Explained with ayahs 6–8
ہمارا گھرانہ ہماری ذمہ داریاں
حضرت علی ؓ فرماتے ہیں ارشاد ربانی ہے کہ اپنے گھرانے کے لوگوں کو علم و ادب سکھاؤ، حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اللہ کے فرمان بجا لاؤ اس کی نافرمانیاں مت کرو اپنے گھرانے کے لوگوں کو ذکر اللہ کی تاکید کرو تاکہ اللہ تمہیں جہنم سے بچا لے، مجاہد فرماتے ہیں اللہ سے ڈرو اور اپنے گھر والوں کو بھی یہی تلقین کرو، قتادہ فرماتے ہیں اللہ کی اطاعت کا انہیں حکم دو اور نافرمانیوں سے روکتے رہو ان پر اللہ کے حکم قائم رکھو اور انہیں احکام اللہ بجا لانے کی تاکید کرتے رہو نیک کاموں میں ان کی مدد کرو اور برے کاموں پر انہیں ڈانٹو ڈپٹو۔ ضحاک و مقاتل فرماتے ہیں ہر مسلمان پر فرض ہے کہ اپنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
سورة التَّحْرِيْم 16
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حد استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں، اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوشحال ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔ بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
خلاصہ تفسیر
اے ایمان والو (جب رسول کی بیبیوں کو بھی عمل صالح اور اطاعت سے چارہ نہیں جیسا کہ اوپر معلوم ہوا اور رسول اللہ ﷺ بھی اس پر مامور ہیں کہ اپنی ازواج کو نصیحت کرکے عمل صالح پر آمادہ کریں تو باقی سب امت پر بھی یہ فریضہ اور زیادہ موکد ہوگیا کہ اپنے اہل و عیال کی اصلاح اعمال و اخلاق میں غفلت نہ برتیں اسلئے حکم دیا گیا کہ) تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو (دوزخ کی) اس آگ سے بچاؤ جسکا ایندھن (سوختہ) آدمی اور پتھر ہیں (اپنے کو بچانا خود اطاعت احکام کرنا اور گھر والوں کو بچانا ان کو احکام الہیہ کا سکھانا اور ان پر عمل کرانے کے لئے زبان سے ہاتھ سے بقدر امکان کوشش کرنا ہے۔ آگے اس آگ کی دوسری…
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا وقودھا الناس والحجارۃ علیھا ملیکۃ غللاظ شداد لا یعصون اللہ ما امرھم ویفعلون ما یومرون) (6)۔
احتساب کے عام فسادی)۔ پیغمبر ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات ؓ کے احتساب کے بعد یہ عام مسلمانوں کو جھنجھوڑا ہے کہ تم بھی اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی اس آگ سے بچانے کی کوشش کرو جس کے ایندھن لوگ اور پتھر بنیں گے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تم نے دیکھ لیا کہ پیغمبر ﷺ اور ان کی ازواج ؓ بھی اللہ تعالیٰ کے احتساب سے بالا تر نہیں ہیں تو دوسروں کا کیا ذکر ! ہر ایک کا فرض ہے کہ وہ اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو دوزخ کی آگ سے بچانے کے لیے جو کچھ کرسکتا ہے وہ اٹھانہ رکھے۔ جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6 ۔ 1 اس میں اہل ایمان کو ان کی ایک نہایت اہم ذمے داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں اس لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال عمر کے بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو سنن ابی داؤد۔ فقہا نے کہا ہے اسی طرح روزے ان سے رکھوائے جائیں اور دیگر احکام کے اتباع کی تلقین انہیں کی جائے تاکہ جب وہ شعور کی عمر کو پہنچیں تو اس دین حق کا شعور بھی انہیں حاصل ہوچکا ہو۔ ابن کثیر۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
7: پتھر سے مراد پتھر کے وہ بت ہیں جنہیں بت پرست لوگ پوجا کرتے تھے۔ ان کو دوزخ میں عبرت کے طور پر ڈالا جائے گا، تاکہ بت پرست ان پتھروں کا انجام دیکھیں جن کو انہوں نے خدا بنایا ہوا تھا۔
Read the full tafseer →اس واقعہ کی روشنی میں ، جس کے سبب مسلمانوں کی زندگی پر گہری اثرات مرتب ہوگئے تھے ، اب قرآن کریم مسلمانوں کو یہ ہدایت دیتا ہے کہ اپنے آپ کو اور اپنے اہل اولاد کو اور اپنے گھر والوں کو آگ سے بچاﺅ۔ چناچہ قیامت کا ایک نہایت ہی موثر منظر بھی ان کے سامنے پیش کیا جاتا کہ وہاں کفار کی حالت کیا ہوگی۔ جس طرح اس واقعہ میں زواج کو دعوت دی تھی کہ توبہ کرو اسی طرح یہاں اہل ایمان کی دعوت دی جاتی ہے کہ توبہ کرو اور توبہ کرنے والوں کے لئے اللہ نے جو باغات تیار کر رکھے ہیں وہ بھی بتادیئے جاتے ہیں۔ اور جھلک دکھادی جاتی ہے۔ اور نبی ﷺ سے کہا جاتا ہے کہ کفار اور منافقین سے جہاد کرو۔ یہ ہے اس سورت کا دوسرا پیراگراف…
Read the full tafseer →5 ہر مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر لائے سمجھا کر، ڈرا کر، پیار سے، مار سے جس طرح ہو سکے دیندار بنانے کی کوشش کرے۔ اس پر بھی اگر وہ راہ راست پر نہ آئیں تو ان کی کم بختی، یہ بےقصور ہے۔ (يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ) 66 ۔ التحریم :6) کی تفسیر پارہ " الم " کے شروع میں گزر چکی۔
6 یعنی مجرموں کو نہ رحم کھا کر چھوڑیں نہ ان کی زبردست گرفت سے کوئی چھوٹ کر بھاگ سکے۔
7 یعنی نہ حکم الٰہی کی خلاف ورزی کرتے ہیں نہ اس کے احکام بجا لانے میں سستی اور دیر ہوتی ہے نہ امتثال حکم سے عاجز ہیں۔
Read the full tafseer →آیت 6{ یٰٓــاَیـُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْآ اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا } ”اے اہل ایمان ! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے“
اس سے پہلے سورة التغابن میں اہل ایمان کو ان کے اہل و عیال کے بارے میں اس طرح متنبہ کیا گیا ہے : { یٰٓــاَیـُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِکُمْ وَاَوْلَادِکُمْ عَدُوًّا لَّــکُمْ فَاحْذَرُوْہُمْج } آیت 14 ”اے ایمان کے دعوے دارو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں تمہارے دشمن ہیں ‘ پس ان سے بچ کر رہو“۔ سورة التغابن کے اس حکم کے تحت اہل ایمان کو منفی انداز میں متنبہ کیا گیا ہے ‘ جبکہ آیت زیر مطالعہ میں انہیں ان کے اہل و عیال کے…
Read the full tafseer →12 یعنی مسلمانوں کو محض اپنی ذات کی اصلاح پر ہی اکتفا نہ کرلینا چاہیے بلکہ اہل و عیال پر بھی اتنی ہی توجہ دینا چاہیے اور اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر چلانا چاہیے اور اس کے لیے ہر ممکن حربہ استعمال کرنا چاہئے۔ ڈرا کر سمجھا کر، پیار سے، دھمکی سے، مار سے جس طرح بھی بن پڑے۔ انہیں اس راہ پر لانے کی کوشش کرے۔ اس کی بہترین تفسیر وہ حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا کہ تم میں سے ہر شخص راعی (نگہبان) ہے اور اس سے اس کی رعیت کے متعلق باز پرس ہوگی (کہ اس نے ان کی اصلاح کیوں نہ کی تھی) امام بھی راعی ہے، اسے اپنی رعیت کے متعلق پوچھا جائے گا۔ مرد اپنے گھر والوں کا راعی ہے، اسے اپنی رعیت سے متعلق…
Read the full tafseer →10۔ احکام الہی کی تعمیل خود کرنا، اور گھروالوں میں بقدر امکان ان احکام کو تبلیغ کرنا اور ان کی تعمیل، یہی دوزخ سے اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو بچانا ہے۔ (آیت) ” اھلیکم “۔ اھل۔ کے تحت میں انسان کے سارے ہی متعلقین، متوسلین آگئے، بیوی، بچے، ملازم، رعایا، شاگرد، مرید وغیرہ۔ ان سب تک بقدر وسعت وامکان احکام الہی پہنچانا واجب ہے۔ یدن علی ان علینا تعلیم اولادنا واھلینا الدین والخیر وما لایستغنی عنہ من الاداب ویدل علی ان الاقرب فالاقرب منا مزیدۃ فی لزومنا تعلیمھم وامرھم بطاعۃ اللہ (جصاص) اہل فہم یہاں خوب سمجھ لیں کہ احکام کے اتباع و اطاعت سے جب پیغمبر معصوم تک کے گھر والوں کو مفر نہیں، تو پھر کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھلیکم نارا اس آیت میں اہل ایمان کو ایک نہایت ہی اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی گئی ہے، اور وہ ہے اپنے ساتھ اپنے گھر والوں کی بھی اصلاح اور ان کی اسلامی تعلیم و تربیت کا اہتمام، تاکہ یہ سب جہنم کا ایندھن بننے سے بچ جائیں، اس لئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ جب بچہ سات سال کی عمر کو پہنچ جائے تو اسے نماز کی تلقین کرو اور دس سال کی عمر میں بچوں میں نماز سے تساہل دیکھو تو انہیں سرزنش کرو۔ (سنن ابی دائود و سنن ترمذی)
Read the full tafseer →یایھا الذین امنوا .... ما یومرون .
” اے ایمان والو ! تم اپنے کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں جس پر تند خو اور قوی فرشتے متعین ہیں جو خدا کی ذرا نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو ان کو حکم دیا جاتا ہے۔ “
قُوْا اَنْفُسَکُمْ : اپنی جانوں کو بچاؤ یعنی فرائض ادا کرو اور گناہوں کو چھوڑ دو ۔
وَاَھْلِیْکُمْ : اور اپنے اہل و عیال کو بھی بچاؤ یعنی ان کو (اسلامی) تعلیم دو اور (اسلامی) آداب سکھاؤ ‘ اچھے کام کرنے کا حکم دو اور جن کاموں کی ممانعت کردی گئی ہے ‘ ان سب سے روکو۔
وَقُوْدُھَا : یعنی اس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں ‘ جس طرح معمولی آگ لکڑی سے بھڑکتی ہے…
Read the full tafseer →اے ایمان والو تم اپنے آپ کو اور اپنی قوم اور اپنے گھر والوں کو اس دوزخ کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن آدمی اور کبریت کے پتھر ہیں۔ یعنی ان کو نیکیوں کی تعلیم کرو جس سے وہ دوزخ سے بچ سکیں اس دوزخ پر مضبوط فرشتے متعین ہیں وہ اہل دوزخ کو عذاب دینے میں حکم خداوندی کی نافرمانی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَیَّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَہْلِیْکُمْ نَارًا : پچھلی آیات میں امہات المومنین کی تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا بیان تھا ، اب تمام ایمان والوں کو اس کا حکم دیا جا رہا ہے۔”نارا ‘ میں تنوین تعظیم کے لیے ہے ، یعنی اس عظیم آگ سے بچ جاؤ۔”قوا“ (بچاؤ) ”و قی یقی وقیا و و قایۃ“ (ض) سے امر حاضر جمع مذکر ہے۔ اس میں ایمان والوں کو ایک نہایت اہم ذمہ داری کی طرف توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنے آپ کو جہنم کی آگ سے بچائیں اور اس کے ساتھ اپنے گھر والوں کی تعلیم و تربیت اور ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کا اہتمام کر کے انہیں بھی جہنم کی آگ سے بچائیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا…
Read the full tafseer →انسان کا اپنی ذات اور اپنے اہل کو آگ سے بچانا
اس میں ایک ہی مسئلہ ہے۔ وہ انسان کا اپنی ذات اور اپنے اہل کو آگ سے بچانا۔ ضحاک نے کہا : اس کا معنی ہے اپنے نفسوں کو بچائو جبکہ تمہارے اہل اپنے نفسو کو آگ سے بچائیں (3) ۔ علی بن ابی طلحہ نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت نقل کی ہے، اپنے نفسوں کو بچائو اور اپنے گھر والوں کو ذکر اور دعا کا حکم دو یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعے انہیں بچائے۔ حضرت علی شیر خدا ؓ نے کہا اور مجاہد اور قتادہ نے کہا : اپنے نفوس کو اپنے افعال اور اپنے اہل کو وصیت کے ذریعے بچائو۔ ابن عربی نے کہا، یہی قول صحیح ہے (1) ۔ وہ معنی جو عطف عطا کرتا ہے جو معطوف اور معطوف علیہ کے درمیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
4۔ عبدالرزاق والفریابی سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر والحاکم وصححہ اور بیہقی نے المدخل میں علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ آیت قوا انفسکم واہلیکم نارا۔ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔ سے مراد ہے کہ تم اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو خیر اور نیکی کی تعلیم دو اور ان کو ادب بھی سکھاؤ۔
5۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے آیت قوا انفسکم واھلیکم نارا۔ کے بارے میں روایت کیا کہ تم اللہ کی اطاعت کے ساتھ عمل کرو اور اللہ کی نافرمانی سے بچو اور اپنے گھروالوں کو ذکر کا حکم کرو۔ اللہ تعالیٰ تم کو آگ سے نجات دے گا۔
6۔ سعید بن منصور وابن المنذر نے ضحاک (رح) سے آیت…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا الَّذِينَ اٰمَنُوْا : اے لوگو جو ایمان لائے ] [قُوْٓا : تم لوگ بچائو ] [انفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا : اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو ایک ایسی آگ سے ] [وَّقُوْدُهَا : جس کا ایندھن ] [النَاسُ وَالْحِجَارَةُ : انسان اور پتھر ہیں ] [عَلَيْهَا مَلٰۗىِٕكَةٌ: اس (آگ) پر ایسے فرشتے (مقرر) ہیں جو ] [غِلَاظٌ شِدَادٌ: انتہائی سخت ہیں ] [لَّا يَعْصُوْنَ اللّٰهَ : وہ نافرمانی نہیں کرتے اللہ کی ] [مَآ اَمَرَهُمْ : اس میں جو اس نے حکم دیا ان کو ] [وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ : اور کرتے ہیں وہ (ہی) جو انھیں حکم دیا گیا ]
Read the full tafseer →اپنی جانوں کو اور اہل و عیال کو دوزخ سے بچانے کا اور سچی توبہ کرنے کا حكم
یہ چار آیات کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں ایمان والوں سے خطاب فرمایا کہ تم اپنی جانوں کو اور اپنے گھر والوں کو ایسی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ہیں دنیا میں جو آگ ہے وہ لکڑی یا تیل یا گیس سے جلتی ہے اور ہے بھی کم گرم اور دوزخ کی آگ کا ایندھن انسان ہیں اور پتھر ہیں اور وہ آگ بہت زیادہ گرم بھی ہے۔
حدیث شریف میں ہے کہ دوزخ کی آگ دنیا سے انہتر درجہ زیادہ گرم ہے (مشکوٰۃ المصابیح صفحہ 242) ایسی آگ سے بچنا اور اپنے گھر والوں کو بچانا عقل کے اعتبار سے بھی ضروری ہے اور یہ بچنا اسی طرح ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خطاب خاص برائے ازواج مطہرات :
(آیت) ” ان تتوبا الی اللہ “۔ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا کہ میں ایک عرصہ دراز تک اس فکر میں رہا اور یہ چاہتا تھا کہ عمر فاروق ؓ سے یہ معلوم کروں کہ یہ دونوں کون ہیں آنحضرت ﷺ کی ازواج میں سے جن کو یہ خطاب فرمایا گیا کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب عمر فاروق ؓ حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ (اور ہمت نہ ہوتی تھی کہ دریافت کروں) ایک دن جب وہ کسی منزل پر ٹھیرے ہوئے تھے اور ایک جانب کسی ضرورت کو گئے اور جب واپس فارغ…
Read the full tafseer →8:۔ ” یا ایہا الذین امنوا “ یہ مومنوں سے خطاب ہے۔ فرمایا اے اہل ایمان اپنے کو اور اپنے اہل و عیال کو ان کاموں سے بچاؤ جو عذاب جہنم کا موجب ہوں۔ جہنم کی آگ نہایت سخت ہوگی اور اس کی تیزی اور تندی کو بڑھانے کے لیے ایندھن کے طور پر پتھروں کو جلایا جائے گا۔ یا ” الحجارۃ سے پتھر کے وہ بت مراد ہیں جو مشرکین نے اپنے معبودوں کے ناموں پر بنا رکھے تھے جس طرح ’ الناس ‘ سے مشرک لوگ مراد ہیں۔ ” غلاظ “ تندخو۔ ” شداد “ سخت گیر۔ جہنم پر جو فرشتے مقرر ہوں گے وہ نہایت تند خو اور سخت گیر ہوں گے وہ کسی دوزخی کی خوشامد اور منت سماجت پر کان نہیں دھریں گے اور نہ ان کو دوزخیوں کی چیخ و پکار اور نالہ وزاری پر رحم ہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ربط آیات :
گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی بیویوں کو پیغمبر (علیہ السلام) کا ادب سکھایا کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کریں جس سے اللہ کے نبی کا دل پریشان ہوجائے۔ حضور ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کی تھی۔ مگر وہ اس راز کو قائم نہ رکھ سکیں ، چناچہ اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے آیات نازل فرما کر آپ کی بیویوں کو سخت تنبیہ فرمائی ، اور متعلقہ بیوی کو معافی مانگتے اور توبہ کرنے کی تلقین کی۔ پھر اللہ نے اپنی قدرت تامہ کا ذکر کیا کہ ازواج مطہرات ؓ کو مغرور نہیں ہونا چاہیے اور یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ وہ دنیا میں بہترین عورتیں ہیں۔ بلکہ فرمایا کہ اگر اللہ کا نبی ان بیویوں کو طلاق دے دے تو…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَہْلِيْكُمْ نَارًا وَّقُوْدُہَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَيْہَا مَلٰۗىِٕكَۃٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعْصُوْنَ اللہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَيَفْعَلُوْنَ مَا يُؤْمَرُوْنَ 6
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : عسیٰ من افعال المقاربۃ ربہ فاعلھا ان یبدلہ الخ الجملۃ خبرھا ان طلقکن شرط وقع بین فاعل عسیٰ وخبرھا وعسٰی مع اسمھا وخبرھا جواب الشرط۔ یبدل بالتخفیف التشدید ازواجاً منصوب لکونہ مفعول یبدل خیراوکذا مسلمات ومابعد ھا صفات لازواجاً و اھلیکم عطف علی انفسکم وکلاھما مفعول اول لقوا نارا مفعول ثان وقودھا الناس الجملۃ صفۃ لنار وکذا علیہا ملائکۃ۔ لایعصون اللہ الجملۃ صفۃ الملائکۃ تا ما امرھم ماموصولۃ والعائد محذوف ای لایعصون اللہ الذی امرھم بہ اومصدریۃ ای لایعصون اللہ امرہ علی ان یکون ما امرھم بدل اشتمال من اللہ ویفعلون مایؤمرون بہ الجملۃ صفۃ ثانیۃ لملائکۃ۔
تفسیر : اس کے بعد ازواج مطہرات کو ڈراتا…
Read the full tafseer →یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَاَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ عَلَیْھَا مَلٰٓـئِکَۃٌ غِلاَ ظٌ شِدَادٌ لاَّ یَعْضُوْنَ اللّٰہَ مَـآ اَمَرَھُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَایُؤْمَرُوْنَ ۔ (التحریم : 6)
(اے ایمان والو ! بچائو اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو اس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے، جس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو بڑے تندخو سخت گیر ہیں، جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے، اور جو حکم بھی انھیں دیا جاتا ہے اسے بجا لاتے ہیں۔ )
عام مسلمانوں میں عام احتساب کی ہدایت
ازواجِ مطہرات کے احتساب کے بعد عام مسلمانوں کو حکم دیا جارہا ہے کہ تم پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
فہم القرآن
ربط کلام : ازواج مطہرات کو انتباہ کرنے کے بعد تمام مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب کی نافرمانی سے بچیں اور اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی ہولناکیوں سے بچائیں۔
خاندان اور قوم کی اصلاح کا بنیادی اور بہترین طریقہ یہی ہے کہ ہر مسلمان اپنی اصلاح کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اہل و عیال کی اصلاح کرتا رہے یہ کام بڑا اہم ہے جس کے لیے انتباہ کے انداز میں فرمایا کہ اے ایمان والو ! اپنے آپ اور اپنے اہل و عیال کو جہنم کی آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے۔ جہنم پر ایسے ملائکہ کی ڈیوٹی لگائی گئی ہے جو بڑے تند مزاج اور سخت ہیں، وہ اللہ کے حکم کی ایک لمحہ بھی نافرمانی نہیں…
Read the full tafseer →6 : یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ ٰامَنُوْا قُوْٓا اَنْفُسَکُمْ (اے ایمان والو ! تم اپنے کو بچائو) معاصی کو چھوڑ کر اور طاعات کو اختیار کر کے۔ وَاَھْلِیْکُمْ (اور اپنے گھر والوں کو) ان پر وہ چیزیں لازم کرو جو اپنے نفسوں پر لازم قرار دیتے ہو۔ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ (اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں) وہ آگ کی ایسی قسم ہے جو انسان اور پتھروں سے جلے گی۔ جیسا دوسری آگیں لکڑیوں سے جلتی ہیں۔ عَلَیْھَا (جس پر متعین ہیں) اس کے ذمہ دار اور اس آگ کے ذریعہ عذاب دینے پر نگران مَلٰٓپکَۃٌ( فرشتے ہیں) زبانیہ جن کی تعداد انیس ہے اور ان کے معاون فرشتے۔ غِلَاظٌ شِدَادٌ (تند خو اور قوی) ان…
Read the full tafseer →5 ۔” عسیٰ ربہ ان طلقکن “ یعنی اللہ تعالیٰ کی طرف سے واجب ہے اگر تمہیں اس کا رسول اللہ ﷺ طلاق دے دیں۔ ” ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن مسلمات “ جو اللہ کی اطاعت کے ساتھ فرمانبردار ہوں گی۔ ” مومنات “ اللہ کی توحید کی تصدیق کرنے وای ہیں۔ ” قانتات “ فرمانبردار اور کہا گیا ہے وہ دعوت دینے والیاں اور کہا گیا ہے نماز پڑھناے والیاں۔ ” تائبات عابدات سائحات “ روزے رکھنے والیاں اور زید بن اسلم (رح) فرماتے ہیں ہجرت کرنے والیاں اور کہا گیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) کے ساتھ ہجرت کریں گے جہاں آپ (علیہ السلام) چاہیں گے۔ ” ثیبات وابکار “ اور یہ قدرت کی خبر دی نہ کہ وجود بتایا ہے اس لئے کہ فرمایا ہے ” ان طلقکن “ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
6۔ 7۔ ہر ایمان دار آدمی اپنی جان کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگ سے یوں بچا سکتا ہے کہ جن باتوں کے بجا لانے کا اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا ہے ان کے بجا لانے کی اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہے ‘ روزہ ‘ حج ‘ زکوٰۃ ایسے فرائض ہیں جن کے ادا کرنے کا وقت سال میں یا عمر میں ایک دفعہ آتا ہے نماز ایک ایسا فرض ہے کہ دن رات میں پانچ وقت ہے اس لئے گھر والوں کو اس کی خاص تاکید رکھنے کا حکم سورة طہ کی آیت وامر ھلک بالصلوۃ میں گزر چکا ہے یہ تو نماز کا دنیا میں اہتمام ہوا کہ قرآن اور حدیث میں جگہ جگہ اس کا ذکر ہے عقبیٰ میں بھی باقی…
Read the full tafseer →یعنی اے لوگو جن کو اللہ نے ایمان سے نوازا ہے ایمان کے لوازمات اور اس کی شرائط کا التزام کرو، اس لیے (قُوْٓا اَنْفُسَكُمْ وَاَهْلِيْكُمْ نَارًا) اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو آگ سے بچاؤ۔ جو ان برے اوصاف سے متصف ہے۔ نفس کو بچانا یہ ہے کہ اس سے اطاعت کا، اللہ تعالیٰ کے اوامر کا اس کے نواہی سے اجتناب کا اور ایسے امور سے توبہ کا التزام کر ایاجائے جن سے اللہ تعالیٰ ناراض ہوتا ہے اور جو عذاب کے موجب ہیں اہل و عیال کو بچانا یہ ہے کہ ان کو ادب وعلم سکھائے اور انکو اللہ کے احکامت کی تعمیل پر مجبور کیا جائے۔ پس بندہ صرف اسی وقت محفوظ ہوتا ہے جب وہ اپنے بارے میں اور ان لوگوں کے بارے میں جو اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–8
انسان پر اہل وعیال کی ذمہ داری ہے
قول باری ہے (یایھا الذین امنوا قوا انفسکم واھنیکم نارا۔ اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو آگ سے بچائو) حضرت علی ؓ سے اس کی تفسیر میں مروی ہے کہ ” اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو خیر کی تعلیم دو ۔ “ حسن کا قول ہے ” تم انہیں تعلیم دو ، انہیں امربا لمعروف اور نہی عن المنکر کرو۔ “
ابوبکر حبصاص کہتے ہیں کہ یہ بات اس پر دلالت کرتی ہے کہ ہماری ذمہ ہماری اولاد اور اہل وعیال کو دین کی ، بھلائی کی اور ضروری آداب کی تعلیم دینا فرض ہے۔ یہ آیت اس قول باری کی طرح ہے (وامر اھلک بالصلوٰۃ واصطبرعلیھا، اپنے اہل وعیال کو نماز کا حکم دو اور اس پر…
Read the full tafseer →[ 9] ایمان والوں کو آخرت کے بارے میں تنبیہ و تذکیر۔ سو ارشاد فرمایا گیا ایمان والو بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنی اہل واولاد کو دوزخ کی ہولناک آگ سے کہ یہ بھی تمہاری طرح ذمہ داری کا ایک اہم حصہ ہے کہ تم لوگ اپنی فکر کے ساتھ ساتھ اپنے اہل عیال کو بھی اس ہولناک انجام سے بچانے کی فکر اور کوشش کرو جیسا کہ صحیح حدیث میں ارشاد فرمایا گیا کلم راع وکلکم مسؤل عن رعیتہ۔ یعنی تم میں سے ایک راعی اور حاکم ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھ ہوگی پس تم لوگ اپنے بال بچوں کے لیے صرف دنیاوی ضرورتوں کا خیال نہ رکھو بلکہ اس سے بھی کہیں زیادہ اور اصل فکر آخرت کی اور دوزخ کی اس ہولناک آگ سے اپنے آپ کو اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7
اسرار ومعارف۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…
Read the full tafseer →ف 7 یعنی نیک اعمال کرو اور گناہوں سے بچو اور اپنے گھر والوں کو بھی اس کی تلقین کرو تاکہ خود بھی جہنم سے بچو اور انہیں بھی بچائو۔8 یعنی کوئی دوزخی سے ان سے رحم کی درخواست کرے تو انہیں رحم نہیں آتا۔
Read the full tafseer →(66:6) یایھا الذین امنوا : یا حرف نداء ہے الذین امنوا موصول و صلہ مل کر منادی ۔ اے ایمان والو۔ اے مومنو ! (نیز ملاحظہ ہو 66:1 ۔ یایھا النبی) ۔
قوا۔ فعل امر معروف جمع مذکر حاضر۔ لفیف مفروق وقایۃ مصدر (باب ضرب) ق امر معروف واحد مذکر حاضر۔ یہ تقی مضارع معروف سے بنایا گیا ہے۔ علامت مضارع کو شروع سے اور ی حرف علت کو آخر سے گرا دیا گیا ہے ق رہ گیا۔
گردان فعل امر حاضر یوں ہوگی :۔ ق، قیا، قوا، قی، قیا، قین۔ اسم فاعل واق ، وقایۃ وقاء کے معنی ہیں کسی چیز کو مضر اور نقصان پہنچانے والی چیزوں سے بچانا۔ و ، ق، ی مادہ تقویٰ بھی اسی مادہ سے مشتق ہے۔ قوا۔ تم بچاؤ۔
انفسکم (اپنی جانوں کو) مضاف مضاف الیہ مل کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–12
لغات القرآن۔
قوا۔ بچائو۔ غلاظ۔ سخت کلام۔ شداد۔ زبردست ۔ طاقت والے۔ لا یعصون۔ وہ نافرمانی نہیں کرتے۔ یومرون۔ حکم دئیے گئے۔ لا تعتدذروا۔ تم بہانے مت ڈھونڈو۔ توبۃ نصوحا (نصوح) ۔ سچی توبہ۔ یکفر۔ وہ اتار دے گا۔ دور کردے گا۔ لا یخزی۔ رسوانہ کرے گا۔ یسعی۔ دوڑتا ہے۔ اتمم۔ پورا کردے۔ جاھد۔ جہاد کرنے والا۔ اغلظ۔ سختی کر۔ ماوی۔ ٹھکانا۔ ضرب اللہ۔ اللہ نے (مثال ) بیان کی۔ امرات۔ عورت۔ بیوی تحت عبدین۔ دو بندوں کے نیچے۔ خانتا۔ دونوں نے خیانت کی۔ ابن لی۔ میرے لے بنا دے۔ احصنت۔ محفوظ رکھا۔ فرج۔ شرمگاہ۔ نفخنا۔ ہم نے پھونک ماری۔ القنتین۔ ادب سے بندگی کرنے والے۔
تشریح : کسی انسان کی اس سے زیادہ غفلت، نادانی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
اہل و عیال کی دینی تربیت۔
(ف 2) ہر مسلمان آدمی اپنی جان کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے یوں بچاسکتا ہے کہ جن باتوں کے بجالانے کا اللہ نے حکم فرمایا ہے ان کے بجالانے کی اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور جن سے منع فرمایا ہے ان سے باز رہنے کی خود بھی کوشش کرے اور اپنے گھروالوں کو بھی اس کی تاکید کرتا رہے سمجھاکرڈرا کر پیار سے مار سے جس طرح ہوسکے دیندار بنانے کی کوشش کرے روزہ وحج زکوۃ ایسے فرائض ہیں جن کے ادا کرنے کا وقت سال میں یا عمر میں ایک دفعہ آتا ہے۔ نماز ایک ایسافرض ہے کہ دن رات میں پانچ وقت ہے اس لیے گھروالوں کو اس کی خاص تاکید رکھنے کا حکم سورة طہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
[10] یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک مسلمان کے لئے یہ کافی نہیں ہے کہ وہ فقط اپنے آپ کو جہنم کے عذاب سے بچانے کی کوشش کرے بلکہ اس کے لئے یہ بھی لازم ہے کہ وہ اپنے گھر والوں کو بھی دین کی راہ پر لائے اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
رفیق اور مدد گار
حضرت حصفہ اور حضرت عائشہ کا یہ طرز عمل چونکہ حضور ﷺ کے لئے تکلیف دہ تھا ۔ اس لئے یہ عتاب نازل ہوا ۔ اور ان کو بنادیا گیا ۔ کہ ہر فعل جس سے پیغمبر آزرہ خاطر ہو ۔ وہ خدا کی نظروں میں بہت بڑا جرم ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آئندہ کے لئے ازواج مطہرات محتاط ہوجائیں ۔ اور ہر وقت آپ کی طبع نازک کا خیال رکھیں غرض یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو دین کی اہمیت سے اس درجہ آگاہ رکھنا ضروری ہے کہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں ۔ اور اس سلسلہ میں تعلیم وتربیت سے لے کر تادیب وسرزنش تک سب باتیں روا ہیں ۔
حل لغات :۔ سحیت ۔ روز رکھنے والیاں ثلیت ۔ بیوہ والحجارۃ ۔ یعنی وہ پتھر جن کو جہلہ پوجتے ہیں ابکارا ۔…
Read the full tafseer →(6) اے ایمان والو ! تم اپنی جانوں کو اور اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو دوزخ کی آگے سے بچائو جس کا ایندھن آدمی اور پتھر ہیں اس آگ پر سخت دل اور زور آور فرشتے مقرر ہیں جو حکم اللہ تعالیٰ ان کو دیتا ہے وہ اس حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور ان کو حکم دیا جاتا ہے اس کو فوراً بجا لاتے ہیں۔
حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں ہر مسلمان کو لازم ہے کہ اپنے پھر والوں کو دین کی راہ پر لاوے لالچ دے کر ڈردکھا کر پیارے سے ، مار سے اس پر بھی وہ اگر نہ آویں تو ان کی کم بختی یہ بےگناہ ہے۔
غرض ہر شخص کو اس جہنم سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی فکر کرنی چاہیے بالخصوص اپنے اہل و عیال اور اہل قرابت کو، آگ میں جلنے کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
ف 2۔ اپنے کو بچانا خود اطاعت کرنا اور گھر والوں کو بچانا ان کو احکام الہیہ سکھلانا اور ان پر عمل کرانے کے لئے زبان سے، ہاتھ سے بقدر امکان کوشش کرنا۔
3۔ یہاں عصیان سے مراد عصیان بالقلب ہے جو مقابل اطاعت کا ہے کہ وہ بھی بالقلب ہے یعنی نہ دل میں خیال نافرمانی کا ہوتا ہے، نہ فعلا خلاف کرتے ہیں، یا یوں کہا جاوے کہ بایں معنی نافرمانی بھی نہیں کرتے کہ کہے ہوئے کے خلاف کریں اور سستی اور دیر بھی نہیں کرتے۔
Read the full tafseer →ایمان والوں کو اپنے اہل و عیال کو آگ دوزخ سے بچانے کی تلقین
6 ؎ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ازواج مطہرات ؓ کے متعلق جو مؤقف اختیار کیا تھا وہ سو فی صحیح تھا اور اپنی بیویوں کے جن مطالبات کو آپ ﷺ نے رد فرمایا اس کی تصدیق گزشتہ آیات میں تفصیل سے گزر چکی ۔ آپ ﷺ کے نرم رویہ سے بلا شبہ آپ ﷺ کو کچھ تکلیف بھی برداشت کرنا پڑی لیکن جو کچھ ہوا وہ پیار و محبت کے ضمن میں ہوا نہ کہ دشمنی اور کسی شدت مخالفت کے باعث جیسا کہ لوگوں نے سمجھ لیا کیونکہ اپنے اہل و عیال کو دنیا کی زیب وزینت کی طرف سے ہٹا کر سادگی اور دنیا کے شور و شغف سے نفرت دلا کر اس کی طرف جو بغیر بناوٹ نمائش یا تکلف کے ہو مائل کرنا ایک بہترین عمل ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–7
Commentary
قُوا أَنفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ (0 those who believe, save yourselves and your families from a fire...66:6). This verse addresses the general body of Muslims and enjoins upon them to safeguard themselves and their families from a fire of Hell whose fuel is people and stones. Then the verse goes on to describe the intensity and horror of the Hell-Fire. Towards the end of it the angels in charge of it, whose name is Zabaniah, are described. They are harsh and terrible from whom no inmate of Hell will be able to rescue himself by force, power, strength, flattery or bribery.
The word…
Read the full tafseer →16 Thts verse tells that a person's responsibility is not confined to making effort to save himself from the punishment of God but it is also his responsibility that he should so educate and train to the best of his ability members of his family also to become Allah's favourite servants, who have been entrusted to his care in the natural process of life; and if they might be following a path to Hell, he should try. as far as he can, to correct them. His concern should not only be that his children should lead a happy and prosperous life in the world but; more than that, he should be anxious…
Read the full tafseer →