Explained with ayahs 1–5
اس سورت کی ابتدائی آیتوں کے شان نزول میں مفسرین کے اقوال یہ ہیں (ا) بعض تو کہتے ہیں یہ حضرت ماریہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے انہیں حضور ﷺ نے اپنے اوپر حرام کرلیا تھا جس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، نسائی میں یہ روایت موجود ہے کہ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے کہنے سننے سے ایسا ہوا تھا کہ ایک لونڈی کی نسبت آپ نے یہ فرمایا تھا اس پر یہ آیتیں نازل ہوئیں، ابن جریر میں ہے کہ ام ابراہیم کے ساتھ آپ نے اپنی کسی بیوی صاحبہ کے گھر میں بات چیت کی جس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ میرے گھر میں اور میرے بستر پر ؟ چناچہ آپ نے اسے اپنے اوپر حرام کرلیا تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ کہ حلال آپ پر حرام کیسے ہوجائے گا ؟ تو…
Read the full tafseer →سورة التَّحْرِيْم 1
یہ دراصل استفہام نہیں ہے۔ بلکہ ناپسندیدگی کا اظہار ہے۔ یعنی مقصود نبی ﷺ سے یہ دریافت کرنا نہیں ہے کہ آپ نے یہ کام کیوں کیا ہے، بلکہ آپ کو اس بات پر متنبہ کرنا ہے کہ اللہ کی حلال کی ہوئی چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا جو فعل آپ سے صادر ہوا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اس سے خود بخود یہ مضمون مترشح ہوتا ہے کہ اللہ نے جس چیز کو حلال کیا ہے اسے حرام کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہیں ہے، حتی کہ خود نبی ﷺ بھی یہ اختیار نہیں رکھتے۔ اگرچہ حضور ﷺ نے اس چیز کو نہ عقیدۃً حرام سمجھا تھا اور نہ اسے شرعاً حرام قرار دیا تھا، بلکہ صرف اپنی ذات پر اس کے استعمال کو حرام کرلیا تھا، لیکن…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اے نبی جس چیز کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے آپ (قسم کھا کر) اس کو (اپنے اوپر) کیوں حرام فرماتے ہیں (پھر وہ بھی) اپنی بیبیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے (یعنی گو کسی مباح کا ترک کردینا جائز ہے اور اس ترک کا موکد بالقسم کرنا بھی کسی مصلحت سے جائز ہے لیکن تاہم خلاف اولیٰ ہی خصوصاً جبکہ اس کا داعی بھی ضعیف ہو۔ یعنی بیبیوں کی رضا جوئی ایسے امر میں جس میں ان کا راضی کرنا ضروری نہ تھا) اور اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے (کہ گناہ تک کو معاف کردیتا ہے اور آپ سے تو کوئی گناہ بھی نہیں ہوا اسلئے یہ عتاب نہیں بلکہ شفقةً ورافة آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ نے ایک جائز نفع کو ترک کرکے کیوں تکلیف…
Read the full tafseer →الفاظ کی تحقیق اور آیات کی وضاحت
(یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک تبتغی مرضات ازواجک واللہ غفور رحیم) (1)۔
(پیغمبر ﷺ کے ایک فعل پر احتساب)۔ اوپر ہم اشارہ کرچکے ہیں کہ اس سورة میں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ جن کے ساتھ محبت و مروت کے تعلقات ہوں خدا کے حدود و حقوق کے معاملات میں ان کے ساتھ بھی کوئی مداہنت و رعایت جائز نہیں ہے بلکہ اس محبت ہی کا تقاضا یہ ہے کہ ان کا احتساب زیادہ احتیاط کے ساتھ ہوتا رہے تاکہ خدا کے چھاج میں پھٹکے جانے سے پہلے ہی ممکن ہو تو ان کی اصلاح ہوجائے اور اگر اصلاح نہ ہو تو بدرجہ ادنیٰ اپنے حق نصیحت سے عند اللہ بری الذمہ ہوجائے۔ اس حقیقت کو مبرہن کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس…
Read the full tafseer →1۔ 1 نبی ﷺ نے جس چیز کو اپنے لئے حرام کرلیا تھا، وہ کیا تھی ؟ جس پر اللہ نے ناپسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ اس سلسلے میں ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے کہ آپ ﷺ حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس کچھ دیر ٹھہرتے اور وہاں شہد پیتے، حضرت حفصہ اور حضرت عائشہ ؓ دونوں نے وہاں معمول سے زیادہ دیر تک آپ کو ٹھہرنے سے روکنے کے لئے یہ سکیم تیار کی کہ ان میں سے جس کے پاس بھی آپ ﷺ تشریف لائیں تو وہ ان سے کہے کہ اللہ کے رسول ! آپ ﷺ کے منہ سے مغافیر (ایک قسم کا پھول جس میں گوشت مچھلی کی سی بو ہوتی ہے) کی بو آرہی ہے۔ چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا آپ ﷺ نے فرمایا، میں نے تو زینب ؓ کے گھر صرف…
Read the full tafseer →1: حضور اقدس ﷺ کا معمول تھا کہ عصر کے بعد اپنی تمام ازواج مطہرات کے پاس تھوڑی تھوڑی دیر کے لئے تشریف لے جایا کرتے تھے، اس معمول کے مطابق آپ حضرت زینب ؓ کے گھر تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو شہد پیش کیا جو آپ نے پیا، اس کے بعد آپ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کے پاس تشریف لے گئے تو دونوں نے پوچھا کہ کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے (مغافیر ایک گھاس کا نام ہے جس میں کچھ بوہوتی ہے) آپ نے نفی میں جواب دیا، تو انہوں نے پوچھا کہ آپ کے منہ میں یہ بو کیسی ہے ؟ آپ کو اس سے شبہ ہوا کہ شاید جو شہد میں نے پیا تھا، اس کی مکھی نے مغافیر چوسا ہو، چونکہ آپ کو اپنے مبارک منہ سے کوئی ناگوار بو محسوس ہونا انتہائی ناپسند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
یہ دراصل ایک عتاب ہے کیونکہ کوئی مومن اپنے اوپر اس چیز کو حرام نہیں کرسکتا جو اللہ نے حلال کی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ” شہد “ یا ” ماریہ “ کے پاس جانے کو ازروئے قانون اور شریعت تو حرام نہ کیا تھا۔ صرف اپنے بارے میں فیصلہ کیا تھا کہ میں اس کام کو دوبارہ نہیں کروں گا۔ اس پر یہ جھڑکی آئی کہ جن چیزوں کو اللہ نے حلال کیا ہے ، کسی کو خوش کرنے کے لئے ان سے اپنے آپ کو محروم کرنا بھی جائز نہیں ہے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا۔
واللہ غفور رحیم (66 : 1) ” اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے “۔ اس سے یہ اشارہ نکلتا ہے کہ یہ فعل قابل مواخذہ ہے۔ اور اس کا علاج یہ ہے کہ اللہ کی مغفرت طلب کی جائے اور اللہ کی رحمت…
Read the full tafseer →7 حلال کو اپنے اوپر حرام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس چیز کو عقیدۃً حلال و مباح سمجھتے ہوئے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ اس کو استعمال نہ کروں گا۔ ایسا کرنا اگر کسی مصلحت صحیحہ کی بناء پر ہو تو شرعاً جائز ہے۔ مگر حضور ﷺ کی شان رفیع کے مناسب نہ تھا کہ بعض ازواج کی خوشنودی کے لیے اس طرح کا اسوہ قائم کریں جو آئندہ امت کے حق میں تنگی کا موجب ہو۔ اس لیے حق تعالیٰ نے متنبہ فرما دیا کہ ازواج کے ساتھ بیشک خوش اخلاقی برتنے کی ضرورت ہے۔ مگر اس حد تک ضرورت نہیں کہ ان کی وجہ سے ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر کے تکلیف اٹھائیں۔
8 کہ گناہ کو معاف کردیتا ہے۔ اور آپ ﷺ سے تو کوئی گناہ بھی نہیں ہوا۔ محض اپنے درجہ میں…
Read the full tafseer →آیت 1{ یٰٓـاَیـُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ } ”اے نبی ﷺ ! آپ کیوں حرام ٹھہرا رہے ہیں اپنے اوپر وہ شے جو اللہ نے آپ کے لیے حلال کی ہے ؟“
{ تَـبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ } ”آپ ﷺ چاہتے ہیں اپنی بیویوں کی رضا جوئی !“
{ وَاللّٰہُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ } ”اور اللہ بہت معاف کرنے والا ‘ بہت رحم کرنے والا ہے۔“
یعنی اللہ کو یہ بات پسند نہیں آئی ‘ لیکن اس نے معاف فرما دیا ہے۔
Read the full tafseer →1 آپ کا شہد نہ پینے پر قسم کھانا اور رازداری کی تلقین کرنا :۔ رسول اللہ کا روز مرہ کا معمول تھا کہ آپ نماز عصر کے بعد اپنے سب گھروں میں اپنی بیویوں کے ہاں چکر لگایا کرتے تھے۔ تاکہ گھریلو حالات سے پوری طرح باخبر رہیں اور خیروعافیت کی صورت معلوم ہوتی رہے۔ ایک دفعہ جب آپ سیدہ زینب بنت جحش ؓ کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو شہد کا شربت پلایا۔ اس طرح آپ کو وہاں کچھ دیر لگ گئی۔ دوسرے دن بھی آپ کو سیدہ زینب بنت جحش ؓ نے شربت پلایا اور چونکہ آپ کو شہد اور اس کا شربت بہت پسند تھا۔ لہذا یہ بھی ایک طرح سے روزمرہ کا معمول بن گیا کہ سیدنا زینب ؓ کے ہاں آپ کو کچھ دیر لگ جاتی تھی۔ یہ بات دوسری بیویوں…
Read the full tafseer →1۔ شان نزول کی دو مختلف روایتیں ہیں، دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کسی بیوی صاحبہ کی دلجوئی کے لیے عہد کرلیا تھا کہ فلاں نعمت سے آئندہ تمتع نہ کریں گے۔ یہ عمل اگرچہ بجائے خود بالکل جائز تھا۔ ہر مسلمان کو اختیار ہے کہ جس حلال چیز سے چاہے ہمیشہ کے لیے دستبردار ہوجائے اور دستبرداری کا اعلان بھی کردے۔ لیکن یہ پیغمبر کی شایان شان نہ تھا، اور وہ بھی ایک داعی ضعیف کی بناء پر۔ اسی لیے آپ ﷺ سے خطاب ہمرنگ عتاب ہوا۔ آپ ﷺ ظاہر ہے کہ کسی حلال چیز کو حرام نہیں فرما رہے تھے۔ بلکہ آپ ﷺ کے عہد کے بعد صرف وجوب امتناع میں وہ چیز مثل حرام کے ٹھہر رہی تھی، اس لیے تنبیہا اسے تحریم سے تعبیر کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس کو جس کو اللہ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے ؟ یعنی اپنی باندی ماریہ قبطیہ ؓ کو جب کہ آپ ﷺ نے اس سے حفصہ ؓ کے گھر میں ہمبستری فرمائی، اور حفصہ ؓ موجود نہیں تھیں، اچانک آگئیں اور یہ بات ان کے گھر میں ان کے بستر پر ان کو گراں گزری، اس وقت آپ ﷺ نے ھی حرام علی وہ میرے اوپر حرام ہے فرما دیا، اس کو حرام کر کے اپنی بیویوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، اللہ بخشنے والا مہربان ہے آپ ﷺ کے اس حرام کرنے کو معاف فرما دیا، تحقیق کہ اللہ تعالیٰ نے تمہاری قسموں کو کفارہ دے کر جس کا سورة مائدہ میں ذکر ہے کھول ڈالنا…
Read the full tafseer →یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک .
” اے نبی ! جس چیز کو اللہ نے آپ کے لیے حلال کیا ہے اس کو آپ حرام کیوں کرتے ہیں۔ “
مَآ اَحَلَّ اللہ : سے مراد شہد ہے اور استفہام انکاری سے یعنی حلال کو حرام بنا دینا آپ کے لیے جائز نہیں۔
بخاری نے ان الفاظ کے ساتھ حدیث مذکور نقل کی ہے (کہ حضور ﷺ نے فرمایا :) میں زینب بنت جحش کے پاس شہد کا شربت پیتا ہوں لیکن (اب) عہد کرتا ہوں (کہ آئندہ نہیں پیوں گا) تم کسی سے (یہ بات) کہنا مت (خبر دینے کی ممانعت سے) آپ کا مقصد تھا امہات المؤمنین میں ناراضگی پیدا نہ ہونا (یعنی بیبیوں کی دلجوئی کی خواہش) ۔
طبرانی اور ابن مردویہ نے ابن ابی ملیکہ کی اسناد سے حضرت ابن عباس کا بیان…
Read the full tafseer →محمد آپ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے حضرت ماریہ قبطیہ کے نکاح کو اپنے اوپر کیوں حرام کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس قسم کو بخشنے والا اور مہربان ہے۔
Read the full tafseer →1۔ یٰٓـاَ یُّہَاالنَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہ ُ لَکَ : وہ چیز کیا تھی جو رسول اللہ ﷺ نے اپنے آپ پر حرام کی اور یہ آیات نازل ہوئیں ؟ اس کے متعلق ایک تو وہ مشہور واقعہ ہے جو صحیح بخاری و صحیح مسلم وغیرہ میں نقل ہوا ہے ، عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں :(کان رسول اللہ ﷺ یشرب عسلا عند زینب ابنۃ جحش و یمکت عندھا فواطات انا و حفصۃ عن ایتنا دخل علیھا فلتقل لہ اکلت مغافیر ، انی اجد منک ریح مغافیر ، قال لا ولکنی کنت اشرب عسلا عند زینب بنۃ جحش فلن اعود لہ و قد حلقت لا تخبری بذلک احدا) (بخاری ، التفیر ، باب (یایھا النبی لم تحریم۔۔۔) : 4912۔ مسلم : 1474)”رسول اللہ ﷺ زینب حجش ؓ کے پاس شہد پیا کرتے تھے…
Read the full tafseer →آیت کریمہ کے نزول کا سبب
مسئلہ نمبر 1 ۔ یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک صحیح مسلم میں حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ حضرت زینب بنت حجش کے ہاں رکتے وہاں آپ ﷺ شہد نوش فرماتے (1) ۔ حضرت عائشہ ؓ نے کہا : میں اور حضرت حفصہ نے آپس میں اتفاق کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں تو وہ کہے : میں آپ ﷺ سے مغافیر کی بو پاتی ہوں۔ آپ ﷺ نے مغافیر کھاتے ہیں ؟ رسول اللہ ﷺ ان میں سے ایک کے پاس تشریف لے گئے تو اس زوجہ نے آپ ﷺ سے یہ بات کی۔ فرمایا : ” میں نے تو حضرت زینب بنت حجش کے پاس شہد پیا ہے، میں دوبارہ ایسے نہ کروں گا “ تو یہ آیات ان تتوبا تک نازل ہوئیں۔ ان تتوبا میں مراد حضرت…
Read the full tafseer →1۔ ابن سعد وعبد بن حمید والبخاری وابن المنذر وابن مردویہ نے حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ زینب بنت جحش ؓ کے ہاں ٹھہرا کرتے تھے۔ اور اس کے پاس شہد پیا کرتے تھے۔ میں نے اور حفصہ ؓ نے ایک دوسرے سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی رسول اللہ ﷺ تشریف لائیں تو اس کو چاہیے کہ یوں کہے کہ مجھے آپ سے مغافیر کی بو آرہی ہے کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے جب ان میں سے کسی ایک کے پاس آپ ﷺ تشریف لائے تو اس نے ایسے ہی کہہ دیا آپ نے فرمایا نہیں بلکہ میں نے زینب بنت جحش کے پاس شہد پیا ہے۔ اور اگر ایسا ہے تو آئندہ ہرگز شہد نہیں پیوں گا۔ تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ آیت یا ایہا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ : اے نبی آپ کیوں حرام کرتے ہیں ] [مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ : اس کو جسے حلال کیا اللہ نے آپ کے لیے ] [تَبْتَغِيْ : آپ جستجو کرتے ہیں ] [مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ : اپنی ازواج کے راضی ہونے کی ] [وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ: اور اللہ بےانتہا بخشنے والا ہمیشہ رحم کرنے والا ہے ]
Read the full tafseer →حلال کو حرام قرار دینے کی ممانعت
یہاں سے سورة التحریم شروع ہو رہی ہے۔ اس کی ابتدائی آیات کا سبب نزول ایک واقعہ ہے اور وہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نماز عصر کے بعد تھوڑی دیر کو ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جایا کرتے تھے۔ تھوڑا تھوڑا وقت ہر ایک کے پاس گزارتے تھے۔ ایک دن جو حضرت زینب بنت جحش ؓ کے پاس تشریف لے گئے ان کے پاس شہد پی لیا حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ میں نے اور حفصہ نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس بھی تشریف لائیں تو ہم کہہ دیں گے کہ آپ نے مغافیر کھایا ہے (یہ ایک قسم کا گوند ہوتا تھا) چناچہ آپ دونوں میں سے کسی ایک کے پاس تشریف لائے تو یہی بات عرض کردی، آپ نے فرمایا کہ میں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
تعلیم صبر و استقامت وعدل و انصاف در حقوق و امور معاشرت :
قال اللہ تعالیٰ : (آیت) ” یایھا النبی لم تحرم ...... الی ...... انما تجزون ما کنتم تعملون “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں طلاق وعدت کے بعض اہم احکام کا بیان تھا اب اس سورت میں بعض ایسے جذبات طبعیہ کا بیان ہے جن کے باعث خانگی زندگی کا اعتدال و توازن ختم ہوسکتا ہے اور اس سے تفریق وجدائی کی بھی نوبت آسکتی ہے، اور ایک خاص واقعہ بھی حضور اکرم ﷺ کی ازواج کی طرف سے پیش آیا تھا تو اس کی مناسبت سے بعض خصوصی احکام وہدایات بھی بیان فرمائی جارہی ہیں۔
صحیحین و دیگر کتب حدیث میں اس سورت کا شان نزول یہ بیان کیا گیا ہے، حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں آنحضرت ﷺ کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
2:۔ ” یا ایہا النبی “ ذکر آداب بطور تمہید۔ آنحضرت ﷺ کو حلال چیزوں سے قسم کھا کر اجتناب کی ممانعت اور ازواج مطہرات کو خلاف رضاء آنحضرت ﷺ امور سے اجتناب کی تلقین فرمائی۔ یہ ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے۔ آنحضرت ﷺ کو شہد بہت مرغوب تھا اور آپ ام المومنین حضرت زینب بنت جحش ؓ کے یہاں روزانہ شہد تناول فرماتے۔ حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ ؓ نے ازراہ رقابت سوچا کہ زینب ؓ کو یہ شرف کیوں حاصل ہو۔ کسی ترکیب سے آپ کو شہد سے متنفر کیا جائے۔ چناچہ دونوں نے طے کیا کہ آپ جس کے پاس بھی آئیں وہ کہہ دے کہ حضرت ! آج آپ کے پاس سے مغافیر کی بو آر ہی ہے، کیا آپ نے مغافیر تناول فرمائی ہے، چناچہ آپ پہلے حضرت حفصہ ؓ کے پاس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
نام اور کوائف :
اس سورة مبارکہ کا نام سورة التحریم ہے ، اس کو سورة النبی بھی کہا جاتا ہے یہ سورة مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس کی بارہ آیتیں اور دو ررکوع ہیں اور یہ سورة 249 الفاظ اور 1060 حروف پر مشتمل ہے۔
سابقہ سورة کے ساتھ ربط :
یہ سورة اس سے پہلی سورة الطلاق کے ساتھ مربوط ہے۔ دونوں سورتوں میں بعض عائلی قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ البتہ دونوں سورتوں میں ربط یہ ہے کہ پہلی سورة میں عدوات ونفرت کی بنا پر پیدا ہونے والے حالات سے متعلق قوانین تھے جب کہ اس سورة میں محبت و چاہت سے پیدا ہونے والے بعض معاملات سے متعلق قوانین بیان کیے گئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ موقع خوشی کا ہو یا غمی کا۔ الفت و محبت کی بات…
Read the full tafseer →يٰٓاَيُّہَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللہُ لَكَ 0 ۚ تَبْتَغِيْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ 0 ۭ وَاللہُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ 1
نبی
النبيُّ بغیر همْز، فقد قال النحويُّون : أصله الهمْزُ فتُرِكَ همزُه، واستدلُّوا بقولهم : مُسَيْلِمَةُ نُبَيِّئُ سَوْءٍ. وقال بعض العلماء : هو من النَّبْوَة، أي : الرِّفعة ، وسمّي نَبِيّاً لرِفْعة محلِّه عن سائر الناس المدلول عليه بقوله : وَرَفَعْناهُ مَکاناً عَلِيًّا [ مریم/ 57] . فالنَّبِيُّ بغیر الهمْز أبلغُ من النَّبِيء بالهمْز، لأنه ليس كلّ مُنَبَّإ رفیعَ القَدْر والمحلِّ ، ولذلک قال عليه الصلاة والسلام لمن قال : يا نَبِيءَ اللہ فقال : «لَسْتُ بِنَبِيءِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
ترکیب : تبتغی استیناف اوتفسیر لقولہ تحرم اوحال من الضمیر فی تحرم والمرضاۃ اسم مصدرو اصلہ مرضوۃ۔ وھو مضاف الی المفعول الی ان ترضی ازواجک والی الفاعل ای ان یرضین ھن۔ ومعناہ الرضائ۔ ویمکن ان تکون الجملۃ للاستفہام الانکاری تحلۃ اصلہ تحللۃ فسکن وادغم۔ واذ فی موضع نصب باذکر فلما شرط عرف جو ابہ فلما شرط قالت جو ابہ ان تتوبا شرط والجواب محذوف ای فذاک واجب دل علیہ فقد صغت لان اصغاء القلب الی ذلک قریب۔ قلوبکما انما جمع وھما اثنان لان لکل انسان قلبا ومالیس فی الانسان الاواحد جازان یجعل الاثنان فیہ بلفظ الجمع وجازان یجعل بلفظ التثنیۃ وقیل وجہہ ان التثنیۃ جمع ھو مبتداء وخبرہ ان ویجوزان یکون ھو فصلا…
Read the full tafseer →یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَـآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَـکَ ج تَبْتَغِیْ مَرْضَاتَ اَزْوَاجِکَ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (التحریم : 1)
(اے نبی ! آپ کیوں حرام کرتے ہیں اس چیز کو جسے اللہ نے آپ کے لیے حلال کردیا ہے، آپ اپنی بیویوں کی رضامندی چاہتے ہیں اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ )
شانِ نزول
ان آیات کے شان نزول میں دو روایتیں بیان کی جاتی ہیں۔ پہلے ہم اس روایت کا ذکر کرتے ہیں جو صحیح بخاری وغیرہ میں حضرت عائشہ ( رض) سے منقول ہے۔ آنحضرت ﷺ کا معمول یہ تھا کہ آپ نماز عصر کے بعد ازواجِ مطہرات کے حجروں میں مختصر وقت کے لیے خبرگیری کی خاطر تشریف لے جاتے تھے۔ ایک روز ام المومنین حضرت زینب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–2
فہم القرآن
ربط سورت : التغابن کا اختتام اس بات پر ہوا کہ اللہ تعالیٰ اپنے علم سے ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ سورة التحریم کی ابتدا میں اس کا ثبوت نبی ﷺ اور آپ کے اہل خانہ کے حوالے سے دیا گیا ہے۔
التحریم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے جو عام طور پر کھانے پینے کے بارے میں استعمال ہوتا ہے اس کا معنٰی ہے کہ کسی چیز کو حرام کرنا یاسمجھنا۔ اس سورت کا نام التحریم رکھا گیا اس لیے کہ اس کی پہلی آیت میں اس واقعہ کی نشاندہی کی گئی ہے جو نبی ﷺ کے ساتھ آپ کی ازواج مطہرات کی طرف سے پیش آیا۔ واقعہ اس طرح ہے کہ نبی کریم ﷺ عصر کی نماز کے بعد اپنی ازواج مطہرات کے ہاں باری باری کچھ وقت گزارتے تاکہ گھریلو حالات سے آگہی…
Read the full tafseer →1 : یٰٓـاَیُّھَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ (اے نبی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کیا ہے اس کو آپ حرام کیوں کرتے ہیں ؟ ) روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عائشہ ؓ کی باری میں ماریہ سے خلوت کی۔ حفصہ ؓ کو اس کا علم ہوگیا۔ آپ نے حفصہ کو فرمایا میری بات ظاہرنہ کرنا۔ میں نے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا ہے اور تمہیں خوشخبری دیتا ہوں کہ ابو بکر، عمر میرے بعد میری امت کے معاملے کے ذمہ دار ہونگے۔ حفصہ ؓ نے اس کی اطلاع عائشہ ؓ کو دے دی۔ یہ دوسہیلیاں تھیں۔
ایک قول یہ ہے :
کہ حفصہ کی باری کے دن میں ماریہ سے خلوت کی پھر اس کو خوش کرنے کیلئے ماریہ کو اپنے اوپر حرام کرلیا۔…
Read the full tafseer →سورة التحریم
یہ سورة مدنی ہے، اس میں 12 آیات اور 2 رکوع ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
1۔ 4۔ صحیحین میں یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ان آیتوں میں حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ دونوں کا ذکر ہے جس طرح اب مفسرین میں اختلاف ہے کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کون سی بیبیوں کا ذکر ہے معلوم ہوتا ہے کہ اسی طرح صحابہ کے زمانہ میں بھی یہ اختلاف جاری تھا اسی واسطے صحیحین 2 ؎ کی روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ عرصہ سے میرا ارادہ تھا کہ حضرت عمر ؓ سے دریافت کروں کہ ان آیتوں میں آنحضرت ﷺ کی کونسی دو بیبیوں کا ذکر ہے لیکن مجھ کو موقع نہیں ملتا تھا آخر حج کے سفر میں مجھ کو موقع ملا اور میں نے اس بات کو حضرت عمر ؓ سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ یہ ذکر حضرت عائشہ ؓ اور حفصہ ؓ کا ہے غرض صحیحین کی…
Read the full tafseer →یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے نبی محمد پر عتاب ہے (یہ عتاب اس وقت فرمایا ہے) جب آپ نے اپنے آپ پر اپنی لونڈی ماریہ قبطیہ یا شہد کو، ایک معروف واقعے کے مطابق، اپنی بعض ازواج مطہرات کی دل جوئی کے لیے حرام ٹھہرا لیا جس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں (يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ ) اے وہ ہستی جس کو اللہ تعالیٰ نے نبوت، رسالت اور وحی کی نعمت سے سرفراز فرمایا ( لِمَ تُحَرِّمُ مَآ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ ۚ ) آپ ان پاک چیزوں کو کیوں حرام ٹھہراتے ہیں جن سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اور آپ کی امت کو نوازا ہے۔ (تبتغی) آپ چاہتے ہیں۔ اس تحریم کے ذریعے سے (مَرْضَاتَ اَزْوَاجِكَ ۭ وَاللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
حضور ﷺ نے اپنے اوپر کیا چیز حرام کرلی تھی
قول باری ہے (یایھا النبی لم تحرم ما احل اللہ لک۔ اے نبی ﷺ ! تم کیوں اس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے) آیت کے نزول کے سلسلے میں کئی وجوہ کا ذکر کیا گیا ہے۔
ایک یہ کہ حضور ﷺ ام المومنین حضرت زینب ؓ کے ہاں کھایا پیا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ ؓ اور حضرت حفصہ ؓ نے آپس میں صلاح کرکے آپ سے یہ کہا ۔ ہمیں آپ کے منہ سے مغافیر یعنی گوند کی بو آتی ہے۔ “ آپ نے یہ سن کر فرمایا : ” میں نے تو زینب کے پاس شہید پیا تھا۔ اب آئندہ میں کبھی ایسا نہیں کروں گا۔ “ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔
ایک قول کے مطابق آپ نے حضرت حفصہ ؓ کے پاس اور ایک اور قول کے مطابق…
Read the full tafseer →[ 1] پیغمبر (علیہ السلام) کے ایک احتساب کا ذکر وبیان۔ سو پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا گیا کہ اے پیغمبر آپ کیوں حرام قرار دیتے ہیں ایسی چیز کو جس کو اللہ نے آپ کے لیے حلال فرمایا ہے ؟ یعنی آپ کو ایسے نہیں کرنا چاہیے کہ یہ طریقہ نہ درست ہے نہ آپ کی شان ارفع واعلی کے لائق کہ تحلیل وتحریم اصل میں اللہ کا حق اور اسی کے شایان شان ہے کہ خالق ومالک بھی وہی ہے اور متصرف و مختار بھی وہی سبحانہ وتعالی بخاری ومسلم وغیرہ کی روایت میں وارد ہے کہ نبی ﷺ عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج مطہرات کے یہاں تشریف لے جاتے، تو اس دوران حضرت زینب کے یہاں کچھ زیادہ قیام فرماتے اور وہ آپ کو شہد پیش کرتیں جو کہ آپ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–8
رسول معظم ﷺ اور ازواج مطہرات کے لیے احکامات
تشریح : ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان غلطیوں کا پتلا ہے اگر معافی مانگ لے سچے دل سے تو رب العزت بڑا عفور رحیم ہے معاف کردیتا ہے۔ اور رسول بھی انسان ہی ہوتے ہیں۔ ان سے بھی غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ ہوا یوں کہ، ایک دفعہ آپ ﷺ اپنی بیوی سیدنا زینب ؓ کے ہاں خلاف معمول زیادہ دیر ٹھہرنے لگے اور وہ آپ ﷺ کو شہد کا شربت پلایا کرتیں۔ انسانی فطرت سے مجبور ہوتے ہوئے آپ ﷺ کی دوسری بیویوں ام ال مومنین دیے حفصہ ؓ اور ام ال مومنین سیدہعائشہ ؓ عنہانے یہ پلان بنایا کہ آپ ﷺ کو آنے پر کہیں گے کہ آپ ﷺ کے منہ سے بو آرہی ہے۔ کیونکہ جانتی تھیں کہ آپ ﷺ کو ہر قسم کی بو سے نفرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–7
آیات 1 تا 7
اسرار ومعارف۔
حضرت رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب ؓ کے پاس قیام فرمایا اور شہد پیا جب حضرت عائشہ ؓ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے کہا آپ نے مغافیر پیا ہے ؟ یہ ایک قسم کی گوند تھی جس کی بوناگوار ہوتی تھی آپ نے فرمایا نہیں میں نے شہد پیا ہے تو انہوں نے عرض کیا شاید اس میں کچھ مغافیر مل گیا ہو آپ کو بوناگوار ہوتی تھی لہذا آپ نے قسم کھالی کہ آئندہ شہد نہیں پیا کریں گے مگر فرمایا کہ کسی اور سے تذکرہ نہ کرنا کہ حضرت زینب ؓ کی دل شکنی نہ ہومگر انہوں نے حضرت حفصہ سے بات کردی جو دراصل عشق رسول سے مجبور ہو کر انہیں دوسری ازواج مطہرات کی نسبت اپنے پاس زیادہ ٹھہرانے کی کوشش تھی کہ آپ بھی ایسا ہی…
Read the full tafseer →ف 5 حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ نبی ﷺ نے اسے عقیدہ حلال سمجھتے ہوئے عہد کرلیا تھا کہ آئندہ اسے اسعتمال نہ کروں گا۔ اس قسم کا عہد کسی امتی کے لئے تو جائز ہے مگر نبی کی شان اس سے بلند ہے کہ ایک حلال چیز کو اپنے اوپر حرام کر کے امت کو تکلیف میں مبتلا کرے۔6 اس لئے اس نے آپ کی غلطی معاف فرما دی۔
Read the full tafseer →(66:1) یایھا النبی : یا حرف ندا۔ النبی منادی : منادی اگر معرف باللام ہو تو ایھا کو حرف نداء اور منادی کے درمیان لاتے ہیں۔ جیسے یایھا الرسول ، یایھا المراۃ سے نبی ﷺ
لم : یہ مرکب ہے لام تعلیل اور ما استفہامیہ سے ما کے الف کو تخفیفا ساقط کردیا گیا ہے۔ کیوں ۔ کس لئے، کس وجہ سے۔
تحرم۔ مضارع واحد مذکر حاضر۔ تحریم (تفعیل) مصدر۔ تو حرام کرتا ہے۔
ما احل اللہ لک : ما موصولہ احل ماضی واحد مذکر غائب احلال (افعال) مصدر۔ اس نے حلال کیا۔
ترجمہ :۔ اے نبی ﷺ جن چیزوں کو اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے حلال کردیا ہے آپ ان کو کیوں حرام کرتے ہیں ؟
تبتغی مرضات ازواجک : واللہ غفور رحیم : تبتغی مضارع کا صیغہ واحد مذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
لغات القرآن۔
لم تحرم۔ کیوں حرام کرتا ہے۔ احل۔ اس نے حلال کردیا۔ تبتغی۔ تو طلب کرتا ہے۔ چاہتا ہے۔ فرض۔ اس نے طریقہ قاعدہ بنا دیا۔ تحلۃ۔ کھول ڈالنا۔ ایمان۔ قسمیں۔ مولیٰ ۔ مالک اسر۔ چپکے سے کہا۔ حدیثا۔ بات۔ اظھرہ۔ اس نے ظاہر کردیا۔ من انباک۔ کس نے تجھے بتا دیا۔ ان تتوبا۔ اگر تم دونوں نے توبہ کرلی۔ قد صغت۔ یقینا پلٹ گئی۔ پلٹ گئے۔ تظھرا۔ تم دونوں مل گئے۔ تم دونوں مل گئیں۔ ظھیر۔ مددگار۔ قنتت۔ ادب سے جھکنے والیاں۔ تئبت۔ توبہ کرنے والیاں۔ عبدات۔ عبادت کرنے والیاں۔ سئحت۔ روزہ رکھنے والیاں۔ ثیبت۔ بیوہ عورتیں۔ شوہر سے جدا ہوجانے والیاں۔ ابکارا۔ (بکر) ۔ کنواریاں۔
تشریح : چونکہ نبی کریم ﷺ کی زندگی کا ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–4
حضور کی زیادہ ازواج مطہرات پر عیسائی اور آریوں کے اعتراض پر جواب۔
(ف 1) شان نزول : ہر زوجہ مطہرہ کو محبت اور تعلق حضور کے ساتھ تھا اور ہر ایک زوجہ کی تمنا اور کوشش تھی کہ وہ زائد از زائد حضور کی توجہات کامرکز بن کردارین کی برکات وفیوض سے متمع ہو آپ کی عادت تھی کہ عصر کے بعد سب ازواج کے ہاں تھوڑی دیر کے لیے تشریف لے جاتے جب ام المومنین زینب بنت جحش ؓ کے یہاں حضور تشریف لے جاتے تو وہ شہدپیش کرتیں، اس ذریعہ سے انکے یہاں کچھ زیادہ تشریف فرمارہتے ، یہ بات حضرت عائشہ وحفصہ ؓ وغیرہما کو ناگوار گذری اور انہیں رشک ہوا انہوں نے باہم مشورہ کیا کہ جب حضور ﷺ تشریف فرما ہوں تو عرض کیا جائے کہ دہن مبارک سے…
Read the full tafseer →[1] شان نزول کی دو مختلف روایتیں ہیں۔ دونوں میں قدر مشترک یہ ہے کہ نبی ﷺ نے ازواج مطہرات میں سے کسی کی دلجوئی کے لئے یہ عہد کرلیا تھا کہ فلاں نعمت سے آئندہ تمتع نہ کریں گے۔ عام حالات میں تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہ تھی لیکن کیونکہ پیغمبر کا قول و فعل دین میں بڑی اہمیت رکھتا ہے اور اس کا ہر عمل پوری امت کے لئے مثال اور نمونہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کے لئے جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی ایسی بات کہے یا کرے جو بال برابر بھی اللہ تعالیٰ کی مقرر کی ہوئی حدود سے متجاوز ہو ورنہ پوری امت کے لئے ایک غلط مثال قائم ہوجانے کا اندیشہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کے اس فعل پر گرفت فرمائی۔ اس بات سے یہ بھی معلوم ہوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
سورة تحریم کی شان نزول
ان آیات میں دو اور مشہور واقعات کی طرف اشارہ ہے ۔ ایک یہ ہے ۔ کہ حضور ﷺ عام عالم طور پر ام المومنین حضرت زینب بنت جحش کے ہاں توقف فرماتے ۔ اور شہدکھاتے ۔ یہ بات حصرت عائشہ اور حصرت حفصہ کو سوکن ہونے کی وجہ سے ناگوار محسوس ہوتی ۔ اس لئے طے یہ پایا ۔ کہ جب حضور ﷺ شہدنوش فرما کر تشریف لائیں تو اس وقت ان سے کہا جائے ۔ کہ آپ کے منہ سے مغافیر کی بوآرہی ہے (مغافیر ایک قسم کی بدبو اور گوند ہے) اور چونکہ بو سے آپ کو طبعی نفرت ہے ۔ اس لئے اس تدبیر سے آپ حضرت زینب نے شہد کھانا اور چندے قیام فرمانا چھوڑ دیں گے ۔ چناچہ باری باری حضرت حفصہ نے حضور ﷺ سے یہی کہا ۔ تو آپ نے عہد کرلیا ۔…
Read the full tafseer →(1) اے نبی اللہ تعالیٰ نے جو چیزیں آپ کے لئے حلال فرمائی ہیں آپ ان چیزوں کو اپنی بیویوں کی خوشنودی طلب کرنے کی وجہ سے اور خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے اپنے اوپر حرام کیوں کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–3
ف 1۔ سبب نزول اول کی آیتوں کا حضرت عائشہ ؓ سے صحیح بخاری وغیرہ میں اس طرح منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا معمول شریف تھا کہ بعد عصر کھڑے کھڑے بیبیوں کے پاس تشریف لاتے، ایک بار حضرت زینب ؓ کے پاس معمول سے زیادہ ٹھہرے اور شہد پیا، تو مجھ کو رشک آیا، میں نے حضصہ سے مشورہ کیا کہ ہم میں سے جس کے پاس تشریف لاویں وہ یوں کہے کہ آپ نے مغافیر نوش فرمایا ہے (یہ ایک گوند ہے جو کر یہ الرائح ہے) چناچہ ایسا ہی ہوا، آپ نے فرمایا کہ میں نے تو شہد پیا ہے، ان بی بی نے کہا کہ شاید کوئی مکھی اس کے درخت پر بیٹھ گئی ہوگی اور اس کا رس چوس لیا ہوگا، آپ نے بقسم فرمایا کہ میں پھر شہد نہ پیوں گا اور اس خیال سے کہ حضرت زینب…
Read the full tafseer →آپ ﷺ نے بعض ازواج کی رضا کیلئے ایک حلال چیز کیوں اپنے اوپر منع کرلی ہے ؟
1 ؎ کہاوت ہے کہ کسی بادشاہ کو شکار کا بہت شوق تھا اور وہ شکار کو جاتا تو خود اور اپنے ساتھیوں کو بھی شکار کے گوشت کے سوا کوئی دوسری چیز کھانے پر پابندی رکھتا ۔ اس وجہ سے جب بادشاہ سلامت شکار کو جاتے تو بادشاہ کے ساتھی گوشت میں ڈالی جانے والی چیزوں کے سوا کوئی کھانے کی چیز ساتھ نہ لے جاتے ۔ ایک دفعہ بادشاہ سلامت شکار کو نکلے اور چلتے چلتے بہت دور نکل گئے اور بڑی دیر کے بعددور دراز جنگل طے کرنے کے بعد شکار ہاتھ لگا ۔ بہر حال شکار کا گوشت جلد تیار کرنے کا حکم ہوا اور سب کی خواہش بھی تھی کہ یہ گوشت جلد تیار ہو ۔ بہر حال گوشت…
Read the full tafseer →Commentary
Cause of Revelation
It is recorded in Sahih of Bukhari and in other collection of Ahadith, on the authority of Sayyidah ` A'ishah ؓ that it was a daily practice of the Messenger of Allah to visit each of his wives after ` asr prayer for a short time inquiring about their welfare. Once he visited Sayyidah Zainab ؓ and spent more time with her than normal and had some honey offered by her. Sayyidah ` A'ishah ؓ says: "I developed some envy and in consultation with Hafsah ؓ decided that when the Messenger of Allah ﷺ would visit any one of us, she should say to him 'you have had…
Read the full tafseer →1 This is not, in fact, a question but an expression of disapproval. The object is not to ask the Holy Prophet (upon whom be Allah's peace) why he had done so, but to warn him that his act to make unlawful for himself what AIIah had made lawful is not approved by Allah. This by itself gives the meaning that nobody has the power to make unlawful what Allah has made lawful; so much so that the Holy Prophet (upon whom be peace) himself also did not possess any such power. Although the Holy Prophet did not regard this as unlawful as a matter of faith nor legally but only forbade himself its use,…
Read the full tafseer →