At-Tahrim 66:3

At-Tahrim · from ayah 3

66:3

وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِیْثًا ۚ— فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ عَلَیْهِ عَرَّفَ بَعْضَهٗ وَاَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ ۚ— فَلَمَّا نَبَّاَهَا بِهٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا ؕ— قَالَ نَبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ۟وَاِذۡ اَسَرَّ النَّبِىُّ اِلٰى بَعۡضِ اَزۡوَاجِهٖ حَدِيۡثًا‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَتۡ بِهٖ وَاَظۡهَرَهُ اللّٰهُ عَلَيۡهِ عَرَّفَ بَعۡضَهٗ وَاَعۡرَضَ عَنۡۢ بَعۡضٍ‌ۚ فَلَمَّا نَـبَّاَهَا بِهٖ قَالَتۡ مَنۡ اَنۡۢبَاَكَ هٰذَا‌ؕ قَالَ نَـبَّاَنِىَ الۡعَلِيۡمُ الۡخَبِیْرُ‏

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتا دی)۔ جب اس نے اس کو افشاء کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے ان (بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [remember] when the Prophet confided to one of his wives a statement; and when she informed [another] of it and Allah showed it to him, he made known part of it and ignored a part. And when he informed her about it, she said, "Who told you this?" He said, "I was informed by the Knowing, the Acquainted."

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tahrim

All translations of 66:3

(اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبیؐ نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر) وہ راز ظاہر کر دیا، اور اللہ نے نبیؐ کو اِس (افشائے راز) کی اطلاع دے دی، تو نبیؐ نے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا پھر جب نبیؐ نے اُسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ کو اِس کی کس نے خبر دی؟ نبیؐ نے کہا، "مجھے اُس نے خبر دی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (یاد کرو) جب پیغمبر نے اپنی ایک بی بی سے ایک بھید کی بات کہی تو (اس نے دوسری کو بتا دی)۔ جب اس نے اس کو افشاء کیا اور خدا نے اس (حال) سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے ان (بی بی کو وہ بات) کچھ تو بتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ آپ کو کس نے بتایا؟ انہوں نے کہا کہ مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبردار ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یاد کر جب نبی نے اپنی بعض عورتوں سے ایک پوشیده بات کہی، پس جب اس نے اس بات کی خبر کر دی اور اللہ نے اپنے نبی کو اس پر آگاه کر دیا تو نبی نے تھوڑی سی بات تو بتا دی اور تھوڑی سی ٹال گئے، پھر جب نبی نے اپنی اس بیوی کو یہ بات بتائی تو وه کہنے لگی اس کی خبر آپ کو کس نے دی۔ کہا سب جاننے والے پوری خبر رکھنے والے اللہ نے مجھے یہ بتلایا ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور یاد کرو جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے راز کے طور پر ایک بات کہی تھی۔ پھر جب اس بیوی نے وہ بات کسی اور کو بتلا دی، اور اللہ نے یہ بات نبی پر ظاہر کردی تو اس نے اس کا کچھ حصہ جتلا دیا اور کچھ حصے کو ٹال گئے۔ پھر جب انہوں نے اس بیوی کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ : آپ کو یہ بات کس نے بتائی ؟ نبی نے کہا کہ : مجھے اس نے بتائی جو بڑے علم والا، بہت باخبر ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب نبی نے اپنی ایک بی بی سے ایک راز کی بات فرمائی پھر جب وہ اس کا ذکر کر بیٹھی اور اللہ نے اسے نبی پر ظاہر کردیا تو نبی نے اسے کچھ جتایا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی پھر جب نبی نے اسے اس کی خبر دی بولی حضور کو کس نے بتایا، فرمایا مجھے علم والے خبردار نے بتایا

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب نبئ (مکرّم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی ایک زوجہ سے ایک رازدارانہ بات ارشاد فرمائی، پھر جب وہ اُس (بات) کا ذکر کر بیٹھیں اور اللہ نے نبی ﷺ پر اسے ظاہر فرما دیا تو نبی ﷺ نے انہیں اس کا کچھ حصہ جِتا دیا اور کچھ حصہ (بتانے) سے چشم پوشی فرمائی، پھر جب نبی ﷺ نے انہیں اِس کی خبر دے دی (کہ آپ راز اِفشاء کر بیٹھی ہیں) تو وہ بولیں: آپ کو یہ کس نے بتا دیا ہے؟ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مجھے بڑے علم والے بڑی آگاہی والے (رب) نے بتا دیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے پوشیدہ طور پر کوئی بات کہی، پھر جب اس (بیوی) نے اس بات کی خبر دے دی اور اللہ نے اس (نبی) کو اس کی اطلاع کردی تو اس (نبی) نے (اس بیوی کو) اس میں سے کچھ بات جتلائی اور کچھ سے اعراض کیا، پھر جب اس (نبیـ) نے اسے یہ (راز فاش کرنے کی) بات بتائی تو اس نے کہا تجھے یہ کس نے بتایا ؟ کہا مجھے اس نے بتایا جو سب کچھ جاننے والا، ہر چیز سے باخبر ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے ایک راز کی بات کہی۔ اس بیوی نے وہ بات (آگے) بتادی اور یہ معاملہ اللہ تعالیٰ نے نبی پر ظاہر کردیا اب نبی نے (اس بیوی کو) کچھ بات تو جتلا دی اور کچھ نہ جتلائی۔ پھر جب نبی نے اسے (افشائے راز کی) یہ بات بتائی تو وہ پوچھنے لگی کہ : آپ کو اس کی کس نے خبر دی ؟ تو نبی نے کہا : مجھے اس نے خبر دی جو ہر بات کو جانتا اور اس سے پوری طرح باخبر ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب کہ نبی نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہی تو جب انہوں نے اس کی خبر کردی اور اللہ نے اس سے پیغمبر کو آگاہ کردیا تو پیغمبر نے کچھ بات جتادی کچھ ٹال دی تو جب پیغمبر نے بیوی کو اس کی خبر کی تو وہ بولیں کہ آپ کو کس نے اس کی خبر دی ؟ پیغمبر نے کہا، مجھے خدائے علیم و خیبر نے خبر دی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ وقت بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک بات راز میں کہی پھر جب وہ اس بات کی خبر (دوسری بی بی کو) کر بیٹھیں اور اللہ نے اس کو ظاہر فرما دیا اپنے پیغمبر پر تو پیغمبر نے اس کا کچھ حصہ تو جتلا دیا اور کچھ سے چشم پوشی فرما لی سو جب پیغمبر نے ان کو وہ بات جتلائی تو وہ کہنے لگیں کہ آپ کو اس کی خبر کس نے دی ؟ تو آپ ﷺ نے جواب میں فرمایا کہ مجھے اس ذات نے خبر دی ہے جو (سب کچھ) جاننے والی (ہر شئ سے) پوری طرح باخبر ہے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرنے کے قابل ہے) جب پیغمبر نے ایک بات اپنی کسی بیوی سے چپکے سے فرمائی پھر جب ان بیوی نے وہ بات (کسی اور کو) بتلا دی اور اللہ نے پیغمبر کو اس کی خبر کردی تو پیغمبر نے اس کا کچھ حصہ بتلا دیا اور کچھ کو ٹال گئے۔ پیغمبر نے ان بیوی کو وہ بات بتلا دی تو وہ بولیں کہ آپ کو کس نے اس کی خبر دی ؟ آپ نے کہا مجھے خبر دی ہر علم رکھنے والے اور ہر خبر رکھنے والے نے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جب نبی ﷺ نے رازداری سے اپنی کسی زوجہ کو ایک بات بتائی۔ تو جب اس نے اس کو ظاہر کردیا اور اللہ نے اس بارے میں ان ﷺ کو مطلع کردیا تو نبی ﷺ نے اس پر کسی حد تک (اس بیوی کو) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے چشم پوشی کی۔ تو جب آپ ﷺ نے اسے یہ خبر دی اس نے کہا کہ آپ ﷺ کو یہ کس نے بتایا ؟ آپ ﷺ نے کہا : مجھے اس نے بتایا ہے جو العلیم ہے اور الخبیر ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور یاد کرو جب پیغمبر نے اپنی ایک بیوی سے ایک راز کی بات کہہ دی تو اس نے دوسری کو بتا دی جب اس نے اس کو افشا کیا اور اللہ نے پیغمبر ﷺ کو اس بات سے آگاہ کیا تو پیغمبر ﷺ نے ان بیوی کو وہ بات کچھ تو جتائی اور کچھ نہ بتائی۔ تو جب وہ ان کو جتائی تو پوچھنے لگیں کہ، آپ کو کس نے بتایا، ؟ انہوں نے کہا کہ، مجھے اس نے بتایا ہے جو جاننے والا خبر دار ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

The Prophet confided something to one of his wives and then she disclosed it (to another); so after Allah revealed to the Prophet (that she had disclosed that secret), he made a part of it known to her and passed over a part of it. And when he told her about this (i.e., that she had disclosed the secret entrusted to her), she asked: “Who informed you of this?” He said: “I was told of it by He Who is All-Knowing, All-Aware.”

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And (remember) when the Prophet told one of his wives something in secret. So, when she disclosed it (to another wife) , and Allah made it known to him, he told (the disclosing wife) part of it, and avoided another part. So when he informed her about it, she said, :Who told you about this? He said, :I was told of it by the All-Knowing, the All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani

And (remember) when the Prophet told one of his wives something in secret. So, when she disclosed it (to another wife) , and Allah made it known to him, he told (the disclosing wife) part of it, and avoided another part. So when he informed her about it, she said, :Who told you about this? He said, :I was told of it by the All-Knowing, the All-Aware.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his wives, then she told it. And Allah made it known to him; he informed part thereof and left a part. Then when he told her thereof, she said: "Who told you this" He said: "The All-Knower, the All-Aware has told me."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

When the Prophet confided a fact unto one of his wives and when she afterward divulged it and Allah apprised him thereof, he made known (to her) part thereof and passed over part. And when he told it her she said: Who hath told thee? He said: The Knower, the Aware hath told me.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [remember] when the Prophet confided to one of his wives a statement; and when she informed [another] of it and Allah showed it to him, he made known part of it and ignored a part. And when he informed her about it, she said, "Who told you this?" He said, "I was informed by the Knowing, the Acquainted."

— Saheeh International

The Prophet told a secret to one of his wives telling her not to mention it to anyone else. When she divulged it, God informed His Prophet about this. The Prophet told his wife part of the information which he had received from God and ignored the rest. Then she asked, "Who informed you about this?" He replied, "The All-aware and All-knowing one has told me".

— Muhammad Sarwar

And when the prophet secretly communicated a piece of information to one of his wives-- but when she informed (others) of it, and Allah made him to know it, he made known part of it and avoided part; so when he informed her of it, she said: Who informed you of this? He said: The Knowing, the one Aware, informed me.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time the Prophet confided a story Unto one of his spouses, then she disclosed it, and Allah apprised him thereof, he made known part thereof and Withheld part. Then, when he had apprised her of it, she said: who hath acquainted thee therewith! He said the Knower, the Aware hath acquainted me.

— Abdul Majid Daryabadi

When the Prophet disclosed a matter in confidence to one of his consorts, and she then divulged it (to another), and Allah made it known to him, he confirmed part thereof and repudiated a part. Then when he told her thereof, she said, "Who told thee this? "He said, "He told me Who knows and is well-acquainted (with all things)."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 66:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں (ا) بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور ﷺ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر ؟ چناچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہوجائے گا ؟ تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّحْرِيْم 6 مختلف روایات میں مختلف باتوں کے متعلق یہ بیان کیا گیا ہے کہ فلاں بات تھی جو حضور ﷺ نے اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی اور ان بیوی نے ایک دوسری بیوی سے اس کا ذکر کردیا۔ لیکن ہمارے نزدیک اول تو اس کا کھوج لگانا صحیح نہیں ہے، کیونکہ راز کے افشا کرنے پر ہی تو اللہ تعالیٰ یہاں کی بیوی کو ٹوک رہا ہے، پھر ہمارے لیے کیسے صحیح ہوسکتا ہے کہ ہم اس کی ٹٹول کریں اور اسے کھولنے کی فکر میں لگ جائیں۔ دوسرے جس مقصد کے لیے یہ آیت نازل ہوئی ہے اس کے لحاظ سے یہ سوال سرے سے کوئی اہمیت نہیں رکھتا کہ وہ راز کی بات تھی کیا۔ مقصود کلام سے اس کا کوئی تعلق ہوتا تو اللہ تعالیٰ اسے خود بیان فرما…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا، یعنی جبکہ نبی کریم ﷺ نے اپنی کسی بی بی سے ایک راز کی بات کہی۔ وہ راز کی بات صحیح اور اکثر روایات کی رو سے یہی تھی کہ آپ نے حضرت زینب کے پاس جو شہد پیا اور دوسری ازواج کو بھاری معلوم ہوا آپ نے ان کو راضی کرنے کے لئے شہد نہ پینے کی قسم کھالی مگر یہ فرمایا کہ اس کی کسی کو خبرنہ ہو تاکہ زینب کو رنج نہ پہنچے مگر اس بی بی نے یہ راز دوسری پر ظاہر کردیا جسکا ذکر اگلی آیت میں ہے۔ اس راز کی بات کے متعلق دوسری روایات میں اور بھی چند چیزین منقول ہیں مگر اکثر اور صحیح روایات میں یہی ہے جو لکھا گیا۔ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِهٖ وَاَظْهَرَهُ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

واذا اسرا النبی الی بعض ازواجہ حدیثا فلما نبات بہ واظھرہ للہ علیہ عرف بعسنہ واعرض عن بعض فلما نباھا بہ قالت من انباک ھذا قال نبانی العلیم الخبر) (3)۔ (ازواج نبی کے احتساب کی ایک مثال)۔ اوپر کی آیت میں نبی ﷺ کا احتساب تھا۔ اس آیت میں ازواج نبی میں سے ایک بیوی کی فروگزاشت پر گرفت فرمائی کہ انہوں نے حضور ﷺ کی کوئی بات، جو آپ نے بطور راز ان سے فرمائی، کسی دوسری بیوی پر ظاہر کرو۔ پھر جب حضور ﷺ نے ان کی اس غلطی پر ٹوکا اسی پر نادم ہونے کے بجائے انہوں نے اس ٹوکنے کو اپنی خودداری کے ملامت محسوس کیا اور جن بیوی پر از ظاہر کیا گیا تھا انہوں نے بھی اس کو ناگوار جانا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے ان دونوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

3۔ 1 وہ پوشیدہ بات شہد کو یا ماریہ کو حرام کرنے والی بات تھی جو آپ ﷺ نے حضرت حفصہ سے کی تھی۔ 3۔ 2 یعنی حفصہ ؓ نے وہ بات حضرت عائشہ ؓ کو جاکر بتلا دی۔ 3۔ 3 یعنی حفصہ ؓ کو بتلا دیا کہ تم نے میرا راز فاش کردیا ہے۔ تاہم اپنی تکریم و عظمت کے پیش نظر ساری بات بتانے سے اعراض فرمایا۔ 3۔ 4 جب نبی ﷺ نے حفصہ ؓ کو بتلایا کہ تم نے میرا راز ظاہر کردیا ہے تو وہ حیران ہوئیں کیونکہ انہوں نے حضرت عائشہ ؓ کے علاوہ کسی کو یہ بات نہیں بتلائی تھی اور عائشہ ؓ سے انہیں یہ توقع نہیں تھی کہ وہ آپ کو بتلا دیں گی، کیونکہ وہ شریک معاملہ تھیں۔ 3۔ 5 اس سے معلوم ہوا کہ قرآن کے علاوہ بھی آپ ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

3: راز کی بات آپ نے حضرت حفصہ ؓ سے یہ فرمائی تھی کہ میں نے شہد نہ پینے کی قسم کھالی ہے، مگر یہ بات کسی کو بتانا نہیں تاکہ حضرت زینب ؓ جن کے گھر میں آپ نے شہد نوش فرماتے تھے ان کا دل نہ ٹوٹے۔ 4: یعنی حضرت حفصہ نے حضرت عائشہ کو بتلا دی۔ 5: آنحضرت ﷺ نے حضرت حفصہ کو یہ تو جتلا دیا کہ انہوں نے راز کی بات جو حضرت عائشہ کو بتائی، اس کا علم مجھے ہوگیا ہے، لیکن پوری بات نہیں بتلائی تاکہ ان کو زیادہ شرمندگی نہ ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

واذا ................................ حدیثا (66 : 3) ”(اور یہ معاملہ بھی قابل توجہ ہے کہ) نبی نے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی “۔ عجیب زمانہ تھا یہ کہ لوگوں کی روز مرہ کی زندگی میں بھی عالم بالا سے برملا مداخلت ہورہی تھی۔ معلوم یہ ہوا کہ اللہ نے نبی ﷺ کو بتادیا کہ جو راز ایک بیوی کے حوالے کیا گیا تھا ، اس تاکید کے ساتھ کہ کسی اور کو پتہ نہ چلے ، وہ اس نے دوسری کو بتادیا ہے۔ اور نبی ﷺ نے جب اس راز دار بیوی سے بات کی تو صرف اشارہ کردیا گیا کہ تم نے راز کو راز نہیں رکھا۔ پوری تفصیل نہ بتائی کہ تم نے یہ باتیں دوسری بیوی سے کیں اور یہ آپ کے مکارم اخلاق کا تقاضا تھا کہ کسی کو زیادہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 شروع سورت میں ہم شہد کا اور ماریہ قبطیہ کا قصہ لکھ چکے ہیں۔ اس آیت میں بتلا دیا کہ بندے ایک بات کو چھپانے کی کتنی ہی کوشش کریں، اللہ جب ظاہر کرنا چاہے تو ہرگز مخفی نہیں رہ سکتی۔ نیز نبی کریم ﷺ کے حسن معاشرت اور وسعت اخلاق کا اس سے ثبوت ملتا ہے کہ آپ خلاف طبع کارروائیوں پر کس قدر تساہل اور اغماض برتتے اور کس طرح ازراہ عفو و کرم بعض باتوں کو ٹلا جاتے تھے۔ گویا شکایت کے موقع پر بھی پورا الزام نہ دیتے تھے۔ " موضح القرآن " میں ہے کہ بعض کہتے ہیں۔ " اس حرم (ماریہ قبطیہ) کا موقوف کرنا آپ ﷺ نے حضرت حفصہ سے کہا اور کسی کو خبر کرنے سے منع کیا۔ اور اس کے ساتھ کچھ اور بات بھی کہی تھی انہوں نے حضرت…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3{ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًاج } ”اور جب نبی ﷺ نے رازداری سے اپنی کسی زوجہ کو ایک بات بتائی۔“ یہاں اس تفصیل میں جانے کا موقع نہیں کہ حضور ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ رض کو راز کی کون سی بات بتائی تھی یا آپ ﷺ نے کن حالات میں کس چیز کو استعمال نہ کرنے کی قسم کھائی تھی۔ تفاسیر میں ان آیات سے متعلق واقعات بڑی تفصیل سے بیان ہوئے ہیں۔ مزید معلومات کے لیے کسی بھی تفسیر سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔ بہرحال یہاں جو اصل بات سمجھنے کی ہے وہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے اپنی ایک زوجہ محترمہ رض کو ایک بات بتائی اور فرمایا کہ یہ میرا راز ہے کسی اور سے اس کا ذکرنہ کرنا۔ { فَلَمَّا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 افشائے راز کی آپ کو بذریعہ وحی خبر ملنا : نبی نے سیدہ حفصہ ؓ سے بات کی کہ میں آئندہ زینب ؓ کے گھر سے کبھی شہد نہ پیوں گا اور ساتھ ہی یہ تاکید بھی کردی کہ آگے میری بات کسی کو نہ بتانا۔ آپ کا یہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اگر میری بات سیدہ زینب ؓ تک پہنچ گئی تو ان کا دل رنجیدہ ہوگا۔ لیکن سیدہ حفصہ ؓ نے اس رازداری کے عہد کو پورا نہ کیا۔ انہوں نے یہ بات سیدہ زینب ؓ کو تو نہ بتائی البتہ سیدہ عائشہ ؓ کو بتادی اور راز کی بات جب ایک سے دوسرے تک چلی جائے تو آگے بھی پھیلتی جاتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اپنے نبی کو اس راز کے فاش ہونے کی اطلاع دے دی۔5 سیدہ حفصہ ؓ سے آپ کا مکالمہ :۔ اس جملہ سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ یعنی جب آنحضرت ﷺ نے اپنی کسی زوج مبارک سے کوئی بات مصلحتا راز دارانہ ارشاد فرمائی تھی، اور منشائے مبارک یہ تھا کہ پھیلنے نہ پائے۔ لیکن ان بیوی صاحبہ نے وہ بات ایک دوسری بیوی صاحبہ تک پہنچا دی، اور ادھر بذریعہ وحی آنحضرت ﷺ کو اس کل واقعہ کی اطلاع کردی گئی، تو پھر بھی آپ ﷺ نے ان پہلی بیوی صاحبہ سے اس شکایت کے وقت بھی پوری بات نہ دہرائی کہ انہیں شرمندگی اور زیادہ ہوتی، بلکہ صرف اتنا ہی جزو فرمایا کہ تم نے ہماری آپس کی بات کو دوسری تک بلااجازت کیوں پہنچا دیا۔ کیا ٹھکانہ ہے رسول کے حلم اور کرم و شفقت کا، کہ عین ناگواری کے وقت بھی دوسروں کے جذبات کا اس درجہ خیال ! (آیت) ” نبات بہ “۔ یعنی ان بیوی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

واذا سرالنبی (الآیۃ) وہ راز کی بات کیا تھی جو آپ ﷺ نے اپنی کسی بیوی سے کہی تھی، صحیح اور اکثر روایات کی رو سے شہد کو حرام کرنے کی بات تھی، اور مخفی رکھنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ زینب ؓ کو اس سے تکلیف و رنج نہ ہو، مگر اس بیوی نے یہ راز دوسری بیوی پر ظاہر کردیا، اس راز کی بات کے بارے میں اگرچہ اور اقوال بھی منقول ہیں مگر راجح یہی قول ہے۔ فلما نبات بہ (الآیۃ) جب اس بیوی نے وہ راز کی بات دوسری بیوی سے کہہ دی اور اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو اس افشائے راز کی خبر کردی تو آپ ﷺ نے اس بیوی سے افشائے راز کا شکوہ کیا مگر پوری بات نہیں کھولی کچھ بات کہی اور کچھ کو ٹال گئے تاکہ اس بیوی کو زیادہ خجالت اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

واذا سر النبی ... الخبیر . ” اور جب پیغمبر ﷺ نے اپنی کسی بی بی سے ایک بات چپکے سے کہی (اور کہہ دیا کہ کسی بی بی سے اس کو کہنا مت) پھر جب اس بی بی نے وہ بات (دوسری بی بی کو) بتلا دی اور پیغمبر ﷺ کو اللہ نے (بذریعہ وحی) اسکی خبر کردی تو پیغمبر ﷺ نے اس ظاہر کردینے والی بی بی کو تھوڑی سی بات تو بتادی اور تھوڑی سی بات کو ٹال گئے۔ سو جب پیغمبر ﷺ نے اس بی بی کو وہ بات جتلا دی تو وہ کہنے لگی آپ کو یہ اطلاع کس نے دی ؟ پیغمبر نے کہا مجھے بڑے علم والے باخبر (خدا) نے خبر دی ہے۔ “ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ : اور یاد کرو ‘ نبی نے جب چپکے سے کہی تھی ‘ جیسا کہ حضرت عمر کی روایت میں آیا ہے۔ اِلیٰ بَعْضِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اور وہ وقت قابل ذکر ہے جبکہ رسول اکرم نے حضرت حفصہ سے ایک بات چپکے سے فرمائی، پھر جب حضرت حفصہ نے حضور کے اس راز سے حضرت عائشہ کو مطلع کردیا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اس چیز سے مطلع کردیا تو رسول اکرم نے حضرت حفصہ سے ان کی کہی ہوئی تھوڑی سی تو بات بتلا دی یعنی حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی خلافت کے بارے میں یا یہ کہ حضرت ماریہ قبطیہ سے خلوت کے بارے میں اور تھوڑی سی بات ٹال گئے اور اس پر ان کی کچھ شکایت نہیں کی، چناچہ جب نبی اکرم نے حضرت حفصہ کو وہ بات جتلا دی جس سے انہوں نے حضرت عائشہ سے کہا تھا آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے۔ شان نزول : يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا : اس بیوی سے مراد حفصہ ؓ ہیں ، جیسا کہ اس سے پہلے شہد اور ماریہ قبطیہ ؓ والے واقعات میں گزر چکا ہے کہ آپ نے ان سے کہا تھا کہ یہ بات کسی کو نہ بتانا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی کوئی بات فرمائی ہو جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر نہیں فرمایا۔ 2۔ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ اللہ ُ عَلَیْہِ : پھر جب حفصہ ؓ نے وہ بات جس کے راز رکھنے کی نہیں رسول اللہ ﷺ نے تاکید فرمائی تھی ، عائشہ ؓ کو بتادی اور اللہ تعالیٰ نے نبی ﷺ کو اس بات کی اطلاع دے دی۔ 3۔ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْم بَعْضٍ : تو آپ ﷺ نے حفصہ ؓ عنہاکو اس میں سے کچھ…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

واذا سرالنبی الی بعض ازواجہ حدیثا یاد کیجئے جب نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ کو راز کی ایک بات بتائی یعنی یہ کہ آپ ﷺ نے حضرت ماریہ کو اپنے اوپر حرام کیا اور حضرت حفصہ سے مطالبہ کیا کہ اس بات کو راز میں رکھے۔ کلبی نے کہا : نبی کریم ﷺ نے حضرت حفصہ سے یہ سرگوشی کی تھی (1) کہ ” تیرا والد اور عائشہ کا والد میرے بعد میری امت پر میرے خلیفہ ہوں گے “۔ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ کہا : نبی کریم ﷺ نے اپنے بعد خلافت کا ذکر حضرت حفصہ سے کیا تو حضرت حفصہ نے اس کا ذکر کیا (2) ۔ دارقطنی اپنی سنن میں کلبی سے وہ ابو صالح سے وہ حضرت ابن عباس ؓ سے واذا سرا النبی الی بعض ازواجہ کی تفسیر میں روایت نقل کرتے ہیں، حضرت…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

1۔ عبدالرزاق والبخاری وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ حرام کاموں میں کفارہ ادا کیا جاتا ہے اور فرمایا آیت لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ البتہ تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ میں اچھا نمونہ ہے۔ 2۔ ابن المنذر والطبرانی والحاکم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا اور کہا میں نے اپنی بیوی کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا تو نے جھوٹ کہا وہ تیرے اوپر حرام نہیں ہے۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت لم تحرم ما احل اللہ لک۔ یعنی تو نے اس چیز کو کیوں حرام کیا جس کو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا۔ پھر فرمایا تیرے اوپر کفارات میں سے سخت ترین کفارہ یعنی غلام آزاد کرنا لازم…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ : اور جب رازدارانہ بتائی نبی نے ] [اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ : اپنی ازواج کو کسی کو ] [حَدِيْثًا : ایک بات ] [فَلَمَا نَبَّاَتْ : پھر جب انھوں (زوجہ) نے بتادیا (کسی کو)] [بِهٖ : اس (راز) کے بارے میں ] [وَاَظْهَرَهُ اللّٰهُ : اور آگاہ کیا ان کو اللہ نے ] [عَلَيْهِ : اس (راز فاش ہونے) پر ] [عَرَّفَ : تو آپ نے بتایا ] [بَعْضَهٗ : اس (آگاہی) کے بعض کو ] [وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ : اور اعراض کیا بعض سے ] [فَلَمَا نَبَّاَهَا : پھر جب آپ نے جتلایا ان (زوجہ) کو ] [بِهٖ : اس کے بارے میں ] [قَالَتْ : تو انھوں (زوجہ) نے کہا ] [مَنْ انۢبَاَكَ هٰذَا : کس نے خبر دی آپ کو اس کی ]…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

رسول اللہ ﷺ کا ایک خصوصی واقعہ جو بعض بیویوں کے ساتھ پیش آیا بعض مفسرین نے اس آیت کا تعلق بھی شہد والے قصہ سے بتایا ہے اور یوں تفسیر کی ہے کہ آپ نے جو یوں فرمایا تھا کہ میں شہد نہیں پیوں گا اس کے ساتھ یہ بھی فرما دیا تھا کہ کسی سے کہنا نہیں لیکن جس اہلیہ سے یہ فرمایا تھا اس نے آپ کی دوسری اہلیہ کو یہ بات بتادی اللہ تعالیٰ نے آپ کو بذریعہ وحی اس سے مطلع فرما دیا تو آپ نے اہلیہ کو تھوڑی سی بات بتادی۔ یعنی یہ جتا دیا کہ تو نے اتنی بات ظاہر کردی ہے کہ فلاں عورت سے کہہ دی اور آپ نے تھوڑی سی بات سے اعراض فرمایا یعنی غایت کرم کی وجہ سے پورے اجزاء کا اظہار نہیں فرمایا تاکہ ظاہر کرنے والی اہلیہ کو یہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

تعلیم صبر و استقامت وعدل و انصاف در حقوق و امور معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی لم تحرم ...... الی ...... انما تجزون ما کنتم تعملون “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں طلاق وعدت کے بعض اہم احکام کا بیان تھا اب اس سورت میں بعض ایسے جذبات طبعیہ کا بیان ہے جن کے باعث خانگی زندگی کا اعتدال و توازن ختم ہوسکتا ہے اور اس سے تفریق وجدائی کی بھی نوبت آسکتی ہے، اور ایک خاص واقعہ بھی حضور اکرم ﷺ کی ازواج کی طرف سے پیش آیا تھا تو اس کی مناسبت سے بعض خصوصی احکام وہدایات بھی بیان فرمائی جارہی ہیں۔ صحیحین و دیگر کتب حدیث میں اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے، حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں آنحضرت ﷺ کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

4:۔ ” واذ اسر النبی “ آنحضرت ﷺ نے کونسی پوشیدہ بات فرمائی اور ازواج مطہرات میں سے کسی سے فرمائی ؟ اس میں مفسرین کا اختلاف ہے۔ صحیح تر یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد شہد کی تحریم ہے جس کا ذکر آپ نے حضرت حفصہ ؓ سے کہا تھا اور ساتھ ہی فرما دیا تھا کہ اس کا ذکر کسی سے نہ کرنا چناچہ علماہ آلوسی نے بخاری، ابن سعد، عبد بن حمید، ابن المنذر اور ابن مردویہ رحمہم اللہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ فقال : لا بل شربت علامہ عند زینب بنت جحش ولن اعور وفی روایۃ : وقد حلفت فلا تخبری بذلک احدا الخ (روح ج 28 ص 146، 150) ۔ مگر حضرت حفصہ سے نہ رہا گیا اور انہوں نے اس کا ذکر حضرت عائشہ سے کردیا ادھر اللہ نے نبی کریم…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 3–5

ربط آیات : پہلی دو آیات میں اس بات کا ذکر تھا کہ اللہ کے نبی نے اپنی بیویوں کی خوشنودی کی خاطر بعض حلال چیزوں کو اپنے لئے حرام قرار دیدیا۔ اللہ نے ایسا کرنے کی ممانعت فرمائی اور حکم دیا کہ آپ اپنی قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کردیں کیونکہ یہ تو خواہ مخواہ مشقت میں پڑنے والی بات ہے ، اب آج کی آیات میں نبی (علیہ السلام) کی ازواج مطہرات ؓ کو تنبیہ کی گئی ہے اللہ نے فرمایا ہے کہ اگر تم نبی کی مخالفت کرو گی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبی کے لئے تم سے بہتر ازواج مہیا کردیگا۔ امہات المومنین ؓ کے لئے بشارت : گزشتہ درس میں بیان ہوچکا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت حفصہ ؓ کے سامنے شہد کو استعمال نہ کرنے یا لونڈی سے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِيْثًا۝ 0 ۚ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْہَرَہُ اللہُ عَلَيْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْۢ بَعْضٍ۝ 0 ۚ فَلَمَّا نَبَّاَہَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْۢبَاَكَ ہٰذَا۝ 0 ۭ قَالَ نَبَّاَنِيَ الْعَلِيْمُ الْخَبِيْرُ۝ 3 سرر (كتم) والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ( س ر ر ) الاسرار السر ۔ اس بات کو کہتے ہیں جو دل میں پوشیدہ ہو ۔ چناچہ قرآن میں ہے ۔ يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] وہ چھپے بھید اور نہایت پوشیدہ بات تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : تبتغی استیناف اوتفسیر لقولہ تحرم اوحال من الضمیر فی تحرم والمرضاۃ اسم مصدرو اصلہ مرضوۃ۔ وھو مضاف الی المفعول الی ان ترضی ازواجک والی الفاعل ای ان یرضین ھن۔ ومعناہ الرضائ۔ ویمکن ان تکون الجملۃ للاستفہام الانکاری تحلۃ اصلہ تحللۃ فسکن وادغم۔ واذ فی موضع نصب باذکر فلما شرط عرف جو ابہ فلما شرط قالت جو ابہ ان تتوبا شرط والجواب محذوف ای فذاک واجب دل علیہ فقد صغت لان اصغاء القلب الی ذلک قریب۔ قلوبکما انما جمع وھما اثنان لان لکل انسان قلبا ومالیس فی الانسان الاواحد جازان یجعل الاثنان فیہ بلفظ الجمع وجازان یجعل بلفظ التثنیۃ وقیل وجہہ ان التثنیۃ جمع ھو مبتداء وخبرہ ان ویجوزان یکون ھو فصلا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْ اَسَرَّالنَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا ج فَلَمَّا نَـبَّاَتْ بِہٖ وَاَظْھَرَہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ عَرَّفَ بَعْضَہٗ وَاَعْرَضَ عَنْ م بَعْضٍ ج فَلَمَّا نَـبَّاھَا بِہٖ قَالَتْ مَنْ اَنْبَاَ کَ ھٰذَا ط قَالَ نَـبَّاَنِیَ الْعَلِیْمُ الْخَبِیْرُ ۔ (التحریم : 3) (اور یہ واقعہ بھی قابل توجہ ہے) کہ جب نبی کریم ﷺ نے رازداری سے اپنی ایک بیوی کو ایک بات بتائی، پھر جب اس بیوی نے دوسری کو راز کی بات بتادی تو اللہ نے اپنے پیغمبر کو اس پر آگاہ کردیا، پیغمبر نے اس بیوی کو کچھ بتادیا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی، پھر جب پیغمبر نے اس بیوی کو اس پر آگاہ کیا تو بیوی نے پوچھا آپ کو اس کی کس نے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 3–4

فہم القرآن ربط کلام : نبی ﷺ نے اپنی بیویوں کے کہنے پر قسم اٹھائی کہ میں آئندہ شہد نہیں کھاؤں گا اس لیے اس سورة کا آغاز اس فرمان سے ہوا کہ اے نبی ﷺ آپ اللہ کی حلال کردہ چیز کو حرام نہیں کرسکتے۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں قسموں کو توڑنے کا طریقہ بتلا دیا ہے اور یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ سب کچھ جاننے والا اور اس کے ہر حکم اور کام میں حکمت ہوا کرتی ہے یہ اس کی پُر حکمت تعلیم ہے تاکہ تمہیں معلوم ہو کہ کسی سے راز کی بات کرنے سے پہلے اس کی راز داری کی صلاحیت کو جاننا ضروری ہے۔ نبی (علیہ السلام) نے آئندہ شہد نہ کھانے کی قسم کھائی اور یہ بات صرف حضرت سودہ ؓ سے بیان فرمائی اور اسے ارشاد فرمایا کہ یہ بات کسی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

حدیث ِماریہ ‘ امامت شیخین : 3 : وَاِذَا اَسَرَّ النَّبِیُّ اِلٰی بَعْضِ اَزْوَاجِہٖ حَدِیْثًا (جب پیغمبر ﷺ نے اپنی کسی زوجہ سے ایک بات چپکے سے کہی اور اس کو کہہ دیا کہ کسی دوسری بی بی سے مت کہنا) حدیث ماریہ اور امامت شیخین مراد ہے۔ فَلَمَّا نَبَّاَتْ بِہٖ (پھر جب اس بیوی نے وہ بات دوسری بی بی کو بتلا دی) عائشہ صدیقہ ؓ کو ظاہر کردی۔ وَاَظْھَرَ ہُ اللّٰہُ عَلَیْہِ (اور پیغمبر ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کی خبر دے دی) پیغمبر ﷺ کو بات کا افشاء کرنا جبرئیل (علیہ السلام) کی زبان پر بتلا دیا گیا۔ عَرَّفَ بَعْضَہٗ (تو پیغمبر ﷺ نے ظاہر کرنے والی بی بی کو تھوڑی سی بات تو بتلا دی) کچھ بات جنوا دی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

2 ۔” قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “ یعنی بیان کیا اور واجب کیا کہ تم ان کا کفارہ دو جب تم حانث ہوجائو اور کفارہ سورة المائدہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ ” واللہ مولاکم “ تمہارا اولی اور تمہارا مددگار ہے۔ ” وھوالعلیم الحکیم “ اہل علم کا لفظ تحریم میں اختلاف ہوا ہے۔ پس ایک قوم نے کہا ہے یہ قسم نہیں ہے۔ پس اگر اپنی بیوی کو کہا تو مجھ پر حرام ” انت علی حرام “ یا کہا ” حرمتک “ میں نے تجھے حرام کردیا ہے۔ پس اگر اس سے طلاق کی نیت کی تو وہ طلاق ہے اور اگر اس سے ظہار کی نیت کی تو یہ ظہار ہے۔ اور اگر اس کی ذات کو حرام کرنے کی نیت کی یا مطلق چھوڑا تو اس پر کفارہ یمین لازم ہوگا محض لفظ کی وجہ سے اور اگر یہ کہا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ صحیحین میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان آیتوں میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ دونوں کا ذکر ہے جس طرح اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کون سی بیبیوں کا ذکر ہے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح صحابہ کے زمانہ میں بھی یہ اختلاف جاری تھا اسی واسطے صحیحین 2 ؎ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرصہ سے میرا ارادہ تھا کہ حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کونسی دو بیبیوں کا ذکر ہے لیکن مجھ کو موقع نہیں ملتا تھا آخر حج کے سفر میں مجھ کو موقع ملا اور میں نے اس بات کو حضرت عمر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ذکر حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کا ہے غرض صحیحین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَاِذْ اَسَرَّ النَّبِيُّ اِلٰى بَعْضِ اَزْوَاجِهٖ حَدِيْثًا ۚ ) اور جب پیغمبر نے اپنی ایکب یوی سے ایک راز کی بات کہی (تو اس نے دوسری کو بتادی) ۔ بہت سے مفسرین کا قول ہے کہ یہ ام المومنی حضرت حفصہ ہیں ان کو نبی اکرم نے کوئی راز کی بات کہی اور ان سے کہا کہ وہ آگے کسی کو نہ بتائیں انہوں نے یہ بات حضرت عائشہ کو بتادی الللہ نے اس خبر کے بارے میں جو حضرت حفصہ نے افشا کردی تھی نبی کو آگاہ کردیا نبی کریم نے اپنے حلم اور کرم کیب نا پر اسب ات میں سے جو انہوں نے افشا کی تھی کچھ بات حضرت حفصہ کو بتادی اور کچھ کے بارے میں اعراض کیا حضرت حفصہ نے آپ سے عرض کیا (مَنْ اَنْۢبَاَكَ هٰذَا ۭ ) یعنی اس خبر سے آپ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

حضور ﷺ نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کرلی تھی قول باری ہے (یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی ﷺ ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے) آیت کے نزول کے سلسلے میں کئی وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ حضور ﷺ ام المومنین حضرت زینب ؓ کے ہاں کھایا پیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے آپس میں صلاح کرکے آپ سے یہ کہا ۔ ہمیں آپ کے منہ سے مغافیر یعنی گوند کی بو آتی ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” میں نے تو زینب کے پاس شہید پیا تھا۔ اب آئندہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک قول کے مطابق آپ نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس اور ایک اور قول کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 3] بعض ازواج مطہرات کے احتساب کا ذکر وبیان۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ وہ بھی یاد کرو جب پیغمبر نے اپنی ایک ہی بیوی کو ایک بات راز میں کہی مگر وہ اسکا افشاء کر بیٹھیں تو وحی کے ذریعے خبر پانے پر پیغمبر نے اس بات کا کچھ حصہ ظاہر فرما دیا اور کچھ سے چشم پوشی فرمائی اپنے کریمانہ اخلاق کی بنا پر کیونکہ کریم کی صفت اور شان یہی ہوتی ہے کہ وہ ساری بات نہیں کہہ دیتا، فان الکریم لایستقصی قط۔ (قالہ الحسن، روح، خازن، صفوہ وغیرہ) سو نبی نے اپنی بیوی صاحبہ کا احتساب تو فرمایا کہ یہ دین کا تقاضا تھا لیکن اس میں بھی شدت اور سختی کے پہلو کو نہیں رحمت ورافت کے طریقہ کو اختیار کیا کیونکہ ایک تو آپ کی ذات اقدس…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

آیات 1 تا 7 اسرار ومعارف۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 مرا حضرت حفضہ ہیں۔ 1 یعنی حضرت عائشہ کو2 یعنی بذریعہ وحی بتادیا کہ اس نے دوسری بیوی سے یہ راز کی بات کہہ دی ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(66:3) واذ واؤ عاطفہ ہے اذ فعل اذکر (محذوف) سے موضع نصب میں ہے۔ اور یاد کر جب ۔۔ اسر الی۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب اسرار (افعال) مصدر۔ اس نے چھپا کر کہا۔ اس نے آہستہ بات کی۔ اس نے راز دارانہ بات کی۔ ازواجہ مضاف مضاف الیہ ہ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع النبی ہے اپنی بیویوں (میں سے) ایک سے۔ حدیثا۔ بات، احادیث جمع۔ فلما شرط۔ نبات بہ : نبات ماضی واحد مؤنث غائب۔ تنبئۃ (تفعیل) مصدر۔ اس عورت نے خبر دیدی۔ بات بتادی۔ اطلاع دی۔ بہ میں ہ ضمیر واحد مؤنث غائب حدیثا کے لئے ہے۔ یعنی جب اس بیوی نے وہ بات جو اس سے رازدارانہ کہی گئی تھی آگے بیان کردی یعنی کسی دوسری کو بات بتادی۔ واظھرہ اللہ علیہ واؤ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ لم تحرم۔ کیوں حرام کرتا ہے۔ احل۔ اس نے حلال کردیا۔ تبتغی۔ تو طلب کرتا ہے۔ چاہتا ہے۔ فرض۔ اس نے طریقہ قاعدہ بنا دیا۔ تحلۃ۔ کھول ڈالنا۔ ایمان۔ قسمیں۔ مولیٰ ۔ مالک اسر۔ چپکے سے کہا۔ حدیثا۔ بات۔ اظھرہ۔ اس نے ظاہر کردیا۔ من انباک۔ کس نے تجھے بتا دیا۔ ان تتوبا۔ اگر تم دونوں نے توبہ کرلی۔ قد صغت۔ یقینا پلٹ گئی۔ پلٹ گئے۔ تظھرا۔ تم دونوں مل گئے۔ تم دونوں مل گئیں۔ ظھیر۔ مددگار۔ قنتت۔ ادب سے جھکنے والیاں۔ تئبت۔ توبہ کرنے والیاں۔ عبدات۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت۔ روزہ رکھنے والیاں۔ ثیبت۔ بیوہ عورتیں۔ شوہر سے جدا ہوجانے والیاں۔ ابکارا۔ (بکر) ۔ کنواریاں۔ تشریح : چونکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

حضور کی زیادہ ازواج مطہرات پر عیسائی اور آریوں کے اعتراض پر جواب۔ (ف 1) شان نزول : ہر زوجہ مطہرہ کو محبت اور تعلق حضور کے ساتھ تھا اور ہر ایک زوجہ کی تمنا اور کوشش تھی کہ وہ زائد از زائد حضور کی توجہات کامرکز بن کردارین کی برکات وفیوض سے متمع ہو آپ کی عادت تھی کہ عصر کے بعد سب ازواج کے ہاں تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے جب ام المومنین زینب بنت جحش ؓ کے یہاں حضور تشریف لے جاتے تو وہ شہدپیش کرتیں، اس ذریعہ سے انکے یہاں کچھ زیادہ تشریف فرمارہتے ، یہ بات حضرت عائشہ وحفصہ ؓ وغیرہما کو ناگوار گذری اور انہیں رشک ہوا انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوں تو عرض کیا جائے کہ دہن مبارک سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[4] یعنی آپ ﷺ نے اپنی کسی زوجہ محترمہ سے کوئی بات مصلحتاً رازدارانہ فرمائی تھی اور منشائے مبارک یہ تھا کہ پھیلنے نہ پائے۔ لیکن ان زوجہ محترمہ نے وہ بات ایک دوسری زوجہ محترمہ کو پہنچا دی۔ ادھر بذریعہ وحی آپ ﷺ کو اس واقعہ کی اطلاع کردی گئی تو پھر بھی آپ ﷺ نے اپنی پہلی زوجہ محترمہ سے اس شکایت کے وقت بھی پوری بات نہ دہرائی کہ انہیں اور زیادہ شرمندگی ہوگی بلکہ اتنے ہی پر اکتفا فرمایا کہ تم نے ہماری آپس کی بات کو دوسری تک بلا اجازت کیوں پہنچا دیا۔ [5] اللہ تعالیٰ کا نبی ﷺ کو اس بات کی خبر دینے کا ذکر پورے قرآن میں کہیں نہیں ہے یہ اس بات کا صریح ثبوت ہے کہ قرآن کے علاوہ بھی نبی ﷺ پر وحی کا نزول ہوتا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة تحریم کی شان نزول ان آیات میں دو اور مشہور واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔ ایک یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ عام عالم طور پر ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کے ہاں توقف فرماتے ۔ اور شہدکھاتے ۔ یہ بات حصرت عائشہ اور حصرت حفصہ کو سوکن ہونے کی وجہ سے ناگوار محسوس ہوتی ۔ اس لئے طے یہ پایا ۔ کہ جب حضور ﷺ شہدنوش فرما کر تشریف لائیں تو اس وقت ان سے کہا جائے ۔ کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بوآرہی ہے (مغافیر ایک قسم کی بدبو اور گوند ہے) اور چونکہ بو سے آپ کو طبعی نفرت ہے ۔ اس لئے اس تدبیر سے آپ حضرت زینب نے شہد کھانا اور چندے قیام فرمانا چھوڑ دیں گے ۔ چناچہ باری باری حضرت حفصہ نے حضور ﷺ سے یہی کہا ۔ تو آپ نے عہد کرلیا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(3) اور جب پیغمبر نے اپنی بیویوں میں سے کسی ایک بیوی سے پوشیدہ بات کہی پھر جب اس بیوی نے اس پوشیدہ بات کو ظاہر کردیا یعنی کسی دوسری بیوی سے کہہ دی اور اللہ تعالیٰ نے پیغمبر کو اس واقعہ اور اس افشاء راز کی خبر دے دی۔ تو پیغمبر نے اس افشاء راز کرنے والی بیوی کو بات کا کچھ حصہ تو جتا دیا اور کچھ حصے کو نظرانداز کردیا اور اس کے جتانے سے چشم پوشی کی اور جب پیغمبر نے اس بیوی کو جتا تو وہ تعجب سے کہنے لگی کہ میرا اس پوشیدہ بات کو ظاہر کردینا آپ کو کس نے بتادیا پیغمبر نے فرمایا مجھ کو بڑے علم والے بڑے خبردار نے بتادیا یعنی مجھ کو اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں بعضے کہتے ہیں اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ سبب نزول اول کی آیتوں کا حضرت عائشہ ؓ سے صحیح بخاری وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول شریف تھا کہ بعد عصر کھڑے کھڑے بیبیوں کے پاس تشریف لاتے، ایک بار حضرت زینب ؓ کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے اور شہد پیا، تو مجھ کو رشک آیا، میں نے حضصہ سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس تشریف لاویں وہ یوں کہے کہ آپ نے مغافیر نوش فرمایا ہے (یہ ایک گوند ہے جو کر یہ الرائح ہے) چناچہ ایسا ہی ہوا، آپ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے، ان بی بی نے کہا کہ شاید کوئی مکھی اس کے درخت پر بیٹھ گئی ہوگی اور اس کا رس چوس لیا ہوگا، آپ نے بقسم فرمایا کہ میں پھر شہد نہ پیوں گا اور اس خیال سے کہ حضرت زینب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

Explained with ayahs 3–4

رسول اللہ ﷺ نے ایک راز کی بات اپنی ایک زوجہ محترمہ سے کی 3 ؎ قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی ( اذ) یا ( واذ) وارد ہوا ہے وہاں لفظ (اذکر) محذوف مانا گیا ہے یعنی آپ ﷺ ان سے ذکر کیجئے ، اس وقت کو یاد کیجئے ، آپ خود یاد کیجئے ۔ مختصر یہ یہ کہ سیاق وسباق کے اعتبار سے جیسا موقع ہوگا ویسے معنی مراد لے لیے جائیں گے۔ اس سے یہ بات خود بخود نکل آتی ہے کہ جہاں یہ استعمال ہوا وہاں ایک نئی بات شروع ہوئی اور گزشتہ بات کو اس نے آنے والی بات سے الگ کردیا یوں سمجھیں کہ کوئی بات پہلے بیان کی جا چکی ہو تو اس کی دوبارہ یاد دہانی کرانا مقصود ہو تو اس کا استعمال کرلیا تاکہ اس واقعہ کی ایک الگ حیثیت قائم ہوجائے اور اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

وَإِذْ أَسَرَّ‌ النَّبِيُّ إِلَىٰ بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا (And [ remember ] when the Prophet ﷺ told one of his wives something in secret...66:3). The Holy Prophet ﷺ confided a certain secret in one of his wives. According to most versions of the authentic report, the 'secret' in this verse refers to the ban the Holy Prophet ﷺ imposed on himself about honey, but at the same time he did not want Sayyidah Zainab's ؓ feelings to be hurt and therefore he directed the wife to keep it secret from others, but the disclosing wife divulged the secret to another wife, as follows in the next verse.…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

6 Different things have been reported in different traditions, saying that the Holy Prophet had told such and such a thing to one of his wivcs in confidence, which she disclosed to another wife. But for us, in the first place, it is not right to investigate it, for it is on the disclosure of a secret that AIIah is taking a wife to task it cannot therefore be right for us to enquire into it and try to uncover it. Secondly, in view of the object for which this verse wa: sent down, it is not at alI important to know what the secret was. Had it any connection with the object of the discourse,…

Read the full tafseer →