Explained with ayahs 6–8
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ارشاد ربانی ہے کہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ کے فرمان بجا لاؤ اس کی نافرمانیاں مت کرو اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے، مجاہد فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو، قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔ ضحاک و مقاتل فرماتے ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة التَّحْرِيْم 16
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حد استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں، اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوشحال ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (جب رسول کی بیبیوں کو بھی عمل صالح اور اطاعت سے چارہ نہیں جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اور رسول اللہ ﷺ بھی اس پر مامور ہیں کہ اپنی ازواج کو نصیحت کرکے عمل صالح پر آمادہ کریں تو باقی سب امت پر بھی یہ فریضہ اور زیادہ موکد ہوگیا کہ اپنے اہل و عیال کی اصلاح اعمال و اخلاق میں غفلت نہ برتیں اسلئے حکم دیا گیا کہ) تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ جسکا ایندھن (سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں (اپنے کو بچانا خود اطاعت احکام کرنا اور گھر والوں کو بچانا ان کو احکام الہیہ کا سکھانا اور ان پر عمل کرانے کے لئے زبان سے ہاتھ سے بقدر امکان کوشش کرنا ہے۔ آگے اس آگ کی دوسری…
Read the full tafseer →(یایھا الذین کفروا الا تعتذروا الیوم انما تجزون ما کنتم تعملون) (7)۔
یعنی اسی دن کسی کے لیے کسی عذر ومعذرت کی کوئی گنجائش نہ ہوگی۔ جو لوگ کوئی عذر پیش کرنا چاہیں گے ان کو جواب ملے گا کہ آج کوئی عذر پیش نہ کرو۔ تمہارے سامنے جو کچھ آ رہا ہے تمہاری اپنی ہی بوئی ہوئی فصل کا حاصل ہے۔ دنیا میں تم نے جو کمائی کی ہے اب اس کے نتائج بھگتو۔ یہ کسی غیر کے کیے ہوئے جرائم نہیں ہیں جو تمہارے کھاتے میں ڈال دیے گئے ہوں بلکہ تمہارے ہی جرائم کی مکافات تمہارے سامنے آرہی ہے تو اس پر تمہارا واویلا اب بےسود ہے۔ اس سے بچنے کے لیے تم جو کچھ کرسکتے تھے دنیا میں کرسکتے تھے اب اس کا وقت گزر گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 ۔ 1 اس میں اہل ایمان کو ان کی ایک نہایت اہم ذمے داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال عمر کے بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو سنن ابی داؤد۔ فقہا نے کہا ہے اسی طرح روزے ان سے رکھوائے جائیں اور دیگر احکام کے اتباع کی تلقین انہیں کی جائے تاکہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو اس دین حق کا شعور بھی انہیں حاصل ہوچکا ہو۔ ابن کثیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7: پتھر سے مراد پتھر کے وہ بت ہیں جنہیں بت پرست لوگ پوجا کرتے تھے۔ ان کو دوزخ میں عبرت کے طور پر ڈالا جائے گا، تاکہ بت پرست ان پتھروں کا انجام دیکھیں جن کو انہوں نے خدا بنایا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →دیکھو وہاں اہل کفر جب اس کے دہانے پر پہنچیں گے ، تو وہ عذرات پیش کریں گے ، اور کوئی عذر نہ سنا جائے گا ، بلکہ ان کو وہاں سخت مایوسی ہوگی ، جب سب عذرات رد کردیئے جائیں گے۔
یایھا ........................ تعملون (66 : 7) ” اے کافرو ! آج معذرتیں پیش نہ کرو ، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے “۔ آج عذرات پیش نہ کرو ، کیونکہ آج عذرات کا دن نہیں ہے۔ آج ہر کسی کو اپنے کیے کا پھل مل رہا ہے۔ اور تمہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ آج تمہیں کس چیز کا پھل مل رہا ہے ؟
Read the full tafseer →8 یعنی قیامت کے دن جب جہنم کا عذاب سامنے ہوگا، اس وقت منکروں سے کہا جائے گا کہ حیلے بہانے مت بتلاؤ۔ آج کوئی بہانہ چلنے والا نہیں بلکہ جو کچھ کرتے تھے اس کی پوری پوری سزا بھگتنے کا دن ہے۔ ہماری طرف سے کوئی ظلم زیادتی نہیں۔ تمہارے ہی اعمال ہیں جو عذاب کی صورت میں نظر آرہے ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 7{ یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ } ”اُس دن کہہ دیا جائے گا : اے کافرو ! آج تم عذر مت پیش کرو۔“
آج تم معذرتیں نہ تراشو ‘ بہانے مت بنائو !
{ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ۔ } ”آج تمہیں بدلے میں وہی کچھ دیا جا رہا ہے جو تم عمل کرکے لائے ہو۔“
Read the full tafseer →15 یعنی آج نہ تمہاری بہانہ سازی کام آئے گی اور نہ کسی قسم کی معذرت قبول کی جائے گی۔ اس لئے کہ اللہ تو تمہارے دلوں کے خیالات تک سے واقف ہے۔ لہذا آج تمہارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ جو کچھ تم کرتے رہے آج اس کی سزا بھگتو۔
Read the full tafseer →12۔ (دارالعمل یعنی دنیا میں) (آیت) ” لاتعتذروا “۔ اب عذر ومعذرت نہ کرو، دارالجزاء میں یہ سب بیکار ہے۔ یہ اس وقت کہا جائے گا، جب منکرین دوزخ میں ڈالے جارہے ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا اس آیت میں اہل ایمان کو ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام، تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو۔ (سنن ابی دائود و سنن ترمذی)
Read the full tafseer →یایھا الذین ... تعملون .
”(اور دوزخ میں ڈالتے وقت کافروں سے کہا جائیگا) اے کافرو ! آج معذرت نہ کرو ‘ بس تم کو اسی کی سزا مل رہی ہے جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے “
لَا تَعْتَذِرُوْا : یہ عذر پیش کرنے کی ممانت کی علّت ہے جس وقت کافر دوزخ میں داخل ہوں گے اس وقت ان سے یہ بات کہی جائے گی۔ کافر کہیں گے : وَ اللہ ِ رَبِّنَا مَا کُنَّا مُشْرِکِیْنَ ۔ پھر بطور معذرت کہیں گے : رَبَّنَآ اَبْصَرْنَا وَ سَمِعْنَا فَارْجِعْنَا نَعْلَ صَالِحًا لیکن اس درخواست سے ان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا۔
Read the full tafseer →اے کافرو آج عذر مت کرو تمہارا عذر قبول نہیں کیا جائے گا تمہیں اسی کی سزا مل رہی ہے جو تم دنیا میں کیا کرتے اور کہا کرتے تھے۔
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُو الْیَوْمَ۔۔۔: یعنی جب وہ سخت دل اور سخت قوت والے فرشتے جہنمیوں کو جہنم میں ڈالیں گے تو وہ مختلف عذر کریں گے اور بہانے بنائیں گے ، اللہ تعالیٰ نے ان کے مختلف بہانے قرآن مجید میں ذکر فرمائے ہیں۔ (دیکھئے اعراف : 38۔ انعام : 23، 24، 27) مگر انہیں کہا جائے گا کہ آج کوئی عذر بہانہ نہ کرو ، کیونکہ تمہیں اس سے کچھ فائدہ نہیں ہوگا ، تمہیں انہی اعمال کی جزا دی جا رہی ہے جو تم کرتے رہے ہو۔ مزید دیکھو سورة ٔ روم (57) اور سورة ٔ مومن (52)۔
Read the full tafseer →یایھا الذین کفروا لاتعتذر وا الیوم تمہاری معذرت کوئی نفع نہیں دیتی۔ یہ نہی مایوسی کو ثابت کرنے کیلئے ہے۔ انما تجزون ما کنتم تعملون۔ تم دنیا میں جو کچھ عمل کرتے رہے ہو اس کا تمہیں بدلہ دیا جائے گا، اس کی مثل فیومئذ لا ینفع الذین ظلموا معذرتھم ولا ھم یستعتبون۔ (الروم)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4۔ عبدالرزاق والفریابی سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے المدخل میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا۔ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔ سے مراد ہے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو خیر اور نیکی کی تعلیم دو اور ان کو ادب بھی سکھاؤ۔
5۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ تم اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو اور اپنے گھروالوں کو ذکر کا حکم کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو آگ سے نجات دے گا۔
6۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ كَفَرُوْا : اے لوگوں جنھوں نے انکار کیا ] [لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ : تم لوگ بہانے مت گھڑو آج کے دن ] [انمَا تُجْزَوْنَ مَا : تم کو تو بس بدلہ دیا جاتا ہے وہی جو ] [كُنْتم تَعْمَلُوْنَ : تم لوگ کیا کرتے تھے ]
نوٹ۔ 1: آیت۔ 7 ۔ بتارہی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حدِّ استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان نہیں اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو، ان کو…
Read the full tafseer →دوسری آیت میں اس خطاب کا تذکرہ فرمایا جو کافروں کے ساتھ قیامت کے دن ہوگا۔ کافر عذاب سے چھوٹنے کے لیے عذر پیش کریں گے ان سے کہا جائے گا اے کافرو ! آج تم عذر پیش نہ کرو، دنیا میں پہلے ہی سب کچھ بتادیا تھا تم نے اللہ کو نہیں مانا اس کی باتوں کو جھٹلایا قیامت کے دن کا انکار کردیا جو کچھ تم نے دنیا میں کیا آج یہاں پر اسی کا بدلہ دیا جاتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خطاب خاص برائے ازواج مطہرات :
(آیت) ” ان تتوبا الی اللہ “۔ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا کہ میں ایک عرصہ دراز تک اس فکر میں رہا اور یہ چاہتا تھا کہ عمر فاروق ؓ سے یہ معلوم کروں کہ یہ دونوں کون ہیں آنحضرت ﷺ کی ازواج میں سے جن کو یہ خطاب فرمایا گیا کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب عمر فاروق ؓ حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ (اور ہمت نہ ہوتی تھی کہ دریافت کروں) ایک دن جب وہ کسی منزل پر ٹھیرے ہوئے تھے اور ایک جانب کسی ضرورت کو گئے اور جب واپس فارغ…
Read the full tafseer →9:۔ ” یا ایہا الذین کفرو “ تخویف اخروی۔ قیامت کے دن کفار و مشرکین جہنم کے عذاب سے بچنے کے لیے حیلے بہانے کریں گے اور قبول حق سے اپنی کئی معذوریاں بیان کریں گے، تو جواب ملے گا آج کوئی عذر مت پیش کرو، آج کوئی عذرت معذرت قبول نہ ہوگی۔ آج تمہیں صرف انہی عملوں کی سزا دی جائیگی جو تم کیا کرتے تھے اور کسی بھی صورت سے تم اس سزا سے بچ نہیں سکتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی بیویوں کو پیغمبر (علیہ السلام) کا ادب سکھایا کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اللہ کے نبی کا دل پریشان ہوجائے۔ حضور ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کی تھی۔ مگر وہ اس راز کو قائم نہ رکھ سکیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آیات نازل فرما کر آپ کی بیویوں کو سخت تنبیہ فرمائی ، اور متعلقہ بیوی کو معافی مانگتے اور توبہ کرنے کی تلقین کی۔ پھر اللہ نے اپنی قدرت تامہ کا ذکر کیا کہ ازواج مطہرات ؓ کو مغرور نہیں ہونا چاہیے اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ دنیا میں بہترین عورتیں ہیں۔ بلکہ فرمایا کہ اگر اللہ کا نبی ان بیویوں کو طلاق دے دے تو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ 0 ۭ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ 7 ۧ
كفر
الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض،
وأعظم الكُفْرِ
: جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99]
( کر ) الکفر
اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کا شتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–9
ترکیب : الیوم منصوب بہ لاتعتذروا النصوحا بفتح النون ویقرء بضمھا علی الاول مصدر یقال نصح نصاحۃ ونصوحاً وقیل ھواسم فاعل اے ناصحۃ والاسناد مجازی و علی الثانی ھو مصدر لاغیرمثل القعود ثم اعرابہ علی الوجھین النصب علی الوصف للتوبۃ ای توبۃ بالغۃ فی النصح ویدخلکم منصوب علیٰ انہ معطوف علیٰ یکفر منصوب بناصبہ وقریٔ بالجزم عطفا علیٰ محل عسٰی کانہ قال توبوایوجب تکفیر سیئاتکم ویدخلکم یوم منصوب بیدخلکم اوباذکر والذین آمنوا معہ معطوف علی النبی وقیل مبتداء وخبرہ قولہ نورھم علی الاول الجملۃ (نورھم الخ) حالیۃ اومستانفۃ لبیان حالھم۔ یقولون خبرثان اوحال۔
تفسیر : یہ تتمہ ہے کلام سابق کا کہ ملائکہ اس روز عذاب کریں…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ ط اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَا کُنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (التحریم : 7)
(اے وہ لوگو جنھوں نے کفر کیا ہے آج عذر پیش نہ کرو، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ )
احتساب کے احساس کی تکمیل
اوپر کی آیت میں مسلمانوں کو یہ تنبیہ کی گئی ہے کہ تم پر ذمہ داری صرف اپنی نہیں بلکہ تمہارے اہل خانہ اور تمام ان لوگوں کی ہے جو تمہارے زیراثر یا تمہاری نگرانی میں ہیں۔ اس لیے تمہیں جواب دہی صرف اپنی طرف سے نہیں بلکہ ان کی طرف سے بھی کرنی ہوگی کہ تم نے ان کی اصلاح کی خاطر اور ان کے اندر دینی شعور پیدا کرنے کے لیے کیا کیا۔ اب پیش نظر آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کو انتباہ کرنے کے بعد تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی سے بچیں اور اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی ہولناکیوں سے بچائیں۔
خاندان اور قوم کی اصلاح کا بنیادی اور بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کرتا رہے یہ کام بڑا اہم ہے جس کے لیے انتباہ کے انداز میں فرمایا کہ اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ جہنم پر ایسے ملائکہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے جو بڑے تند مزاج اور سخت ہیں، وہ اللہ کے حکم کی ایک لمحہ بھی نافرمانی نہیں…
Read the full tafseer →کفار کو معذرت غیر مفید :
7 : یٰٓـاَیـُّھَا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَاتَعْتَذِرُوا الْیَوْمَ اِنَّمَا تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (اے کافرو ! آج معذرت نہ کرو۔ بس تم کو اسی کی سزا مل رہی ہے۔ جو تم (دنیا میں) کیا کرتے تھے) ان کو آگ میں داخل ہوتے وقت یہ بات کہی جائے گی۔ تعملونؔ سے دنیا میں کیے جانے والے اعمال۔ لاتعتذروا : آج معذرت نہ کرو کیونکہ تمہارا کوئی عذر ہے ہی نہیں۔ نمبر 2۔ اس لئے عذر نہ کرو کیونکہ معذرت کرنا تمہارے حق میں آج مفید نہ ہوگا۔
Read the full tafseer →6 ۔” یایھا الذین امنوا قوا انفسکم “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے۔ یعنی ان چیزوں سے رکنے کے ساتھ جن سے تمہیں اللہ تعالیٰ نے روکا ہے اور اس کی طاعت کے ساتھ عمل کرنے کے ساتھ ” واھلیکم نارا “ یعنی ان کو خیر کا حکم دو اور شر سے روکو اور ان کی تعلیم دو اور ان کو ادب سکھائو ان کو اس کے ذریعے آگ سے بچائو۔ ” وقودھا الناس والحجارۃ علیھا ملائکۃ “ یعنی جہنم کے داروغے ” غلاظ “ اہل نار پر سخت ہیں۔ ” شداد “ قوی ان میں سے ایک ایک دھکے سے ستر ہزار لوگوں کو جہنم میں داخل کردے گا اور وہ زبانیہ ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں رحمت کو پیدا نہیں کیا۔ ” لایعصون اللہ ما امرھم ویفعلون مایومرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 7۔ ہر ایمان دار آدمی اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے یوں بچا سکتا ہے کہ جن باتوں کے بجا لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ان کے بجا لانے کی اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہے ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ ایسے فرائض ہیں جن کے ادا کرنے کا وقت سال میں یا عمر میں ایک دفعہ آتا ہے نماز ایک ایسا فرض ہے کہ دن رات میں پانچ وقت ہے اس لئے گھر والوں کو اس کی خاص تاکید رکھنے کا حکم سورة طہ کی آیت وامر ھلک بالصلوۃ میں گزر چکا ہے یہ تو نماز کا دنیا میں اہتمام ہوا کہ قرآن اور حدیث میں جگہ جگہ اس کا ذکر ہے عقبیٰ میں بھی باقی…
Read the full tafseer →یعنی قیامت کے روز الفاظ میں جہنمیوں کو زجر توبیخ کی جائے گی پس ان سے کہا جائے گا (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَعْتَذِرُوا الْيَوْمَ ۭ ) اے کافرو۔ آج عذر مت پیش کرو۔ یعنی عذر پیش کرنے کا وقت چلا گیا اور اس کا فائدہ ختم ہوگیا اور اب تو اعمال کی جزا وسزا کے سوا کچھ باقی نہیں رہا اور تم نے اللہ کے انکار، اس کی آیات کی تکذیب اور اس کے رسولوں اور اولیا کے ساتھ جنگ کے سوا کچھ آگے نہیں بھیجا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
انسان پر اہل وعیال کی ذمہ داری ہے
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھنیکم نارا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچائو) حضرت علی ؓ سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ ” اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو خیر کی تعلیم دو ۔ “ حسن کا قول ہے ” تم انہیں تعلیم دو ، انہیں امربا لمعروف اور نہی عن المنکر کرو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہماری ذمہ ہماری اولاد اور اہل وعیال کو دین کی ، بھلائی کی اور ضروری آداب کی تعلیم دینا فرض ہے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے (وامر اھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا، اپنے اہل وعیال کو نماز کا حکم دو اور اس پر…
Read the full tafseer →[ 12] قیامت کے روز منکروں کی تذلیل وتفضیح کا ایک منظر۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ اس روز ان سے کہا جائے گا کہ کافرو اب حیلے بہانے مت کرو کہ اب حیلوں بہانوں کی کوئی گنجائش نہیں اور فیصلے اور جزا کے اس وقت میں ایسے حیلے بہانے کچھ کام نہیں آسکتے اور آخرت کی کمائی کے لیے ملنے والی دنیا زندگی کی فرصت بہرحال تم نے گنوا دی جس کے تدارک کی اب کوئی صورت ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم، سو اس دن کسی کے لیے کسی عذر و معذرت کی کوئی گنجائش نہ ہوگی، ہر کسی کو اپنے کیے کرائے کا بھگتان ہوگا بہر حال بھگتنا ہوگا اور جس نے اپنی دنیاوی زندگی میں جو فصل بیجی تھی اسی کو وہ اس دن کاٹے گا سو ان سے کہا جائے گا کہ اب تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7
اسرار ومعارف۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…
Read the full tafseer →ف 9 یہ خطاب کافروں سے قیامت کے روز اس وقت ہوگا جب دوزخ سامنے لائی جائے گی۔
Read the full tafseer →(66:7) لاتعتذروا : فعل نہی جمع مذکر حاضر۔۔ اعتزار (افتعال) مصدر ۔ تم بہانے مت بناؤ۔ تم عذمت مت کرو۔ تم معذرت مت کرو۔ عذر کے معنی ہیں انسان کا کسی ایسی بات کو تلاش کرنا جو اس کے گناہوں کو مٹا دے۔
الیوم : اسم ظرف زمان۔ آج کے دن۔ یعنی قیامت کے دن۔ یہ کفار سے اس وقت کہا جائے گا جب ان کو جہنم میں ڈالا جائے گا۔ یقال لہم ھذا اعند دخولہم النار۔
تجزون : مضارع مجہول جمع مذکر حاضر جزاء (باب ضرب) مصدر۔ تم بدلہ دیئے جاؤ گے۔ تم جزاء دئیے جاؤ گے۔
ما کنتم تعملون : ما موصولہ کنتم تعملون ۔ ماضی استمراری۔ جو تم کیا کرتے تھے (دنیا میں)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
لغات القرآن۔
قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔
تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اہل و عیال کی دینی تربیت۔
(ف 2) ہر مسلمان آدمی اپنی جان کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے یوں بچاسکتا ہے کہ جن باتوں کے بجالانے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے ان کے بجالانے کی اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور اپنے گھروالوں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہے سمجھاکرڈرا کر پیار سے مار سے جس طرح ہوسکے دیندار بنانے کی کوشش کرے روزہ وحج زکوۃ ایسے فرائض ہیں جن کے ادا کرنے کا وقت سال میں یا عمر میں ایک دفعہ آتا ہے۔ نماز ایک ایسافرض ہے کہ دن رات میں پانچ وقت ہے اس لیے گھروالوں کو اس کی خاص تاکید رکھنے کا حکم سورة طہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[10] یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فقط اپنے آپ کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے بلکہ اس کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر لائے اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
رفیق اور مدد گار
حضرت حصفہ اور حضرت عائشہ کا یہ طرز عمل چونکہ حضور ﷺ کے لئے تکلیف دہ تھا ۔ اس لئے یہ عتاب نازل ہوا ۔ اور ان کو بنادیا گیا ۔ کہ ہر فعل جس سے پیغمبر آزرہ خاطر ہو ۔ وہ خدا کی نظروں میں بہت بڑا جرم ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آئندہ کے لئے ازواج مطہرات محتاط ہوجائیں ۔ اور ہر وقت آپ کی طبع نازک کا خیال رکھیں غرض یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو دین کی اہمیت سے اس درجہ آگاہ رکھنا ضروری ہے کہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں ۔ اور اس سلسلہ میں تعلیم وتربیت سے لے کر تادیب وسرزنش تک سب باتیں روا ہیں ۔
حل لغات :۔ سحیت ۔ روز رکھنے والیاں ثلیت ۔ بیوہ والحجارۃ ۔ یعنی وہ پتھر جن کو جہلہ پوجتے ہیں ابکارا ۔…
Read the full tafseer →(7) کہا جائے گا اے کفرو انکار کا شیوہ اختیار کرنے والو ! آج تم کوئی عذر پیش نہ کرو تم کو صرف انہی اعمال کی سزا دی جائے گی اور انہی اعمال کا بدلا دیا جائے گا جو تم کیا کرتے تھے۔ یعنی جب کوئی عذر پیش کرنا بےکار ہو اور عذر کی گنجائش نہ ہو تو عذر کی اجازت دینے کی ضرورت نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 2۔ اپنے کو بچانا خود اطاعت کرنا اور گھر والوں کو بچانا ان کو احکام الہیہ سکھلانا اور ان پر عمل کرانے کے لئے زبان سے، ہاتھ سے بقدر امکان کوشش کرنا۔
3۔ یہاں عصیان سے مراد عصیان بالقلب ہے جو مقابل اطاعت کا ہے کہ وہ بھی بالقلب ہے یعنی نہ دل میں خیال نافرمانی کا ہوتا ہے، نہ فعلا خلاف کرتے ہیں، یا یوں کہا جاوے کہ بایں معنی نافرمانی بھی نہیں کرتے کہ کہے ہوئے کے خلاف کریں اور سستی اور دیر بھی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →اے کافرو ! آج کے دن تو بہانے مت بنائو تم کو وہی بدلے ملے گا جو تم کرتے رہے
7 ؎ اوپر خود بیان تھا وہ مسلمانوں کو مخاطب کر کے دیا گیا تھا اور زیر نظر کا فرمان کافروں کو مخاطب کر کے سنایا جا رہا ہے کہ تم سارے کے سارے ہی بڑے لوگ ہو جن کا سکہ دنیاوی زندگی میں چلتا تھا اور تم سب کے سب اپنے اپنے علاقہ کے بادشاہ سلامت تھے۔ تمہاری مکاریوں اور عیاریوں کا حال اب کھلا ہے اور اس لیے نہیں کہ تم کو معذرتوں اور عذرداریوں کی درخواستیں دینے کا موقع دیا جائے گا نہیں اور ہرگز نہیں ۔ وہ وقت ابھی اس دنیا کے فنا ہونے کے بعد آئے گا اور پھر آگے گا جب آئے گا اور بلا شبہ وہ کسی کے ٹالے ٹل بھی نہیں جائے گا لیکن ہم تو تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
Commentary
قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ (0 those who believe, save yourselves and your families from a fire...66:6). This verse addresses the general body of Muslims and enjoins upon them to safeguard themselves and their families from a fire of Hell whose fuel is people and stones. Then the verse goes on to describe the intensity and horror of the Hell-Fire. Towards the end of it the angels in charge of it, whose name is Zabaniah, are described. They are harsh and terrible from whom no inmate of Hell will be able to rescue himself by force, power, strength, flattery or bribery.
The word…
Read the full tafseer →18 The style of both these verses contains a severe warning for the Muslims. In the first verse the Muslims have been addressed and told that they should save themselves and their households from the dreadful punishment; in the second that this will be said to the disbelievers while subjecting them to punishment in Hell. This by itself gives the meaning that the Muslims in the world should avoid adopting that conduct and behaviour in consequence of which they may have to meet with the fate as the disbelievers in the Hereafter:
Read the full tafseer →