Explained with ayahs 1–5
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں (ا) بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور ﷺ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر ؟ چناچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہوجائے گا ؟ تو…
Read the full tafseer →سورة التَّحْرِيْم 7
اصل الفاظ ہیں فقد صغت قلوبکما۔ صغو عربی زبان میں مڑ جانے اور ٹیڑھا ہوجانے کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ شاہ ولی اللہ صاحب نے اس فقرے کا ترجمہ کیا ہے " ہر آئینہ کج شدہ است دل شما "۔ اور شاہ رفیع الدین صاحب کا ترجمہ ہے " کج ہوگئے ہیں دل تمہارے "۔ عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عباس سفیان ثوری اور ضحاک رحمہم اللہ نے اس کا مفہوم بیان کیا ہے زاعت قلوبکما یعنی " تمہارے دل راہ راست سے ہٹ گئے ہیں "۔ امام رازی اس کی تشریح میں کہتے ہیں عدلت ومالت عن الحق و ھو حق الرسول ﷺ ‘ " حق سے ہٹ گئے ہیں، اور حق سے مراد رسول اللہ ﷺ کا حق ہے " اور علامہ آلوسی کی تشریح یہ ہے مالت عن الواجب من موافقتہ ﷺ…
Read the full tafseer →(آیت) اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا، ازواج مطہرات میں سے جن دو کا اجمالی ذکر اوپر آیا ہے کہ انہوں نے باہم مشورہ کرکے آنحضرت ﷺ کے شہد پینے پر ایسا طرز اختیار کیا جس سے آپ نے شہد پینے سے قسم کھالی اور پھر آپ نے اسکے اخفاء کے لئے فرمایا تھا وہ اخفاء نہیں کیا بلکہ ایک نے دوسری پر بات کھول دی۔ یہ دو کون ہیں انکے متعلق صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت ابن عباس کی ایک طویل روایت ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ عرصہ تک میرے دل میں یہ خواہش تھی کہ میں ان دو عورتوں کے متعلق عمر بن خطاب سے دریافت کروں جن کے متعلق قرآن میں آیا ہے اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ ، یہاں تک ایک موقع آیا کہ عمر…
Read the full tafseer →(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما وان تظھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ وجبریل و صالح المومنین والملئکۃ بعد ذلک ظھیر) (4)۔
یہ ان دونوں بیویوں کو خطاب کر کے فرمایا کہ اگر تم اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی بات تمہارے شایان شان ہے اس لیے کہ تمہارے دل تو اللہ کی طرف جھکے ہوئے ہیں۔ اور اگر تم نے رسول کے خلاف ایکا کیا تو یاد رکھو کہ رسول اپنی دل جمعی کے لیے تمہارا محتاج نہیں ہے بلکہ اس کی طمانیت کے لیے اللہ، جبریل اور مومنین صالحین کی معیت ورفاقت کا فی ہے، مزید برآں فرشتے بھی اس کے ساتھی اور مددگار ہیں۔
(ایک سوال اور اس کا جواب)۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ فروگزاشت تو ایک بیوی صاحبہ سے ہوئی تھی تو یہاں…
Read the full tafseer →4۔ 1 یا تمہاری توبہ قبول کرلی جائے گی یہ شرط ان تتوبا کا جواب محذوف ہے۔
4۔ 2 یعنی حق سے ہٹ گئے ہیں اور وہ ہے ان کا ایسی چیز پسند کرنا جو نبی ﷺ کے لئے ناگوار تھی (فتح القدیر)
4۔ 3 یعنی نبی ﷺ کے مقابلے میں تم جتھہ بندی کروگی تو نبی کا کچھ نہیں بگاڑ سکو گی، اس لئے کہ نبی کا مددگار تو اللہ بھی ہے اور مومنین اور ملائکہ بھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
6: یہ خطاب حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ کو ہو رہا ہے، اور اس کا مطلب اکثر مفسرین نے یہ بتایا ہے کہ : ”تم دونوں کے دل حق سے مائل ہوگئے ہیں،
Read the full tafseer →اب یہاں انداز کلام حاکیت سے خطاب کی طرف آجاتا ہے ، اور جن دو ازواج نے یہ کام کیا تھا ، ان سے خطاب کیا جاتا ہے۔ گویا بات ان کے سامنے ہورہی ہے۔
ان تتوبا ........................ ذلک ظھیر (66 : 4) ” اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو (تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں۔ اور اگر نبی کے مقابلے میں تم نے جتھ بندی کی تو جان رکھو کہ اللہ اس کا مولیٰ ہے اور اس کے بعد جبرائیل اور تمام صالح اہل ایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں “۔
آغاز خطاب میں ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ توبہ کریں تاکہ ان کے دل اللہ کی طرف مائل ہوجائیں کیونکہ ان کے دل اللہ سے دور ہوگئے تھے۔…
Read the full tafseer →2 یہ عائشہ و حفصہ کو خطاب ہے کہ اگر تم توبہ کرتی ہو تو بیشک توبہ کا موقع ہے کیونکہ تمہارے دل جادہ اعتدال سے ہٹ کر ایک طرف کو جھک گئے ہیں۔ لہذا آئندہ ایسی بےاعتدالیوں سے پرہیز رکھا جائے۔
3 زوجین کے خانگی معاملات بعض اوقات ابتداءً بہت معمولی اور حقیر نظر آتے ہیں۔ لیکن اگر ذرا باگ ڈھیلی چھوڑ دی جائے تو آخرکار نہایت خطرناک اور تباہ کن صورت اختیار کرلیتے ہیں۔ خصوصاً عورت اگر کسی اونچے گھرانے سے تعلق رکھتی ہو تو اس کو طبعاً اپنے باپ بھائی اور خاندان پر بھی گھمنڈ ہوسکتا ہے۔ اس لیے متنبہ فرما دیا کہ دیکھو اگر تم دونوں اسی طرح کی کارروائیاں اور مظاہرے کرتی رہیں تو یاد رکھو ان سے پیغمبر کو کچھ ضرر نہیں…
Read the full tafseer →آیت 4{ اِنْ تَـتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکُمَا } ”اگر تم دونوں اللہ کی جناب میں توبہ کرو تو یہی تمہارے لیے بہتر ہے ‘ کیونکہ تمہارے دل تو مائل ہو ہی چکے ہیں۔“
اس آیت کی تعبیر میں اہل تشیع کا نقطہ نظر یقینا انتہا پسندانہ ہے ‘ لیکن مقام حیرت ہے کہ ہمارے بعض مترجمین اور مفسرین نے بھی انہی کی روش اختیار کی ہے۔ البتہ مولانا حمید الدین فراہی رح نے عربی اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوئے اس آیت کی جو وضاحت کی ہے میری رائے میں وہ بہت جامع اور بالکل درست ہے۔ اس حوالے سے میں ذاتی طور پر خود کو مولانا صاحب کا احسان مند مانتا ہوں کہ ان کی اس تحریر کی بدولت مجھے قرآن کے اس مقام کا درست فہم اور…
Read the full tafseer →6 سیدہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کی خطا۔ 1۔ نبی کے لیے حلال و حرام بنانے پر ایکا 2۔ افشائے راز :۔ سیدنا ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے سیدنا عمر ؓ سے پوچھا : امیرالمومنین ! یہ دو عورتیں کون کون تھیں، جنہوں نے رسول اللہ کو ستانے کے لیے ایکا کیا تھا ؟ ابھی میں نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ انہوں نے کہہ دیا : وہ عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ تھیں (بخاری۔ کتاب التفسیر۔ تفسیر سورة تحریم) ان پر اللہ کی طرف سے جو گرفت ہوئی اور کہا گیا کہ تم راہ راست سے ہٹ چکی ہو تو اس کی وجوہ دو تھیں کہ انہوں نے آپس میں باہمی رقابت کی بنا پر رسول اللہ کو ایک ایسی بات پر مجبور کردیا جو ان کے شایان شان نہ تھی اور اس پر اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →7۔ (کہ آپ ﷺ کا دل دوسری بیوی صاحبوں کی طرف سے ہٹا کر بالکل اپنا بنالیں) یہ امر باعتبار اس کے کہ اس کا اصل مقتضی حب رسول وحب شوہر ہے قبیح نہیں، لیکن چونکہ اس کا ایک دوسرا پہلو دوسروں کے حقوق کا اتلاف بھی ہے، اس لیے اس سے توبہ کرانا ضروری قرار پایا۔ (تھانوی (رح))
8۔ (تو ایسے شخص کو کسی کی سازشوں سے گزند کیا پہنچ سکتا ہے، نقصان جو کچھ ہوگا خود سازش کرنے والوں کا ہوگا) (آیت) ” فان اللہ ھو مولہ “۔ یہ حق تعالیٰ کی رفاقت رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تو حقیقی واصلی ہے (آیت) ” وجبریل “۔ یہ جبریل (علیہ السلام) کی رفاقت رسول اللہ ﷺ کے درمیان ہیں۔ (آیت) ” و صالح ال مومنین “۔ مومنین صالحین کی رفاقت اس معنی میں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما، ان تتوبا تثنیہ کا صیغہ ہے جس سے مراد دو بیویاں ہیں وہ دو کون ہیں ؟ حضرت ابن عباس ؓ کی ایک طویل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ حضرت حفصہ ؓ اور حضرت عائشہ ؓ ہیں، حضرت ابن عباس ؓ نے ایک روز موقع پا کر خود حضرت عمر ؓ سے ان دونوں کے بارے میں دریافت فرمایا تو حضرت عمر ؓ نے فرمایا وہ حفصہ ؓ اور عائشہ ؓ ہیں، ان تتوبا میں دونوں ازواج کو خطاب کر کے فرمایا کہ تمہارے قلوب حق سے مائل ہوگئے ہیں اس کا تقاضہ ہے کہ تم توبہ کرو، کیونکہ آپ ﷺ کی محبت اور رضا جوئی ہر مومن کے لئے ضروری ہے، مگر تم دونوں نے باہم مشورہ کر کے ایسی صورت اختیار کی جس سے آپ ﷺ کو تکلیف پہنچی لہٰذا اس سے…
Read the full tafseer →ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما وان تظھرا علیہ فان اللہ ھو مولہ و جبریل و صالح المومنین والملئ کہ بعد ذلک ظھیر .
” اگر تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرلو (تو تمہارے لیے بہتر ہوگا) پس بلاشبہ تم دونوں کے دل مائل ہوگئے ہیں اور اگر پیغمبر (کی مرضی) کے خلاف تم باہم تعاون کرتی رہیں تو (یاد رکھو) پیغمبر کا رفیق اللہ ہے جبرئیل ہے اور نیک مسلمان ہیں اور انکے علاوہ فرشتے مددگار ہیں۔ “
اِنْ تَتُوْبَا اِلَی اللہ : حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کو خطاب ہے۔ شروع سورت میں عبید بن عمیر کی جو روایت حضرت عائشہ ؓ سے آئی ہے اور اس روایت کو بخاری و مسلم نے ذکر کیا ہے اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ یہ خطاب حضرت حفصہ کو…
Read the full tafseer →اے حفصہ اور عائشہ تم نے جو رسول اکرم کو ایذا پہنچائی ہے اور آپ کے حکم کی خلاف ورزی کی ہے اس سے تم دونوں اللہ کے سامنے توبہ کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل حق کی طرف سے مائل ہو رہے ہیں۔
اور اگر اسی ایذا رسانی اور نافرمانی پر تم دونوں جمی رہیں تو سمجھ لو کہ پیغمبر کا تمہارے مقابلہ میں معین و مددگار اور محافظ اللہ ہے اور جبریل ہیں اور خلفائے راشدین اور تمام مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے آپ کے مددگار ہیں۔
Read the full tafseer →1۔ اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللہ ِ۔۔۔۔: اس آیت میں خطاب عائشہ اور حفصہ ؓ سے ہے۔ عبد اللہ بن عباس ؓ عنہانے فرمایا :(لم ازل حریصا ان اسال عمر عن المراتین من ازواج النبی ﷺ اللتین قال اللہ تعالیٰ :(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) (حتیٰ حج عمر و حججت معہٗ فلما کنا ببعض الطریق عدل عمر و عدلت معہ بالا دواۃ فتبر ز ثم الانی فسکبت علی یدیہ فتوضا فقلت یا امیر المومنین ! من المر من ازوج النبی ﷺ اللتان قال اللہ عزوجل لھما :(ان تتوبا الی اللہ فقد صغت قلوبکما) ؟ قال عمر واعجبا لک یا ابن عباس ! ھی حفصۃ و عائشۃ) (مسلم ، الطلاق ، باب فی الایلائ۔۔۔۔: 34، 1479)”مجھے ہمیشہ خواہش رہی کہ میں عمر بن خطاب ؓ سے نبی ﷺ…
Read the full tafseer →ان تتوبا الی اللہ مراد حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ صدیقہ ہیں۔ ان دونوں کو توبہ پر برانگیختہ کیا کیونکہ ان سے ایسا امر واقع ہوا جو رسول اللہ ﷺ کی محبت کے خلاف میلان رکھتا تھا۔ فقد صغت قلوبکما یعنی تمہارے دل حق سے پھرگئے (1) ۔ یہ امر تھا کہ دونوں نے اس بات کو پسند کیا کہ وہ چیز پسند کریں جسے نبی کریم ﷺ نے ناپسند کیا تھا جیسے لونڈی سے اجتناب کرنا اور شہد سے اجتناب کرنا جبکہ نبی کریم ﷺ شہد اور عورتوں سے محبت رکھتے تھے۔ ابن زید نے کہا : دونوں کے دل اس طرف مائل ہوئے کہ انہیں اس چیز نے خوش کیا کہ آپ ﷺ ام ولد سے رک جائیں تو انہیں اس چیز نے خوش کیا جسے نبی کریم ﷺ نے پسند کیا۔ ایک قول یہ کیا گیا ہے، ان…
Read the full tafseer →18۔ ابن جریر وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فقد صغت قلوبکما سے مراد ہے کہ تم دونوں کے دل مائل ہیں اور انہوں نے گناہ کیا۔
19۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” صغت “ سے مراد ہے کہ وہ مائل ہیں۔
20۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ” صغت “ سے مراد ہے کہ وہ مائل ہیں۔
21۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہم یہ خیال کرتے تھے کہ آیت صغت قلوبکما آسان چیز ہے یہاں تک کہ ہم نے اس کو سنا عبداللہ ؓ کی قراءت کے ساتھ آیت ان تتوبا الی اللہ فقدصغت قلوبکما۔
22۔ عبدالرزاق وابن سعد واحمد والمدنی وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن حبان وابن المنذر وابن مردویہ نے…
Read the full tafseer →[ان تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ : اگر تم دونوں توبہ کرو اللہ کی طرف ] [فَقَدْ صَغَتْ : تو مائل تو ہوچکے ہیں ] [قُلُوْبُكُمَا : تم دونوں کے دل ] [وَان تَظٰهَرَا : اور اگر تم دونوں باہم مدد کرو گی ] [عَلَيْهِ : اِن (نبی) کے خلاف ] [فَان اللّٰهَ : تو بیشک اللہ (جو) ہے ] [هُوَ مَوْلٰىهُ : وہ ہے ان کا کارساز ] [وَجبرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ : اور جبریل اور مومنوں کا صالح (بھی)] [وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ : اور فرشتے ] [بَعْدَ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ظَهِيْرٌ: مددگار ہیں ]
(آیت۔ 4) ان تتوبا شرط ہے اور فقہ صفت جواب شرط ہے۔ ترجمہ میں اس کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔ وان تظھرا علیہ میں تظھرا باب تفاعل میں فعل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
رسول اللہ ﷺ کی بعض ازواج سے خطاب
یہ دو آیتوں کا ترجمہ ہے پہلی آیت میں سیّدہ حفصہ اور سیّدہ عائشہ ؓ کو توبہ کی طرف متوجہ فرمایا ہے ارشاد فرمایا کہ اگر تم اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرلو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل صحیح راہ سے ہٹ گئے تھے تمہاری باتوں سے متاثر ہو کر رسول اللہ ﷺ نے شہد پینے اور اپنی جاریہ سے متمتع ہونے سے اجتناب کرنے کا ارادہ فرما لیا تھا اور اس کے بارے میں قسم کھالی تھی حالانکہ آپ کو یہ چیزیں پسند تھیں ان باتوں سے جو رسول اللہ ﷺ کو تکلیف پہنچی اس کی وجہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کرنے کی طرف متوجہ فرمایا۔
دوسری آیت میں آپ کی ازواج مطہرات سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر نبی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
خطاب خاص برائے ازواج مطہرات :
(آیت) ” ان تتوبا الی اللہ “۔ کی تفسیر میں حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے منقول ہے فرمایا کہ میں ایک عرصہ دراز تک اس فکر میں رہا اور یہ چاہتا تھا کہ عمر فاروق ؓ سے یہ معلوم کروں کہ یہ دونوں کون ہیں آنحضرت ﷺ کی ازواج میں سے جن کو یہ خطاب فرمایا گیا کہ اگر تم دونوں اللہ کی طرف تائب ہوجاؤ تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دلوں میں ٹیڑھا پن پیدا ہوگیا ہے، یہاں تک کہ ایک مرتبہ جب عمر فاروق ؓ حج کے لئے تشریف لے جا رہے تھے میں بھی ان کے ہمراہ حج کے لیے روانہ ہوا۔ (اور ہمت نہ ہوتی تھی کہ دریافت کروں) ایک دن جب وہ کسی منزل پر ٹھیرے ہوئے تھے اور ایک جانب کسی ضرورت کو گئے اور جب واپس فارغ…
Read the full tafseer →5:۔ ” ان تتوبا “ جزاء شرط محذوف ہے اور ” فقد صغت “ ما قبل کی علت ہے قائم مقام جزاء۔ جزاء محذوف یا تو کان خیرا لکما ہے (قرطبی) یا ” تقبلا “ (جلالین) یا یمح اثمکما یا فقہ ادیتما ما یبج علیکما او اتیتما بما یحق لکما (روح) ۔ یا فذلک یلیق بکما (حضرت شیخ قدس سرہ) ۔ ” فقد صغت قلوبکما “ کیونکہ تمہارے دل حق بات سے ہٹ چکے ہیں یعنی تم نے اس چیز کو پسند کیا ہے جسے رسول اللہ ﷺ ناپسند فرماتے تھے، مراد ہے شہد سے اجتناب۔ یا ” صغت قلوبکما “ کے معنی ہیں تہارے دل توبہ کی طرف حق یا حق کی طر فمائل ہوچکے ہیں۔ حضرت عائشہ اور حفصہ ؓ کو اپنی غلطی اور کوتاہی کا احساس ہوگیا اور ان کے دلوں میں اس غلطی سے توبہ کرنے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
ربط آیات :
پہلی دو آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ کے نبی نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر بعض حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا۔ اللہ نے ایسا کرنے کی ممانعت فرمائی اور حکم دیا کہ آپ اپنی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردیں کیونکہ یہ تو خواہ مخواہ مشقت میں پڑنے والی بات ہے ، اب آج کی آیات میں نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ کی گئی ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی کی مخالفت کرو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے تم سے بہتر ازواج مہیا کردیگا۔
امہات المومنین ؓ کے لئے بشارت :
گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے سامنے شہد کو استعمال نہ کرنے یا لونڈی سے…
Read the full tafseer →اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا 0 ۚ وَاِنْ تَظٰہَرَا عَلَيْہِ فَاِنَّ اللہَ ہُوَمَوْلٰىہُ وَجِبْرِيْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِيْنَ 0 ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَۃُ بَعْدَ ذٰلِكَ ظَہِيْرٌ 4
توب
التَّوْبُ : ترک الذنب علی أجمل الوجوه وهو أبلغ وجوه الاعتذار،
فإنّ الاعتذار علی ثلاثة أوجه : إمّا أن يقول المعتذر : لم أفعل، أو يقول :
فعلت لأجل کذا، أو فعلت وأسأت وقد أقلعت، ولا رابع لذلک، وهذا الأخير هو التوبة، والتَّوْبَةُ في الشرع :
ترک الذنب لقبحه والندم علی ما فرط منه، والعزیمة علی ترک المعاودة، وتدارک ما أمكنه أن يتدارک من الأعمال بالأعمال بالإعادة، فمتی اجتمعت هذه الأربع فقد کملت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تبتغی استیناف اوتفسیر لقولہ تحرم اوحال من الضمیر فی تحرم والمرضاۃ اسم مصدرو اصلہ مرضوۃ۔ وھو مضاف الی المفعول الی ان ترضی ازواجک والی الفاعل ای ان یرضین ھن۔ ومعناہ الرضائ۔ ویمکن ان تکون الجملۃ للاستفہام الانکاری تحلۃ اصلہ تحللۃ فسکن وادغم۔ واذ فی موضع نصب باذکر فلما شرط عرف جو ابہ فلما شرط قالت جو ابہ ان تتوبا شرط والجواب محذوف ای فذاک واجب دل علیہ فقد صغت لان اصغاء القلب الی ذلک قریب۔ قلوبکما انما جمع وھما اثنان لان لکل انسان قلبا ومالیس فی الانسان الاواحد جازان یجعل الاثنان فیہ بلفظ الجمع وجازان یجعل بلفظ التثنیۃ وقیل وجہہ ان التثنیۃ جمع ھو مبتداء وخبرہ ان ویجوزان یکون ھو فصلا…
Read the full tafseer →اِنْ تَتُوْبَـآ اِلَی اللّٰہِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبِکُمَا ج وَاِنْ تَظٰھَرَا عَلَیْہِ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَ مَوْلَـہُ وَجِبْرِیْلُ وَصَالِحُ الْمُؤْمِنِیْنَ ج وَالْمَلٰٓـئِکَۃُ بَعْدَ ذٰلِکَ ظَھِیْرٌ۔ (التحریم : 4)
(اگر تم دونوں اللہ کی طرف رجوع کرو تو یہی تمہارے لیے زیبا ہے، تمہارے دل تو خدا کی طرف مائل ہی ہیں اور اگر تم اس کیخلاف ایکا کرو گی تو اس کا حامی اللہ ہے، اور جبریل اور تمام نیکوکار مسلمان اور مزیدبرآں فرشتے بھی اس کے مددگار ہیں۔ )
صاحبِ تدبرِقرآن نے عام مفسرین کی روش سے ہٹ کر ان آیات کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ازواجِ مطہرات کے احترام کی وجہ سے ان کی یہ وضاحت زیادہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
فہم القرآن
ربط کلام : نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کے کہنے پر قسم اٹھائی کہ میں آئندہ شہد نہیں کھاؤں گا اس لیے اس سورة کا آغاز اس فرمان سے ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قسموں کو توڑنے کا طریقہ بتلا دیا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوا کرتی ہے یہ اس کی پُر حکمت تعلیم ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ کسی سے راز کی بات کرنے سے پہلے اس کی راز داری کی صلاحیت کو جاننا ضروری ہے۔
نبی (علیہ السلام) نے آئندہ شہد نہ کھانے کی قسم کھائی اور یہ بات صرف حضرت سودہ ؓ سے بیان فرمائی اور اسے ارشاد فرمایا کہ یہ بات کسی…
Read the full tafseer →4 : اِنْ تَتُوْبَآ اِلَی اللّٰہِ (اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے سامنے توبہ کرلو) اس میں حفصہ و عائشہ ؓ کو خطاب ہے۔ جو بطور التفات فرمایا گیا۔ تاکہ عتاب میں زیادہ بلیغ ہو۔
نحو : شرط کا جواب محذوف ہے اور تقدیر کلام اس طرح ہے ان تتوبا الی اللّٰہ فھو الواجب۔ اگر تم دونوں توبہ کرو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تو وہ ضروری ہے۔ اور محذوف پر دلالت فقد صغت قلو بکما کررہا ہے۔ فَقَدْ صَغَتْ (پس بلاشبہ تمہارے دل قائل ہوگئے) قُلُوْبُکُمَا حالانکہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ اخلاص میں ہر شخص پر واجب ہے کہ وہی چیز پسند کرے جو آپ پسند کرتے ہیں اور اسی چیز کو ناپسند سمجھے جس کو آپ ناپسند کرتے ہیں۔
دو عورتوں کا باہمی تعاون…
Read the full tafseer →3 ۔” واذا اسرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا “ اور وہ اپنی لونڈی کو خود پر حرام کرنا ہے اور آپ ﷺ کا حفصہ ؓ کو یہ کہنا کہ اس کی کسی کو خبر نہ دینا۔
اور سعید بن جبیر (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے اپنے بعد خلافت کے امر کو چھپایا۔ پس اس کو حفصہ ؓ نے بیان کردیا۔ کلبی (رح) فرماتے ہیں اس کی طرف یہ بات چھپائی کہ تیرا باپ اور عائشہ صدیقہ ؓ کا باپ میرے بعد میری امت کے خلیفہ ہوں گے اور میمون بن مہران نے کہا اس بات کو پوشیدہ رکھا کہ ابوبکر میرے بعد میرے خلیفہ ہوں گے۔ ” فلما نبات بہ “ اس کی حفصہ ؓ نے عائشہ صدیقہ ؓ کو خبر دی۔ ” واظھرہ اللہ علیہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ صحیحین میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان آیتوں میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ دونوں کا ذکر ہے جس طرح اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کون سی بیبیوں کا ذکر ہے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح صحابہ کے زمانہ میں بھی یہ اختلاف جاری تھا اسی واسطے صحیحین 2 ؎ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرصہ سے میرا ارادہ تھا کہ حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کونسی دو بیبیوں کا ذکر ہے لیکن مجھ کو موقع نہیں ملتا تھا آخر حج کے سفر میں مجھ کو موقع ملا اور میں نے اس بات کو حضرت عمر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ذکر حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کا ہے غرض صحیحین کی…
Read the full tafseer →(اِنْ تَتُوْبَآ اِلَى اللّٰهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُكُمَا ۚ ) خطاب کا رخ دونوں ازواج مطہرات، حضرت عائشہ، اور حضرت حفصہ کی طرف ہے جو اس بات کا سبب بنیں کہ آپ نے اپنے آپ پر اس چیز کو حرام ٹھہرایا جو آپ کو پسند تھیں اللہ نے اس بنا پر دونوں ازواج مطہرات پر عتاب فرمایا ان کے سامنے توبہ پیش کی اور انہیں آگاہ فرمایا کہ ان کے دل اس چیز سے منحرف ہوگئے جو ان کے لائق تھی یعنی ورع اور رسول اللہ کا ادب واحترام، نیز یہ کہ وہ آپ کی مخالفت نہ کریں۔ ( وَاِنْ تَظٰهَرَا عَلَيْهِ ) اگر تم دونوں ایسے امر پر باہم تعاون کرو گی جو شاق گزرتا ہے آپ پر اور تمہاری طرف سے رویہ دائم رہا (فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ مَوْلٰىهُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
حضور ﷺ نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کرلی تھی
قول باری ہے (یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی ﷺ ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے) آیت کے نزول کے سلسلے میں کئی وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک یہ کہ حضور ﷺ ام المومنین حضرت زینب ؓ کے ہاں کھایا پیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے آپس میں صلاح کرکے آپ سے یہ کہا ۔ ہمیں آپ کے منہ سے مغافیر یعنی گوند کی بو آتی ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” میں نے تو زینب کے پاس شہید پیا تھا۔ اب آئندہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ایک قول کے مطابق آپ نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس اور ایک اور قول کے مطابق…
Read the full tafseer →[ 5] فقد صغت قلوبکما کی مشہور و تفسیر کی تغلیط اور صحیح تفسیر کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا یقینا تمہارے دل مائل ہوگئے ہیں یعنی جادہ اعتدال سے، یعنی اپنے اس واجب سے جو کہ پیغمبر کی زوجیت کے شرف عظیم کی بناء پر تمہارے اوپر ان کے بارے میں عائد ہوتا ہے کہ تم ان کے آرام وراحت اور پسند ونا پسند کا پورا خیال رکھو (صفوہ التفاسیر، ابوالسعود اور روح المعانی وغیرہ) سو یہ اس جملے کی مشہور تفسیر ہے۔ جبکہ اس میں دوسرا قول و احتمال یہ ہے کہ اس کا معنی ومطلب یہ ہے کہ تمہارے دل مائل ہوچکے ہیں یعنی توبہ اور اصلاح اھوال کی طرف یعنی تم اسی طریقے سے مانوس اور اس کی اہل ہو۔ القرطبی وغیرہ) یعنی پیغمبر کی زوجیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7
اسرار ومعارف۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…
Read the full tafseer →ف 3 یعنی اللہ تعالیٰنے4 یعنی تمہارے دل راہ اعتدال سے ہٹ کر ایک طرف جھک گئے ہیں۔5 ” لہٰذا تم اسے کوئی نقصان نہ پہنچا سکو گی۔
Read the full tafseer →(66:4) ان تتوبا الی اللہ جملہ شرط ہے۔ جس کا جواب محذوف ہے۔ تقدیر کلام یوں ہے۔ ان تتوبا الی اللہ فھو الواجب۔ اگر تم دونوں بیبیاں اللہ کے حضور توبہ کرلو تو یہ تمہارے لئے واجب ہے۔
فقد صغت قلوبکما :تعلیلیہ ہے۔ دک کی کجی موجب ہے گناہ کی اور گناہ کے بعد توبہ واجب ہے۔ قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو حال کے قریب تر لے آتا ہے۔
صغت : ماضی واحد مؤنث غائب صغو، صغی (باب نصر۔ و فتح) جھک جانا ، جھک پڑنا۔ مائل ہوجانا۔ کیونکہ تمہارے دل (سیدھی راہ سے) ہٹ ہی گئے ہیں۔
صاحب تفہیم القرآن تحریر فرماتے ہیں :۔ اصل الفاظ ہیں فقد صغت قلوبکما صغو عربی زبان میں مڑجانے اور ٹیڑھا ہوجانے کے معنی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
لم تحرم۔ کیوں حرام کرتا ہے۔ احل۔ اس نے حلال کردیا۔ تبتغی۔ تو طلب کرتا ہے۔ چاہتا ہے۔ فرض۔ اس نے طریقہ قاعدہ بنا دیا۔ تحلۃ۔ کھول ڈالنا۔ ایمان۔ قسمیں۔ مولیٰ ۔ مالک اسر۔ چپکے سے کہا۔ حدیثا۔ بات۔ اظھرہ۔ اس نے ظاہر کردیا۔ من انباک۔ کس نے تجھے بتا دیا۔ ان تتوبا۔ اگر تم دونوں نے توبہ کرلی۔ قد صغت۔ یقینا پلٹ گئی۔ پلٹ گئے۔ تظھرا۔ تم دونوں مل گئے۔ تم دونوں مل گئیں۔ ظھیر۔ مددگار۔ قنتت۔ ادب سے جھکنے والیاں۔ تئبت۔ توبہ کرنے والیاں۔ عبدات۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت۔ روزہ رکھنے والیاں۔ ثیبت۔ بیوہ عورتیں۔ شوہر سے جدا ہوجانے والیاں۔ ابکارا۔ (بکر) ۔ کنواریاں۔
تشریح : چونکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حضور کی زیادہ ازواج مطہرات پر عیسائی اور آریوں کے اعتراض پر جواب۔
(ف 1) شان نزول : ہر زوجہ مطہرہ کو محبت اور تعلق حضور کے ساتھ تھا اور ہر ایک زوجہ کی تمنا اور کوشش تھی کہ وہ زائد از زائد حضور کی توجہات کامرکز بن کردارین کی برکات وفیوض سے متمع ہو آپ کی عادت تھی کہ عصر کے بعد سب ازواج کے ہاں تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے جب ام المومنین زینب بنت جحش ؓ کے یہاں حضور تشریف لے جاتے تو وہ شہدپیش کرتیں، اس ذریعہ سے انکے یہاں کچھ زیادہ تشریف فرمارہتے ، یہ بات حضرت عائشہ وحفصہ ؓ وغیرہما کو ناگوار گذری اور انہیں رشک ہوا انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوں تو عرض کیا جائے کہ دہن مبارک سے…
Read the full tafseer →[7] اصل الفاظ ہیں فَقَدْ صَغَتْ قُلُوْبُکْمَا صغو عربی زبان میں کج اور ٹیڑھے ہوجانے کے متعلق بھی بولا جاتا ہے۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ فروگزاشت تو ایک زوجہ محترمہ سے ہوئی تھی تو یہاں خطاب دو سے کیوں ہوا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ جب نبی ﷺ نے ایک زوجہ محترمہ پر ان کے افشائے راز کے بہ سبب ناخوشی کا اظہار فرمایا تو دوسری زوجہ محترمہ کو یہ گمان گزرا ہوگا کہ شاید اس ناخوشی کا سبب یہ ہے کہ یہ افشائے راز ان کے سامنے کیوں ہوا ؟ انہوں نے خیال کیا ہوگا کہ بات میرے ہی سامنے ظاہر کی گئی تھی کسی غیر کے سامنے نہیں تو پھر اس عتاب کی کیا وجہ ہوئی۔ اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ مجھے غیر خیال کیا گیا۔ بہرحال ان دونوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–7
رفیق اور مدد گار
حضرت حصفہ اور حضرت عائشہ کا یہ طرز عمل چونکہ حضور ﷺ کے لئے تکلیف دہ تھا ۔ اس لئے یہ عتاب نازل ہوا ۔ اور ان کو بنادیا گیا ۔ کہ ہر فعل جس سے پیغمبر آزرہ خاطر ہو ۔ وہ خدا کی نظروں میں بہت بڑا جرم ہے ۔ غرض یہ تھی ۔ کہ آئندہ کے لئے ازواج مطہرات محتاط ہوجائیں ۔ اور ہر وقت آپ کی طبع نازک کا خیال رکھیں غرض یہ ہے کہ اپنے اہل و عیال کو دین کی اہمیت سے اس درجہ آگاہ رکھنا ضروری ہے کہ جہنم کی آگ سے بچ جائیں ۔ اور اس سلسلہ میں تعلیم وتربیت سے لے کر تادیب وسرزنش تک سب باتیں روا ہیں ۔
حل لغات :۔ سحیت ۔ روز رکھنے والیاں ثلیت ۔ بیوہ والحجارۃ ۔ یعنی وہ پتھر جن کو جہلہ پوجتے ہیں ابکارا ۔…
Read the full tafseer →(4) اے پیغمبر کی دونوں بیویو ! اگر تم دونوں اللہ تعالیٰ کے روبرو توبہ کرو اور اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع کرو تو بہتر ہے کیونکہ تمہارے دل مائل ہورہے ہیں اور تمہارے دل کج ہورہے ہیں اور اگر تم پیغمبر کے مقابلہ میں ایک دوسرے کی مددگار بنوگی اور اس کے خلاف مظاہر ہ کرو گی تو یقین مانو کہ پیغمبر کارفیق اور حامی اللہ تعالیٰ ہے اور جبرئیل (علیہ السلام) ہے اور نیک مسلمان ہیں اور ان کے علاوہ فرشتے بھی مددگار ہیں۔
مطلب یہ ہے کہ دونوں بیویو ! تم کو اللہ تعالیٰ کی جناب میں رجوع ہونا چاہیے اور اس کی جناب میں توبہ کرنی چاہیے بلا شبہ تمہارے دل جادہ اعتدال سے ہٹ گئے ہیں اور تمہارے دل کج اور ٹیڑھے ہوگئے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
ف 3۔ مطلب یہ کہ تمہاری ان سازشوں سے آپ کا کوئی ضرر نہیں ہے بلکہ تمہارا ہی ضرر ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–4
رسول اللہ ﷺ نے ایک راز کی بات اپنی ایک زوجہ محترمہ سے کی
3 ؎ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی ( اذ) یا ( واذ) وارد ہوا ہے وہاں لفظ (اذکر) محذوف مانا گیا ہے یعنی آپ ﷺ ان سے ذکر کیجئے ، اس وقت کو یاد کیجئے ، آپ خود یاد کیجئے ۔ مختصر یہ یہ کہ سیاق وسباق کے اعتبار سے جیسا موقع ہوگا ویسے معنی مراد لے لیے جائیں گے۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آتی ہے کہ جہاں یہ استعمال ہوا وہاں ایک نئی بات شروع ہوئی اور گزشتہ بات کو اس نے آنے والی بات سے الگ کردیا یوں سمجھیں کہ کوئی بات پہلے بیان کی جا چکی ہو تو اس کی دوبارہ یاد دہانی کرانا مقصود ہو تو اس کا استعمال کرلیا تاکہ اس واقعہ کی ایک الگ حیثیت قائم ہوجائے اور اس…
Read the full tafseer →إِن تَتُوبَا إِلَى اللَّـهِ فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا [ 0 two wives of the Prophet,] If both of you repent to Allah, then [ your conduct calls for it, because ] your hearts have diverted....66:4). The reference here is made to two of his blessed wives who, as mentioned above in brief, contrived to draw the Holy Prophet ﷺ into swearing an oath and making the aforementioned promise to abstain from honey. Who are they? Bukhari and other collections of Traditions record a lengthy Tradition about this on the authority of Ibn ` Abbas ؓ who narrates that he was always on the look-out to enquire of…
Read the full tafseer →7 The word saghat in the original is from Baghy which means to swerve and to become crooked. Shah Waliyullah and Shah Rafi'uddin have translated this sentence thus: "Crooked have become your hearts." Hadrat 'Abdullah bin Mas'ud, 'Abdullah bin 'Abbas, Sufyan Thauri and Dahhak have given this meaning of it: "Your hearts have swerved from the right path." Imam Razi explains it thus: "Your hearts have swerved from what is right, and the right implies the right of the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) ." And 'Allama Alusi's commentary is Although it is incumbent on you that you should…
Read the full tafseer →