Ayah 66:1یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک .
” اے نبی ! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اس کو آپ حرام کیوں کرتے ہیں۔ “
مَآ اَحَلَّ اللہ : سے مراد شہد ہے اور استفہام انکاری سے یعنی حلال کو حرام بنا دینا آپ کے لیے جائز نہیں۔
بخاری نے ان الفاظ کے ساتھ حدیث مذکور نقل کی ہے (کہ حضور ﷺ نے فرمایا :) میں زینب بنت جحش کے پاس شہد کا شربت پیتا ہوں لیکن (اب) عہد کرتا ہوں (کہ آئندہ نہیں پیوں گا) تم کسی سے (یہ بات) کہنا مت (خبر دینے کی ممانعت سے) آپ کا مقصد تھا امہات المؤمنین میں ناراضگی پیدا نہ ہونا (یعنی بیبیوں کی دلجوئی کی خواہش) ۔
طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن ابی ملیکہ کی اسناد سے حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ حضرت سودہ ؓ کے پاس شہد (کا شربت) پیا کرتے تھے (ایک بار جو آپ شہد پی کر) حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو حضرت عائشہ ؓ نے کہا : مجھے آپ ﷺ کے پاس سے کچھ مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے۔ حضرت عائشہ ؓ کے بعد جب آپ ﷺ حضرت حفصہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی یہی بات کہی۔ حضور ؓ نے فرمایا : میرا خیال ہے کہ سودہ ؓ کے پاس جو میں نے شربت پیا یہ بو اسی کی ہے۔ خدا کی قسم آئندہ میں وہ شربت نہیں پیوں گا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
حافظ ابن حجر نے شرح بخاری میں لکھا ہے کہ قابل ترجیح روایت یہی ہے کہ شربت پینے کا واقعہ حضرت زینب ؓ کے گھر کا ہے۔ حضرت سودہ کے گھر کا نہیں ہے کیونکہ جو روایت بطریق عبید بن عمیر آئی ہے وہ اس روایت سے بہت زیادہ قوی ہے جو ابن ابی ملیکہ کے طریق سے آئی ہے یہ ترجیح اس روایت سے بھی ہوتی ہے جو بخاری نے حضرت عائشہ ؓ کے حوالے سے بیان کی ہے کہ امہات المؤمنین کی دو پارٹیاں تھیں ‘ ایک پارٹی حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ اور سودہ ؓ کی تھی اور دوسری پارٹی حضرت امّ سلمہ اور باقی امہات المؤمنین کی۔ حضرت سودہ ؓ جب حضرت عائشہ ؓ کی پارٹی میں داخل تھیں تو ان سے حضرت عائشہ کو رشک نہیں ہوسکتا۔ حضرت زینب ؓ حضرت امّ سلمہ ؓ کی پارٹی کی رکن تھیں۔ اس لیے حضرت زینب ؓ سے رشک ہونا قرین عقل اور قابل ترجیح ہے۔
فائدہ صحیح بخاری میں عروہ کی روایت سے آیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ شہید والی بی بی حضرت حفصہ تھیں۔ تفصیل واقعہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ شیرینی اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ عصر کی نماز کے بعد بیبیوں کے گھر جایا کرتے تھے۔ ایک روز (عصر کے بعد) حضرت حفصہ ؓ کے پاس گئے تو وہاں ہر روز کے معمول کے خلاف زیادہ دیر توقف کیا۔ میں نے جب پوچھ پا چھ کی تو معلوم ہوا کہ حفصہ ؓ کے خاندان کی کسی عورت نے حفصہ کو بطور ہدیہ شہد کی ایک کپی بھیجی تھی۔ انہوں نے اس شہد کا شربت بنا کر رسول اللہ ﷺ کو پلایا تھا۔ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : میں نے یہ بات سن کر کہا : خدا کی قسم ! ہم کوئی تدبیر کریں گے (کہ رسول اللہ ﷺ وہاں شربت نہ پئیں) چناچہ میں نے سودہ ؓ سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس آئیں تو تم کہنا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے ؟ حضور ﷺ جواب دیں گے : نہیں (میں نے مغافیر نہیں کھایا) اس پر تم کہنا پھر یہ بو کیسی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ کو بہت ناگوار تھا کہ آپ ﷺ کی طرف سے کسی کو یہ بو محسوس ہو۔ حضرت رسول اللہ ﷺ ضرور فرمائیں گے کہ حفصہ ؓ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا۔ اس کے جواب میں تم یہ کہنا کہ اس شہد کی مکھیوں نے عرفظ کا عرق چوسا ہوگا۔
میرے پاس جب حضور ﷺ تشریف لائیں گے تو میں بھی یہی ک ہونگی اور صفیہ ؓ جب تمہارے پاس تشریف لے آئیں تو تم بھی یہی کہنا۔
جب رسول اللہ ﷺ حضرت سودہ ؓ کے گھر تشریف لائے اور قریب آئے تو انہوں نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ﷺ نے مغافیر کھایا ہے ؟ حضور ؓ نے فرمایا : نہیں۔ حضرت سودہ ؓ نے کہا : پھر یہ بو کیسی ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : حفصہ نے مجھے شہد کا شربت پلایا تھا۔ حضرت سودہ نے کہا : تو اس کی مکھیوں نے عرفظ کا عرق چوسا ہوگا۔ حضرت سودہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا : رسول اللہ ﷺ دروازے میں ہی تھے کہ خدا کی قسم میں نے تمہارے خوف سے پکار کر وہ بات اسی وقت کہنا چاہی تھی (لیکن توقف کیا اور جب حضور ﷺ میرے پاس پہنچ گئے تو میں نے وہ بات کہی) اس کے بعد رسول اللہ ﷺ میرے پاس تشریف لائے تو میں نے وہی (طے شدہ) بات عرض کی۔ پھر صفیہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے بھی وہی بات عرض کی ‘ بالآخر جب آپ ﷺ حفصہ کے پاس پہنچے تو انہوں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا میں اسی شہد کا شربت پلاؤں ‘ فرمایا : مجھے اس کی ضرورت نہیں۔
حضرت عائشہ کا بیان ہے کہ اس کے بعد سودہ ؓ نے کہا : ہم نے رسول اللہ ﷺ کو شربت سے محروم کردیا ‘ میں نے کہا : خاموش رہو۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ شہد کا شربت حضرت حفصہ ؓ نے پلایا تھا اور سابق حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ واقعہ حضرت زینب کا ہے۔ دونوں حدیثوں میں موافقت پیدا کرنے کے لیے کہا جاسکتا ہے کہ واقعات دو ہوئے تھے ایک امر کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں ‘ اگر دونوں کو صحیح مان لیا جائے ‘ اگر ایک کو دوسری پر ترجیح دینی ہے تو میرے نزدیک عبید بن عمیر کی روایت زیادہ مستحکم اور قوی ہے کیونکہ حضرت ابن عباس کا قول اس کے موافق ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی اس قول کی مؤید ہے کہ حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ایک گروپ میں تھیں ‘ اگر اس کو حفصہ کا واقعہ قرار دیا جائے گا تو حفصہ کو عائشہ ؓ کے گروپ میں شامل نہیں مانا جائے گا ‘ ممکن ہے کہ شربت عسل پینے کا واقعہ دو مرتبہ ہوا ہو ایک بار حضرت زینب ؓ کے پاس اور دوسری بار حضرت حفصہ ؓ کے پاس۔ پہلے حضرت حفصہ نے حضور ﷺ کو شربت پلایا ہو ‘ یہ اس وقت ہوا جب حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ ایک گروپ میں تھیں ‘ اس وقت حضرت عائشہ ؓ نے حضرت سودہ ؓ اور حضرت صفیہ ؓ سے مل کر حضرت حفصہ ؓ کے گھر حضور ﷺ کی شربت نوشی کو بند کرنے کی کوئی کوشش کی ‘ اس کے بعد جب حضور ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس شربت پیا تو حضرت عائشہ ؓ نے حضرت حفصہ کو ملا کر ایسی کوشش کی۔ حضور ﷺ نے آئندہ حضرت زینب ؓ کے پاس شربت نہ پینے کا وعدہ کرلیا۔ اس حالت میں آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ اس کی تائید اس امر سے بھی ہوتی ہے کہ ہشام بن عروہ کی روایت جس سند سے بیان کی گئی ہے اور جس میں حضرت حفصہ ؓ کے پاس شربت شہد پینے کا ذکر کیا گیا ہے اس میں نہ آیت کا ذکر کیا گیا ہے نہ سبب نزول کا۔ قرطبی نے لکھا ہے وہ روایت صحیح نہیں ہے جس میں حضرت عائشہ ‘ حضرت صفیہ اور حضرت سودہ کی باہمی مشاورت اور اتفاق کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ آیت میں تثنیہ کا صیغہ ہے ‘ جمع مؤنث کا صیغہ نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ متفق الرائے ہونے والی صرف دو عورتیں تھیں ‘ تین نہیں تھیں۔
اس صورت میں دونوں روایتوں میں توافق اس طرح ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ نے پہلے حضرت حفصہ ؓ کے پاس شربت پیا۔ جب رسول اللہ ﷺ سے اس کے متعلق (مغافیر کی بدبو کا) ؟ ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے حفصہ ؓ کے گھر شربت پینا چھوڑ دیا لیکن اپنے لیے اس کو حرام نہیں قرار دیا اور اس کے بارے میں کسی آیت کا نزول بھی نہیں ہوا پھر جب آپ ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے گھر شربت پیا اور حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے متفق الرائے ہو کر حضرت زینب ؓ کے گھر شربت پینے سے حضور ﷺ کو اپنی تدبیر سے روک دیا اور آپ ﷺ نے اپنے لیے اس کو حرام کرلیا تو اسی پر آیت کا نزول ہوا۔
ابن سعد کا بیان ہے کہ حضرت عبداللہ بن رافع نے فرمایا : میں نے امّ المؤمنین حضرت امّ سلمہ سے اس آیت کے متعلق دریافت کیا ‘ امّ المؤمنین نے فرمایا : میرے پاس سفید شہد کی ایک کپی تھی۔ رسول اللہ ﷺ اس شہد کو پسند فرماتے تھے اور اس میں سے کچھ نوش فرمایا کرتے تھے۔ عائشہ ؓ نے کہا : اس شہید کی مکھیاں تو عرفظ کو چوستی ہیں۔ یہ سن کر حضور ﷺ والا نے اس شہد کو اپنے لیے حرام قرار دے لیا۔ اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔ (کذا اخرج الطبرانی) سدی کی تفسیر میں اس روایت کر مرفوع کہا گیا ہے۔
حافظ ابن حجر نے کہا : یہ حدیث مرسل اور شاذ ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔
اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ آیت مذکورہ کا نزول حضرت ماریہ ؓ کے سلسلے میں ہوا تھا جس کی تفصیل میں بغوی نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنی بیبیوں کی باریاں بانٹ دیا کرتے (ایک بار) جب حضرت حفصہ ؓ کی باری تھی تو آپ نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے میکے جانے اور اپنے والد کو دیکھنے کی اجازت کی درخواست کی۔ حضور ﷺ نے اجازت دے دی۔ حضرت حفصہ ؓ جب چلی گئیں تو حضور ﷺ نے اپنی باندی حضرت ماریہ قبطیہ کو حضرت حفصہ ﷺ کے گھر میں ہی طلب فرمایا۔ ماریہ آگئیں۔ حضور ﷺ نے ان سے قربت کی۔ حضرت حفصہ لوٹ کر آئیں تو دروازہ کے پاس ہی بیٹھ گئیں۔ کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ برآمد ہوئے تو اس وقت آپ ﷺ کی پیشانی سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ حضرت حفصہ بیٹھی رو رہی تھیں ‘ فرمایا : کیوں رو رہی ہو ؟ حضرت حفصہ نے جواب دیا : آپ ﷺ نے اسی غرض سے مجھے اجازت دی تھی ‘ آپ ﷺ نے میرے گھر میں اپنی باندی کو بلایا اور میری باری کے دن میرے بستر پر اس سے قربت کی۔ آپ ﷺ نے میرا اتنا پاس لحاظ بھی نہیں کیا جتنا دوسری کسی بی بی کا کرتے ہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : کیا وہ میری باندی نہیں ہے جو اللہ نے میرے لیے حلال کردی ہے (خیر) اب تم خاموش ہوجاؤ تمہاری خوشنودی کی خاطر میں نے اس کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔ کسی بی بی کو اس کی اطلاع نہ دینا اس کے بعد آپ ﷺ تشریف لے آئے ‘ جونہی حضور ﷺ واپس ہوگئے۔ حضرت حفصہ ؓ نے وہ دیوار کھٹ کھٹائی جو ان کے اور حضرت عائشہ ؓ کے مکان کے درمیان تھی اور حضرت عائشہ ؓ سے کہا : میں تم کو ایک خوشخبری سناتی ہوں ‘ رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی ماریہ کو اپنے لیے حرام کرلیا ‘ اب ہم کو اللہ نے اس کی طرف سے سکھ دے دیا۔ حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ ؓ باہم گہری دوست تھیں اور دوسری بیبیوں کے مقابلہ میں آپس میں ایک دوسری کی مددگار۔ اسی لیے حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے ساری سرگزشت بیان کردی۔ یہ بات سن کر حضرت عائشہ کو غصہ آیا اور رسول اللہ ﷺ اپنے عہد پر اس وقت تک قائم رہے جب تک یہ آیت نازل ہوئی۔
بزار نے صحیح سند سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ آیت : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیِّ لِمَ تُحَرِّم ..... ایک باندی کے متعلق نازل ہوئی۔
ابن جوزی نے تحقیق میں اپنی سند سے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حفصہ ؓ اور عائشہ ؓ باہم دوست تھیں۔ حفصہ ؓ اپنے باپ کے پاس کچھ باتیں کرنے کے لیے گئیں ‘ ان کی غیبت میں رسول اللہ ﷺ نے ایک باندی کو ان کے گھر میں بلوایا۔ باندی ان کے گھر میں ( رسول اللہ ﷺ کے ساتھ) موجود ہی تھی کہ حفصہ ؓ واپس آگئیں اور باندی کو اپنے گھر میں پایا۔ باندی چلی گئی اور حفصہ گھر میں آگئیں اور کہنے لگیں : میں نے دیکھ لیا کہ آپ ﷺ کے پاس کون تھی۔ آپ نے مجھے باندی کے برابر کردیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اب تم مجھ سے راضی ہوجاؤ۔ میں تم سے ایک راز کی بات کہتا ہوں ‘ تم اس کو ظاہر نہ کرنا۔ حفصہ ؓ نے کہا : وہ کیا بات ہے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : میں تمہاری خوشنودی کے لیے کہتا ہوں کہ یہ باندی میں نے اپنے لیے (آئندہ) حرام کرلی تم اس کی گواہ رہو (یعنی تمہارے سامنے میں یہ بات کہتا ہوں) اس پر آیت ذیل نازل ہوئی۔
حاکم اور نسائی نے بسند صحیح حضرت انس کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ کی ایک باندی تھی۔ جس سے آپ ﷺ مباشرت کر رہے تھے کہ حفصہ ؓ (آپڑیں اور) اس وقت تک اصرار کرتی رہیں ‘ جب تک حضور ﷺ نے (آئندہ کے لیے) اس باندی کو اپنے واسطے حرام نہ کرلیا۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
المختار میں حدیث ابن عمر ؓ میں حضرت عمر کی روایت سے آیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ سے فرمایا : کسی کو یہ اطلاع نہ دینا کہ ابراہیم کی ماں (کو میں نے اپنے اوپر حرام کرلیا اور وہ) میرے لیے حرام ہوگئی ‘ اس عہد کے بعد حضور ﷺ نے ابراہیم کی ماں سے قربت نہیں کی لیکن حفصہ ؓ نے جا کر عائشہ ؓ سے یہ بات کہہ دی۔ اس پر آیت : یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ.... نازل ہوئی۔ یہ تمام احادیث ثابت کر رہی ہیں کہ آیات کا نزول حضرت ماریہ قبطیہ کے متعلق ہوا ‘ جن کو رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے حرام کرلیا تھا لیکن شروع میں جو احادیث مذکور ہیں ان سے ان آیات کا نزول شہد کا شربت پینے کے سلسلے میں ہونا ثابت ہوتا ہے۔
حافظ ابن حجر نے دونوں طرح کی احادیث کو موافق بنانے کیلئے کہا ‘ ہوسکتا ہے کہ آیات کے نزول کے مذکورہ دونوں واقعے سبب ہوں۔
ابن حجر کے اس قول کی تائید ی زید بن رومان کی اس روایت سے ہوتی ہے جو ابن مردویہ نے بیان کی ہے کہ حضرت حفصہ ؓ کے پاس شہد کی ایک کپی بطور ہدیہ آئی۔ رسول اللہ ﷺ جب ان کے پاس جاتے تو وہ آپ ﷺ کو روک لیتی تھیں اور حضور ﷺ وہ شہد وہاں کھاتے یا اس کا شربت طلب فرماتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ نے اپنی ایک حبشی باندی سے جس کا نام خضراء تھا ‘ فرمایا : جا کر دیکھ کہ رسول اللہ ﷺ وہاں کیا کرتے ہیں ؟ باندی گئی اور واپس آکر اس نے شہد کا شربت پینے کی اطلاع دے دی۔
حضرت عائشہ ؓ نے اپنے ساتھ والی (یعنی اپنے گروپ کی) دوسری بیبیوں کو کہلا بھیجا کہ جب رسول اللہ ﷺ تمہارے پاس تشریف لائیں تو تم سب یہی کہنا کہ ہم کو آپ ﷺ کے پاس سے مغافیر کی بو محسوس ہو رہی ہے (حضرت عائشہ ؓ کے گروپ والیوں نے ایسا ہی کیا) حضور ﷺ نے فرمایا : میں نے تو شہد (کا شربت) پیا تھا۔ خدا کی قسم ! میں آئندہ اس کو نہیں کھاؤں گا (اس کے بعد) جب حضرت حفصہ ؓ کی باری کا دن تھا تو انہوں نے اپنے والد کے پاس جانے کی اجازت چاہی۔ حضور ﷺ نے اجازت دے دی ‘ وہ چلی گئیں۔ حضور ﷺ نے (حفصہ کی غیبت میں) ان کے گھر میں باندی کو طلب فرما لیا۔ اتنے میں حضرت حفصہ ؓ واپس آگئیں۔ دروازہ کو بند پایا (تو وہیں بیٹھ گئیں) کچھ دیر کے بعد رسول اللہ ﷺ اندر سے برآمد ہوگئے۔ اس وقت چہرۂ مبارک سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔ حضرت حفصہ ؓ رو رہی تھیں۔ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے ناراضی کا اظہار کیا۔ حضور اقدس نے فرمایا : آئندہ وہ مجھ پر حرام ہے۔ مگر یہ بات کسی عورت سے کہنا نہیں ‘ میری یہ بات تمہارے پاس امانت ہے۔ یہ فرما کر حضور ﷺ چلے گئے۔ حضرت حفصہ ؓ نے دیوار کو جو ان کے اور حضرت عائشہ ؓ کے مکان کے درمیان تھی ‘ کھٹکھٹایا اور حضرت عائشہ ؓ سے کہا : میں تم کو خوشخبری سناتی ہوں کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنے لیے باندی کو حرام کرلیا۔
میں کہتا ہوں ‘ اس حدیث میں حضرت ماریہ کے قصے کو اور حضرت حفصہ ؓ کے پاس شہد پینے کے واقعے کو ایک جگہ جمع کردیا گیا۔ شاید راوی نے ایسا کیا ہو لیکن حضرت زینب ؓ کے گھر شربت پینے کا کوئی ذکر اس میں نہیں کیا گیا۔
حافظ ابن حجر نے لکھا ہے کہ تمام اسباب نزول میں حضرت ماریہ ؓ کے قصہ کو شان نزول قرار دینا ‘ زیادہ قوی ہے کیونکہ اس میں صرف حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ سے آیت کا تعلق ثابت ہوگا۔ شہد والے واقع سے کوئی تعلق نہ ہوگا لیکن شہد پینے کے قصے کو اگر سبب نزول قرار دیا جائے گا تو اس میں حضرت سودہ اور حضرت صفیہ کا حضرت عائشہ ؓ کے ساتھ متفق ہونا ضروری قرار پائے گا (حالانکہ اِنْ تَتُوْبَا اور قُلُوْبُکُمَا میں تثنیہ کی ضمیریں ہیں ‘ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اتفاقِ رائے صرف دو عورتوں کا تھا) ۔
تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم .
” آپ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی خوشنودی اور اللہ بخشنے والا ‘ مہربان ہے۔ “
یہ تحریم کی تشریح ہے یا جملۂ مستانفہ ہے ‘ جس میں تحریم کا سبب بیان کیا گیا ہے۔
وَ اللہ ُ غَفُوْرٌ : یعنی آپ سے یہ لغزش ہوگئی کہ اللہ نے جس چیز کو آپ کے لیے حلال بنایا تھا ‘ آپ ﷺ نے اس کو قسم کھا کر اپنے لیے حرام کرلیا۔ اللہ آپ ﷺ کی اس لغزش کو معاف کرنے والا ہے۔
رَّحِیْمٌ : یعنی اللہ نے آپ ﷺ پر اپنی رحمت کو خود ساختہ تحریم سے نکلنے کا راستہ اس نے آپ ﷺ کے لیے بنا دیا اور آپ ﷺ سے مواخذہ نہیں کیا اور آپ ﷺ کو ناجائز اَمر سے بچانے کے لیے اظہار ناگواری کردیا۔
Ayah 66:2قد فرض ... الحکیم .
” اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تمہاری قسموں کا کھولنا (اور اس کا طریقہ یعنی قسم توڑنے کے بعد اس کے کفارے کا طریقہ) مقرر کردیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی بڑا جاننے والا ‘ بڑی حکمت والا ہے۔
قَدْ فَرَضَ : یعنی اللہ نے قانون بنا دیا (مشروع کردیا) ۔
تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ : یعنی جن حلال امور کو قسم کھا کر تم اپنے اوپر حرام کرلیتے ہو ان کو حلال بنانے کا طریقہ یا قسم کی گرہ کھول دینے کا قانون یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اپنی قسم کو توڑنا چاہو تو اللہ نے اس کا کفارہ ادا کرنا تم پر واجب کردیا ہے۔ کفارہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کرنے سے قسم کی گرہ کھل جائے یعنی قسم شکنی کا گناہ دور ہوجاتا ہے۔
ایک شبہ وجوب (یعنی فرض) کے بعد لفظ علیٰ ہونا چاہیے (تم پر فرض کردیا) لام نہ ہونا چاہیے اور اس جگہ لکم (تمہارے لیے) آیا ہے ‘ پھر واجب کردینے کا معنی کیسے ہوسکتا ہے۔
ازالہ لام انتفاع کیلئے آتا ہے (اور علیٰ ضرر کیلئے) اور اس جگہ نفع کا مفہوم مقصود ہے کیونکہ کفارہ واجب کرنے سے یہ فائدہ ہوجاتا ہے کہ خود ساختہ تحریم حلّت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور قسم شکنی کا گناہ دور ہوجاتا ہے۔ کفارہ وہی ہے جس کا ذکر سورة مائدہ میں کردیا گیا ہے۔
مَوْلٰکُمْ : یعنی تمہارا کارساز اور مددگار ہے۔
وَھُوَ الْعَلِیْمُ : وہی تمہارے مصالح سے واقف ہے۔ جن باتوں سے تمہاری اصلاح ہو ‘ ان کو وہی جانتا ہے۔
اَلْحَکِیْمُ : اپنے احکام و افعال میں استحکام کرنے والا ہے (اور اس کا ہر حکم پر حکمت ہے) ۔
آیت کفارہ نازل ہونے کے بعد کیا رسول اللہ ﷺ نے کوئی کفارہ دیا ‘ یا نہیں ؟ یہ مسئلہ اختلافی ہے
مقاتل کا بیان ہے کہ حضرت ماریہ کی تحریم کے کفارہ میں رسول اللہ ﷺ نے ایک بردہ آزاد کیا تھا۔ حسن کا قول ہے کہ حضور ﷺ نے کوئی کفارہ نہیں دیا کیونکہ یہ لغزش اللہ نے آپ ﷺ کو معاف کردی تھی۔
میرے نزدیک مقاتل کا قول صحیح ہے کیونکہ آیت : لِمَ تُحَرِّمُ کے بعد قَدْ فَرَضَ اللہ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ کا فرمان واضح دلیل ہے ‘ اس امر کی کہ رسول اللہ ﷺ پر کفارہ فرض تھا۔ رہا معاف ہوجانا تو یہ وجوب کفارہ کے منافی نہیں ہے۔ دیکھو رسول اللہ ﷺ مغفور تھے۔ آپ ﷺ کی ہر لغزش اور فروگزاشت کو اللہ نے معاف فرما دیا تھا ‘ اس کے باوجود (نماز کے اندر بھول ہوجانے پر) آپ ﷺ پر سجدۂ سہو واجب تھا۔
مزید یہ کہ مقاتل کا قول شہادت ثبوتی ہے حسن کے قول میں نفی کی صراحت کی گئی ہے اور شہادت راجح ہوتی ہے۔
مقاتل کے بیان کی تائید حضرت ابن عباس کے قول سے بھی ہوتی ہے کہ (اس آیت کے نزول کے بعد) آپ ﷺ نے فرمایا تھا : ” وَلَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔
حارث بن ابی اسامہ نے اپنی مسند میں حضرت عائشہ ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ جب حضرت ابوبکر ؓ نے قسم کھا کر کہہ دیا کہ مسطح کو کوئی چیز نہیں دوں گا (نہ کھانا دوں گا ‘ نہ دوسرے مصارف) تو آیت : قَدْ فَرَضَ اللہ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ نازل ہوئی۔ (متفق علیہ) آیت کے اسباب نزول کے بیان میں یہ بیان انتہائی کمزور ہے۔
مسئلہ اگر کسی شخص نے کہا : میں نے اپنی باندی اپنے اوپر حرام کرلی یا کہا : میں نے اپنا یہ کھانا اپنے اوپر حرام کرلیا یا یوں کہا کہ ایسا کھانا میں نے اپنے اوپر حرام کرلیا ‘ تو امام ابوحنیفہ (رح) اور امام احمد (رح) اور امام اوزاعی کے نزدیک یہ قسم ہوجائے گی (اگرچہ لفظ قسم موجود نہیں ہے ‘ صرف تحلیل حرام ہے) حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عائشہ کا قول بھی یہی مروی ہے۔
اس قول کی وجہ یہ ہے کہ اللہ نے پہلے فرمایا : لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللہ لَکَ یعنی رسول اللہ ﷺ کے قول کو صرف تحریم حلال سے تعبیر کیا ‘ پھر فرمایا : لِمَ تُحَرِّمُ مَا اَحَلَّ اللہ لَکَ یعنی رسول اللہ ﷺ کے قول کو صرف تحریم حلال سے تعبیر کیا ‘ پھر فرمایا : قَدْ فَرَضَ اللہ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ (یعنی) تحریم حلال کو یمین (قسم) قرار دیا اور کفارۂ قسم کا قانون مقرر کردیا۔ بغوی نے سعید بن جبیر کی روایت سے بیان کیا کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : (حلال کو) حرام بنا لینے کا کفارۂ حضور ﷺ دیتے تھے۔ لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہ اُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ۔
امام شافعی (رح) نے فرمایا : تحریم حلال قسم نہیں ہے۔ اپنی باندی کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی صورت میں نفس قسم کا کفارہ ہے ‘ قسم شکنی کا کفارہ نہیں ہے اور تحریم طعام کی صورت میں کفارۂ قسم بھی نہیں ہے۔
اگر اپنی بیوی سے کہا : تو مجھ پر حرام ہے یا یوں کہا : میں نے تجھے (اپنے اوپر) حرام کرلیا ‘ تو اگر ان الفاظ سے طلاق کی نیت کی تو طلاق ہوجائے گی اور ظہار کی نیت کی تو ظہار ہوجائے گا (کہ حلت کے لیے کفارۂ ظہار ادا کرنا ہوگا) اور اگر کوئی نیت نہیں کی (یونہی کہہ دیا) تو امام شافعی (رح) کے نزدیک کفارۂ قسم ادا کرنا لازم ہوگا۔ امام ابوحنیفہ (رح) اس کو ایلاءؔ قرار دیتے ہیں اور رجوع کے بعد کفارہ ادا کرنا لازم قرار دیتے ہیں۔
بیضاوی نے لکھا ہے کہ اس آیت سے اس امر پر استدلال کرنا کہ تحریم مطلق ہوگئی یا یہ تحریم قسم ہوگئی ضعیف ہے۔ کیونکہ صورت مذکورہ میں کفارۂ قسم واجب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ تحریم قسم ہوگئی ‘ ضعیف ہے کیونکہ صورت مذکورہ میں کفارۂ قسم واجب ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ یہ تحریم قسم ہوگئی۔ اس کے علاوہ یہ بھی احتمال ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لفظ قسم فرمایا ہو۔ بیضاوی کا یہ قول ضعیف ہے کیونکہ اللہ نے اپنے نبی کی قرار دادہ مطلق تحریم کا ذکر کیا ہے اور حلف کا ذکر نہیں کیا۔ نہ تحریم کو عورت کے ساتھ مخصوص کیا (بلکہ ہر تحریم حلال کا ذکر کیا ہے خواہ اس کا تعلق عورت سے ہو یا کھانے سے یا کسی اور عمل حلال سے) پھر اسی کو قسم قرار دیا اور فرمایا : تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی کو از خود حرام قرار دینا ہی قسم ہے ‘ واللہ اعلم۔
Ayah 66:3واذا سر النبی ... الخبیر .
” اور جب پیغمبر ﷺ نے اپنی کسی بی بی سے ایک بات چپکے سے کہی (اور کہہ دیا کہ کسی بی بی سے اس کو کہنا مت) پھر جب اس بی بی نے وہ بات (دوسری بی بی کو) بتلا دی اور پیغمبر ﷺ کو اللہ نے (بذریعہ وحی) اسکی خبر کردی تو پیغمبر ﷺ نے اس ظاہر کردینے والی بی بی کو تھوڑی سی بات تو بتادی اور تھوڑی سی بات کو ٹال گئے۔ سو جب پیغمبر ﷺ نے اس بی بی کو وہ بات جتلا دی تو وہ کہنے لگی آپ کو یہ اطلاع کس نے دی ؟ پیغمبر نے کہا مجھے بڑے علم والے باخبر (خدا) نے خبر دی ہے۔ “
وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ : اور یاد کرو ‘ نبی نے جب چپکے سے کہی تھی ‘ جیسا کہ حضرت عمر کی روایت میں آیا ہے۔
اِلیٰ بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ : یعنی حضرت حفصہ ؓ سے۔
حَدِیْثًا : ایک بات۔ یعنی شہد کو اپنے لیے حرام کرلینے کی بات ‘ جیسا کہ صحیحین میں حضرت عائشہ ؓ کے بیان میں عبید بن عمیر کی روایت سے مذکور ہے۔ یا ” حَدِیْثًا “ سے مراد ہے ‘ حضرت ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلینے کی بات۔
اہل تفسیر کے نزدیک یہی زیادہ صحیح ہے ‘ اللہ جانے اس بات کو چھپا رکھنے میں کیا مصلحت تھی۔ ابن سعد نے بروایت شعبہ حضرت ابن عباس کا بیان نقل کیا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ کی باری کے دن حضرت حفصہ ؓ اپنے مکان سے باہر کہیں چلی گئیں۔ ان کی غیر موجودگی میں رسول اللہ ﷺ قبطی باندی کو لے کر ان کے گھر میں داخل ہوگئے۔ کچھ دیر کے بعد حضرت حفصہ آگئیں اور (دروازہ پر بیٹھی) رسول اللہ ﷺ کی تاک میں لگی رہیں۔ کچھ وقفہ کے بعد باندی باہر آگئی۔ حضرت حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : جو کچھ آپ نے کیا ‘ میں نے دیکھ لیا۔ حضور ﷺ نے فرمایا : تم نے دیکھ لیا تو اس کو پوشیدہ رکھنا (آئندہ) وہ میرے لیے حرام ہے۔ حضرت حفصہ ؓ نے جا کر حضرت عائشہ ؓ سے یہ بات کہہ دی ‘ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : میری باری کے دن آپ قبطی (باندی) سے قربت کرتے ہیں ‘ باقی دوسری عورتوں کی مقررہ باریاں دیتے ہیں (کسی کی باری میں دوسری سے اختلاط نہیں کرتے) اس پر آیت مذکورہ نازل ہوئی۔
اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ پوشیدہ رکھنے کا حکم دینے میں مصلحت یہ تھی کہ حضرت عائشہ ؓ ناراض نہ ہوجائیں۔
سعید بن جبیر کی روایت ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ( رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ کو خلافت کے متعلق آگاہ کردیا تھا) اسرار سے مراد ہے ‘ خلافت کی بات کو چھپائے رکھنا۔
کلبی نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ سے فرمایا تھا ‘ میرے بعد تمہارے باپ اور عائشہ ؓ کے باپ (باری باری سے میرے جانشین ہوں گے۔ واحدی نے حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کے خلیفہ ہونے کا ذکر کتاب اللہ میں موجود ہے ‘ اللہ نے فرمایا ہے : وَاِذْاَ سَرُّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا۔ حضور والا ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ سے فرمایا تھا تمہارے باپ اور عائشہ ؓ کے باپ میرے بعد لوگوں کے ولی (امیر) ہوں گے۔ مگر تم اس کی اطلاع کسی کو نہ دینا۔ یہ حدیث دوسرے طریقوں سے بھی آئی ہے۔ علی ‘ میمون بن مہران ‘ حبیب بن ثابت ‘ ضحاک اور مجاہد کی روایات بھی اسی طرح ہیں۔ میمون بن مہران کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے چپکے سے فرمایا تھا ‘ میرے جانشین ابوبکر ہوں گے ‘ واللہ اعلم۔
فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ : یعنی جب حفصہ ؓ نے اس بات کی اطلاع عائشہ ؓ کو دے دی۔
وَاَظْھَرَہُ اللہ عَلَیْہِ : اور اللہ نے اپنے پیغمبر پر یہ بات ظاہر کردی کہ تمہارا راز حفصہ ؓ نے فاش کردیا۔ اس جملہ سے معلوم ہو رہا ہے کہ حضرت عائشہ ؓ اگرچہ حضرت حفصہ ؓ کے اطلاع دینے سے ہی رسول اللہ ﷺ سے ناراض ہوئی تھیں لیکن انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ حفصہ ؓ نے مجھے اس کی اطلاع دی ہے بلکہ اللہ نے اپنے پیغمبر ﷺ کو اطلاع دی تھی کہ آپ ﷺ کا رازحفصہ ؓ نے ظاہر کردیا۔
عَرَّفَ بَعْضَہٗ : یعنی حفصہ ؓ نے جو راز کی اطلاع عائشہ کو دی تھی اس کا کچھ حصہ رسول اللہ ﷺ نے حفصہ کو جتلا دیا۔
کسائی کی قراءت میں عَرَفَ بغیر تشدید کے آیا ہے۔ یعنی حضرت حفصہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ کا جو راز ظاہر کردیا تھا اس کے کچھ حصہ کی سزا رسول اللہ ﷺ نے حفصہ کو دی (عرفان کا معنی ہے جان لینا اور جان لینے سے کبھی مراد ہوتا ہے ‘ سزا دینا) اگر کوئی شخص تمہاے ساتھ کوئی برا سلوک کرے تو تم اس سے کہتے ہو میں تیری اس حرکت کو پہچانتا ہوں یعنی اس کی سزا دوں گا۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ کو افشائے راز کی یہ سزا دی کہ ان کو طلاق دے دی۔ حضرت عمر کو اس کی اطلاع ملی تو کہنے لگے اگر خطاب کی نسل میں کوئی اچھائی ہوتی تو رسول اللہ ﷺ تجھے طلاق نہ دیتے۔ اس کے بعد حضرت جبرئیل نے آکر (اللہ کا حکم پہنچایا ‘ یا خود) مشورہ دیا کہ حفصہ ؓ بکثرت روزے رکھنے والی اور راتوں کو نماز پڑھنے والی ہیں۔ آپ انکے طلاق سے رجوع کرلیجئے (چنانچہ حضور ؓ نے رجوع کرلیا) رسول اللہ ﷺ اسکے بعد ایک ماہ تک اپنی بیبیوں سے کنارہ کش رہے اور حضرت ابراہیم کی والدہ یعنی ماریہ ؓ کے بالا خانہ پر جا بیٹھے یہاں تک کہ آیت تخییر نازل ہوئی۔ (بغوی)
بغوی نے مقاتل بن حبان کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت حفصہ کو طلاق نہیں دی تھی۔ طلاق دینے کا ارادہ کیا تھا کہ جبرئیل نے آکر طلاق نہ دینے کا مشورہ دیا اور کہا : حفصہ بکثرت روزہ دار اور عبادت گزار ہیں اور جنت میں آپ کے ساتھ منجملہ دوسری بیویوں کے ہوں گی۔
وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ : یعنی کچھ خبر حضرت حفصہ کو نہیں بتائی۔ حسن نے کہا کریم آدمی کبھی احاطۂ کل نہیں کرتا۔ اللہ نے فرمایا ہے : عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ : (یعنی گناہگار کے تمام گناہوں کو ظاہر نہیں کرتا۔ اللہ کے رسول نے بھی بعض باتیں حفصہ کو بتادیں اور بعض باتیں نہیں بتائیں) اس کی صورت یہ ہوئی کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قبطی باندی سے حضرت حفصہ کے گھر کے اندر انہی کے بستر پر اختلاط کیا اور اس کی وجہ سے حضرت حفصہ ؓ کے چہرے پر ناگواری اور ناراضگی کی علامات دیکھیں تو ان کو راضی کرنے کا ارادہ کیا اور دو باتوں سے پوشیدہ طور پر ان کو آگاہ کیا ایک حضرت ماریہ کو اپنے لیے حرام کرلینا اور دو سری بات یہ کہ حضور ؓ کے بعد ابوبکر ؓ اور عمر ؓ خلیفہ ہوں گے۔ حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے یہ باتیں کہہ دیں۔ حضور ؓ نہیں چاہتے تھے کہ ان باتوں کا علم دوسرے لوگوں کو ہو۔ رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعہ سے معلوم ہوگیا کہ حفصہ ؓ نے عائشہ کو راز کی باتیں بتادیں تو اپ ﷺ نے حفصہ کو بتادیا کہ تم نے باندی کی تحریم کی اطلاع عائشہ کو دے دی اور خلافت کی اطلاع دینے کا کوئی ذکر آپ ﷺ نے حفصہ ؓ سے نہیں کیا۔
ابن مردویہ نے بطریق ضحاک حضرت ابن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ جب حفصہ ؓ اپنے مکان میں آئیں اور وہاں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ حضرت ماریہ کو پایا تو حضور ﷺ نے فرمایا : عائشہ سے مت کہنا میں تم کو خوشخبری دیتا ہوں کہ ابوبکر ؓ کے بعد اس (خلافت) کا والی (حاکم اعلیٰ ) تمہارا باپ ہوگا۔ حضرت حفصہ ؓ نے جو یہ بات سنی تو فوراً اٹھ کر گئیں اور حضرت عائشہ کو اس کی خبر دے دی۔ حضرت عائشہ ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے یہ بات کہہ دی اور درخواست کی کہ (آئندہ) ماریہ کو اپنے لیے حرام کرلیں۔ حضور ؓ نے ماریہ کو اپنے لیے حرام کرلیا۔ پھر حفصہ ؓ کے پاس تشریف لا کر فرمایا : میں نے تم کو حکم دے دیا تھا کہ عائشہ کو اس کی خبر نہ دینا مگر تم نے ان کو خبر پہنچا دی۔ آپ نے ماریہ کے متعلق خبر دینے پر حضرت حفصہ کو سرزنش کی۔ خلافت کے سلسلے میں کوئی عتاب نہیں کیا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ۔
طبرانی نے بھی الاوسط اور عشرۃ النساء میں حضرت ابن عباس کا یہ بیان نقل کیا ہے مگر دونوں بیان ضعیف ہیں۔
فَلَمَّا نَبَّاَھَا بِہٖ : یعنی جب رسول اللہ ﷺ نے حفصہ کو وہ خبر بتائی جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو و اقف کیا تھا۔ یعنی اس بات کی اطلاع دے دی کہ حفصہ ؓ نے آپ ﷺ کا راز ظاہر کردیا۔
قَالَتْ مَنْ اَنْبَاکَ ھٰذَا : تو حفصہ نے کہا : آپ کو اس بات کی خبر کس نے دی کہ میں نے آپ ﷺ کا راز فاش کردیا۔
قَالَ نَبَّانِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْر : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے اس کی اطلاع اس اللہ نے دی جو علیم وخبیر ہے۔
Ayah 66:4ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما وان تظھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ و جبریل و صالح المومنین والملئ کہ بعد ذلک ظھیر .
” اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو تمہارے لیے بہتر ہوگا) پس بلاشبہ تم دونوں کے دل مائل ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی مرضی) کے خلاف تم باہم تعاون کرتی رہیں تو (یاد رکھو) پیغمبر کا رفیق اللہ ہے جبرئیل ہے اور نیک مسلمان ہیں اور انکے علاوہ فرشتے مددگار ہیں۔ “
اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہ : حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو خطاب ہے۔ شروع سورت میں عبید بن عمیر کی جو روایت حضرت عائشہ ؓ سے آئی ہے اور اس روایت کو بخاری و مسلم نے ذکر کیا ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ خطاب حضرت حفصہ کو ہے۔
فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا : تم دونوں کے دل ٹیڑھے ہوگئے ہیں۔ ایک طرف کو جھک گئے ہیں۔ راہ حق پر قائم نہیں رہے کیونکہ تم نے اس بات کو پسند کیا جو رسول اللہ ﷺ کو ناپسند تھی۔ آپ ﷺ نہ ماریہ کو اپنے لیے حرام کرنا چاہتے تھے ‘ نہ اپنے راز کا افشاء آپ کو پسند تھا اور تم کو یہ دونوں باتیں پسند تھیں حالانکہ ہر شخص پر واجب ہے کہ جس بات کو رسول اللہ ﷺ پسند کریں وہ بھی اس بات کو پسند کرے اور جس بات سے رسول اللہ ﷺ کو نفرت ہو ‘ اس بات سے اس کو بھی نفرت ہو۔
فقد ؔ میں فَ تعلیلیہ ہے ‘ دل کی کجی موجب ہے گناہ کی اور گناہ کے بعد توبہ واجب ہے۔
بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مجھے حضرت عمر ؓ سے یہ بات دریافت کرنے کی بڑی خواہش تھی کہ رسول اللہ کی وہ دو بیویاں کونسی تھیں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا (مگر موقع نہیں ملتا تھا) ایک بار جب حضرت عمر ؓ حج کو گئے اور میں بھی آپ کے ساتھ حج کو گیا اور (راستہ میں قضائے حاجت کی ضرورت ہوئی اور) آپ ایک طرف کو مڑ گئے۔ میں بھی لوٹا لیے (راستہ چھوڑ کر) آپ کے ساتھ ایک طرف کو مڑ گیا۔ آپ ضرورت پوری کر کے واپس آئے تو میں نے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور اس وقت کہا : امیر المؤمنین ! رسول اللہ ﷺ کی وہ دو بیویاں کونسی تھیں جن کے متعلق اللہ نے فرمایا : اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا۔
حضرت عمر ؓ نے فرمایا :” ابن عباس تیرے اوپر تعجب ہے وہ دونوں عائشہ اور حفصہ ؓ تھیں۔ “
پھر حضرت عمر نے پوری سرگزشت بیان کی اور فرمایا : ” میں اور بنی امیّہ بن زید کے قبیلہ کا ایک انصاری جو عوالی مدینہ کا رہنے والا تھا ‘ باہم طے کرچکے تھے کہ باری باری ہم دونوں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر رہا کریں گے ‘ ایک دن میں ایک دن وہ۔ میری باری کے دن جو وحی نازل ہو یا کوئی دوسرا اہم واقعہ ہو اس کی اطلاع میں اس انصاری کو دوں گا اور اس کی باری کے دن جو کچھ ہو وہ مجھ سے آکر بیان کر دے۔
ہمارا قریش کا گروہ اپنی عورتوں پر غالب رہتا تھا لیکن جب ہم مدینہ میں آئے تو ہم نے ایسے لوگ پائے جن کی عورتیں ان پر غالب تھیں۔ ہماری عورتیں بھی انصاری عورتوں کی خو اور خصلت سیکھنے لگیں۔
ایک روز میں اپنی عورت پر چلاّیا ‘ اس نے بھی ویسا ہی (چِلاّ کر) جواب دیا۔ مجھے اس کا جواب دینا غیر معمولی معلوم ہوا۔ اس نے کہا : ” آپ کو میرا جواب دینا کیوں ناگوار گزرا ؟ رسول اللہ ﷺ کی بیویاں رسول اللہ ﷺ کو جواب دیتی ہیں بلکہ بعض عورتیں تو آج دن بھر شام تک حضور ﷺ کو چھوڑے رہی ہیں “ (یعنی حضور ﷺ سے کلام بھی نہیں کیا) ۔
میں یہ بات سن کر گھبرا گیا اور میں نے کہا : نامراد رہے گی جو ایسا کرے گی ‘ اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور جا کر حفصہ ؓ کے پاس اترا اور پوچھا : ” کیا تم میں سے کوئی رسول اللہ ﷺ سے اتنی ناراض ہوتی ہے کہ دن بھر شام تک حضور ﷺ کو چھوڑے رکھتی ہے ؟ “ حفصہ نے کہا : ” ہاں ! “ میں نے کہا : تو ناکام و مراد ہوگی (اگر تو نے ایسی حرکت کی) کیا تجھے ڈر نہیں لگتا کہ رسول اللہ ﷺ کی ناراضی سے اللہ ناراض ہوجائے گا پھر تو تباہ ہوجائے گی۔ (خبردار) رسول اللہ ﷺ سے زیادہ (مصارف) طلب نہ کرنا اور کسی معاملے میں حضور ﷺ کو جواب نہ دینا اور آپ ﷺ کو چھوڑے نہ رہنا (یعنی ترک کلام نہ کرنا) اور جو کچھ تجھے ضرورت ہو مجھ سے مانگ لینا اور تجھے اس بات پر رشک نہ ہونا چاہیے کہ تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ چمکیلی اور رسول اللہ ﷺ کو تجھ سے زیادہ پیاری ہے ‘ یعنی حضرت عائشہ ؓ ۔
حضرت عمر ؓ نے فرمایا : اس زمانہ میں ہم باہم تذکرہ کرتے تھے کہ غسانیوں نے ہم سے لڑنے کے لیے اپنے گھوڑوں کی نعل بندی کرائی ہے ‘ ایک روز انصاری (دوست) اپنی باری کے دن (رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں رہا اور) عشاء کے وقت ہمارے پاس لوٹ کر آیا اور آتے ہی میرا دروازہ زور ‘ زور سے پیٹ ڈالا اور پوچھا : کیا عمر ؓ ہے ؟ میں گھبرا کر فوراً باہر نکلا۔ انصاری نے کہا : آج ایک عظیم حادثہ ہوگیا۔ میں نے کہا : کیا ہوا ؟ کیا غسّان (شاہ شام) آگیا ؟ بولا : اس سے بھی بڑا لمبا حادثہ ہوگیا۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق دے دی۔ میں نے کہا : حفصہ ؓ ناکام و نامراد ہوگئی ‘ میرا تو پہلے ہی خیال تھا کہ عنقریب (شاید) ایسا ہوگا ‘ اس کے بعد میں نے کپڑے پہنے اور جا کر فجر کی نماز رسول اللہ ﷺ کے ساتھ پڑھی۔ نماز کے بعد حضور ﷺ اپنے بالا خانے پر تشریف لے گئے اور وہاں سب سے کنارہ کش ہوگئے اور میں حفصہ کے پاس گیا ‘ وہ رو رہی تھی۔ میں نے کہا : اب کیوں روتی ہے ؟ کیا میں نے تجھے پہلے ہی نہیں ڈرا دیا تھا ‘ کیا تم عورتوں کو رسول اللہ ﷺ نے طلاق دے دی ؟ بولی : مجھے نہیں معلوم کیا وجہ ہے ‘ رسول اللہ ﷺ سب سے الگ بالا خانے پر گوشہ نشین ہوگئے ہیں۔ میں حفصہ ؓ کے پاس سے نکل کر (مسجد میں) منبر کے پاس پہنچا۔ اس وقت منبر کے آس پاس کچھ لوگ بیٹھے رو رہے تھے۔ میں بھی ان کے پاس تھوڑی دیر کے لیے بیٹھ گیا لیکن اندرونی غم کی وجہ سے مجھ سے وہاں زیادہ رکا نہ گیا ‘ فوراً بالا خانے کی طرف آیا ‘ جہاں رسول اللہ ﷺ گوشہ گیر تھے۔ میں نے غلام سے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے عمر کے لیے اجازت کی درخواست کرو۔ غلام اندر گیا ‘ رسول اللہ ﷺ سے کچھ بات کی اور پھر واپس آکر غلام نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی تھی اور تمہارا تذکرہ کردیا لیکن حضور ﷺ خاموش رہے۔ مجبوراً میں واپس آکر پھر منبر کے پاس ان لوگوں کے قریب بیٹھ گیا جو وہاں موجود تھے لیکن زیادہ دیر رکا نہ گیا ‘ پھر جا کر اسی غلام سے کہا : میرے لیے داخلہ کی اجازت کی استدعا کرو۔ اس نے اندر جا کر حضور ﷺ سے کچھ کلام کیا اور کچھ دیر کے بعد واپس آگیا اور بولا : میں نے حضور ﷺ سے تمہارے لیے داخلہ کی درخواست کی تھی مگر حضور ﷺ خاموش رہے۔ میں (مایوس ہو کر) لوٹ آیا اور انہی لوگوں میں جا کر بیٹھ گیا جو منبر کے پاس بیٹھے ہوئے تھے لیکن کچھ ہی دیر کے بعد اندرونی احساس کے غلبہ کی وجہ سے اٹھا اور غلام سے جا کر کہا : عمر کے لیے اجازت کی درخواست کرو۔ غلام اندر گیا اور کچھ دیر کے بعد لوٹ کر آیا اور کہا : میں نے تمہارا ذکر کیا لیکن حضور ﷺ خاموش رہے۔ میں نے واپسی کے لیے پشت پھیری ہی تھی کہ اس غلام نے مجھے پکار کر کہا : رسول اللہ ﷺ نے تم کو داخل ہونے کی اجازت دے دی ‘ یہ بات سن کر میں اندر چلا گیا ‘ میں نے دیکھا کہ حضور ﷺ ننگی چٹائی پر استراحت فرما ہیں ‘ جس کی وجہ سے پہلو پر چٹائی کے نشان پڑگئے ہیں اور سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ ہے جس میں کھجور کے درخت کے ریشے بھرے ہوئے ہیں۔ میں نے سلام کیا اور کھڑے کھڑے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ کیا آپ ﷺ نے اپنی بیبیوں کو طلاق دے دی ؟ حضور ﷺ نے میری طرف نظر اٹھائی اور فرمایا : نہیں۔ اللہ اکبر ! رسول اللہ ﷺ سے اپنی جھجک کو دور کرنے کے لیے میں نے کھڑے ہی کھڑے عرض کیا۔ دیکھئے حضور ﷺ ہمارا قریش کا جتھا پہلے اپنی عورتوں پر غالب تھا لیکن مدینہ آنے کے بعد ہم نے ایسے لوگ پائے جن کی عورتیں ان پر غالب ہیں۔ رسول اللہ ﷺ یہ بات سن کر مسکرا دیئے۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ ملاحظہ فرمائیے میں حفصہ ؓ کے پاس گیا تھا اور میں نے اس سے کہہ دیا کہ تجھے اس بات پر رشک نہ ہونا چاہیے کہ تیری ہمسائی تجھ سے زیادہ چمکیلی اور رسول اللہ ﷺ کی چہیتی ہے ‘ حضور ﷺ یہ بات سن کر دوبارہ مسکرا دیئے۔ حضور ﷺ کو مسکراتے دیکھ کر میں بیٹھ گیا اور نظر اٹھا کر گھر کے اندر کی چیزوں کو دیکھا ‘ خدا کی قسم تین کچے چمڑوں کے علاوہ میں نے کوئی چیز قابل دید نہیں پائی۔ میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ اللہ سے دعا کیجئے کہ آپ ﷺ کی امت کو فراخی حاصل ہوجائے۔ روم اور فارس کو اللہ نے فراخ حال کیا ہے اور ان کو دنیا عطا کی ہے باوجودیکہ وہ اللہ کی عبادت نہیں کرتے۔ حضور ﷺ اس وقت تکیہ لگائے ہوئے تھے میری بات سنتے ہی بیٹھ گئے اور فرمایا : ابن خطاب ! کیا تم اس خیال میں ہو ‘ ان لوگوں کو تو اللہ نے ان کی عمدہ (دِل پسند) چیزیں دنیا میں دے دی ہیں (آخرت میں ان کا حصہ نہیں) میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ میرے لیے دعاء مغفرت فرمائیے۔ بس یہی بات تھی کہ حضور ﷺ اپنی بیبیوں سے الگ ہو کر گوشہ نشین ہوگئے تھے کیونکہ حفصہ ؓ نے عائشہ ؓ سے حضور ﷺ کا راز کہہ دیا تھا۔
اللہ نے اپنے رسول ﷺ پر عتاب کیا تھا ‘ اس لیے حضور ﷺ اپنی بیبیوں سے سخت ناراض تھے اور عہد کیا تھا کہ میں ایک ماہ تک ان کے پاس نہیں جاؤں گا۔ چناچہ جب انتیس راتیں گزر گئیں تو سب سے پہلے عائشہ ؓ کے گھر تشریف لے گئے۔ عائشہ ؓ نے کہا : یا رسول اللہ ! ﷺ آپ ﷺ نے تو قسم کھائی تھی کہ ایک مہینہ تک آپ ﷺ ہمارے (یعنی کسی بی بی کے) پاس تشریف نہیں لائیں گے لیکن آج تو انتیس کے بعد کی صبح ہے۔ میں برابر گن رہی ہوں ‘ فرمایا : مہینہ انتیس کا (بھی ہوتا) ہے۔ واقعی وہ مہینہ انتیس کا (ہوا) تھا۔ حضرت عائشہ کا بیان ہے اس کے بعد آیت تخییر نازل ہوئی۔ نزول آیت کے بعد سب سے پہلے حضور ﷺ میرے پاس تشریف لائے اور (مجھے نکاح میں باقی رہنے یا آزاد ہوجانے کا اختیار دیا) میں نے حضور ﷺ (کے ساتھ رہنے) کو اختیار کیا پھر دوسری بیبیوں کو یہی اختیار دیا اور سب نے اسی بات کو اختیار ر کیا جو عائشہ ؓ نے اختیار کی تھی (یعنی کیسا ہی فقر و فاقہ ہو کسی بی بی نے حضور ﷺ سے جدا ہونے کو پسند نہیں کیا) بخاری کی روایت ہے کہ حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا : میں تجھ سے ایک بات کہتا ہوں بغیر ماں ‘ باپ کے مشورہ کے فوری عجلت میں اس کا جواب دینا تیرے لیے لازم نہیں ہے۔ حضور ﷺ جانتے تھے کہ میرے والدین رسول اللہ ﷺ سے جدا ہونے کا مجھے مشورہ نہیں دیں گے ‘ اس کے بعد حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا ‘ اللہ نے ارشاد فرمایا ہے : یایھا النبی قل لازواجک ان کنتن (دونوں آیات کے ختم تک حضور ﷺ نے تلاوت فرمائی) میں نے عرض کیا : اس معاملہ میں والدین سے کیا مشورہ کروں (اس کی کوئی ضرورت نہیں) میں اللہ کو اور اس کے رسول ﷺ کو اور دار آخرت (کی بھلائی) کو چاہتی ہوں۔ یہ حدیث بتارہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ جو ایک ماہ تک اپنی بیبیوں سے کنارہ کش رہے ‘ اس کا سبب وہی افشاء راز تھا ‘ حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کا راز کہہ دیا تھا۔
لیکن مسلم نے حضرت جابر ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ حضرت ابوبکر ؓ داخلہ کی اجازت مانگنے کے لیے آئے ‘ آپ ؓ نے دیکھا کہ کچھ لوگ رسول اللہ ﷺ کے دروازے پر بیٹھے ہوئے ہیں اور اجازت داخلہ کے امیدوار ہیں لیکن کسی کو اجازت نہیں دی گئی۔ حضور ﷺ نے حضرت ابوبکر کو اجازت دے دی ‘ آپ ؓ اندر چلے گئے کچھ دیر کے بعد حضرت عمر آئے اور اجازت داخلہ کے خواستگار ہوئے ‘ حضور ؓ نے ان کو بھی اجازت دے دی۔ حضرت عمر ؓ اندر داخل ہوئے تو دیکھا کہ رسول اللہ غمگین ‘ خاموش بیٹھے ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے (اپنے دل میں) کہا : میں کوئی ایسی بات کہوں جس سے رسول اللہ ﷺ کو ہنسی آجائے ‘ چناچہ کہنے لگے : یا رسول اللہ ! 0 ﷺ اگر خارجہ کی بیٹی (یعنی میری بیوی) مجھ سے زیادہ خرچ کی طلبگار ہو تو میں اس کی گردن توڑ دوں گا۔ یہ بات سن کر حضور ﷺ مسکرا دیئے اور فرمایا : تم دیکھ رہے ہو یہ عورتیں میرے اردگرد جمع ہیں اور مجھ سے زیادت مصارف کی طلبگار ہیں ‘ یہ سنتے ہی حضرت ابوبکر ؓ ا ٹھ کر حضرت عائشہ کی طرف بڑھے تاکہ ان کی گردن مروڑ دیں اور حضرت عمر ؓ بھی حضرت حفصہ کی طرف بڑھے اور دونوں حضرات نے (اپنی اپنی بیٹیوں سے) کہہ دیا کہ ہرگز کبھی رسول اللہ ﷺ سے اس چیز کی طلبگار نہ ہوں جو حضور ﷺ کے پاس نہ ہو ‘ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنی بیبیوں سے ایک ماہ یعنی انتیس رات تک کنارہ کش رہے۔ پھر آیت تخییر نازل ہوئی اور حضور ﷺ سب سے پہلے حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لے گئے اور آیت تخییر کی تلاوت ان کے سامنے کی۔
حافظ ابن حجر (رح) نے لکھا ہے ‘ یہ ہوسکتا ہے کہ ان تمام واقعات کا مجموعہ بیبیوں سے کنارہ کش ہونے کا سبب ہو ‘ شہد کا قصہ ‘ حضرت ماریہ کا واقعہ ‘ حضرت حفصہ کا حضرت عائشہ ؓ سے رسول اللہ ﷺ کے راز کا اظہار ‘ بیبیوں کی طرف سے وسعت نفقہ کی درخواست ‘ حضرت زینب کی طرف سے تین بار ہدیہ کا و اپس کرنا اور ہر مرتبہ رسول اللہ ﷺ کا ہدیہ میں اضافہ کرنا جیسا کہ ابن سعد نے بطریق عمرہ بیان کیا ہے۔ یہ تمام واقعات آگے پیچھے ہوتے رہے اور حضور ﷺ ضبط کرتے رہے اور درگزر فرماتے رہے۔ حضور اقدس کے مکارم اخلاق اور بلندئ حوصلہ کا یہی تقاضا تھا کہ جب یہ واقعات پیہم ہوتے رہے۔ آپ ﷺ نے عورتوں سے کنارہ کشی کرلی (مگر طلاق پھر بھی نہیں دی) اور پھر راضی ہوگئے۔
وَاِنْ تَظَاھَرَا عَلَیْہِ : یعنی اگر تم دونوں رسول اللہ ﷺ کے خلاف باہم تعاون کرلو گی اور ایسی بات کرو گی جو رسول اللہ ﷺ کو ناگوار ہے (مثلاً ) توسیع نفقہ کی طلب اور افشاء راز ‘ تو کامیاب نہ ہوگی ‘ ترجمہ کا یہ آخری جملہ شرط کی جزاء ہے اور محذوف ہے۔
فَاِنَّ اللہ : (فَ تعلیلیہ ہے) یہ کامیاب نہ ہونے کی علّت ہے۔
مَوْلٰہُ : اللہ اس کا مددگار ہے اور جبرئیل جو مقرب فرشتوں کا سردار ہے وہ بھی رسول اللہ ﷺ کا رفیق اور مددگار ہے۔
وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ : یعنی رسول اللہ ﷺ کے متبعین اور اعوان اور آپ ﷺ کے گردا گرد جمع ہونے والے بھی رسول اللہ ﷺ کے رفیق اور ساتھی ہیں۔
کلبی نے کہا : صالح المؤْمنین سے مراد ہیں مخلص مؤمن جو منافق نہیں ہیں۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت ابی بن کعب کا قول مروی ہے کہ صالح المؤْمنین ابوبکر ؓ و عمر ؓ ہیں۔
حضرت ابن مسعود ؓ اور حضرت امامہ ؓ نے اس قول کی نسبت رسول اللہ ﷺ کی طرف بھی کی ہے۔ ابن عمر ‘ ابن عباس اور سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ یہ آیت ابوبکر ؓ اور عمر ؓ کے حق میں نازل ہوئی۔
مدد تو صرف اللہ ہی کی کافی ہے۔ وہی تنہا مددگار اور ناصر ہے لیکن جبرئیل اور مؤمنین صالحین اور ملائکہ کا ذکر ان سب کی عزت افزائی اور عظمت ظاہر کرنے کے لیے کیا گیا۔
وَالْمَلآءِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ : یعنی اللہ کی ‘ جبرئیل کی اور مؤمنین صالحین کی مدد کے بعد ملائکہ بھی اپنی پوری کثرت کے ساتھ مددگار ہیں۔ آیت میں تینوں کی ترتیب ثابت کر رہی ہے کہ جبرئیل جو خواص ملائکہ میں سے ہیں ‘ عام انسانوں سے یعنی صالح مؤمنوں سے افضل ہیں اور عام انسان صالح مؤمن عام ملائکہ سے افضل ہیں۔
بخاری نے حضرت عمر کی روایت حدیث میں بیان کیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچا اور عرض کیا : یا رسول اللہ ! ﷺ عورتوں کے معاملہ میں آپ ﷺ کے لیے کیا دشواری ہے۔ اگر آپ ﷺ ان کو طلاق دے دیں گے تو (آپ : ﷺ کا کچھ نقصان نہ ہوگا کیونکہ) اللہ آپ ﷺ کے ساتھ ہے اور فرشتے اور جبرئیل و میکائیل اور ابوبکر ؓ اور مؤمن بھی آپ ﷺ کے ساتھ ہیں۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے جب کوئی بات کہی تو اللہ سے مجھے امید رہی ہے کہ وہ میری بات کو سچا کر دے گا۔ چناچہ (میرے اس کلام کے بعد) آیت ذیل نازل ہوئی۔
Ayah 66:5عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکم مسلمت مومنت قنتت تئبت عبدات سئحت ثیبت وابکارا . ” اگر پیغمبر ﷺ تم عورتوں کو طلاق دے دینگے تو ان کا رب بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دے دیگا جو اسلام لانے والیاں ‘ ایمان لانے والیاں ‘ فرمانبرداری کرنے والیاں ‘ توبہ کرنے والیاں ‘ عبادت گزار ‘ روزے رکھنے والیاں ہوں گی ‘ کچھ بیوہ اور کچھ کنواریاں۔ “
اَنْ یُّبْدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ : خطاب حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ کو ہے لیکن بطور تغلیب جمع مخاطب کا صیغہ استعمال کیا۔
شبہ کیا جاسکتا ہے اِنْ طَلَّقَکُنَّ میں اِنْ حرف شرط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حفصہ کو رسول اللہ ﷺ نے طلاق نہیں دی تھی۔ دوسری بات آیت سے یہ بھی معلوم ہوئی ہے کہ بعض دوسری عورتیں امہات المؤمنین سے افضل تھیں ‘ یہ دونوں شبہات غلط ہیں کیونکہ :
1) ہوسکتا ہے کہ کسی ایک کو طلاق دے دی ہو سب کو نہ دی ہو مجموعہ کو طلاق نہ دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ کسی ایک کو بھی نہ دی ہو۔
2) اگر کسی بات کو کسی ایسے امر سے معلّق کیا جائے جو واقع نہیں ہوا تو اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ بات واقع ہوگئی۔ آیت میں بجائے امہات المؤمنین کے ان سے بہتر عورتیں عطا فرمانے کی صراحت کی گئی ‘ بشرطیکہ موجودہ ازواج کو رسول اللہ ﷺ طلاق دے دیں اور طلاق تو حضور ﷺ نے نہیں دی ‘ پھر دوسری عورتوں کا امہات المؤمنین سے افضل ہونا کیسے ثابت ہوا۔
بغوی نے لکھا ہے ‘ اللہ نے اس آیت میں اپنے قادر ہونے کا اظہار کیا یعنی اللہ قادر ہے کہ ایسا کر دے لیکن کیا ایسا واقع ہوگیا ‘ اس کا تو اظہار نہیں کیا۔
مُسْلِمٰتٍ : اللہ کی فرمانبردار۔ مُؤْمِنٰتٍ : پیغمبروں کی تصدیق کرنے والیاں۔
قٰنِتٰتٍ : طاعت کی پابند یا نماز پڑھنے والیاں یا دعا کرنے والیاں۔
تآءِبٰتٍ : گناہوں سے توبہ کرنے والیاں یا اللہ کی طرف رجوع کرنے والیاں یا اللہ کے رسول ﷺ کے حکم کی طرف لوٹنے والیاں۔
عٰبِدٰتٍ : اللہ کی عبادت کرنے والیاں ‘ یا حکم رسول ﷺ کے سامنے انتہائی عاجزی کا اظہار کرنے والیاں۔
سٰءِحٰتٍ : روزے رکھنے والیاں (عموماً ) سیاح کے پاس سیاحت میں کھانے پینے کا سامان نہیں ہوتا ‘ کوئی دوسرا شخص (مفت یا مول) اس کو کچھ دیدے تو کھا پی لیتا ہے ‘ روزہ دار بھی دن بھر کھانے ‘ پینے سے افطار تک رکا رہتا ہے (گویا سیاح اور صائم دونوں وقت خاص تک کھانے پینے سے رکے رہتے ہیں ‘ ایک میسر ہونے کے وقت تک اور دوسرا وقت افطار تک) اسی لیے روزہ دار کو سائح کہا جاتا ہے۔
بعض علماء نے کہا : روزہ دو طرح کا ہوتا ہے ‘ ایک حقیقی یعنی کھانے پینے اور قربت صنفی سے رکے رہنا ‘ دوسرا حکمی یعنی آنکھ ‘ کان ‘ زبان ‘ ہاتھ ‘ پاؤں اور تمام اعضاء کو گناہ سے روکنا۔ پس سائح وہ روزہ دار ہے جس کا روزہ اسی طرح کا ہو یا سائحات سے مراد ہیں اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والیاں یا وہ عورتیں مراد ہیں جو رسول اللہ ﷺ کے ہمرکاب جانے والیاں جہاں رسول اللہ ﷺ جائیں وہ بھی جاتی ہیں۔
بعض نے کہا : سائح وہ لوگ ہیں جن کی سیاحت آیت ذیل کی مصداق ہو ‘ اللہ نے فرمایا ہے : اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَکُوْنَ لَھُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِھَا اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِھَا۔
Ayah 66:6یایھا الذین امنوا .... ما یومرون .
” اے ایمان والو ! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جس پر تند خو اور قوی فرشتے متعین ہیں جو خدا کی ذرا نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ “
قُوْا اَنْفُسَکُمْ : اپنی جانوں کو بچاؤ یعنی فرائض ادا کرو اور گناہوں کو چھوڑ دو ۔
وَاَھْلِیْکُمْ : اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچاؤ یعنی ان کو (اسلامی) تعلیم دو اور (اسلامی) آداب سکھاؤ ‘ اچھے کام کرنے کا حکم دو اور جن کاموں کی ممانعت کردی گئی ہے ‘ ان سب سے روکو۔
وَقُوْدُھَا : یعنی اس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ‘ جس طرح معمولی آگ لکڑی سے بھڑکتی ہے اسی طرح وہ (دوزخ کی) آگ (دوزخی) آدمیوں سے اور پتھروں سے بھڑکے گی۔
مَلٰٓءِکَۃٌ : یعنی وہ فرشتے جو دوزخ کے کارندے ہیں۔
غِلاَظٌ : دوزخیوں کے لیے سخت خو۔
شِدَادٌ : طاقت ور ‘ قوی۔ اتنے زور آور کہ ایک ہی مرتبہ میں ایک فرشتہ ستّر ہزار کو دوزخ میں پھینک دے گا۔ دوزخ کے فرشتوں کو زبانیہ کہا جاتا ہے۔ ضیاء مقدسی کی روایت ہے کہ حضرت انس ؓ نے فرمایا : میں نے خود سنا ‘ رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے ‘ قسم ہے اس کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے کہ جہنم کے پیدا ہونے سے ہزار برس پہلے جہنم کے فرشتوں کو پیدا کیا گیا پھر ہر روز ان کی قوّت بڑھتی رہتی ہے یہاں تک کہ جن پر ان کو مسلط کیا گیا ہے ‘ ان کو پیشانی کے بالوں اور قدموں سے پکڑ کر چلاتے ہیں۔
وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ : یعنی احکام کو قبول کرنے اور ان کے پابند رہنے سے وہ انکار نہیں کرتے اور ان کو جو حکم ملتا ہے اس کی تعمیل کرتے ہیں۔
Ayah 66:7یایھا الذین ... تعملون .
”(اور دوزخ میں ڈالتے وقت کافروں سے کہا جائیگا) اے کافرو ! آج معذرت نہ کرو ‘ بس تم کو اسی کی سزا مل رہی ہے جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے “
لَا تَعْتَذِرُوْا : یہ عذر پیش کرنے کی ممانت کی علّت ہے جس وقت کافر دوزخ میں داخل ہوں گے اس وقت ان سے یہ بات کہی جائے گی۔ کافر کہیں گے : وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ پھر بطور معذرت کہیں گے : رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْلَ صَالِحًا لیکن اس درخواست سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔