Explained with ayahs 6–8
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ارشاد ربانی ہے کہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ کے فرمان بجا لاؤ اس کی نافرمانیاں مت کرو اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے، مجاہد فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو، قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔ ضحاک و مقاتل فرماتے ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے…
Read the full tafseer →سورة التَّحْرِيْم 19
اصل میں توبۃً نصوحاً کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ نصح کے معنی عربی زبان میں خلوص اور خیر خواہی کے ہیں۔ خالص شہد کو عسل ناصح کہتے ہیں جس کو موم اور دوسری آلائشوں سے پاک کردیا گیا ہو۔ پھٹے ہوئے کپڑے کو سی دینے اور ادھڑے ہوئے کپڑے کی مرمت کردینے کے لیے نصاحۃ الثوب کا لفاظ استعمال کیا جاتا ہے۔ پس توجہ کو نصوح کہنے کا مطلب لغت کے اعتبار سے یا تو یہ ہوگا کہ آدمی ایسی خالص توجہ کرے جس میں ریاء اور نفاق کا شائبہ تک نہ ہو۔ یا یہ کہ آدمی خود اپنے نفس کے ساتھ خیر خواہی کرے اور گناہ سے توبہ کر کے اپنے آپ کو بد انجامی سے بچا لے۔ یا یہ کہ گناہ سے اس کے دین میں جو شگاف پڑگیا ہے، توبہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
خلاصہ تفسیر
(ان آیات میں دوزخ سے بچنے کا طریقہ بتلایا گیا ہے اور وہی اہل و عیال کو بتلا کر جہنم کی آگ سے بچانے کا طریقہ ہے وہ یہ ہے) اے ایمان والو اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (یعنی دل میں گناہ پر کامل ندامت ہو اور آئندہ اسکے نہ کرنے کا پختہ قصد ہو اس میں تمام احکامدین فرائض واجبات بھی داخل ہوگئے کہ ان کا چھوڑنا گناہ ہے اور تمام محرمات ومکروہات بھی آگئے کہ ان کا کرنا گناہ ہے) امید (یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب (اس توبہ کی بدولت) تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور تم کو (جنت کے) ایسے باغوں میں داخل کرے گا جنکے نیچے نہریں جاری ہوں گی (اور یہ اس روز ہوگا) جس دن کہ اللہ نبی ﷺ کو اور جو مسلمان (ایمان اور…
Read the full tafseer →(یایھا الذین امنوا توبوالی اللہ توبۃ نصوحا عسی ربکم ان یکفرعنکم سیاتکم و ید خلکم جنت تجری تحتھا الانھر یوم لا یخزی اللہ النبی والذین امنوا معہ نورھم یسعی بین ایدھم وبایما نھم وبایما نھم یقولون ربنا اتمم لنا نورنا واغفرلنا انک علی کل شی قدیر) (8)
(توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت عام)۔ اوپر والی تنبیہ کے بعد اب یہ تمام مسلمانوں کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی دعوت دی ہے کہ اے لوگو، جو ایمان لائے ہو، اپنے غفلت کے بستر چھوڑو اور اپنے رب کی طرف مخلصانہ رجوع کرو۔ توبہ فصوح سے مراد وہ توبہ ہے جو دل کے پورے انقیاد اور سچے عزم کے ساتھ ہو۔ جس کے بعد گناہ کی طرف مڑنے کی کوئی خواہش باقی نہ رہے بلکہ گناہ کو…
Read the full tafseer →8۔ 1 خالص توبہ یہ ہے کہ، 1۔ جس گناہ سے توبہ کر رہا ہے، اسے ترک کر دے 2۔ اس پر اللہ کی بارگاہ میں ندامت کا اظہار کرے، 3۔ آئندہ اسے نہ کرنے کا عزم رکھے، 4۔ اگر اس کا تعلق حقوق العباد سے ہے تو جس کا حق غصب کیا ہے اس کا ازالہ کرے، جس کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سے معافی مانگے، محض زبان سے توبہ توبہ کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
8۔ 2 یہ دعا اہل ایمان اس وقت کریں جب منافقین کا نور بجھا دیا جائے گا، جیسا سورة حدید میں تفصیل گزری، اہل ایمان کہیں گے، جنت میں داخل ہونے تک ہمارے اس نور کو باقی رکھ اور اس کا اتمام فرما۔
Read the full tafseer →8: اس سے مراد غالباً وہ وقت ہے جب تمام لوگ پل صراط سے گذر رہے ہوں گے، وہاں ہر انسان کا ایمان اس کے سامنے نور بن کر اسے راستہ دکھائے گا، جیسا کہ سورة حدید :12 میں گذر چکا ہے۔
9: یعنی آخر تک اسے برقرار رکھیے، کیونکہ سورة حدید میں گزر چکا ہے کہ منافق بھی شروع میں اس نور سے فائدہ اٹھائیں گے لیکن بعد میں ان سے نور سلب کرلیا جائے گا۔
Read the full tafseer →سوال یہ ہے کہ مومنین اپنے نفس کو اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے کس طرح بچائیں۔ ان کو راستہ بتایا جاتا ہے اور امید دلائی جاتی ہے :
یایھا الذین ........................ شیء قدیر (66 : 8) ” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے توبہ کرو ، خالص توبہ ، بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ وہ دن ہوگا جب اللہ نے اپنے نبی کو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں ، رسوا نہ کرے گا۔ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑرہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزر…
Read the full tafseer →9 صاف دل کی توبہ یہ کہ دل میں پھر اس گناہ کا خیال نہ رہے۔ اگر توبہ کے بعد ان ہی خرافات کا خیال پھر آیا تو سمجھو کہ توبہ میں کچھ کسر رہ گئی ہے۔ اور گناہ کی جڑ دل سے نہیں نکلی۔ " رزقنا اللہ منہا حظا وافرًا بفضلہ وعونہ وہو علٰی کل شئیٍ قدیر۔ "
1 یعنی نبی کا تو کہنا کیا اس کے ساتھیوں کو بھی ذلیل نہ کرے گا بلکہ نہایت اعزازو اکرام سے فضل و شرف کی بلند مناصب پر سرفراز فرمائے گا۔
2 اس کا بیان سورة " حدید " میں ہوچکا۔
3 یعنی سورة حدید میں بیان ہوچکا کہ روشنی بجھ جائے گی اور اندھیرے میں کھڑے رہ جائیں گے مفسرین نے عموما یہ ہی لکھا ہے۔ لیکن حضرت شاہ صاحب اتمم لنا نورنا کی مراد بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →آیت 8{ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًاط } ”اے اہل ایمان ! توبہ کرو اللہ کی جناب میں خالص توبہ۔“
یہ آیت اپنے مضمون اور اسلوب کے اعتبار سے زیر مطالعہ سورتوں کے گروپ میں منفرد حیثیت کی حامل ہے۔ اس میں پل صراط کے اس ماحول کی جھلک بھی دکھائی گئی ہے جس کی تفصیل سورة الحدید میں آئی ہے۔ اس آیت کے ابتدائی حصے میں اہل ایمان کو توبہ سے متعلق جو حکم دیا گیا ہے اس حکم میں بہت جامعیت ہے۔ اس سے مراد صرف کسی ایک برے عمل کی توبہ نہیں کہ کوئی شخص شراب نوشی سے توبہ کرلے یا کوئی رشوت خوری سے باز آجائے ‘ بلکہ اس سے مراد غفلت کی زندگی اور معصیت کی روش سے توبہ ہے۔…
Read the full tafseer →16 توبہ کی شرائط :۔ نَصُوْحًا۔ نصح بمعنی کسی کی خیر خواہی کرنا خواہ یہ قول سے ہو یا فعل سے اور نَصُوْحًاسے مراد ایسی سچی توبہ ہے جس سے اپنے نفس کی خیرخواہی مطلوب ہو۔ اور ایسی توبہ کی چند شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ اپنے کیے پر نادم ہو۔ دوسرے یہ کہ اللہ کے حضور مغفرت طلب کرے اور آئندہ وہ کام نہ کرنے کا عہد کرے۔ تیسرے یہ کہ یہ عہد محض زبانی یا ریا کاری کی بنا پر نہ ہو بلکہ آئندہ اس عہد کو حتی الامکان نباہنے کی کوشش کرے اور چوتھے یہ کہ اگر اس نے اس گناہ کے کام میں کسی شخص کا حق تلف کیا ہے تو اسے اس کی ادائیگی کرے یا اس سے معاف کرالے۔ اگر وہ حق مال سے تعلق رکھتا ہے تو اصل مظلوم مرچکا ہے تو اس کے وارثوں…
Read the full tafseer →13۔ محققین نے لکھا ہے کہ مقصود صرف مومنین کو اطمینان دلانا اور مژدۂ امن سنانا ہے، پیغمبر ﷺ کا ذکر اس سیاق میں تو محض تقویت اثبات کے لیے ہے۔ یعنی جس طرح پیغمبر ﷺ کا محفوظ رہنا یقینی ہے، مومنین امت بھی اپنی محفوظیت یقینی سمجھیں۔ (آیت) ” توبۃ نصوحا “۔ سچی اور مخلصانہ توبہ کی علامت یہ ہے کہ ماضی پر دل سے اور کامل ندامت ہو، اور مستقبل میں بقدر امکان پورا عزم ترک معصیت کا ہو۔ اے توبۃ بالغۃ فی النصح (کبیر) (آیت) ” لایخزی اللہ۔ خزی سے یہاں مراد وہ رسوائی ہے جو کفر ہی کی جزاء ہے۔
14۔ (تیرے لیے ہماری آرزوؤں کو پورا کرنا اب کیا مشکل ہے) (آیت) ” نورھم ..... بایمانھم “۔ یہ اس وقت ہوگا جب اہل ایمان پل صراط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ترجمہ : اے ایمان والو ! تم اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (نصوحا) میں نون کے فتحہ اور ضمہ کے ساتھ اس طریقہ پر کہ نہ دوبارہ گناہ کرے گا اور نہ اس کا ارادہ کرے گا امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہوں کو دور کر دے گا اور یہ ایسی توقع ہے کہ جس کا وقوع (یقینا) ہوگا، تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جس دن اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان لانے والوں کو آگ میں داخل کر کے رسوا نہ کرے گا ان کا نور ان کے سامنے اور ان کے دائیں دوڑتا ہوگا اللہ سے دعاء کرتے ہوں گے (یقولون) جملہ مستانفہ ہے، اے ہمارے پروردگار ! تو ہمارے اس نور کو جنت میں پہنچنے تک باقی رکھئے اور منافقوں کا نور بجھ جائے…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا تو بوا ... الانھر .
” اے ایمان والو ! اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو (تمہارے لیے) اُمید (یعنی وعدہ) ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ (سچی توبہ سے) معاف کر دے گا اور تم کو ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جس کے (محلات اور درختوں کے) نیچے نہریں بہتی ہونگی۔ “
تَوْبَۃً نَّصُوْحًا : نصوح مبالغہ کا صیغہ ہے ‘ نصح سے مشتق ہے۔ نصح کا معنی ہے قول و عمل سے اپنے ساتھی کی خیر خواہی ‘ حقیقت میں ناصح تائب کی صفت ہوتی ہے۔ توبہ کے ساتھ نصوح کا صیغہ کہنا مجازاً بطور مبالغہ ہے۔ یا
نصوح نصاحت سے مشتق ہے۔ نصاحت کا معنی ہے سینا (کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ دینا) گناہوں کی وجہ سے دین وتقویٰ میں شگاف ہوجاتا ہے توبہ…
Read the full tafseer →اے ایمان والو تم اپنے گناہوں سے اللہ کے سامنے سچی توبہ کرو یعنی دل میں ندامت زبان پر استغفار اور بدن پر تواضع و انکسار ہو امید ہے توبہ کی وجہ سے تمہارا رب تمہارے گناہوں کو معاف کردے گا اور تمہیں جنت کے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں جاری ہوں گی۔
اور قیامت کا دن ہوگا جبکہ اللہ تعالیٰ نبی کریم کو اور ان ایمان والوں کو جو کہ آپ کے ساتھ ہیں جیسا کہ حضرت ابوبکر کفار کی طرح رسوا نہیں کرے گا۔
یا یہ کہ ان کو عذاب نہیں دے گا ان کا نور پل صراط پر ان کے سامنے اور دائیں طرف روشن ہوگا اور منافقین کے نور بجھ جانے کے بعد یوں دعا کرتے ہوں گے اے ہمارے رب ہمارے نور کو پل صراط پر ہمارے لیے اخیر…
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللہ ِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا :”توبۃ“ ”تاب یتوب توبۃ“ (ن) پلٹ آنا۔ ”نصوحا“ ”نصح ینصح نصحا“ (ف) سے ”فعول“ کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے ، بہت خالص۔ یہ وزن مذکر و مؤنث کی صفت ہے۔”نصح الشئی“ اس وقت کہتے ہیں جب کوئی چیز خالص ہو ، اس میں کھوٹ نہ ہو۔ شہد یا کوئی اور چیز جب خالص ہو تو اسے ”النصح“ کہتے ہیں۔ ”النصح“ (خالص ہونا) ”الغش“ (کھوٹا ہونے) کا متضاد ہے۔
اس آیت میں جہنم سے بچنے کا طریقہ بتلایا ہے ، فرمایا اے ایمان والو ! اللہ کی طرف پلٹ آؤ ، خالص اور سچاپلٹنا۔ یعنی اگر نافرمانی کرکے اللہ تعالیٰ سے دور ہوگئے تو اسے ترک کر کے واپس اس کی طرف پلٹ آؤ۔…
Read the full tafseer →اس میں دو مسائل ہیں :
توبۃ نصوحاً سے کیا مراد ہے ؟
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا الذین امنوا توبوا الی اللہ توبہ کا حکم ہے یہ ہر حال اور ہر زمانہ میں اہل ایمان پر فرض ہے اس کا بیان اور اس کے بارے میں گفتگو سورة نساء میں گزر چکی ہے۔
توبۃ نصوحا علماء اور اصحاب قلوب نے توبہ نصوح میں اختلاف کیا ہے۔ اس کے بارے میں تئیس قول ہیں۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ ایسی توبہ ہے (1) جس کے بعد گناہ کی طرف رجوع نہیں ہوتا جس طرح دودھ کھیری میں دوبارہ نہیں لوٹتا۔ حضرت عمر، حضرت ابن مسعود، حضرت ابی بن کعب اور حضرت معاذ بن جبل ؓ نے اسے مرفوع نقل کیا ہے۔ قتادہ نے کہا : نصوح سے مراد سچی اور خالص توبہ ہے (2) ۔ ایک قول یہ کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
1۔ عبدالرزاق والفریابی و سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وہناد وابن منیع وعبد بن حمیدوابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے شعب الایامن میں نعمان بن بشیر (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے آیت توبۃ نصوحا کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا کہ آدمی برے کام سے اس طرح توبہ کرے پھر کبھی اس کی طرف نہ لوٹے۔
2۔ احمد وابن مردویہ والبیہقی نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کسی گناہ سے ایسی توبہ کرنا پھر کبھی اس کی طرف رجوع نہ کرے۔
3۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ضعیف سند کے ساتھ ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ سے ” توبۃ…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [تُوْبُوْٓا اِلَى اللّٰهِ : تم لوگ توبہ کرو اللہ سے ] [تَوْبَةً نَّصُوْحًا : انتہائی خالص توبہ ] [عَسٰى رَبُّكُمْ : قریب ہے تمہارا رب ] [ان يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ : کہ وہ دور کر دے تم سے ] [سَيِّاٰتِكُمْ : تمہاری برائیوں کو ] [وَيُدْخِلَكُمْ : اور وہ داخل کر دے تم کو ] [جَنّٰتٍ : ایسے باغات میں ] [تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْانهٰرُ : بہتی ہیں جن کے دامن سے نہریں ] [يَوْمَ : اس دن جب ] [لَا يُخْزِي اللّٰهُ : رسوا نہیں کرے گا اللہ ] [النَّبِيَّ : ان نبی کو ] [وَالَّذِينَ اٰمَنُوْا مَعَهٗ : اور ان کو جو ایمان لائے ان کے ساتھ ] [نُوْرُهُمْ…
Read the full tafseer →تیسری آیت میں اہل ایمان کو توبہ کرنے کا حکم دیا اور فائدہ بتایا، ارشاد فرمایا کہ اللہ کے حضور میں توبہ کرو۔ یہ توبہ پکی اور مضبوط ہو۔ توبہ کرنے سے تمہارا رب تمہارے گناہوں کا کفارہ فرما دے گا اور ایسے باغات میں داخل فرما دے گا جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔
معالم التنزیل میں توبۃ النصوح کی تشریح میں حضرت معاذ ؓ سے نقل کیا ہے کہ ایسی توبہ ہو جس کے بعد گناہ کرنے کے لیے واپس نہ لوٹے جیسے کہ دودھ تھنوں میں واپس نہیں آتا۔
اور حضرت حسن (رح) سے نقل کیا ہے کہ بندہ گزشتہ اعمال پر نادم ہو اور آئندہ کے لیے پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ یہ طے کرلے کہ اب گناہ نہیں کروں گا، یہ توبۃ النصوح ہے۔ اس کے بعد بہت بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
حکم توبہ وانابت الی اللہ باخلاص قلب ووعدۂ معافی خطایاوبشارت حصول نعمتہائے جنت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا الذین امنوا ...... الی ..... وبئس المصیر “۔ (ربط) گذشتہ آیات میں انسانی زندگی کے لیے ایسی ہدایات تھیں کہ ان پر عمل کرنے سے انسان اس قسم کی برائیوں سے محفوظ رہ سکتا ہے جو مزاجی عدم اعتدال یا گھریلو منازعات کی وجہ سے پیش آتی ہیں اب ان آیات میں اللہ کی طرف رجوع اور توبہ کا حکم ہے کہ مسلمان کو چاہئے کہ اپنی کوتاہی پر نادم وشرمندہ ہو کر خدا کی طرف رجوع کرے اور توبہ و استغفار صدق دل سے کرے اسی سے اس کی نجات و کامیابی ہے، ارشاد فرمایا۔
اے ایمان والو رجوع کرو اللہ کی طرف سچے دل سے توبہ کرتے…
Read the full tafseer →10:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ بشارت اخروی برائے تائبین صادقین۔ ” نصوح “ خالص یعنی سچی توبہ جس میں گناہوں پر ندامت ہو اور آئندہ کیلئے گناہوں سے بچنے کا پختہ ارادہ ہو تفسیر حضرت ابن عباس ؓ نے رسول اللہ ﷺ سے روایت کی ہے اور حضرت عمر، ابن مسعود، ابی بن کعب، حسن اور مجاہد رحمہم اللہ سے بھی یہی منقول ہے۔ قال معاذ بن جبل، یا رسول اللہ ما التوبۃ النصوح ؟ قال ان یندم العبد علی الذنب الذی اصاب فیعتذر الی اللہ تعالیٰ ثم یعود الیہ کما لا یعود اللبن الی الضرع وروی تفسیر ھا بما ذکر عن عمرو ابن مسعود وابی والحسن و مجاھد وغیرہم (روح ج 28 ص 157) ۔ ایسی سچی توبہ کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ گناہ معاف کر کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ربط آیات :
ابتداء میں قسم کا مسئلہ بیان ہوا اور پھر پیغمبر (علیہ السلام) کی ازواج سے سر زد ہونے والی کوتاہی پر اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی ، اور ان کو توبہ کی تلقین کی۔ اس کے بعد تمام اہل ایمان کی نصیحت کی کہ وہ اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچانے کا انتظام کرلیں۔ اب آج کے درس میں ایک تو عام اہل ایمان کو خالص دل سے توبہ کی ہدایت کی ہے اور دوسری بات یہ کہ اللہ نے اپنے نبی کو خطاب کر کے فرمایا کہ آپ کفار کے ساتھ جہاد بالسیف کریں اور منافقوں کو زبنی سرزنش کریں۔ نیز ان کے انجام کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
خالص توبہ :
گزشتہ آیات میں حضور ﷺ کی ازواج مطہرات ؓ کو اپنی کوتاہیوں پر توبہ…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَى اللہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا 0 ۭ عَسٰى رَبُّكُمْ اَنْ يُّكَفِّرَ عَنْكُمْ سَيِّاٰتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِہَا الْاَنْہٰرُ 0 ۙ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللہُ النَّبِيَّ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ 0 ۚ نُوْرُہُمْ يَسْعٰى بَيْنَ اَيْدِيْہِمْ وَبِاَيْمَانِہِمْ يَقُوْلُوْنَ رَبَّنَآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْ لَنَا 0 ۚ اِنَّكَ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ قَدِيْرٌ 8
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : الیوم منصوب بہ لاتعتذروا النصوحا بفتح النون ویقرء بضمھا علی الاول مصدر یقال نصح نصاحۃ ونصوحاً وقیل ھواسم فاعل اے ناصحۃ والاسناد مجازی و علی الثانی ھو مصدر لاغیرمثل القعود ثم اعرابہ علی الوجھین النصب علی الوصف للتوبۃ ای توبۃ بالغۃ فی النصح ویدخلکم منصوب علیٰ انہ معطوف علیٰ یکفر منصوب بناصبہ وقریٔ بالجزم عطفا علیٰ محل عسٰی کانہ قال توبوایوجب تکفیر سیئاتکم ویدخلکم یوم منصوب بیدخلکم اوباذکر والذین آمنوا معہ معطوف علی النبی وقیل مبتداء وخبرہ قولہ نورھم علی الاول الجملۃ (نورھم الخ) حالیۃ اومستانفۃ لبیان حالھم۔ یقولون خبرثان اوحال۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ ملائکہ اس روز عذاب کریں…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا ط عَسٰی رَبُّـکُمْ اَنْ یُّـکَفِّرَ عَنْـکُمْ سَیِّاٰ تِکُمْ وَیُدْخِلَـکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ لا یَوْمَ لاَ یُخْزِیْ اللّٰہُ النَّبِیَّ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مَعَہٗ ج نُوْرُھُمْ یَسْعٰی بَیْنَ اَیْدِیْہِمْ وَبِاَیْمَانِہِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اَتْمِمْ لَنَا نُوْرَنَا وَاغْفِرْلَنَا ج اِنَّـکَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ئٍ قَدِیْرٌ۔ (التحریم : 8)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو اللہ سے توبہ کرو، خالص توبہ، امید ہے تمہارا رب تم سے تمہاری برائیاں دور کردے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمائے گا جن…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نافرمانوں کو جہنم سے بچنے کے لیے توبہ کرنے کا حکم۔
اس سے پہلے کفار کے بارے میں بتلایا گیا ہے کہ قیامت کے دن وہ اپنے جرائم پر معذرت پیش کریں گے لیکن انہیں کہا جائے گا کہ آج تم اپنے کیے کی سزا پاؤ گے۔ اب ایمان والوں کو حکم ہوا کہ اے ایمان والو ! اللہ کے حضور ” تَوْبَۃً نَّصُوْحا “ کرو۔ ہوسکتا ہے کہ تمہارے گناہ مٹا دیئے جائیں اور تمہیں ایسی جنت میں داخل کیا جائے جس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، اللہ تعالیٰ اس دن اپنے نبی اور اس کے ایماندار ساتھیوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ بلکہ ان کے ایمان کی روشنی ان کے آگے آگے اور دائیں جانب ہوگی اور وہ اپنے رب سے التجاء کریں گے کہ اے ہمارے رب !…
Read the full tafseer →خالص توبہ :
8 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا تُوْبُوْٓا اِلَی اللّٰہِ تَوْبَۃً نَّصُوْحًا (اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ کے سامنے سچی توبہ کرو) نصوحًاؔ سچی یہ معنی اخفش (رح) نے بیان فرمایا ہے۔ ایک قول یہ ہے : نصوح بمعنی خالص۔ عرب کہتے ہیں۔ عسل ناصح جبکہ وہ موم سے اس کو الگ کردیا جائے۔ ایک قول یہ ہے نصوحًا یہ نصاحۃ الثوب یعنی ایسی توبہ جو تیرے دین کے شگافوں کو رفو کر دے اور سوراخ کو بند کردے۔ یہ بھی درست ہے کہ ایسی توبہ جس میں تو لوگوں سے خیر خواہی کرے یعنی ان کو خیر کی طرف بلائے تاکہ اس کا اثر کرنے والے میں ظاہر ہو۔ اور عمل کے مقتضیات پر عمل پیرا ہونے میں عزیمت و اعلیٰ ہمت کا اظہار…
Read the full tafseer →توبۃ نصوحا کی تفسیر
7 ۔” یایھا الذین………………تعملون
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
8۔ 9 اوپر ذکر تھا کہ ہر ایمان دار آدمی نیک کام کرکے اور برے کام سے باز رہ کر اپنی جان کو اور یہی تاکید رکھ کر اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے بچائے ان آیتوں میں توبہ فرمایا تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بشریت کے تقاضے سے اگر کوئی شخص برا کام کر بیٹھے اور پھر فوراً اس پر نادم ہو کر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گناہ گار کی توبہ قبول کرتا ہے۔ صححھ 1 ؎ مسلم کی ابوہریرہ ؓ کی حدیث اوپر گزر چکی ہے جس میں آنحضرت ﷺ نے قسم کھاکر فرمایا اللہ تعالیٰ کو اپنی غقور رحیمی کی صفت ایسی پیاری ہے کہ جو لوگ زمین پر ہیں یا…
Read the full tafseer →اللہ تبارک وتعالی نے اس آیت کریمہ میں خالص توبہ کا حکم دیا ہے اور اس پر ان کی برائیاں مٹا دینے، جنتوں میں داخل کرنے اور فوز و فلاح کا وعدہ کیا ہے جب قیامت کے دن اہل ایمان اپنے نور ایمان کے ساتھ اور اس کی روشنی میں چل رہے ہوں گے اس کی خوشبو اور راحت سے متمع ہورہے ہوں گے اور اس روشنی کے بجھ جانے پر ڈریں گے جو منافقین کو دی گئی تھی اور اللہ تعالیٰ سے سوال کریں گے اور وہ ان کے نور کو پورا کرے، اللہ تعالیٰ ان کی دعا قبول فرمائے گا ان کے پاس جو نور اور یقین ہوگا اس کے ذریعے سے للہ تعالیٰ انہیں نعمتوں بھری جنتوں اور رب کریم کے جوار میں پہنچائے گا یہ سب خالص توبہ کے آثار ہیں خالص توبہ سے مراد وہ توبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
انسان پر اہل وعیال کی ذمہ داری ہے
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھنیکم نارا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچائو) حضرت علی ؓ سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ ” اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو خیر کی تعلیم دو ۔ “ حسن کا قول ہے ” تم انہیں تعلیم دو ، انہیں امربا لمعروف اور نہی عن المنکر کرو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہماری ذمہ ہماری اولاد اور اہل وعیال کو دین کی ، بھلائی کی اور ضروری آداب کی تعلیم دینا فرض ہے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے (وامر اھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا، اپنے اہل وعیال کو نماز کا حکم دو اور اس پر…
Read the full tafseer →[ 13] ایمان والوں کو توبہ اور رجوع الی اللہ کی تعلیم و تلقین۔ سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو اللہ کے حضور سچی توبہ کرو۔ ایسی سچی اور خالص توبہ جس سے گزشتہ گناہوں کے ارتکاب پر ندامت و شرمندگی بھی ہو اور آئندہ کے لیے ان کا ترک بھی اور آئندہ ایسے کام نہ کرنے کا پکا وپختہ عزم و ارادہ بھی، اور اگر کسی کا حق مارا ہوا ہو تو اس کو ادا کرنا بھی (روح، صفوہ، وغیرہ) سو جو کوئی ایسی سچی توبہ کرے گا وہ اپنے رب سے توقع رکھے کہ وہ اس سے اس کے گناہوں کے اثرات مٹا دے گا اور اس کو ایسی عظیم الشان جنتوں میں داخل فرما دے گا جن کے نیچے سے طرح طرح کی نہریں بہہ رہی ہوں گی بہر کیف توبہ اور توبہ نصوح دین حنیف کے مطالب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–12
آیات 8 تا 12۔
اسرار ومعارف۔
توبہ۔
اے ایمان والو ! اللہ کی بارگاہ میں ایسی توبہ کرو جو خلوص دل سے ہو اور عمل کی اصلاح پر محیط ہو۔ مفسرین کرام کے مطابق توبہ یہ ہے کہ جن کے حقوق غصب کیے ہوں ادا کرے یا معاف کرائے کسی کی توہین کی ہوتومعافی حاصل کرے اور قضا نمازیں روزے لوٹائے حتی المقدور جس قدر ہوسکے اور آئندہ شریعت مطہرہ پر پورا پورا عمل کرے یعنی محض زبانی بات نہ ہو عملا ہر ممکن اصلاح کرے تو اللہ کریم ہے وہ ضرور اس کی خطائیں بخش دے گا اور جنت میں داخل فرمائے گا جہاں ہمیشہ نہریں جاری ہیں۔
معیت رسول۔
اس دن جب ساری انسانیت جمع ہوگی اللہ اپنے نبی کو شرمندہ نہ ہونے دے گا اور نہ ان لوگوں کو جنہوں نے…
Read the full tafseer →ف 10 یعنی ایسی توبہ جو دل سے ہو اور اس کے بعد پھر گناہ کرنے کی نیت نہ ہو۔ علامہ نووی ریاض الصالحین میں لکھتے ہیں :” علماء کا کہنا ہے کہ ہر گناہ سے توبہ کرنا واجب ہے اگر وہ گناہ اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان ہے تو توبہ کی قبولیت کے لئے تین شرطیں ہیں۔ ایک یہ کہ آدمی گناہ سے باز آئے۔ دوسری یہ کہ اس پر پشیمان ہو اور تیسری یہ کہ پختہ ارداہ کرے کہ آئندہ کبھی اس کا ارتکاب نہ کرے گا اگر ان تین شرطوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو توبہ سجی نہ ہوگی اور اگر اس گناہ کا تعلق کسی آدمی سے ہی تو اس کی قبولیت کے لئے ان شرطوں کے علاوہ چوتھی شرط یہ بھی ہے کہ وہ اس آدمی کے دبائے ہوئے حق سے دست بردار ہو۔ اگر وہ…
Read the full tafseer →(66:8) توبوا الی اللہ : توبوا فعل امر جمع مذکر حاضر توبۃ (باب نصر) مصدر۔ اللہ کے سامنے توبہ کرو۔
توبۃ نصوحا : توبۃ مفعول مطلق موصوف نصوحا (خالص) اس کی صفت، مفسرین نے نصوحا کے مختلف معانی لکھے ہیں
(1) نصوح نصاحۃ سے مشتق ہے۔ اس کے معنی ہیں سینا۔ (کپڑے کے ٹکڑوں کو جوڑ دینا) گناہوں کی وجہ سے دین اور تقوی میں شگاف پڑجاتا ہے (یہ اس شگاف کو جوڑ دیتی ہے۔
(2) نصوح مبالغہ کا صیغہ ہے نصح (باب فتح) سے مشتق ہے۔ نصح کا معنی ہے قول و عمل سے اپنے ساتھی کی خیرخواہی ، حقیقت میں ناصح تائب کی صفت ہوتی ہے۔ توبہ کے ساتھ نصوح کا صیغہ کہنا مجازا بطور مبالغہ ہے ۔ یا
(3) نصح کا معنی خلوص ہے عسل ناصح۔ خالص شہد۔ خالص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
لغات القرآن۔
قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔
تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور…
Read the full tafseer →توبہ اور شرائط کا ذکر۔
(ف 1) ان آیتوں میں توبہ کا ذکر فرمایا، تاکہ معلوم ہوجائے کہ جن کاموں سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کا ارادہ رکھتے ہوئے بشریت کے تقاضے سے اگر کوئی شخص براکام کربیٹھے اور پھر فورا اس پر نادم ہوکر اللہ تعالیٰ سے توبہ اور استغفار کرے تو اللہ تعالیٰ ہر گناہ گار کی توبہ قبول کرتا ہے۔ مسند ابی یعلی اور طبرانی میں معتبر سند سے عبداللہ بن مسعود کی حدیث ہے جس میں نبی ﷺ نے فرمایا جنت کے آٹھ دروازے ہیں سات تو بند ہیں قیامت کے دن جب لوگ جنت میں جائیں گے اور اس وقت دروازہ کھلیں گے ہاں ایک دروازہ توبہ کے لیے کھلاہوا ہے اسی میں سے ہر ایک توبہ کرنے والے کی توبہ اللہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–11
[11] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة حدید حاشیہ 19 صفحہ 1330۔
[12] یعنی راستے میں بجھ نہ جائے بلکہ دخول جنت تک باقی رکھ۔ یہ وہ اس وقت کہیں گے جب وہ پل صراط پر سے گزر رہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →ف 1: لا یخزی اللہ ولئن وللذین امنوامعہ سے مقصودیہ ہے ۔ کہ پیغمبر کے دنیا میں فلاح وسعادت کا جو وعدہ اپنے اقلیتوں سے کررکھا تھا ۔ آج یہ دیکھیں گے ۔ کہ ان تکمیل ہورہی ہے ۔ وہی جنت ان کے اعمال کے صلے میں ان کے سامنے موجود ہے ۔ اور وہی نور اور روشنی ہے ۔ کہ دائیں بائیں رواں دواں ہے ۔
Read the full tafseer →(8) اے دعوت ایمانی کو قبول کرنے والو ! اللہ تعالیٰ کی جناب میں خالص اور سچی توبہ کرو امید ہے کہ تمہارا پروردگار تم سے تمہارے گناہ دور کردے گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ اس دن ہوگا جس دن اللہ تعالیٰ نبی کو اور مسلمانوں کو جو اس کے ساتھ ہیں رسوا نہیں کرے گا اور ان کو میدان حشر کی رسوائی سے محفوظ رکھے گا اور ان کا نور ان کے سامنے اور ان کی دائیں طرف تیز رفتار سے چلتا ہوگا اور وہ یوں دعا کرتے ہوں گے۔
اے ہمارے پروردگار ! ہمارے اس نور کو پوراکردے اور ہمارے لئے اس نور کو آخر تک قائم رکھ اور ہماری مغفرت کردے بیشک تو ہرچیز پر پوری طرح قادر ہے اور تو ہر چیز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
ف 4۔ یعنی دل میں کامل ندامت ہو معصیت پر اور عزم علی الترک ہو۔
5۔ مقصود صرف مومنین کا بیان کرنا ہے، نبی ﷺ کا ذکر ملا دینا تقویت حکم کے لئے ہے، یعنی جیسے عدم خزی نبی یقینی ہے ایسا ہی عدم خزی مومنین بھی یقینی ہے اور خزی سے مراد خزی مخصوص ہے، جو کفر کی جزا ہے۔ لقولہ تعالیٰ ان الخزی الیوم والسوء علی الکافرین، اور مومنین سے مراد مطلق مومنین ہیں۔
Read the full tafseer →ایمان والوں ! بارگاہ خداوندی میں سچے دل سے توبہ کرو ، صرف ناموں سے معاملہ نہیں چلے گا
8 ؎ کافروں کو مخاطب کرنے کے بعد مومنوں کی طرف دوبارہ مضمون کو پھیر دیا گیا ہے اور ان کو ان کے عرف کے نام سے یاد کیا گیا ہے کہ اگر تم نے زبان سے جو دعویٰ ایمان کیا ہے صرف اسی زبانی دعویٰ پر انحصار کر کے خالی نام ہی نام پر انحصار کھا تو تم بھی کان کھول کر سن لو کہ ابھی وقت ہے اور دعویٰ ایمان کے بعد سچے دل سے توبہ کرنے کا دروازہ کھلا ہے اس لے تمہارے حق میں بھی یہی بہتر ہے کہ تم سچے دل سے توبہ کرو ۔ توبۃ توبۃ توبۃ توبہ کرنا ، گناہ سے باز آنا ، توبہ کی توفیق دینا۔ توبہ قبول فرمانا یہ ناب یتوب کا مصدر ہے۔ لازم اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–9
Commentary
تُوبُوا إِلَى اللَّـهِ تَوْبَةً نَّصُوحًا (...turn to Allah with a faithful repentance...66:8). The word taubah, literally, means 'to turn' or 'to return', in the sense of turning or withdrawing from sins. In the terminology of the Qur'an and Sunnah, it signifies 'to regret committing sins in the past and to firmly resolve abstaining from them in future'. Taubah is qualified in the verse by the word نصوح nasuh. If it is taken as the infinitive of nasaha / nasihah, it signifies 'to make pure and sincere'; and if it be derived from nasahah, it signifies 'to repair clothes by sewing'.…
Read the full tafseer →19 Literally, "taubat an-nasuh-an "may either mean that one should offer such true repentance as may have no tinge of pretence and hypocrisy in it, or that one should wish one's own self well and repenting of sin should save oneself from the evil end, or that one should so adorn and improve one's life after repentance as to become a cause of admonition for others, and seeing his example others also may reform themselves accordingly. These are the meanings of taubat an-nasuh which- are indicated by its literal sense. As for its religious meaning, its explanation is found in the Hadith which…
Read the full tafseer →