At-Tahrim 66:2

At-Tahrim · from ayah 2

66:2

قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَیْمَانِكُمْ ۚ— وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ ۚ— وَهُوَ الْعَلِیْمُ الْحَكِیْمُ ۟قَدۡ فَرَضَ اللّٰهُ لَـكُمۡ تَحِلَّةَ اَيۡمَانِكُمۡ‌ؕ وَاللّٰهُ مَوۡلٰٮكُمۡ‌ۚ وَهُوَ الۡعَلِيۡمُ الۡحَكِيۡمُ‏

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ اور خدا ہی تمہارا کارساز ہے۔ اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah has already ordained for you [Muslims] the dissolution of your oaths. And Allah is your protector, and He is the Knowing, the Wise.

— Saheeh International

Juz 28 · Ruku 1 of surah · Ruku 19 of juz

Read the whole surah · Surah At-Tahrim

All translations of 66:2

اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کر دیا ہے اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے تم لوگوں کے لئے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے۔ اور خدا ہی تمہارا کارساز ہے۔ اور وہ دانا (اور) حکمت والا ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے قسموں کو کھول ڈالنا مقرر کر دیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی (پورے) علم واﻻ، حکمت واﻻ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے تمہاری قسموں سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی ہے جس کا علم بھی کامل ہے، حکمت بھی کامل۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا اتار مقرر فرمادیا اور اللہ تمہارا مولیٰ ہے، اور اللہ علم و حکمت والا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اے مومنو!) بیشک اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قَسموں کا (کفارہ دے کر) کھول ڈالنا مقرر فرما دیا ہے۔ اور اللہ تمہارا مددگار و کارساز ہے، اور وہ خوب جاننے والا بڑی حکمت والا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بیشک اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے اور اللہ تمہارا مالک ہے اور وہی سب کچھ جاننے والا، کمال حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے تمہارے لیے (ناجائز) قسموں کو کھول دینا واجب قرار دیا ہے۔ اللہ ہی تمہارا سرپرست ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور اللہ نے تمہاری خلاف شرع قسموں کا توڑ دینا تم پر فرض کردیا ہے اور اللہ ہی تمہارا مولیٰ و مرجع ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا (اپنے کرم سے) تمہارے لئے تمہاری قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ اور اللہ ہی کارساز ہے تم سب کا اور وہی ہے سب کچھ جانتا نہایت حکمت والاف

— مولانا اسحاق مدنی

اللہ نے تمہارے لئے تمہاری قسموں کا کھولنا مقرر کردیا ہے۔ اور اللہ تمہارا کارساز ہے وہ بڑی علم والا ہے بڑا حکمت والا ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔ اور اللہ تمہارا مددگار ہے اور وہ سب کچھ جاننے والا کمال حکمت والا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے تم لوگوں کے لیے تمہاری قسموں کا کفارہ مقرر کردیا ہے اور اللہ ہی تمہارا کار ساز ہے اور وہ دانا اور حکمت والا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has prescribed for you a way for the absolution of your oaths. Allah is your Guardian. He is All-Knowing, Most Wise.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has prescribed (the way of) absolution from your oaths. And Allah is your protector, and He is the All- Knowing, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has prescribed (the way of) absolution from your oaths. And Allah is your protector, and He is the All- Knowing, the All-Wise.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah has already ordained for you (O men) the absolution from your oaths. And Allah is your Protector and He is the All-Knower, the All-Wise.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah hath made lawful for you (Muslims) absolution from your oaths (of such a kind), and Allah is your Protector. He is the Knower, the Wise.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah has already ordained for you [Muslims] the dissolution of your oaths. And Allah is your protector, and He is the Knowing, the Wise.

— Saheeh International

God has shown you how to absolve yourselves of your oaths. He is your Guardian and is All-knowing and All-wise.

— Muhammad Sarwar

Allah indeed has sanctioned for you the expiation of your oaths and Allah is your Protector, and He is the Knowing the Wise.

— Muhammad Habib Shakir

Surely Allah hath ordained for you absolution from your oaths; and Allah is your Patron and He is the Knower, the Wise.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah has already ordained for you, (O men), the dissolution of your oaths (in some cases): and Allah is your Protector, and He is Full of Knowledge and Wisdom.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 66:2

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–5

اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں (ا) بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور ﷺ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر ؟ چناچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہوجائے گا ؟ تو…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة التَّحْرِيْم 4 مطلب یہ ہے کہ کفارہ دے کر قسموں کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ، آیت 89 میں مقرر دیا ہے اس کے مطابق عمل کر کے آپ اس عہد کو توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لیے کیا ہے۔ یہاں ایک اہم فقہی سوال پیدا ہوتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ آیا یہ حکم اس صورت کے لیے ہے جبکہ آدمی نے قسم کھا کر حلال کو حرام کرلیا ہو، یا بجائے خود تحریم ہی قسم کی ہم معنی ہے خواہ قسم کے الفاظ استعمال کیے گئے ہوں یا نہ کیے گئے ہوں ؟ اس سلسلے میں فقہاء کے درمیان اختلاف ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ محض تحریم قسم نہیں ہے۔ اگر آدمی نے کسی چیز کو، خواہ وہ بیوی ہو یا کوئی دوسری…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ، یعنی اللہ تعالیٰ نے ایسی صورتوں میں جہاں قسم کا توڑنا ضروری یا مستحسن ہو تمہاری قسموں سے حلال ہونے یعنی قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینے کا راستہ نکال دیا ہے جسکا ذکر دوسری آیات میں مفصل ہے۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

(قد فوض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم واللہ مولکم وھو العلیم الحکیم) (2)۔ (ناجائز قسم کے بارے میں شریعت کا حکم)۔ یہ حکم بیان فرمایا ہے اس صورت کے لیے جب کوئی شخص اپنے اوپر کسی جائزچیز کو حرام کرلینے کی قسم کھا بیٹھے۔ اوپر کی آیت میں خطاب صرف نبی ﷺ سے تھا اس آیت میں عام مسلمانوں سے ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اس لغزش پر ٹوکنے سے اصل مقصود جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا یہی تھا کہ اس کے سبب سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ ہو، چناچہ اس آیت میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرمایا گیا کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے اوپر کسی ناجائز چیز کو حرام کرلینے کی قسم کھا بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے یہ ضروری ٹھہرایا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

2۔ 1 یعنی کفارہ ادا کرکے اس کام کو کرنے کی، جس کی نہ کرنے کی قسم کھائی ہو، اجازت دے دی، قسم کا یہ کفارہ سورة مائد ۃ۔ 89 میں بیان کیا گیا ہے۔ چناچہ نبی ﷺ نے بھی کفارہ ادا کیا (فتح القدیر) اس امر میں علماء کے مابین اختلاف ہے کہ اگر کوئی شخص کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلے تو اس کا یہ حکم ہے ؟ جمہور علماء کے نزدیک بیوی کے علاوہ کسی چیز کو حرام کرنے سے وہ چیز حرام ہوگی اور نہ اس پر کفارہ ہے، اگر بیوی کو اپنے اوپر حرام کرے گا تو اس سے اس کا مقصد اگر طلاق ہے تو طلاق ہوجائے گی اور اگر طلاق کی نیت نہیں ہے تو راجح قول کے مطابق یہ قسم ہے، اس کے لئے کفارہ کی ادائیگی ضروری ہے۔ (ایسر التفاسیر)۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

2: آنحضرت ﷺ نے شہد نہ پینے کی جو قسم کھالی تھی، اس پر اس آیت میں ہدایت دی گئی ہے کہ آپ وہ قسم توڑدیں اور کفارہ ادا کردیں، چنانچہ ایک حدیث میں بھی فرمایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص کوئی نامناسب قسم کھالے تو اسے قسم توڑ کر کفارہ ادا کردینا چاہیے، کفارہ وہی ہے جو سورة مائدہ (5: 89) میں بیان فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–2

یہ دراصل ایک عتاب ہے کیونکہ کوئی مومن اپنے اوپر اس چیز کو حرام نہیں کرسکتا جو اللہ نے حلال کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ” شہد “ یا ” ماریہ “ کے پاس جانے کو ازروئے قانون اور شریعت تو حرام نہ کیا تھا۔ صرف اپنے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ میں اس کام کو دوبارہ نہیں کروں گا۔ اس پر یہ جھڑکی آئی کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ، کسی کو خوش کرنے کے لئے ان سے اپنے آپ کو محروم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا۔ واللہ غفور رحیم (66 : 1) ” اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ فعل قابل مواخذہ ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت طلب کی جائے اور اللہ کی رحمت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اس مالک نے اپنے علم و حکمت سے تمہارے لیے مناسب احکام و ہدایات بھیجے ہیں جن میں سے ایک یہ ہے کہ اگر کوئی شخص نامناسب چیز پر قسم کھالے تو کفر دے کر (جس کا ذکر سورة " مائدہ " میں آچکا۔ ) اپنی قسم کھول سکتا ہے۔ حضرت شاہ صاحب لکھتے ہیں۔ " اب جو کوئی اپنے مال کو کہے یہ مجھ پر حرام ہے تو قسم ہوگئی۔ کفارہ دے، تو اس کو کام میں لائے کھانا ہو یا کپڑا یا لونڈی۔ "

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 2 { قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَــکُمْ تَحِلَّۃَ اَیـْمَانِکُمْ } ”اللہ نے تمہارے لیے اپنی قسموں کو کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔“ یعنی کفارہ دے کر قسموں کی پابندی سے نکلنے کا جو طریقہ سورة المائدۃ کی اس آیت میں بتایا گیا ہے : { لاَ یُـؤَاخِذُکُمُ اللّٰہُ بِاللَّـغْوِ فِیْٓ اَیْمَانِکُمْ وَلٰـکِنْ یُّـؤَاخِذُکُمْ بِمَا عَقَّدْتُّـمُ الْاَیْمَانَج فَـکَفَّارَتُہٗٓ اِطْعَامُ عَشَرَۃِ مَسٰکِیْنَ مِنْ اَوْسَطِ مَا تُطْعِمُوْنَ اَہْلِیْکُمْ اَوْکِسْوَتُہُمْ اَوْ تَحْرِیْرُ رَقَـبَۃٍط فَمَنْ لَّـمْ یَجِدْ فَصِیَامُ ثَلٰـثَۃِ اَیَّامٍط ذٰلِکَ کَفَّارَۃُ اَیْمَانِکُمْ اِذَا حَلَفْتُمْط وَاحْفَظُوْٓا…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

2 قسم کے کفارہ کا تفصیلی ذکر سورة مائدہ کی آیت نمبر 89 کے تحت گزر چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ قسم کا کفارہ ادا کرکے اس عہد اور قسم کو توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے آپ پر حرام کرلینے سے متعلق کیا ہے۔ 3 یعنی اللہ تمہارے تمام معاملات کا نگران اور محافظ ہے اس نے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ بھی اپنے علم و حکمت کی بنا پر کی ہیں۔ اور جو حرام کی ہیں وہ بھی علم و حکمت کی بنا پر ہی حرام کی ہیں۔ تمہارا کام بس یہ ہے کہ تمہیں کسی حکم کی حکمت سمجھ میں آئے یا نہ آئے۔ اس کے احکام کی اطاعت کرتے جاؤ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

3۔ (تو آپ اگر قسم بھی کھاچکے ہیں، تو کفارۂ حلف دے کر اس سے آزادی حاصل کرسکتے ہیں۔ ) روایتوں میں حضرت انس بن مالک کے حوالہ سے آتا ہے کہ آپ ﷺ نے کفارہ میں ایک غلام آزاد فرمایا۔ (آیت) ” لکم .... ایمانکم “۔ ابھی خطاب نبی ﷺ سے انفرادا تھا۔ معا اب امت سے بصیغہ جمع مخاطب ہونے لگا۔ 4۔ (جس نے اپنے علم و حکمت سے کام لے کر تمہاری ضرورتوں اور مصلحتوں کا خیال کرکے دشواریوں کو تمہارے لیے آسان کردیا ہے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–2

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس کو جس کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے ؟ یعنی اپنی باندی ماریہ قبطیہ ؓ کو جب کہ آپ ﷺ نے اس سے حفصہ ؓ کے گھر میں ہمبستری فرمائی، اور حفصہ ؓ موجود نہیں تھیں، اچانک آگئیں اور یہ بات ان کے گھر میں ان کے بستر پر ان کو گراں گزری، اس وقت آپ ﷺ نے ھی حرام علی وہ میرے اوپر حرام ہے فرما دیا، اس کو حرام کر کے اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، اللہ بخشنے والا مہربان ہے آپ ﷺ کے اس حرام کرنے کو معاف فرما دیا، تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کو کفارہ دے کر جس کا سورة مائدہ میں ذکر ہے کھول ڈالنا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قد فرض ... الحکیم . ” اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لیے تمہاری قسموں کا کھولنا (اور اس کا طریقہ یعنی قسم توڑنے کے بعد اس کے کفارے کا طریقہ) مقرر کردیا ہے اور اللہ تمہارا کارساز ہے اور وہی بڑا جاننے والا ‘ بڑی حکمت والا ہے۔ قَدْ فَرَضَ : یعنی اللہ نے قانون بنا دیا (مشروع کردیا) ۔ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ : یعنی جن حلال امور کو قسم کھا کر تم اپنے اوپر حرام کرلیتے ہو ان کو حلال بنانے کا طریقہ یا قسم کی گرہ کھول دینے کا قانون یا یہ مطلب ہے کہ جب تم اپنی قسم کو توڑنا چاہو تو اللہ نے اس کا کفارہ ادا کرنا تم پر واجب کردیا ہے۔ کفارہ اس چیز کو کہتے ہیں جس کو کرنے سے قسم کی گرہ کھل جائے یعنی قسم شکنی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کی قسموں کا کفارہ بیان کردیا ہے۔ چناچہ حضور اکرم نے اپنی اس قسم کا کفارہ ادا کیا اور ماریہ قبطیہ کے ساتھ تعلق کو باقی رکھا وہ تمہارا محافظ و مددگار ہے اور وہ ان واقعات سے واقف اور حکمت والا ہے کہ کفارہ کا حکم دیا۔ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ (الخ) اور امام طبرانی نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت ابوہریرہ سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم اپنی باندی حضرت ماریہ کے پاس حضرت حفصہ کے گھر میں تشریف لے گئے، حضرت حفصہ آئیں تو حضور کو ان کے پاس بیٹھا ہوا پایا اس پر حضرت حفصہ رنجیدہ ہوئیں اس پر آپ نے فرمایا اے حفصہ اگر میں ان (ماریہ قبطیہ) کو ہاتھ لگاؤں تو یہ مجھ پر…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

1۔ قَدْ فَرَضَ اللہ ُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ :”تحلۃ“ ”حلل“ (تفعیل) کا مصدر ”تحلیل“ اور ”تحلۃ“ دونوں آتے ہیں ، جیسے ”کرم“ کا مصدر ”تکریم“ اور ”تکرمۃ“ دونوں آتے ہیں۔ معنی ہے حلال کرنا ، مراد قسم کا کفار ہ ہے۔ جس کے ادا کرنے کے بعد وہ چیز حلال ہوجاتی ہے جو قسم کھا کر حرام کی تھی ، یعنی آپ نے قسم کھا کر جو شہد اور ماریہ کو حرام کیا ہے ، اس قسم کا کفارہ دے دیں۔ قسم کا کفارہ اللہ تعالیٰ نے سورة ٔ مائدہ (89) میں بیان فرمادیا ہے۔ ابو موسیٰ اشعری ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :(وانی واللہ ! ان شاء اللہ لا اخلف علی یمین فازی غیرھا خیرا منھا الا کفرت عن یمینی ، واتیت الذی ھو خیر)…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

اس میں تین مسائل ہیں : قسم کی تحلیل کفارہ ہے مسئلہ نمبر 1 ۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم یمین کی تحلیل کفارہ ہے یعنی جب تم نے جس امر کے بارے میں قسم اٹھائی ہے اس کو مباح کرنے کو پسند کرو تو کفارہ ہی اس کی تحلیل (ختم کرنے والا) بن سکتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد گرامی ہے فکفارتہ اطعام عشرۃ مسکین (المائدہ : 89) اس سے یہ چیز حاصل ہوتی ہے جس نے ماکول یا مشروب میں سے کسی چیز کو حرام کیا۔ ہمارے نزدیک وہ چیز اس پر حرام نہ ہوگی کیونکہ کفارہ، قسم کے لئے ہوتا ہے تحریم کے لئے نہیں ہوتا جیسے ہم بیان کرچکے ہیں۔ امام ابوحنیفہ ہر حال میں اسے قسم خیال کرتے ہیں اور اس میں مقصود، انتقاع کا اعتبار کرتے ہیں…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

15۔ ابن سعد نے زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ام ابراہیم کو حرام کرلیا۔ اور فرمایا وہ مجھ پر حرام ہے اور مزید فرمایا اللہ کی قسم میں اس کے قریب نہیں جاؤں گا۔ تو یہ آیت نازل ہوئی آیت قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ 16۔ ابن سعد نے مسروق اور شعبی رحمہما اللہ دونوں سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی باندی سے ایلا کیا اور اس کو حرام قرار دیا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ قد فرض اللہ لکم تحلہ ایمانکم۔ اور یہ حکم بھی نازل فرمایا آیت لم تحرم ما احل اللہ لک۔ حلال کو حرام کرنے کی قسم کھائے تو توڑنا واجب ہے 17۔ الہیثم بن کلیب فی مسندہ اور الضیاء المقدسی نئے المختارہ میں نافع کے طریق ابن عمر ؓ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ : فرض کردیا ہے اللہ نے آپ لوگوں کے لیے ] [تَحِلَّةَ اَيْمَانكُمْ : اپنی قسموں کا کفارہ ادا کرنے کو ] [وَاللّٰهُ مَوْلٰىكُمْ : اور اللہ ہی آپ لوگوں کا کارساز ہے ] [وَهُوَ الْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ : اور وہ ہی جاننے والا ہے حکمت والا ہے ] نوٹ۔ 1: حضرت عائشہ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد تمام ازواج مطہرات کے پاس چکر لگاتے تھے۔ ایک موقعہ پر آپ حضرت زینب کے ہاں زیادہ دیر تک بیٹھنے لگے، کیونکہ ان کے ہاں کہیں سے شہد آیا ہوا تھا اور آپ وہاں سہد کا شربت نوش فرماتے تھے۔ حضرت عائسہ کا بیان ہے کہ مجھ کو اس پر رشک آیا اور میں نے حضرت حفصہ، حضرت سودہ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

قسم کھانے کے بعد کیا طریقہ اختیار کیا جائے : ﴿ قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ 1ۚ﴾ (اے مسلمانو ! اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کا کھول دینا مشروع فرمایا ہے) اس میں لفظ لکم بڑھا کر یہ بتادیا کہ ساری امت کے لیے یہی حکم ہے کہ جب کسی چیز کی قسم کھا لیں تو اللہ تعالیٰ نے اس سے عہد برآ ہونے کا جو طریقہ مشروع فرمایا ہے اس کے مطابق عمل کرلیں۔ یہ قسم کا کھولنا یعنی قسم کھا کر جو بات اپنے ذمہ کرلی ہے اس سے نکلنا دو طریقہ سے ہے ایک تو یہ ہے کہ قسم کو پورا کر دے (بشرطیکہ معصیت نہ ہو) اور دوسرا یہ کہ اگر قسم ٹوٹ جائے تو اس کا کفارہ دے دیا جائے ان دونوں صورتوں سے قسم ختم ہوجاتی ہے یعنی اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–3

تعلیم صبر و استقامت وعدل و انصاف در حقوق و امور معاشرت : قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی لم تحرم ...... الی ...... انما تجزون ما کنتم تعملون “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں طلاق وعدت کے بعض اہم احکام کا بیان تھا اب اس سورت میں بعض ایسے جذبات طبعیہ کا بیان ہے جن کے باعث خانگی زندگی کا اعتدال و توازن ختم ہوسکتا ہے اور اس سے تفریق وجدائی کی بھی نوبت آسکتی ہے، اور ایک خاص واقعہ بھی حضور اکرم ﷺ کی ازواج کی طرف سے پیش آیا تھا تو اس کی مناسبت سے بعض خصوصی احکام وہدایات بھی بیان فرمائی جارہی ہیں۔ صحیحین و دیگر کتب حدیث میں اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے، حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں آنحضرت ﷺ کچھ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 1–2

2:۔ ” یا ایہا النبی “ ذکر آداب بطور تمہید۔ آنحضرت ﷺ کو حلال چیزوں سے قسم کھا کر اجتناب کی ممانعت اور ازواج مطہرات کو خلاف رضاء آنحضرت ﷺ امور سے اجتناب کی تلقین فرمائی۔ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا اور آپ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش ؓ کے یہاں روزانہ شہد تناول فرماتے۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ نے ازراہ رقابت سوچا کہ زینب ؓ کو یہ شرف کیوں حاصل ہو۔ کسی ترکیب سے آپ کو شہد سے متنفر کیا جائے۔ چناچہ دونوں نے طے کیا کہ آپ جس کے پاس بھی آئیں وہ کہہ دے کہ حضرت ! آج آپ کے پاس سے مغافیر کی بو آر ہی ہے، کیا آپ نے مغافیر تناول فرمائی ہے، چناچہ آپ پہلے حضرت حفصہ ؓ کے پاس…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–2

نام اور کوائف : اس سورة مبارکہ کا نام سورة التحریم ہے ، اس کو سورة النبی بھی کہا جاتا ہے یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بارہ آیتیں اور دو ررکوع ہیں اور یہ سورة 249 الفاظ اور 1060 حروف پر مشتمل ہے۔ سابقہ سورة کے ساتھ ربط : یہ سورة اس سے پہلی سورة الطلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ دونوں سورتوں میں بعض عائلی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ البتہ دونوں سورتوں میں ربط یہ ہے کہ پہلی سورة میں عدوات ونفرت کی بنا پر پیدا ہونے والے حالات سے متعلق قوانین تھے جب کہ اس سورة میں محبت و چاہت سے پیدا ہونے والے بعض معاملات سے متعلق قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موقع خوشی کا ہو یا غمی کا۔ الفت و محبت کی بات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَدْ فَرَضَ اللہُ لَكُمْ تَحِلَّۃَ اَيْمَانِكُمْ۝ 0 ۚ وَاللہُ مَوْلٰىكُمْ۝ 0 ۚ وَہُوَالْعَلِيْمُ الْحَكِيْمُ۝ 2 ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما حكيما،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 1–4

ترکیب : تبتغی استیناف اوتفسیر لقولہ تحرم اوحال من الضمیر فی تحرم والمرضاۃ اسم مصدرو اصلہ مرضوۃ۔ وھو مضاف الی المفعول الی ان ترضی ازواجک والی الفاعل ای ان یرضین ھن۔ ومعناہ الرضائ۔ ویمکن ان تکون الجملۃ للاستفہام الانکاری تحلۃ اصلہ تحللۃ فسکن وادغم۔ واذ فی موضع نصب باذکر فلما شرط عرف جو ابہ فلما شرط قالت جو ابہ ان تتوبا شرط والجواب محذوف ای فذاک واجب دل علیہ فقد صغت لان اصغاء القلب الی ذلک قریب۔ قلوبکما انما جمع وھما اثنان لان لکل انسان قلبا ومالیس فی الانسان الاواحد جازان یجعل الاثنان فیہ بلفظ الجمع وجازان یجعل بلفظ التثنیۃ وقیل وجہہ ان التثنیۃ جمع ھو مبتداء وخبرہ ان ویجوزان یکون ھو فصلا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَـکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ ج وَاللّٰہُ مَوْلٰـکُمْ ج وَھُوَالْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ ۔ (التحریم : 2) (بےشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے تمہاری قسموں کی گرہ کھولنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے، اور اللہ ہی تمہارا کارساز ہے، اور وہی علیم و حکیم ہے۔ ) قسم کا کفارہ اور اس کے احکام تَحِلَّۃ، تَفْعِلَۃ کے وزن پر ہے، یہ باب تفعیل کا دوسرا وزن ہے۔ یعنی تفعیل کے دو وزن آتے ہیں، ایک تفعیل کے وزن پر اور ایک تفعلہ کے وزن پر۔ جیسے کَمَّلَسے تکمیل اور تکملہ دونوں وزن آتے ہیں۔ علامہ راغب نے آیت کے اس جملے کا مفہوم بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے وہ چیز بیان کردی ہے جس سے تمہاری قسموں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 1–2

فہم القرآن ربط سورت : التغابن کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ سورة التحریم کی ابتدا میں اس کا ثبوت نبی ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کے حوالے سے دیا گیا ہے۔ التحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے جو عام طور پر کھانے پینے کے بارے میں استعمال ہوتا ہے اس کا معنٰی ہے کہ کسی چیز کو حرام کرنا یاسمجھنا۔ اس سورت کا نام التحریم رکھا گیا اس لیے کہ اس کی پہلی آیت میں اس واقعہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات کی طرف سے پیش آیا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ عصر کی نماز کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے ہاں باری باری کچھ وقت گزارتے تاکہ گھریلو حالات سے آگہی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قسم کی نکلنے کی راہ : 2 : قَدْ فَرَضَ اللّٰہُ لَکُمْ تَحِلَّۃَ اَیْمَانِکُمْ (اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کیلئے تمہاری قسموں کے کھولنے (کاطریقہ) مقرر کردیا ہے) اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایسی چیز مقرر فرما دی جس سے تم اپنی قسموں سے حلال ہوسکتے ہو اور وہ کفارہ ہے۔ نمبر 2۔ کفارہ سے قسموں کی حلت کو مشروع کیا۔ نمبر 3۔ قسموں میں استثناء کو جائز قرار دیا۔ عرب کہتے ہیں حلل فلان فی یمینہٖ جب کہ وہ اس میں استثناء کرے۔ اور استثناء یہ ہے کہ قسم کے آخر میں انشاء اللہ کہہ دے تو اس کی قسم نہ ٹوٹے۔ عند الا حناف : حلال کو حرام کرلینا قسم ہے۔ بقولِ مقاتل : رسول اللہ ﷺ نے ایک رقبہ تحریم ماریہ میں آزاد فرمایا۔ قولِ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

شہد کو حرام کرنے کا واقعہ 1 ۔” یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم “ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ شیرینی اور شہد کو پسند فرماتے تھے۔ آپ ﷺ کی عادت تھی کہ عصر کی نماز کے بعد بیبیوں کے گھر جایا کرتے تھے۔ ایک روز (عصر کے بعد) حضرت حفصہ ؓ کے پاس گئے تو وہاں ہر روز کے معمول کے خلاف زیادہ دیر توقف کیا۔ میں نے جب پوچھ پاچھ کی تو معلوم ہوا کہ حفصہ ؓ کے خاندان کی کسی عورت نے حفصہ کو بطور ہدیہ شہد کی ایک کپی بھیجی تھی۔ انہوں نے اس شہد کا شربت بنا کر رسول اللہ ﷺ کو پلایا تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ نے فرمایا : میں نے یہ بات سن کر کہا : خدا کی قسم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–4

1۔ 4۔ صحیحین میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان آیتوں میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ دونوں کا ذکر ہے جس طرح اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کون سی بیبیوں کا ذکر ہے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح صحابہ کے زمانہ میں بھی یہ اختلاف جاری تھا اسی واسطے صحیحین 2 ؎ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرصہ سے میرا ارادہ تھا کہ حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کونسی دو بیبیوں کا ذکر ہے لیکن مجھ کو موقع نہیں ملتا تھا آخر حج کے سفر میں مجھ کو موقع ملا اور میں نے اس بات کو حضرت عمر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ذکر حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کا ہے غرض صحیحین کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

یہ اس بات کی تصریح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بخش دیا آپ سے ملامت کو رفع کردیا اور آپ پر رحم فرمایا اور آپ سے صادر ہونے والی یہ تحریم تمام امت کے لیے ایک عام حکم کی تشریع کا سبب بن گئی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے تمام قسموں کے لیے عام حکم جاری کرتے ہوئے فرمایا (قَدْ فَرَضَ اللّٰهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ اَيْمَانِكُمْ ۚ ) اللہ نے تمہارے لیے تمہاری قسمیں کھولنا (توڑنا) فرض کردیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے وہ طریقہ مشروع اور مقرر کردیا ہے جس کے ذریعے سے قسم سے، اس کو توڑنے سے پہلے نکلاجاسکے اور وہ کفارہ بتلا دیا جس کی ادائیگی قسم توڑنے کے بعد ضروری ہے اور یہ حکم اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں آیا ہے (یا…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–5

حضور ﷺ نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کرلی تھی قول باری ہے (یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی ﷺ ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے) آیت کے نزول کے سلسلے میں کئی وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک یہ کہ حضور ﷺ ام المومنین حضرت زینب ؓ کے ہاں کھایا پیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے آپس میں صلاح کرکے آپ سے یہ کہا ۔ ہمیں آپ کے منہ سے مغافیر یعنی گوند کی بو آتی ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” میں نے تو زینب کے پاس شہید پیا تھا۔ اب آئندہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ ایک قول کے مطابق آپ نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس اور ایک اور قول کے مطابق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

[ 2] ناجائز قسموں کے بارے میں شریعت کا حکم۔ سو ارشاد فرمایا گیا کہ بیشک اللہ نے مقرر فرما دیا تمہاری قسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ، یعنی کفارہ ادا کرکے اس کی پابندی سے نکل جاؤ جس کا ذکر سورة مائدہ میں آچکا ہے اور اگر کوئی شخص اپنی قسم کے ذریعے کسی جائز چیز کو اپنے اوپر حرام کر بیٹھے تو اللہ نے اس کے لیے ضروری ٹھہرا دیا کہ وہ اس قسم کو توڑ ڈالے، یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اوپر کی آیت کریمہ میں خطاب پیغمبر سے تھا اور یہاں تمام مسلمانوں سے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم کو اس لغزش پر ٹوکنے سے مقصود جیسا کہ حضرات اہل علم نے تصریح فرمائی ہے یہی تھا کہ اس کہ وجہ سے امت کسی غلط فہمی میں مبتلا نہ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–8

رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–7

آیات 1 تا 7 اسرار ومعارف۔ حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

“7 یعنی اگر نامناسب چیز ہر قسم کھالو، تو اللہ تعالیٰ نے اس کا کافرہ مقرر کردیا۔ ( سورة مائدہ :89) تم اسے ادا کر کے اپنی قسم توڑ سکتے ہو۔ چناچہ حضرت عمر (یا حضرت ابن عباس) فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ نے کفارہ ادا کیا اور ماریہ سے تعلق قائم رکھا۔ (ابن کثیر بحوالہ نسائی) بعض لوگ (جیسے احناف) کہتے ہیں کہ محض کسی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینا قسم ہے۔ لیکن آیت سے اس کی تائید نہیں ہوتی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر عتاب کیا اور پھر فرمایا :” قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم “ اور اس آیت کی شان نزول کے سلسلہ میں جو واقعات روایات میں مذکور ہیں ان میں واضحطور پر یہ مذکور ہے کہ آنحضرت نے پہلے ایک خبر کو اپنے اوپر حرام…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(66:2) قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے قسموں کا کھول دینا بھی فرض کردیا ہے۔ (ترجمہ حقانی) قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے اور فعل کو زمانہ حال کی طرف قریب کردیتا ہے۔ فرض لکم تم پر فرض کردیا ہے۔ فرض کرنا عموما علی کے صلہ کے ساتھ آتا ہے نہ کہ لام کے ساتھ ۔ اس کی تشریح علامہ پانی پتی رحمۃ اللہ تعالیٰ یوں کرتے ہیں :۔ لام انتقاع کے لئے آتا ہے (اور علی ضرر کے لئے) اور اس جگہ نفع کا مفہوم مقصود ہے کیونکہ کفارہ واجب کرنے سے یہ فائدہ ہوجاتا ہے کہ خود ساختہ تحریم حلت میں تبدیل ہوجاتی ہے اور قسم شکنی کا گناہ دور ہوجاتا ہے۔ کفارہ وہی ہے جس کا ذکر سورة مائدہ میں کردیا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–5

لغات القرآن۔ لم تحرم۔ کیوں حرام کرتا ہے۔ احل۔ اس نے حلال کردیا۔ تبتغی۔ تو طلب کرتا ہے۔ چاہتا ہے۔ فرض۔ اس نے طریقہ قاعدہ بنا دیا۔ تحلۃ۔ کھول ڈالنا۔ ایمان۔ قسمیں۔ مولیٰ ۔ مالک اسر۔ چپکے سے کہا۔ حدیثا۔ بات۔ اظھرہ۔ اس نے ظاہر کردیا۔ من انباک۔ کس نے تجھے بتا دیا۔ ان تتوبا۔ اگر تم دونوں نے توبہ کرلی۔ قد صغت۔ یقینا پلٹ گئی۔ پلٹ گئے۔ تظھرا۔ تم دونوں مل گئے۔ تم دونوں مل گئیں۔ ظھیر۔ مددگار۔ قنتت۔ ادب سے جھکنے والیاں۔ تئبت۔ توبہ کرنے والیاں۔ عبدات۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت۔ روزہ رکھنے والیاں۔ ثیبت۔ بیوہ عورتیں۔ شوہر سے جدا ہوجانے والیاں۔ ابکارا۔ (بکر) ۔ کنواریاں۔ تشریح : چونکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 1–4

حضور کی زیادہ ازواج مطہرات پر عیسائی اور آریوں کے اعتراض پر جواب۔ (ف 1) شان نزول : ہر زوجہ مطہرہ کو محبت اور تعلق حضور کے ساتھ تھا اور ہر ایک زوجہ کی تمنا اور کوشش تھی کہ وہ زائد از زائد حضور کی توجہات کامرکز بن کردارین کی برکات وفیوض سے متمع ہو آپ کی عادت تھی کہ عصر کے بعد سب ازواج کے ہاں تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے جب ام المومنین زینب بنت جحش ؓ کے یہاں حضور تشریف لے جاتے تو وہ شہدپیش کرتیں، اس ذریعہ سے انکے یہاں کچھ زیادہ تشریف فرمارہتے ، یہ بات حضرت عائشہ وحفصہ ؓ وغیرہما کو ناگوار گذری اور انہیں رشک ہوا انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوں تو عرض کیا جائے کہ دہن مبارک سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] مطلب یہ ہے کہ قسموں کو توڑنے کا جو طریقہ اللہ تعالیٰ نے سورة مائدہ آیت 89 صفحہ 264 میں بیان کیا ہے اس کے مطابق عمل کر کے آپ اپنی قسم توڑ دیں جو آپ نے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرنے کے لئے کھائی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–3

سورة تحریم کی شان نزول ان آیات میں دو اور مشہور واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔ ایک یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ عام عالم طور پر ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کے ہاں توقف فرماتے ۔ اور شہدکھاتے ۔ یہ بات حصرت عائشہ اور حصرت حفصہ کو سوکن ہونے کی وجہ سے ناگوار محسوس ہوتی ۔ اس لئے طے یہ پایا ۔ کہ جب حضور ﷺ شہدنوش فرما کر تشریف لائیں تو اس وقت ان سے کہا جائے ۔ کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بوآرہی ہے (مغافیر ایک قسم کی بدبو اور گوند ہے) اور چونکہ بو سے آپ کو طبعی نفرت ہے ۔ اس لئے اس تدبیر سے آپ حضرت زینب نے شہد کھانا اور چندے قیام فرمانا چھوڑ دیں گے ۔ چناچہ باری باری حضرت حفصہ نے حضور ﷺ سے یہی کہا ۔ تو آپ نے عہد کرلیا ۔…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

(2) بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کے لئے اپنی قسموں کا کھول دینا مقرر کردیا ہے اور اپنی قسموں کے کھول دینے کا طریقہ مقرر فرمادیا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارا کارساز ہے اور وہ بڑے علم بڑی حکمت والا ہے۔ حضرت شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں حضرت نے ایک حرم اپنی موقوف کردی یا ایک بی بی کے ہاں سے شہد پینا موقوف کیا یا اور بیویوں کی خاطر سے اسی پر اللہ نے یہ فرمایا اور قسم اتار ڈالنا کفارہ دینا اب جو کوئی اپنے مال کو کہے یہ مجھ پر حرام ہے تو قسم ہوگئی کفارہ دے تو پھر اس کو کام میں لادے کھانا یا کپڑا یا لونڈی۔ خلاصہ : یہ کہ نبی کریم ﷺ عصر کی نماز کے بعد تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تمام ازواج مطہرات کے مکان میں…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 1–3

ف 1۔ سبب نزول اول کی آیتوں کا حضرت عائشہ ؓ سے صحیح بخاری وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول شریف تھا کہ بعد عصر کھڑے کھڑے بیبیوں کے پاس تشریف لاتے، ایک بار حضرت زینب ؓ کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے اور شہد پیا، تو مجھ کو رشک آیا، میں نے حضصہ سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس تشریف لاویں وہ یوں کہے کہ آپ نے مغافیر نوش فرمایا ہے (یہ ایک گوند ہے جو کر یہ الرائح ہے) چناچہ ایسا ہی ہوا، آپ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے، ان بی بی نے کہا کہ شاید کوئی مکھی اس کے درخت پر بیٹھ گئی ہوگی اور اس کا رس چوس لیا ہوگا، آپ نے بقسم فرمایا کہ میں پھر شہد نہ پیوں گا اور اس خیال سے کہ حضرت زینب…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اگر غلط قسم کا تہیہ تم کرلو تو اس کو ترک کرنے کے لیے اللہ نے تم کو خاص ہدایت عطا کردی ہے 2 ؎ اوپر کی آیت میں بات تو آپ ﷺ کو مخاطب فرما کر کی گئی تھی اور آپ ﷺ کی بعض ازواج ؓ کی طرف بھی اشارہ پایا جاتا ہے لیکن زیر نظر آیت میں تمام مسلمانوں کو مخاطب کیا گیا ہے جس سے وہ احتمال قوی ہوتا ہے جس کی طرف ہم نے گزشتہ آیت کی تفسیر کے آخر میں اشارہ کیا ہے۔ (تحلۃ) کے معنی میں کھولنا ، ڈالنا ، حلال کرنا ۔ یہ حلال کا مصدر ہے وزن تفعلہ اور باب تفعیل کا دوسرا وزن ہے جسے کرم سے تکریم اور تکرمۃ کمل تکمیل اور تکملۃ دونوں وزن آتے ہیں اسی طرح یہ بھی حلل تعیلیلاً کا دوسرا مصدر ہے ۔ قد فرض اللہ لکم تحلۃ ایمانکم ای…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

قَدْ فَرَ‌ضَ اللَّـهُ لَكُمْ تَحِلَّةَ أَيْمَانِكُمْ (Allah has prescribed [ the way on absolution from your oaths....66:2). This verse reminds that where it is necessary or better to break the oath, Allah has prescribed a way to absolve oneself from the liability of the oath by expiation, the details of which are given in other verses.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4 It means: "Act according to the method AIIah has prescribed for absolution from oaths by cxpiation in AI-Ma'idah :89 and break your promise that you have trade to forbid yourself a lawful thing. " Here, an important legal question arises and it is this: Is this Command applicable to the case when a person has forbiddcn himsclf a lawful thing on oath, or is forbidding oncsclf a lawful thing by itsclf tantamount to swearing an oath, whether the words of the oath have been used or not'? The jurists in this regard have expressed different opinions: One section of them says that mere forbidding…

Read the full tafseer →