکھا۔ اس نے اپنے باپ کی طرف لکھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوں اور آپ سے میری اس تنگی اور تکلیف کے بارے میں عرض کریں۔ جب اس نے رسول اللہ ﷺ کو خبر دی تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس کی طرف لکھو اور اس کو بتاؤ اور اس کو حکم دو تقویٰ کا اور اللہ پر توکل کرنے کا۔ اور وہ صبح اور شام کو یہ آیت پڑھا کرے۔ آیت لقد جاء کم رسول من انفسکم عزیز علیہ ما عنتم حریص علیکم بالمومنین رؤ ورحیم فان تولوا فقل حسبی اللہ لا الہ الا ہو علیہ توکلت وہو رب العرش العظیم۔ البتہ تحقیق تمہارے پاس تم میں سے رسول آیا ہے اسے تمہاری تکلیف گراں معلوم ہوتی ہے تمہاری بھلائی پر وہ حریص ہے۔ مومنوں پر نہایت شفقت کرنے والا مہربان ہے۔ اگر یہ لوگ پھرجائیں تو کہہ دو مجھے اللہ کافی ہے اس کے سوا اور کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میں بھروسہ کرتا ہوں اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے۔ جب اس کے پاس یہ خط پہنچا۔ اور اس نے یہ پڑھنا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کی بیڑیاں کھول دیں۔ پھر وہ ان کی وادیوں میں گذرا جن میں ان کے اونٹ اور ان کی بکریاں چر رہی تھیں۔ اس نے ان کو ہانکا اور نبی اکرم ﷺ کے پاس لے آیا۔ اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں نے ان کو دھوکہ دیا۔ جب اللہ تعالیٰ نے میری بیڑیاں کھول دیں۔ کیا یہ جانور میرے لیے حلال ہیں یا حرام ہیں ؟ آپ نے فرمایا بلکہ وہ حلال ہیں جب ہم چاہیں گے خمس لے لیں گے۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ورزقہ من حیث لا یحتسب ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ ان اللہ بالغ امرہ قد جعل اللہ لکل شیء قدرا۔ اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے نجات کی شکل نکال دیتا ہے اور اس کو اس جگہ سے رزق بھی پہنچاتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا اور جو شخص اللہ پر توکل کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اور اللہ اپنا کام جس طرح چاہے پورا کرکے رہتا ہے۔ تحقیق اللہ تعالیٰ نے تنگی اور خوشحالی میں سے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ اور ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ جو شخص یہ آیت کسی بادشاہ کے سامنے پڑھے گا کہ جس کے ظلم سے ڈرتا ہو یا ایسی موج کے پاس جس کے غرق کردینے کا خوف ہو یا کسی درندے کے پاس تو ان میں سے کوئی چیز بھی اسے نقصان نہ دے گی۔ 65۔ ابن مردویہ نے کلبی کے طریق سے ابو صالح سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ عوف بن مالک اشجع ؓ آئے اور اس نے کہا یارسول اللہ ! میرے بیٹے کو دشمن نے قید کرلیا ہے اور اس کی ماں بہت غمزدہ ہے اب آپ مجھے کیا حکم فرماتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا میں تجھ کو اور خاص کر اس کو لا حول ولا قوۃ الا باللہ کثر سے پڑھنے کا حکم دیتا ہے اس کی بیوی نے کہا آپ ﷺ نے تجھے انتہائی خوبصورت حکم دیا ہے۔ تو دونوں میاں بیوی نے اس کو کثرت سے پڑھنا شروع کیا تو دشمن اس سے غافل ہوگیا تو وہ ان کی بکریوں کو ہانک کر اپنے باپ کے پاس لے آیا۔ یہ آیت نازل ہوئی آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا۔ الآیۃ۔ 66۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا جو ابو قیس بن مخرمہ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ مالک اشجعی ؓ نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا اور ان سے کہا ابن عوف قید کرلیا گیا۔ آپ نے اس سے فرمایا اس کی طرف پیغام بھیجو کہ رسول اللہ ﷺ تجھ کو حکم فرماتے ہیں کہ لا حول ولا قوۃ الا باللہ کی کثرت کرو اور انہوں نے اس کو چمڑے کے تسمے کے ساتھ باندھ رکھا تھا اس کے سبب وہ چمڑہ اس سے کٹ گیا اور وہ باہر نکل آیا تو اس نے ان کی اونٹنی پکر لی وہ اس پر سوار ہو کر اسے لے آیا جب اس قوم کو معلوم ہوا جنہوں نے اس کو قید کر رکھا تھا۔ تو وہ چیخنے چلانے اور ایک دوسرے کے پیچھے دوڑ پڑے اور وہ اچانک بڑی تیزی کے ساتھ اپنے والدین کے پاس آیا اور وہ دروازے پر آوازیں دینے لگا۔ پھر اس کا باپ رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو اس کی خبر دی تو یہ آیت نازل ہوئی آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا الایۃ۔ مالک بن عوف کے بیٹے کی رہائی 67۔ عبد بن حمید والحاکم وابن مردویہ نے ابوعیینہ سے اور بیہقی نے دلائل میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا میں یہ خیال کرتا ہوں کہ وہ عوف بن مالک ؓ تھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ بنی فلاں نے مجھ پر غارت گری کی اور میرے بیٹے کو لے گئے اور رونے لگا آپ ﷺ نے اسے فرمایا تو اللہ تعالیٰ سے التجا کر پھر وہ اپنی بیوی کے پاس لوٹ آیا اس نے اس سے پوچھا رسول اللہ ﷺ نے تجھ کو کیا جواب دیا تو اس نے بیوی کو صورتحال بتادی ابھی زیادہ وقت نہ گذرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اونٹ اور اس کے بیٹے کو واپس لوٹا دیا۔ اور یہ اونٹ پہلے سے کہیں زیادہ تھے پھر وہ نبی ﷺ کے پاس آیا اور آپ کو ساراحال بتایا۔ آپ منبر پر کھڑے ہوئے اللہ کی حمد وثنا بیان کی۔ اور لوگوں کو اللہ سے مانگے اور اس کی طرف رغبت رکھنے کا حکم فرمایا۔ اور ان پر یہ آیت پڑھی آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا۔ آیت ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔ 68۔ ابن ابی حاتم نے عائشہ ؓ سے آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا کے بارے میں روایت کیا کہ جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے وہ اسے دنیا کے غموں اور اس کی پریشانیوں سے کافی ہوجاتا ہے۔ 69۔ احمد والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت پڑھنی شروع کی آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔ اور اس کو بار بار دہراتے رہے یہاں تک کہ میں اونگھنے لگا پھر فرمایا اے باوذرا ! اگر سارے لوگ اس کو اپنا لیں تو ان سب کے لیے کافی ہوجائے۔ 70۔ طبرانی وابن مردویہ نے معاذ بن جبل ؓ سے روایت کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا۔ اے لوگو ! تجارت بنالو اللہ کے خوف اور تقویٰ کو وہ تم کو رزق عطا کرے گا۔ بغیر تجارت اور بغیر سامان کے۔ پھر یہ آیت پڑھی۔ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا ویرزقہ من حیث لا یحتسب۔ 71۔ احمد والنسائی وابن ماجہ نے ثوبان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بلاشبہ بندہ رزق سے محروم کردیا جاتا ہے اس گناہ کی وجہ سے جس کو وہ پہنچتا ہے اور کوئی چیز تقدیر کو رد نہیں کرسکتی سوائے دعا کے اور عمر میں کوئی چیز اضافہ نہیں کرتی سوائے نیکی کے۔ 72۔ احمد وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص استغفار کی کثرت کرلے گا اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر غم اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ بنادے گا۔ اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائیں گے جہاں سے اس کو گمان بھی نہ ہوگا۔ 73۔ ابن ابی حاتم والطبرانی اور الخطیب نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کی رضا کے لیے ہر چیز سے کٹ گیا تو اللہ تعالیٰ اس کی ہر مشقت اور تکلیف کے لیے کافی ہے اور اس کو ایسی جگہ سے رزق عطا فرماتے ہیں جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا اور جو دنیا کے لیے ہر چیز سے کٹ گیا تو اللہ تعالیٰ اس کو اس کے سپرد کردیتا ہے۔ 74۔ بخاری نے اپنی تاریخ میں اسماعیل الجبی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا اگر تم اس کام سے رکے رہو جہاں سے تم کو رکنے کا حکم دیا گیا تو تم بغیر کھیتی اگائے کھاؤ گے۔ 75۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر نے ربیع بن خثیم (رح) سے آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا کے بارے میں روایت کیا کہ جو اللہ سے ڈرتا رہتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ہر اس چیز سے نکلنے کا راستہ بنادیتے ہیں جو لوگوں پر تنگ ہوجائے۔ 76۔ عبدالرزاق وابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یتق اللہ یجعل لہ مخرجا میں مخرجا سے مراد ہے نجات۔ رسول اللہ ﷺ کی وصیت۔ 77۔ احمد نے ابوذر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا میں تجھے اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں تیرے چھپے ہوئے اور اعلانیہ کاموں میں جب گناہ ہوجائے تو نیک کام کرلے اور کسی سے کسی چیز کا سوال نہ کر اور کسی کی امانت نہ رکھ اور دو کے درمیان فیصلہ نہ کر۔ 78۔ احمد نے ابو سعید خدر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا میں تجھ کو اللہ کے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں۔ کیونکہ یہ ہر عمل کی اصل ہے۔ اور تو لازم پکڑ جہاد کو۔ کیو کہ وہ اسلام کی رہابیت ہے۔ اور لازم پکڑ اللہ کے ذکر کو اور قرآن کی تلاوت کو۔ کیونکہ وہ تیری روح ہے آسمانوں میں اور تیرا ذکر ہے زمین میں۔ 79۔ ابن سعد واحمد نے فرغام بن علیبہ بن حرولہ العنبری سے روایت کیا اور وہ باپ دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نبی ﷺ کے پاس آیا۔ میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! مجھے کوئی نصیحت کیجیے۔ آپ نے فرمایا اللہ سے ڈر۔ اور جب تو کسی مجلس میں ہو پھر اس سے اٹھے اور تو ان سے کوئی ایسی بات سنے جو تجھے پسند ہے تو اسے اپنا لے اور جب تو ان سے ایسی بات سنے جو تجھے ناپسند ہو اور تو اسے چھوڑ دے۔ 80۔ احمد نے الزہد میں وہب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتابوں میں ایک کتاب میں پایا کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں میں اپنے مومن بندے کے ساتھ ہوں۔ جب وہ میری اطاعت کرتا ہے تو میں اس کو سوال کرنے سے پہلے عطا کرتا ہوں۔ اور میں اس کے دعا مانگنے سے پہلے ہی اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔ اور میں اپنے مومن بندے کی روح قبض کرنے سے بڑھ کر کسی چیز میں متردد نہیں ہوتا کیونکہ وہ اس کو ناپسند کرتا ہے اور اس سے غمزدہ ہوتا ہے تو میں بھی اس کو ناپسند کرتا ہوں کہ میں اس کو غمگین کروں اور اس کے لیے اس سے کوئی دوسرا چارہ نہیں اور اس کے لیے میرے پاس کوئی خیر نہیں۔ جب میرا بندہ میری اطاعت کرتا ہے اور میرے حکم کی تابعداری کرتا ہے۔ اگر اس پر ساتوں آسمان اور ساتوں زمین اور جو کچھ ان میں ہے سب پھینک دئیے جائیں تو میں ان کے درمیان اس کے نکلنے کا راستہ بنا دیتا ہوں۔ اور جب میری نافرمانی کرتا ہے اور میرے حکم کی تابعداری نہیں کرتا تو میں آسمانوں کے اسباب سے اس کے ہاتھ کاٹ دیتا ہوں اور اس کو زمین میں دھنسا دیتا ہوں۔ اس کے قدموں کے نیچے سے اور اس کو خواہشات میں چھوڑ دیتا ہوں وہ کسی چیز سے بھی مدد حاصل نہیں کرسکتا۔ بیشک زمین کا بادشاہ بھی میرے نزدیک عاجز اور خاموش ہوتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنے ہتھیار کو ڈال دے تلوار نہیں کاٹتی ہے مگر ہاتھ کے ساتھ اور کوڑا نہیں مارا جاسکتا مگر ہاتھ کے ساتھ۔ وہ نہیں پہنچ سکتا اس میں سے کسی چیز کی طرف مگر میری اجازت سے۔ تقویٰ کی برکت سے ہر پریشانی سے نجات 81۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ زیاد نے حکم بن عمرو غفاری (رح) کو لکھا اور وہ خراسان کے گورنر تھے کہ امیر المومنین نے میری طرف لکھا کہ وہ ان کے لیے سونے اور چاندی کو جمع کرے۔ اور لوگوں کے درمیان سونے اور چاندی کو تقسیم نہ کرے۔ میں نے اس کی طرف لکھا کہ آپ کا خط میرے پاس پہنچا۔ اور میں نے اللہ کی کتاب کو امیر المومنین کی کتاب سے پہلے پایا۔ اور اللہ کی قسم اگر آسمان و زمین واقع ہوجائیں اس کے بندے پر پھر وہ اللہ سے ڈرے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دیتا ہے اور سلام ہو آپ پر پھر انہوں نے اعلان کردیا اے لوگو ! اپنے مالوں پر صبح سویرے آجاؤ پھر آپ نے وہ مال ان کے درمیان تقسیم کردیا۔ 82۔ ابن ابی شیبہ نے عروہ سے روایت کیا کہ حضرت عائشہ ؓ نے معاویہ ؓ کی طرف دیکھا۔ کہ میں تم کو اللہ کے ڈرنے کی وصیت کرتی ہوں۔ بلاشبہ اگر تو اللہ سے ڈرے گا تو وہ تمہارے لیے لوگوں کے مقابلے میں کافی ہوجائے گا اور اگر تو لوگوں سے ڈرا تو لوگ اللہ کے مقابلے میں تیرے ذرا بھی کام نہیں آئیں گے۔ 83۔ ابن حبان فی الضعفاء والبیہقی فی الشعب الایمان اور عسکری نے الامثال میں حضرت علی ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ بلاشبہ احسان دین والے یا حسب والے سے ہوتا ہے۔ ضعیف اور کمزور لوگوں کا جہاد حج ہے۔ اور عورت کا جہاد اپنے شوہر کی اچھی اطاعت کرنا ہے اور آپس میں محبت کرنا آدھا ایمان ہے کوئی آدمی میانہ روی کرنے والا محتاج نہیں ہوتا اور صدقہ کے ذریعہ رزق کو نیچے اتارو اور اللہ تعالیٰ نے اپنے ایمان والے بندوں کو وہاں سے رزق عطا فرماتا ہے جہاں سے ان کو گمان بھی نہیں ہوتا۔
Ayah 65:3

وَّ یَرْزُقْهُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ فَهُوَ حَسْبُهٗ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ بَالِغُ اَمْرِهٖ١ؕ قَدْ جَعَلَ اللّٰهُ لِكُلِّ شَیْءٍ قَدْرًا Open ayah 65:3 in the Quran reader

اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے ملنے کا گمان بھی نہ ہو اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرلے سو وہ اس کے لیے کافی ہے بلاشبہ اللہ اپنا کام پورا ہی کر کے رہتا ہے، بیشک اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر فرمایا ہے

84۔ ابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ومن یتوکل علی اللہ فہو حسبہ اور جو شخص اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے کافی ہے۔ سے مراد ہے کہ وہ متوکل نہیں ہے جو کہتا ہے کہ میری حاجت پوری کی جائے گی جس کسی نے اللہ پر توکل کیا اس کے لیے یہ نہیں ہے اور اس کی تمام مشکلات اور مہمات میں اللہ تعالیٰ اس کو کافی ہوگا اور دور فرمادے گا اس سے ہر اس چیز کو جس کو وہ ناپسند کرتا ہے اور اس کی ہر حاجت پوری فرمادے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضیلت دی ہے اس شخص کو جس نے توکل کیا اس شخص پر جس نے توکل نہیں کیا یہ کہ اس کے گناہوں کو مٹا دے گا اور اسے اجر عظیم عطا فرمائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت قد جعل اللہ لکل شیء قدرا کے بارے میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کے لیے ایک مدت اور انتہامقرر کردی ہے جہاں پہنچ کر وہ چیز ختم ہوجاتی ہے۔ 85۔ سعید بن منصور والبیہقی فی شعب الایمان میں عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم اللہ پر اس طرح توکل کروگے جیسے حق ہے اس پر توکل کرنے کا تو تم کو اس طرح رزق دے گا جیسے پرندوں کو رزق دیتا ہے کہ وہ صبح کو بھوکے نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس آتے ہیں۔ 86۔ ابن مردویہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص راضی رہا اور تھوڑے رزق پر قناعت کی۔ اور اللہ پر بھروسہ کیا تو یہی طلب کے لیے کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ و توکل 87۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے ایک مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس کو یہ بات پسند ہو کہ وہ لوگوں سے زیادہ طاقتور ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ اللہ پر بھروسہ کرے اور جس کو یہ پسند ہو کہ لوگوں سے سب سے زیادہ غنی ہوجائے تو اس کو چاہیے کہ جو کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے اس پر زیادہ بھروسہ کرنے والا ہوجائے اس سے جو کچھ اس کے اپنے ہاتھ میں ہے اور جو اس بات کو پسند کرے کہ لوگوں میں سب سے زیادہ عزت والا ہوجائے۔ تو اس کو چاہیے کہ تقویٰ اختیار کرے۔ 88۔ ابو داوٗد والترمذی والحاکم وصححہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس شخص پر فاقہ اور غربت طاری ہوگئی اور اس نے اس کے اترنے کا سبب لوگوں کو قرار دیا (کہ لوگوں سے مانگنا شروع کردیا) تو اس کا فاقہ اور غربت ختم نہ ہوگی اور جس پر فاقہ اور غربت طاری ہوگئی اور اس نے اس کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے قرار دیا (یعنی وہ صرف اللہ سے مانگتا ہے) تو قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو جلدی یا دیر میں رزق عطا فرمائیں گے۔ 89۔ الطبرانی نے الاوسط میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بھوکا یا محتاج ہو۔ اور اس نے اسے لوگوں سے چھپائے رکھا۔ اور اپنی حاجت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیا تو اللہ پر حق ہے کہ اس کے لیے ایک سال کی خوراک کا کوئی حلال راستہ کھول دے۔ 90۔ احمد نے الزہد میں وہب ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں جب میرا بندہ میرے اوپر توکل کرے گا اگر آسمان اور زمین بھی اس پر گرپڑیں تو میں اس کے لیے ان کے درمیان نکلنے کا راستہ بنادوں گا۔ 91۔ عبداللہ (امام احمد (رح) کے صاحبزادے) نے زوائد الزہد میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عیسیٰ (علیہ السلام) کی طرح وحی بھیجی۔ اپنے رنج وغم کے لیے مجھے اپنے دل میں داخل کرے اور مجھے ذخیرہ بنالے اپنی آخرت کے لیے اور مجھ پر بھروسہ رکھ میں تجھ کو کافی ہوجاؤں گا۔ اور میرے علاوہ کسی کی طرف نہ پھر جا کہ میں اس کو پکڑ لوں۔ 92۔ احمد نے الزہد میں عمار بن یاسر ؓ سے روایت کیا کہ موت نصیحت کے لیے کافی ہے اور غنی کے لیے یقین کافی ہے اور مشغولیت کے لیے عبادت کافی ہے کہ عبادت میں لگا رہے۔