Explained with ayahs 11–12
سعادت مند آسیہ (فرعون کی بیوی)
یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے لئے مثال بیان فرما کر ارشاد فرماتا ہے کہ اگر یہ اپنی ضرورت پر کافروں سے خلط ملط ہوں تو انہیں کچھ نقصان نہ ہوگا جیسے اور جگہ ہے ترجمہ الخ ایمانداروں کو چاہئے کہ مسلمانوں کے سوا اوروں سے دوستیاں نہ کریں جو ایسا کرے گا وہ اللہ کی طرف سے کسی بھلائی میں نہیں ہاں اگر بطور بچاؤ اور دفع الوقتی کے ہو تو اور بات ہے، حضرت فتادہ فرماتے ہیں روئے زمین کے تمام تر لوگوں میں سب سے زیادہ سرکش فرعون تھا لیکن اس کے کفر نے بھی اس کی بیوی کو کچھ نقصان نہ پہنچایا اس لئے کہ وہ اپنے زبردست ایمان پر پوری طرح قائم تھیں اور رہیں جان لو کہ اللہ تعالیٰ عادل حاکم…
Read the full tafseer →سورة التَّحْرِيْم 25
یعنی فرعون جو برے اعمال کر رہا ہے ان کے انجام بد میں مجھے شریک نہ کر۔
Read the full tafseer →(آیت) وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ
یہ مثال فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم کی ہے جس وقت موسیٰ ؑ جادوگروں کے مقابلے میں کامیاب ہوئے اور جادوگر مسلمان ہوگئے تو اس بی بی نے اپنے ایمان کا اظہار کردیا، فرعون نے ان کو سخت سزا دینا تجویز کیا، بعض روایات میں ہے کہ ان کو چومیخہ کرکے سینے پر بھاری پتھر رکھدیا یعنی چاروں ہاتھوں پیروں میں میخیں گاڑ دیں کہ حرکت نہ کرسکیں۔ اس حالت میں انہوں نے اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کی جو اس آیت میں مذکور ہے اور بعض روایات میں ہے کہ یہ تجویز کیا کہ اوپر سے بہت بھاری پتھر…
Read the full tafseer →(وضرب اللہ مثلاً للذین امنوا امرات فرعون اذقالت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ و نجنی من فرعون وعملہ ونجنی من القوام الظلمین) (11)
(برے سے برے ماحول کے اندر بھی اپنے ایمان کی حفاظت واجب ہے)۔ یہ مثال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کی سبق آموزی کے لیے بیان فرمائی ہے کہ برے سے برے ماحول کے اندر بھی آدمی پر اپنے ایمان کی حفاظت واجب ہے۔ اگر اس ماحول کے اندر سے عیش حاصل ہو جب بھی اس کے ایمان کا تقاضا ہے کہ وہ محسوس کرے کہ گویا وہ اسے کاٹے کھا رہا ہے اور اگر وہ اس کے لیے دارالعذاب ہو جب بھی وہ ہر قسم کے مصائب جھیل کر اپنے ایمان کی حفاظت کرے۔ فرمایا کہ فرعون کی بیوی ملکہ تھیں اور محل میں رہتی تھیں ان کی دعا…
Read the full tafseer →11۔ 1 یعنی ان کی ترغیب ثبات قدمی، استقامت فی الدین اور شدائد میں صبر کے لئے۔ نیز یہ بتلانے کے لئے کہ کفر کی صولت و شوکت، ایمان والوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی، جیسے فرعون کی بیوی ہے جو اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کے تحت تھی۔ لیکن وہ اپنی بیوی کو ایمان سے نہیں روک سکا۔
Read the full tafseer →12: فرعون کی بیوی کا نام آسیہ تھا، اور جب حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے جادوگروں پر فتح عطا فرمائی تو ان جادوگروں کے ساتھ وہ بھی حضرت موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئی تھیں، جس کے نتیجے میں فرعون نے ان پر بہت ظلم ڈھائے، اس موقع پر انہوں نے یہ دعا فرمائی اور بعض روایات میں آیا ہے کہ فرعون نے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ کر اوپر سے ایک پتھر پھینکنے کا ارادہ کیا تھا، لیکن اس سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے ان کی روح قبض فرمالی۔ (روح المعانی)
Read the full tafseer →دیکھئے فرعون کی بیوی کو ، کفر کا طوفان متاثر نہ کرسکا حالانکہ وہ اس طوفان میں زندگی بسر کررہی تھی ، فرعون کے محل میں۔ وہ اس سے نجات طلب کرتی تھی اور حقیر فرعون کے مقابلے میں جنت میں محل چاہتی تھی۔ اور وہ فرعون کے کفر کے ساتھ نہ تھی ، اس سے نجات طلب کررہی تھی ، اور اس کی خواہشات یہ تھیں :
اذ قالت .................... الظلمین (66 : 11) ” جب کہ اس نے کہا کہ ” اے میرے رب ! میرے لئے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے “۔
فرعون کی مومنہ بیوی کی دعا ایک مثال ہے اس بات کی کہ جب ایمان راسخ ہوجاتا ہے تو ایک مومنہ دنیا کی اعلیٰ ترین زندگی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
6 یعنی حضرت نوح اور حضرت لوط کیسے نیک بندے، مگر دونوں کے گھر میں ان کی بیویاں منافق تھیں۔ بظاہر ان کے ساتھ تعلق تھا لیکن دل سے کافروں کے شریک حال تھیں۔ پھر کیا ہوا ؟ عام دوزخیوں کے ساتھ ان کو بھی اللہ نے دوزخ میں دھکیل دیا پیغمبروں کا رشتہ، زوجیت ذرا بھی عذاب الٰہی سے نہ بچا سکا۔ ان کے برعکس فرعون کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم، پکی ایماندار، ولی کامل، اور اس کا شوہر خدا کا سب سے بڑا باغی۔ وہ نیک بیوی میاں کو خدا کے عذاب سے نہ چھڑا سکی۔ نہ میاں کی شرارت و بغاوت کے جرم میں بیوی کو کچھ آنچ پہنچی۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " یعنی اپنا ایمان درست کرو۔ نہ خاوند بچا سکے نہ جورو، یہ (قانون عام طور پر)…
Read the full tafseer →آیت 1 1{ وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ 7 } ”اور اہل ِا یمان خواتین کے لیے اللہ نے مثال بیان کی ہے فرعون کی بیوی کی۔“
ان کا نام حضرت آسیہ رض بنت مزاحم بیان کیا جاتا ہے۔ دریائے نیل سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا صندوق ان ہی نے نکالا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش کا اہتمام کیا تھا۔ بعد میں وہ مسلمان ہوگئی تھیں اور ہمیشہ فرعون کے مقابلے میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف داری کیا کرتی تھیں۔ جب فرعون کو پتا چل گیا کہ آسیہ اسے خدا نہیں مانتی اور موسیٰ علیہ السلام پر ایمان لا چکی ہے تو اس نے ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ ڈالے۔
{ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ…
Read the full tafseer →23 سیدہ مریم اور سیدہ آسیہ زوجہ فرعون کی فضیلت :۔ یہ فرعون کی وہی بیوی آسیہ تھی جس نے فرعون کو کہا تھا کہ دیکھو یہ (سیدنا موسیٰ ) کتنا پیارا بچہ ہے۔ کیوں نہ ہم اس کی تربیت کریں اور اسے اپنا بچہ بنالیں۔ پھر اس کی تربیت بھی کی تھی۔ وہ سیدنا موسیٰ پر ایمان لاچکی تھی۔ جب فرعون پر اس کے ایمان کا حال کھلا تو اسے طرح طرح کی ایذائیں پہنچانے لگا۔ پھر جب آسیہ اپنے ایمان پر قائم رہی تو اس نے اپنی عافیت اسی میں سمجھی کہ اسے مروا ڈالے۔ اس وقت اس نے پروردگار سے دعا کی کہ مجھے اب ان ظالموں سے نجات عطا فرما۔ اور مجھے اپنے ہاں بلا لے اور جنت میں میرے رہنے کو ایک گھر بنادے۔ اس کی یہ دعا قبول ہوگئی اور موت آنے…
Read the full tafseer →18۔ (یہ ظاہر کرنے کو کہ اپنا ایمان اور اپنی صالحیت بالکل کافی ہیں۔ اور جب یہ موجود ہوں، تو پھر کسی غیر مومن سے مادی تلبث یا انتساب راہ فلاح میں ہرگز حائل نہیں ہوسکتا)
19۔ یعنی ان کافروں کے شر سے، اور ان کے ضرر حسی اور معنوی ہے۔ (آیت) ” امرات فرعون “۔ فرعون موسوی پر حاشیے بار بار گزر چکے۔ زوجہ فرعون سے مراد حضرت بی بی آسیہ (علیہ السلام) ہیں، جنہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو شیر خوارگی کے زمانہ میں دریائے نیل سے نکال کر ان کی پرورش کی تھی۔ حاشیہ ان پر بھی گزر چکا۔ (آیت) ” ونجنی من فرعون وعملہ “۔ یعنی اے پروردگار، کہیں فرعون اور اس کے اعمال کفر کا وبال میرے اوپر نہ پڑنے لگے ! آیت سے معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرأت فرعون (الآیۃ) یہ مثال فرعون کی بیوی آسیہ بنت مزاحم کی ہے جس وقت موسیٰ (علیہ السلام) جادوگروں کے مقابلہ میں کامیاب ہوئے اور جادو گر ایمان لے آئے تو آسیہ بنت مزاحم نے بھی اپنے ایمان کا اظہار کردیا، فرعون نے ان کو سخت سزا دینا تجویز کی، بعض روایات میں ہے کہ ان کو چومیخہ کر کے ان کے سینے پر بھری پتھر رکھ دیا، مگر ان سب کچھ کے باوجود کفر کی صولت و شوکت ان کی استقامت فی الدین، شرائد و مصائب پر صبر و ثابت قدمی کو متزلزل نہ کرسکی۔
وصدقت بکلمات ربھا وکتبہ کلمات سے مراد آسمانی صحیفے ہیں اور کتب سے مراد مشہور آسمانی کتابیں ہیں۔
بحمدتم اللہ
Read the full tafseer →و ضرب اللہ ...
الظالمین .
” اور اللہ مسلمانوں (کی تسلی) کیلئے فرعون کی بی بی کا حال بیان کرتا ہے جب کہ اس بی بی نے دعا کی ‘ اے میرے ربّ ! میرے لیے اپنے قرب میں جنت کے اندر ایک مکان بنا دے اور مجھے فرعون اور اسکے عمل (کفر و شرک) سے محفوظ رکھ اور مجھے ان ظالموں (یعنی کافروں سے) بچا۔ “
اِمْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : فرعون کی بی بی کا نام آسیہ بنت مزاحم تھا ‘ فرعون جو دشمن خدا تھا ان کا شوہر تھا لیکن فرعون کے کافر ہونے کا کوئی ضرر ان کو نہیں پہنچا (یہ مخلص مؤمنہ اور اللہ کی مقبول بندی تھیں) ۔
اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے تو اس سے متاثر ہو کر آسیہ ایمان لے آئیں (اور حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →اب اللہ تعالیٰ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو حضرت آسیہ اور حضرت مریم کا تذکرہ کر کے توبہ اور احسان کی ترغیب دیتے ہیں۔ اب اللہ تعالیٰ دو مومنہ عورتوں کا واقعہ فرماتا ہے جن میں ایک حضرت آسیہ فرعون کی بیوی انہوں نے فرعون کے عذاب میں دعا کی اے پیروردگار میرے لیے اپنے قریب میں مکان بنایئے تاکہ اس خوشی میں مجھ پر فرعون کا یہ عذاب آسان ہوجائے اور مجھے فرعون کے دین اور اس کے عذاب سے اور کافر لوگوں سے محفوظ رکھیے، چناچہ ان کے اس ایمان و اخلاص کی وجہ سے فرعون کا کفر ان کو کچھ نقصان نہ پہنچا سکا۔
Read the full tafseer →1۔ وَضَرَبَ اللہ ُ مَثَـلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : یہ ایمان کی برکت کی مثال ہے کہ ”رب اعلیٰ“ ہونے کا دعویٰ کرنے والے ”کافر اعظم“ کی بیوی جب ایمان لے آئی تو خاوند کی فرعونیت نے اسے ایمان لانے سے روک کسی اور نہ ہی آخرت کے معاملے میں اس کا کوئی نقصان کر کسی۔ اس عظیم خاتون کا نام آسیہ ہے ، وہ موسیٰ ؑ پر ایمان لے آئی تو فرعون نے ایک طرف اسے عالی شان محلات اور ہر قسم کی دنیوی آسائشوں کا لالچ دیا اور دوسری طرف ایمان سے باز نہ آنے پر سب کچھ چھین لیا اور اسے بےپناہ اذیتیں دینے کا سلسلہ شروع کردیا۔ اس پر اس نے اللہ تعالیٰ نے فرعون کے محلات اور آسائشوں کے بدلے میں اپنے پڑوس میں جنت…
Read the full tafseer →وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرات فرعون فرعون کی بیوی کا نام حضرت آسیہ بنت مزاحم تھا (2) ۔ یحییٰ بن سلام نے کہا، یہ ارشاد ایک مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس لئے بیان فرمائی جس کے ساتھ وہ حضرت عائشہ صدیقہ اور حضرت حفصہ کو خبردار کرنا چاہتا ہے جب انہوں نے ایک معاملہ میں رسول اللہ ﷺ کی رضا کے خلاف باہم تعاون کیا تھا۔ پھر ان دونوں کے لئے فرعون کی بیوی اور حضرت مریم بنت عمران کی مثال بیان فرمائی۔ مقصود یہ تھا کہ دونوں ازواج مطہرات کو طاعت میں تمسک اور دین پر ثابت قدم رہنے کی ترغیب دی جائے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس میں مومنوں کو سختی میں صبر کرنے پر برانگیختہ کیا جا رہا ہے یعنی تم شدت کے وقت صبر میں…
Read the full tafseer →1۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں سلیمان ؓ سے روایت کیا کہ فرعون کی بیوی سورج کی دھوپ میں عذاب دی جاتی تھی جب وہ اس سے ہٹ جاتے تو فرشتے اپنے پروں کے ساتھ اس پر سایہ کرتے تھے اور وہ جنت میں اپنا گھر دیکھتی تھی۔
2۔ ابو یعلی والبیہقی نے سند صحیح کے ساتھ ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ فرعون اپنی بیوی کے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر چار کیلیں گاڑ دیتا تھا۔ جب وہ اس سے جدا ہوتے تو فرشتے اس پر سایہ کرتے تھے۔ اور اس نے کہا آیت رب ابن لی عندک بیتا فی الجنۃ اے میرے رب کہ میرے لیے جنت میں ایک گھر اپنے پاس بنادیجیے تو اس کے لیے اس کا گھر جنت میں…
Read the full tafseer →[وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا : اور بیان کرتا ہے اللہ ایک مثال ] [لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ان کے لیے جو ایمان لائے ] [امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ : فرعون کی عورت (بیوی) کی ] [اِذْ قَالَتْ رَبِ : جب اس (خاتون) نے کہا اے میرے رب ] [ابْنِ لِيْ : تو تعمیر کر دے میرے لیے ] [عِنْدَكَ : اپنے پاس ] [بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ : ایک گھر جنت میں ] [وَنَجِّــنِيْ : اور تو نجات دے مجھ کو ] [مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ : فرعون اور اس کے عمل سے ] [وَنَجِّــنِيْ : اور تو نجات دے مجھ کو ] [مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ : اس طالم قوم سے ]
(آیت۔ 11) کانت مؤنث ہے اس لحاظ سے اس کی خبر من القنثت آنی چاہیے تھی مگر مذکر قانتین آیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
حضرت نوح و لوط ( علیہ السلام) کی بیویاں کافر تھیں اور فرعون کی بیوی اور سیّدہ مریم مومنات میں سے تھیں
ان آیات میں دو ایسی عورتوں کا تذکرہ فرمایا ہے جو نبیوں کے نکاح میں ہوتے ہوئے کافرہ تھیں اور کفر پر جمی رہیں اور دو ایمان والی عورتوں کا تذکرہ فرمایا۔ جن کافر عورتوں کا تذکرہ ان میں سے ایک حضرت نوح (علیہ السلام) کی اور دوسری حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ہے (یہ شرائع سابقہ کی بات ہے ان کی شریعتوں میں کافر عورت سے نکاح جائز تھا ہماری شریعت میں صرف مسلمہ اور کتابی عورت سے نکاح جائز ہے کافر غیر کتابیہ سے نکاح کرنا جائز نہیں ہے) ۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کا جیسے ایک بیٹا کافر تھا سمجھانے بجھانے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
نمونہ ایمان وکفر وہدایت وشقاوت برائے خواتین عالم :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” ضرب اللہ مثلا ......... الی ........... وکانت من القنتین “۔
(ربط) گزشتہ آیات میں تو بہ کا حکم اور قلب کی تطہیر و پاکی کا بیان تھا اور یہ کہ اللہ رب العزت اپنے پیغمبر اور ان کے ساتھ ہوجانے والوں کو قیامت کے روز ذلت اور شرمندگی سے بچائے گا، اب ان آیات میں یہ ظاہر فرمایا جارہا ہے کہ پیغمبر خدا کے ساتھ وہ نسبت جو آخرت میں کام آتی ہے وہ اس کے ساتھ ایمانی رشتہ ہے، اسی رشتہ پر نجات آخرت کا ثمرہ مرتب ہوتا ہے اگر اللہ کے پیغمبر پر ایمان نہ ہو تو کوئی بھی قرابت اور رشتہ کام نہیں آتا، اس مضمون کو ثابت کرنے کے لئے ایک طرف حضرت…
Read the full tafseer →14:۔ ” وضرب اللہ مثلا “ یہ مومنوں کے لیے تمثیل ہے۔ جس طرح خاوند کی نیکی کافرہ بیوی کو مفید نہیں اسی طرح کافر خاوند کا کفر مومنہ بیوی کے لیے مضر نہیں۔ فرعون کے کفر سے اس کی بیوی آسیہ مومنہ کو کوئی نقصان نہ پہنچا بنت مزاحم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی اے میرے پروردگار ! اپنے پاس جنت میں میرا گھر بنا اور فرعون کے نفس خبیثہ اور اس کے عمل سے مجھے نجات عطا فرما اور ان ظالموں سے مجھے بچا عمل فرعون سے اس کا ظلم و تشدد راد ہے جو وہ ایمان کی وجہ سے اپنی بیوی پر کرتا تھا۔ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اس سے صحبت اور جماع مراد ہے (قرطبی، روح) ۔
Read the full tafseer →ربط آیات :
سورۃ کے آغاز میں تحریم وتحلیل کا مسئلہ بیان کرنے کے بعد ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ کی گئی۔ پھر تمام اہل ایمان کو تلقین کی گئی کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچائیں۔ سورة کے آخری حصہ میں اللہ نے دو کافر عورتوں کی مثال بیان فرمائی جو اللہ کے نہایت ہی برگزیدہ بندوں اور نبیوں حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کے نکاح میں تھیں۔ ان دونوں عورتوں نے نہ تو دین حق کو قبول کیا اور نہ اپنے پیغمبر خاوندوں کی راز داری کو قائم رکھا ، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کو عام جہنمیوں کے ساتھ ہی جہنم میں داخل کیا اور پیغمبروں کے ساتھ ان کا قریب رشتہ بھی کسی کام نہ…
Read the full tafseer →وَضَرَبَ اللہُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ 0 ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّۃِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِــمِيْنَ 11 ۙ
ضَرْبُ المَثلِ
هو من ضَرْبِ الدّراهمِ ، وهو ذکر شيء أثره يظهر في غيره . قال تعالی: ضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا [ الزمر/ 29] ، وَاضْرِبْ لَهُمْ مَثَلًا[ الكهف/ 32] ، ضَرَبَ لَكُمْ مَثَلًا مِنْ أَنْفُسِكُمْ
[ الروم/ 28] ، وَلَقَدْ ضَرَبْنا لِلنَّاسِ [ الروم/ 58] ،
ضرب اللبن الدراھم سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی ہیں کسی بات کو اس طرح بیان کرنے کہ اس سے دوسری بات کی وضاحت ہو ۔ قرآن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ترکیب : امرات نوح معطوف علیہ وامرات لوط معطوف وکلاھما مفعول اول لضرب ومثلا مفعول ثان وانما اخرالمفعول الاول لیتصل بہ ماھو تفسیر لہ وایضاح لمعناہ۔ ویمکن ان یکون امرات نوح ومابعد ھابدلا عن مثلا اوبیان لہ کانتا ھذہ جملۃ مستانفہ مفسرۃ لضرب المثل امرات فرعون مراغرابھا اذظرف لمثلا اولضرب عندک حال من ضمیر المتکلم اومن بیتا لتقدمہ علیہ فی الجنۃ بدل اوعطف بیان لقولہ عندک اومتعلق بقولہ ابن۔ ومریم ای اذکر مریم اومثل مریم من القانتین من للتبعیض ویجوزان یکون لابتداء الغایۃ۔
تفسیر : پہلے ذکر ہوا تھا کہ اے ایماندارو توبہ خالص کرو تاکہ تمہارا عاقبت میں بھلا ہو اور منافقوں کی بھی اصلاح مقصود تھی جس کا ذریعہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاَّ لِّـلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ م اِذْقَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ وَنَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِہٖ وَنَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْن۔ وَمَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَھَا فَنَفَخْنَا فِیْہِ مِنْ رُّوْحِنَا وَصَدَّقَتْ بِکَلِمٰتِ رَبِّھَا وَکُتُبِہٖ وَکَانَتْ مِنَ الْقٰـنِتِیْنَ ۔ (التحریم : 11، 12)
(اور اللہ ایمان والوں کے لیے مثال بیان کرتا ہے فرعون کی بیوی کی جبکہ اس نے دعا کی اے میرے رب ! میرے لیے اپنی جنت میں ایک گھر بنا دے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے دے اور مجھے نجات عطا فرما…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
فہم القرآن
ربط کلام : بد قسمت عورتوں کا انجام ذکر کرنے کے بعد دو عظیم عورتوں کے کردار اور انعام کا ذکر۔
اس سے پہلے دو بدقسمت عورتوں کے انجام کا ذکر کیا ہے جو دو عظیم انبیاء (علیہ السلام) کی بیویاں تھیں لیکن ایمان اور صالح کردار نہ ہونے کی وجہ سے ان کو ان کی قوم کے ساتھ ہی تباہ کردیا گیا اور آخرت میں انہی کے ساتھ جہنم کا ایندھن بنیں گی۔ اب ان دو معزز خواتین کا ذکر کیا جاتا ہے۔ جن میں ایک دنیا کے بدترین انسان فرعون کی بیوی تھیجو ہر قسم کا آرام اور مقام چھوڑ کر اللہ تعالیٰ اور موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئی۔ جونہی وہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائی تو فرعون نے اس پر جو رو استبداد کے پہاڑ…
Read the full tafseer →ایمان والوں کے لئے آسیہ کو مثال فرعون کی زوجیت کا کچھ نقصان نہ ہوا :
11 : وَضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاً لِّلَّذِیْنَ اٰمنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ (اور اللہ تعالیٰ مسلمانوں (کی تسلی) کیلئے فرعون کی بیوی کا بیان کرتا ہے) اس کا نام آسیہ بنت متراحم تھا۔ وہ موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لے آئیں فرعون نے چومیخا کروا کر اسے عذاب میں مبتلا کیا۔ اِذْقَالَتْ (جب اس نے کہا) جب کہ اسے عذاب دیا جارہا تھا۔ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَ کَ بَیْتًا فِی الْجَنَّۃِ ( اے میرے رب میرے لئے اپنے قرب میں جنت کے اندر ایک مکان بنا دے) گویا اس نے بلند درجے کا ارادہ کیا۔ کیونکہ ذات باری تعالیٰ تو مکان سے پاک ہے۔ پس اس کی تعبیر…
Read the full tafseer →10 ۔” ضرب اللہ مثلا للذین کفروا امراۃ نوح “ اس کا نام واعلہ تھا۔ ” وامراۃ لوط “ اس کا نام واہلہ تھا۔ مقاتل (رح) نے کہا والعہ اور والھہ ” کانتا تحت عبدین من عبادنا صالحین “ اور یہ دونوں نوح اور لوط (علیہما السلام) ہیں۔ ” فخانتاھما “ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کسی نبی کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا۔ ان دونوں کی خیانت یہ تھی کہ یہ دونوں عورتیں اپنے خاوند کے دین کے علاوہ دین پر تھیں۔ پس نوح (علیہ السلام) کی بیوی لوگوں کو کہتی تھی یہ مجنون ہیں اور جب نوح (علیہ السلام) پر کوئی شخص ایمان لاتا تو وہ ” جبابرۃ “ کو بتادیتی اور لوط (علیہ السلام) کی بیوی تو وہ لوط (علیہ السلام) کے مہمان پر اپنی قوم کی رہنمائی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
10۔ 12۔ اوپر آنحضرت ﷺ کی اہل و عیال کا اور عام مسلمانوں کے اہل و عیال کا جدا جدا ذکر تھا اس ذکر کے پورا ہوجانے کے لئے ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط دو پیغمبروں کی بیبیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ دار ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبیٰ برباد ہوگئی۔ تفسیر ابن 1 ؎ جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بی بی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا۔ کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیبیوں کی…
Read the full tafseer →(وَضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِيْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ ۘ) اور اللہ نے مومنوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی تھی اور وہ تھیں آسیہ بنت مزاحم۔ (اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِيْ عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّــنِيْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهٖ وَنَجِّــنِيْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ ) جب اس نے کہا اسے میرے رب میرے لیے اپنے ہاں جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے نجات دے اور مجھے ظالم قوم سے نجات دے۔ الہ نے حضرت آسیہ کا وصف بیان کیا کہ وہ ایمان رکھتی تھیں اپنے رب کے سامنے گڑگڑاتی تھیں اللہ تعالیٰ سے مطالب جلیلہ کا سوال کرتی تھیں اور وہ ہے جنت میں دخول اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
قول باری ہے (فخانتا ھما مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی) حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ یہ دونوں عورتیں منافق تھیں، خیانت کا یہ مفہوم نہیں کہ انہوں نے بدکاری کی تھی کیونکہ کسی نبی کی بیوی نے بدکاری نہیں کی۔
حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت یہ تھی کہ وہ لوگوں سے کہا کرتی تھی کہ نوح دیوانے ہیں اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کی خیانت تھی کہ وہ لوگوں کو گھر آنے والے مہمان کی اطلاع دے دیتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
[ 20] کافروں کی عبرت کے لیے ایک مثال ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی مثال بیان فرمائی کہ جس طرح ان دونوں کو اپنے کفر و عقیدہ بد کی بناء پر اتنے عظیم الشان پیغمبر کی زوجیت کا رشتہ جو کہ ایک نہایت ہی عظیم الشان رشتہ ہوتا ہے کچھ بھی کام نہ آسکا اسی طرح دور حاضر کے ان کفار و مشرکین کو بھی اپنے کفر و شرک اور عقائد باطلہ کی بناء پر اہل ایمان کی قرابت ورشتہ داری کچھ کام نہ آسکے گی والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آدمی کو کام آنے والی چیزیں اس کا اپنا ایمان اور عمل ہے جن کے پاس یہ پونجی نہیں ہوں گی والعیاذ باللہ تو ان کو کسی بڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–11
چار عورتوں کا تذکرہ (دو کافرہ اور دو مومنہ)
تشریح : ان آیات میں بڑے ہی صاف الفاظ میں سیدنا محمد رسول اللہ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ کافروں اور منافقوں کو ہر طرح سے ختم کرتے جاؤ تاکہ دنیا شر و فساد اور بےسکونی سے پاک ہوجائے۔ دنیا میں انسان کو آزمائش کے لئے بھیجا گیا ہے۔ اس میں پیغمبر ان کی بیویاں اور عام انسان مرد ہوں یا عورتیں سب کو اللہ تعالیٰ آزمائش میں ڈالتا ہے۔ سیدناآدم (علیہ السلام) سے لے کر سیدنامحمدالرسول اللہ ﷺ تک سب آزمائش سے گزرے ہیں اسی لیے سب کو نصیحت کی گئی کہ اپنی اپنی ذمہ داریاں خلوص، نیک نیتی، صبر اور اللہ سے دعا کرتے ہوئے پوری کرو۔ آدمیوں کا فرض ہے مقررہ حدود میں رہ کر بیویوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
آیات 8 تا 12۔
اسرار ومعارف۔
توبہ۔
اے ایمان والو ! اللہ کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو خلوص دل سے ہو اور عمل کی اصلاح پر محیط ہو۔ مفسرین کرام کے مطابق توبہ یہ ہے کہ جن کے حقوق غصب کیے ہوں ادا کرے یا معاف کرائے کسی کی توہین کی ہوتومعافی حاصل کرے اور قضا نمازیں روزے لوٹائے حتی المقدور جس قدر ہوسکے اور آئندہ شریعت مطہرہ پر پورا پورا عمل کرے یعنی محض زبانی بات نہ ہو عملا ہر ممکن اصلاح کرے تو اللہ کریم ہے وہ ضرور اس کی خطائیں بخش دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا جہاں ہمیشہ نہریں جاری ہیں۔
معیت رسول۔
اس دن جب ساری انسانیت جمع ہوگی اللہ اپنے نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے…
Read the full tafseer →ف 5 ظالم لوگوں سے مراد اہل مصر یا قبطی ہیں۔ حضرت سلمان کہتے ہیں کہ فرعون کی بیوی کو دھوپ میں لٹا کر سزا دیتے تھے۔ جب وہ پلٹ جاتے تو فرشتے اپنے پروں سے سایہ کرتے، اس وقت وہ جنت میں اپنا گھر دیکھتی۔ (شوکانی)
Read the full tafseer →(66:11) وضرب اللہ مثلا للذین امنوا امرات فرعون۔ اس کی ترتیب بھی آیت نمبر 10 ۔ مذکور بالا کی طرح ہے۔
امرأت فرعون۔ مضاف مضاف الیہ۔ فرعون غیر منصرف ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔
اذ قالت : ظرف لمحذون ای وضرب اللہ مثلا للذین امنوا حال امرأت فرعون اذ قالت :۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنوں (کی تسلی) کے لئے مثال کے طور پر فرعون کی بی بی کا حال بیان فرمایا ہے کہ جب اس نے کہا۔
مفسرین بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت موسیٰ جادوگروں پر غالب آگئے تو اس سے متاثر ہوکر حضرت آسیہ (فرعون کی بیوی) ایمان لے آئیں ۔ فرعون کو جب اس کی خبر ہوئی تو اس نے اسے طرح طرح کے عذاب دینے شروع کر دئیے۔ یہاں تک کہ اس نے حضرت آسیہ ؓ کو قتل کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
لغات القرآن۔
قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔
تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
چار عورتوں کا ذکر۔
(ف 2) ان آیتوں میں تمثیل کے طور پر چار عورتوں کا ذکر فرمایا جن میں دو عورتیں حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہما السلام) دوپیغمبروں کی بی بیاں تھیں لیکن ان دونوں عورتوں کے ذاتی اعمال اچھے نہ تھے اس واسطے پیغمبروں کی رشتہ داری ان کے کچھ کام نہیں آئی بلکہ ان کے ذاتی عملوں کی خرابی کے سبب سے ان کی عقبی برباد ہوگئی تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ بن عباس سے روایت ہے کہ کسی نبی کی بیوی سے بدکاری کا گناہ سرزد نہیں ہوا تھا کہ اللہ کے نبی کی کسر شان نہ ہو۔ اس قول کے موافق حضرت نوح اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی دغا کے معنی ، بےدینی ، کے ہیں بدکاری کے معنی نہیں ہیں اب آگے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حدید حاشیہ 19 صفحہ 1330۔
[12] یعنی راستے میں بجھ نہ جائے بلکہ دخول جنت تک باقی رکھ۔ یہ وہ اس وقت کہیں گے جب وہ پل صراط پر سے گزر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
ف 2: اس مثال سے اس حقیقت کی طرف اشارہ کرنے کی اور صلاحیت زہدوتقویٰ جہاں تربیت سے حاصل ہوتے ہیں ۔ وہاں محض اللہ کا دین اور بخشش بھی ہے ۔ فرعون کو دیکھو کتنا چالاک اور منکر تھا ۔ کہ حضرت موسیٰ کی ساری کوششیں اس کی اصلاح کے لئے رائیگان گئیں ۔ مگر اس کے گھر میں اس کی عورت دولت ایمان سے بہرہ ور ہوگئی اسی طرح حضرت مریم جس قوم میں پیدا ہوئیں ۔ وہ قوم بےدین اور بدعمل تھی ۔ مگر ان کو دو مرتبہ ۔ جس پر بڑی بڑی ہستیاں رشک کریں ۔
حل لغات :۔ فجا شھما ۔ سو انہوں نے ان کی نافرمانی کی احصنت فوجھا ۔ یعنی اپنی ناموس کو محفوظ رکھا تصریح کی ضرورت اس لئیمحسوس ہوئی ۔ کہ مخاطبین حضرت مریم کو مہتمم کرتے تھے من…
Read the full tafseer →(11) اور اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ہیں یعنی مسلمانوں کے لئے فرعون کی عورت کا حال اور اس کی مثل بیان فرماتا ہے جبکہ اس فرعون کی بیوی نے یوں کہا اے میرے پروردگار میرے لئے جنت میں اپنے قریب ایک مکان بنادے اور مجھ کو فرعون اور اس کے عمل بد یعنی کفر کے شر سے محفوظ رکھ اور مجھ کو ان تمام ظالم لوگوں سے خلاصی اور نجات عنایت فرما۔
فرعون کی بیوی جن کا نام آسیہ ؓ تھا اور جنہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش کی تھی اور موسیٰ (علیہ السلام) کو اٹھاتے وقت کہا تھا کہ اس کو قتل نہ کرو شاید اس سے ہم کو نفع پہنچے یا ہم اس کو بیٹا بنالیں وہ عورت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان رکھتی تھی فرعون نے…
Read the full tafseer →ف 1۔ یا تو یہ دعا مطلق احوال میں کی تھی یا ایک خاص حالت میں جس کا قصہ یہ لکھا ہے کہ فرعون کو جب اس کے مومن ہونے کی اطلاع ہوگئی تو حکم دیا کہ چومیخا کر کے دھوپ میں ڈال دیا جائے اور ان کے سینہ پر چکی کا پتھر رکھا جاوے، اس تکلیف میں انہوں نے یہ دعا کی، تو ان کو بہشت میں اپنا مکان نظر آگیا، جس سے وہ تکلیف خفیف ہوگئی۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کی ایمانی تقویت کیلئے سیدہ آسیہ اور سیدہ مریم (علیہ السلام) کی مثال موجود ہے
11 ، 12 ؎ فرعون کی بیوی میں مسلمانوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے ؟ یہی کہ وہ کفر کے استبدادی پنجہ میں جکڑی گئی تھی لیکن اس نے اس کے باوجود ایمان والوں کا ساتھ دیا اور ان حالات میں دیا جن حالات میں مسلمانوں کا ساتھ دینا لوہے کے چنے چبانے کے مترادف تھا کہ فرعون نے جب بنی اسرائیل کے بچوں کو مروانے کا حکم دیا تو اس وقت اس کو بہت قلق ہوا لیکن حکومت وقت جو اس کے اپنے گھر میں تھی اس کی سکیموں کا ساتھ نہ دیا بلکہ وہ ایمان والوں کی سکیموں کو اپناتی رہیں ۔ موسیٰ (علیہ السلام) کا نبی اسرائیل میں پیدا ہونے کے باوجود بادشاہی…
Read the full tafseer →ضَرَبَ اللَّـهُ مَثَلًا لِّلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِندَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ (And Allah has cited for the believers the example of the wife of Fir'aun (the Pharaoh), when she said, "My Lord, build for me, near You, a house in the Paradise...66:11) This is the example of the wife of Fir'aun (the Pharaoh) whose name was ` Asiyah bint Muzahim. When Musa (علیہ السلام) accomplished his task in defeating the sorcerers who embraced Mosaic faith, she too embraced the Mosaic faith and became a Muslim. Fir'aun ordered that she should be tortured…
Read the full tafseer →25 From Pharaoh and his work": from the evil end that Pharaoh would meet in consequence of his evil deeds.
Read the full tafseer →