66. Surah At-Tahrim

التحريمThe Prohibition · 12 ayahsبصیرتِ قرآن

تعارف

تعارف

تعارف : سورة التحریم سورة نمبر 66 کل رکوع 2 آیات 12 الفاظ و کلمات 253 حروف 1124 مقام نزول مدینہ منورہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی اسوہ حسنہ ہے اس لئے اگر آپ سے کہیں بھول ہوجاتی تھی تو اللہ کی طرف سے آپ کی فوری رہنمائی فرما دی جاتی تھی۔ آپ نے محض ازواج کے کہنے کی وجہ سے شہد کو اپنے اوپر حرام کرلیا تھا اگر آپ کو اس سے مطلع نہ کیا جاتا تو شہد کا استعمال ممنوع ہوجاتا۔ اللہ تعالیٰ نے ہر مومن کو بتادیا کہ اصل چیز اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت و فرمانبرداری ہے کسی کا بیٹا، بیوی اور بھائی ہونا کافی نہیں ہے۔ حضرت نوح کا بیٹا اور حضرت لوط کی بیوی نافرمان تھے تو انہیں نبی کی بیوی اور بیٹا ہونا کام نہیں آیا لیکن فرعون جیسے ظالم کی بیوی حضرت آسیہ جو ایمان لے آئیں تھیں اللہ نے ان کا ذکر بڑی شان سے کیا ہے۔ حضرت مریم جنہوں نے ہمیشہ اپنی آبرو کی حفاظت کی تھی اور عمل صالح کو زندگی بنایا تھا تو اللہ نے ان کو عظیم مقام عطا فرمایا۔ معلوم ہوا کہ جنت کی ابدی راحتوں کے لئے ایمان اور عمل صالح بنیاد ہے ۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عادت مبارکہ یہ تھی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عصر کی نماز کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے اپنی ازواج کے پاس ان کی خیریت معلوم کرنے تشریف لے جایا کرتے تھے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سب ہی ازواج آپ سے بےانتہا محبت کرتی تھیں اور ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) زیادہ سے زیادہ ان کے پاس رہیں تاکہ وہ اللہ کی رحمت کو حاصل کرسکیں۔ جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت زیب (رض) کے پاس تشریف لے جاتے تو انہیں معلوم تھا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو میٹھی چیز بہت پسند ہے اور وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آنے سے پہلے شہد تیار رکھتیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جیسے ہی تشریف لاتے تو حضرت زینب (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شہد پیش کرتیں جس کی وجہ سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ازواج کے مقابلے میں حضرت زینب (رض) کے پاس زیادہ رک جاتے تھے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ مجھے اس پر شک آتا۔ میں نے حضرت حفصہ (رض) سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تشریف لائیں تو ہم یہ کہیں کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مغافیر (گوند جیسا جس میں کچھ بدبو بھی ہوتی تھی) استعمال فرمایا ہے۔ چونکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو بدبو سے دلی نفرت تھی تو حضرت عائشہ (رض) اور پھر حضرت حفصہ (رض) کے کہنے کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قسم کھائی کہ آج کے بعد شہد استعمال نہ کروں گا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس خیال سے کہ حضرت زینب (رض) کو برا نہ لگے یا ان کی دل شکنی نہ ہو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے فرمایا کہ تم اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا۔ مگر حضرت حفصہ (رض) نے اس کا ذکر حضرت عائشہ (رض) سے کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے وحی خفی کے ذریعہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مطلع فرما دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت حفصہ (رض) سے فرمایا کہ تم نے یہ بات حضرت عائشہ (رض) کو کیوں بتائی ؟ حضرت حفصہ (رض) نے حیرت اور تعجب سے کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ بات کس نے بتا دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے مطلع کیا ہے جو ہر بات کا جاننے والا ہے۔ اس کے بعد اللہ نے سورة الحتریم کی آیات نازل فرمائیں۔ چونکہ آپ کی ذات ایک بہترین نمونہ زندگی ہے اس لئے اللہ نے ان آیات میں آپ کو مطلع فرما دیا کہ اللہ نے جس چیز کو حرام نہیں کیا اس کو اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اوپر حرام کرلیں گے تو سب مسلمان ایک حلال چیز کو حرام سمجھنے لگیں گے اس لئے واضح الفاظ میں فرما دیا کہ کسی چیز کو حلال یا حرام جائز یا ناجائز قرار دینا یہ اللہ کا کام ہے نبی کا یہ کام نہیں ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک حلال چیز کو محض اپنی بیویوں کی خاطر کیوں حرام کرلیا ہے ؟ بہرحال اللہ تو معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ اس لئے اس نے قسم کھانے کے بعد (اگر وہ صحیح نہ ہو تو) اس پابندی سے باہر نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک بات مکمل راز داری کے ساتھ اپنی ایک بیوی کو بتائی۔ اس نے اس راز کی بات کو ظاہر کردیا تو اللہ نے اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس سے مطلع کردیا۔ جب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ان بیبوی سے پوچھا تو وہ کہنے لگیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس کی اطلاع کس نے دی ؟ تو نبی و نے فرمایا کہ مجھے اس اللہ نے یہ بات بتائی جو ہر چیز کا جاننے والا اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں ازواج سے فرمایا کہ اگر تم دونوں نے اس سے توبہ کرلی تو تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔ کیونکہ ایسا لگتا ہے کہ اس معاملہ میں تمہارے دل بھٹک گئے تھے۔ ٭فرمایا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مقابلے میں کوئی جتھا بندی کی تو اللہ اس کے فرشتے جبرئیل تمام صالح اہل ایمان اور سارے فرشتے اس کے ساتھ اس کے مددگار ہیں۔ ٭اگر وہ تم سب کو طلاق دیدیں تو اللہ کسی کا محتاج نہیں ہے وہ تم سے بہتر بیویاں ان کو عطا کرسکتا ہے جو ہوسکتا ہے تم سے بھی زیادہ بہتر ہوں۔ وہ بھی سچی مسلمان، ایمان والیاں، اطاعت و فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار اور روزے رکھنے والیاں، کنواری اور بیوہ وہ سب کچھ دینے پر قدرت رکھتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو چند اور بنیادی باتوں سے ان کی رہنمائی فرمائی ہے تاکہ ہر مومن اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکے فرمایا۔ ٭ایمان والو سے فرمایا کہ ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس زبردست آگ سے بچائو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اس آگ پر ایسے ہیبت ناک اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کی نافرمانی نہیں کرسکتے اور ان کو جب اور جیسا حکم دیا جاتا ہے وہ اس کی پوری طرح تعمیل کرتے ہیں۔ فرمایا کہ قیامت کے دن کافروں سے کہا جائے گا کہ آج معذرتیں پیش کرنے کا دن نہیں ہے بلکہ جو کچھ تم نے کیا ہے آج اس کے بدلے کا دن ہے۔ جس نے جیسا کچھ کیا ہوگا اس کو ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا۔ ٭اہل ِ ایمان سے فرمایا کہ ! تم ایسی توبہ کرو جو سچی اور خالص تو بہ ہو۔ وہ اللہ ایسا مہربان ہے کہ ممکن ہے وہ تمہاری خطاؤں کو معاف کردے اور ایسی جنتوں میں داخل فرما دے جن کے نیچے سے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کے اعمال کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے داہنی طرف دوڑ رہا ہوگا۔ ان کی زبانوں پر ہوگا کہ الٰہی ! اس نور اور روشنی کو آخر تک قائم رکھئے گا۔ ہم سے درگزر فرمائیے کیونکہ ہر چیز پر آپ ہی کو قدرت حاصل ہے۔ ٭نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے فرمایا گیا کہ اے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آئیے کیونکہ آخر کار ان کافروں اور منافقوں کا ٹھکانا وہ جہنم ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔ ٭اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویوں کی مثال پیش کی ہے۔ وہ دونوں ہمارے صالح اور نیک بندے تھے وہ اگرچہ ان کی زوجیت میں تھیں مگر انہوں نے اپنے شوہروں سے خیانت کی تھی تو اللہ کے مقابلے میں وہ ان کے کچھ بھی کام نہ آسکے۔ ان کی بیویوں سے کہہ دیا گیا کہ تم آگ میں داخل ہونے والوں کے ساتھ جائو۔ اس کے برخلاف فرعون جیسے ظالم کی بیوی (حضرت آسیہ) کی مثال یہ ہے کہ انہوں نے اللہ سے دعا کی الٰہی ! میرے لئے اپنے ہاں جنت میں میرا گھر اور ٹھکانا بنا دیجئے۔ مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچا لیجئے اور ظالم قوم سے نجات عطا فرمائیے۔ فرمایا کہ عمران کی بیٹی حضرت مریم (علیہ السلام) کی زندگی بھی ایک مثال ہے جنہوں نے اپنی آبرو کی حفاظت کی۔ پھر ہم نے ان کے ندر اپنی روح پھونک دی۔ اس نے اپنے پروردگار کے احکامات اور ارشادات کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار بن کر رہی۔ مراد یہ ہے کہ انسان کے اعمال کی بڑی قدر و قیمت ہے۔ اونچی نسبت بھی اسی وقت کام دیتی ہے جب ایمان اور عمل صالح کی زندگی بھی ہو۔

Ayahs 66:1–5

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ١ۚ تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 66:1 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! اللہ نے جو چیزیں آپ کے لئے حلال کی ہیں آپ ان چیزوں کو اپنی (بعض) بیویوں کی خوشنودی کے لئے اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں ؟ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ١ۚ وَ اللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ١ۚ وَ هُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ Open ayah 66:2 in the Quran reader

بیشک اللہ نے تمہارے لئے اپنی قسموں کو کھول دینے ( اور کفارہ ادا کرنے) کا ایک طریقہ مقرر کردیا ہے۔ اللہ تمہارا مالک ہے۔ وہی جاننے والا اور بڑی حکمت والا ہے۔

وَ اِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَ اَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَ اَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ١ۚ فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا١ؕ قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ Open ayah 66:3 in the Quran reader

اور جب نبی ﷺ نے اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی سے (چپکے سے) رازداری کے ساتھ ایک بات کہی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ راز کی بات دوسری سے کہہ دی اور اللہ نے ان کو (اپنے پیغمبر کو) اس کی اطلاع دیدی تو پیغمبر نے اس راز کھولنے والی بیوی کو بات کا کچھ حصہ تو جتا دیا اور کچھ کو نظرانداز کردیا۔ پھر جب (اللہ کے نبی نے ) اس بیوی کو بتایا تو وہ تعجب سے کہنے لگیں کہ میرا اس پوشیدہ بات کو ظاہر کردینا آپ کو کس نے بتا دیا۔ (نبی ﷺ نے ) کہا مجھے بڑے علم جاننے والے نے بتا دیا جو ہر بات کی خبر رکھتا ہے۔

اِنْ تَتُوْبَاۤ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا١ۚ وَ اِنْ تَظٰهَرَا عَلَیْهِ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ وَ جِبْرِیْلُ وَ صَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ١ۚ وَ الْمَلٰٓئِكَةُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَهِیْرٌ Open ayah 66:4 in the Quran reader

اگر تم دونوں نے اللہ کے سامنے توبہ کرلی تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل ( حق سے) مائل ہو رہے ہیں۔ اور اگر نبی کے مقابلے میں تم ایک دوسرے کی اسی طرح مددگار بنو گی تو (یاد رکھو) نبی کا رفیق اور مددگار اللہ ہے۔ جبرئیل، نیک اہل ایمان اور ان کے علاوہ فرشتے بھی ان کے مددگار ہیں۔

عَسٰى رَبُّهٗۤ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ یُّبْدِلَهٗۤ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰٓئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّ اَبْكَارًا Open ayah 66:5 in the Quran reader

اور اگر وہ نبی ﷺ تمہیں طلاق دیدیں تو اللہ تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں ان کو دیدے گا۔ جو فرماں بردار، ایمان والیاں، اطاعت گذار، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزے رکھنے والیاں، کھچ بیوائیں اور کچھ کنواریاں ہوں گی۔

لغات القرآن۔ لم تحرم۔ کیوں حرام کرتا ہے۔ احل۔ اس نے حلال کردیا۔ تبتغی۔ تو طلب کرتا ہے۔ چاہتا ہے۔ فرض۔ اس نے طریقہ قاعدہ بنا دیا۔ تحلۃ۔ کھول ڈالنا۔ ایمان۔ قسمیں۔ مولیٰ ۔ مالک اسر۔ چپکے سے کہا۔ حدیثا۔ بات۔ اظھرہ۔ اس نے ظاہر کردیا۔ من انباک۔ کس نے تجھے بتا دیا۔ ان تتوبا۔ اگر تم دونوں نے توبہ کرلی۔ قد صغت۔ یقینا پلٹ گئی۔ پلٹ گئے۔ تظھرا۔ تم دونوں مل گئے۔ تم دونوں مل گئیں۔ ظھیر۔ مددگار۔ قنتت۔ ادب سے جھکنے والیاں۔ تئبت۔ توبہ کرنے والیاں۔ عبدات۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت۔ روزہ رکھنے والیاں۔ ثیبت۔ بیوہ عورتیں۔ شوہر سے جدا ہوجانے والیاں۔ ابکارا۔ (بکر) ۔ کنواریاں۔ تشریح : چونکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر عمل امت کے لئے بہترین نمونہ عمل ہے اس لئے جب بھی کوئی ایس بات پیدا ہوتی ہے جس پر کسی کو اعتراض کرنے کا موقع مل سکتا تھا تو فوراً ہی اللہ کی طرف سے آپ کی راہنمائی کی جاتی تھی۔ ایک مرتبہ آپ نے شہد نہ کھانے کی قسم کھالی یعنی ایک حلال چیز کو آپ نے اپنے اوپر حرام کرلیا۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے فوراً حکم آگیا کہ آپ شرعی طریقے کے مطابق اپنی قسم توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردیں تاکہ آپ کے جاں نثار اس کو تقویٰ کا پہلو سمجھ کر شہد کھانے سے پرہیز نہ کرنے لگیں۔ احادیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ تقریباً روزانہ عصر کی نماز کے بعد سب ازواج مطہرات کے پاس ان کو خبر گیری کرنے کے لئے تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے جاتے۔ ام المومنین حضرت زینب ؓ آپ کے لئے شہد کا شربت تیار رکھتیں۔ ایک دن کچھ زیادہ دیر ہوگئی اور آپ ﷺ حضرت زینب ؓ کے پاس معمل سے زیادہ ٹھہر گئے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان فرماتی ہیں کہ ازواج مطہرات کو آپ سے ایسی محبت و عقیدت تھی کہ جب آپ عصر کے بعد اپنے گھر تشریف لاتے اور حضرت زینب ؓ آپ کو شہد کا شربت پلاتیں اس میں دیر ہوجاتی تو ان سے یہ دیر بھی برداشت نہ ہوتی۔ ایک دن حضرت حفصہ ؓ نے حضرت عائشہ ؓ سے کہا ہم کہ میں سے جس کے پاس بھی آپ تشریف لے جائیں تو وہ یہ کہے کہ آپ نے مغافیر (ایک خاص قسم کا گوند جس میں کچھ بو ہوتی ہے) نوش فرمایا ہے۔ چناچہ جب آپ حضرت حفصہ کے پاس تشریف لئے گئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ﷺ آپ کے منہ سے کچھ بو آرہی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے۔ چونکہ آپ کو فطرۃ بدبو سے نفرت تھی تو آپ نے قسم کھالی کہ میں آئندہ شہد نہ پیوں گا۔ آپ نے حضرت حفصہ ؓ سے راز دار انہ انداز سے یہ بات کہی تاکہ یہی بات حضرت زینب ؓ تک نہ پہنچے ورنہ انہیں اس سے رنج ہوگا۔ حضرت حفصہ ؓ نے اس بات کا ذکر حضرت عائشہ ؓ سے بھی کردیا۔ اس پر اللہ کی طرف سے سورة التحریم کی زیر مطالعہ آیات نازل ہوئیں اور آپ کو وحی خفی کے ذریعہ بتا دیا گیا کہ حضرت زینب ؓ نے اس بات کو راز نہیں رکھا بلکہ اس کا ذکر حضرت عائشہ ؓ سے کردیا ہے۔ جب آپ نے اس بات کا ذکر حضرت حفصہ ؓ سے کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ سے یہ بات کس نے کہی ؟ تو آپ نے اپنے اخلاق کریمانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف اتنا فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ جاننے والے (اللہ تعالیٰ ) نے اس سے مطلع فرمایا ہے۔ آپ کو اس سے اتنا رنج تھا کہ آپ نے حضرت حفصہ کو طلاق دینے کا ارادہ تک کرلیا لیکن اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل کو بھیج کر اس طلاق سے روک دیا اور فرمایا کہ وہ بہت عبادت گزار اور روزوں کی پابند ہیں آپ ان کو طلاق نہ دیں کیونکہ ان کا نام جنت میں آپ کی ازواج کے ساتھ لکھا ہوا ہے۔ (تفسیر مظہری) ۔ ان آیات کے نازل ہونے کے بعد آپ نے اپنی قسم کو توڑ کر ایک غلام آزاد کردیا۔ ٭قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی قسم کھا کر اس کو توڑ دے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ کفارہ یہ ہے کہ (1) ایک غلام آزاد کیا جائے۔ (2) غلام آزاد کرنا ممکن نہ ہو تو دس آدمیوں کو دونوں وقت پیٹ بھر کھانا دیا دس غریبوں کو پہننے کالباس دیا جائے۔ (3) اگر ان میں سے کوئی چیز بھی میسر نہ ہو تو تین روزے رکھے جائیں۔ نبی کریم ﷺ کے پاس اس وقت ایک غلام تھا آپ نے اس کو آزاد کردیا اور اپنی قسم توڑ دی۔ ٭ان آیات میں ازواج مطہرات کے اعمال و اخلاق کی اصلاح اور تربیت مقصود تھی تاکہ وہ کسی بھی راز کو حفاظت میں اپنی زمہ داریوں کو پورا کرکے امت کے لئے ایک بہتر نمونہ چھوڑیں۔ ٭فرمایا گیا کہ نبی کی شان یہ نہیں ہے کہ وہ محض اپنی بیویوں کی رضا و خوشنودی کے لئے جائز چیزوں کو بھی چھوڑ دے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آئندہ آنے والے لوگ اس کو اسوہ حسنہ سمجھ کر اس پر عمل کرنے لگیں۔ لہٰذا آپ سے فرمایا گیا کہ آپ اپنی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا فرمائیں۔ اللہ بڑا غفور رحیم ہے۔ ٭آپ کے دونوں ازواج سے فرمایا گیا کہ نبی کریم ﷺ کو اس بات سے تکلیف پہنچی ہے لہٰذا تم دونوں اس سے توبہ کرو۔ قرآن کریم میں تو دونوں ازواج مطہرات کے نام نہیں بتائے گئے لیکن جب حضرت ابوبکر ؓ سے پوچھا گیا کہ وہ دونوں ازواج کون تھیں تو آپ نے فرمایا کہ وہ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ تھیں جن سے کہا گیا ہے کہ وہ دونوں توبہ کریں۔ ٭جب ایسا نازک وقت آتا ہے کہ جہاں طلاق کی بات ہو تو عورتوں کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ہمارے شوہر نے ہمیں چھوڑ دیا تو ہم سے بہتر ان کو کوئی بیوی نہ مل سکے گی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ازواج مطہرات اس خیال میں نہ رہیں کہ اگر نبی کریم ﷺ نے ان کو طلاقی دیدی تو اللہ ان سے بہتر بیویاں ان کو نہیں دے گا۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہے تو تم سے بہتر بیویاں ان کو دے سکتا ہے جو تقوی پرہیز گاری اور حسن عمل میں ان سے بھی بہتر ہوں گی۔
Ayahs 66:6–12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ اَهْلِیْكُمْ نَارًا وَّ قُوْدُهَا النَّاسُ وَ الْحِجَارَةُ عَلَیْهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا یَعْصُوْنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمْ وَ یَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ Open ayah 66:6 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی اس آگ سے بچائو جس آگ کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے۔ اس آگ پر طاقت و قوت والے فرشتے مقرر ہیں۔ اللہ انہیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا جاتا ہے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ١ؕ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 66:7 in the Quran reader

(ان سے کہا جائے گا) اے کافرو ! آج کے دن تم کوئی عذر پیش نہ کرو۔ تمہیں ان ہی اعمال کی سزا دی جائے گی جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْۤا اِلَى اللّٰهِ تَوْبَةً نَّصُوْحًا١ؕ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ یُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَیِّاٰتِكُمْ وَ یُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ یَوْمَ لَا یُخْزِی اللّٰهُ النَّبِیَّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ١ۚ نُوْرُهُمْ یَسْعٰى بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَاۤ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَ اغْفِرْ لَنَا١ۚ اِنَّكَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ Open ayah 66:8 in the Quran reader

اے ایمان والو ! تم اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو۔ توقع ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہ تم سے دور کردے گا اور تمہیں ایسے باغات میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اس دن اللہ تعالیٰ اپنے نبی کو اور جو لوگ ایمان لائے ہیں انہیں رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے داہنے اور ان کے سامنے دوڑ رہا ہوگا۔ (اور وہ دعا کر رہے ہوں گے) اے ہمارے رب ! ہمارے لئے اس نور کو آخر تک رکھئے گا۔ ہمیں معاف کرد یجئے گا۔ بیشک آپ پر چیز پر قدررت رکھنے والے ہیں۔

یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ اغْلُظْ عَلَیْهِمْ١ؕ وَ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ Open ayah 66:9 in the Quran reader

اے نبی ﷺ ! آپ کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے (آخر کار ) ان کا ٹھکانا جہنم ہی ہے جو بدترین ٹھکانا ہے۔

ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ كَفَرُوا امْرَاَتَ نُوْحٍ وَّ امْرَاَتَ لُوْطٍ١ؕ كَانَتَا تَحْتَ عَبْدَیْنِ مِنْ عِبَادِنَا صَالِحَیْنِ فَخَانَتٰهُمَا فَلَمْ یُغْنِیَا عَنْهُمَا مِنَ اللّٰهِ شَیْئًا وَّ قِیْلَ ادْخُلَا النَّارَ مَعَ الدّٰخِلِیْنَ Open ayah 66:10 in the Quran reader

اللہ نے ان کافروں کے لئے لوط (علیہ السلام) اور نوح (علیہ السلام) کی بیویوں کا حال بیان کیا ہے کہ وہ ہمارے خاص بندوں کے نکاح میں تھیں ان دونوں عورتوں نے ان دونوں بندوں کا حق ضائع کیا تو وہ دونوں بندے (حضرت لوط (علیہ السلام) اور حضرت نوح (علیہ السلام) ) اللہ کے مقابلے میں ان کے ذرا بھی کام نہ آسکے۔ اور ان دونوں عورتوں کا حکم دیا جائے گا کہ وہ جہنم میں جانے والوں کے ساتھ جہنم مین داخل ہوں۔

وَ ضَرَبَ اللّٰهُ مَثَلًا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا امْرَاَتَ فِرْعَوْنَ١ۘ اِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِیْ عِنْدَكَ بَیْتًا فِی الْجَنَّةِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِهٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظّٰلِمِیْنَۙ Open ayah 66:11 in the Quran reader

اور اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں (کی تسلی) کے لئے فرعون کی بیوی (حضرت آسیہ) کا حال بیان کیا ہے۔ جب (حضرت آسیہ نے) دعا کی اسے میرے رب ! میرے واسطے جنت میں اپنے قرب میں مکان بنا دیجئے۔ اور مجھے فرعون (کے شر) سے اور اس کے (کافرانہ) اعمال سے محفوظ فرمائیے اور مجھے ظالم قوم سے نجات عطا فرمائیے۔

وَ مَرْیَمَ ابْنَتَ عِمْرٰنَ الَّتِیْۤ اَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِیْهِ مِنْ رُّوْحِنَا وَ صَدَّقَتْ بِكَلِمٰتِ رَبِّهَا وَ كُتُبِهٖ وَ كَانَتْ مِنَ الْقٰنِتِیْنَ۠ Open ayah 66:12 in the Quran reader

اور عمران کی بیٹی مریم جس نے اپنی عزت و آبرو کی حفاظت کی۔ پھر ہم نے ان کے (چاک گریباں میں) پھونک ماری۔ اور انہیں نے اپنے رب کے پیغامات اور کتابوں کی تصدیق کی اور وہ فرماں برداروں میں سے ہوگئیں۔

لغات القرآن۔ قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔ تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور بھول کیا ہوگی کہ وہ اپنے بیوی، بچوں اور رشتہ داروں کی محبت میں حق و صدات کا راستہ چھوڑ کر باطل کو گلے لگا لیتا ہے اور آخرت کی ابدی زندگی کے مقابلے دنیا کی راحتوں اور اسباب میں گم ہوجاتا ہے۔ لیکن جن کے دل میں ایمان اور عمل صالح کی تڑپ موجود ہوتی ہے وہ آخرت کے مقابلے میں دنیا کی ناپائیدار زندگی کے اسباب کو جائز حد تک اختیار کرتے ہیں اور دنیا کی چکا چوند میں گم ہونے کے بجائے اپنی آخرت کو یاد رکھتے ہیں۔ زیر مطالعہ آیات میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے ان ہی حقائق کو بیان فرمایا گیا ہے۔ فرمایا اے ایمان والو ! تم خود بھی شریعت کے احکامات کے مطابق تمام فرائض اور واجبات کو ادا کرو۔ خود بھی نیکیوں پر قائم رہو اور اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو بھی نیکیوں پر چلا کر جہنم کی اس ہیبت ناک آگ سے بچانے کی کوشش کرو جس میں اللہ کے نافرمان لوگ اور پتھر ایندھن کے طور پر جھونک دئیے جائیں گے۔ اور اس جہنم پر ایسے طاقت ور اور سخت مزاج فرشتے مقرر کئے جائیں گے جو صرف اللہ تعالیٰ کے احکامات کی تعمیل کرنا جانتے ہوں گے اور قطعاً نافرمانی نہیں کریں گے۔ مراد یہ ہے کہ اگر کوئی خوشامد کرکے نکلنا بھی چاہے گا تو اس جہنم سے نکل نہ سکے گا کیونکہ جہنم پر مقرر فرشتے صرف ان احکامات کی تعمیل کرتے ہیں جن کا حکم ان کو اللہ کی طرف دیا جاتا ہے۔ کفار و منافقین جب اس ہیبت ناک جہنم کو دیکھیں گے تو طرح طرح کے عذر پیش کریں گے لیکن اس دن کسی کا عذر قبول نہ کیا جائے گا۔ ان آیات میں دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے ایمان والو ! تم اللہ سے توبہ کرو لیکن ایسی توبہ جو خالص اور سچی توبہ ہو جس میں پھر گناہ کی طرف جانے کا خیال تک نہ آئے۔ فرمایا کہ اگر تم ایسی سچی توبہ کرو گے تو اللہ نہ صرف تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا بلکہ تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اس دن اللہ اپنے نبی اور ان لوگوں کو جو ان کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسوا نہ کرے گا بلکہ پل صراط پر جانے کے لئے اس اندھیرے میں ایک ایسا نور عطا فرمائے گا جو ان کے آگے آگے اور ان کے داہنی جانب دوڑ رہا ہوگا۔ جب اہل ایمان یہ دیکھیں گے کہ کفار اندھیروں میں دھکے کھا رہے ہیں تو وہ اہل ایمان اللہ سے دعا کریں گے کہ الٰہی ہماری اس روشنی اور نور کو آخر تک قائم رکھئے گا تاکہ ہم بھی ان کفار کی طرح اندھیروں میں ٹھوکریں نہ کھانے لگیں۔ ہماری کوتاہیوں اور گناہوں کو معاف کردیجئے بیشک آپ کو ہر چیز پر پوری طرح قدرت حاصل ہے۔ توبہ کے لفظی معنی لوٹنے، پلٹ آنے اور رجوع کرنے کے آتے ہیں۔ یعنی اپنے گناہوں پر شرمندگی اور ندامت کے ساتھ آئندہ کا یہ عزم کہ میں اس گناہ کے پاس نہ جاؤں گا یہ سچی توبہ ہے جو بھی ایسی سچی توبہ کرتا ہے اللہ اس کو دنیا اور آخرت کی رحمتیں عطا فرماتا ہے۔ حضرت ابن ابی حاتم نے زربن حبیش کے واسطے سے یہ روایت نقل کی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابی ابن ابی کعب سے پوچھا کہ ” توبہ نصوحا “ کا مطلب کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں نے بھی رسول اللہ ﷺ سے یہی سوال کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب تم سے کوئی قصور ہوجائے تو اپنے گناہ پر نادم و شرمندہ ہو اور پھر شرمندگی کے ساتھ اس پر اللہ سے استفار کرو اور آئندہ کبھی اس فعل کا ارتکاب نہ کرو۔ (ابن حریر) ۔ سیدنا عمر فاروق ؓ ” توبہ نصوحا “ کی تعریف یہ کی ہے کہ توبہ کے بعد آدمی گناہ کا اعادہ تو درکنار اس کے دوبارہ کرنے کا ارادہ تک نہ کرے۔ (ابن حریر) ۔ سیدنا حضرت علی مرتضیٰ ؓ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ جلدی جلدی توبہ و استغفار کے الفاظ زبان سے ادا کر رہا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ یہ تو ” توبۃ الکذابین “ (جھوٹے لوگوں کی توبہ ہے) ۔ انہوں نے پوچھا کہ پھر صحیح توبہ کیا ہے ؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ اس کے ساتھ چھ چیزیں ہونی چاہیں۔ (1) جو کچھ ہوچکا اس پر شرمندگی اور ندامت (2) جن فرائض میں غفلت ہوئی ہے ان کی ادائیگی (3) اگر کسی کا حق مار لیا ہو تو اس کو واپس کرنا۔ (4) اگر کسی کو تکلیف پہنچائی ہو تو اس سے معافی مانگنا۔ (5) آئندہ اس بات کا عزم کرنا کہ میں اس گناہ کو دوبارہ نہیں کروں گا۔ (6) اپنے نفس کو اللہ کی اطاعت میں اسی طرح گھلانا جس طرح اس نے گناہ میں اپنے آپ کو مبتلا کیا ہوا تھا۔ نفس کو اللہ کی اطاعت کا مزا چکھانا جس طرح اس نے اب تک اپنے نفس کو گناہ اور معصیت کا مزہ چکھا رکھا تھا (کشاف) ۔ خلاصہ یہ ہے کہ سچی توبہ کرنے سے انسان کے گذشتہ گناہ اس طرح معاف ہوجاتے ہیں جیسے اس نے گناہ کئے ہی نہ ہوں۔ توبہ کرنے کے بعد اگر بشری کمزوری کی بنا پر پھر اسی گناہ میں مبتلا ہوجائے تو پہلے سے زیادہ احساس ندامت کے ساتھ اپنے اس گناہ کی معافی مانگے اور اس بات کا عزم کرلے اور کہے الٰہی ! مجھے معاف کردیجئے۔ آپ مغفرت کرنے والے مہربان ہییں میں آئندہ نہیں کروں گا۔ امید ہے کہ اللہ ایسے شخص پر رحم و کرم نازل کرتے ہوئے اس کے گناہوں کو معاف کردے گا۔ ان آیات میں تیسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اگر کفار سے جنگ ہوجائے تو پھر ان سے رعایت کی ضرورت نہیں ہے بلکہ سختی سے نمٹا جائے اور ان کو اپنے کئے ہوئے اقدام کی سخت سزا دیجائے تاکہ اس سے دوسروں کو عبرت اور نصیحت حاصل ہو۔ فرمایا کہ آخر کار ان کفار اور منافقین کا اصل ٹھکانا جہنم کی بھڑکتی آگ ہے لیکن کفرو شرک سے معافی مانگ کر اور توبہ کرکے نجات بھی حاصل ہوسکتی ہے۔ چوتھی اور آخری بات یہ فرمائی گئی کہ کفار مکہ جن کو اس بات پر بڑا ناز تھا کہ وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور پیغمبروں کی اولاد ہیں ان کو بتایا جا رہا ہے کہ آدمی کے اگر اعمال صحیح نہ ہوں اور وہ کفرو شرک میں مبتلا ہو تو پیغمبروں کی نسبت اور ان کی اولاد ہونا بھی کسی کو فائدہ نہیں دے سکتا۔ کفار کو عبرت دلانے کے لئے فرمایا جا رہا ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی جس کا نام ” داغلہ “ تھا اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی جس کا نام ” والہہ “ تھ یہ دونوں پیغمبروں کی بیویاں تھیں جنہوں نے ایمان کی راہ میں پیغمبروں کا ساتھ نہ دیا بلکہ کفار کا ساتھ دیا تو ان کو پیغمبروں کی نسبت ان کے کام نہ آئی اور پیغمبروں کی بیویاں ہونے کے باوجود پیغمبر بھی ان کو جہنم کی آگ سے نہ بچا سکے۔ معلوم ہوا کہ کفرو شرک ایسی بدترین چیزیں ہیں کہ اگر نبی بیوی، بیٹا اور کوئی رشتہ دار بھی اس میں مبتلا ہو تو پیگمبروں کی سفارش اور نسبت بھی ان کے کام نہیں آسکتی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی کا یہ حال تھا کہ جو بھی ایمان لاتا وہ جا کر کفار کو اس کی اطلاع کردیتی۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کفار کو ہر آنے جانے والی کی خبر دے دیا کرتی تھی۔ یہ ایک سخت بددیانتی اور خیانت تھی جس کو اللہ نے سخت ناپسند فرمایا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیویاں بدکار نہیں تھیں بلکہ بددیانت اور خائنہ تھیں اسی لئے حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ کسی نبی کی بیوی کبھی بدکار نہیں ہوتی۔ معلوم ہوا کہ ان دونوں پیغمبروں کی بیویوں نے خیانت کی تھی جس کی سزا یہ دی گئی کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی بیوی اور بیٹا دونوں کفار کے ساتھ پانی میں غرق کردئے گئے اور حضرت لوط (علیہ السلام) کی بیوی کافروں کے ساتھ اللہ کے عذاب کا شکار ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں کی بیویوں کا ذکر کرکے فرعون کی بیوی حضرت آسیہ کا ذکر کیا اور بتایا کہ فرعون جو اللہ اور رسول کا سخت دشمن تھا جب اس کی بیوی حضرت آسیہ بنت مزاحم نے کفر سے توبہ کرکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی لائی ہوئی تعلیمات پر ایمان قبول کیا تو اللہ نے ان کو جنت کا اعلیٰ مقام دینے کا وعدہ فرمایا کیونکہ وہ فرعون جیسے کافر و ظالم کی بیوی ضرور تھیں لیکن ان کے ایمان اور عمل صالح نے ان کو اتنا بلند مقام عطا کیا کہ فرعون جہنم کی آگ میں جھونکا جائے گا اور اس کی بیوی حضرت آسیہ جنت کے باغوں میں راحت و آرام کے ساتھ رہیں گی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ محترمہ حضرت مریم بنت عمران جو بچپن سے جوانی تک پوری طرح پاک دامن اور بےداغ رہیں جنہوں نے اپنی عزت آبرو کی حفاظت کی جب انہوں نے اپنے پروردگار کے پیغامات جو فرشتوں کے ذریعہ ان تک پہنچتے تھے ان کی تصدیق کی اور اللہ کی کتابوں پر ایمان لائیں تو اللہ نے ان کو بھی جنت کا اعلیٰ مقام دینے کا وعدہ فرمایا۔ اصل چیز ایمان اور عمل صالح ہے یہی چیز انسان کو نجات دلانے والی ہے۔ بڑوں اور بزرگوں کی نسبت بھی تب ہی کام آتی ہے جب ایمان اور عمل صالح ہو۔ اسی بات کو ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے حضرت فاطمہ ؓ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ فاطمہ تم یہ مت سمجھنا کہ تم بنت محمد ﷺ ہو اور تمہاری نجات ہوگی بلکہ تمہارے اعمال تمہیں نجات دلائیں گے۔ حضرت فاطمہ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ کیا آپ کو بھی نجات اعمال کی وجہ سے نجات ملے گی تو آپ نے فرمایا ہاں مجھے بھی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔