Ayah 66:1[ 1] پیغمبر (علیہ السلام) کے ایک احتساب کا ذکر وبیان۔ سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اے پیغمبر آپ کیوں حرام قرار دیتے ہیں ایسی چیز کو جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال فرمایا ہے ؟ یعنی آپ کو ایسے نہیں کرنا چاہیے کہ یہ طریقہ نہ درست ہے نہ آپ کی شان ارفع واعلی کے لائق کہ تحلیل وتحریم اصل میں اللہ کا حق اور اسی کے شایان شان ہے کہ خالق ومالک بھی وہی ہے اور متصرف و مختار بھی وہی سبحانہ وتعالی بخاری ومسلم وغیرہ کی روایت میں وارد ہے کہ نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج مطہرات کے یہاں تشریف لے جاتے، تو اس دوران حضرت زینب کے یہاں کچھ زیادہ قیام فرماتے اور وہ آپ کو شہد پیش کرتیں جو کہ آپ کو پسند اور مرغوب تھا تو حضرت حفصہ و عائشہ ؓ کو نبی کے ساتھ اپنے شدت تعلق اور انتہائی محبت کی بناء پر یہ امر شاق گزرا تو انہوں نے آپس میں طے کرلیا کہ آج حضور ہم میں سے جس کے پاس بھی پہلے پہنچیں وہ ان کے کہیں کہ آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے جو کہ عرقط نامی ایک درخت کو گوندسی ہوتی تھی جسے پکا کر کھایا جاتا تھا اس کی ایک خاص قسم کی بو سی ہوتی تھی جو کہ آپ کی نازک اور پاکیزہ طبع اقدس کو ناگوار تھی چناچہ اس کے بعد آپ پہلے حضرت حفصہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے حسب قرار آپ کی جناب اقدس میں عرض کیا کہ آپ کے منہ سے مغافیر کے عرق کی بو آرہی ہے آپ نے فرمای کہ میں نے تو اور کچھ نہیں کھایا البتہ زینب کے یہاں سے شہد نوش کیا ہے شاید اس مکھی نے مغافیر کا عرق چوسا ہو پس آپ نے آئندہ شہد استعمال نہ کرنے کی قسم کھالی کہ میں آئندہ کبھی زینب کے یہاں شہد نہیں پیوؤں گا اور ساتھ ہی آپ نے حضرت حفصہ سے یہ بھی فرما دیا کہ اس کی خبر کسی اور کو نہ کرنا مگر انہوں نے اس کی خبر عائشہ کو کردی تب بذریعہ وحی آپ کو اس قصے کی خبر کردی گئ اور یہ آیات کریمہ نازل ہوگئیں یہ خلاصہ ہے ان روایات کا جو اس بارہ وارد ہوئی ہیں (روح، ابن کثیر، خازن، جامع البیان، القرطبی، المراغی، محاسن التاویل، اور صفوہ وغیرہ) اور اس ضمن میں اور بھی کئی اقوال موجود ہیں جن کا زکر ہم انشاء اللہ اپنی مفصل تفسیر میں کریں گے، وبا اللہ التوفیق اس سے یہ امر بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر نہ عالم غیب ہوتے ہیں اور نہ مختار کل نہ ہی تحلیل وتحریم کے مالک ورنہ آپ کو آپ کے اس عمل پر اس طرح تنبیہ نہ فرمائی جاتی اور نہ ہی اس سارے قصے کی نوبت آتی اور نہ اس طرح احتساب ہوتا سو علم غیب کلی اور اختیار کلی اللہ ہی کا خاصہ ہے اس میں اس کا نہ کوئی شریک ہے نہ ہوسکتا ہے، وہ اپنی ہر صفت اور شان میں یکتا اور وحدہ لا شریک ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
Ayah 66:2[ 2] ناجائز قسموں کے بارے میں شریعت کا حکم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا تمہاری قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ، یعنی کفارہ ادا کرکے اس کی پابندی سے نکل جاؤ جس کا ذکر سورة مائدہ میں آچکا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی جائز چیز کو اپنے اوپر حرام کر بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے ضروری ٹھہرا دیا کہ وہ اس قسم کو توڑ ڈالے، یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اوپر کی آیت کریمہ میں خطاب پیغمبر سے تھا اور یہاں تمام مسلمانوں سے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم کو اس لغزش پر ٹوکنے سے مقصود جیسا کہ حضرات اہل علم نے تصریح فرمائی ہے یہی تھا کہ اس کہ وجہ سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوجائے اور یہ حقیقت واضح ہوجائئے کہ اللہ کے حقوق اور اس کی مقرر فرمودہ حدود کے بارے میں کسی سے بھی کوئی رعایت جائز نہیں اور یہ کہ تحلیل وتحریم کے جملہ اختیارات اللہ کے قبضہ قدرت واختیار میں ہیں اسی لیے یہاں پر تمام مسلمانوں سے خطاب کرکے فرمایا گیا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اپور کسی چیز کو حرام کرلینے کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے فرض کردیا ہے کہ وہ اپنی اس قسم کو توڑ کر اس حرام کردہ چیز کو حلال ٹھہرائے اور چونکہ تم لوگ کا مولی و کارساز ہے اس لیے یہ حق اسی کا ہے وہ تم کو بتلائے کہ تمہارے لیے کیا حلال ہے اور کیا حرام ؟ اس کے سوا اور کسی کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ از خود کسی چیز کو حلال یا حرام کرے۔ سو تحلیل وتحریم صرف اللہ کا حق ہے جو کہ خالق ومالک ہے ہر چیز کا اس کے سو اور کسی کے لیے تحلیل وتحریم کا حق تسلیم کرنا اللہ کے حق میں مداخلت ہوگا جہ حرام اور شرک ہے اور اللہ چونکہ علیم اور حکیم ہے اس لیے اس کا ہر حکم کمال علم حکمت ہی پر مبنی ہے ہے پس نہ اس کے کسی حکم وارشاد میں کسی کے لیے کسی طرح کی مداخلت کی کوئی گنجائش ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے کسی حکم وارشاد کا کوئی متبادل ممکن ہوسکتا ہے اس لیے اس کے ہر حکم وارشاد کی تعمیل و پیروی صدق دل سے اور بلا چون وچرا کرنی چاہیے۔ وبا اللہ التوفیق۔
Ayah 66:3[ 3] بعض ازواج مطہرات کے احتساب کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو جب پیغمبر نے اپنی ایک ہی بیوی کو ایک بات راز میں کہی مگر وہ اسکا افشاء کر بیٹھیں تو وحی کے ذریعے خبر پانے پر پیغمبر نے اس بات کا کچھ حصہ ظاہر فرما دیا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی اپنے کریمانہ اخلاق کی بنا پر کیونکہ کریم کی صفت اور شان یہی ہوتی ہے کہ وہ ساری بات نہیں کہہ دیتا، فان الکریم لایستقصی قط۔ (قالہ الحسن، روح، خازن، صفوہ وغیرہ) سو نبی نے اپنی بیوی صاحبہ کا احتساب تو فرمایا کہ یہ دین کا تقاضا تھا لیکن اس میں بھی شدت اور سختی کے پہلو کو نہیں رحمت ورافت کے طریقہ کو اختیار کیا کیونکہ ایک تو آپ کی ذات اقدس تھی وہی سراپا رحمت ورافت اور شرافت و ہمدردی کا مجسمہ وپیکر اور دوسرے اس لیے کہ معاملہ آپ کی زوجہ مطہرہ سے متعلق تھا اور آپ کی ازواج مطہرات میں سے کسی کے بارے میں یہ گمان بھی نہیں کیا جاسکتا کہ ان کی ایسی کوئی بھی بات کسی ارادی غلطی یا بدنیتی پر مبنی تھی اور یہاں پر ان بیوی صاحبہ کی یہ لغزش بھی محض از دیاد محبت اور غایت انس وتعلق کی بناء پر تھی اس لیے حضور نے شفقت کا طریقہ اختیار فرمایا سو ان کا ارادہ خیال چونکہ نیک نیتی ہی پر مبنی تھا۔ اس میں کسی قسم کے فساد ونیت کا کوئی عمل دخل نہیں تھا اس لیے کوئی سختی نہیں فرمائی گئی لیکن معاملہ چونکہ ازواج مطہرات کا تھا جو امت کی تمام عورتوں کے لیے نمونہ تھیں نیز اس معاملے کا تعلق پیغمبر سے تھا جو کہ صرف شوہر ہی نہیں تھے بلکہ اللہ کے رسول بھی تھے اور رسول بھی جو تمام رسولوں کے مقتداء و پیشوا تھے اور جن کی تعلیمات مقدسہ اور اسوہ حسنہ نے قیامت تک باقی رہنا تھا اس لیے ان زوجہ مطہر کی گرفت تو فرمائی گئی اور ان کا احتساب تو ہوا لیکن اس طرح نہیں کہ اس میں کسی طرح کی کوئی فضیحت ہو بلکہ نہایت ہی معقول اور پر لطف طریقے سے ہوا۔ والحمدللہ جل وعلاء۔
[ 4] بعض عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت کا ذکر وبیان۔ سو اس سے پیغمبر کی زوجہ مطہرہ کے سوال اور اس ملنے والے پیغمبر کے جواب سے بعض عظیم الشان در سہائے عبرت و نصیحت سامنے آتے ہیں چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ جب آپ کی زوجہ مطہرہ نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کو یہ بات کس نے بتلائی ؟ یعنی حضرت حفصہ نے اور شاید انہوں نے آپ سے یہ اس پر پوچھا ہو کہ شاید حضرت عائشہ نے آپ کو اس کی خبر کردی ہو ؟ (المراغی وغیرہ) نبی نے ارشاد فرمایا کہ مجھے تو اس علیم وخبیر نے بتایا یعنی اللہ پاک سبحانہ وتعالی نے جو کہ نہاں وعیاں سب ایک برابر جانتا ہے سو یہاں سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ ازواج مطہرات کا عقیدہ بھی عقل و فطرت کے تقاضوں کے عین مطابق یہی تھا کہ پیغمبر عالم غیب نہیں ہوتے بلکہ علم غیب خاصہ خداوندی ہے ورنہ وہ آپ سے اس طرح سوال نہ کرتیں کہ آپ کو یہ کس نے بتایا ؟ (من انباءک ھذا) اور پیغمبر نے بھی آگے جواب میں نہیں فرمایا کہ میں خود جانتا ہوں کہ میں غالم غیب ہوں سو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی بلکہ ان کے سوال کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ مجھے خدائے علیم خبیر نے بتایا پس یہ پورا واقعہ اہل بدعت کے علم غیب کلی اور اختیار کلی جیسے شرکیہ عقیدوں کی جڑ کاٹ دیتا ہے کیونکہ اگر آپ عالم غیب ہوتے تو نہ تو یہ قصہ پیش آتا نہ ہی حضرت عائشہ وحفصہ خفیہ طور پر ایسی بات طے کرتیں اور نہ ہی اللہ پاک کی طرف سے یا ایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک کے اس آمیز خطاب سے آپ کو خطاب کیا جاتا پس معلوم ہوا کہ کہ اہل بدعت کے اس طرح کے شرکیہ عقائد عقل و فطرت کے بھی خلاف ہیں اور نصوص کتاب وسنت سے بھی معارض و متصادم۔ والعیاذ باللہ اللہ تعالیٰ سب کو حق و ہدایت کی سمجھ نصیب فرمائے آمین اور ہر طرح زیغ و انحراف اور شرک و شرکیات سے ہمیشہ محفوظ رکھے اور اتباع سنت اور طریقہ سلف پر چلنے کی توفیق بخشے آمین ثم آمین۔ بہر کیف پیغمبر کی زوجہ مطہرہ کے اس سوال اور اس پر پیغمبر کی طرف سے ملنے والے جواب میں عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں جو عقائد و اخلاق کی اصلاح میں بڑی اہم اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں لیکن یہ کچھ ان لوگوں کے لیے ہے جو عقل سلیم اور فطرت مستقیم کے تقاضوں کو اپناتے ہیں۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، سبحانہ وتعالی۔
Ayah 66:4[ 5] فقد صغت قلوبکما کی مشہور و تفسیر کی تغلیط اور صحیح تفسیر کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا یقینا تمہارے دل مائل ہوگئے ہیں یعنی جادہ اعتدال سے، یعنی اپنے اس واجب سے جو کہ پیغمبر کی زوجیت کے شرف عظیم کی بناء پر تمہارے اوپر ان کے بارے میں عائد ہوتا ہے کہ تم ان کے آرام وراحت اور پسند ونا پسند کا پورا خیال رکھو (صفوہ التفاسیر، ابوالسعود اور روح المعانی وغیرہ) سو یہ اس جملے کی مشہور تفسیر ہے۔ جبکہ اس میں دوسرا قول و احتمال یہ ہے کہ اس کا معنی ومطلب یہ ہے کہ تمہارے دل مائل ہوچکے ہیں یعنی توبہ اور اصلاح اھوال کی طرف یعنی تم اسی طریقے سے مانوس اور اس کی اہل ہو۔ القرطبی وغیرہ) یعنی پیغمبر کی زوجیت کے اس عظیم الشان اور منفرد شرف واعزاز کی بناء پر تمہارے دل پہلے ہی اللہ کی طرف اور اس کے حضور توبہ واستغفار کی طرف مائل اور جھکے ہوئے ہیں اس لیے اب خطاء کے بعد اس کی طرف جھک جانا تمہارے مرتبہ ومقام اور تمہاری عظمت شان کے زیادہ لائق اور عین مناسب ہے اور فقد صغت قلوبکما کے کلمات کریمہ کی یہ توجیہ و تفسیر زیادہ دقیع اور ازوج مطہرات کے مرتبہ ومقام اور ان کی عظمت شان کے زیادہ لائق اور مناسب ہے اگرچہ زیادہ مشہور پہلا قول ہے لیکن زیادہ عمدہ اور مناسب یہ دوسری توجیہ و تفسیر ہے۔ سو اس کے بارے میں مختصر عرض ہے کہ صغوا کے اصل معنی انحراف اور کجی کے نہیں بلکہ اصل میں یہ لفظ کسی چیز کی طرف مائل ہونے اور جھکنے کے معنی میں آتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا اور تاکہ جھک پڑیں شیطان کی اس ملمع سازی کی طرف دل ان لوگوں کے جو ایمان نہیں رکھتے آخرت پر۔ والتصغی الیہ افئدت الذین لا یومنون بالآخرہ۔ انعام 113، پارہ 8) سو اس آیت کریمہ میں وارد اس لفظ کی روشنی میں واضح ہوجاتا ہے کہ لفظ صغو کے معنی یہاں پر کجی اور انحراف کے نہیں بلکہ جھکنے اور مائل ہونے کے ہیں پس اس کی روشنی میں فقد صغت قلوبکما کا معنی ومطلب یہ ہوگا کہ تم دونوں کے دل جھکے ہوئے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف۔ یعنی پہلے سے ہی جھکے ہوئے اور مائل اور مانوس ہیں جو کہ تقاضا ہے تمہارے عظیم الشان مرتبہ ومقام کا اور جو کہ لائق ہے زوجیت رسول کے اس شرف کے جس سے تم سرفراز و سرشار ہو، اور دوسری بات اس ضمن میں یہ زوجیت رسول کے اس شرف کے جس سے تم سرفراز و سرشارہو اور دوسری بات اس ضمن میں یہ پیش نظر رکھنے کی ہے کہ آیت کریمہ کا وہ مشہور و معروف مطلب لینا عربیت کے معروف اسلوب کے خلاف ہے، کیونکہ عربیت کے معروف اسلوب کے مطابق اس طرح کے استعمال میں فقد کے بعد والا جملہ دراصل ان، شرطیہ کی جزاء محذوف ہے یعنی جواب شرط کی علت اور اس کے تقاضے کے اظہار وبیان کے طور پر ہوتا ہے سو اس اعتبار سے اس جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر تم دونوں اللہ کے حضور توبہ کرو گی تو یہی تمہاری شان کے لائق ہے کیونکہ تمہارے دل پہلے ہی سے اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں جبکہ اس کا وہ مشہور مطلب لینا جو کہ اوپر احتمال و قول اول کی صورت میں ذکر کیا گیا ہے عربیت اس معروف و مشہور ضابطہ کے بالکل خلاف ہے جس کو مختلف متعلقہ غیر متعلقہ روایات کے ساہرے اتنا عام کردیا گیا کہ اس کے خلاف دوسری کوئی بات سننے ماننے کو عام ذہن تیار ہی نہیں ہوتے حالانکہ وہ مشہور تفسیر ازواج مطہرات کے مقدس اور پاکیزہ مقام کے تقاضوں کے یکسر خلاف ہے اور اس کی زد ان کی عظمت شان پر پڑتی ہے والعیاذ باللہ العظیم اور تیسری غلطی اس مشہور تفسیر میں یہ ہے کہ اس میں بلا وجہ پیغمبر کی ازواج مطہرات کو زیغ و انحراف کا مرتکب قرار دیا گیا ہے حالانکہ اس معاملے میں جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا کہ فساد نیت کے کسی شائبے کا کوئی عمل دخل سرے سے تھا ہی نہیں بکہ جو کچھ ہوا وہ محض باہمی اعتماد و محبت اور صدق و اخلاص کی بناء پر ہوا جو صحیح رشتہ ازدواج اور باہمی ناز وادا کا طبعی تقاضا ہے پس ان مختلف وجوہ کی بناء پر لفظ صغو کو کجی اور انحراف کی معنی میں لینا اور اس پر آگے لمبی چوڑی حاشیہ آرائی کرنا سب غلط اور بےبنیاد ہے، والعیاذ باللہ العظیم اور اس کا صحیح مطلب ہمارے نزدیک وہی ہے جو ہم نے عرض کیا۔ والحمدللہ جل وعلا الذی بیہ ازمھ التوفیق والعنایہ۔
[ 6] پیغمبر کی عظمت شان کے ایک خاص پہلو کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اگر تم دونوں نے پیغمبر کے خلاف باہمی جتھہ بندی جاری رکھی تو اس میں یقینا پیغمبر کا کوئی نقصان نہیں کہ ان کا مددگار تو اللہ ہے اور جبریل بھی اور نیک بخت ایمان والے بھی حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہاں ان نیک بخت ایمان والوں (صالح المومنین) سے مراد حضرت ابوبکر اور عمر ہیں ؓ (صفوہ، خازن، وغیرہ) اور کوئی شک نہیں ان نیک بخت اہل ایمان اور صالح المومنین کے اولین اور کامل مصداق یہی حضرات ہیں۔ ؓ وارضاھما۔ تظاہرا کے معنی ہیں ایک دوسرے ساتھی اور مددگار بننا اس کے بعد علی کا صلہ آگیا تو اس سے اس کے اندر پیغمبر کے خلاف ایکا اتحاد کرلینے کا مفہوم پیدا ہوگیا لیکن یہ ایکا اور اتحاد کسی جنگ یا پیکار کا مظاہرہ نہیں تھا بلکہ باہمی ناز و ادا اور گہرے تعلق کا مظاہرہ تھا آپ کی جن زوجہ مطہرہ نے آپ کے راز کو آپ کی دوسری زوجہ مطہرت پر افشاء کردیا تھا ان دونوں نے اس بات پر اپنی کچھ توہین محسوس کی ہوگی کہ ایک ایسی بات پر ہماری گرفت وپکڑ فرمائی گئ جو ہم نے اپنے اندر ہی رکھی اس کا کہیں باہر اظہار وافشا نہیں کیا مگر ان کی نظروں سے اس وقت یہ حقیقت اوجھل ہوگئی کہ دین کے معاملے میں کوئی بھی احتساب سے بالا نہیں ہے یہاں تک کہ اللہ کے رسول بھی اس سے مستثنی نہیں ہیں نیز یہاں یہ بھی واضح رہے کہ تظاہرا کے اس لفظ تثنیہ سے خطاب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے فرمایا گیا ہے جس سے ان دونوں کی باہمی الفت و محبت اور راز داری میں باہمی اشتراک و اعتماد کا ثبوت ملتا ہے سو اس سے اس معروف تاثر کی جڑ کٹ جاتی ہے جو بعض تفسیری روایات میں ملتا ہے کہ اند ونوں کے درمیان سوکنوں کی چشمک و رقابت پائی جاتی تھی بہر کیف اس ارشاد سے پیغمبر کی عظمت شان کا یہ خاص پہلو واضھ ہوجاتا ہے کہ آپ کا اصل تعلق اللہ سے ہے جو آپ کا ولی ومولی اور ناصر وحامی اور کارساز ہے پھر جبریل بھی آپ کے ساتھی ہیں جو آپ کے پاس آسمان سے وحی لاتے ہیں پھر مومنین صالحین بھی آپ کے معین و مددگار ہیں جو آپ کے لیے جان ومال سب کچھ قربان کردینے کے جذبے سے سرشار ومالا مال ہیں۔ علیہ الصلوت والسلام ما تمر اللیالی والایام۔
[ 7] عظیم الشان رسول کے عظیم الشان مدد گاروں کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس کے بعد اللہ کے فرشتے بھی ان کے حامی و مددگار ہیں اور جس ہستی کے یہ اور یہ اور ایسے اور ایسے، معاون و مددگار موجود ہوں انہیں کون کون نقصان پہنچا سکتا ہے اور کیونکر ؟ بخاری وغیرہ کی صحیح روایات میں مروی و منقول ہے کہ حضرت عمر نے نبی کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ اپنی ان ازواج مطہرات کی وجہ سے اگر پریشان ہوتے ہوں تو ان کو چھوڑ دیں اللہ آپ کو ان کے بدلے میں ان سے بھی بہتر بیویاں عطا فرما دے گا، کیونکہ آپ کی مدد پر تو خود اللہ اس کے فرشتے جبریل اور صالح اہل ایمان ہیں تو اس کی تصدیق میں یہ آیتیں نازل ہوئیں تو اس طرح یہ بات بھی موافقات حضرت عمر میں سے قرار پاتی ہے جو کہ حضرت عمر کی امتیازی شان کے مظہر ہیں (ابن کثیر، صفوت التفاسیر، مراغی، قرطبی وغیرہ) سو اس سے پیغمبر کی ازواج مطہرات کو تنبیہ فرما دی گئی کہ وہ پیغمبر کے بارے میں اس بات کو ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھیں کہ وہ صرف ان کے شوہر ہی نہیں بلکہ اللہ کے رسول بھی ہیں اس لیے وہ اپنی عظیم ترین مصروفیات میں سے جو لمحے نکال کر ان کو بخشیں یہ ان کی قدر کریں اور کبھی اس طرح کا کوئی گمان نہ کریں کہ پیغمبر ان محبت ورفاقت کے محتاج ہیں اس لیے وہ لازما ہر معاملے میں ان کی دلداری کریں گے وہ دلداری وہیں تک کریں گے جہاں تک اللہ کی مقرر فرمودہ حدود کے اندر اس کے لیے گنجائش ہوگی اور بس کہ حدود اللہ کا پاس ولحاظ بہرحال مقدم اور اہم ہے۔
Ayah 66:5[ 8] سئحت کا معنی اور مطلب۔ سئحت کے لفظی اور لغوی معنی تو سیر کرنے والیوں کے ہیں لیکن یہاں پر اس کے کافی مطلب بیان کیے گئے ہیں جن میں سے سب سے مشہور یہی معنی ہیں یعنی روز دار، جیسا کہ ایک روایت میں وارد ہوا اس امت کی سیاحت روزہ ہے (سیاحت ھذہ الامت الصیام) اور اس لفظ کو اس معنی میں استعمال کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ پرانے زمانہ میں سیاحت پر زیادہ تر ایسے راہب قسم کے لوگ نکلا کرتے تھے جن کے پاس کھانے پینے کا کچھ سامان نہیں ہوتا تھا اور جب تک ان کو اس کے لیے کچھ ملتا انہیں روزے کی حالت میں ہی رہنا پڑتا تھا اس لیے اس لفظ کے معنی روزے دار کے کیے جاتے ہیں سئحت کے اور معنی بھی کیے گئے ہیں والتفصیل فی الفصل انشاء اللہ العزیز۔ یہاں پر یہ امر بھی واضح رہے کہ اس موقع پر ان صفات کے بیان کا یہ مطلب نہیں کہ ازواج مطہرات میں یہ صفتیں موجود نہیں تھیں بلکہ اس سے مطلوب دراصل ان کو یہ تنبیہ کرنا ہے کہ وہ اپنے اندر یہ صفات بدرجہ اتم پیدا کرنے کی کوشش کریں کہ زوجیت پیغمبر کے جس عظیم الشان شرف سے ان کو نوازا گیا ہے اس کا تقاضا یہی ہے چناچہ وہ اسی اعلی معیار کی حامل تھیں اسی لیے وہ آپ کی زوجیت میں آخر تک رہیں سو وہ ان صفات کریمہ اور خصال حمیدہ کے عمدہ نمونوں کی حامل تھیں سو جس طرح ان کے شوہر نامدار اپنی مثال آپ تھے اسی طرح زوجیت پیغمبر کے امتیاز سے سرفراز یہ خواتین بھی اپنی مثال آپ تھیں اور ایسی کہ یہ تمام امت کے لیے نمونہ تھیں۔
Ayah 66:6[ 9] ایمان والوں کو آخرت کے بارے میں تنبیہ و تذکیر۔ سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنی اہل واولاد کو دوزخ کی ہولناک آگ سے کہ یہ بھی تمہاری طرح ذمہ داری کا ایک اہم حصہ ہے کہ تم لوگ اپنی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے اہل عیال کو بھی اس ہولناک انجام سے بچانے کی فکر اور کوشش کرو جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کلم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ۔ یعنی تم میں سے ایک راعی اور حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ ہوگی پس تم لوگ اپنے بال بچوں کے لیے صرف دنیاوی ضرورتوں کا خیال نہ رکھو بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اور اصل فکر آخرت کی اور دوزخ کی اس ہولناک آگ سے اپنے آپ کو اور ان کو بچانے کی کرو یہاں پر پیغمبر اور آپ کی ازواج مطہرات کے احتساب کے ذکر کے فوری بعد اہل اہل ایمان کو دوزخ کی آگ سے بچنے اور بچانے کے لیے فکرو کوشش کی ہدایت و تلقین فرمائی گئی ہے کہ جب تم نے دیکھ لیا کہ اللہ کے احتساب سے پیغمبر اور ان کی ازواج مطہرات بھی بالا ومستثنی نہیں تو پھر اور کون ہوسکتا ہے پس ہر کسی کو چاہیے کہ وہ اپنے اھل اور اولاد کو بھی دوزخ کی اس ہولناک آگ سے بچانے کی فکر کرے کہ اصل پیش نظر رکھنے کی چیز یہی ہے نیز اس کے لیے جو جتنا کچھ کرسکتا ہے کرے کہ آج اور اس دنیاوی زندگی ہی میں اس کا موقع ہے اس کے بعد پھر اس کے لیے کوئی موقع نہیں ہوگا، وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من لاحوال وفی کل مواطن من المواطن فی الحیات، وھوالھادی الی سواء السبیل۔
[ 10] آتش دوزخ کی ہولناکی کے ایک اور پہلو کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بچاؤ تم لوگ اپنے آپ کو دوزخ کی اس ہولناک آگ سے جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے یعنی گندھگ کے پتھر جیسا کہ سدی وغیرہ سے مروی ہے نیز پتھروں کے وہ بت بھی جن کی مشرکین پوجا کیا کرتے تھے تاکہ اس طرح ان مشرکوں کی جلن اور ان کے افسوس میں اور اضافہ ہو کہ جن معبودان باطلہ کو ہم اپنا سفارشی سمجھ کر ان کی پوجا کیا کرتے تھے کہ یہ مشکل وقت میں ہمارے کام آئیں گے وہ الٹا آج ہمارے لیے آگ کے بھڑکانے کا ذریعہ بن رہے ہیں اور بعید نہیں کہ انہی بتوں کے پتھروں میں گندھکی اثرات پیدا کردیے جائیں جس سے آگ کے شعلے اور تیز ہوجائیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس ہولناک آگ کے اس ایندھن سے وہ اپنے اصل رنگ میں بھڑکے گی لوگوں سے مراد ظاہر ہے وہی لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو دنیا میں پاک نہیں کیا ہوگا اور وہ کفر وباطل اور معاصی وذنوب کی طرح طرح کی انہی گندگیوں میں لتھڑے رہے ہوں گے جن سے پاک کرنے کے لیے اللہ نے اپنی یہ عظیم الشان شریعت نازل فرمائی سبحانہ وتعالی۔ اور پتھروں سے مراد جیسا کہ ابھی اوپر گزرا وہی پتھر ہوں گے جن کو اس دنیا میں کفر و شرک اور غیر اللہ کی بندگی کی علامت کے طور پر پوجا گیا ہوگا سو اس آگ کو انہی چیزوں کے جلانے کے لیے پیدا کیا گیا ہوگا اور جب یہ ایندھن اس کو ملے گا تو گویا اس کو اس کا من بھانا کھاج مل گیا اور وہ ھل من مزید کہتے ہوئے ایک ایک چیز کو نگلتی جائے گی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آتش دوزخ کے ذکر سے اور اس کی اس ہولناکی کی تصویر پیش کرکے اس سے بچنے کے لیے اہل ایمان کو تنبیہ و تذکیر فرمائی گئی ہے۔ فالحمدللہ علی ھذہ الرحمتہ والعنایتہ، وبہ التوفیق لما یحب ویرید جل وعلا، اللہ ہمیشہ اور ہر لحاظ سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یارب العالمین، ویا ارحم الراحمین، ویا اکرم الاکرمین بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیات فی کل زمان ومکان وانت العزیز الوھاب۔ سبحانہ وتعالی جل وعلاء۔
[ 11] دوزخ پر مامور فرشتوں کی سختی اور تند خوئی کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ دوزخ پر مامور فرشتے ایسے تند خو اور اس قدر سخت گیر ہوں گے کہ نہ وہ کسی کی آہ وبکا سنیں گے اور نہ کسی کی سفارش و لجاجت پر کان دھریں گے، والعیاذ باللہ العظیم وہ ذرہ برابر کسی کے ساتھ کوئی نرمی اور مداہنت نہیں برتیں گے اور ان کو جو حکم ہوگا اس میں وہ ذرہ بھر کوئی خلاف ورزی نہیں کریں گے بلکہ اس کو پوری طرح بجا لائے گے وہ بڑے ہی درشت مزاج اور تندخو اور سخت گیر ہوں گے سو وہ لوگ بڑے ہی ہولناک خسارے میں مبتلا ہیں جو قیامت کے اس یوم حساب اور دوزخ کی اس آتش سوزاں کو بھولے ہوئے اور اس کے تقاضوں کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں حالانکہ فرصت حیات دنیا کی یہی فرصت محدود ہے جو گزرنے کے بعد پھر کبھی نہیں مل سکتی اس لیے اس کو ضائع کرنا خساروں کا خسارہ ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت وپناہ میں رکھے آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین۔
Ayah 66:7[ 12] قیامت کے روز منکروں کی تذلیل وتفضیح کا ایک منظر۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ کافرو اب حیلے بہانے مت کرو کہ اب حیلوں بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں اور فیصلے اور جزا کے اس وقت میں ایسے حیلے بہانے کچھ کام نہیں آسکتے اور آخرت کی کمائی کے لیے ملنے والی دنیا زندگی کی فرصت بہرحال تم نے گنوا دی جس کے تدارک کی اب کوئی صورت ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم، سو اس دن کسی کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہ ہوگی، ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان ہوگا بہر حال بھگتنا ہوگا اور جس نے اپنی دنیاوی زندگی میں جو فصل بیجی تھی اسی کو وہ اس دن کاٹے گا سو ان سے کہا جائے گا کہ اب تم لوگ دنیاوی زندگی میں اپنے کیے کرائے کا بھگتان بھگتو۔ یہ کسی اور کے جرائم نہیں تمہارے کھاتے میں دال دیے گئے ہوں بلکہ یہ سب کچھ خود تمہارا اپنا کیا کرایا ہے سو انما کلمہ حصر کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو تمہارے ان ہی اعمال کا صلہ اور بدلہ دیا جا رہا ہے جو تم اپنی دنیاوی زندگی میں خود کرتے تھے اب اس پر واویلا مچانے اور چیخ وپکار کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔ اس سے بچنے کے لیے کوشش کا موقع حیات دنیا کی فرصت محدود میں تھا جس کو تم نے کفر و انکاری کی حالت میں گزار دیا اب اس کی واپسی اور تلافی مافات کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے حفظ وامان میں رکھے اور ہر قسم کی مزلات اور لغزشوں سے ہمیشہ محفوظ رکھے آمین ثم آمین، یارب العالمین، ویا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔
Ayah 66:8[ 13] ایمان والوں کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی تعلیم و تلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو اللہ کے حضور سچی توبہ کرو۔ ایسی سچی اور خالص توبہ جس سے گزشتہ گناہوں کے ارتکاب پر ندامت و شرمندگی بھی ہو اور آئندہ کے لیے ان کا ترک بھی اور آئندہ ایسے کام نہ کرنے کا پکا وپختہ عزم و ارادہ بھی، اور اگر کسی کا حق مارا ہوا ہو تو اس کو ادا کرنا بھی (روح، صفوہ، وغیرہ) سو جو کوئی ایسی سچی توبہ کرے گا وہ اپنے رب سے توقع رکھے کہ وہ اس سے اس کے گناہوں کے اثرات مٹا دے گا اور اس کو ایسی عظیم الشان جنتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے سے طرح طرح کی نہریں بہہ رہی ہوں گی بہر کیف توبہ اور توبہ نصوح دین حنیف کے مطالب مقدسہ سے میں ایک عظیم الشان مطلب اور حضرت حق۔ جل مجدہ۔ کی عنایات میں سے ایک عظیم الشان عنایت و رحمت ہے اور نصوح کا لفظ نصح کے مادے سے ماخوذ ومشتق ہے جس کے معنی خلوص اور خیر خواہی کے ہیں خالص شہد کو عسل ناصح کہا جاتا ہے سو اس اعتبار سے توبہ نصوح کا مطلب یہ ہوگا کہ ایسی خالص توبہ کی جائے جس میں کسی ریا ونفاق کا کوئی شائبہ تک نہ ہو نیز یہ کہ انسان سچی توبہ کرکے خود اپنی ذات کے ساتھ خیرخواہی کرے اور اپنے آپ کو معاصی کی بد انجامی سے بچائے پس توبہ صرف زبان سے کچھ رٹے رٹائے الفاظ ادا کرنے کا نام نہیں۔ اسی لیے حضرت علی نے جب ایک شخص کو زبان سے تیزی سے توبہ واستغفار کے الفاظ ادا کرتے ہوئے دیکھا تو کو توبہ الکذابین یعنی جھوٹوں کی توبہ قرار دیا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
[ 14] سچی توبہ کرنے والوں کے لیے جنت سے سرفرازی کی بشارت۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ان عظیم الشان جنتوں سے نوازے گا جن کے نیچے سے بہہ رہی ہوں گی طرح طرح کی عظیم الشان نہریں۔ انواع واقسام کے اعلی درجے کے بےمثل مشروبات کی جیسا کہ دوسرے مقام پر تصریح فرمائی گئی کہ وہاں ایسے عمدہ اور بےمثال پانی کی نہریں ہوں گی جو کبھی خراب نہ ہو اور ایسے عمدہ شہد کی نہریں ہوں گی جو ہر طرح کی کدورت سے پاک صاف ہوگا اور وہاں نہریں ہوں گی ایسی عمدہ شراب کی جو پینے والوں کے لیے سراسر لذت اور نشاط ہوگی وغیرہ ذالک ( سورة محمد 15) اللہ پاک اپنے فضل وکرم سے نصیب فرمائے آمین ثم آمین، یا ارحم الراحمین ویا اکرم الاکرمین۔ اور کلمہ عسی (امید ہے بعید نہیں 9 جب اللہ کی طرف سے بندوں کو خطاب کرکے آتا ہے جس طرح کے یہاں ہے تو اس کی نوعیت بندوں کے لیے وعدے اور بشارت کی ہوتی ہے بشرطیکہ بندے اپنے آپ کو اس کا اہل ثابت کریں بہر کیف اس ارشاد ربانی سے سچی توبہ کرنے والوں کو اس عظیم الشان بشارت سے نوازا گیا ہے کہ اللہ ان کے رویے سے ان کے گناہوں کے اثرات کو مٹا دے گا اور انکو ایسی عظیم الشان جنتوں سے نوازے گا جن کے نیچے طرح طرح کی نہریں بہہ رہی ہوں گی اور وہ نہریں بھی ایسی عظیم الشان اور بےمثال ہوں گی کہ اس دنیا میں ان کا تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں ہوسکتا سو ہمیشہ اسی جنت اور اس کے تقاضوں کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید۔
[ 15] قیامت کے روز اہل ایمان کے نور کی کیفیت کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز اہل ایمان کا نوران کے آگے آگے اور ان کے دائیں دوڑ رہا ہوگا جو کہ در حقیقت ایمان و عقیدہ اور ان کے عمل صالح کا وہ نور ہوگا جو اہل ایمان کو دنیا کے اس عالم مجاہدہ میں نسیب ہوتا ہے وہ آخرت کے کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہاں میں پوری طرح روشن ہوجائے گا۔ اللھم شرفنا بہ وزدنامنہ وثبتا علیہ۔ سو اس روز باقی سب لوگ طرح طرح کے اندھیروں میں بھٹک رہے ہوں گے لیکن اہل ایمان کے آگے آگے اور ان کے دائیں روشنی ہوگی جو ان کی راہنمائی کرتی ہوگی اس سلسلے میں سورة الحدید، کی آیات نمبر 12 اور 13 پارہ 27 کی روشنی میں یہ امر واضح ہوجاتا ہے۔ یوم تر المومنین والمومنت یسعی نورھم بین ایدیھم وبایمانھم ''''''' الی من قبلہ العذاب۔ کہ یہ کیفیت اس وقت پیش آئے گی جبکہ اہل ایمان میدان حشر سے جنت کی طرف جا رہے ہوں گے سو اس وقت وہ لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں گے جن کے حق میں دوزخ کا فیصلہ ہوچکا ہوگا کیونکہ وہاں پر گھپ اندھیرا چھا رہا ہوگا سو اس وقت اہل ایمان کے لیے ان کے ایمان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں چل رہی ہوں گے۔ جعلنا اللہ منھم بمحض منہ وکرمہ وھو ارحم الراحمین۔ سو ایمان و یقین کی دولت عظیم الشان دولت ہے اور اس کا نور عظیم الشان نور ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے نوازتا اور سرفراز کرتا ہے۔ فالحمد للہ رب العالمین، ویا ارحم الراحمین۔ ویا اکرم الاکرمین۔
[ 16] اہل ایمان کی شان انابت ورجوع الی اللہ کا ایک نمونہ مظہر۔ سو اس نازک موقع پر جبکہ تاریکیوں میں ڈوبے ہوئے لوگ چیخ وپکار آہ وفغاں کررہے ہوں گے تو اس موقع پر سچے اور مخلص ایمان والو پر شان انابت ورجوع الی اللہ کی کیفیت طاری ہوجائے گی اور وہ فورا اپنے رب کے حضور عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب پورا فرمادے ہمارے لیے ہمارے ہمارے نور کو۔ تاکہ اس کی روشنی میں ہمیں آخر تک میسر رہے اور یہ کہیں اس طرح بجھ نہ جائے جس طرح کہ منافقوں کی روشنی بجھ گئی ابن عباس کہتے ہیں کہ جب وہ دیکھیں گے کہ منافقوں کا نور بجھ گیا تو اس وقت وہ اس طرح کی دعا کریں گے سو انابت ورجوع الی اللہ کی جس امتیازی شان سے وہ دنیا میں سرفراز رہے تھے وہ وہاں بھی ان پر طاری ہوجائے گی سو انابت رجوع الی اللہ ایک عظیم الشان سعادت و سرفرازی ہے اللہ ہمیشہ اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور ہر قسم کے شرور وفتن سے ہمیشہ اور ہر اعتبار سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین۔ بہر کیف تاریکیوں میں بھٹکنے والے بدبختوں کی آہ فغان پر سچے اہل ایمان اپنے رب کے حضور عرض کریں گے کہ اے ہمارے رب پورا فرمادے ہمارے لیے ہمارے نور کو اور ہماری بخشش فرما دے بیشک تو ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے سبحان اللہ کیسی روشنی ہے ایمان و یقین کی جہ روشنی جس کی بناء پر مومن صادق ہر وقت اور ہر موقع ومقام پر اپنے رب کی طرف متوجہ اور اسی کی مدد کا محتاج اور اس کے درکا سوالی رہتا ہے۔ فالحمدللہ الذی شرقنا بھذا الایمان اللھم زدنا منہ وثبتا علیہ یا ذوالجلال والاکرام۔
Ayah 66:9[ 17] کفار کے خلاف جہاد کا حکم وارشاد۔ سو ارشاد فرمایا گیا اور پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا اے پیغمبر جہاد کرو کافروں سے۔ یعنی ان سے جہاد سیف وسنان کے تمام ممکنہ اسلحہ اور ہتھیاروں اور آلات حرب وضرب کے ساتھ جیسا کہ جہاد کا تقاضا ہے اور آپ کے توسط سے یہی حکم اور ارشاد آپ کی امت کو بھی ہے کہ وہ ہمیشہ فریضہ جہاد ادا کرے بہر کیف پیغمبر کو حکم وارشاد فرمایا گیا کہ کافروں کے خلاف جہاد کرو کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جن پر پیغمبر ﷺ کے واسطے حجت تمام ہوگئی اور یہ لوگ اعلانیہ حق و دشمنی کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ہیں سو ایسے کھلے کافروں کے خلاف سیف وسنان کے ساتھ جہاد کیا جائے اب ان کے لیے کوئی عذر باقی نہیں رہا۔ اس لیے ایسے ناسوروں کے علاج اور ان کے خاتمے کے لیے تلوار کا استعمال ضروری ہے کیونکہ جس کے اندر سے فاسد مادہ نکالنے کا آخری علاج آپریشن ہی ہوتا ہے۔
[ 18] منفافقوں کے خلاف حکم جہاد اور اس مقصود وامر ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور منافقوں سے بھی کہ یہ لوگ چھپے ہوئے کافر ہیں لیکن ان کے خلاف یہ جہاد زبان وبیان اور حجت وبرہان کے ساتھ کیا جائے نہ کہ سیف وسنان سے کہ وہ ظاہر میں مسلمان بنے ہوئے ہیں جس کے باعث ان کے ساتھ تلوار کے جہاد کی اجازت نبی کو نہیں دی گئ تھی (روح، ابن کثیر، بیضاوی، قرطبی، مراغی، جامع البیان، صفوت التفاسیر، اور مدارک التنزیل، وغیرہ) بہر کیف منافق چونکہ کافر ہی تھے بلکہ کھلے کافروں سے بڑھ کر خطرناک کافر اور دشمن تھے کہ یہ لوگ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اور جھوٹی قسمیں کھا کر دھوکہ دیتے تھے اس لیے یہ بھی کافر اور دشمن ہی ہیں لیکن چونکہ یہ لوگ بظاہر اسلام کا نام لیتے اور اس کا کلمہ پڑھتے تھے اس لیے ان کے خلاف جہاد بالسیف کی اجازت نہیں دی گئی کہ اس طرح اسلام اور مسلمانوں کے خلاف غلط تصور قائم ہوتا اور یہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا کر مسلمانوں کے خلاف پروپگنڈا کرتے اس لیے ان کے خلاف تیغ وسنان سے جہاد کی اجازت نہیں دی گئی بلکہ زبان وبیان اور حجت وبرہانہی سے ان کے خلاف جہاد کی اجازت دے گئی تاکہ اس طرح یہ لوگ راہ حق پر آسکیں۔
[ 19] کافروں کا ٹھکانہ دوزخ۔ والعیاذ باللہ۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ ان سب کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے وہ سو کافروں کا ٹھکانہ دوزخ ہے خواہ وہ کھلے کافر ہوں یا چھپے۔ یعنی منافق کیونکہ دوزخ کے باعث یعنی کفر وانکار میں یہ دونوں گرو شریک ہیں اس لیے اس نتیجے وانجام یعنی دخول جہنم میں بھی یہ دونوں شریک ہوں گے العیاذ باللہ پس ان سب کو اچھی طرح جھنجھوڑ کر بتادو کہ اگر انہوں نے اپنی روش نہ بدلی اور صدق و اخلاص سے دین حق کو قبول نہ کیا اور یہ کفر ونفاق کی اسی روش پر اڑے رہے تو ان کا ٹھکانہ بہرحال دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی برا ٹھکانہ ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ کفر خواہ کھلا ہو خواہ مخفی و پوشیدہ، اس کا انجام اور کفار و منافقین کا ٹھکانہ بہرحال دوزخ ہی ہے والعیاذ باللہ العظیم۔ اور منافق لوگ اپنے کفر کو چھپا کر لوگوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہیں اور بالفعل دیتے ہیں لیکن یہ لوگ اللہ کو تو بہر حال دھوکہ نہیں دے سکتے اس لیے انجام کار یہ بھی کھلے کافروں کی طرح دوزخ میں ہوں گے بلکہ یہ لوگ اپنے کفر خبیث کی بنا پر دوزخ کے نچلے گڑھے میں ہوں گے جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار۔ یعنی یقینا دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے میں ہوں والعیاذ باللہ العظیم من کل زیغ وضلال وسوء و انحراف بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیات وھوالعزیز الوھاب وھوالھادی الی سواء الصراط ملھم الصدق والصواب جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayahs 66:10–11[ 20] کافروں کی عبرت کے لیے ایک مثال ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کافروں کے لیے نوح (علیہ السلام) اور لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی مثال بیان فرمائی کہ جس طرح ان دونوں کو اپنے کفر و عقیدہ بد کی بناء پر اتنے عظیم الشان پیغمبر کی زوجیت کا رشتہ جو کہ ایک نہایت ہی عظیم الشان رشتہ ہوتا ہے کچھ بھی کام نہ آسکا اسی طرح دور حاضر کے ان کفار و مشرکین کو بھی اپنے کفر و شرک اور عقائد باطلہ کی بناء پر اہل ایمان کی قرابت ورشتہ داری کچھ کام نہ آسکے گی والعیاذ باللہ العظیم۔ سو آدمی کو کام آنے والی چیزیں اس کا اپنا ایمان اور عمل ہے جن کے پاس یہ پونجی نہیں ہوں گی والعیاذ باللہ تو ان کو کسی بڑے سے بڑے کی نسبت بھی کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ نوح اور لوط کی بیویاں ہمارے دو نیک بندوں کے نکاح میں تھیں لیکن انہوں نے ان پر ایمان لانے اور ان کا اسوہ اختیار کرنے کی بجائے ان سے خیانت اور بےوفائی کی جس کے نتیجے میں رسولوں کی بیویاں ہونے کے باوجود ان سے کہہ دیا گیا کہ تم بھی داخل ہوجاؤ دوزخ میں دوسرے داخل ہونے کے ساتھ والعیاذ باللہ العظیم سو یہ مثال کافروں کی عبرت پذیری اور سبق آموزی کے لیے بیان فرمائی گئی ہے کہ ایمان سے محروم اور کفر و شرک کے مرتکب لوگوں کو کسی بڑی سے بری رشتہ داری سے بھی کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا بلکہ نجات کا اصل دارومدار انسان کے اپنے عمل و کردار پر ہے۔ وبا اللہ التوفیق لما یحب ویرید۔ ارشاد فرمایا گیا کہ ان دونوں نے ان سے خیانت کی یعنی انہوں نے دین میں خیانت اور بددیانتی کا ارتکاب کیا کہ ایمان لانے کی بجائے وہ اپنے کفر پر ہی اڑی رہیں و یہاں پر خیانت سے یہی خیانت مراد ہے اور جس نے یہاں اس خیانت سے اخلاقی خیانت مراد لی ہے اس نے غلط کہا ہے کیونکہ حضرات انبیاء کرام کی بیویوں میں سے کوئی بھی کبھی اس طرح کی کسی خیانت میں مبتلا نہیں ہوئی جیسا کہ حضڑت ابن عباس نے اس کی تصریح فرمائی ہے۔ (ابن کثیر ابن جریر، جامع البیان، اور صفوہ التفاسیر) البتہ وہ دونوں اپنے شوہروں کی راز دار اور وفا دار نہیں تھیں روایات میں آتا ہے کہ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی ان کے پاس آنے والے مہمانوں کے بارے میں غنڈوں کو خبر دیتی تھی جس سے وہ لوگ حضرت لوط کے گھر پر دھاوا بول دیتے تھے سو ان کی اسی قسم کی بےوفائیوں کو یہاں پر خیانت سے تعبیر فرمایا گیا سو یہاں سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جیسا کہ اہل بدعت کا کہنا ہے ورنہ ان دونوں پیغمبروں کی بیویاں اس طرح نہ ہوتیں۔ پس مختار کل اللہ وحدہ لاشریک ہی ہے۔ سبحانہ وتعالی۔
[ 21] پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے، علیھم الصلوات والسلام۔ سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے کہ جو چاہیں کریں جس طرح کہ اہل بدعت کا کہنا اور ماننا ہے کہ یہاں پر پہلے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) جیسے عظم الشان اور جلیل القدر پیغمبروں کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا اور صاف وصریح طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ وہ دونوں ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے شئیانکرہ تحت النفی۔ عموم وشمول کا فائدہ دیتا ہے اس لیے ہم نے ترجمہ بھی اس کے مطابق کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ دونوں حضرت اتنے عظیم الشان اور جلیل القدر پیغمبر ہونے کے باوجود اپنی بیویوں کو کچھ بھی کام نہ آسکے سو اسس سے ایک طرف تو یہ معلوم ہوا کہ پیغمبر مختار کل نہیں ہوتے جس طرح اہل بدعت کا کہنا ہے اور دوسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوگیا کہ اللہ پاک کے سوا اور کوئی حاجت روا اور مشکل کشا نہیں ہوسکتا کہ جب دونوں یہ عظیم الشان اپنی بیویوں کے بھی کچھ کام نہیں آسکے اور ان کے شرف زوجیت سے بھی ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکا تو پھر اور کون ہوسکتا ہے جو مافوق الاسباب طور پر کسی کی حاجت روائی ومشکل کشائی کا دم بھر سکے اور تیسری طرف اس سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ ہدایت وغوایت اللہ ہی کے قبضہ قدرت واختیار میں ہے وہ جس کو چاہیے ہدایت سے نوازے کہ وہی جانتا ہے کہ کون کس کے لائق ہے اور کس کے باطن کی کیفیت کیا ہے وہ اسی کے مطابق معاملہ فرماتا ہے۔ سبحانہ وتعالی، یضل من یشاء ویھدی من یشاء۔ اسی وحدہ لاشریک کی شان ہے سبحانہ وتعالی بہر کیف اس میں تصریح فرمادی گئی کہ نوح اور لوگ دونوں کی بیویوں کو دوزخ میں داخلے کا حکم دے دیا گیا بغیر کسی رو رعایت اور بدوں کسی فرق امتیاز کے کہ جرم میں تم شریک ہو پس سزا بھی تم دونوں کو ایک برابر ملے گی والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس کے کہنے سے مراد یہ ہے کہ ان کی موت کے وقت ان سے ایسے کہا گیا یا قیامت کے روز کہا جائے گا (محاسن التاویل، صفوہ التفاسیر، اور جامع البیان وغیرہ) سو تحقیق وقوع کی بنا پر اس بات کو ماضی کے صیفے سے تعبیر فرمایا گیا ہے بہر کیف بتانا یہ مقصود ہے کہ پیغمبر کی زوجیت ان کے کچھ کام نہ آسکی کیونکہ انہوں نے پیغمبر کا طریقہ نہیں اپنایا تھا جو کہ اصل مقصد ہے سو اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ لوگ کس قدر بہکے بھٹکے اور ابلیس لعین کے حال میں کس طرح پھنسے اور الجھے ہوئے ہیں جو لوگ یہ کہتے ہیں فلاں شخص چونکہ سید زادہ اور صاحبزادہ اور پیر زادہ وغیرہ ہے لہذا وہ جو چاہے کرے اور جیسا چاہے کرے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ سو یہ سب کچھ ابلیس کا دھوکہ ہے جس میں وہ کوئی پرواہ نہیں سو یہ سب ابلیس کا دھوکہ جس سے وہ ایسے لوگوں کو پھنساتا ہے جیسا کہ دوسرے مقام پر اس لعین کے اس مکروفریب کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا یعدھم ویمنیھم وما یعدھم الشیطان الاغرورا۔ (النساء 120، پارہ 5) وہ جب پیغمبر کی زوجیت کا رشتہ خود ان کی بیویوں کے بھی کام نہ آسکا تو پھر اور کسی کے لیے ایسے کسی تصور کی کیا گنجائش ہوسکتی ہے ؟ سو کام آنے والی چیز انسان کا خود اپنا ایمان و عقیدہ اور عمل و کردار ہے اور بس۔ وبا اللہ التوفیق۔
Ayah 66:12[ 24] مریم بنت عمران سلام اللہ علیہا کی مثال کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ اور عمران کی بیٹی مریم کی شان بھی بیان فرمائی جس نے محفوظ رکھا اپنی عزت و ناموس کو جس سے یہود و بےبہبود کی بہتان بازی اور ان کے بےسروپا الزامات کے باوجود آپ کا کچھ نہ بگڑا بلکہ وہ خود ہی مزید ذلیل و خوار ہوئے، والعیاذ باللہ۔ سو یہ ایمان والوں کے لیے دوسری مثال بیان فرمائی گئی ہے کہ انسان کے اندر اگر سچی انابت موجود ہو تو وہ برے سے برے ماحول میں بھی اپنے آپ کو برے اثرات سے محفوظ رکھ سکتا ہے، بلکہ اپنے آپ کو ملائکہ کے لیے بھی قابل رشک بنا سکتا ہے، سو حضرت مریم صدیقہ سلام اللہ علیہا اس حقیقت کی زندی جاوید مثال ہیں جو اگرچہ پیدا تو ایک ایسے بگڑے ہوئے ماحول میں ہوئیں جہاں چاروں طرف کفر و شرک کے اندھیرے تھے، مگر انہوں نے اپنی محنت، ریاضت و عبادت اور رجوع وانابت کی بناء پر اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ مرتبہ و مقام حاصل کیا جو خاص انہی کا حصہ تھا، پھر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی ولادت پر بد گو اور بدفطرت لوگوں کی زبان درازی سے حفاظت کے لیے قدرت نے آپ کے لیے اپنی وہ شان ظاہر فرمائی جو اس نیلگوں آسمان کے نیچے اور کسی کے لیے بھی ظاہر نہیں فرمائی، سو حضرت مریم کی ہسیت اس حقیقت کی ایک زندہ جاوید مثال ہے کہ انسان کے اندر اگر انابت و رجوع الی اللہ کا صحیح جذبہ اور حقیقی طلب موجود ہو تو وہ برے سے برے ماحول میں بھی اپنے آپ کو رشک ملائک بنا سکتا ہے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل۔ بہرکیف ان کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے آپ کو پاک دامن رکھا تو اس کے نتیجے میں ہم نے پھونک دیا ان میں اپنی روح میں سے، اپنے فرشتے جبریل امین کے واسطے سے جس سے وہ بغیر کسی رشتہ زوجیت اور تعلق مرد کے بار دار ہوگئیں، سو اس سے ان کے اصل کمال کی طرف اشارہ فرمایا گیا جس کی بدولت وہ اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان امانت کی حامل ہونے کی اہل ٹھہریں، کہ انہوں نے اپنی عفت و پاکدامنی کی حفاظت کی جس کا انعام ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ملا کہ ان کے بطن سے حضرت مسیح کی شکل میں اللہ تعالیٰ کی عظیم الشان نشانی ظاہر ہوئی، فرج کا لفظ عربی میں محدود معنی میں نہیں آتا، بلکہ اس کے اصل معنی " موضع مخافتہ " یعنی " اندیشے کی جگہ " کے آتے ہیں، سو اس طرح اس لفظ کے عموم میں وہ سب راستے اور مواضع آجاتے ہیں جن کے ذریعے انسان کے اندر کوئی برائی راہ پاسکتی ہے، اسی لیے ایسے مواضع کو عربی میں مفاتن کہا جاتا ہے یعنی وہ جگہیں جو فتنے کا باعث بن سکتی ہیں، سو حضرت مریم سلام اللہ علیہا نے ان سب کو پاک اور محفوظ رکھا۔
[ 25] حضرت مریم کے بعض خاص فضائل کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ انہوں نے اپنے رب کی باتوں اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرمانبردار لوگوں میں سے تھیں، اور ایسی کہ صنف نازک سے ہونے کے باوجود اس میدان میں مردوں سے بھی پیچھے نہیں رہیں، یعنی قانتین کے صیغہ تذکیر سے مفہوم ظاہر ہوتا ہے، والحمدللہ رب العالمین۔ سو ان کو اپنے رب کی طرف سے جو بھی ملا اس کی انہوں نے بلا چوں چرا تصدیق و تعمیل کی، اور وہ ہر لمحہ اپنے رب کی طرف متوجہ رہتی تھیں اور اسی کی رضا و خوشنودی کا خیال و دھیان رکھتی تھیں، سو یہ حضرت مریم صدیقہ سلام اللہ علیہا کے بعض خاص فضائل تھے جن میں حضرت مریم صدیقہ سلام اللہ علیہا ایک خاص مرتبہ و مقام رکھتی تھیں، جس کی بناء پر آپ اپنے رب کی ان خاص عنایات سے سرفرازی کی اہل اور مستحق قرار پائیں۔