Explained with ayahs 1–5
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں (ا) بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور ﷺ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر ؟ چناچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہوجائے گا ؟ تو…
Read the full tafseer →سورة التَّحْرِيْم 10
اس سے معلوم ہوا کہ قصور صرف حضرت عائشہ اور حفصہ ہی کا نہ تھا، بلکہ دوسری ازواج مطہرات بھی کچھ نہ کچھ قصور وار تھیں، اسی لیے ان کے بعد اس آیت میں باقی ازواج کو بھی تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ قرآن مجید میں اس قصور کی نوعیت پر کوئی روشنی نہیں ڈالی گئی ہے البتہ احادیث میں اس کے متعلق کچھ تفصیلات آئی ہیں۔ ان کو ہم یہاں نقل کردیتے ہیں۔
بخاری میں حضرت انس کی روایت ہے کہ حضرت عمر نے فرمایا " نبی ﷺ کی بیویوں نے آپس کے رشک و رقابت میں مل جل کر حضور ﷺ کو تنگ کردیا تھا۔ (اصل الفاظ ہیں اجتمع نساء النبی ﷺ فی الغیرۃ علیہ)۔ اس پر میں نے ان سے کہا کہ " بعید نہیں اگر حضور تم کو طلاق دے دیں تو…
Read the full tafseer →(آیت) عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ الایة، اس میں عورتوں کے اس خیال کا جواب ہے کہ اگر ہمیں طلاق دے دیتو ہم جیسی دوسری عورتیں شاید آپ کو نہ ملیں۔ حاصل ارشاد کا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیا چیز باہر ہے اگر وہ تمہیں طلاق دیدیں تو وہ تم جیسی ہی نہیں بلکہ تم سے بہتر عورتیں عطا فرما دے گا، اس سے یہ لازم نہیں آیا کہ ان سے بہتر عورتیں اس وقت موجود تھیں ہوسکتا ہے کہ اس وقت نہ ہوں اور جب ضرورت پڑے اللہ تعالیٰ دوسری عورتوں کو ان سے بہتر بنادیں۔ ان آیات میں جیسا کہ خاص ازواج مطہرات کے اعمال و اخلاق کی اصلاح اور ان کی تادیب و تربیت کا بیان تھا آگے…
Read the full tafseer →(عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا متکن مسلمت مومنت قنت تبت عبدت سحت تیبت وابکارا) (5)۔
(ازواج نبی کے سامنے اعلیٰ صفات کا ایک آئینہ)۔ یہ وہی اوپر والا مضمون، احتساب کے تقاضے سے کس قدر تیز ہوگیا ہے۔ ازواج مطہرات ؓ کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہیں یہ گمان نہیں ہونا چاہیے کہ اگر تم پیغمبر ﷺ سے روٹھ گئیں تو پھر اس کی وابستگی کا کوئی سہارا باقی نہیں رہے گا۔ آج اللہ تم سے بہتر بیویاں اس کے لیے منتخب فرما دے گا جن کے اندر وہ تمام اوصاف ہوں گے جو ہونے چاہئیں۔ یہاں ان بیویوں کے جو اوصاف گنائے ہیں وہ سب دوسرے مقامات میں زیر بحث آ چکے ہیں۔ خاص طور پر سورة احزاب آیت 35 کے تحت جو بحث گزر چکی ہے اس پر ایک…
Read the full tafseer →5۔ 1 یہ تنبیہ کے طور پر ازواج مطہرات کو کہا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پیغمبر کو تم سے بھی بہتر بیویاں عطا کرسکتا ہے
5۔ 2 ثیبات۔ ثیب کی جمع ہے (لوٹ آنے والی) بیوہ عورت کو ثیب اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ خاوند سے واپس لوٹ آتی ہے اور پھر اس طرح بےخاوند رہ جاتی ہے جیسے پہلے تھی ابکار بکر کی جمع ہے کنواری عورت اسے بکر اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ ابھی اپنی اسی پہلی حالت پر ہوتی ہے جس پر اس کی تخلیق ہوتی ہے فتح القدیر۔ بعض روایات میں آتا ہے کہ ثیب سے حضرت آسیہ فرعون کی بیوی اور بکر سے حضرت مریم حضرت عیسیٰ ؑ کی والدہ مراد ہیں یعنی جنت میں ان دونوں کو نبی ﷺ کی بیویاں بنادیا جائے گا ممکن ہے کہ ایسا ہو لیکن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
6: یہ خطاب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ کو ہو رہا ہے، اور اس کا مطلب اکثر مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ : ”تم دونوں کے دل حق سے مائل ہوگئے ہیں،
Read the full tafseer →پھر اگلی آیت میں ان کو نہایت ہی صراحت کے ساتھ بتایا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے لئے اور آپ کے گھرانے کے لائق کیسی خواتین درکار ہیں۔ اگر تمہیں طلاق دے دی گئی تو تم سے بہتر اور ان صفات والی خواتین تمہاری جگہ لیں گی :
عسیٰ ربہ .................... وابکارا (66 : 5) ” بعید نہیں کہ اگر نبی تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرمادے جو تم سے بہتر ہوں۔ سچی مسلمان ، باایمان ، اطاعت گزار ، توبہ گزار ، عبادت گزار اور روزہ دار ، خواہ شوہر دیدہ ہوں یا باکرہ “۔
اشارتاً ان کو بتایا جاتا ہے کہ تمہیں تو ایسا ہونا چاہئے ، یعنی تمہیں ایسا مسلمان ہونا چاہئے کہ تم اطاعت شعار بنو اور…
Read the full tafseer →4 وسوسہ دل میں نہ لانا کہ آخر تو مرد کو بیبیوں کی ضرورت ہوتی ہے اور ہم سے بہتر عورتیں کہاں ہیں اس لیے ناگزیر ہماری سب باتیں سہی جائیں گی۔ یاد رکھو ! اللہ چاہے تو تم سے بھی بہتر بیبیاں اپنے نبی کے لیے پیدا کر دے۔ اس کے ہاں کس چیز کی کمی ہے۔ (تنبیہ) ثیبات (بیواؤں) کا ذکر شاید اسی لیے کیا کہ بعض حیثیات سے آدمی ان کو ابکار پر ترجیح دیتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5{ عَسٰی رَبُّہٗٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ } ”بعید نہیں کہ اگر وہ تم سب کو طلاق دے دیں تو ان کا رب انہیں تم سے کہیں بہتر بیویاں عطا کردے“
{ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰئِبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰئِحٰتٍ ثَیِّبٰتٍ وَّاَبْکَارًا۔ } ”اطاعت شعار ‘ ایمان والیاں ‘ فرمانبردار ‘ توبہ کرنے والیاں ‘ عبادت گزار ‘ لذاتِ دنیوی سے بیگانہ ‘ شوہر دیدہ بھی اور کنواری بھی۔“
ان الفاظ میں ازواجِ مطہرات رض کی سیرت و کردار کی ایک جھلک بھی سامنے آتی ہے کہ تمہارے اندرجو یہ اوصاف ہیں کہ تم اطاعت شعار ہو ‘ ایمان والیاں ہو ‘ فرماں بردار ہو ‘ توبہ کرنے والیاں ہو ‘ زہد و قناعت…
Read the full tafseer →7 سیدہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ پر عتاب :۔ ان دونوں ازواج مطہرات کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ اگر توبہ کرلو تو یہی تمہارے حق میں بہتر ہے اور نبی کو ستانا چھوڑ دو ۔ زوجین کے خانگی معاملات بعض دفعہ ابتدائ ً بالکل معمولی سے معلوم ہوتے ہیں لیکن اگر ذرا باگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ خصوصاً عورت اگر کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو اس کو طبعاً اپنے باپ، بھائی اور خاندان پر ناز ہوتا ہے۔ سیدنا عمر ؓ عورت کی اس فطرت کو خوب سمجھتے تھے۔ چناچہ انہی دنوں سیدنا عمر ؓ اپنی بیٹی حفصہ ؓ کے پاس گئے اور کہنے لگے : بیٹی ! کیا بات ہے تو رسول اللہ سے سوال و جواب کرتی…
Read the full tafseer →9۔ (غرض سیرت کے اعتبار سے ہر طرح کامل ومکمل) تو ایسے مرد کو کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ وچار وناچار موجودہ ہی بیویوں کو غنیمت سمجھتا رہے۔ (آیت) ” خیرا منکن “۔ اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس وقت بھی ان بیویوں سے کوئی بہتر بیوی موجود تھی، بلکہ صرف اتنا ہے کہ اگر تبدیلی واقع ہوتی تو اللہ تعالیٰ ان نئی بیویوں کو ان موجودہ بیویوں سے بہتر بنانے پر قادر تھا (آیت) ” سئحت “۔ محققین نے یہاں بھی ان کے معنی السائحون ہی کی طرح روزہ داروں کے لیے ہیں۔ اے صائمات (راغب) (آیت) ” ثیبت وابکارا “۔ شوہر کو مرغوب وپسندیدہ ہر حال اور ہر صورت میں کنواریاں اور کم سنیں ہی نہیں ہوتیں، بلکہ بعض صورتوں میں اور بعض اعتبارات سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما، ان تتوبا تثنیہ کا صیغہ ہے جس سے مراد دو بیویاں ہیں وہ دو کون ہیں ؟ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک طویل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے ایک روز موقع پا کر خود حضرت عمر ؓ سے ان دونوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا وہ حفصہ ؓ اور عائشہ ؓ ہیں، ان تتوبا میں دونوں ازواج کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارے قلوب حق سے مائل ہوگئے ہیں اس کا تقاضہ ہے کہ تم توبہ کرو، کیونکہ آپ ﷺ کی محبت اور رضا جوئی ہر مومن کے لئے ضروری ہے، مگر تم دونوں نے باہم مشورہ کر کے ایسی صورت اختیار کی جس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچی لہٰذا اس سے…
Read the full tafseer →عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجا خیرا منکم مسلمت مومنت قنتت تئبت عبدات سئحت ثیبت وابکارا . ” اگر پیغمبر ﷺ تم عورتوں کو طلاق دے دینگے تو ان کا رب بہت جلد تمہارے بدلے ان کو تم سے اچھی بیبیاں دے دیگا جو اسلام لانے والیاں ‘ ایمان لانے والیاں ‘ فرمانبرداری کرنے والیاں ‘ توبہ کرنے والیاں ‘ عبادت گزار ‘ روزے رکھنے والیاں ہوں گی ‘ کچھ بیوہ اور کچھ کنواریاں۔ “
اَنْ یُّبْدِلَہٗ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ : خطاب حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ کو ہے لیکن بطور تغلیب جمع مخاطب کا صیغہ استعمال کیا۔
شبہ کیا جاسکتا ہے اِنْ طَلَّقَکُنَّ میں اِنْ حرف شرط ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حفصہ کو رسول اللہ ﷺ نے…
Read the full tafseer →اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دیں تو ان کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے اچھی بیبیاں دے دے گا جو اسلام والیاں، ایمان والیاں، فرمانبرداری کرنے والیاں، توبہ کرنے والیاں، عبادت کرنے والیاں، روزے رکھنے والیاں ہوں گی کچھ بیوہ جیسا کہ حضرت آسیہ اور کچھ کنواریاں جیسا کہ حضرت مریم بنت عمران۔
Read the full tafseer →1۔ عَسٰی رَبُّہٗٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ۔۔۔۔۔: اس آیت میں عائشہ اور حفصہ ؓ کے ساتھ دوسری بیویوں کو بھی خطاب میں شامل فرما لیا ہے ، کیونکہ بعض باتوں خصوصاً خرچے میں اضافے کے مطالبے کے ساتھ انہوں بھی رسول اللہ ﷺ کو اتنا پریشان کیا کہ آپ نے ایک ماہ کے لیے ان کے پاس نہ جانے کی قسم کھالی ، جس کے مکمل ہونے پر اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو حکم دیا کہ اپنی بیویوں کو اختیار دیں۔ تفصیل کے لیے دیکھئے سورة ٔ احزاب (28، 29) کی تفسیر۔ انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ عمر ؓ نے فرمایا :(اجتمع نساء النبی ﷺ فی الغیرۃ علیہ فقلت لھن عسی ربہ ان طلقکن ان یبدلہ ازواجاً خیرا منکن فنزلت ھذہ…
Read the full tafseer →عسی ربہ ان طلقکن یہ بات پہلے گزر چکی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی جیسی گزارش حضرت عمر ضری اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں کی تھی۔ پھر یہ کہا گیا : عسی کا لفظ قرآن حکیم میں جہاں بھی واقع ہوا ہے اس کا معنی ہے واجب ہے۔ مگر ایک قول یہ کیا گیا ہے : اس کا معنی بھی واجب ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے شرط کے ساتھ معلق کیا ہے جو طلاق دینا ہے جبکہ حضور ﷺ نے انہیں طلاق نہ دی۔
ان یبدلہ ازواجا خیرا منکن کیونکہ اگر تم ان سے بہتر ہوتیں رسول اللہ ﷺ تمہیں طلاق نہ دیتے، یہ سدی نے معنی کیا ہے۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے رسول اللہ کے لئے وعدہ ہے۔ اگر آپ انہیں دنیا میں طلاق دے دیں تو اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →1۔ عبد بن حمید وابن المنذر نے عکرمہ، ابو مالک اور قتادہ رحمہم اللہ سے روایت کیا کہ آیت قنتت سے مراد ہے اطاعت کرنے والیاں۔ سائحات یعنی روزہ رکھنے والیاں۔
2۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے یوں پڑھا ” سائحات “ مشدد بغیر الف کے۔
3۔ الطبرانی وابن مردویہ نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت ثیبت وابکارا (بیوہ اور کنواریاں) یعنی اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے نبی اکرم ﷺ سے وعدہ فرمایا کہ بیوہ عورت فرعون کی بیوی آسیہ اور کنواری مریم بنت عمران سے آپ کی شادی کریں گے۔
Read the full tafseer →[عَسٰى رَبُّهٗٓ: قریب ہے ان کا رب ] [ان طَلَّقَكُنَّ : اگر وہ طلاق دیں تم عورتوں کو ] [ان يُّبْدِلَهٗٓ: کہ وہ بدلہ میں دے ان کو ] [اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ : ایسی بیویاں جو بہتر ہوں گی تم سے ] [مُسْلِمٰتٍ : حق کو قبول کرنے والیاں ] [مُّؤْمِنٰتٍ : ایمان لانے والیاں ] [قٰنِتٰتٍ : اطاعت کو لازم کرنے والیاں ] [تٰۗىِٕبٰتٍ : توبہ کرنے والیاں ] [عٰبِدٰتٍ : عبادت کرنے والیاں ] [سٰۗىِٕحٰتٍ : روزے دار ہونے والیاں ] [ثَيِّبٰتٍ : شوہر آشنا ہونے والیاں ہوتے ہوئے ] [وَّاَبْكَارًا : اور (یا) کنواریاں ہوتے ہوئے ]
(آیت۔ 5) یبدلہ میں لہ پر حرف جارّہ والا لا) نہیں ہے بلکہ یہ فعل کے مادہ ” ب د ل “ والا لام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
رسول اللہ ﷺ کی بعض ازواج سے خطاب
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں سیّدہ حفصہ اور سیّدہ عائشہ ؓ کو توبہ کی طرف متوجہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرلو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل صحیح راہ سے ہٹ گئے تھے تمہاری باتوں سے متاثر ہو کر رسول اللہ ﷺ نے شہد پینے اور اپنی جاریہ سے متمتع ہونے سے اجتناب کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا اور اس کے بارے میں قسم کھالی تھی حالانکہ آپ کو یہ چیزیں پسند تھیں ان باتوں سے جو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچی اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔
دوسری آیت میں آپ کی ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خطاب خاص برائے ازواج مطہرات :
(آیت) ” ان تتوبا الی اللہ “۔ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا کہ میں ایک عرصہ دراز تک اس فکر میں رہا اور یہ چاہتا تھا کہ عمر فاروق ؓ سے یہ معلوم کروں کہ یہ دونوں کون ہیں آنحضرت ﷺ کی ازواج میں سے جن کو یہ خطاب فرمایا گیا کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب عمر فاروق ؓ حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ (اور ہمت نہ ہوتی تھی کہ دریافت کروں) ایک دن جب وہ کسی منزل پر ٹھیرے ہوئے تھے اور ایک جانب کسی ضرورت کو گئے اور جب واپس فارغ…
Read the full tafseer →7:۔ ” عسی ربہ “ یہ ازواج مطہرات کو تنبیہ ہے کہ پیغمبر (علیہ الصلوۃ والسلام) کے گھر کی آبادی اور رونق کوئی تم پر منحصر نہیں کہ اگر تم نہیں ہوگی تو آپ کا گھر غیر آباد ہوجائیگا۔ اگر آپ تم سب کو طلاق دے کر سبکدوش فرما دیں تو اللہ تعالیٰ آپ کو تمہاری جگہ تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائیگا جو ایمان و عمل صلاح وتقوی اور جسمانی و روحانی خوبیوں سے متصف اور آراستہ ہوں۔ قانتان، ہمیشہ عبادت وطاعت میں رہنے والیاں۔ تائبات، گناہوں سے باز رہنے والیاں۔ عابدات، عبادت گذار اور رسول اللہ ﷺ کے احکام کے سامنے جھکنے والیاں۔ سائحات، روزہ رکھنے والیاں (روح، قرطبی) ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ربط آیات :
پہلی دو آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ کے نبی نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر بعض حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا۔ اللہ نے ایسا کرنے کی ممانعت فرمائی اور حکم دیا کہ آپ اپنی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردیں کیونکہ یہ تو خواہ مخواہ مشقت میں پڑنے والی بات ہے ، اب آج کی آیات میں نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ کی گئی ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی کی مخالفت کرو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے تم سے بہتر ازواج مہیا کردیگا۔
امہات المومنین ؓ کے لئے بشارت :
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے سامنے شہد کو استعمال نہ کرنے یا لونڈی سے…
Read the full tafseer →عَسٰى رَبُّہٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَہٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰنِتٰتٍ تٰۗىِٕبٰتٍ عٰبِدٰتٍ سٰۗىِٕحٰتٍ ثَيِّبٰتٍ وَّاَبْكَارًا 5
عسی
عَسَى طَمِعَ وترجّى، وكثير من المفسّرين فسّروا «لعلّ» و «عَسَى» في القرآن باللّازم، وقالوا : إنّ الطّمع والرّجاء لا يصحّ من الله، وفي هذا منهم قصورُ نظرٍ ، وذاک أن اللہ تعالیٰ إذا ذکر ذلک يذكره ليكون الإنسان منه راجیا لا لأن يكون هو تعالیٰ يرجو، فقوله : عَسى رَبُّكُمْ أَنْ يُهْلِكَ عَدُوَّكُمْ [ الأعراف/ 129] ، أي : کونوا راجین
( ع س ی ) عسیٰ
کے معنی توقع اور امید ظاہر کرنا کے ہیں ۔ اکثر مفسرین نے قرآن پاک میں اس کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
ترکیب : عسیٰ من افعال المقاربۃ ربہ فاعلھا ان یبدلہ الخ الجملۃ خبرھا ان طلقکن شرط وقع بین فاعل عسیٰ وخبرھا وعسٰی مع اسمھا وخبرھا جواب الشرط۔ یبدل بالتخفیف التشدید ازواجاً منصوب لکونہ مفعول یبدل خیراوکذا مسلمات ومابعد ھا صفات لازواجاً و اھلیکم عطف علی انفسکم وکلاھما مفعول اول لقوا نارا مفعول ثان وقودھا الناس الجملۃ صفۃ لنار وکذا علیہا ملائکۃ۔ لایعصون اللہ الجملۃ صفۃ الملائکۃ تا ما امرھم ماموصولۃ والعائد محذوف ای لایعصون اللہ الذی امرھم بہ اومصدریۃ ای لایعصون اللہ امرہ علی ان یکون ما امرھم بدل اشتمال من اللہ ویفعلون مایؤمرون بہ الجملۃ صفۃ ثانیۃ لملائکۃ۔
تفسیر : اس کے بعد ازواج مطہرات کو ڈراتا…
Read the full tafseer →عَسٰی رَبُّـہٗٓ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبْدِلَـہٗٓ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْـکُنَّ مُسْلِمٰتٍ مُّؤْمِنٰتٍ قٰـنِـتٰـتٍ تٰٓـئِبٰـتٍ عٰبِدٰتٍ سٰٓئِحٰتٍ ثَـیِّـبٰتٍ وَّاَبْـکَارًا۔ (التحریم : 5)
(کچھ بعید نہیں کہ اگر نبی کریم تم سب کو طلاق دے دیں، تو اللہ ایسی بیویاں تمہارے عوض آپ کو عطا فرما دے جو تم سے بہتر ہوں، اطاعت شعار، ایمان والیاں، فرماں بردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، ہجرت کرنے والیاں، شوہر آشنا اور کنواریاں۔ )
تمام ازواجِ مطہرات کو تنبیہ اور ان کے سامنے اعلیٰ صفات کا ایک آئینہ
اوپر والی آیت میں دو ازواجِ مطہرات کی تادیب فرمائی گئی۔ اب تمام ازواجِ مطہرات کو تنبیہ کی جارہی ہے۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی طرف سے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کو ایک اور تنبیہ۔
ازواج مطہرات کو توبہ کرنے کا حکم دینے کے بعد دوسری تنبیہ یہ کی گئی کہ اگر تم نے دوبارہ ایسی غلطی کی تو یاد رکھنا کہ نبی ﷺ نے تمہیں طلاق دے دی تو نبی ﷺ کا رب اپنے نبی کو تم سے بہتر بیویاں عطا فرمائے گا جو پکی مسلمان، مومن، نہایت فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، اخلاص کے ساتھ اللہ کی عبادت کرنے والیاں، روزہ رکھنے والیاں، جوان اور کنواریاں ہوں گی، یاد رہے کہ اس فرمان کا یہ مفہوم لینے کی ہرگز گنجائش نہیں کہ نبی ﷺ کی ازواج مطہرات میں یہ اوصاف نہیں پائے جاتے تھے، حقیقت یہ ہے کہ اس فرمان میں ازوج مطہرات اور ان کے حوالے…
Read the full tafseer →5 : عَسٰی رَبُّہٗ اِنْ طَلَّقَکُنَّ اَنْ یُّبَدِلَہٗ (اگر پیغمبر ﷺ تم کو طلاق دے دیں گے بہت جلد ان کا رب تعالیٰ تمہارے بدلے دے دے گا)
قراءت : مدنی، ابو عمرو نے یُبَِدِّلہ پڑھا ہے۔ تشدید کثرت کو ظاہر کرنے کیلئے ہے۔ اَزْوَاجًا خَیْرًا مِّنْکُنَّ (بیویاں تم سے اچھی ہونگی)
سوال : وہ مبدلات ان سے زیادہ بہتر کیسے ہوسکتی ہیں حالانکہ امھات المؤمنین سے زیادہ خیر والی کوئی عورت سطح زمین پر نہیں پائی جاتی ؟
جواب : جب رسول اللہ ﷺ ان کی ایذاء کی وجہ سے ان کو طلاق دے دیں گے۔ تو ام والی صفت نہ رہی تو دوسری عورتیں ان صفات سے موصوف ہونگی (اور ان کو شرف زوجیت حاصل ہوجائے گا) تو وہ ان سے بہت بہتر ہوجائیں گی۔…
Read the full tafseer →4 ۔” ان تتوبا الی اللہ “ یعنی نبی کریم ﷺ پر ایذاء کا تعارف کرنے سے۔ اس سے عائشہ صدیقہ اور حفصہ ؓ کو خطاب کیا ہے۔ ” فقد صغت قلوبکما “ یعنی حق سے مائل ہوگئے اور تم توبہ کی سزاوار ٹھہریں۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں تمہارے دل مائل ہوئے کہ ان دونوں کا راز وہ ہے جو رسول اللہ ﷺ نے ناپسند کیا آپ ﷺ کے لونڈی سے اجتناب کرنے سے۔
بخاری وغیرہ نے حضرت ابن عباس ؓ کی روایت سے بیان کیا ہے حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : مجھے حضرت عمر ؓ سے یہ بات دریافت کرنے کی بڑی خواہش تھی کہ رسول اللہ ﷺ کی وہ دو بیویاں کون تھیں۔ جن کے متعلق اللہ نے فرمایا ہے : ” ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما “ (مگر موقع نہیں ملتا تھا) ایک بار…
Read the full tafseer →5۔ پردہ کے باب میں بدر کے قیدیوں کے باب میں مقام ابراہیم کے مصلیٰ ٹھہرانے کے باب میں جس طرح اور چند آیتیں قرآن شریف میں حضرت عمر ؓ کے قول کے موافق اس طرح نازل ہوئی ہیں کہ کسی آیت کے نازل ہونے سے پہلے جو بات حضرت عمر ؓ نے فرمائی اسی مضمون کی ایک آیت نازل ہوئی۔ ان ہی آیتوں میں سے یہ بھی ایک آیت ہے۔ چناچہ صحیح 1 ؎ بخاری وغیرہ میں حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کی بیبیوں نے آنحضرت ﷺ سے بد مزاجی کرنی شروع کی تو حضرت عمر ؓ نے آنحضرت کی بیبیوں کو سمجھایا اور فرمایا کہ اگر یہی حال رہے گا تو کیا عجب کہ اللہ کے رسول ﷺ تم بیبیوں کو طلاق دے دیں اور اللہ تعالیٰ اپنے رسول ﷺ کو تم بیبیوں سے اچھی…
Read the full tafseer →ان آیات کریمہ میں دونوں ازواج مطہرات کے لیے تنبیہ ہے جو مخفی نہیں ہے پھر اللہ تعالیٰ نے دونوں کو ایک ایسی حالت سے ڈرایا ہے جو عوروتوں پر بےحد شاق گزرتی ہے اور وہ ہے طلاق، جو ان کے لیے سب سے گراں چیز ہوتی ہے اس لیے فرمایا (عَسٰى رَبُّهٗٓ اِنْ طَلَّقَكُنَّ اَنْ يُّبْدِلَهٗٓ اَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنْكُنَّ ) یعنی تم رسول اللہ کے مقابلے میں برتری ظاہر کرنے کی کوشش نہ کرو کیونکہ اگر اوہ تمہیں طلاق دے دیں تو معاملہ ان پر تنگ نہیں ہوگا اور نہ وہ تمہاری محتاج ہی ہوں کیونکہ آپ عنقریب دوسری بیویاں پائیں گے اور اللہ تعالیٰ تمہارے بدلے میں آپ کو ایسی بیویاں عطا کردے جو دین اور حسن و جمال میں تم سے بہتر ہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
حضور ﷺ نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کرلی تھی
قول باری ہے (یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی ﷺ ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے) آیت کے نزول کے سلسلے میں کئی وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک یہ کہ حضور ﷺ ام المومنین حضرت زینب ؓ کے ہاں کھایا پیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے آپس میں صلاح کرکے آپ سے یہ کہا ۔ ہمیں آپ کے منہ سے مغافیر یعنی گوند کی بو آتی ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” میں نے تو زینب کے پاس شہید پیا تھا۔ اب آئندہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ایک قول کے مطابق آپ نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس اور ایک اور قول کے مطابق…
Read the full tafseer →[ 8] سئحت کا معنی اور مطلب۔ سئحت کے لفظی اور لغوی معنی تو سیر کرنے والیوں کے ہیں لیکن یہاں پر اس کے کافی مطلب بیان کیے گئے ہیں جن میں سے سب سے مشہور یہی معنی ہیں یعنی روز دار، جیسا کہ ایک روایت میں وارد ہوا اس امت کی سیاحت روزہ ہے (سیاحت ھذہ الامت الصیام) اور اس لفظ کو اس معنی میں استعمال کرنے کی مناسبت یہ ہے کہ پرانے زمانہ میں سیاحت پر زیادہ تر ایسے راہب قسم کے لوگ نکلا کرتے تھے جن کے پاس کھانے پینے کا کچھ سامان نہیں ہوتا تھا اور جب تک ان کو اس کے لیے کچھ ملتا انہیں روزے کی حالت میں ہی رہنا پڑتا تھا اس لیے اس لفظ کے معنی روزے دار کے کیے جاتے ہیں سئحت کے اور معنی بھی کیے گئے ہیں والتفصیل فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7
اسرار ومعارف۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…
Read the full tafseer →“6 مطلب یہ ہے کہ اس خیال میں نہ رہو کہ پیغمبر (ﷺ) کو ہم سے بہتر بیویاں نہیں مل سکتیں ؟ اس لئے ہم جیسے چاہیں ان پر دبائو ڈال لیں۔
Read the full tafseer →(66:5) عسی : افعال مقاربہ میں سے ہے اسم کو رفع اور خبر کو نصب دیتا ہے۔ اس کی خبر ہمیشہ فعل مضارع ہوتی ہے۔ عسی امید کے واسطے آتا ہے اور خبر کے قرب کے لئے وضع کیا گیا ہے اس کی خبر کے ساتھ اکثر ان آتا ہے۔ یہ فعل غیر منصرف ہے اور ماضی کے سوا اس سے کوئی صیغہ نہیں آتا۔ اس کے معنی پسندیدہ بات میں امید کے اور ناپسندیدہ بات میں اندیشہ اور کھٹکے کے ہیں مثلاً قرآن مجید میں ہے :۔
وعسی ان تکرھوا شیئا وھو خیر لکم وعسی ان تحبوا شیئا وھو شر لکم (2:216) اور توقع ہے کہ ایک چیز تم کو بری لگے اور وہ بہتر ہو تمہارے حق میں اور اندیشہ ہے کہ ایک چیز تم کو بھلی لگے اور وہ بری ہو تمہارے حق میں۔ (نیز ملاحظہ ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
لم تحرم۔ کیوں حرام کرتا ہے۔ احل۔ اس نے حلال کردیا۔ تبتغی۔ تو طلب کرتا ہے۔ چاہتا ہے۔ فرض۔ اس نے طریقہ قاعدہ بنا دیا۔ تحلۃ۔ کھول ڈالنا۔ ایمان۔ قسمیں۔ مولیٰ ۔ مالک اسر۔ چپکے سے کہا۔ حدیثا۔ بات۔ اظھرہ۔ اس نے ظاہر کردیا۔ من انباک۔ کس نے تجھے بتا دیا۔ ان تتوبا۔ اگر تم دونوں نے توبہ کرلی۔ قد صغت۔ یقینا پلٹ گئی۔ پلٹ گئے۔ تظھرا۔ تم دونوں مل گئے۔ تم دونوں مل گئیں۔ ظھیر۔ مددگار۔ قنتت۔ ادب سے جھکنے والیاں۔ تئبت۔ توبہ کرنے والیاں۔ عبدات۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت۔ روزہ رکھنے والیاں۔ ثیبت۔ بیوہ عورتیں۔ شوہر سے جدا ہوجانے والیاں۔ ابکارا۔ (بکر) ۔ کنواریاں۔
تشریح : چونکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر…
Read the full tafseer →(ف 1) یہ تخویف ہے ازواج مطہرات کو کہ اگر انہوں نے سیدعالم کو آزردہ کیا اور حضور انور نے انہیں طلاق دی توحضورکو اللہ اپنے لطف وکرم سے اور بہتر بی بیاں عطافرمائے گا اس تخویف سے ازواج مطہرات متاثر ہوئیں اور انہوں نے نبی ﷺ کے شرف خدمت کو ہرنعمت سے زیادہ سمجھا اور حضور کی دل جوئی اور رضاطلبی مقدم جانی لہذا آپ نے انہیں طلاق نہ دی۔
Read the full tafseer →[9] یہ وہی اوپر والا مضمون نسبتاً سخت الفاظ میں بیان ہوا ہے۔ ازواج مطہرات کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہیں یہ گمان نہیں ہونا چاہئے کہ اگر تم پیغمبر سے روٹھ گئیں تو پھر اس کی دلبستگی کا کوئی سہارا نہیں رہے گا۔ اگر وہ تمہیں طلاق دے چھوڑے تو اللہ تعالیٰ تم سے بہتر ازواج اس کے لئے منتخب فرمائے گا جن کے اوصاف یہ اور یہ ہوں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
رفیق اور مدد گار
حضرت حصفہ اور حضرت عائشہ کا یہ طرز عمل چونکہ حضور ﷺ کے لئے تکلیف دہ تھا ۔ اس لئے یہ عتاب نازل ہوا ۔ اور ان کو بنادیا گیا ۔ کہ ہر فعل جس سے پیغمبر آزرہ خاطر ہو ۔ وہ خدا کی نظروں میں بہت بڑا جرم ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آئندہ کے لئے ازواج مطہرات محتاط ہوجائیں ۔ اور ہر وقت آپ کی طبع نازک کا خیال رکھیں غرض یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو دین کی اہمیت سے اس درجہ آگاہ رکھنا ضروری ہے کہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں ۔ اور اس سلسلہ میں تعلیم وتربیت سے لے کر تادیب وسرزنش تک سب باتیں روا ہیں ۔
حل لغات :۔ سحیت ۔ روز رکھنے والیاں ثلیت ۔ بیوہ والحجارۃ ۔ یعنی وہ پتھر جن کو جہلہ پوجتے ہیں ابکارا ۔…
Read the full tafseer →(5) اگر پیغمبر تم عورتوں کو طلاق دے دے تو اس کا پروردگار بہت جلد تمہارے بدلے تم سے بہتر بیویاں اس کو دیدے گا جو صاحب اسلام صاحب ایمان، فرمانبردار، توبہ کرنے والیاں، عبادت گزار، روزہ رکھنے والیاں ہوں گی، کچھ شوہر کی برتی ہوئی ہوں ، کچھ نہ برتی ہوں یعنی باکرہ ہوں گی۔
مسلمات اقرار کرنے والیاں زبان سے ، مومنات اخلاص رکھنے والیاں یا تصدیق کرنے والیاں ، قانتات اللہ اور اس کے رسول کی مطیع یا ادب کے ساتھ نماز پڑھنے والیاں یا طاعت پر مداومت کرنے والیا ، تائبات توبہ کرنے والیاں یا اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع رہنے والیاں ، عابدات عبادت کرنا ے والیاں یا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تابع، سائحات روزہ رکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3۔ مطلب یہ کہ تمہاری ان سازشوں سے آپ کا کوئی ضرر نہیں ہے بلکہ تمہارا ہی ضرر ہے۔
Read the full tafseer →تمہارے مطالبات نہ مانتے ہوئے اگر رسول اللہ ﷺ نے تم کو طلاق دے دی تو تمہارا کیا بنے گا ؟
5 ؎ ہاں ! تم ایک بار پھر غور سے سن لو کہ اگر ہمارے رسول ﷺ نے تمہارے مطالبات کے پیش نظر تم سب کی سب کو بھی طلاق دے دی تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں دے دے گا جو تم سے ہر حال میں بہتر ہوں گی ۔ وہ رسول کی فرمانبردار ہوں گی ۔ وہ سچے دل سے ایمان والیاں ہوں گی ۔ اطاعت شعار ہوں گی ۔ توبہ کرنے والیاں ہوں گی ۔ عبادت گزار ہوں گی ، روزہ رکھنے والیاں ہوں گی ، ان میں ثیبات بھی ہوں گی اور کنواریاں بھی ۔
حقیقت اس کی صرف اور صرف یہ ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ ہجرت کر کے مدینہ آئے تو سارے مہاجرین کی حالت…
Read the full tafseer →عَسَىٰ رَبُّهُ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن يُبْدِلَهُ أَزْوَاجًا خَيْرًا مِّنكُنَّ (It is hoped that, if he divorces you, Allah will give him in your place wives better than you, submissive to Allah, believing, devout, penitent, steadfast in worship, fasting, previously married and virgins....66:5). The verse refutes the possible thought of the wives that if they are divorced, the Holy Prophet ﷺ will probably not get women better than themselves. The verse under comment responds to their assessment of the situation. It purports to say that nothing is beyond Allah's power. If he divorces them,…
Read the full tafseer →10 This shows that the fault did not lie only with Hadrat 'A'isha and Hadrat Hafsah but the other wives also had some share in it. That is why, after them, aII the other wives too, have been warned in this verse. No light has been thrown on the nature of the error in the Qur'an. However, some details are found in the Hadith, which we shall relate below.
In Bukhari, a tradition has been reported from Hadrat Anas, saying that Hadrat 'Umar said: "The Holy Prophet's wives because of their mutual envies and rivalries had utterly displeased him. At this 1 said to them: It may well be that if the…
Read the full tafseer →